حرمین شریفین کی سرزمین اسلام کا مرکز ہے، نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے مولد ومسکن اور مہبطِ وحی ہونے کے ناطے تمام مسلمان اس سرزمین سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔ حرمینِ شریفین میں اہم ترین حیثیت مسجد ِحرام کو حاصل ہے جس میں کعبہ مشرفہ کے نام سے اللہ تعالیٰ کا مبارک گھر ایستادہ ہے۔ ہرمسلمان اپنے دل میں اس گھر کی زیارت کی تڑپ محسوس کرتا ہے، اور اسی غرض سے ہر سال لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں۔

اللہ کے اس عظیم گھر کی نسبت سے جس شخص کو دنیا بھر میں آج سب سے زیادہ جانا پہچانا جاتا ہے، وہ جناب ڈاکٹر شیخ عبد الرحمن سدیس کی ذاتِ والا صفات ہے۔ آپ ۲۳ برس سے بلاانقطاع کعبۂ معظمہ کے امام اور خطیب چلے آرہے(1) ہیں۔ دسیوں علمی کتب کے مصنف اور اُم القریٰ یونیورسٹی سے اُصولِ فقہ میں پی ایچ ڈی(2) کے سند یافتہ شیخ عبدالرحمن سدیس کا آبائی تعلق سعودی عرب کے صوبہ قَصِیم سے ہے(3) جہاں کے علما اسلام سے والہانہ لگائو اور علم وفضل کے باعث بلادِ عرب میں خاص امتیاز رکھتے ہیں۔

شیخ عبدالرحمن سدیس کو 22 برس کی عمر میں پہلی بار حرم مکی کی امامت کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسی سال آپ نے اپنا پہلا خطبۂ جمعہ بھی ارشاد فرمایا۔ اس دن کے بعد سے آج تک شیخ کی پرسوز آواز حرمِ مکی کا ایک معتبر حوالہ بن چکی ہے۔ شیخ کے طرزِ تلاوت کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ عالم اسلام کے کونے کونے میں پھیلی مساجد میں اُن کے لحن میں تلاوتِ قرآن مجید کرنے والے قاری بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ جدید سائنسی ترقی کے سبب شیخ سدیس کی تلاوت اسلام کے حوالے سے متعارف ہر ذریعۂ ابلاغ پر چھائی نظر آتی ہے اور اُنہیں اس حوالے سے دنیا بھر میں جو قبولیت ِعامہ حاصل ہوئی ہے، وہ ان کے دیگر ہم عصر قرائے کرام کو نصیب نہیں ہوسکی۔ حرمِ مکی میں باقاعدگی سے حاضری کی سعادت سے مشرف ہونے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ شیخ موصوف کی تلاوت، بالخصوص ربّ ِذوالجلال کی بارگاہ میں ان کی بہ رقت مانگی جانے والی دعائوں کے ساتھ حرم شریف کی رونقیں دوبالا ہوجاتی ہیں اور ان کی غیر موجودگی باذوق حضرات کو خوب کھلتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کئی سالوں سے بیت اللہ کے خصوصی اجتماعات کے موقع پر دعا کی سعادت شیخ عبدالرحمن سدیس کے ساتھ ہی خاص چلی آتی ہے۔ ان کی دعائوں میں جو روانی، ربّ ِذوالجلال کے حضور عین کعبۂ مشرفہ کے سامنے گڑگڑانا اور بآوازِ بلند اُمت کی خیروفلاح کے لئے گریہ وزاری کرنا ایسا سماں باندھ دیتا ہے کہ یوں لگتا ہے یہ دعائیں 'عرشِ الٰہی کو ہلا کر' اور قبولیت پاکر ہی رہیں گی۔ بہرحال انہی گوناگوں اوصاف اور خصوصیات کے باعث شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن سدیس کو اس وقت عالم اسلام کی سب سے مقبول روحانی شخصیت سمجھا جاتا ہے جس کے اعتراف میں ادھر دو برس قبل شیخ موصوف کو دبئی کا عظیم الشان 'قرآن ایوارڈ' بھی دیا گیا ہے(4) جو عالم اسلام میں نوبل پرائز سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

شیخ موصوف کی شخصیت میں عاجزی وانکساری، خشوع وخضوع، علم دوستی، اسلام سے والہانہ لگائو اور اُمت ِمسلمہ کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ ۲۳ برس پر محیط اپنے خطبات اور دعائوں میں آپ نے ہمیشہ اُمت ِمسلمہ کے زخمی جسد اورتکلیف میں مبتلا حصے کے دکھ درد میں جس طرح شرکت کی اور ان آلام ومصائب کے خاتمہ کے لئے ربّ ِکعبہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگی ہیں، اُس نے آپ کو اُمت کے غم خوار وغم گسار اور دلی ہمدرد کا تعارف عطا کر دیا ہے۔ آپ کے لہجے میں رِقت اور للہیت کے ساتھ روح وقلب کی وہ پاکیزگی خوب جھلکتی ہے جو ایک بندئہ مؤمن بالخصوص حرمین کی امامت کی سعادت سے بہرہ مند ہونے والے مسلم قائد میں پائی جانا ضروری ہے۔

علومِ اسلامیہ میں رسوخ کے ساتھ ساتھ زبان وبیان میں انتہادرجہ کی فصاحت و بلاغت سے بھی آپ کو حظ ِوافر نصیب ہوا ہے جس پر آپ کی تصنیفات(5) اور سینکڑوں خطبات شاہد ِعدل ہیں۔ بزرگ علما سے علمی استفادہ،(6) اکابر ِاسلام کی صحبت اور خداخوفی نے ان کی شخصیت میں ایک خاص حلاوت اور مٹھاس پیدا کردی ہے۔ آپ مغربی تہذیب و تمدن کے شدید ناقد اور قرآن وسنت کی بنیاد پر مسلمانوں کے اتحاد کے پرزور داعی ہیں۔ منہج سلیم سے آپ کی محبت اور کتاب وسنت سے آپ کا گہرا تعلق آپ کو اپنے کئی اَماثل واَقران خطباء وقرا اور ائمۂ حرم سے ممتاز کردیتا ہے۔ مذکورہ بالا شخصی اور فکری امتیازات اور اَوصاف کا مشاہدہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جسے چند لمحے بھی آپ کے ساتھ گزارنے یا آپ کی تلاوت وخطبات اور دعائوں کو توجہ سے سننے کا موقع ملا ہو۔

گذشتہ ماہ کے اَواخر میں پاک سرزمین کو مسلم دنیا کے اس عظیم روحانی قائد اور امام کے ورودِ مسعود اور استقبال کی سعادت حاصل ہوئی۔ نہ صرف شیخ موصوف بلکہ حرمین کی تمام قابل ذکر شخصیات پاکستانی عوام کے اسلام سے والہانہ تعلق کی قدر دان ہیں، یہی وجہ ہے کہ حرمین شریفین کی خدمت کے لئے پاکستان سے سب سے زیادہ خدام منتخب کئے جاتے ہیں جو اس کام کو پیشہ وارانہ اَہداف سے قطع نظر خالص حرمین کی خدمت کے مقدس جذبے سے سرانجام دیتے ہیں۔ یوں بھی دنیا بھر میں پاکستانی عوام کو اسلام پر جان چھڑکنے والی اور متحرک وباصلاحیت قوم کے طور پر جانا جاتا ہے، یہ اور ان جیسے کئی دیگر اوصاف کے سبب شیخ عبدالرحمن سدیس بھی اہالیانِ پاکستان سے گہری محبت رکھتے ہیں(7) اور ماضی میں کئی بار پاک سرزمین میں آنے کی خواہش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ لیکن کئی حکومتی وادارتی وجوہ کی بنا پر آپ کا دورہ ملتوی ہوتا رہا۔ ۲۹مئی کی شام شیخ موصوف پاکستان میں پہلی بار تشریف لائے تو یہاں اُنہیں سربراہِ مملکت کا پروٹوکول دیا گیا۔

آپ کے دورے کا آغاز پاکستان کے دل شہر لاہور سے ہوا، جہاں صرف ۴۸ گھنٹے قیام کے دوران اہلِ لاہور نے نہ صرف ان کا شایانِ شان استقبال کیا بلکہ ان کے ایک ایک لمحے سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے لئے ۱۰ کے لگ بھگ استقبالیے اور علمی و دینی پروگرام منعقد کر ڈالے۔ اُن دو دنوں میں دین سے معمولی لگائو رکھنے والے ہر شخص کی آنکھیں اور کان شیخ سدیس کی آمد ورفت اور آواز پر لگے ہوئے تھے۔ زندہ دلانِ لاہور ان کی اقتدا میں نماز پڑھنے، ان کے خطبات سننے، ان کی دعائوں میں شرکت کرنے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کو شدید بے تاب نظر آئے۔

وہی شہر لاہور جس کی شاہراہیں کبھی مخلوط میراتھن ریسوں اور مغربی تہذیب وثقافت کے بے ہنگم اظہار کے لئے استعمال ہوتی تھیں، امامِ کعبہ شیخ عبدالرحمن سدیس کے لئے خیرمقدمی ہورڈنگز اور ترحیبی بینرز سے بھرگئیں، پاک سعودی دوستی کے ترانے گائے جانے لگے۔ شیخ کے آنے کا ایک فائدہ تو ضرور ہوا کہ 'روشن خیال اسلام' کی علم بردار انتظامیہ کو پورے شہر میں عورتوں کے حیاباختہ اور شہوت خیز بورڈز کو ہٹانے اور پردوں کے پیچھے چھپانے کا خیال آگیا۔ وہ ایوان جہاں ہردم مزعومہ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے گیت گائے اور بسنت جیسے تہوار والہانہ ذوق وشوق سے منائے جاتے تھے، وہاں قرآنِ کریم، رسولِ عربیؐ، اسلامی شریعت اور ملت ِاسلامیہ کی باتیں کھلے عام ہونے لگیں۔ وہ ذرائع ابلاغ جن میں اسلام کا کوئی ادنیٰ حوالہ انتہاپسندی کی علامت بنتا جارہا تھا، شیخ کی زیر اقتدا اَدا کی جانے والی نمازوں اور جمعہ کے اجتماعات پیش کرنے کے لئے مختص ہوگئے۔ ڈاکٹر سدیس کی آمد کا یہ فائدہ سب سے غالب ہے کہ ملک کی حقیقی دینی اساس اور عوام کے دَبے مذہبی جذبات کو سراُٹھا کر اعتماد سے کھڑے ہونے کا موقع مل گیا۔ پاک باز شخصیتوں کا وجود ہی بابرکت ہوتا ہے اور ان کے آجانے سے شیطانی قوتیں اپنی راہ بدل لیا کرتی ہیں!!

شیخ کی آمدسے جہاں دین اور اہل دین کو فائدہ پہنچا، وہاں سیاست کے قائدین نے بھی اس موقع سے خوب خوب فائدہ اُٹھایا۔ غور کیا جائے تو ایسے ناگفتہ بہ حالا ت میں جب امن وامان کی صورتحال مثالی نہ ہو، سیاست کا سنگھاسن ڈول رہا ہو؛ عدلیہ، منتظمہ، اربابِ تعلیم وصحافت اور اسلام و اہل دین سے کھلم کھلا مباحثہ ومقابلہ بلکہ ان پر گولہ باری بھی جاری ہو، ڈاکٹر شیخ عبدالرحمن سدیس کی آمد کی کوئی خاص مناسبت سمجھ میں نہیں آتی۔ شیخ سدیس نے تو اپنے دینی جذبات کے زیر اثر یہاں کی سرزمین کو رونق بخشی، حکومت ِسعودی عرب نے پاک سعودی دوستی (جو ایک اسلامی مصلحت وضرورت ہے) کی خاطر ان کے دورے کی منظوری دی لیکن سیاست کے دانش مند ارباب نے اس موقع سے بھی سیاسی مفادات سمیٹنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہ جانے دیا۔

لاہور میں دو روزہ قیام کے دوران نہ صرف حکومت کی طرف ان کے اعزاز میں تین استقبالیے دیے گئے جن میں چودھری شجاعت حسین کا اپنے گھر میں اور چودھری پرویز الٰہی کا شاہی قلعہ میں عشائیہ اور جناب خالد مقبول کا گورنر ہائو س میں ظہرانہ شامل ہے۔ ہرہر پروگرام میں وزیر اعلیٰ پنجاب نہ صرف ان کے ہم رکاب نظر آئے بلکہ ان کے اعزاز میں تشریف لانے والے حاضرین سے بھی خطاب کا کوئی موقعہ اُنہوں نے ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ اس پر طرہ یہ کہ شیخ کا کوئی ایک پروگرام بھی حکومت ِپنجاب کی اجازت کے بغیر منعقد کرنے کی سرکاری طورپر کوئی اجازت نہ تھی۔

ہمیں امام کعبہ کی اس آئوبھگت اور اعزاز واِکرام پر دلی مسرت ہے اور واقعتا یہ کسی بھی مسلم حکومت کے لئے باعث ِ صدعزوشرف اور وجہ ِسعادت ہے کہ وہ ایسی مبارک ومحترم ہستی کے لئے اپنی تمام توجہات صرف کرے، لیکن کاش کہ دین اور اہل دین سے یہ دلچسپی اور ان کی سرپرستی، صرف امامِ حرم تک ہی محدود نہ رہ جائے بلکہ اگر اس گھر کو اللہ سے خاص نسبت حاصل ہے اور اسی بنا پر اس سے متعلقہ حضرات قابل احترام ہیں تو اللہ کے پسند فرمودہ واحد دین 'اسلام' اور اس قبلہ سے بلند ہونے والی صدا کو پھیلانے والے تمام اہل اسلام بھی کسی درجے میں اعزاز واِکرام کے مستحق سمجھے جائیں۔ اور شیخ سدیس نے تو وزیر اعلیٰ ہائوس میں معززین وشرفاے لاہور کے ایک مؤقر اجلاس میں یہ گذارش اربابِ اقتدار کے گوش گزار بھی کردی تھی کہ حکومت کو قرآن کی تعلیم کے مواقع زیادہ سے زیادہ پیدا کرنے کے ساتھ ایسا ماحول پیدا کرنا چاہئے کہ اہل قرآن کو معاشرے میں جائز مقام حاصل ہوسکے۔تفصیلی خطاب آگے ملاحظہ فرمائیں!

بہرحال اس مرحلے پر یہ یاددہانی ہی کافی ہے کہ فرمانِ نبویؐ کے مطابق قرآن کو سیکھنے سکھانے والے افراد اُمت کے بہترین لوگ ہیں، اگر حکومت ِوقت کو اُنہیں یہ اعزازدینا ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ حیثیت تو ضرور دے دی جائے کہ قرآن سے نسبت رکھنے والے معاشرے میں اپنا بھرم برقرار رکھ سکیں، دین پر عمل کرنے والے مسلم معاشرے میں گوارا کئے جاسکیں، نہ کہ اُنہیں انتہا پسند اور متشدد، ملا اور مولوی قرار دے کر ان کی حوصلہ شکنی کا رویہ اپنی عادتِ مستمرہ بنا لیا جائے، حکمرانوں اور اربابِ اختیار کا یہ رویہ ضرور قابل اصلاح ہے!

پاکستان میں چند روزہ قیام کے دوران یوں تو شیخ نے اپنے اعزاز میں ہونے والے ہر پروگرام میں حاضرین سے خطاب فرمایا، لیکن آپ کے بعض خطاب خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

اس دورہ میں عوام الناس سے آپ دو بار مخاطب ہوئے :

  1. ایک بار لاہو رمیں: 30 مئی کی شام بعد نمازِ مغرب اہالیان لاہور سے شاہی مسجد میں
  2. اور دوسری بار فیصل مسجد میں یکم جون 2007ء کو خطابِ جمعہ کے ذریعے

 

اس کے علاوہ آپ نے مختلف اسلامی ماہرین اور اہل علم سے بھی خطاب فرمائے :
ایک خطاب جامعہ اشرفیہ کی مجلسِ تقسیم اسناد میں علماے کرام سے اوردوسرا خطاب بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے آڈیٹوریم میں ریسرچ سکالرز اور اساتذہ سے۔

علاوہ ازیں آپ نے 31 مئی کی صبح صوبائی حکومت کے ادارے پنجاب قرآن بورڈ کے اجلاس میں بھی سرکاری مناصب پر فائز شخصیات سے خطاب فرمایا، اور اسی روز ایک خطاب آپ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث کے کنونشن میں کیا۔ آخر الذکر خطاب وہ واحد پروگرام ہے جو صوبائی یا وفاقی حکومت کے انتظامات سے بڑھ کر شیخ کی ذاتی دلچسپی اور شوق کا حاصل تھا۔ یہ تو کل چھ خطابات ہوئے، علاوہ ازیں آپ نے چودھری برادران کے عشائیوں، جامعہ اشرفیہ میں 30 مئی کو نمازِ فجر کے بعد اور اسی روز پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں بعد نمازِ عصر'اسلامی جمعیت طلبہ' کے استقبالیے میں مختصر خطابات بھی فرمائے۔

اہالیانِ لاہور نے 30 مئی کے روز دوبار شیخ عبد الرحمن سدیس کا پرجوش اور شایانِ شان استقبال کیا، چنانچہ جامعہ اشرفیہ میں نمازِ فجر میں 60 ہزار کے قریب اور شاہی مسجد میں اسی روز بعد نمازِ مغرب ۲ لاکھ کے لگ بھگ اسلامیانِ لاہور نے آپ کی اقتدا میں نمازِ مغرب ادا کی۔ ایسے ہی اسلام آباد کی فیصل مسجد کیخطبۂ جمعہ میں 4لاکھ سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ ان پروگراموں کے لئے آپ سے محبت وعقیدت رکھنے والے دسیوں گھنٹے قبل مساجد میں پہنچے حتیٰ کہ بعض لوگوں نے تو اسی غرض سے میلوں کا سفر کرکے شرکت کی سعادت حاصل کی۔

راقم الحروف کو بھی اکثر پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا جہاں قریب سے شیخ عبد الرحمن سدیس کے خیالات اور ولولہ انگیز خطابات سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔ موصوف کا اندازِ بیان اس قدر مؤثر اور طرزِ خطاب اس قدر جاندار تھا کہ اس کی تاثیر وحلاوت آج بھی تازہ ہے۔ ان خطبات میں ملت ِاسلامیہ کے مسائل کی صحیح منظرکشی اور ان کے مرض کی درست تشخیص کرکے عظمت ِرفتہ کے حصول کا نسخہ اور مسلم اُمہ کو قیمتی پند و نصائح کی گئیں۔ ان خطابات کی حیرت انگیز تاثیر کو محسوس کرتے ہوئے راقم نے اسی موقع پر یہ عزم کرلیاکہ یہ تمام خطابات قارئینِ محدث تک بھی پہنچنا چاہئیں۔ یہی احساس اس امر کا باعث ہوا کہ اکثر خطابات کو خود ریکارڈ کیا اور بعض کو اپنے معاون دوستوں سے مسلسل رابطہ کرکے حاصل کیا اور اب اُنہیں کیسٹس سے منتقل کرکے ترجمہ کے بعد قارئینِ محدث کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

ادارئہ محدث کے ذمہ داران کو اکثر پروگراموں میں شرکت کی خصوصی دعوت موصول ہوئی جبکہ سعودی سفارتخانہ کی طرف سے شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن سدیس سے خصوصی ملاقات کا مژدئہ جانفزا بھی ملا، چنانچہ والد ِگرامی مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی (مدیر اعلیٰ 'محدث') کی قیادت میں جناب محمد عطاء اللہ صدیقی، راقم الحروف اور چھوٹے بھائی حافظ حمزہ مدنی نے شیخ موصوف کی اسلام آباد روانگی سے قبل ان سے پنجاب گیسٹ ہائوس میں ملاقات کی سعادت بھی حاصل کی جہاں شیخ سدیس نے اپنے خطباتِ حرم پرمشتمل کتاب کوکبة الخُطُب المنیفة من جوار الکعبة الشریفةکا ہدیہ بھی پیش کیا۔ اس موقع پر سعودی مذہبی اتاشی شیخ محمدبن سعد الدوسری (ڈائریکٹر مکتب الدعوة، اسلام آباد) بھی موجود تھے۔

شیخ سدیس کو جس طرح اللہ تعالیٰ نے قلب ِصافی عطا فرمایا ہے جس کا مظہر ان کا ہردم مسکراتا چہرہ ہے، وہاں اللہ نے اُنہیں کمالِ ابلاغ کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور فرمایا ہے۔ آپ کے مختلف مجالس میں ہونے والے خطابات پہلے سے تحریر شدہ باضابطہ خطابات نہیں تھے، بلکہ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ شیخ موصوف موقع محل کی مناسبت سے ایک چٹ پر چند یادداشتیں نوٹ کرلیتے اور انہی کی مدد سے فی البدیہہ خطاب فرمایا کرتے، اس کے باوجود ان کے خطابات میں بلاکا سلیقہ اور الفاظ کے انتخاب میں غیر معمولی فصاحت وبلاغت جھلکتی ہے۔ ان خطابات میں تکرار کی بجائے شیخ کی خداداد ذہانت کے واضح شواہد بھی موجود ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہم ان میں سے ہر ایک خطاب کو ایک خاص مناسبت سے خاص موضوع میں بانٹ سکتے ہیں، چنانچہ جلسۂ تقسیم اسناد میں شیخ کے خطاب کو 'علم اور اہل علم' سے مخصوص کیا جاسکتا ہے کیونکہ وہ علماء اور دانشوروں کی مجلس تھی۔ شاہی مسجد میں شیخ کے مخاطب عامتہ المسلمین تھے، اس لئے اس خطاب میں 'امت ِاسلامیہ میں اتفاق واتحاد کو اختیار کرنے اور تشدد وانتہا پسندی سے بچنے' کا درس پایا جاتا ہے۔ پنجاب قرآن بورڈ کا اجلاس چونکہ قرآن کی مناسبت سے تھا، اس لئے اس خطاب میں اُنہوں نے قرآن کو صحیفۂ ہدایت بنانے پر زور دیا اور اس کے حوالے سے دس نکاتی پروگرام پیش کیا، حکومتی ذمہ داران کی موجودگی کی بنا پر اس اجلاس میں اُنہوں نے حکومتی پالیسیوں میں قرآن وسنت کو مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔ بعد ازاں مرکزی جمعیت اہل حدیث کا کنونشن چونکہ ایک فکری وعلمی جماعت کا منعقد کردہ پروگرام تھا، چنانچہ اس میں اُنہوں نے 'عقیدہ و منہج اور باہمی اختلافات میں شریعت کی رہنمائی 'کو موضوعِ خطاب بنایا۔ خطبۂ جمعہ چونکہ پاکستان کے مرکز اسلام آباد سے نشرہورہا تھا، اس لئے وہاں اُنہوں نے عقائد واَعمال کی اصلاح پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔

یوں تو ان تمام خطابات کا ترجمہ اوراخبارات میں ان کی رپورٹیں ساتھ ہی شائع ہوتی رہیں لیکن دیگر بہت سے اہل علم کی طرح راقم کا یہ احساس ہے کہ اگر تراجم میں ان کے خطاب کے بعض قیمتی جواہر کو نظرانداز کردیا گیا تو اخبارات میں ان کے کلمات کو حکومتی روشن خیال اسلام کی تائید میں بے جا طورپر گھسیٹنے کی ناروا کوششیں بھی کی گئیں۔ مثال کے طورپر جدید مغربی تعلیم اور اعتدال پسندی کا وہ درس اِن خطابا ت میں کہیں پایا نہیں جاتا جسے اخبارات کے ذریعے پاکستانی قوم تک پہنچایا گیا ہے۔ اس ناروا حرکت سے امامِ کعبہ کے مبارک خیالات میں یک گونہ تحریف کا پہلو اُبھرتا ہے۔

شیخ سدیس کے ان خطابات کے مطالعے سے آپ اس نتیجے پر بآسانی پہنچ جائیں گے کہ آپ کی سوچ اور دینی مدارس سے وابستہ علما کی تشخیص اور تلقین میں کوئی جوہری فرق نہیں ہے۔ یہ علماے کرام جس انداز میں اُمت کو رجوع الیٰ القرآن والسنہ کا درس دیتے اوراسلامی علوم کے سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کو ملت ِاسلامیہ کی معراج بتلاتے ہیں، عین یہی اُسلوب شیخ سدیس نے بھی اپنے خطابات میں اختیار کیا ہے۔ وہ ایک مخلص اور راسخ عالم دین، زیرک دانشور اور اُمت ِمسلمہ کا درد رکھنے والے حساس رہنما ہیں۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس آواز کا ہم نوا بنایا ہے جو مبارک آواز بیت اللہ سے صداے حرم بن کر دنیا بھر میں اللہ کی حجت کو اُمت ِمحمدیہ پر تمام کررہی ہے۔ اس منہج سلیم اور خالص سلفی عقیدہ سے وابستگی پر ہم اپنے ربّ کا جس قدر بھی شکر ادا کریں کم ہے، جس منہج کی نشاندہی شیخ سدیس نے اپنے مختلف خطابات میں فرمائی ہے۔

ذیل میں شیخ عبد الرحمن سدیس کے خطابات کے بعض اہم نکات ملاحظہ فرمائیے جبکہ مکمل خطابات کے تراجم حالیہ اور آئندہ شمارہ میں شائع کئے جارہے ہیں، یاد رہے کہ امام کعبہ کے ان خطبات کا متن پہلی مرتبہ 'محدث' میں ہی شائع ہورہا ہے۔

لاہور کی شاہی مسجد میں خطاب
30 مئی کو نمازِ مغرب کے بعد شاہی مسجد میں خطاب کے موقعہ پر شیخ عبدالرحمن سدیس اس قدر پرجوش استقبال پر بہت مسرور نظر آئے جس کی غمازی ان کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ سے ہوتی ہے۔ اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ آج کا دن نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے عوام کے لئے یادگار ہے بلکہ تاریخ کے صفحات پر زرّیں الفاظ میں رقم کیا جائے گا۔ اُنہو ں نے اپنے الفاظ کو اس قدر پرجوش استقبال کے جواب میں قاصر قرار دیتے ہوئے اُمت ِاسلامیہ کو اس دن اور حرمین شریفین سے محبت کا حوالہ دے کر فرمایا:
اہلِ پاکستان کو اسلام اور اُمت ِمسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کا بھرپور ادراک کرتے ہوئے دشمنانِ اسلام کے مکر وفریب کو ناکام بنا دینے کے لئے جمع ہوجانا چاہئے۔ اہلیانِ لاہور کو اخلاقِ حسنہ کی تلقین کرتے ہوئے اُنہوں نے اسلام کا مرکزعقیدئہ توحید کو قرار دیا۔ اُنہوں نے فرمایا :اسلام اصلاح و تعمیر کا دین ہے، ہلاکت وبربادی سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ اسلامیانِ پاکستان کو امن وامان کے قیام کے لئے مشترکہ قوت کو کام میں لانا چاہئے کیونکہ امن وامان کے بغیر کوئی قوم سیاسی، تعلیمی اور اقتصادی کسی میدان میں بھی ترقی نہیں کرسکتی۔

اُنہوں نے کہا کہ حقیقی اسلام کتاب وسنت کی بنیاد پر ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ اسلام میں جبر و تشدد اوربے جا غلو کی کوئی گنجائش نہیں، سنت ِرسول اللہ پر عمل ہی اُمت ِمسلمہ کو راہِ راست پر عمل پیرا رکھ سکتا ہے۔ مسلم ممالک کا آپس میں اتفاق واتحاد ملت ِاسلامیہ کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اسلام میں کسی لسانی اور وطنی گروہ بندی کی کوئی گنجائش نہیں۔

اُنہوں نے اُمت ِاسلامیہ کو علومِ شریعت اور عصری علوم سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ آخر میں اُنہوں نے پاکستانی مسلمانوں کے باہمی اتفاق واتحادکے لئے ربّ ِکریم سے خصوصی دعائیں مانگتے ہوئے ان لوگوں سے گلوخلاصی کی دعا کی جو اُمت کو اس کے اصل ہدف سے ہٹانا چاہتے ہیں اور فرمایاکہ تمام عزتیں اللہ اور اس کے رسو ل کے لئے ہیں، لیکن منافق اس سے بے خبرہیں۔ وﷲ العزة ولرسولہ وللمؤمنین ولکن المنافقین لا یفقہون !

جامعہ اشرفیہ کے 'جلسہ تقسیم اسناد' سے خطاب
۳۰؍ مئی کی صبح ۱۰بجے ایوانِ اقبال، لاہور میں جامعہ ہذا کے فضلا میں تقسیم اسناد کے لئے یہ تقریب منعقد کی گئی تھی لیکن امام کعبہ کی تاخیر کی وجہ سے چند فضلا کو ہی اسناد عطا کی جاسکیں۔

تلاوتِ قرآن کریم کے بعد حضرت حسان بن ثابتؓ کا شانِ رسالتؐ پر مشہور عربی قصیدہ خوبصورت انداز میں پڑھا گیا۔ بعدازاں مولانا حافظ فضل الرحیم نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ جناب چودھری پرویز الٰہی کے خطاب کے بعد شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن سدیس نے 'علم اور علما کی فضیلت' کے موضوع پر حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ

سند ِفضیلت ملنے کا دن ہر شخص کی زندگی میں یادگار حیثیت رکھتا ہے۔ اہل علم وفضل کی شرکت نے اس تقریب کی رونق کو دوبالا کردیاہے۔ میں آپ لوگوں کی خدمت میں سعودی حکومت، عوام اور سعودی علما کا سلام پیش کرتا ہوں اور ہم آپ کی خدمات کے قدردان ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ معاشرے علم سے ترقی حاصل کرتے ہیں جبکہ جہالت سراسر گمراہی اور ذِلت ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مشہور دعا {رَّ‌بِّ زِدْنِى عِلْمًا} کے ذریعے علم میں اضافہ کی جو دعا کی ہے، ایسی دعا کسی اور چیز کے لئے نہیں کی۔کیونکہ علم میں جتنا بھی اضافہ ہوجائے ، وہ خیروبرکت کا ہی سبب ہے۔

اُنہوں نے فرمایا کہ ہمیں اللہ سے علم نافع مانگنا چاہئے۔ والعلوم النافعة التي في مقدمَّتها علوم الشریعة : علومِ نافعہ میں شریعت [قرآن وسنت اور فقہ] کے علوم سرفہرست آتے ہیں، اس کے بعد علومِ آلیہ [عربی زبان و قواعد اورمنطق وفلسفہ وغیرہ]کی باری آتی ہے۔ دورِ حاضر کی ترقی ودانش سے فائدہ اُٹھانے اور دنیا بھرمیں اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سر انجام دینے کے لئے ہمیں جدید عصری علوم کو بھی سیکھنا چاہئے۔ اسلام کی عالمگیر دعوت کو پہنچانا ہمارا فرض ہے جس سے ہم کوتاہی کے مرتکب ہورہے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ علم کا بنیادی مقصد نفس کی تہذیب اور معاشروں کی اِصلاح ہے۔ علم امن وآشتی اور محبت و رواداری کا پیامبر ہے۔علم انسان کو انسانیت آشنا کرتا اور دوسروں سے برتنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ اُنہوں نے مغرب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علم ودانش جو دنیا کو ہلاکت خیز تباہی سے دوچار کرکے طاقتوروں کو کمزوروں کے خلاف جارحیت پر آمادہ کردے اور بڑے پیمانے پر بربادی پھیلا دے، وہ کبھی علم حقیقی کا مصداق نہیں بن سکتی۔

اپنے خطاب میں اُنہوں نے اہل علم کے خصائص کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اہل علم امن وامان، محبت اور مساوات کے داعی ہیں۔ عمدہ اخلاق کے ذریعے یہ لوگ معاشرے میں محبت وروادی کے پیام بر ہیں۔ مسلم معاشرے میں علما کو ہرطرح کا ادب واحترام دیا جانا چاہئے۔ علم کے حصول اور اہل علم کے احترام کے ذریعے ہی معاشرے میں وہ قوت پیدا کی جاسکتی ہے جس سے اس اُمت کے مسائل حل ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ دین کی مذکورہ بالا تعلیمات کو اپنانے والا شخص ہی قابل قدر ہے۔

علم کے حصو ل کی تلقین کرتے ہوئے اُنہوں نے اُمت ِاسلامیہ کواتحاد واتفاق کا درس دیا اور کہا کہ اُمت ِاسلامیہ دورِ حاضر میں گوناگوں مصائب ومشکلات اور مختلف النوع چیلنجوں کا سامنا کررہی ہے؛ اتحاد واتفاق کی راہ اپنائے بغیر ان تقاضوں کوپورا کرناکسی طور ممکن نہیں۔

آخر میں دونوں برادر اسلامی ممالک کی حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اُنہوںنے جامعہ اشرفیہ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اُنہوں نے اس باوقار تقریب میں اُنہیں شریک ہونے کا دعوت دی۔ اپنے خطاب کے آخر میں اُنہوں نے رشد وہدایت اور باہمی اُلفت ومحبت کی دعا کی اور اللہ کواس کے اسماے حسنیٰ اور عظیم صفات کا واسطہ دے کر مسلمانوں کے حالات کی اصلاح، صفوں میں وحدت، دلوں میں کینہ وحسد کے خاتمے اور غیروں کے مکروفریب اور ان کی سازشوں سے بچنے کی دعا ئیں دیں۔

پنجاب قرآن بورڈ کا اجلاس
31؍ مئی کی صبح ۱۱ بجے وزیر اعلیٰ ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں امامِ کعبہنے اپنے خطاب میں فرمایا کہ قرآن کے نزول کا مقصد اس پر عمل بجا لانا اور اس میں غور وفکرکرنا ہے۔ قرآن الماریوں کی زینت او رعمارتوں کی خوبصورتی کے لئے نازل نہیں کیا گیا بلکہ اللہ کی بندگی کا درس دیتا ہے اور یہ کتاب ِہدایت ہے جس سے ہمیں اپنی زندگیوں کی اصلاح کرنی چاہئے۔ قرآنِ کریم سے اپنی زندگیوں میں روشنی حاصل کرنیوالوں پر قرآنی اخلاق کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ چنانچہ قرآن کے عالم کا اَخلاق عام لوگوں سے ممتاز ہوکر اسکے علم پر شاہد ِعدل ہونا چاہئے۔

اُنہوں نے قرآن کا یہ حق بتایا کہ مسلمانوں کے فیصلے انسانوں کے وضع کردہ قانون (برٹش یا فرینچ لا وغیرہ) کی بجائے قرآن وسنت کی بنا پر ہونے چاہئیں، یہ قرآنِ کریم کا اپنے ماننے والوں سے بنیادی تقاضا ہے۔ ایسے ہی مسلمانوں کو ہر نوعیت کے حالات میں قرآن سے ہی رہنمائی حاصل کرنی اور اس کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُمت ِمسلمہ کو افتراق وانتشار سے بچتے ہوئے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لینا چاہئے۔اُنہوں نے قرآنِ کریم کو ہمہ نوعیت کے امراض،چاہے وہ جسمانی ہوں یا ذہنی وعقلی؛ کے لئے نسخۂ شفا قرار دیا اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے ثواب کا تذکرہ کرنے کے ساتھ اس کے جملہ حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی۔

آخر میں اُنہوں نے قرآنِ کریم کے ساتھ خدمت ِحدیث کے مرکز کے قیام پر بھی زور دیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے خطابات میں دیگر مقررین مرکز ِسیرت کے قیام کی نشاندہی کرچکے تھے، لیکن امامِ کعبہ نے سیرت سے وسیع اور زیادہ جامع اصلاح 'حدیث وسنت' کے مرکز کی نشاندہی کرنا اس لئے ضروری خیال کیا کیونکہ سیرت کا لفظ تو ذاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ تفصیلات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ حدیث وسنت میں بطورِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے تمام فرامین بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ حدیث وسنت یعنی صاحب ِقرآن (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بغیر قرآنِ کریم کو سمجھنا ممکن نہیں، ایسے ہی اُنہوں نے حکومت ِپنجاب کو تعلیم قرآن کے مراکز قائم کرنے اور قرآنی علوم سے آراستہ لوگوں کے لئے معاشرے میں زیادہ سے زیادہ کام کے مواقع پیدا کرنے پر زور دیا تاکہ معاشرے میں ان کی پذیرائی میں اضافہ ہو۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے مقابلہ قرآنِ کریم شروع کرنے کی تجویز بھی دی۔

مرکزی جمعیت اہل حدیث کے کنونشن سے خطاب
31 مئی کو 12 بجے امام کعبہ شیخ عبد الرحمن سدیس الحمرا ہال نمبر 1 میں علما سے مخاطب ہوئے۔ یوں تو شیخ کے تمام خطابات اپنی مثال آپ ہیں لیکن آپ کا جو خطاب سب سے زیادہ نشر کیا گیا اور مستقبل میں بھی اس کوایک یادگار حیثیت حاصل رہے گی، وہ یہی خطاب ہے۔ اس خطاب کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ اب تک اس خطاب کے پانچ تراجم بمعہ عربی متن شائع ہوکر لاکھوں کی تعداد میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ اس خطا ب کے دوران شیخ سدیس کی فرحت و مسرت دیدنی تھی جس کا اظہار اُنہوں نے اپنے خطاب کے آغاز میں ان الفاظ سے فرمایا:
 فیَعلم اﷲ الذي لا إله غیرہ أن هذہ المناسبة من أعَزِّ المناسبات وأحَبِّها  إلی نفسي
''میرا ربّ جانتا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ آج کی یہ تقریب میرے لئے تمام تقریبات سے عزیز ترین اور محبوب ترین ہے۔''

آگے چل کر پھر ان الفاظ میں اظہارِ مسرت فرماتے ہیں:
سعادتي لا تُوصف وابتهاجي لا تَحُدُّہ حدودُ باکستانَ بل إنها لا تَتَسامٰی عن ذلك فِي الأرض کلِّها، أن اَلْتَقِيْ بأَحَبِّ النَّاسِ وَأَعَزِّ النَّاسِ وَأَصْدَقِ النَّاسِ، أحسِبُهم کذلك ولا أزَکّي علی اﷲ أحدًا
''میری خوش نصیبی بیان سے باہر ہے اور میری مسرت پاکستان کی سرحدوں سے متجاوز ہے بلکہ روے زمین پر اس سے بڑھ کر کوئی سعادت ہونہیںسکتی کہ میں تمام لوگوں سے محبوب ترین، اپنے ہاں سب سے زیادہ معزز اور سب سے مخلص لوگوں سے ملاقات کررہا ہوں۔ میری رائے اِن حضرات کے بارے میں تو یہی ہے ، البتہ میں اللہ سے زیادہ باخبر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔''

یہ واحد پروگرام تھا جس میں شریک ہونے والے قائدین کوحکومت کے ناقدین میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ یہ پروگرام امامِ کعبہ کے باضابطہ شیڈول میں موجود نہیں تھا لیکن امام موصوف کی ذاتی دلچسپی اس پروگرام کے انعقاد کا سبب و محرک ٹھہری، البتہ چوہدری پرویز الٰہی اس میں شریک نہ ہوئے۔ اس پروگرام میں جماعت ِاسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، جماعة الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید اور دیگر نامور قائدین نے بھی شرکت فرمائی جبکہ مرکزی جمعیت اہل حدیث تو خود کنونشن کی داعی تھی، اس لئے اس کے امیر و ناظم اعلیٰ سے لے کر اکثر وبیشتر ملکی عہدیداران اس موقعہ پر موجود تھے۔ پروگرام میں گوناگوں قائدین کو موجود پا کر امامِ کعبہ نے حیرت واستعجاب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا :
فإن جمعیة أهل الحدیث الیومَ تُمثِّل وحدةَ المسلمین حینما دَعَتْ رؤساء الجمعیات الأخرٰی لِنَکُون جمیعًا أهل حدیث ولنکون جمیعًا جماعة إسلامیة ولنکون جمیعا جماعة دعوة
''آج جمعیت اہل حدیث نے مسلمانوں میں اتحاد ویگانگت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ او روہ یوں کہ اُنہوں نے دیگر تحریکوں ؍تنظیموں کے سربراہان کو بھی یہاں شرکت کی دعوت دی ہے تاکہ آج ہم سب اہل حدیث بن جائیں اور ہم سب جماعت اسلامی بن جائیں اور ہم سب جماعت الدعوة بن جائیں۔''

جمعیت اہل حدیث کی اس اتحاد ویگانگت کی کوشش کو سراہتے ہوئے انہوں نے فرمایا:
وأحسب أن جمعیة أهل الحدیث من الجمعیات الرائدة في تحقیق وحدة المسلمین وجمع کلمة، بورکت جهودہا وسددت في أعمالها  وأثاب اﷲ القائمین عليها لأنهم  یدعون إلی توحید اﷲ، یدعون حیث دعا رسل اﷲ
میں سمجھتا ہوں کہ جمعیت اہل حدیث کا اُمت ِمسلمہ کو متحد ومتفق کرنے اور ان کے کلمہ کو مجتمع کرنے میں ایک نمایاں کردار ہے، اللہ ان کی کوشش کو بابرکت بنائے، ان کے کاموں کو راہِ راست پر مستقیم فرمائے۔ اللہ تعالیٰ اس کے کارپردازان کو سلامت رکھے کیونکہ یہ لوگ توحید کے داعی ہیں، یہ اس دعوت کے حامل ہیں جس کی طرف اللہ کے رسولوں نے انسانیت کو بلایا۔

چونکہ یہ کنونشن ایک معروف دینی تحریک کی طرف سے منعقد کیا جارہا تھا، ا س لئے یہاں امامِ کعبہ کے خطاب کا موضوع بھی 'عقیدہ ومنہج' تھا۔ چنانچہ اُنہوں نے دین کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان فرماتے ہوئے کہا کہ اسلام کی دعوت صرف توحید کی اساس پر، اور سنت ِنبویؐ کی پیروی پر مستقیم رہ سکتی ہے۔ اُنہوں نے دورِ حاضر کے چیلنجز سے عہدہ برا ہونے کے لئے اسلام او راُمت ِاسلامیہ کے اتحاد کو ازبس لازمی قرار دیتے ہوئے فرمایا:
لکن علی ماذا تکون أُسُسُ الوحدة؟ تکون علی منهج الکتاب والسنة
''لیکن اس وحدت واتحاد کی بنیادیں کیا ہوں؟ یہ بنیاد کتاب وسنت کی اتباع ہی ہوسکتی ہے۔''

انہوں نے کہا کہ اس دعوت میں اہل علم کے فضل ومرتبہ کا اہتمام والتزام کرنا اشد ضروری ہے ، اس دعوت کی بنیادیں علم حقیقی (قرآن وسنت) میں پیوست ہیں۔ فرمایا:
فلا ینبغي أن نتساهل  بشأن العلم فینبغي أن نُعْنٰی بالعلم بکتاب اﷲ والعلم بسنة رسوله ﷺ والعلم باللغة العربیة التي هي لغة القرآن الکریم والسنة النبویة
''علم کے حصول میں کوتاہی کسی طرح بھی درست رویہ نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن مجید اور سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کو سیکھیں اور عربی زبان کی تعلیم حاصل کریں جو قرآنِ کریم اور سنت ِنبویہؐ کی زبان ہے۔''

علما کی عظمت وشان کے حوالے سے آپ نے ان الفاظ میں توجہ دلائی کہ علماے شریعت کی شان ومرتبہ میں کسی قسم کی کمی بیشی کرنے سے احتراز واجتناب لازمی ہے۔علما پر کوئی الزام عائد کرنے سے پہلے ان کو اجتہادی خطا پر (بشریت کے تقاضوں کے پیش نظر) معذور سمجھا جائے:
لا ینبغي التعجُّل في الوقیعة بالعلماء بل لا بد من التماس العُذرلهم!
اسلام پر عمل پیرا ہونے کے سلسلے میں منہج سلیم کی نشاندہی کرتے ہوئے آپ نے کہا :
''فإنها  دَعوة، دعوة إلی الإعتصام بالکتاب والسنَّة بعیدًا عن المُسمَّیات والشِّعَارات،فنَحن ندعو ا إلی کتاب اﷲ وسنَّة رسوله ونحبُّ من کان حریصًا مُتَّبِعا لکتاب اﷲ وسنة رسوله ﷺ بمنهج السلف الصالح''
''یہ اسلام کی دعوت دراصل کتاب وسنت کو مضبوطی سے تھام لینے کی دعوت ہے جو مختلف ناموں اور علامتوں سے کہیں بالاتر ہے۔ ہماری دعوت کتاب اللہ اور سنت ِرسولؐ کی دعوت ہے۔ ہمیں اس شخص سے دلی محبت ہے جو کتاب وسنت کی اتباع کا شائق و حریص ہو، جس ڈھنگ پر اس اُمت کے سلف صالحین کاربند رہے ہیں۔''

دین کے مفہوم اوراس کی دعوت کے حوالے سے اپنے مذکورہ بالا خیالات پیش کرتے ہوئے آپ نے اس تصور کا حامل 'اہل حدیث' کو قرار دیا اور یہ عربی اَشعار پڑھے :
أھل  الحديث هم آل النبي وإن لم یصحبوا نفسه أنفاسه صحبوا
سلامي علی أهل الحدیث فإني نشأت علی حبِّ الأحادیث من مَّهد
همو نشروا في الکون سنة أحمدا  بلا  صد منــهـــم فیهــا ولا وِرد
''اہل حدیث تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آل وعیال ہیں، جو ذاتِ نبویؐ کی صحبت سے مشرف تو نہیں ہوئے، البتہ ان کے سانس ضرور اس سے عطر بیز رہتے ہیں۔ اہل حدیث کو میرا سلام ہو کیونکہ بچپن سے میں بھی احادیث کی محبت میں ہی پروان چڑھا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کائنات میں سنت ِاحمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نشرواشاعت کی اور اس میں اُنہوںنے کوئی کمی بیشی نہیں کی۔''

اس شعر میں اہل حدیث کو آل النبیؐ (نبی کے روحانی وارث) قرار دینے کی وجہ پیش کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یوں تو یہ صحابیت کے شرف سے محروم ہیں، لیکن فرامینِ نبویؐ کے ہروقت تذکرے سے گویاان کی مشامِ جان ہردم صحبت ِ نبویؐ سے عطر بیز رہتے ہیں۔یعنی صحابیت کے حقیقی وصف کی بجائے اس مبارک فعل کی بنا پر اُنہیں اس کا معنوی وصف 'کلامِ نبوی کو سننا سنوانا' ضرور حاصل ہوا ہے۔ پھر امامِ کعبہ نے نجات یافتہ گروہ کے بارے میں امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کا مشہور مقولہ ذکر فرمایا:

إن لم یکونوا أهل الحدیث فلا أدري من هم؟
''اگر اہل حدیث فرقہ ناجیہ نہیں ہیں تو پھر میں نہیں جانتا کہ وہ اور کون ہیں؟''

انتہائی فرحت ومسرت کے عالم میں ہونے والا امام کعبہ کا یہ خطاب نہ صرف دیگر خطابات کی نسبت کافی طویل ہے بلکہ جا بجا قیمتی ارشادات اور علمی نکات سے بھرا ہوا ہے۔ اپنے خطاب میں دنیا بھر میں اہل حدیث کے شاندار کردار کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے فرمایا:
أیها الإخوة! إن جمعیة أهل الحدیث المرکزیة من الجمعیات الرَّائدة، لیس في مستوٰی باکستان فقط وإنما في العالم الإسلامي کلِّه بل في العالمِ أجمع۔ زُرتُ أمریکا وزرتُ بریطانیا وزُرت أماکنَ شتّٰی في العالم فوجدتُّ لأهل الحدیث دعوةً ووَجدتُّ له مساجد ووجدت لهم نشاطًا یُشْکرون علیه، لیس هذا تعصُّبًا ولا تحیُّزا
''میرے بھائیو! مرکزی جمعیت اہل حدیث نہ صرف پاکستان،پورے عالم اسلام بلکہ دنیا بھر میں ایک اُبھرتی ہوئی نمایاں جمعیتہے۔ مجھے امریکہ، برطانیہ اور دنیا کے دیگر علاقوں میں جانے کا موقع ملا ہے، وہاں بھی اہل حدیث کی دعوت موجود ہے، ان کی ہرجگہ مساجد ہیں اور ان کے کاموں میں کافی حرکت و نشاط پائی جاتی ہے جس پر ان کی قدر افزائی ہونی چاہئے۔ واضح رہے کہ میں یہ باتیں کسی تعصب اورہم نوائی کی بنا پر نہیں کہہ رہا ہوں۔''

امام کعبہ نے منہج وعقیدہ کی اس راست روی اور دیگر گوناگوں خوبیوںکی بنا پر اُمت ِمسلمہ کو بھی منہج سلف صالحین اختیا رکرنے کی دعوت دی:
فکلُّ مُسلِم ینبغي أن یکون أهل حدیث وکل مسلم ینبغي أن یکون أهل توحید وأہل سنة وأہل رعایة لمنہج سلف هذہ الأمة رحمہم اﷲ
''ہرمسلمان کو اہل حدیث ہونا چاہئے، ہرمسلمان کو اہل توحید اور اہل سنت ہونا چاہئے اور اس اُمت کے ائمہ اسلاف کے منہج کی رعایت رکھنے والا ہونا چاہئے۔''

شُکرًا لجمعیة أهل الحدیث وسلامي علی أهل الحدیث ودعائي لأهل الحدیث جمیعًا وجمیع إخواننا المسلمین في باکستان وجمیع جمعیات الإسلامیة الداعیة للإسلام فجزا اﷲ الجمیع خیرًا
'' میں جمعیت اہل حدیث کا شکرگزار ہوں، اہل حدیث حضرات کو میرا سلام ہو، میری دعائیں تما م اہل حدیث حضرات او رپاکستان کے تمام مسلمان بھائیوں کے لئے ہیں۔ اور ان تمام اسلامی جمعیتوں کے لئے بھی جو اسلام کی طرف بلانے والی ہیں، اللہ تمام کو بہترین جزا عطا فرمائے۔''

اپنے خطاب کے آخر میں اُنہوں نے تحریک ِاہل حدیث کو سعودی عرب اور حرمین شریفین کے علما کے افکار ودعوت کا تسلسل اور ان سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے فرمایا:
وندعو لکم دائمًا في رحاب الحرم الشریف وأنتم امتداد لما علیه علماء المملکة العربیة السعودیة وأهل الحرمین الشریفین وأئمة الحرمین الشریفین وعلماء مکة والمدینة وجمیع بلاد إخوانکم في المملکة العربیة السعودیة فجزاکم اﷲ خیرًا وبارك في جهودکم، شکرًا لکم
ہم حرم شریف میں ہمیشہ آپ کے لئے دعاگو رہتے ہیں کیونکہ آپ اس (دعوت) کا تسلسل ہیں جس پر مملکت ِسعودی عرب کے علما، حرمین شریفین کے باشندے، حرمین شریفین کے ائمہ کرام، مکہ اور مدینہ کے علماے عظام اور مملکت ِسعودی عرب میں آپ کے تمام بھائی کاربند ہیں۔ اللہ آپ کو جزاے خیرعطا فرمائے، آپ کی کاوشوں کو بابرکت بنائے، ہم آپ کے شکرگزار ہیں۔''

ایک شبہ اور اس کا ازالہ
اس خطاب میں تحریک ِاہل حدیث کے بارے میں جن مخلصانہ جذبات کا اظہار کیا گیا ہے اور جس طرح دوٹوک الفاظ میں ان کی حمایت وتائید کے ساتھ اُنہیں حرمین شریفین کا تسلسل قرار دیا گیا ہے، سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام موصوف کو اس کی ضرورت کیوں پیش آئی...؟

غالباً اس کی ضرورت یہ ہے کہ برصغیر پاک وہند میں تحریک ِاہل حدیث کے حوالے سے عوامُ الناس میں مختلف شبہات پیدا کئے جاتے ہیں اور اس کا تعارف جادئہ حق سے منحرف ایک تحریک کے طور پر کرایا جاتا ہے۔ اس تعارف کے پس پردہ انگریز استعمار اور مغربی سامراج کی سلفیت یا اپنے خود ساختہ تصورِ 'وہابیت' کے خلاف بڑی شدومد سے پھیلائی جانے والی نفرت بھی شامل ہے۔ امام کعبہ نے اپنے اس خطاب کے ذریعے گویا اس تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ بالخصوص جمعیت ِاہل حدیث اور کنونشن میں موجود اہل حدیث علماکو مخاطب۷ کرکے ان کی ملکی وبین الاقوامی خدمات کی جو تحسین وتائید اُنہوں نے فرمائی ہے، اس سے اُن کامقصود بالکل واضح اور ظاہر وباہرہے۔

لیکن یہاں اس امرکی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ شیخ عبدالرحمن سدیس اس بیت اللہ العظیم کے امام ہیں جوتمام مسلمانوں کا قبلہ وکعبہ ہے، چنانچہ اُنہوں نے اپنے خطاب میں بھی اس جامعیت کو ملحوظ رکھا ہے، نہ کہ اُنہوں نے اس طرح کسی تعصب کی حوصلہ افزائی کی ہے بلکہ اُنہوں نے اہل حدیث کے اس تصور کو مجلس میں موجود افراد کے ساتھ متعین کرنے کے علاوہ اس میں ان لوگوں کو بھی شامل کیا ہے جو کتاب وسنت کی غیرمشروط اتباع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِن الفاظ کے ذریعے اُنہوں نے دوسروں کوبھی اسی دعوت کی ترغیب دی ہے:
وحینما أقول أهل الحدیث أؤکد أنني أرید العموم، أرید أن نَّکون کلُّنا کذلك،کلنا ذلك الرجل۔ ومَن مِّنا لا یحبُّ حدیث رسول اﷲ؟ ومن منا لایحرص علی منهج سلف هذہ الأمة رضي اﷲ عنهم۔
''جب میں اہل حدیث کا لفظ بولتا ہوں تو بالتاکید اس لفظ سے میری مراد عام ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہم سب اسی طرح ہوجائیں۔ کیونکہ ہم میں سے کون ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے محبت نہ ہو، اور کون ہے جو اس اُمت کے اسلاف کے منہج کا خواہاں نہ ہو۔''

امامِ کعبہ کے اس طرزِ فکر پر ان کے پورے خطاب کا اُسلوب شاہد ہے کہ اُنہوں نے اُمت مسلمہ میں اتحاد ووحدت اور یگانگت پر کئی بار زور دیا۔ وحدت کی بنیاد کتاب وسنت کو بتاتے ہوئے اُنہوں نے علما کے احترام، فرقہ واریت سے نفرت، اور فروعی مسائل کی بنا پر فرقہ بند ہوجانے کے رویہ کی مذمت کی اور آپس میں خیرخواہی اور ایک دوسرے کے لئے محبت ومؤدت کے جذبات پر کاربند رہنے کی تلقین فرمائی۔

امامِ کعبہ جیسی معتبر ومحترم ہستی کی یہی شان ہے کہ وہ اُمت کو اسلام کی حقیقی بنیادوں پر یکجا ہونے کی دعوت دیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کا صحیح اور کامل شعور عطا فرما کر خلوص دل سے اس پر عمل کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین!

 


 

1.  22شعبان 1404ھ1984ء کو پہلی بار کعبہ میں نمازِعصرکی امامت فرمائی اور اسی سال 15 رمضان کو پہلا خطبہ دیا
14162. ھ میں بعنوان الواضح في أصول الفقه لأبي الوفاء بن عقیل الحنبل دراسة وتحقیق
3. ولادت: 1382 ھ بمطابق 1961ء بمقام: ضلع بکیریة،صوبہ قصیم ... حفظ ِقرآن کی عمر 12 سال
4.  نومبر 2005ء میں سال کے سب سے مقبول اسلامی رہنما ہونے پر 'دبئی انٹرنیشنل قرآن ایوارڈ' ملاجس کا فیصلہ شیخ شعراوی، علامہ قرضاوی، مولانا ابوالحسن علی ندوی اور شیخ زید بن سلطان النہیان نے مشترکہ طورپرکیا۔
5.  علمی موضوعات پر آپ کی کئی ضخیم تصنیفات ہیں ، جن میں سے بعض کے نام حسب ِذیل ہیں :
المسائل الأصولیة المتعلقة بالأدلة الشرعیة التي خالف فیها ابن قدامة الغزال
الواضح في أصول الفقه ؛ دراسة وتحقیق
کوکبة الخطب المنیفة من جوار الکعبة الشریفة
اتحاف المشتاق بلمحات من منهج  وسیرة الشیخ عبد الرزاق
أهم المقومات في  إصلاح المعلمین والمعلمات
دور العلماءفي تبلیغ الأحکام الشرعیة
رسالة  إلی المرأة المسلمة

التعلیق المأمول علی ثلاثة أصول
الإيضاحات الجلیة علی القواعد الخمس الکلیةاور بہت سے دیگرمقالات وتالیفات وغیرہ
6. سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں آپ نے کئی جلیل القدر علماے کرام سے استفادہ کیا اور ان کے حلقات دروس میں شرکت کی جن میں مفتی اعظم سعودیہ شیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ بن باز، شیخ عبد الرزاق عفیفی، شیخ ڈاکٹر صالح فوزان، شیخ عبدالرحمن ناصر البراک اور شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ الراجحی وغیرہ شامل ہیں ۔
7.  لاہور میں اپنے ایک خطاب میں شیخ نے فرمایا کہ یوں تو میں سعودی عرب میں رہتا ہوں لیکن میرا دل مسلمانانِ پاکستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ 8 اکتوبر 2005ء کو جب پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں زلزلہ آیا تو ہفتہ بھر امام کعبہ نے بیت اللہ میں متاثرین کے لئے رورو کر دعائیں مانگیں اور 10 جنوری 2006ء کا پورا خطبہ جمعہ ہی پاکستان کے زلزلہ زدگان کے ساتھ ہم دردی کے موضوع پر دیا، اور ان کے لئے اعانت کی پرزور اپیل کی۔