میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

معاصر الشریعة کے ایک قاری کا مراسلہ
شمارئہ اپریل میں محولہ بالا موضوع پر شائع ہونے والی مراسلت کے آخر میں جناب عمار ناصر نے اس بحث کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیا تھا۔ پھر نامعلوم کن وجوہ کی بنا پر 'الشریعہ' کے ایک قاری کا زیر نظر تبصرہ 'الشریعہ' میں مراسلات کے مستقل کالم کے باوجود اشاعت سے محروم ہے؟ عدمِ التفات کا شکار یہ مراسلہ چند روز قبل محدث میں اشاعت کے لئے موصول ہوا ہے۔ قارئین ملاحظہ فرمائیں ...

محترم جناب قابل صد احترام مولانا زاہد الراشدی صاحب حفظہ اللہ ورعاہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ

اُمید ہے، مزاجِ گرامی بخیر ہوں گے۔ باعث ِتحریر آنکہ بندہ کا گذشتہ کئی سالوں سے 'الشریعہ' کے ساتھ قاری کی حیثیت سے تعلق ہے۔ شمارئہ اپریل 2007ء سے ہمیں اچھی طرح اس کی قیمت اداکرنا پڑی ہے کہ دو ناقابل تسخیر اور بلند قامت شخصیات کے درمیان مسجد ِاقصیٰ کو کچا کھانے کے لئے پیش کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر ہمارے بہت سے قیس بن ساعدہ اور زیاد بن ابی سفیان قسم کے خطبا گہری خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جوکہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ حالانکہ یہ لوگ اجتہاد و تقلید، طلاقِ ثلاثہ اور تبلیغی جماعت وغیرہ کے موضوعات پرکوئی بھی اختلافی بیان برداشت کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتے اور ان کی رگِ مذہبیت فوراً پھڑک اٹھتی ہے۔ ان عظیم شخصیات میں سے مولانا عتیق الرحمن سنبھلی جیسے عمل کی حد تک حنفی بھی خاموش دکھائی دیتے ہیں جو سَلَفیت کو سِفْلیت کا نام دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے اور آدابِ تحریر بھی بالاے طاق رکھ دیتے ہیں ۔ مسجد ِاقصیٰ پر حق تولیت کے موضوع پر حصہ لینے میں صرف

جناب محمدعطاء اللہ صدیقی 1

حافظ محمد زبیر 2

 جناب حافظ حسن مدنی 3

ہی میدان میں کیوں ؟

ہمارے خیال میں ان حضراتِ گرامی قدر نے عقلی و نقلی، معروضی حقائق، تاریخی واقعات وغیرہ دلائل سے ثابت کیا کہ مسجد ِاقصیٰ کا تمام احاطہ مسلمانوں کا ہے اور حق تولیت صرف اُنہیں کا ہے۔ یہود اپنی انہی شرارتوں اور نالائقی کی وجہ سے امامت و سیادت کے منصب سے تحویل قبلہ کے ذریعہ معزول کردیئے گئے۔ جناب عمار ناصر صاحب نے فرمایا کہ
1 قرآن و سنت، یہود کے قبلہ اور مرکز ِعبادت کی تولیت سے محروم کرنے کے لئے ایک واضح نص کا متقاضی ہے۔ اس کے بغیر محض عقلی استدلال کی بنیاد پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا جاسکتا۔ 4

2 اثریاتی تحقیق کے نتیجے میں مسجد ِاقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کے کوئی آثار دریافت نہیں ہوسکے۔ خود فلسطین کے مسلم راہنما، اسرائیل کے وجود میں آنے اور بیت المقدس پر قبضے سے قبل تک ان حقائق کو تسلیم کرتے رہے اور اُنہوں نے اِنہیں جھٹلانے کی جسارت کبھی نہیں کی۔ 5

3 عالم عرب کا اجماعی موقف، متعدد اکابر علماے دین و مفتیانِ شرع متین کی تائید و نصرت ، مسلم اور عرب میڈیا کا تسلسل کے ساتھ اسے دہرانا کتمانِ حق اور تکذیب ِآیات اللہ کے زمرے میں آتا ہے۔ 6

4 اصل مسجد ِاقصیٰ، ہیکل سلیمانی ہی ہے مگر اس کا محل وقوع معلوم نہیں ۔ اس وقت مسلمان جس مسجد کو مسجد ِاقصیٰ کہتے ہیں وہ سیدناعمرؓ کی نماز پڑھی ہوئی جگہ پر ہے۔7
اور موجودہ مسجد ِاقصیٰ، قرآنِ مجید کی ذکرکردہ مسجد ِاقصیٰ کی اصل عمارت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود توسیعی طور پر مسجد ہی کے حکم میں ہے۔ اس میں نماز کی وہی فضیلت ہے جو صحیح احادیث سے مسجد ِاقصیٰ کے حوالے سے ثابت ہے۔8

5 مخالف کی ساری باتیں اور دلائل اپنے اصل ہدف پر صادق نہیں آتے۔

جناب والا! جہاں تک ہم نے دونوں فریق کے نقطہ ہائے نظر، دلائل اور ایک دوسرے پر تردید وغیرہ پڑھے ہیں ، ان کی روشنی میں ہمیں پہلے جو کچھ اشکال تھا، وہ بھی ختم ہوگیا اور یقین ہوگیا کہ مسجد ِاقصیٰ پرشرعاً حق صرف اور صرف مسلمانوں کا ہے، یہود کا اس میں کوئی حق نہیں ۔ جمہور مقالہ نگاروں نے قرآن وحدیث، اور ان دونوں سے ماخوذ اجتہادات، عقلی دلائل، تمام مسلمانوں کے اتفاق و دیگر حقائق کی روشنی میں اسی چیز کو ثابت کردیا ہے۔

ان حضرات نے عمارصاحب کے ایک ایک نقطہ نظر اور شبہات کی تردید فرمائی ہے۔ کم از کم ہمارے لئے اس حقیقت کو سمجھنے میں کوئی دِقت نظر نہیں آئی کہ محترم عمار صاحب کا موقف غلط ہے اور اس کے دلائل کمزور ہیں ۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ موصوف کی خوبی ہے کہ وہ کسی بات کو تسلیم ہی نہیں کرتے اور کبھی اپنی ہار نہیں مانتے۔ مثلاً دیکھئے کہ وہ اور اُن کے ہم نوا عقل اور فہم کا خوب ڈھنڈورا پیٹنے کے باوجود یہاں بڑے دھڑلے کے ساتھ فرماتے ہیں کہ
''محض عقلی استدلال کی بنیاد پر کوئی اقدام نہیں اُٹھایا جاسکتا، حالانکہ عقل و قیاس تو ہمارے دین کے مآخذ ِاربعہ میں سے ایک ہے۔ البتہ شرط یہ ہے کہ کتاب و سنت سے متصادم نہ ہوں''

ہمیں توخود عمار صاحب کے بیان کردہ دلائل سے مسلمانوں کے اجماعی موقف کی تائید ملی۔ آپ اندازہ کریں کہ اگر اثریاتی تحقیق کے نتیجہ میں مسجد ِاقصیٰ کے نیچے ہیکل سلیمانی کے آثار دریافت نہیں ہوتے تو عمار صاحب اس پر ناراض کیوں ہیں ؟ یہود کازور اسی پر ہے کہ اس کے نیچے آثار ثابت کریں اور مسجد کو گرائیں ۔ مگر وہ ناکام ہوچکے، الحمدﷲ !یہ ناکامی خود مسلمانوں کی کامیابی ہے۔ یہودیوں کو کوئی شواہد نہ ملنے میں مسلمانوں کا کیا قصور ہے؟ سبحان اللہ !

فرض کریں ، اگر یہودیوں کو کوئی آثار ملے تو عمار صاحب آپ کا موقف کیا ہوگا؟ مجھے یقین ہے پھر تو یہودی جشن منائیں گے اور آپ بھی کہیں گے کہ ہیکل کے نشانات مل گئے۔ میرے خیال میں اس امر کو کوئی بھی بندہ سمجھ سکتا ہے، آپ جیسے دانشوروں سے حقیقت مخفی نہیں ۔

نہلے پہ دہلا یہ کہ عمار صاحب کا یہ دعویٰ بلکہ تقاضا ہے کہ
''خود فلسطین کے مسلم راہنماؤں نے اسرائیل کے وجود میں آنے اور بیت المقدس پر قبضہ سے قبل تک ان حقائق کو جھٹلانے کی جسارت کبھی نہیں کی۔'' 9

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم راہنمائوں کا یہ تسلیم و اِذعان کہاں موجود ہے؟ یوں بھی کوئی فریق یا مالک ِمکان اس وقت تک مکان کی ملکیت کے دلائل جمع ہی نہیں کرتے جب تک کوئی منکر فریق سامنے نہ آئے۔ کیا کوئی آپ کے مکان پر دعویٰ کرنے سے قبل عدالت میں دعویٰ کرکے وکیل کھڑا کرکے اپنی ملکیت کے دلائل و شواہد پیش کریں گے۔ قابض حکومت ِاسرائیل کے وجود سے قبل مسلمانوں کو مسجد ِاقصیٰ پراپنے حق تولیت ثابت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی، اس طرح جس طرح اگر آپ آبِ صافی میں پتھر پھینک کر اُبال نہ لاتے تو پیشگی طور پر حافظ حسن مدنی وغیرہ کو اتنے دلائل لانے اور تردید کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ ویسے اُنہوں نے یا کسی مقالہ نگار نے مسلمانوں کے حق تولیت میں دلائل دیئے تھے تو یہودیوں کے خلاف دیے تھے مگر ناراضگی آپ نے مول لی، فیا للعجب العجاب !

آپ جانتے اور تسلیم کرتے ہوں گے کہ لفظ مسجد مسلمانوں کے لئے جبکہ بِیَع، کَنِیْسَة ، اور مَعْبَد وغیرہ اصطلاحات یہود و نصاریٰ کے لئے ہیں ۔ قرآن مجید بھی اسے {ٱلْمَسْجِدِ ٱلْأَقْصَا}اور حدیث ِنبویؐ بھی:(لا تشدالرحال إلا إلی ثلاثة مساجد : ... المسجد الأقصٰی)کے لفظ سے ہی ذکر کرتے ہیں ۔

ساری اُمت بھی مسجد ِاقصیٰ کی تولیت کا حقدار مسلمانوں کو ہی سمجھتے ہیں تو بالآخر آپ کو اور کیا چاہئے؟ آپ کا سارا اِصرار اجماع و اتفاق کو توڑنے میں ہے اور آپ کو شاذ و خلافِ اجماع معمولی سی باتوں میں بڑا لطف آتا ہے۔ آپ جیسی فہم و فراست سے اللہ تعالیٰ ہی ہمیں بچائے۔ ہمیں ہماری اپنی حالیہ ناسمجھی پر ہی کفایت ہے:

وَمَن يُشَاقِقِ ٱلرَّ‌سُولَ مِنۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ ٱلْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ‌ سَبِيلِ ٱلْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِۦ مَا تَوَلَّىٰ...﴿١١٥...سورۃ النساء

جہاں تک حسن مدنی صاحب کا تعلق ہے کہ اُنہوں نے لکھا کہ
''مسجد ِاقصیٰ کے احاطے میں بہت سے حصے خالی ہیں ، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کے بارے میں کوئی شرعی فضیلت نہیں ، پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبہ صخرہ پر کوئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد ِاقصیٰ پر دے رہے ہیں ۔'' 10

واقعی طور پر بظاہر اس عبارت سے تسلیم و اِذعان کی تصویر دکھائی دیتی ہے لیکن جب مدنی صاحب نے اس کے بعد کئی مضامین کے ذریعے اس کی وضاحت کردی کہ میرا مدعا وہ ہرگز نہیں ہے جو عمار صاحب نے اخذ کیا ہے بلکہ یہ تو یہود کے لئے ایک الزامی اور علیٰ سبیل التنزل للخصم کے طور پر ہے جیسے قولہ تعالیٰ:

لَئِنْ أَشْرَ‌كْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ ٱلْخَـٰسِرِ‌ينَ ﴿٦٥...سورۃ الزمر

سے کیا نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شرک ثابت کردیا جائے۔ اس طرح

قُلْ إِن كَانَ لِلرَّ‌حْمَـٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْعَـٰبِدِينَ ﴿٨١...سورۃ الزمر

وغیرہ سینکڑوں قرآنی ونبویؐ نصوص ہیں ۔ یوں بھی روزمرہ کے محاورے میں یہ طریقہ غیر معروف نہیں ہے۔ بہرطور کوئی صاحب ِمتن ہی اپنی بات کو دوسروں سے بہتر سمجھ سکتا ہے۔
أهل مکة أدرى بشعابها !! اور أهل البیت أدری بما فیها !!

6 دلچسپ امر یہ ہے کہ عمار صاحب بھی احاطہ ہیکل کے اندر کے بعض حصے کو یقینی طور پر اس کی بنیاد معلوم نہ ہونے کے باوجود مسجد ِاقصیٰ ہی قرار دیتے ہیں ۔ نیز حالیہ مسجد کو 'توسیعی طور پر' مسجد ِاقصیٰ ہی کی فضیلت دے چکے ہیں تو ہمارے خیال میں آپ بھی اُمت کے اجماعی موقف میں لاشعوری طور پر شریک ہیں ۔ اگر یہ مسجد ہماری نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں لے جاتے؟ کیا یہودیوں کے ساتھ مخصوص مرکز ِعبادت میں مسلمانوں کے لئے نماز پڑھنے کو افضل قرار دینا اس حوالے سے کچھ وزن رکھتا ہے کہ یہ مرکز عبادت خود مسلمانوں کی اپنی ملکیت میں نہ ہو۔ اس تسلیم کے بعد کیا یہود اس میں گھسنے دیں گے۔

عمار صاحب سے یہ بھی سوال ہے کہ اگر یہودی اپنے دعویٰ میں حق بجانب ہیں تو ہمیں بھی اقامت ِہیکل کی فنڈنگ مہم میں حصہ تو نہیں لیناپڑے گا؟
إذا کنت لا تدري فتلك مصیبة وإن کنت تدري فالمصیبة أعظم

عمار و ہم نوا کے اس اُصول و نظریہ کے مطابق آج وشوا ہندوپریشد و دیگر تنظیمیں بابری مسجد و دیگر مساجد کو اس بنا پر گرا دیں کہ یہاں ہمارے رام پیدا ہوئے تھے اور بفرضِ محال کوئی کافر کعبہ مکرمہ پر قبضہ کرنے کے لئے آئے کہ یہاں کسی زمانے میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ وغیرہ کا راج تھا تو شاید مسلمانوں کو مزاحمت کرنے پر عمار صاحب ان کو تکذیب آیات اللہ قرار دیں گے۔ ع کفر چوں بر کعبہ خیزد کجا مسلمانی

بالآخر کعبہ تو جناب ابراہیم علیہ السلام نے بنایا ہے۔ کیا اُن کی اولاد صرف مکہ والے مسلمان ہی ہیں ، یا صرف مسلمانوں ہی کے نزدیک وہ محترم شخصیت ہیں ۔بلکہ یہود و نصاریٰ کے ہاں بھی وہ محترم شخصیت ہیں ۔ اگر وہ بھی دعویٰ کریں تو عمار صاحب کیا فرمائیں گے؟

کیا عمار صاحب یہ بتا سکتے ہیں کہ بیک وقت پوری اُمت گمراہی پر ہو اور صرف ایک شخص غیر نبی حق پر ہوسکتا ہے۔ لا تجتمع أمتي علی ضلالة

7 خطوط و مراسلات سے یہ بھی اندازہ ہوا کہ جناب حسن مدنی صاحب و دیگر ہم نوا آدابِ اختلاف کو سمجھتے ہیں اور زبان سے کوئی وقار کے منافی بات نہیں نکالتے۔ مگر عمار صاحب ودیگر اشراقی حضرات اپنے مؤدّب ہونے کے دعویٰ کے باوجود اختلافی بات یا رائے سننے پر آپے سے باہر ہوجاتے اور اپنے دعویٰ کو خود توڑ ڈالتے ہیں ۔ الشریعہ کے شمارے خصوصاً شمارئہ اپریل اس کے گواہ ہیں ۔ یہ حضرات اور ان کا نمائندہ لٹریچر صرف اپنے آپ کو مہذب، فاضل، عالم اور مدبر جبکہ پوری اُمت کو جاہل، ناداں اور ناسمجھ قرار دیتے ہیں اور ان پر طرح طرح کی پھبتیاں کستے ہیں ۔ روایت پسند، قدامت پرست وغیرہ کے الفاظ ان کے زبان زد ہیں ۔ احادیث ِنبویہؐ کے سرمایہ اور اقوالِ سلف کو خس و خاشاک کے ڈھیر، اختلاف و افتراق کا شاخسانہ، من گھڑت قرار دینا اب کوئی نئی اور غیر معروفبات نہیں رہی جس کی مثالیں ماہنامہ 'طلوعِ اسلام'، 'اشراق' اور ظفر اقبال خان کے 'اسلامائزیشن' جیسے لٹریچروں میں عام مل جاتی ہیں ۔

ہاں قرآنِ کریم کی آیات کا سہارا تحریف و تاویل کے بعد بھی نایاب ہوجائے تو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ احادیث کا سہارا لیتے ہیں بلکہ فقہاء و سلف کے غیر معروف اقوال اور ضعیف احادیث تک بھی اپنی مطلب براری کے لئے پیش کرتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں راہِ ہدایت پر استقامت دے اور اُمت کے ذہین و فطین حضرات کو شاذ آرا و اقوال پر ڈٹ جانے کی بجائے صحیح فہم و فراست سے نوازے۔ إنك لاتهدي من أحببت ولکن اﷲ یهدي من یشاء ! والسلام



حوالہ جات
1. محدث: نومبر، دسمبر 2003ء
2. الشریعہ: فروری 2007ء
3. محدث: مارچ ،اپریل 2007ء
4. الشریعہ: ستمبر، اکتوبر2003ء
5. الشریعہ: مارچ 2007ء
6. حوالہ سابقہ، صفحہ 30
7. الشریعہ ، مارچ؍ اپریل 2007ء
8. الشریعہ :اپریل 2007ء
9. الشریعہ:مارچ 2007ء
10. محدث: مارچ 2007ء