میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مذہبی پیشوائیت ؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ (قسط 1)

قیامِ پاکستان اور نفاذ ِ اسلام
پاکستان بن جانے کے بعد جب اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا جس کے لئے پاکستان بنایا گیا تھا تو مسلم لیگ کے لئے نفاذِ اسلام ایک مسئلہ بن گیا، کیوں ؟ اور کیسے؟ یوں اور اس طرح کہ اگرچہ مسلم لیگی حکمرانوں نے اسلام کا نعرہ لگا کر پاکستان بنا لیا تھا، لیکن وہ اس میں اسلام کو اس لئے نافذ نہیں کرسکتے تھے کہ وہ خود مغربی افکار و نظریات کا دودھ پی پی کر یورپ کے فاسد تمدن کی گود میں پرورش پائے ہوئے تھے۔ اور اسلام کی تعلیمات سے بے خبر تھے۔ اس لئے اگر وہ نیک نیتی سے چاہتے بھی کہ یہاں اسلام کو نافذ کردیں ، تو وہ اسلام سے ناواقفیت کی بناپر ایسا کر بھی نہیں سکتے تھے، لیکن عوام الناس اور علماے کرام کی طرف سے نفاذِ اسلام کے لئے حکمرانوں پر جو دباؤ ڈالاجارہا تھا، اس نے اربابِ اقتدار کے لئے بڑی مشکل پیداکر ڈالی تھی۔ وہ یہ کہہ نہیں سکتے تھے کہ ''ہم اسلام کونافذ نہیں کریں گے!'' کیونکہ اسی نعرہ کی کشش سے برصغیر کے مسلمانوں نے مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا اور اسی کے نتیجہ میں پاکستان معرضِ وجود میں آیا تھا۔ اس مقصد کی نفی کا اعلان کرنا خود مسلم لیگ کی موت کا اعلان تھا۔ لیکن دوسری طرف وہ اخلاصِ قلب اور نیک نیتی کے ساتھ پاک سرزمین میں اسلام نافذ بھی کرنا چاہتے تو اسلام سے ان کی ناواقفیت اور بے خبری اور جہالت کی بنا پر وہ یہ بیڑا اُٹھا بھی نہیں سکتے تھے۔ اس صورتِ حال میں حکومت کے سربراہ زچ ہوکر پیچ و تاب کھا رہے تھے اور اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ بن چکا تھا کہ نہ ہی اُگلے بنے اور نہ ہی نگلے بنے۔ نہ جائے ماندن، نہ پائے رفتن!

پرویز صاحب کی خدمت ِ سرکار
ایسے کٹھن وقت میں ہمارے 'مفکر ِقرآن' جناب غلام احمد پرویز صاحب، حکمرانوں کے کام آئے اور اُنہوں نے اسلامی نظام میں ، جس کے نفاذکے لئے ملک کے ہر طبقہ کی طرف سے دباؤ ڈالا جارہا تھا، کیڑے ڈالنا شرو ع کردیئے اور سرے سے اسلامی نظام اور اس کے تصور ہی کو ناقابل عمل قرار دینا شروع کردیا اور اس قسم کا پراپیگنڈہ کرتے ہوئے آسمان سر پر اُٹھا لیا کہ... بھلا، اس تہذیب وتمدن کے روشن دور میں چور کو قطع ید کی سزا دی جائے گی؟ زانی محصن کو رجم اور کنوارے زنا کاروں کو ضربِ تازیانہ کا نشانہ بنایا جائے گا؟ جنگی قیدیوں کو بعد از تقسیم غلام اور ان کی عورتوں کو کنیزیں بنا کررکھا جائے گا؟ پھر یہاں کئی فرقے موجود ہیں ، کس فرقے کی فقہ (بلکہ اسلام) کو نافذ کیا جائے گا؟ کیا باقی فرقے کسی ایک فرقے کی فقہ کے نفاذ کو گوارا کرلیں گے؟ جو علما نماز کے اختلافی مسائل کو ختم کرکے کوئی متفق علیہ شکل نماز طے نہیں کرسکے، وہ بھلا کسی متفقہ ملکی دستور و آئین کی تشکیل میں کامیاب ہوجائیں گے؟ تب بھلا اسلامی نظام میں فیصلے کا آخری اختیار کیا علما کے ہاتھ میں نہیں آجائے گا؟ اگر ایسا ہوگیا تو کیا یہ مذہبی پیشوائیت (Priesthood)نہیں ہوگی؟ پھر بھلا یہ اسلامی نظام کیا آج کے 'ترقی یافتہ' اور 'روشن دور' میں چل بھی سکے گا؟ کیا علما کا یہ اسلام آج کے انتہائی ارتقا یافتہ دور میں عقل و فکر کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے؟ ...

یہ اور اس طرح کے گونا گوں سوالات چھیڑ چھیڑ کر اُنہیں مختلف اسالیب و پیرایوں میں دُہرا دُہرا کر پرویز صاحب اور طلوعِ اسلام نے لوگوں کے ذہنوں کو مسموم کرنا شروع کردیا اور چونکہ یہ اسلامی نظام، قرآن و سنت پر مبنی تھا، اس لئے سنت کے بارے میں بھی ژولیدہ فکری پیدا کرنے کے لئے 'مفکر قرآن' مصروفِ 'جہاد' ہوگئے۔ سنت ِنبویہؐ کو ساقط الاعتبار قرار دینے کے لئے طلوعِ اسلام میں ایک ارتیابی مہم اور تشکیکی تحریک چلائی گئی۔ جس طرح اسلامی نظام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لئے مختلف اسالیب اور متنوع انداز اختیار کئے گئے، بالکل اسی طرح سنت ِرسولؐ کے بارے میں بھی اُسلوب و انداز کو بدل بدل کر، اور طرح طرح کے سوالات کو چھیڑ چھیڑ کر دماغوں کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی گئی اور ایسا کرتے ہوئے ایک طرف تو علماے کرام کا استخفاف اُڑایا جاتا کہ یہ علم سے کورے، بصیرت سے عاری، قرآن سے نابلد، دلائل سے محروم اور تقاضاے وقت سے بے خبر ہیں ،جو طلوعِ اسلام کے سوالات و دلائل کا جواب تک نہیں دے سکتے اور دوسری طرف خود مظلوم بن کر اپنے قارئین کو پرویز صاحب (اور طلوعِ اسلام) یہ تاثر دیتے رہے کہ علماے کرام ان کے خلاف جھوٹے پراپیگنڈے، باطل الزامات اور افترا پردازیوں کے ذریعہ ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں اور پھر عوام الناس سے یہ اخلاقی اپیلیں کی جاتیں کہ وہ دینی جماعتوں اور جماعت ِاسلامی کو اس غیر اخلاقی طرزِعمل سے باز رکھنے کی کوشش کریں ، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ یہ اور اس قسم کی تھیں ، وہ دلچسپیاں اور سرگرمیاں جن میں طلوعِ اسلام پاکستان کے ابتدائی دورمیں مگن اور منہمک تھا۔

'دو اسلام' آمنے سامنے
اب پاکستان میں جناب غلام احمدپرویز صاحب کا ایجنڈا یہ تھا کہ ایک ایسا اسلام نافذ کیا جائے جسے خود اُنہوں نے مغرب کی بے خدا اور بے حیا تہذیب، یورپ کی فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی معاشرت اور اشتراکیت کے شکمی مساوات پر مبنی اقتصادی نظام کے بے جوڑ عناصر کے مجموعہ پر قرآنی ٹھپہ لگا کر تیار کیا تھا۔ اس کے برعکس علماے کرام چودہ صدیوں قبل عہد ِنبویؐ اور خلافت ِراشدہ میں نافذ ہونے والا وہ اسلام قائم کرنا چاہتے تھے، جو قرآن و سنت پر مبنی تھا۔ لیکن 'مفکر ِقرآن' صاحب نے اپنے دوغلے نظام (Hybrid System)کو 'قرآنی دین' اور علما کے مبنی پر قرآن و سنت اسلام کو'عجمی مذہب'کا نام دے کر محاذ آرائی شروع کرڈالی۔ چنانچہ 'مفکر ِقرآن' صاحب نے فریقین کی اس باہمی کشمکش سے یہ تاثر اُچھالا کہ وہ وطن عزیز میں 'مُلّائی مذہب' کے مقابلہ میں 'قرآنی اسلام' نافذ کرنا چاہتے ہیں :
1. ''پاکستان آکر اِن (علما) کے ساتھ پرویز صاحب کی کشمکش باندازِ نو شروع ہوئی۔ یہ یہاں اسی اسلا م کو نافذ کرنا چاہتے تھے جو اسلاف سے مسلسل چلا آرہا تھا اور جس کے یہ حضرات اجارہ دار تھے۔ پرویز صاحب قرآنی اسلام کے نفاذ کے داعی تھے (اور ہیں ) اور کشمکش کا یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔'' 1
2. ''مذہبی پیشوائیت اور طلوعِ اسلام کے مسلک کی اس نزاع میں پرویز صاحب قرآن سے دلیل و برہان لاتے ہیں مگر مولوی صاحب کے پاس اس کا جواب نہیں ہوتا اور وہ وضعی روایات سے اپنے موقف کی تائید لاتے ہیں ۔'' 2

معلوم نہیں کہ وابستگانِ طلوعِ اسلام کی یہ فریب خوردگی ہے یا فریب دہی کہ وہ یہ جانتے ہی نہیں کہ (موقف ِپرویز کے مقابلہ میں ) علماے کرام کا کیا موقف ہے؟نہ خود اُنہوں نے مطالعہ کیا اور نہ ہی تحقیق و ریسرچ کے ذریعہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ دونوں کے مواقف میں کیا فرق ہے؟ اُنہوں نے اپنے مخالفین کو خود اپنے کانوں سے سننے کی بجائے دوسروں کے کانوں سے سنا ہے۔ خود اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی بجائے پرویز صاحب ہی کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اپنے فکری حریفوں کا مطالعہ خود ان کے اصل لٹریچر سے کرنے کی بجائے طلوعِ اسلام ہی کے صفحات سے کیا ہے اور کھلی آنکھوں سے دوسروں کے موقف کو پڑھ کر رائے قائم کرنے کی بجائے صرف پرویز صاحب ہی کے یک رخے مطالعے کی بنا پر اپنی رائے قائم کرڈالی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ جانبدارانہ یک رخا مطالعہ صحیح رائے قائم کرنے میں ممدومعاون نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص جبکہ اس لٹریچر کے علم بردار اپنے ظلمت کدوں میں روشنی کی کسی کرن کے درآنے کو پسند نہیں کرتے، جیسا کہ میری کتاب ''جناب غلام احمد پرویز، اپنے الفاظ کے آئینے میں '' ... میں واضح کیا گیا ہے۔ لہٰذا یہاں جو کچھ بھی وابستگانِ طلوع اسلام نے بیان فرمایا ہے، وہ قطعی غلط ہے۔ یہ لوگ جسے 'قرآنی اسلام' کا نام دیتے ہیں ، وہ ہرگز قرآنی اسلام نہیں ہے اور جسے 'عجمی مذہب' کہتے ہیں ، وہ بھی ایسا نہیں ہے اور یہ سب کچھ ان کے ناقص اور یک رخے مطالعے ہی کا نتیجہ ہے۔

مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کی انتہائی مخالفت
فریقین کی اس کشمکش میں (جس کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے) مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ اور جماعت اسلامی کی آواز چونکہ پرویز صاحب کے اشتراکی برانڈ وضعی اسلام کے خلاف ایک منظم اور مؤثر آواز تھی، اس لئے دیگر علما کی نسبت کہیں زیادہ، ان کے خلاف مخالفت و عناد کا لاوا 'مفکر قرآن' کے قلب ِآتش فشاں سے پھوٹتا رہا۔ اُنہوں نے سید ابوالاعلیٰ مودودی کو جس طرح اپنی دریدہ دہنیوں ، دشنام طرازیوں ، بہتان تراشیوں اور کذب بافیوں کے ذریعہ نشانہ بنایا، اس کا ہلکا سا اندازہ میری مذکورہ بالا کتاب کے مطالعہ سے کیا جاسکتا ہے اور یہ تو صرف وہ کچھ ہے، جو بدت البغضاء من أفواھھمکا مصداق ہے، ورنہ وہ کیفیت جو ما تخفي صدورھم أکبر میں مذکور ہے، اسے خداے علیم و خبیر کے سوا کون جان سکتا ہے۔ بہرحال اگرچہ پرویز صاحب کے اس 'قرآنی اسلام' کے خلاف جو کارل مارکس کی اشتراکیت ہی کا چربہ ہے، مولانا مودودی کے سوا دیگر علما نے بھی ترید کی تھی، لیکن 'مفکر ِقرآن' نے صرف مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ اور جماعت ِاسلامی ہی کی مخالفت کو اپنا اوّلین اور مستقل فریضہ حیات قرار دیا :

ہم سفر اور بھی سرگرمِ سفر تھے لیکن
مجھ کو، رفتار سے، صیاد نے پہچان لیا

اور اس مخالفت کی وجہ جواز یہ پیش کی گئی:
''مسلمانوں کو قرآن سے دو رکھنے کے لئے جو قوتیں مصروف ِ عمل رہی ہیں (اور آج بھی مصروفِ عمل ہیں ) ان میں ملائیت کا حصہ بہت بڑا نمایاں ہے۔ اس کے نزدیک ملائیت، قرآن اور مسلمانوں کی بدترین دشمن ہے۔ اسی لئے طلوعِ اسلام ، ملائیت کی مخالفت کو، اپنی زندگی کا اوّلین فریضہ سمجھتا ہے۔'' 3

قبل اس کے کہ وجہ جواز کے اس سلسلہ کی دوسری کڑی کو پیش کیا جائے،'مفکر ِقرآن' کی اس خود فریبی یا فریب دہی کی وضاحت ضروری ہے جس کے تحت وہ بساطِ سیاست کے چابک دست مہرہ بازوں سے بھی آگے بڑھ کر علماے کرام پریہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ ''مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھتے ہیں '' اور یہ کہ وہ ''قرآن کے بدترین دشمن ہیں ۔'' حالانکہ وہ قرآن کے نہیں بلکہ قرآن کے اس مفہوم کے دشمن ہیں جسے 'مفکر ِقرآن' نے اغیار کی ذہنی غلامی اور فکری اسیری میں مبتلا ہوکر منسوب اِلی القرآن کررکھا تھا۔ وہ مسلمانوں کو قرآن سے دور رکھنے کے لئے کوشاں نہیں ہیں ، بلکہ قرآن کے ان نت نئے مفاہیم سے دور رکھنے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں جسے 'مفکر قرآن' کی عقل عیار نے قرآنِ کریم کے گلے مڑھ رکھا تھا۔

بہرحال مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کو'ملائیت کا سرخیل' بنا ڈالنے اور جماعت اسلامی کو ملا قرار دے ڈالنے کے بعد سلسلۂ وجہ ِمخالفت کی اگلی کڑی کو بایں الفاظ پیش کیا جاتا ہے :
''اس سلسلہ کی اگلی کڑی یہ ہے کہ ہمارے نزدیک پاکستان میں ملائیت، اپنی سب سے زیادہ خطرناک شکل میں 'جماعت ِاسلامی' کے پیکر میں پائے کوب ہے۔'' 4

اس کے بعد یہ طے کرڈالا گیا کہ جماعت ِ اسلامی اور اس کے امیر کی مخالفت نہ تو کبھی کبھار سرراہ کی جاسکتی ہے اور نہ ہی وقتی اور عارضی طور پر بلکہ اس کے لئے تو مستقل ، مستمر ، دائمی اور لگاتار مخالفت کی ضرورت ہے، جسے طلوعِ اسلام اپنی زندگی کا اوّلین فریضہ سمجھتا ہے۔ چنانچہ 'مفکر قرآن' صاحب لکھتے ہیں :
''ہم ان حضرات سے [جو نہایت اخلاص سے مولانا مودودی اور جماعت کے خلاف سوقیانہ پراپیگنڈہ کرنے سے، ہمیں منع کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ قاسمی] پوچھتے ہیں کہ اتنے بڑے خطرے کے سدباب کے لئے جس کی تصریح اوپر کی جاچکی ہے، یہ کافی ہوگا کہ طلوعِ اسلام کبھی کبھار سر راہے، جماعت اسلامی کی سرگرمیوں کا ذکر کردیاکرے ... جو لوگ طلوعِ اسلام میں جماعت ِاسلامی کی مخالفت کو 'زیادتی' سمجھتے ہیں ، اُنہوں نے دراصل اس خطرے کی اہمیت اور ہمہ گیریت کا صحیح صحیح اندازہ نہیں لگایا۔'' 5

چنانچہ اس بنیاد پر 'مفکر ِقرآن' (اور طلوعِ اسلام نے خوفِ خدا اور آخرت کی جوابدہی سے عاری ہوکر اور شرم و حیا کوبالاے طاق رکھتے ہوئے یہ طے کیاکہ اپنے مقاصد کی بازیابی کے لئے ان کی ایک بڑی ضرورت... بلکہ شاید سب سے بڑی ضرورت ... یہ تھی کہ ان لوگوں کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ چھوڑاجائے، جو پاکستان کواسلامی ریاست بنانے کے لئے، قرآن و سنت کا نفاذ چاہتے ہیں ۔ چنانچہ طلوعِ اسلام میں اس مخالفت کو بلند ترین نصب العین کی حیثیت دی گئی اور اس کا شاید ہی کوئی شمارہ ایساہو جس میں منازعت ومخالفت اور عداوت و عناد کی موسلا دھار بارش نہ ہوئی ہو۔ مرورِ ایام کے ساتھ اس کی شدت میں مزید اضافہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ جھوٹے الزامات کی بوچھاڑ، دھوکہ و فریب کی یورش، اور خیانت و بددیانتی کی یلغار کے ساتھ مجلہ مذکورہ میں ایک شدید پراپیگنڈہ مہم شروع کی گئی تاکہ قرآن و سنت پر مبنی اسلام کے خلاف اور اسے نافذ کرنے کی جدوجہد کرنے والی قوتوں کے خلاف شکوک و شبہات اور ریب و تشکیک کا ایسا گردوغبار اُٹھایا جائے کہ حقائق نگاہوں سے مخفی ہوکر رہ جائیں ۔ آئے دن نت نئے شگوفے چھوڑے اور شوشے اُٹھائے گئے۔

مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کی برسوں پرانی عبارتوں کو 'نئے تقاضوں اور جدید ضرورتوں ' کے تحت کھنگالاگیا، تاکہ جہاں کہیں بال برابر بھی اعتراض کرنے کی گنجائش ملے،اُسے شائع کرکے معاندانہ پراپیگنڈہ کیا جاسکے۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا، لیکن مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ ان سب شیطانی چالوں سے بے نیاز اور ایں واں سے بے پرواہ ہوکر مستانہ و مردانہ وار، خدمت ِاسلام کے مثبت اور تعمیری کام میں منہمک رہے اور 'ترجمان القرآن' کو کبھی بھی 'طلوعِ اسلام' کا حریف نہ بننے دیا۔ لیکن طلوعِ اسلام اپنی اس یک طرفہ حریفانہ کشمکش کو مستقل جنگ میں تبدیل کر ڈالنے کے لئے ہر ماہ مسلسل ایندھن ڈالتا چلا گیا تاکہ مخالفت و عداوت کے اس الاؤ کو نہ صرف یہ کہ بجھنے نہ دیا جائے، بلکہ اسے مسلسل بھڑکائے رکھا جائے۔ چنانچہ مولانامودودی رحمة اللہ علیہ کے خلاف ایک ہی طرح کی باتوں کو مسلسل بدلتے ہوئے انداز و اسالیب کے ساتھ بہ تکرار و اعادۂ بسیار دہرایا جاتا رہا تاکہ نفرت کے اس زہر کے پھیلاؤ میں جس قدر ممکن ہوسکے ، اضافہ ہوتا رہے۔

مُلّا ازم اور حکومتی گٹھ جوڑ
علماے کرام، مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ اور جماعت اسلامی سب کو مُلّا قرار دے ڈالنے کے بعد اُن کی توہین و تذلیل اور استہزاء و تضحیک کے لئے 'ملّائیت'، 'مذہبی پیشوائیت'، 'تھیا کریسی' اور 'پریسٹ ہڈ'کی اصطلاحات کو ذریعہ بنایا گیا اور پھر یہ 'افسانہ' تراشا گیا کہ ملاازم اور حکومت کا ہمیشہ اور ہر جگہ گٹھ جوڑ رہا ہے۔ پھر اسے بار بار بکثرت دہرایا جاتا رہا۔ چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیے :
1. ''مذہب میں حکومت اور مذہبی پیشوائیت میں ایک سمجھوتہ ہوتا ہے جس کی رو سے مذہبی اُمور، مثل اعتقادات، عبادات، پرسنل لاز وغیرہ، مذہبی پیشوائیت کے دائرہ اقتدار میں رہتے ہیں اور دنیاوی اُمور حکومت کے اختیار میں ۔ مسلمانوں میں صدرِ اوّل کے بعد یہ ثنویت پیدا ہوئی اور مسلسل آگے بڑھتی گئی۔'' 6
2. ''اس قسم کی (یعنی فرعونی) آمریت، مذہبی پیشواؤں کی تائید کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی تھی، اس مقصد کے لئے تخت و تاج اور محراب و منبر کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا، جس کی رُو سے اُمورِ مملکت سلطان کی تحویل میں دے دیئے گئے اور معاملاتِ شریعت اربابِ مذہب کے قبضے میں ۔'' 7
3. ''مفاد پرست گروہ نے اقتدار کی کرسیوں اور رزق کے سرچشموں پر قبضہ کرلیا، مذہبی پیشوائیت نے اس خلافِ اسلام نظام کو عین اسلام ثابت کرنے میں 'شرعی سندات'مہیا کردیں ۔''ٌ 8
4. ''جب خلفاے راشدین کے جانشینوں نے سیاسی معاملات تو اپنی ملوکیت کی گرفت میں لے لئے اور مذہبی اُمور کو پیشوائیت کے سپرد کردیا۔بظاہر یہ دو الگ الگ کیمپ دکھائی دیتے تھے، لیکن ان کے مابین ایک ملی بھگت اور'شریفانہ معاہدہ' کم و بیش ہر دور میں قائم رہا۔ مسلمان حکمران ان مذہبی پیشواؤں کے لئے مالی وظائف کا انتظام کرتے اور اس کے بدلے میں مذہبی پیشوائیت ان حکمرانوں کو 'امام المسلمین' اور 'ظل اﷲ' کے مقدس خطابات سے یاد کرتی۔''ٍ 9

بنو اُمیہ کے دور کی تاریخ میں سے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے'مفکر قرآن' صاحب، علماے کرام کو یوں نشانہ بناتے ہیں :
''جب قانونِ مکافات کا احساس جاتا رہا تو پھر بادشاہ ہر قسم کی من مانی کرتا۔ سلب و نہب، لوٹ کھسوٹ، ظلم و استبداد، اُمت کے حقوق کی پامالی اس کا معمول بن جاتا۔ وہ اپنی مطلق العنانی کے زور پر یہ کچھ کرتا تو رہتا لیکن اسے یہ خیال ضرور ستاتا کہ اگر ان مظالم سے تنگ آکر کسی دن قوم اس کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی تو اس سیلاب کا روکنا ناممکن ہوگا۔ وہ اس فکر میں غلطاں و پیچاں رہتا ۔ جب اس خطرہ کا احساس زیادہ نزاکت اختیار کرگیا تو (جیسا کہ ہوتا چلا آیا ہے) مذہبی پیشوائیت آگے بڑھی۔ اس نے سلاطین سے کہا کہ فکرکی کوئی بات نہیں ۔ قوم مذہب پرست واقع ہوئی ہے، اسے مذہب کے حربوں سے ایسا مفلوج کیا جاسکتا ہے کہ یہ اُٹھنا تو درکنار، ہلنے تک کے قابل نہ رہے۔ اس کے لئے اُنہوں نے اس عقیدہ کو عام کیا کہ تمام کائنات خداے مطلق کے حیطۂ اقتدار میں ہے۔ یہاں ایک پتہ بھی، اس کے حکم کے بغیر ہل نہیں سکتا۔ جو کچھ ہوتاہے سب اس کے حکم اور اجازت سے ہوتا ہے۔انسانوں کا غلط قدم اٹھانا تو درکنار وہ آنکھ تک بھی اس کے حکم کے بغیر نہیں جھپک سکتا۔ انسان مجبور محض ہے۔ وہی ہوتا ہے جومنظورِ خدا ہوتا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے سلاطین کی مطلق العنانیت (ڈکٹیٹر شپ) کے مسلک کی تائید اس آیت ِقرآنی کی غلط تاویل سے کی کہ {تُؤْتِى ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ...﴿٢٦﴾...سورۃ آل عمران} ''حکومت خدا کی طرف سے عطاکردہ ہوتی ہے، وہ جسے چاہتا ہے، حکومت عطا کردیتا ہے، جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے۔''
اس ایک عقیدہ سے، حکومت سے قوم کا عمل دخل ختم ہوگیا۔ کسی نے خلیفہ سے کچھ کہنے کی جرأت کی تو اس کا جواب موجود تھا کہ مجھے حکومت خدا نے دی ہیــ، تم اس پر اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہو؟ تم خدا کے فیصلے کے خلاف سرکشی کرنا چاہتے ہو۔'' 10

جملہ معترضہ
قبل اس کے کہ 'ملوکیت اور مذہبی پیشوائیت کے باہمی گٹھ جوڑ' کے متعلق مزید اقتباساتِ پرویز کو پیش کیا جائے، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ جس 'مذہبی پیشوائیت' نے عقیدئہ جبر کی آڑ میں بنواُمیہ کی پشت پناہی کی تھی، وہ اُن معتزلہ کے اسلاف اور ان خوارج کے اخلاف تھے جو قرآن کے سواکسی چیز کو حجت نہیں مانتے تھے۔ بالفاظِ دیگر وہ موجودہ دور کے منکرین حدیث ہی کے فکری آباء و اجداد تھے۔ آج منکرین حدیث، لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے اپنے ہی فکری باپ دادوں کی کرتوتوں کو علماے امت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں اور پھر اُنہیں بدنام کرتے ہیں ۔

اب رہے علماے امت، تو اُنہوں نے نہ صرف کہ اقتدارِ باطل کی حمایت نہیں کی بلکہ طواغیت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈا ل کر کلمہ حق کہتے رہے۔ چنانچہ بنواُمیہ کی حکومت نے جب مسئلہ جبر کو اپنی ڈھال بنایا تو ابوموسیٰ اشعری نے سب سے پہلے اس کی تردید کی۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مولانا افتخار احمد بلخی کا مندرجہ ذیل اقتباس نذرِ قارئین کردیا جائے :
''اپنے ظلم و جور، اپنی سخت گیری اور اپنے تشدد کو دینی جواز دینے کے لئے بنو اُمیہ نے مسئلہ جبر کا اختراع کیا۔یہ اختراع گویا ان کا 'ایڈمنٹی ایکٹ' تھا۔ ان کے آمرانہ قہر و مظالم کے لئے ایک براء ت تھی یعنی یہ کہ انسان مجبورِ محض ہے۔ جو کچھ کرتاہے، خدا کرتا ہے، انسان تو محض ایک کٹھ پتلی ہے جس کا تار خدائی ہاتھ میں ہے، جس کے ہلانے سے وہ حرکت کرتاہے۔ پس انسان اپنے اعمال کا جواب دہ و ذمہ دار نہیں ۔ اس کی ذمہ داری، خدا پرعائد ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ سفاکیاں جو کی جارہی ہیں خدا کی مشیت ہی ایسی ہے کہ وہ کی جائیں ۔ پس صاحبانِ قوت، اپنی ان ستم شعاریوں اور ان ایذاؤں سے بریٔ الذمہ ہیں جو وہ کیا کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک گمراہ کن اختراع تھی، اور جب ایسا تھا تو اہل حق کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس فاسد خیال کا فوری ابطال کریں ، چنانچہ سب سے پہلے حضرت ابوموسیٰ اشعری نے اس کی تغلیط کی۔'' 11

اور یہ بھی جان رکھئے کہ یہ اختراع کسی ملا کی نہیں تھی بلکہ اس وقت کے'مرکز ِملت' کی تھی اور 'مرکزیت ِاُمت ِمسلمہ' اس وقت تک قائم تھی۔ خلافت کی مرکزیت، تیسری صدی کے آخر میں جاکرٹوٹی ہے۔ خود طلوع اسلام یہ لکھتا ہے:
''بنی عباس کو یہ خطرہ ہواکہ کہیں یہ (عجمی وزرا و اُمرا) خلافت کو ہمارے ہاتھوں سے نکال کر، دوسروں کونہ دے دیں ۔ چنانچہ اُنہوں نے ایرانیوں کی طاقت کے بالمقابل ترکوں کی بھی ایک فوج مرتب کی تاکہ توازن قائم رکھیں مگر اس ترکی فوج نے خود خلفا پر تغلب حاصل کرلیا۔ جس کو چاہتے تھے خلیفہ بناتے تھے، جس کو چاہتے تھے معزول کردیتے تھے۔ خلفا کی اس بے بسی کے زمانہ میں نئی نئی اسلامی سلطنتیں ظہور پذیر ہونے لگیں جن کے غلبہ سے وہ بالکل بے دست و پا ہونے لگے۔ دیالمہ اور سلاجقہ کے عہد میں جو صدیوں رہا، ان خلفا کا صرف مذہبی اثر رہ گیا تھا اور حکومت سلاطین کے ہاتھوں میں تھی یہاں تک کہ 295 ہجری میں افریقہ میں فاطمیہ نے اور اس کے بعد اندلس میں عبدالرحمن ناصر نے اپنی اپنی خلافتوں کااعلان کردیا جس سے دنیاے اسلام میں بیک وقت تین خلافتیں قائم ہوگئیں جو ایک دوسرے کی حریف تھیں اور وہ مرکزیت جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوع انسانی کی صلاح و فلاح کے لئے نصب فرمایاتھا، ان قریشی خانوادوں کی باہمی رقابت اور دنیاوی منافست سے بازیچہ طفلاں بن گئی۔'' 12

آمدم برسر مطلب
بہرحال یہ ایک جملہ معترضہ تھا جس میں یہ بتانا مقصود تھا کہ
I. عقیدۂ جبر کو اپنے مظالم کی پردہ پوشی کا ذریعہ بنانا کسی 'مُلّا' کا کام نہیں تھا بلکہ حکمرانوں کاکام تھا۔
II. اس عقیدہ کی پشت پناہی کرنے والے وہ لوگ تھے جن کے قارورے کے ساتھ موجودہ دور کے منکرین حدیث کا قارورہ ملتا ہے۔

اس جملہ معترضہ کے بعد اب آئیے اصل موضوع کی طرف۔ بات ہورہی تھی'مفکر قرآن' کے اس خود ساختہ افسانے کی، جسے وہ 'اربابِ اقتدار اور مذہبی پیشوائیت کی باہمی گٹھ جوڑ' کا عنوان دیا کرتے تھے۔ ادیانِ باطلہ سے تھیاکریسی کا تصور لے کر ، اسے مسلمان علما پر چسپاں کرتے ہوئے، وہ یوں 'مطابق قرآن' تاریخ مرتب کیا کرتے تھے :
''حکومت کی بنیاد تو اس مقصد (یعنی تحفظ ِحقوقِ انسانی) کے تحت رکھی گئی تھی، لیکن تھوڑ ے ہی عرصہ کے بعد یہ تلخ حقیقت سامنے آگئی کہ حکمران طبقہ کے ہاتھوں لوگوں کا کوئی حق بھی محفوظ نہیں رہا۔ اسی طبقہ نے تقسیم یوں کی کہ حقوق سب کے سب اربابِ حکومت کے ہیں اور ذمہ داریاں تمام کی تمام رعایا کی۔ لوگ اس تقسیم کو گوارا نہ کرتے، لیکن مذہبی پیشوائیت آگے بڑھی اور یہ کہہ کر عوام کو اس تقسیم کے سامنے جھکا دیا کہ را جہ ایشور کا اوتار ہوتا ہے۔ بادشاہ، خدائی حقوق (Divine Rights) کا حامل ہوتا ہے۔اس لئے فرمانروائی اس کا حق اور اطاعت گزاری تمہارا فریضہ ہے۔ وہ جو کچھ تمہیں دے، اس کی عنایت اور احسان ہے۔ تم اس سے بطورِ حق کچھ مانگ نہیں سکتے۔ تم اس کے حضور جھکو، اسے سجدے کرو، اس کی خیریت کی دعائیں مانگو، اس کے ہر حکم کی اطاعت کرو اور اس اطاعت کو اپنے لئے سرمایۂ ہزار سعادت سمجھو۔ تم اور جو کچھ تمہارا ہے، وہ اس سب کا مالک ہے۔ اسے ان تمام چیزوں کا کلی اختیار حاصل ہے۔ وہ تمہارا ان داتا (رازق) اور پالنہار (پروردگار) ہے۔'' 13

''حقیقت یہ ہے کہ باطل کا نظام تنہا مفاد پرستوں کی قوت سے قائم نہیں رہ سکتا، جب تک اسے مذہبی پیشوائیت کا 'روحانی سہارا' میسر نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی اقتدار اور مذہبی پیشوائیت کا ہمیشہ سے گٹھ جوڑ چلا آرہا ہے۔ راجہ، برہمن کی رکھشا (حفاظت) کا پرن لیتا (عہد کرتا) ہے، اور برہمن، راجہ کو ایشور کا اوتار بناکر عوام سے اس کی پرستش کراتا ہے۔ بادشاہ محافظ ِ مذہب (Defender of the Faith)بنتا ہے اور پادری اسے اختیاراتِ خداوندی (Divine Rights)کی سند عطاکرتا ہے اور سلطان، علما کے وظائف مقرر کرتا ہے اور علما اسے ظل اﷲ علی الأرض (زمین پر خدا کا سایہ) قرار دے کر خطبوں میں اس کا نام سلام وصلوٰة کے ساتھ لیتے ہیں ۔'' 14

'مفکر قرآن' نے 'اربابِ اقتدار اور مذہبی پیشوائیت کے باہمی گٹھ جوڑ' کے اس افسانے کو اس کثرت سے دہرایا ہے کہ اسے شمار کرنامشکل ہے، کیا آپ کو علم ہے کہ اسے بہ تکرار بسیار کیوں جگہ جگہ باربار دہرایا ہے؟ اگر نہیں پتا تو سن لیجئے؛ یہ صرف اسی لئے کہ
نازیوں کے گوئبلز کامقولہ تھا کہ__''جھوٹ کو اگر سودفعہ دہرایا جائے تو وہ سچ بن جاتاہے۔'' __ دنیا اس کے اس مقولے پر ہنستی رہی، لیکن دور رس نگاہوں نے اسے قیمتی متاع سمجھ کر احتیاط سے رکھ لیا تاکہ بوقت ِضرورت اس سے کام لیاجاسکے۔'' 15

اب ظاہر ہے کہ منکرین حدیث کے 'مفکر ِقرآن' سے بڑھ کر دور رس نگاہ کس کی ہوسکتی تھی، چنانچہ اس'قرآنی گوئبلز' نے نازیوں کے گوئبلز کے اس مقولے کو 'قیمتی متاع' سمجھ کر احتیاط سے رکھ لیااور نہ صرف اس (زیر بحث) افسانے کے سلسلہ میں بلکہ بعض دیگر افسانوں کی تسویل واختراع میں بھی اس سے بھرپور کام لیا ہے۔

نہ دلیل ، نہ ثبوت
ہندومت، عیسائیت اور یہودیت سے 'مذہبی پیشوائیت' کا تصور لے کر اسے اُمت ِمسلمہ کی تاریخ میں ایک 'واقعی حقیقت' کے طور پر لاگھسیڑنا ہمارے اس'قرآنی گوئبلز' کے متعدد اباطیل میں سے ایک 'اچھوتا' اکذدبہ ہے۔ چودہ سو سالہ تاریخ میں سے کسی ایک حکمران کابھی حوالہ نہیں دیاجس کے اور کسی 'ملا' کے درمیان ایسا کوئی 'شریفانہ معاہدہ' ہوا ہو۔ کس عہد میں ، کس سلطان کے ساتھ،کس عالم کا ایسا سمجھوتہ ہوا؟ کس کی ملوکیت کے ساتھ، کس 'مذہبی پیشوا' کا گٹھ جوڑ ہوا؟ کس عہد میں کس بادشاہ کے ساتھ، کس مسلمان 'برہمن' کا ساجھا رہا؟ کوئی متعین اور ٹھوس حوالہ؟ کوئی مضبوط دلیل؟ کوئی قوی برہان؟ کوئی پُرزور حجت؟ حرام ہے جو 'قرآنی گوئبلز' نے کسی مقام پر کوئی ثبوث پیش کیا ہو۔ خارج از اسلام کتب ِتاریخ اور غیر از اسلام مذاہب میں سے (Priesthood)کا تصور اخذ کرکے اسے اُمت ِمسلمہ کی تاریخ میں تسویل نفس اور لفاظی کے بل بوتے پر داخل کرنا شاید اس 'قرآنی گوئبلز' کے جملہ اکاذیب میں سے سب سے بڑا جھوٹ ہے۔

البتہ صرف اتنی بات قابل تسلیم ہے کہ صدیوں پر محیط مسلم معاشرے میں ہر دور میں ، ہر جگہ اور ہر طبقے میں اچھے اور بُرے لوگ موجود رہے ہیں اور اُنہوں نے سرکار دربار سے تعلق پیدا کرکے کچھ مالی مفاد بھی حاصل کیا ہو، لیکن یہ بات صرف 'مُلّا' ہی کے طبقے کے لئے خاص نہیں ہے، بلکہ ہر طبقے کے لئے عام ہے۔ پوری تاریخ میں سے کسی ایک بھی ایسے پیشوا... (کسی ایرے غیرے کا نہیں ، بلکہ کسی 'پیشوا' کا نام، کیونکہ بات مذہبی پیشوائیت کی ہورہی ہے، اُمت ِمسلمہ کے عام افراد کی نہیں ) ... کا نام پیش نہیں کیا جاسکتا ہے، جسے افرادِ اُمت پر قائدانہ اثر و رسوخ، پیشوایانہ وجاہت اور راہنمایانہ مرتبہ و مقام حاصل ہو اور پھر اس نے حکومت ِوقت کی کاسہ لیسی بھی کی ہو۔ محض لفاظی اور زورِ قلم کے بل بوتے پر اگر ایک جھوٹ کو بار بار دہرایا جائے تو ممکن ہے کہ کچھ لوگوں پر یہ اثر کرجائے، لیکن اس سے حقیقت نفس الامری میں کوئی فرق واقع نہ ہوگا۔ جوجھوٹ ہے، وہ بہرحال جھوٹ ہی رہے گا خواہ کوئی نازی گوئبلز اسے سو بار دہرائے یا 'قرآنی گوئبلز' !

علماے اُمت کا شاندار کردار
آئیے! اب ہم اس 'قرآنی گوئبلز' کے افسانۂ مذکورہ کا خود اُسی کے لٹریچر سے کذبِ خالص ہونا واضح کردیں تاکہ یہ بات آفتاب نصف النہار کی طرح اُجاگر ہوجائے کہ 'مذہبی پیشوائیت' کے نام سے جس گھناؤنے کردار سے علماے اُمت کو متہم کیا گیاہے، وہ صرف 'مفکر قرآن' کے 'ذہن رسا' ہی کا کرشمہ ہے۔ جو صرف ان ہی کے حلقہ دامِ خیال میں پایا جاتا ہے، ورنہ واقعات کی دنیا میں اس کا وجود معدوم محض ہے، بلکہ اس کے برعکس ہماری تاریخ کے پیشوا یانِ دین کا کردار قابل صد فخر و مباہات رہا ہے۔ وہ اربابِ اقتدار کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے کی بجائے ان کے زیر عتاب رہ کر خدمت ِاسلام کرتے رہے ہیں ۔ اگر ہم اس کا ثبوت کتب تاریخ سے پیش کریں تو ہمیں یقین ہے کہ 'مفکر ِقرآن' کے اندھے مقلدین یہ کہہ کر اس کا انکار کردیں گے کہ
''دین میں سند، نہ تاریخ کے مشمولات ہیں اور نہ مسلمانوں کے متواتر و متوارث عقائد ومسالک ... سند ہے خدا کی کتاب۔'' 16

اور خدا کی کتاب سے مراد، منکرین حدیث کے نزدیک وہ تعبیرات و تشریحات ہیں جنہیں پرویز صاحب نے اپنے لٹریچر میں قرآن کے گلے مڑھ رکھا ہے۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ پرویز صاحب ہی کے لٹریچر سے علماے اُمت کا قابل صد فخر کردار واضح کردیا جائے، چند واقعات ملاحظہ فرمائیے:
پہلا واقعہ
ملک صالح نجم الدین ایوب سلطانِ مصر(متوفی ۶۴۷ہجری) نے چرکسی غلام کثرت سے خریدے تھے، تاکہ ان کا ایک لشکر تیار کرکے صلیبیوں کے مقابلہ میں کام لے۔ جزیرئہ روضہ کے قریب رہنے کے لئے ان کو زمین عطا کی تھی۔ اُنہوں نے عظیم الشان محلات اور قلعے تعمیر کئے تھے۔یہ لوگ چونکہ سخت جانباز اوربہادر تھے اور ان سے بڑے بڑے کارنامے ظہور میں آئے، اس لئے سلطانِ مصر نے اپنے وزرا ، اُمرا اور درباری اُنہیں میں سے منتخب کئے۔ اسی زمانہ میں علامہ عزالدین بن عبدالسلام ملک شام سے مصر آئے۔ ملک صالح نے ان کی تکریم کی اور ان کو قضا کاعہدہ دیا۔ ملک صالح کے بعد، ایک مقدمہ کے دوران میں قاضی موصوف کے نزدیک یہ امر پایۂ ثبوت کو پہنچ گیا کہ یہ ممالیک، سلطان کے زرخرید ہیں اور آزاد نہیں کئے گئے ہیں ، اس لئے اعلان کرایا کہ اُن کے جملہ تصرفاتِ خود مختارانہ ازقسم بیع و شرائ، نکاح و طلاق وغیرہ بوجہ عدمِ حریت ناجائز ہیں اور حکم بھیجا کہ وہ سب کے سب حاضر آئیں ، میں ان کو فروخت کروں گا، کیونکہ وہ اسلامی بیت المال کی ملکیت ہیں ۔

ممالیک نے یہ سنا تو قیامت برپا ہوگئی۔ اس لئے کہ امارت، سپہ سالاری وغیرہ سلطنت کے تمام بڑے بڑے مناصب پر وہی لوگ تھے۔قاضی صاحب کو ان کے احباب سمجھانے اور اسکے انجام سے ڈرانے لگے، مگر انہوں نے مطلق توجہ نہ کی اور شرعی حکم کی تنفیذ پر اڑے رہے۔

نائب السلطنت نے غضبناک ہوکر کہا کہ ہم روے زمین کے ملوک ہیں ۔ قاضی کی کیا مجال کہ وہ ہمارے سامنے دم مارسکے۔ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اپنے ہاتھ سے اس کی گردن مار دوں گا، یہ کہہ کر اپنے اعوان و انصار کی ایک جماعت کو ساتھ لئے ہوئے چلا۔ سب کے سب غصے میں بھرے ہوئے اور ننگی تلواریں ہاتھوں میں لئے ہوئے تھے۔ جب ان کے گھر کے پاس پہنچے توشورش سن کر ان کا لڑکا باہر نکل آیا۔ کیفیت دیکھ کر سہما ہوا اندر بھاگا اور باپ کو مطلع کیا۔ نہایت بے پرواہی سے بولے: ''تیرے باپ کا یہ رتبہ کہاں کہ راہِ حق میں اس کا خون بہایا جائے۔'' اور یہ کہتے ہوئے باہر نکل آئے۔

نائب السلطنت کی نگاہ جب ان کے اوپر پڑی تو جلالِ حق سے کانپنے لگا۔ تلوار ہاتھ سے گر گئی اور روکر بولا کہ یا مولانا! آپ کیا کرنا چاہتے ہیں ؟ فرمایا: تم لوگوں کو فروخت کروں گا۔ بولا کہ قیمت کون لے گا؟ جواب دیا کہ میں اور اس کو مسلمانوں کے بیت المال میں داخل کروں گا۔ چنانچہ یہی کیا اور سربازار ان کو فروخت کرا دیا۔
قاضی عزالدین، اربابِ حال میں سے تھے اور ان کا لقب سلطان العلماء تھا۔ 17

دوسرا واقعہ
دوسرا واقعہ بھی قاضی عزالدین ہی کا ہے۔ 'قرآنی گوئبلز' کی اُمت کو چاہئے کہ اس واقعہ کو نہایت غور سے پڑھ کر ہمیں بتائیں کہ ہمارے اسلاف، سلاطین پر درودوسلام بھیجتے تھے یا ان کی مخالفت کیا کرتے تھے؟ وہ خود ان اربابِ اقتدار کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھے یا اُنہیں حق کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا کرتے تھے، وہ دنیا پرست تھے یا طلب گار آخرت؟

''قاضی عزالدین پہلے دمشق میں قضا کے عہدہ پر تھے۔ وہاں کے امیر اسماعیل نے جب صلیبیوں کو صیدا اور قلعہ شقیق دینے کا وعدہ کرکے اپنے ساتھ ملایا، اُس وقت انہوں نے اعلان کیا کہ خطبوں میں سے اسماعیل کا نام نکال دیا جائے۔ وہ یہ سن کرغضبناک ہوا۔اسلئے یہ دمشق چھوڑ کر مصر کی طرف چلے۔ چونکہ نہایت محترم تھے، اس وجہ سے اُمرا اور اعیانِ شہر نے روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ ہم اسماعیل کو راضی کرلیں گے، آپ ہمارے ساتھ چل کر صرف اس کی دست بوسی کرلیجئے۔ فرمایا کہ میں تو اس پربھی راضی نہیں کہ تمہارا امیر میری دست بوسی کرے چہ جائیکہ میں خود اس کاہاتھ چوموں ۔ اللہ کا شکر ہے جس نے مجھ کو پناہ میں دے رکھا ہے، اس آفت سے جس میں تم لوگ مبتلا ہو، جاؤ تم دوسرے عالم میں ہو اور میں دوسرے عالم میں ۔'' 18

تیسرا واقعہ
تیسرا واقعہ بھی، پھر اسی قاضی عزالدین کا ہے جو یہ ظاہر کرتاہے کہ ہمارے اسلاف نہ جاہ پسند تھے اور نہ طالب ِمال، وہ حق پرست و خود دار تھے اور اپنی حق پرستی و خود داری کے سامنے اُمراء و اعیانِ حکومت کی بھی پرواہ نہیں کیا کرتے تھے :
''جب یہ مصر میں قاضی ہوئے تو اس زمانہ میں سلطانی حاجب امیرفخر الدین نے، جس کے ہاتھ میں سلطنت کی باگ تھی، ایک مسجد کے دروازہ پر بالاخانہ بنایا تھا جس پر نوبت بجائی جاتی تھی۔ قاضی موصوف نے جب اس کو دیکھا تو فوراً توڑنے کا حکم دیا اور امیر فخر الدین کے ناقابل شہادت ہونے کا اعلان کردیا اور یہ خیال کرکے کہ اس کی مخالفت میں ، میں اپنے منصبی فرائض ادا نہ کرسکوں گا، استعفیٰ لکھ کر بھیج دیا اور عدالت سے چلے آئے۔ ملک صالح کو جب علم ہوا تو اس نے خود جاکر اس بالاخانہ کو گرادیا اور ان کو راضی کرکے دوبارہ مسند ِعدالت پر لایا۔

فخرالدین اور اس کے رفقا سمجھتے تھے کہ قاضی کے اعلان کا ہمارے اوپر کیا اثر ہوسکتا ہے؟ لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ اسی دوران ملک صالح سلطان مصر نے خلیفہ بغداد مستعصم کے پاس کسی امر خاص کے متعلق سفارت بھیجی۔ سفیرنے وہاں پہنچ کر جب خلیفہ کو پیغام سنایا تو خلیفہ نے دریافت کیا کہ اس کو تم سے سلطان نے خود کہا تھا یا کسی اور نے؟ سفیر نے جواب دیا کہ امیر فخرالدین نے۔ خلیفہ نے کہا کہ عزالدین نے اس کو ساقط الشہادة قرار دیا ہے، اس لئے اس کی روایت کو ہم قبول نہیں کرسکتے۔ مجبوراً سفیر نے واپس آکر سلطان کی زبان سے پیغام لیا اور بغداد جاکر خلیفہ سے جواب لایا۔'' 19

چوتھا واقعہ
چوتھا واقعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تزکیۂ شہود کے معاملہ میں مسلم عدالتوں کا معیار کس قدر بلند تھا اور حضرات قضاة کرام، اس بلندمعیار کو برقرار رکھنے کے لئے کسی بڑے سے بڑے آدمی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔

''اس طرح کا واقعہ قاضی شرف الدین بن عین الدولہ کا ہے جو مصر میں قاضی تھے۔ ان کی عدالت میں ملک کامل سلطانِ مصر کسی مقدمہ میں شہادت میں طلب ہوا، وہ چونکہ روزانہ ایک مغنیہ کا گانا سنا کرتا تھا، اس وجہ سے قاضی موصوف نے اس کی شہادت لینے سے انکار کردیا۔ اس پر اس نے قاضی کی شان میں سخت کلمہ استعمال کیا۔ قاضی نے کہا کہ یہ عدالت کی توہین ہے اور اسی وقت اپنی برطرفی کا اعلان کرکے مسند سے اُٹھ کر چلے آئے، سلطان نے مجبوراً جاکر معافی چاہی اور ان کو راضی کیا کیونکہ اس کو اپنی بدنامی اور نامقبولیت کا خطرہ ہوا۔'' 20

جملہ معترضہ:قبل اس کے کہ اس سلسلہ میں مزید واقعات پیش کئے جائیں ، بطورِ جملہ معترضہ ہم یہ عرض کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ خلافت ِراشدہ کے بعد اگرچہ اسلامی معاشرہ مسلسل انحطاط و زوال کا شکار ہورہا تھا، لیکن اس کے باوجود بھی بعض پہلو انتہائی تابناک رہے ہیں ۔ اسی عدالتی شعبہ کو لیجئے اور قضاة کرام کی حق گوئی اور ان کی بے لاگ خوے عدل کو ملاحظہ فرمائیے اور تزکیۂ شہود کے معیار کی بلندی پرنظر ڈالئے، تو علماے امت کا کردار قابل صد تبریک و تحسین اور لائق صد فخر و ابتہاج دکھائی دیتا ہے اور دوسری طرف ہمارے 'ترقی پسند'، 'روشن خیال' اور 'قرآنی معارف' بیان کرنے والے'مفکر قرآن' کے کردار کو دیکھئے، جوقطعاً اس قابل نہیں ہے کہ کسی صحیح اسلامی عدالت میں وہ مقبول الشہادة قرارپائیں ، جیسا کہ ان کے حلقہ کی ایک خاتون مقالہ نگار ان کے متعلق یہ گواہی دیتی ہیں کہ وہ ایک فلمی مغنیہ روشن آرا بیگم کے گانے سننے کے لئے خصوصی کاوش اور خاص اہتمام کیاکرتے تھے۔
Pervez sahib made special efforts to listen to Roshan Ara Begum, of whom He had very high opion 21.

یہاں یہ امر بھی ملاحظہ فرما لیجئے کہ گانے کے متعلق اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا رویہ تھا (اور ہے) اور یہ رویہ بھی، کسی اور کتاب سے پیش کرنے کی بجائے، طلوعِ اسلام ہی کے اوراق سے پیش کیاجارہا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم :
''جن محفلوں میں باجہ اور راگ ہوتا تھا، ان میں کبھی نہیں جاتے تھے۔'' 22

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ واقعہ طلوعِ اسلام، قیام پاکستان سے پہلے پیش کیا کرتاتھا، لیکن پھر جب پاکستان بنا اور اس کے اُفق پر 'طلوعِ اسلام' ہوا، تو پھر موسیقی، راگ، تال اور سُر سب حلال اور جائز قرار پاگئے اور قرآنی لفظ یُحْبرون کا پہاڑ کھود کر 'مفکر ِقرآن'نے حلت کا یہ چوہا نکال ڈالا اور یوں ہمارے 'قرآنی گوئبلز' ارتکاب ِحرام سے بچ گئے۔ بقول اکبر الٰہ آبادی
سنا ہے حلتِ بادہ کا ہوگیا فتویٰ خدا نے فضل کیا، بچ گئے حرام سے ہم

اب حلت ِ گیت سنگیت اور حلت ِ موسیقی کے اس 'قرآنی فتوے' کی رو سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسی محفلوں سے احتراز و اجتناب بھی 'خلافِ قرآن' قرار پا گیا اور 'مفکر قرآن' کا فلمی مغنیہ روشن آرا بیگم کے گانے سننا 'مطابق قرآن' ہوگیا۔


 حوالہ جات

1. طلوع اسلام، نومبر 1984ء، صفحہ 34
2. طلوع اسلام، دسمبر1967ء، صفحہ 36
3. طلوع اسلام، اکتوبر 1953ء صفحہ 45
4. طلوع اسلام، اکتوبر 1953ء صفحہ 45
5. طلوع اسلام، اکتوبر1953ء، صفحہ46
6. طلوع اسلام، نومبر1974ء، صفحہ 25
7. طلوع اسلام، ستمبر 1973ء، صفحہ 8
8. طلوع اسلام، جون 1967ء، صفحہ 5
9. طلوع اسلام، مارچ 1966ء، صفحہ 49
10. طلوع اسلام، نومبر 1981ء، صفحہ 43
11. فتنۂ انکار حدیث کا منظرو پس منظر، ج1، صفحہ 20تا 21
12. طلوع اسلام، اپریل 1949ء، صفحہ 52
13. طلوع اسلام، نومبر1981ء ، صفحہ 18
14. طلوع اسلام، جون 1966ء، صفحہ 10
15. طلوع اسلام، ستمبر1960ء، صفحہ 69
16. نظام ربوبیت، صفحہ 192
17. طلوع اسلام، جون 1938ء، صفحہ 56،66
18. طلوع اسلام، جون 1938ء، صفحہ 66
19. طلوع اسلام، جون 1938ء، صفحہ 67
20. طلوع اسلام، جون 1938ء ،صفحہ 67
21. ایضاً، اپریل مئی 1989ء، صفحہ 116 ›
22. ایضاً، مئی 1941ء، صفحہ 22


 

مذہبی پیشوائیت؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ (قسط 3)

مذہبی پیشوائیت؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ (آخری قسط)