میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

داغِ فراق صحبت ِ شب کی جلی ہوئی اِک شمع رہ گئی 'تھی' سو وہ بھی خموش ہے

مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رحمة اللہ علیہ کی جدائی کا غم ابھی تازہ ہی تھا، جن کا انتقال دو روز قبل یکم دسمبر2006ء کو ہوا کہ 3 دسمبر 2006ء بروز اتوار قاری عبدالخالق رحمانی (کراچی)کی وفات حسرت آیات کی خبر صاعقہ بن کر گری اور امن و سکون کے خرمن کو خاکستر کرگئی۔ اناﷲ وانا الیہ راجعون!
قاری صاحب موصوف علما کے اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جو دارالحدیث رحمانیہ (دہلی) کے فضلا پر مشتمل تھا۔ دارالحدیث رحمانیہ کی یاد اہل علم کو اس طرح تڑپاتی ہے، جیسے کلکتے کے ذکر پر کسی خاص وجہ سے غالب تڑپ اُٹھتا تھا، غالب نے کہا تھا ؎
کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اِک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
دارالحدیث رحمانیہ کی یاد بھی اسی طرح روح فرسا، برق آسا اور دلوں کو مضطرب کردینے والی ہے۔ یہ مدرسہ دہلی میں ، جبکہ شہرِ دہلی علم و حکمت کا مرکز اور علماء وفضلا کا مسکن تھا، اس کی بابت لکھنؤ جاکر میر تقی میر نے کہا تھا ؎
دلّی جو ایک شہر تھا ، عالم میں انتخاب
رہتے تھے جہاں منتخب ہی روزگار کے
اُس کو فلک نے لوٹ کر ویران کردیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے

یہ اس ویرانی کا ذکر ہے جب مرہٹوں نے دہلی میں لوٹ مار کی انتہا کردی تھی۔ اس کے بعد 1857ء میں انگریزوں کے دہلی پر دوبارہ قبضے اور آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفر کی رنگون جلاوطنی کے موقع پر دہلی میں پھر قتل و غارت ہوئی۔ پھر شدہ شدہ وہاں کی رونق بحال ہوگئی اور دلی ایک مرتبہ پھر علم و دانش کا گہوارہ بن گیا تھا۔

مسیح الملک حکیم اجمل خاں جیسے طبیب حاذق اور مسیحاے دوراں اپنی مسیحائی سے وہاں ایک دنیا کو فیض یاب کررہے تھے، پھاٹک حبش خاں میں محدث العصر شیخ الکل میاں نذیر حسین دہلوی کی مسند علم و تدریس بچھی ہوئی تھی اور علم و عمل کے اس چشمہ صافی سے ایک دنیا سیراب ہورہی تھی اور مفتی کفایت اللہ جیسے اساطینِ علم مسند ِاِفتا پرفائز تھے۔ سیاست کے میدان میں مولانا ابوالکلام آزاد جیسے عبقری افراد موجود تھے جن کی شرر بار تقریروں اور حکمت و دانش سے بھرپور مساعی سے پورا ملک (متحدہ ہندوستان) انگریز کے خلاف استخلاصِ وطن کے لئے متحرک تھا اور بانی پاکستان محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ پاکستان کے قیام کے لئے سرگرم تھی۔

انہی ایام میں دہلی میں مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ قائم تھا۔ دہلی کے ایک تاجر شیخ عطاء الرحمن رحمة اللہ علیہ اس کے موسس اور بانی تھے۔ کہنے کو یہ ایک مدرسہ ہی تھا لیکن یہ ایسا مثالی مدرسہ تھا کہ اس کے بعد اس کے معیار کا دوسرا مدرسہ آج تک قائم نہیں ہوسکا۔ اس کے بے مثال ہونے کی وجوہات حسب ِذیل تھیں :
1. اس کے بانی کا بے پناہ اخلاص، جو اگرچہ صرف ایک تاجر تھے لیکن علماء و طلباے دین سے بے حد پیار کرتے تھے۔
2. انتہائی قابل مدرسین کااہتمام، مثلاً حافظ احمد اللہ صاحب دہلوی، مولانا نذیر احمد رحمانی املوی اور مولانا عبیداللہ رحمانی مبارکپوری جیسے حضرات وہاں مسند ِتدریس پر فائز تھے۔
3. حافظ عبداللہ محدث روپڑی جیسے مجتہد العصر اس کے ممتحن تھے۔
4. مدرسے کے مہتمم شیخ عطاء الرحمن طلبا کو اپنی اولاد کی طرح عزیز رکھتے تھے اور انہی کی طرح ان سے شفقت فرمایا کرتے تھے۔

یہ اور ان جیسے دیگر اسباب و عوامل نے اس مدرسے کو ایک مثالی درس گاہ بنا دیا تھا۔ یہاں سے فارغ ہونے والے علما علم و عمل کے اعتبار سے ممتاز مقام کے حامل تھے، جنہوں نے دینی علوم کے مختلف شعبوں میں کارہاے نمایاں سرانجام دیے۔ تقریر و خطابت کے میدان میں ، تدریس و اِفتا کے میدان میں ، تصنیف وتالیف اور تعلیم و تربیت کے میدان میں ، ہر جگہ اُنہوں نے اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑے اور اپنے علم و فضل کا سکہ منوایا۔ اس کے فضلا دارالحدیث رحمانیہ کی مناسبت سے 'رحمانی' کہلواتے تھے۔

قاری صاحب رحمة اللہ علیہ بھی اسی مدرسے کے فیض یافتہ تھے۔ فراغت کے بعد آگرہ وغیرہ میں مسند ِتدریس اور منصب ِشیخ الحدیث پر فائز رہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد کچھ عرصہ حیدر آباد سندھ میں قیام پذیر رہے۔ وہاں تجارت کو ذریعہ معاش بنایا، پھر کراچی آگئے، یہاں بھی ذریعہ معاش تجارت ہی رہا اور اس کے ساتھ ساتھ تقریر و خطابت میں بڑا نام پیدا کیا۔

قاری صاحب رحمة اللہ علیہ خطابت کے لحاظ سے بے مثال تھے، اللہ تعالیٰ نے تقریر و خطابت کا بڑا عظیم ملکہ ان کو عطا فرمایا تھا۔ ان کی تقریر فصاحت و بلاغت کا ایک نادر نمونہ ہوتی تھی۔ اس اعتبار سے وہ پاک و ہند میں ایک نہایت ممتاز اور منفرد مقام کے حامل تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حسنِ صوت کی نعمت سے بھی نوازا تھا۔ قرآنِ کریم کی تلاوت نہایت دل نشین انداز سے فرماتے تھے۔ ان کی تقریر میں ایک طرف فصاحت و بلاغت کا دریاے بے کراں رواں ہوتا، تو دوسری طرف وجد آفرین تلاوت سے سامعین مسحور ہوتے۔ گویا ان کی تقریر فصاحت و بلاغت اورحسنِ تلاوت کا ایک حسین امتزاج ہوتی تھی جو سامعین پر ایک وجد اور سحر کی سی کیفیت طاری کردیتی تھی۔

رمضان المبارک میں نہایت باقاعدگی سے تراویح میں قرآن سناتے تھے۔ تراویح میں آپ کی قراء ت کی روانی، حسن مخارج اور حسن صوت نہایت مسحور کن ہوتا، زبان و بیان کی تعبیرات اس کو الفاظ میں سمیٹنے سے قاصر ہیں ۔

تقریر و خطابت اور حسن قراء ت میں یکتاے زمانہ ہونے کے ساتھ ساتھ علم میں نہایت پختہ تھے۔ اس کی ایک وجہ ایامِ جوانی میں مسند ِتدریس سے وابستگی تھی۔ دوسری وجہ، آپ ایک نامور محدث کے فرزند ِگرامی تھے اور مشہور مقولہ ہے: الولد سر لأبیه
''اولاد باپ ہی کی رازداں ہوتی ہے۔'' یعنی اولاد اپنے والد کا پرتو؍عکس ہوتی ہے۔

آپ مولانا عبدالجبار محدث کھنڈیلوی رحمة اللہ علیہ کے فرزند ِگرامی تھے۔ محدث کھنڈیلوی، جن کی ساری عمر حدیث پڑھنے پڑھانے میں گزری، جماعت کے سربرآوردہ علماء و محققین میں سے تھے۔ ان کی علمی یادگاروں میں التبیان في زیادة الإیمان (عربی) اور 'خاتمہ اختلاف' (اُردو) کے علاوہ صحیح بخاری پر ایک فاضلانہ مقدمہ ہے جو غیر مطبوع ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اوکاڑہ میں شیخ الحدیث رہے اور وہیں آسودۂ خواب ہیں ، رحمة اﷲ رحمة واسعة

ایک المیہ
قاری عبدالخالق رحمانی رحمة اللہ علیہ صاحب تجارت و کاروبار کی وجہ سے خاصے خوش حال تھے۔ علاوہ ازیں علمی اعتبار سے بھی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے اور یہ دونوں ہی چیزیں ان کے لئے ایک المیے کاباعث بنی رہیں ۔ جیسے کسی نے کہا ہے
اے روشنیٔ طبع تو برمن بلا شدی
''اے روشنی طبع! تو میرے لئے ہی آزمائش بن گئی ہے۔''

اس کی مختصر تفصیل حسب ِذیل ہے:
کراچی میں مدارس و مساجد کے منتظم بالعموم وہ لوگ ہیں جو اصحاب ِحیثیت ہیں اور یہ کوئی بُری بات نہیں ۔ لیکن ا س میں اس وقت خرابی آجاتی ہے جب وہ دولت کے گھمنڈ میں علماء و مدرّسین کو کوئی اہمیت دینے کے لئے تیار نہ ہوں اور 'ہم چوما دیگرے نیست' کے زعم باطل میں مبتلا ہوجائںر ۔ کراچی کے اکثر منتظمین مدارس و مساجد اہلحدیث میں یہ چیز پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ علما کو قرارِ واقعی اہمیت نہیں دیتے اور جب بھی کوئی بات ان کی طبیعت کی گرانی یا ناگواری کا باعث بنتی ہے، تو وہ بہ یک بینی و دوگوش علما کو مدرسہ و مسجد سے نکال باہر کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے۔

قاری صاحب رحمة اللہ علیہ کی طبع خود دار کے لئے یہ بات ناقابل برداشت تھی، اس لئے اُن کی ان لوگوں کے ساتھ اَن بن سی رہتی تھی اور وہ خاموشی کے ساتھ ان سے الگ تھلگ رہنے پر مجبور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی شہر کی کسی بھی بڑی مسجد میں وہ بطورِ خطیب یا منتظم نہیں رہے اور شہر سے باہر شیر شاہ کی جان لیس فیکٹری کی مسجد میں خطبہ جمعہ بھی ارشاد فرماتے رہے اور رمضان المبارک میں قرآن مجید بھی وہیں سناتے رہے، حالانکہ وہ اپنے وقت کے بے مثال اور عظیم خطیب تھے، اسی طرح بے مثال قاری بھی تھے۔ لیکن اصحابِ حیثیت، منتظمین مدارس و مساجد نے ان کی قدر نہیں کی اور ان کی حیثیت کے مطابق ان کو ان کا مقام و مرتبہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ ادھر قاری صاحب مرحوم بھی بقول غالب
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
پر عمل پیرا رہنے پر مجبور تھے یا یوں کہہ لیجئے :
واں وہ غرورِ عزو ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع
راہ میں ہم ملیں کہاں ، بزم میں وہ بلائے کیوں

ہوسکتا ہے اب قاری صاحب کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اُنہیں احساس ہورہا ہو کہ ہم کس گوہر یکتا اور گنج گراں مایہ سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اسی قسم کی صورت حال کے لئے شاعر نے کہا تھا ؎
اسے ناقدرئ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مرگئے ہم ، تو زمانے نے بہت یاد کیا

اللہ تعالیٰ نے ان کو طویل عمر عطا فرمائی۔ اندازہ ہے کہ ۹۰ سے متجاوز ہی ہوں گے، چند سال قبل شدید بیمار ہوئے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے صحت سے نواز دیا اور پھر پہلے کی طرح متحرک اور سرگرم ہوگئے تھے۔ طبیعت باغ و بہار پائی تھی، جس مجلس میں ہوتے اپنی نوا سنجی اور طلاقت ِلسانی سے مجلس میں چھائے رہتے۔ بیتے ہوئے واقعات، بالخصوص کسی صاحب ِحیثیت یا کسی صاحب ِعلم سے نوک جھونک کی تفصیلات اس طرح بیان فرماتے کہ ان کے حافظے پر رشک آتا اور غالب کا یہ مصرعہ لوحِ حافظہ پر اُبھر آتا ع ذکر اس پری وش کا ، اور پھر بیان اپنا

دو علمی امانتیں
1 قاری صاحب مرحوم کے سسر محترم بھی ایک بلند پایہ عالم دین تھے: مولانا داؤد راغب رحمانی رحمة اللہ علیہ ۔ اُنہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور کئی بڑی بڑی کتابوں کے اردو میں ترجمے کئے، جیسے تفسیر ابن کثیر کا ترجمہ جو الفضل الکبیر کے نام سے شائع ہوا۔ امام ابن قیم رحمة اللہ علیہ کی کتاب الروح کا ترجمہ، منتقی الاخبار کا اُردو ترجمہ جو دارالدعوة السلفیہ کے زیر اہتمام دو جلدوں میں شائع ہوا۔ یادرہے کہ منتقی الاخبار ہی کی شرح نیل الاوطار ہے جو امام شوکانی رحمة اللہ علیہ کی تالیف ہے۔ مولانا راغب رحمانی رحمة اللہ علیہ نے اس ضخیم شرح کا بھی ترجمہ کیا ہے جو ابھی تک زیورِ طباعت سے آراستہ نہیں ہوا۔ قاری صاحب موصوف کی بڑی خواہش اور کوشش تھی کہ کوئی علمی ادارہ اس ضخیم شرح کے ترجمے کو شائع کردے۔ سب سے پہلے قاری صاحب نے یہ ترجمہ دارالدعوة السلفیہ کے سپرد کیا، وہاں اس کی اشاعت کا بندوبست نہ ہوسکا تو پھر أنصار السنة المحمدیة کے رئیس مولانا عطاء اللہ ثاقب رحمة اللہ علیہ نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا، لیکن وہ بھی اسے شائع نہ کرسکے۔ مولانا ثاقب رحمة اللہ علیہ کی وفات کے بعد قاری صاحب رحمة اللہ علیہ نے راقم کو دو تین مرتبہ بذریعہ خط ہدایت فرمائی کہ وہ دارالسلام کے روح رواں جناب عبدالمالک مجاہد صاحب حفظہ اللہ سے اس کی اشاعت کی بابت گفتگو کریں ، لیکن ہر مرتبہ راقم ان کو یہی لکھتا رہا کہ ابھی فی الحال وہ اس کی اشاعت کے متحمل نہیں ، کیونکہ اُنہوں نے کتب ِستہ (صحاحِ ستہ) کے از سر نو اُردو تراجم کا عظیم منصوبہ شروع کیاہوا ہے۔اس سے فراغت کے بعد ہی وہ کسی اور بڑے علمی منصوبے پر غور کرسکتے ہیں ۔

کم و بیش ایک سال قبل ڈاکٹر محمد ادریس زبیر حفظہ اللہ بانی 'الہدیٰ انٹرنیشنل' نے راقم کو بتایا تھا کہ اب الہدیٰ کی طرف سے اس کی اشاعت کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ اللہ کرے کہ وہاں سے اس کی اشاعت عمل میں آجائے۔ بلا شبہ یہ ایک علمی امانت ہے، اس کی اشاعت جہاں ایک طرف وافر سرمائے کی متقاضی ہے ، وہاں دوسری طرف اس کے لئے شدید علمی محنت اور جگرکاوی اشد ضروری ہے۔ اُمید ہے کہ الہدیٰ اس علمی امانت کا علمی حق صحیح طریقے سے ادا کرے گا۔ وبیداﷲ التوفیق والسداد

2 جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ قاری صاحب کے والد ِگرامی قدر اپنے وقت کے پختہ عالم اور عظیم محدث تھے، انہوں نے عربی زبان میں صحیح بخاری پرایک علمی مقدمہ تحریر فرمایا تھا جو ابھی تک قلمی صورت میں ہے۔ حالانکہ اس کو تحریر کئے ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ قاری صاحب موصوف کی خواہش تھی کہ کوئی صاحب ِعلم و تحقیق اس پرنظرثانی فرما کر اسے قابل اشاعت بنا دے۔ اس سلسلے میں شیخ الحدیث مفتی جماعت مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کا نام بھی تجویز کیا گیا تھا، اب معلوم نہیں کہ قاری صاحب کا ان سے رابطہ ہوا یا نہیں ؟ مزید تفصیلات راقم کے علم میں نہیں ۔ اس لئے نہیں کہا جاسکتا کہ مذکورہ مقدمہ کس صورت میں ہے اور کس کے پاس ہے، نیز اس پر تحقیق و نظرثانی کا کچھ کام ہوا ہے یا نہیں ؟

بہرحال یہ بھی ایک علمی امانت ہے جس کی بہ حفاظت اشاعت کا بندوبست ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں قاری صاحب رحمة اللہ علیہ کے ورثا کو بھی پورا تعاون کرنا چاہئے تاکہ ان کے جدامجد کی یہ علمی امانت ضائع ہونے سے بچ جائے۔ وما علینا إلا البلاغ

قاری صاحب رحمة اللہ علیہ کا آبائی علاقہ کھنڈیلہ تھا جو راقم کیجائے پیدائش( جے پور) کے قریب ایک جگہ تھی۔ پہلے یہ جے پور ہندو ریاست کی راج دہانی تھا، اب صوبہ راجستھان کا حصہ ہے۔ ہماری بڑی ہمشیرگان بتلاتی ہیں کہ قاری صاحب یا ان کے والد محترم جب کھنڈیلہ سے جے پور آتے تو ہمارے ہاں بھی تشریف لاتے تھے۔ اس اعتبار سے ایک گونہ خاندانی اور آبائی تعلق بھی قاری صاحب مرحوم سے تھا۔ اس تعلق کو جب تک راقم کے والدین کی رہائش کراچی شہر میں رہی، قاری صاحب نبھاتے رہے اور ہمارے گھر تشریف لاتے رہے۔ لانڈھی منتقل ہونے کے بعد البتہ یہ سلسلہ منقطع ہوگیا۔ صرف ایک مرتبہ لانڈھی تشریف لے گئے، اس موقع پر بڑی ہمشیرہ مرحومہ نے مونگ کی دال کا حلوہ ان کے لئے بنایا، تو ان کوبہت پسند آیا، اس کے بعد جب بھی راقم سے ملاقات ہوتی تو اس حلوے کی تعریف فرماتے، کیونکہ مرحوم خوش پوشاکی کے ساتھ ساتھ خوش خوراک بھی تھے۔ غفر اﷲ له وارحمه

اب وہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کی خوب میزبانی فرمائے اور جنت کے انواع و اقسام کے کھانوں سے ان کو شاد کام اور مغفرت و رحمت کی سلسبیل سے ان کو سیراب فرمائے۔ آمین!