اسلام ایک معتدل و متوازن دین ہے جو میانہ روی کو پسند کرتاجبکہ غلو اور انتہا پسندی کے خلاف ہے۔ قرآن و سنت میں جابجا ایسی تعلیمات موجود ہیں جو اعتدال و توازن کاسبق دیتی ہیں۔ مثلاً 'انفاق' کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَٱلَّذِينَ إِذَآ أَنفَقُوا لَمْ يُسْرِ‌فُوا وَلَمْ يَقْتُرُ‌واوَكَانَ بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ قَوَامًا ﴿٦٧...سورۃ الفرقان
''اور اللہ کے بندے جب خرچ کرتے ہیں تو اِسراف نہیں کرتے اور نہ ہی بخل سے کام لیتے ہیں اور میانہ روی اختیار کرتے ہیں ۔ ''

اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے :
وَٱقْصِدْ فِى مَشْيِكَ وَٱغْضُضْ مِن صَوْتِكَ ۚ إِنَّ أَنكَرَ‌ ٱلْأَصْوَ‌ٰتِ لَصَوْتُ ٱلْحَمِيرِ‌ ﴿١٩...سورۃ لقمان
''اور تو اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست رکھ،بے شک سب آوازوں سے بری آواز گدھے کی آواز ہے ۔''

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ ٱلْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورً‌ا ﴿٢٩...سورۃ الاسراء
''اور نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھے رکھ(یعنی بخل کر)اور نہ تو اس کو بالکل ہی کھول دے (یعنی اسراف کرکے)پس تو (بعدمیں )ملامت زدہ،تھکا ہارا بیٹھا رہ جائے گا۔''

وَلَا تَجْهَرْ‌ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَٱبْتَغِ بَيْنَ ذَ‌ٰلِكَ سَبِيلًا ﴿١١٠...سورہ الاسراء
''اور نہ آپ ؐ اپنی(قراء ت) کو نماز میںبلند کریں اور نہ اس کو پست کریں اور اس دونوں کا درمیانی راستہ تلاش کریں ۔''

کتاب وسنت میں غلو کی ممانعت
جس طرح قرآن و سنت میں اعتدال و میانہ روی کی تعلیمات موجود ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انتہا پسندی اور'غلو' سے منع بھی کیا گیا ہے۔ قرآن میں دو مقامات ایسے ہیں جہاں باقاعدہ'غلو' یعنی انتہا پسندی کا نام لے کر اس سے روکا کیا گیا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا تَغْلُوافِى دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُواعَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْحَقَّ ۚ...﴿١٧١...سورۃ النساء
''اے اہل کتاب !تم اپنے دین میں غلو نہ کرواور اللہ کے بارے میں سواے حق بات کے کچھ نہ کہو۔''

ایک اور جگہ ارشاد ہے :
قُلْ يَـٰٓأَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ لَا تَغْلُوا فِى دِينِكُمْ غَيْرَ‌ ٱلْحَقِّ...﴿٧٧...سورۃ المائدۃ
''اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجیے: اے اہل کتاب!تم اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو۔''

اسی طرح احادیث ِمبارکہ میں بھی کسی بھی معاملے میں،چاہے وہ نیکی کا ہی کیوں نہ ہو، انتہا پسندی کے بالمقابل اعتدال و توازن کواختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔صحیح مسلم میں ہے :
عن أنس أن نفرا من أصحاب النبي ﷺ سألوا أزواج النبي عن عمله في السر۔ فقال بعضھم: لا أتزوج النساء وقال بعضھم لا آکل اللحم وقال بعضھم: لا أنام علی فراش فحمد اﷲ وأثنی علیه فقال: (ما بال أقوام قالوا: کذا وکذا لکني أصلي وأنام وأصوم وأفطر وأتزوَّج النساء فمن رغب عن سنتي فلیس مني) 1
''حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ صحابہ ؓ کی ایک جماعت نے آپؐ کی بعض ازواج سے آپؐکے گھر کے معمولات کے بارے میں پوچھا۔ پھر ان صحابہؓ میں سے ایک نے کہا:میں زندگی بھرشادی نہیں کروں گا۔ دوسرے نے کہا:میں کبھی گوشت نہیں کھاؤں گا۔ تیسرے نے کہا:میں کبھی بستر پر نہیں سوؤں گا۔(آپؐ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ ؐ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے)پس آپؐ نے اللہ کی تعریف بیان کی اور کہا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جبکہ میں (اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم )نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور میں(نفلی) روزہ بھی رکھتا ہوں اورکبھی نہیں رکھتا اور میں نے عورتوں سے شادیاں بھی کی ہیں پس جس نے میری سنت سے اعراض کیا ،اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔''

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ھلك المُتنطِّعون قالھا ثلاثا) 2
' متنطعونہلاک ہوگئے، متنطعونہلاک ہو گئے، متنطعون ہلاک ہو گئے ۔''

امام نووی متنطعونکی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
المتعمقون الغالون المجاوزون الحدود في أقوالھم و أفعالھم
''وہ لوگ جو اپنے اقوال و افعال میں حد سے بڑھنے اور غلو کرنے والے ہیں۔''3

مذہبی انتہاپسندی(i)کی تاریخ
انتہا پسندی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی حضرت انسان کی عمر ہے۔ چنانچہ قرآن نے قدیم آسمانی مذاہب یہود و نصاریٰ میں پائے جانے والے 'غلو' کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ اس سے سختی سے منع بھی فرمایا۔اس ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی قوم اللہ کے دیے ہوئے دین میں 'غلو' کا شکار ہوتی ہے تو اس دین کا بیڑ ہ غرق کر دیتی ہے ۔مثلاً ہم دیکھتے ہیں کہ یہود نے حضرت عیسیٰ ؑکی دشمنی میں 'غلو' کرتے ہوئے اُنہیں ولد الزنا،جادوگر اور واجب القتل قرار دیا اور اپنے گمان میں ان کو قتل بھی کر دیا، معاذ اللہ۔ دوسری طرف حضرت عیسیٰ ؑکی محبت میں عیسائیوں نے ان کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہوئے اُلوہیت کے درجے پر فائز کر دیا جبکہ اسلام نے ان دونوں مذاہب کے برعکس حضرت عیسیٰ ؑ کی ذات کے بارے میں ایک معتدل موقف پیش کیا ہے جو سورئہ مریم کی ابتدائی آیات میں موجود ہے ۔

سابقہ آسمانی مذاہب کی طرح اُمت ِمسلمہ بھی 'غلو' اور انتہا پسندی کا شکار ہوئی۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی بعض اشخاص کی طرف سے جب نیکی میں 'غلو' کا مظاہرہ کیا گیا تو آپ ؐ نے اس کو سخت ناپسند کیا اور اس سے روکاجیسا کہ تین اصحاب کا واقعہ اوپر ہم بیان کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں آپؐ نے اپنی پیش گوئیوںمیں مسلمانوں میں آئندہ بعض متشدد،متعصب اور انتہا پسند گروہوں کی نشاندہی کی اور ان کی بعض صفات بھی بیان کیں۔آپ ؐ کی پیش گوئیوں کے عین مطابق خلافت ِراشدہ میں ہی ایک ایسا گروہ پیدا ہو چکا تھا جو حضرت علیؓ اور حضرت امیر معاویہؓ کی باہمی لڑائیوں کی وجہ سے ان دونوںحضرات صحابہؓ اور ان کے ساتھیوں کو کافر قرار دے کر واجب القتل سمجھتا تھا جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت یسیر بن عمرو رحمة اللہ علیہ نے سہل بن حنیفؓ سے سوا ل کیا کہ کیا آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوارج کے بارے میں کچھ سنا ہے؟
تو اُنہوں نے جواب دیا:
سمعته یقول وأھوٰی بیدہ قبل العراق یخرج منه قوم یقرؤون القرآن لا یجاوز تراقیھم یمرقون من الإسلام مروق السھم من الرمیة
''میں نے آپ ؐ کو کہتے ہوئے سنا، اس حال میں کہ آپ ؐ نے عراق کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس سے ایک قوم نکلے گی جو قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اُترے گا۔ وہ اسلام سے اتنی تیزی سے نکل جائیں گے جس طرح کمان سے تیر نکلتا ہے ۔''4

خوارج کی نیکی،خلوص، تقویٰ اورللّٰھیت میں کسی کو کلام نہیں۔ تاریخی روایات میں ملتا ہے کہ یہ لوگ بہت کثرت سے قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کی اس صفت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اس گروہ کے تقویٰ کا اندازہ ان کے اس عقیدے سے لگا یا جا سکتا ہے جس کے مطابق یہ گناہِ کبیرہ کے مرتکب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ بھلا وہ شخص جس کا یہ عقیدہ ہو کہ گناہِ کبیرہ کے ارتکاب سے ایک شخص دائرئہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، کیا وہ کبھی گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہو گا؟ لہٰذا خوارج جن کی نیکی اورشریعت پر عمل پیرا ہونے کا یہ عالم ہو، ان کو حضر ت سہل بن حنیفؓ نے آپ ؐکی اس حدیث کا مصداق قرار دیا ہے۔ اسلئے جس گروہ یا جماعت میں نیکی ،خلوص،تقویٰ اور شریعت پر عمل پیر اہونے کا جذبہ توہو لیکن قرآن وسنت کا علم ناقص ہو تو ایساگروہ اور جماعت عموماً دین میں 'غلو' کا شکار ہو جاتی ہے۔

شیعہ سنی انتہا پسندی کے عملی مظاہر
ٹھوس تاریخی تجزیے پر علمی اختلاف کرنااورتحقیق میں آزادی کی روش اختیار کرنا ایک معاشرے کے شعوری ارتقا اورروحانی ترقی کے لیے از بس ضروری ہے۔ جہاں علمی اختلاف کو تعصب کا رنگ دے کر کفر کے فتوے لگائے جائیں اور معاملہ قتل و غارت تک پہنچ جائے، اسی طرح آزادیٔ اظہار اور حریت ِفکر کو مختلف حربوں سے دبا دیاجا ئے تو ایسا معاشرہ افتراق وانتشارکا نمونہ بن جاتا ہے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شیعہ و سنی مکالمہ ہو یا بریلوی،دیوبندی اور اہل حدیث کے درمیان بحث و مباحثہ،اسے صرف علمی مباحثہ و مکالمہ تک ہی محدودرہنا چاہیے اور اس کی بنیاد پر تشدد کی کوئی پالیسی اختیار کرنایا اپنی اجتہادی آرا کو دوسروں پر جبراً ٹھونسنااسلامی تعلیمات کے منافی ہے جو پورے اسلامی معاشرے کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

لیکن حالیہ دنوں کچھ خبریں،بعض اخبارات میں نظر سے گزریں تو ان کو پڑھ کر افسو س ہوا۔ تفصیلات کے مطابق جناب جاوید احمد غامدی صاحب کے ساتھ جامعہ حفصہ والے قضیہ کے تناظر میں 'معروف و منکر'کے موضوع پر ایک علمی مذاکرہ جیو ٹی وی پر 'غامدی' نامی پروگرام میں پیش ہوا جس میں جامعہ حفصہ پر گفتگو کے دوران سیدناحسین ؓ کا یزید کے خلاف خروج کا مسئلہ بھی زیر بحث آ گیا۔ مذاکرہ میں شریک بعض حضرات نے سیدنا حسینؓ کے خروج کے حوالے سے یہ موقف پیش کیا کہ سیدنا حضر ت حسینؓ کا یزیدکے خلاف خروج تو بر حق تھا لیکن دنیاوی طور پر بظاہر یہ خروج نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔ مذاکرے میں اگرچہ سیدنا حضرت حسینؓ کے خروج کے برحق یا ناحق ہونے کی بحث نہیں ہو رہی تھی بلکہ اصل بحث صرف واقعاتی تھی کہ حضرت حسین ؓ کے اس خروج کے لیے کوفہ اور اہل کوفہ کے حالات سازگار تھے یا نہیں؟ تو اس پر شرکاے مذکراہ میں سے ایک صاحبنے کہا کہ کوفہ اور اہل کوفہ کے حالات اس وقت سازگار نہیں تھے۔ چنانچہ سیدناحسینؓ سے اس معاملے میں تدبیری عجلت ہوئی کہ اُنہوں نے کوفہ کے حالات کو سازگار سمجھا۔ بعد میں اس موقف کی مزید وضاحت مع معذرت جیو ٹی وی نے انہی دنوں ان صاحب کی طرف سے بھی نشر کی، جو یہ تھی کہ

''میں سیدنا حسین ؓ کو نوجوانانِ جنت کا سردار مانتا ہوں اور ان کی ادنیٰ توہین وتحقیر کو موجب ِ کفر وضلالت سمجھتا ہوں۔ پروگرام میں میری گفتگو سے جو مغالطہ پیدا ہوا ، اس سلسلے میں میرا مقصود صرف اتنا تھا کہ شہادتِ حسین کا باعث دراصل وہ لوگ بنے جو اُنہیں کوفہ بلانا چاہتے تھے۔ یہ سارے لوگ درحقیقت قابل اعتماد نہ تھے، ورنہ سیدنا حسین کا اِقدام بالکل برحق تھا اور ان کی شہادت ایک مظلومانہ شہادت ہے ...
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!''
اس کے باوجود بعض جذباتی شیعہ حضرات کی طرف سے جس ردّ عمل کا مظاہرہ ہوا، وہ واقعتا قابل تعجب بھی ہے اور قابل افسوس بھی۔ہم اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے پہلے اس ردعمل کی چند جھلکیاں قارئین کے سامنے پیش کر تے ہیں:

نجی ٹی وی پر امام حسین ؓ کی توہین کے خلاف جامعة المنتظر اور آئی ایس او کا مظاہرہ :
''جیو ٹی وی کے پروگرام 'غامدی' میں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت امام حسین ؓکی شان میں گستاخانہ کلمات استعمال کرنے پر جامعة المنتظرکے اساتذہ اور امامیہ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے جناب جاوید غامدی اور جیو ٹی وی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ اُنہوں نے جیو ٹی وی اور جناب جاوید غامدی کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ جیو ٹی وی استعماری ایجنٹ نہ بنے۔ مظاہرین نے کہا کہ جاوید غامدی امریکہ کا ایجنٹ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پروگرام نشر ہونے سے تین روز قبل ریکارڈ کیا گیا تھا اور سنسر وغیرہ کے مراحل کے بعد عمداً نشر کیا گیاجس سے مذکورہ چینل کی بد نیتی واضح ہوتی ہے۔ اُنہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ناقابل معافی جرم کے ارتکاب پر ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کرے۔'' 5

جعفریہ الائنس کے تحت جیو ٹی وی کے خلاف ہونے والی احتجاجی ریلی کے شرکا نے لوئر مال احتجاجاً بند کر دی۔یزیدیت، جیو ٹی وی اور غامدی وغیرہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ جیو ٹی وی پر عارضی پابند ی اور غامدی پروگرام کو فوری بند کرنے اورمتہم صاحب سمیت 'جیو' کے سرکردہ ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ چلا کر پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ جیو چینل اس بیان کی تردید کرے اور غامدی کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ 6

علاوہ ازیں جیو ٹی وی اور جناب جاوید احمد غامدی کوٹیلی فون کالز کے ذریعے قتل وغیر ہ کی دھمکیاں بھی دی گئی مثلاًجاوید احمد غامدی صاحب کے بیٹے جناب معاذ احسن غامدی کو مظفر حسین نامی ایک شخص نے ایک ٹیلی فون کال میں کہا :
''میرا نام مظفر حسین ہے اور میں فخر سے جہنم میں جائوں گا کیونکہ میں اس شخص کو قتل کروں گا جس نے نواسۂ رسول ؐکی توہین کی ہے ۔''

ان مظاہروں میں مذکورہ بالا موقف (جس میں غامدی صاحب کا 'معروف ومنکر' کے بارے میں موقف بھی شامل ہے) کے خلاف ایسا ردِ عمل شیعہ حضرات کی انتہا پسندی ہے، کیونکہ اگر مسئلہ صرف یہ ہے کہ بعض حضرات تاریخی تجزیے میں سیدنا حضرت حسین ؓ کو شرعی طور پر بر حق قرار دینے کے باوجود تدبیری حیثیت سے معصوم نہیں مانتے، جیسا کہ شیعہ کا اپنے 12؍ائمہ کے بارے میں عقیدہ ہے تو تدبیری رویوں میں عدمِ عصمت کا عقیدہ (انبیا کے علاوہ) تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میںتو بریلوی،دیوبندی اور اہل حدیث سب مسالک کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا مظاہرہ کرنے والے شیعہ حضرات پاکستان کی 82 فیصد سنی اکثریت کے لیے حکومت سے پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایک طرف تو یہ شیعہ حضرات کا یہ مطالبہ ہے تودوسری طرف خود شیعہ علما کی ایسی سینکڑوں کتب، تقاریر ا ور سی ڈیز بھی موجود ہیں جن میں اکابر حضرات صحابہ ؓ پر طعن کیا جاتا ہے :
ایک دفعہ مجھے معروف شیعہ واعظ علامہ طالب جوہری کی براہِ راست تقریر سننے کا موقعہ ملا جس میں صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہا گیا تھا جو کہ اہل سنت کے عقیدے کے سرا سر خلاف ہے۔اس پر ایسے شیعہ حضرات سے یہ سوال ہے کہ کیا اس موقعہ پر اگلے دن اہل سنت کے کسی مدرسے کے پانچ چھ سو طلبا کو اکٹھا کر کے کوئی مظاہرہ کر دینا چاہیے تھا جس میں یہ مطالبہ ہوتا کہ علامہ طالب جوہری شاتم صحابہؓ ہے اور اس کو سر عام پھانسی دی جائے ؟

جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ خود شیعہ علما و فقہا میں سے ایسے لوگ موجود ہیں جو عصمت ِامامؓ کے قائل نہیں ہیں۔معروف ایرانی شیعہ فقیہ اور عالم دین علامہ موسی ا لموسوی لکھتے ہیں :
''لیکن عصمت درحقیقت امام کے حق میں نقص کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی مدح نہیں ہے کیوں کہ شیعی مفہوم کے مطابق عصمت کا معنی یہ ہے کہ ائمہ اپنی ولادت سے لے کر وفات تک اللہ تعالیٰ کے ارادے سے اس کی کسی نافرمانی کے مرتکب نہیں ہوتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں خیر کو شر پر فضیلت و ترجیح دینے کا ارادہ مفقود تھا۔ میں نہیں جانتا کہ جب کوئی شخص ایسے ارادے کی بدولت جو اس کی ذات سے خارج ہے، برائی کرنے پر قادرہی نہیں ہے 'کونسی قابل فخر عصمت 'ہے؟ ہاں اگر عصمت کا یہ مطلب ہو کہ ائمہ گناہ کرنے پر قادرہونے کے باوجود عالی نفسی،اخلاق میں قوی ملکہ اور رکاوٹ کی بنا پرہر گز نافرمانی نہیں کرتے تو یہ بات معقول اور عقل و منطق سے مطابقت رکھتی ہے لیکن اس صورت میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قوتِ نفس معدودے چند اشخاص کے ساتھ خاص ہے یا صرف ہمارے ائمہ کے ساتھ خاص ہے بلکہ یہ ایسی صفت ہے کہ جس کے ساتھ ہر انسان متصف ہو سکتا ہے بشرطیکہ حدوداللہ کی پابندی کرے،اس کے اَوامر کی فرمانبرداری کرے اور اس کے نواہی سے باز رہے۔''7

معاذ احسن غامدی صاحب کو بعض شیعہ حضرات کی طرف سے جو قتل کی دھمکیاں ملیں،یہ بھی مناسب طرزِ عمل نہیں۔ ہمارے خیال میںاس سے ایک نئی سپاہِ صحابہؓ تو جنم لے سکتی ہے لیکن کوئی افہام وتفہیم ممکن نہیں۔ظاہر ہے کہ غامدی صاحب کا بھی ایک ادارہ اور ان کے سامعین کا ایک حلقہ ہے۔ مذاکرے میں شریک دوسرے حضرات سنی مکتب ِفکر سے تعلق رکھتے ہیں اور ضرور ان کا کسی نہ کسی سنی مدرسے سے تعلق بھی ہو گا، ان کے پیچھے ایک بڑی سیاسی مذہبی جماعت اسلامی اور اہل سنت کا پورا مسلک ہے تو اس قسم کے پیغامات کا نتیجہ سواے دو گروہوں اور جماعتوں میں کشیدگی بڑھانے کے اور کچھ نہیں نکلے گا۔ ماضی میں ہم دیکھتے رہے ہیں کہ یہی انتہا پسندی تھی جس نے خود شیعہ اور اہل سنت کو بہت سے جلیل القدر اکابر علما سے محروم کر دیا۔

یاد رہے کہ شیعہ کو اس ملک میں اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ واشاعت کی ہر طرح اجازت ہے۔ ہمارے ملک میں فوج ہو یا پولیس،ہر دومحکموں میں بڑی بڑی پوسٹوں پر زیادہ تر شیعہ حضرات موجود ہیں۔پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا،اس پر بھی شیعہ چھائے ہوئے ہیں بلکہ الیکٹرونک میڈیا خصوصاً فلم انڈسٹری کا تقریباً ۸۰ فیصد کردار شیعہ کے پاس ہی ہے۔

'شیعہ انفلوئنس' کی صورتحال تو یہاں تک ہے کہ رمضان کے مہینے میں پی ٹی وی پر ڈرامے چلتے رہیں گے لیکن محرم شروع ہوتے ہی سواے شیعہ علما کی تقاریر و مجالس عزاکے سب کچھ ٹی وی سے غائب ہو جاتاہے۔یومِ عاشورا پرحکومت کی طرف سے ایک کی بجائے دو چھٹیاں ہوتی ہیں۔ حکومت ِپاکستان کی طرف سے زکوٰة کی کٹوتی سے شیعہ حضرات مستثنیٰ ہیں۔ہم شیعہ کو دی جانے والی ان تمام مراعات کے خلاف تونہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ جب شیعہ علما ایک 'اقلیت' ہونے کے باوجود پاکستان میں اپنے عقائد کے اظہار کے لیے اس قدرمواقع، ذرائع اور وسائل سے مستفید ہورہے ہیں اوروہ ان کو بھرپور طریقے سے استعمال بھی کرتے ہیں تو پھر ان کی طرف سے اہل سنت پر ا پنے عقائد کے اظہار کے لیے اتنی سختی کیوں ...؟

ایکسپریس اخبار نے تین دن شیعہ حضرات کے حالیہ مظاہروں کی خبر شائع کی۔ ایک دن آخری صفحہ پر جبکہ دو دن پہلے صفحہ پر، اور اس پر بھی مستزاد یہ کہ ایک مظاہرے میں شرکت کی جو تصویر مذکورہ اخبار نے شائع کی، اس میں پندرہ بیس سے زائد افراد موجود نہیں تھے لیکن خبر میں سینکڑوں افراد کے مظاہرے کی بات کر کے اس مسئلے کوبلا وجہ اُچھالنے کی کوشش کی گئی۔ ایک روزنامہ اخبار نے اس چھوٹے سے مسئلے کو جس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اس کو کوریج دی، اس سے بھی بخوبی معلوم ہوجاتا ہے کہ پرنٹ میڈیا پر شیعہ کا کتنا کنٹرول ہے ؟

جیو ٹی وی کو مختلف شیعہ حضرات کی طرف سے مسلسل ٹیلی فون کروائے گئے اور دھمکیاں دی گئیں جس پر جناب غامدی صاحب اوردیگر حضرات کے معذرتی بیانات بھی جیو نے نشر کیے لیکن ان معذرتی بیانات کے نشرہونے کے دو روز بعد بھی سیالکوٹ میں شیعہ حضرات کی طرف سے ایک مظاہرہ ہوا جو قابل افسوس امرہے۔ اسی قسم کا واقعہ کچھ عرصہ پہلے روزنامہ' دن 'کے ساتھ بھی ہوا کہ ایک عرب عالم کے ترجمہ شدہ کالم میں 'شیعہ قاتلانِ حسین' کے الفاظ شائع ہو گئے جس پر جامعہ منتظر میں ایک میٹنگ کے دوران یہ فیصلہ ہوا کہ روزنامہ'دن' کے دفتر پر مسلح ہو کر حملہ کیا جائے اور اس کو آگ لگا دی جائے۔ بعد ازاں روزنامہ'دن ' نے اس ایڈیٹر (جس کی غفلت سے یہ جملہ شائع ہوگیا تھا)کو فارغ کر کے شیعہ انتہا پسندوں سے جان چھڑائی۔

یہ بھی امر واقعہ ہے کہ جن حضرات نے یہ مظاہرے کیے ہیں، ان میں ایک دو ہی بمشکل ایسے ہوں گے جنہوں نے 'غامدی' پروگرام بھی دیکھاہو گا۔بقیہ سارے تو اپنے واعظین کی اندھی تقلید میں مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھے ہو گئے تھے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا۔ اگر شیعہ حضرات یہ سمجھتے تھے کہ ٹی وی پروگرام میں کوئی غلط بات نشر ہو گئی ہے تو وہ اس کی علمی تردید کرتے، تاریخی حقائق کی روشنی میں جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی سرپرستی میں نشر ہونے والے موقف کا جواب دیتے جس سے مثبت انداز میں ایک علمی و فکری تحقیق آگے بڑھتی جس کا فائدہ ہر دو فریق کو ہوتا۔پاکستان کی ماضی کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ تشدد اور انتہاپسندی کے نتائج سواے دہشت گردی کے کچھ نہیں رہے۔ہم شیعہ کے ساتھ ساتھ اہل سنت حضرات سے بھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ اختلافات میں وہ بھی اعتدال و میانہ روی کی روش اختیار کریں او ر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگانے اور اظہارِ رائے پر قتل وغارت کی دھمکیاں دینے کی بجائے ایک علمی و فکری مکالمے کی فضا قائم کریں۔

یہاں یہ امر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم بعض معتدل و متوازن شیعہ علما اور جماعتوں کو خراجِ تحسین پیش کریں جنہوں نے اپنے مذہب میں اصلاح اور مذہبی شدت پسندی کے خاتمہ کے لیے بہت سی قربانیاںدیں۔ان شیعہ علما میں معروف ایرانی عالم الامام الاکبر سید ابو الحسن الموسوی الاصفہانی ii اور اُن کے پوتے ڈاکٹر موسیٰ الموسویiii کی کوششیں خاص طور پر قابل تعریف ہیں ۔

علاوہ ازیں علامہ آیة اللہ شریعت سنغلجلیiv سید ابو الفضل آیة اللہ العظمی البرقعیv الاستاذ علی الاکبر حکمی زادہvi علامہ دکتور علی شریعتیvii علامہ نعمة اللہ صالحی نجف آبادیviii الاستاذ حیدر علی بن اسماعیل قلمدارانix السید مصطفی الطبطبائی،علامہ احمد کسرویx سید حسن الموسوی الکربلائی النجفیxi اور سید قاضی نیاز حسین نقویxii وغیر ہ جلیل القدر شیعہ علما کی کوششیں بھی خراجِ تحسین کے لائق ہیں۔ یہ حضرات نہ صرف اپنے مذہب کے مصلحین ہیں بلکہ شیعہ،سنی اتحاد اور مفاہمت میں بھی ان کا کام سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔

شیعہ میں 'زیدیہ ' فرقہ ایسا ہے جو کہ واقعتا ایک معتدل اور متوازن فرقہ ہے اور اس وقت اس فرقے کے ایک کروڑ سے زائد پیروکار دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ایران میں اکثر پڑھا لکھا طبقہ شیعہ کے اسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں انتہا پسندوں کا رویہ یہ ہے کہ پاکستان میں اہل سنت کے علما کی کئی ایسی کتابوں پر پابندی لگوائی جن میں واقعہ کربلا،شہادتِ حسینؓ یا صحابہ کرامؓ کے بارے میں شیعی عقائد کو بیان کیاگیا تھا۔ جن میں بالکل بے ضرر اور معتدل عظیم خطیب پاکستان حضرت مولانا حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمة اللہ علیہ (م1962ء) کی کتاب 'شہید ِکربلا' پر سب سے پہلے بیورو کریسی نے پابندی لگائی۔ علاوہ ازیں ان کتب میں علامہ احسان الٰہی ظہیر کی کتاب 'شیعہ اور تشیع'اور 'شیعہ اور اہل بیت'بھی شامل ہیں۔ حتیٰ کہ مولانا عبد العزیزمحدث دہلوی رحمة اللہ علیہ کی کتاب 'تحفہ اثنا عشریہ 'کو پاکستان کی تمام پبلک لائبریریز سے غائب کروا دیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ہمیں انتہاپسندی کا شکار ہونے سے بچائے اورباہمی فروعی، فقہی اوراجتہادی اختلافات میں روا داری کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین!


حوالہ جات
1. صحیح مسلم:1401
2. صحیح مسلم : 2670
3. شرح صحیح مسلم:4823
4. صحیح بخاری:6934
5. روزنامہ 'ایکسپریس':30؍اپریل 2007ء،ص8
6. روزنامہ ایکسپریس:2؍مئی 2007ء،ص1
7. اصلاحِ شیعہ' ترجمہ الشیعة والتصحیح:ص 145,146



 

 

i. انتہا پسندی مذہبی بھی ہوتی ہے اور غیر مذہبی بھی،اس وقت ہمارے پیش نظر مذہبی انتہا پسندی ہے۔ غیر مذہبی انتہا پسندی کی مثال فرانس میں مسلمان عورتوں کے لیے اسکارف اوڑھنے پر پابندی ہے۔
ii. بہت بڑے ایرانی شیعہ عالم اور فقیہ ہیں ۔ ان کے علم کے بارے میں یہ قول شیعہ میں بڑا معروف ہے أنسٰی من قبله وأتعب من بعدہ (یعنی اپنے سے پہلے لوگوں کو بھلوا دیا اور اپنے بعد والوں کو عاجز کر دیا) حالانکہ ان کی اصلاحی کوششوں کے جواب میں ایک متعصب شیعہ نے ان کے بیٹے کو نجف اشرف میں حضرت علی کے مقبرہ کے احاطہ میں مغرب اورعشا کے درمیان دورانِ نماز بے دردی سے ذبح کر دیا تھا۔
iii. 1930ء میں "نجف اشرف " میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے "اجتہاد" کے موضوع پر فقہ اسلامی میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1955ء میں طہران یونیورسٹی سے اسلامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ... گزشتہ حاشیہ: 1959ء میں پیرس یونیورسٹی سے فلسفہ میں پی ایچ ڈی کیا۔1960ء سے 1962ء تک بغداد یونیورسٹی میں اقتصادِ اسلامی کے پروفیسر رہے ۔1968ء سے 1978ء تک بغداد یونیورسٹی میں فلسفہ کے پروفیسر رہے۔1973ء تا 1974ء ہالہ یونیورسٹی جرمنی اور طرابلس یونیورسٹی لیبیا میں وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے کام کیا۔ 1975ء تا 1976ء ہارورڈ یونیورسٹی امریکہ میں ریسرچ سکالر کی حیثیت سے کام کیا۔1978ء میں لاس اینجلس یونیورسٹی میں بھی وزٹنگ پروفیسر رہے ۔شیعہ کے عقائد و رسومات کی تصحیح پر کئی کتب لکھیں جن میں سے معروف کتاب الشیعة والتصحیح ہے جس کا اُردوترجمہ "اصلاحِ شیعہ " کے نام سے شائع ہوا۔ اُردو ترجمے پر پبلشر کا نام نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ بھی شیعہ کا تعصب، انتہا پسندی اور دھمکی آمیز رویہ ہے جس کی وجہ سے اوّلاً تو کسی عالم کو حق بات کہنے کی جرات ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی اس جرات کا مظاہرہ کرتا بھی ہے تواسے انتہا پسندی کے ڈر سے پبلشر کا نام دینے کی ہمت نہیں ہوتی۔ حال ہی میں "احمد الکاتب" کے ایک عربی مقالے کا ترجمہ "شیعہ افکار ولایت سے لے کر شوریٰ تک" لندن سے شائع ہوا ہے جس میں اُنہوں نے شیعہ کے بارہویں امام، مہدی منتظر کی پیدائش کا تاریخی حقائق کی روشنی میں انکار کیا ہے کیونکہ پاکستان میں اس کی اشاعت کی گنجائش نہیں تھی ۔
iv. بہت بڑے ایرانی شیعہ عالم اور فقیہ تھے۔ 1943ء میں وفات پائی ۔شیعہ عقائد و نظریات میں اصلاح کی تحریک اُنہوں نے ہی شروع کی تھی اور شیعہ کی اصلاح کے لیے کئی کتب اور مقالات لکھے جن میں الاسلام والرجعة ایک معروف کتاب ہے جس میں اُنہوں نے شیعہ کے تصورِ امامت اور بارہویں امام مہدی منتظر کے بارے میں عام شیعہ عقیدے سے بالکل ہٹ کر ایک موقف پیش کیا۔
v. آیة اللہ العظمی البرقعی بن الحسن بن حجة الاسلام احمد بن السید رضی الدین بن السید یحییٰ بن مرزا بن یحییٰ بن میر حسن بن میر رضی الدین بن السید محمد بن میر فخر الدین بن میر حسن بن بادشاہ بن میر ابو القاسم بن میر ابو الفضل بن پندار بن عیسیٰ بن ابی جعفر محمد بن ابی القاسم بن علی بن علی محمد بن احمد بن محمد الاعرج بن السید احمد بن موسی المبرقع بن محمد الجواد۔یہ اہل قم کے علما میں سے تھے ۔امام خمینی کے ساتھیوں میں سے ہیں ۔شیعہ کے نزدیک درجہ اجتہاد پر فائز تھے۔اُنہوں نے شیعہ کی اصلاح کے لیے کئی کتب لکھیں جس میں ان کی کتاب کسر الصنم بہت معروف ہوئی۔ امام ابن تیمیہ کی کتاب مختصرمنھاج السنة النبویة کا فارسی میں ترجمہ بھی اُنہوں نے کیا۔
vi. معروف ایرانی شیعہ عالم اور سکالر ہیں ۔"اسرار ہزار سالہ " کے نام سے اصلاحِ شیعہ پر ان کی کتاب ہے ۔
vii. معروف ایرانی عالم "مفکر اور فلسفی ہیں ۔ایرانی انقلاب میں ان کو وہی مقام حاصل ہے جو کہ علامہ اقبال کو تحریک ِپاکستان میں تھا۔1978ء میں ان کی وفات ہوئی۔التشیع العلو والتشیع الصفو کے نام سے شیعہ کی اصلاح کے لیے کتاب لکھی جس میں شیعہ کی اپنے ائمہ کی طرف منسوب جھوٹی روایات کی تردید کی ہے ۔
viii. ایران میں قم ( اصفہان )کے معروف شیعہ علما میں سے ہیں ۔اُنہوں نے "شہید ِجاوید" کے نام سے واقعہ کربلا پر ایک کتاب لکھی۔ ان کی تردید میں 13 بڑے شیعہ علما نے کتابیں لکھیں جن کا جواب اُنہوں نے اپنی ایک اور کتاب "عصای موسی یا درمان بیماری غلو" میں دیا ۔یہ کتاب ایک ہی بار طبع ہوئی تھی، بعد میں حکومت ایران نے اس پر پابندی لگا دی۔
ix. معروف شیعہ ایرانی عالم ہیں ۔اُنہوں نے شیعہ کی اصلاح کے لیے کئی کتب لکھیں جن میں سے المامة والولایةاورطریق النجاة من شر الغلاة معروف ہیں ۔
x. معروف شیعہ ایرانی عالم ہیں ۔ اُنہوں نے اپنی بنیادی اور انتہائی تعلیم ایران ہی سے مکمل کی۔طہران یونیورسٹی میں پڑھاتے رہے۔ایران میں محکمہ قضا و عدل میں کئی مناصب پر فائز رہے ۔شیعہ کی اصلاح کے لیے کئی کتب لکھیں جن میں سے التشیع والشیعة معروف ہے ۔ ان کو ان کے نظریات کی وجہ سے دو دفعہ متعصب شیعہ نے گولی ماری پہلی دفعہ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو شفادی جبکہ دوسری دفعہ گولی اور ایک خنجر کا وار کیا گیا جس کے اثرات سے ان کی شہادت واقع ہوئی ۔
xi. نجف کے معروف شیعہ عالم ہیں ۔امام خمینی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے ۔شیعہ کی اصلاح کے لیے ﷲ ثم للتاریخ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ۔
xii. تقریب المذاہب کے نام سے ایک سہ ماہی مجلہ نکالتے ہیں ۔ان میں اگرچہ اتنی وسعت ِفکر تو نہیں ہے جتنی دیگر ایرانی شیعہ مصلحین میں ہے کہ یہ شیعہ کے عقائد و رسومات کی اصلاح کے لیے لکھیں لیکن بہر حال پاکستان میں پائے جانے والے شیعہ سنی فسادات کے حالات میں ایسے لوگ بھی غنیمت ہیں جو کم از کم بات کو سنتے ہیں اور شیعہ سنی مسائل کومکالمے کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں ۔