میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

پریسٹ ہڈ(Priesthood) یعنی 'مذہبی پیشوائیت'اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے علاوہ دیگر ادیان، مثلاً نصرانیت، ہندومت اور یہودیت کا تصور ہے۔ لیکن ہمارے 'مفکر ِقرآن' جناب چوہدری غلام احمد پرویز صاحب نے مذاہب ِباطلہ سے اس کا تخم لے کر، اسے سرزمین اسلام میں کاشت کیا، اور پھر اس کا ترجمہ'مُـلَّا اِزم' کرتے ہوئے علماے امت، محدثین ِکرام اور فقہاے عظام کو مطعون کرنے کا ذریعہ بنایا۔ خود طلوعِ اسلا م میں اس بات کا بارہا اعتراف کیا گیا ہے کہ 'مذہبی پیشوائیت' نا م کی کوئی چیز اسلام میں موجود نہیں ہے
''اس مذہب (اسلام) میں نہ رسومات ہیں ، نہ بت پرستی، نہ پیشہ ور مقتدایا نِ مذہب ہیں ، اور نہ کوئی ایسا دینی راہنما جو گناہ اور معصیت سے مبرا ہو۔ یہاں کوئی مجلس بھی مسیحیت کی طرح، چرچ کونسل کی مانند نہیں جو اختلافات و نزاعات کا فیصلہ کرے۔'' 1

'مفکر ِقرآن' صاحب کو یہ بات بھی مسلّم تھی کہ
''جس نظام کی تشکیل محمد رسول اﷲ والذین معہ کے مقدس ہاتھوں سے ہوئی تھی، اس میں مذہبی پیشواؤں کا نشان تک دکھائی نہیں دیتا۔'' 2

پریسٹ ہڈ یا تھیاکریسی (Theocracy) اصلاً عیسائیت کا تصور ہے، جس نے اسے ایک نظام اور ادارے کے طور پر اختیار کررکھا تھا ، بقولِ پرویز:
''تھیا کریسی کا تصور تو پرانا ہے، لیکن اسے بطور نظامِ حکومت، عیسائی کلیسا (چرچ) نے یورپ میں رائج کیا ہے۔'' 3

ایک اور مقام پرتھیاکریسی کو عیسائیت کا تصور قرار دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ
''ازمنہ متوسطہ میں ایک اندازِ حکومت ظہور میں آیا تھا جسے تھیاکریسی کہتے ہیں ۔ اس طرزِ حکومت میں اقتدارِ اعلیٰ مذہبی پیشواؤں کے ہاتھ میں رہتا تھا جو خدا کے نام پر لوگوں سے اپنی اطاعت کراتے تھے۔ جب یورپ ان خدائی فوجداروں سے تنگ آگیا تو وہاں (اس طرزِ حکومت کے خلاف) ایک جدید اندازِ حکومت وضع ہوا جس میں مذہبی پیشواؤں کا عمل دخل نہ تھا۔ اس اندازِ حکومت کوسیکولر کی اصطلاح سے تعبیر کیا گیا ۔'' 4

عیسائیت سے قبل یہودیت میں بھی یہ تصور موجو تھا۔ چنانچہ پرویز صاحب لکھتے ہیں :
''سامی مذاہب میں مُـلَّا ازم یہودیت ہی کی تخلیق ہے۔'' 5

طلوعِ اسلام، جون 1966ء کے صفحہ نمبر 10 پر واقع اقتباس میں اس تصور کو ہندومت کا تصور بھی قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ 'مفکر ِقرآن' صاحب کو 'ملا ازم'،'مذہبی پیشوائیت'، 'تھیاکریسی' یا 'پریسٹ ہڈ' کا یہ کھوٹا سکہ اَدیانِ باطلہ سے لے کر بازارِ اسلام میں کیوں لانا پڑا؟ اس سوال پر آپ جتنا بھی غور فرمائیں گے، اسی قدر آپ پر یہ حقیقت نمایاں ہوتی چلی جائے گی کہ 'مفکر ِقرآن' صاحب کے تصورِ اسلام اور علماے اُمت کے تصورِ اسلام میں مشرق و مغرب کا سا بعد پایا جاتا ہے۔ علماے کرام کا تصورِ اسلام، قرآن وسنت پر مبنی ہے اور مُّحَمَّدٌ رَّ‌سُولُ ٱللَّهِ ۚ وَٱلَّذِينَ مَعَهُ کے عہد ِمبارک سے لے کر اب تک سلف وخلف اسی امر پر متفق و متحد رہے ہیں کہ اسلام کا سرچشمہ قرآن و حدیث (کتاب و سنت )ہیں لیکن ہمارے 'مفکر قرآن' صاحب کا تصورِ اسلام پاکستان بن جانے کے بعد صرف اورصرف قرآنِ کریم پر ہی اساس پذیر ہے۔ پھر اس پر یہ ستم ظریفی بھی مستزاد ہے کہ قرآن کا نام لے کر وہ جس 'انقلابی اسلام' کو پیش کرتے ہیں ، اس کے جملہ اجزا یا تو مغرب کی بے حیا معاشرت میں پائے جاتے ہیں یا پھر اشتراکیت کے معاشی نظام میں ۔ مثال کے طور پر وہ جس قرآنی نظام کی طرف دعوت دیتے ہیں ، اس کے نمایاں خد و خال مندرجہ ذیل ہیں :
i. حجاب و نقاب کی مخالفت کرنا
ii. تعددِ ازواج کو معیوب قرار دینا
iii. وَقَرْن فِیْ بُیُوْتِکُنَّ پر عورت کے عمل کرنے کو، حبسِ بے جا قرار دینا
iv. خواتینِ خانہ کو گھر سے نکال کر مردانہ کارگاہوں میں لاکھڑا کرنا
v. خانگی زندگی کے فطری وظائف سے منحرف کرکے، مستورات کو مردانہ مناصب پر براجمان کرنا۔
vi. مخلوط سوسائٹی کی حمایت کرنا
vii. مخلوط تعلیم کو جائز قرار دینا
viii. مرد و زَن میں مغربی طرز کی مطلق مساوات کو قائم کرنا، بلکہ اس سے بھی آگے بڑھ کر اَفضلیت ِاُناث کا نظریہ پیش کرنا
ix. عقائد ِاسلام میں کمی و بیشی کرتے ہوئے صرف 'پانچ' کی تعداد ہی کو پیش نظر رکھنا
x. اشتراکیت کے اقتصادی نظام کو قرآن کے جعلی پرمٹ پر درآمد کرنا
تلــــك عشـــــرة کـــــاملــــة

سنت ِرسولؐ کی سندیت اور حدیث ِنبوی ؐ کی حجیت سے انکار کرتے ہوئے'مفکر ِقرآن' صاحب نے بڑی جاں سوز مشقت، جگر پاش محنت، جاں گسل کاوش کے ساتھ قرآنِ کریم سے وہ 'انقلابی اسلام' ڈھونڈ ڈالاجس کے مندرجہ بالا اجزا سرمایہ دارانہ تہذیب اور اشتراکی تمدن میں بغیرکسی قرآن کے پہلے سے موجود ہیں ۔ 'مفکر ِقرآن' صاحب کے نزدیک یہی 'قرآنی دین' اور 'انقلابی اسلام' ہے۔ رہا قرآن و سنت پر مبنی وہ اسلام جو بعثت ِنبویؐ سے لے کر آج تک اُمت ِمسلمہ کے سلف و خلف پیش کرتے رہے ہیں تو وہ ہمارے 'مفکر قرآن' صاحب کے نزدیک ایک 'پامال شدہ، دقیانوسی اور عجمی اسلام'ہے۔ جو نہ تو 'عقل و فکر کے تقاضوں 'کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس میں 'ندرتِ نگاہ اور جدتِ فکر' کا کوئی شائبہ پایا جاتاہے۔ حتیٰ کہ قرآن وسنت کی اساس پر اسلام کو پیش کرنے والا عالم دین خواہ قدیم و جدید علوم پر کتنی ہی دسترس رکھتا ہو، پرویز صاحب کے نزدیک وہ پرانا اور دقیانوسی اسلام ہی پیش کرتا ہے۔ چنانچہ وہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ کے متعلق یوں گوہر افشانی فرماتے ہیں :
''مودودی صاحب کے پاس کوئی نئی چیز پیش کرنے کو نہیں ہوتی۔ اُنہیں نہ جدتِ فکر نصیب ہوئی ہے اور نہ ندرتِ نگاہ۔ ان کے پاس وہی فرسودہ مال ہوتا ہے جو ہمارے ہاں صدیوں سے چلا آرہا ہے۔'' 6

اگر مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ اشتراکیت سے اقتصادی نظام کی بھیک مانگ کر اور مغرب کے حیا سوز تمدن سے معاشرتی طور طریقوں کی خیرات لے کرقرآنی کشکول میں پیش کر ڈالتے تو یقینا اُن کا یہ عمل اس بات کا ثبوت قرار پاتا کہ اُنہیں 'جدتِ فکر' بھی نصیب ہوئی ہے اور 'ندرتِ نگاہ' بھی۔ چونکہ دورِ حاضر میں گداگر کاکردار ادا کرتے ہوئے غیروں کی ذہنی غلامی اور فکری اسیری میں مبتلا ہوکر خود 'مفکر ِقرآن' نے جو کچھ پیش کیا ہے، وہ ان کی 'جدتِ فکر اور ندرتِ نگاہ' کی بھی دلیل ہے، اس لئے وہ 'مُـلَّا کے اسلام پر' ایک اعتراض یہ بھی کرتے ہیں کہ
''ہمارا قدامت پرست طبقہ جو کچھ مذہب کے نام پر پیش کرتا ہے، اس میں اس کی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ علم و بصیرت کی کسوٹی پر پورا اُترے اور عقل و فکر کے تقاضوں کو پورا کرسکے۔'' 7

اب ظاہر ہے کہ جس 'مفکر ِقرآن' کی __جان بھی گروِ غیر، بدن بھی گروِ غیر ہو__ دل ودماغ بھی اغیار کی فکری غلامی میں اس حد تک مبتلا ہو کہ وہ اگر دیکھتا بھی ہے تو اَغیار کی آنکھوں سے، سنتا بھی ہے تو ان کے کانوں سے، سوچتا بھی ہے تو ان کے دماغ سے۔ وہ غالب اقوام کے ہر نظریہ، مسلک یا نظام کو عرشِ مُعلّٰی سے نازل شدہ سمجھتا ہے اور اس کی تقلید کو اپنے لئے موجب ہزار فخر و مباہات قرار دیتا ہے اور تہذیب ِغالب کے علمبردار جب اپنی چچوڑی ہوئی ہڈیاں اس کی طرف پھینکتے ہیں تو وہ اُنہیں لپک کر اُٹھاتا اور خوانِ نعمت سمجھتا ہے۔ پھر جب ان کی اندھی تقلیدمیں ، ان ہی کی معاشرتی عادات و اطوار کو اشتراکیت کے اقتصادی نظام کے ساتھ پیوند کاری کرتے ہوئے پیش کرتا ہے تو وہ اس پر پھولے نہیں سماتا کہ اس کا پیش کردہ 'قرآنی اسلام' علم و بصیرت کی کسوٹی پر پورا اُترتا ہے اور 'عقل و فکر کے تقاضوں کوبھی پورا کرتا ' ہے اور اس پر مطمئن اور آسودہ خاطر ہوجاتا ہے کہ اس کی اس حرکت سے ماشاء اللہ نئی نسل کو 'قرآن کی تعبیر نو' کا حق بھی حاصل ہوجاتا ہے۔

عجمی اور 'قرآنی' اسلام
الغرض علماے کرام تو یقینا وہی صدیوں پرانادین اسلام پیش کررہے ہیں جو محمد رسول اﷲ والذین معہ کے ہاتھوں سے اُمت کو ملا ہے۔ لیکن چونکہ پاکستان بننے کے بعد خود 'مفکرقرآن' ہی کی سمت ِقبلہ (بظاہر) تبدیل ہوچکی ہے اور ان کا زاویۂ نظر اور اس کے ساتھ ہی نگاہوں کا نقطۂ ماسکہ بدل چکا ہے، اس لئے علماے کرام کااسلام، اب اُنہیں 'عجمی اسلام' دکھائی دیتا ہے اور مغربی معاشرت کے خدوخال کے ساتھ اشتراکیت کی پیوند کاری کے نتیجہ میں جو کچھ وہ پیش کرتے ہیں ، وہ اُنہیں 'قرآنی اسلام' نظر آتا ہے۔ پھر اس 'عجمی اسلام' کے متعلق کبھی ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ دورِ نزولِ قرآن سے پہلے کا وہ مذہب ہے جو اہل کتاب اختیار کئے ہوئے تھے :
''آج جو اسلام دنیا میں مروج ہے، وہ زمانۂ قبل از قرآن مذہب ہو تو ہو، قرآنی دین سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ۔'' 8

اور کبھی ہمیں یہ باور کروایا جاتاہے کہ 'عجمی اسلام' دورِ نزولِ قرآن کے بہت بعد، ایرانیوں کی شکست کے بعد ان کی انتقامی سازش کا نتیجہ ہے :
''اُنہوں (ایرانیوں ) نے اُن عربوں سے شکست کھائی تھی، جنہیں وہ ابھی کل تک وحشی اور جنگلی شمار کیا کرتے تھے اور شکست بھی ایسی جس سے ان کی اس قدر وسیع سلطنت اور ایسی قدیم تہذیب کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ ہونے کو تو مسلمان (یعنی اسلامی سلطنت کے فرمانبردار) ہوگئے، لیکن اس شکست اور محکومی کا احساس ان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتا تھا، اور اپنے حریف عربوں کی شان و شوکت کے منظر سے ان کے سینے میں انتقام کی آگ بھڑک اُٹھتی تھی۔ اُنہوں نے یہ انتقام دو طرح سے لیا: ایک تو بساطِ سیاست پر، جہاں اُنہوں نے اپنی ریشہ دوانیوں سے اُمت ِواحدہ کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے اور دوسرے مذہب کے میدان میں ۔'' 9

دو اسلام
بہرحال پاکستان جو اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا،اس میں جب نفاذِ اسلام کی نوبت آئی تو 'دو اسلام' آمنے سامنے آگئے۔ ایک وہ جو قرآن و سنت پر مبنی تھا اور جو چودہ صدیوں سے سلف تا خلف تواتر کے ساتھ ہم تک پہنچا۔ اس اسلام کو 'مفکر ِقرآن' صاحب نے اس 'عجمی سازش' کا نتیجہ قرار دیا جو (بزعم پرویز صاحب) صدیوں پہلے اس وقت واقع ہوئی تھی، جب نہ ہم ہی موجود تھے او رنہ ہی پرویز صاحب۔ تاکہ صدیوں پہلے ہونے والی اس مزعومہ 'عجمی سازش' کے خلاف ان کے بہ تکرار و اِعادہ برپا کئے ہوئے شوروشغب اور تحریری وتقریری پراپیگنڈے کے نتیجہ میں وہ 'عربی سازش' چھپ جائے جو بٹالہ کے خالص 'عرب علاقے' میں پیدا ہونے والے اس 'مفکر ِقرآن' نے کی ہے، جس نے ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے قرآن کے نام پر مغربی معاشرت اور اشتراکی معیشت کا ملغوبہ تیار کرڈالا۔ یہ وہ دوسرا اسلام تھا جو 'عجمی اسلام' کے مقابلہ میں 'خالص عربی اسلام' تھا۔ آخر یہ کیسے ممکن تھا کہ علماے کرام آنکھوں سے دیکھتے، اس مکھی کونگل لیتے اور قرآن کے نام پر کی جانے والی اس بدترین تحریف کو ٹھنڈے پیٹوں گوارا کرلیتے۔ علماے کرام اور پرویز صاحب کے درمیان کشمکش کا واقع ہونا ناگزیر تھا۔ چنانچہ یہ کشمکش واقع ہوئی اور 'مفکر ِقرآن' نے اس میں مخالفت ِعلما کو'طلوع اسلام کی حقیقت آفریں آواز' کی مخالفت قرار دیا :
''طلوعِ اسلام کی یہی وہ حقیقت آفریں آواز تھی جس کے جرم میں اسے مذہبی اِجارہ داروں کے عتاب کا شکار بننا پڑا۔'' 10

اور ایک دوسرے مقام پر یہ فرماتے ہیں :
''۔۔۔اور اس کے ساتھ دیکھئے کہ اس (طلوعِ اسلام) کی زندگی میں کوئی وقت ایسا آیا ہے جب عصا بردارانِ شریعت، اس کے پیچھے لٹھ لئے نہ پھر رہے ہوں ؟ ۔۔۔کوئی محراب و منبر بھی ایسا ہے (إلا ماشاء اللہ) جو اس کے خلاف دشنام طرازیوں کی نشرگاہ نہ بن رہا ہو اور عباؤں اور قباؤں پرمشتمل کوئی مجمع بھی ایسا ہے جہاں اس کے خلاف محاذ بنانے کی تدابیر، خود ان کے لئے غارت گر ِسکون و اطمینان او ران کے مقلدین و متبعین کے لئے وجہ حصولِ جنت نہ قرار پارہی ہو۔'' 11

صرف علما ہی نعل در آتش کیوں ؟
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس 'خالص قرآنی دعوت' سے صرف 'عصا بردارانِ شریعت' ہی کیوں نعل در آتش ہیں ؟ محض واعظانِ محراب و منبر ہی کیوں سیخ پا ہیں ؟ فقط 'عباؤں اور قباؤں پر مشتمل مجمع'ہی کیوں لٹھ لئے پھر رہا ہے؟تنہا 'مذہبی اجارہ دار' ہی کیوں 'عتاب نازل کرنے' پر اُتر آئے؟ آخر یہ کیسی 'قرآنی دعوت' ہے جس پر اربابِ اقتدار کو نہ صرف یہ کہ کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے بلکہ وہ اس پر راضی بھی ہیں ۔ قرآن کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ جب بھی آواز ۂ قرآن اُٹھا، اس کی سب سے پہلی مخالفت 'اربابِ اقتدار' ہی کی طرف سے ہوئی۔ طاغوت کو اس میں اپنی موت نظر آئی۔ نمرودیت نے اس آواز کوکچل ڈالنے کی ٹھانی۔ فرعونیت اسی آواز پر لرزہ براندام ہوئی۔ لیکن یہ کیسی 'خالص قرآنی دعوت' ہے جس کو وقت کی طاغوتی طاقتیں ٹھنڈے پیٹوں گوارا کررہی ہیں ۔ عصرحاضر کے فراعنہ نہ صرف یہ کہ اس دعوت سے خائف نہیں ہیں بلکہ اس سے راضی بھی ہیں ۔ نماردئہ عصر رواں اس کو سنتے ہیں اور اپنے دلوں میں اس کے خلاف کسی ادنیٰ سی چبھن، ہلکی سی خلش، خفیف سی تشویش اور معمولی سا اضطراب تک بھی محسوس نہیں کرتے بلکہ دامے، درمے، قدمے، سخنے، درپردہ اس کی حمایت کرتے ہیں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اس 'خالص قرآنی دعوت' دینے والوں پر نہ کبھی زمین تنگ ہوئی، نہ اُنہیں اس دعوت کی خاطر ترکِ وطن کرنا پڑا۔ نہ اُن کے راستے مں کبھی شعب ِابی طالب کی گھاٹی آئی، نہ کبھی پیروانِ 'دعوتِ قرآنی' کو قید و بند کے مصائب کاشکار ہونا پڑا۔ نہ کبھی پھانسی کی رسی ان کی گردن تک پہنچی۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ یہ 'خالص قرآنی دعوت' اپنے علمبردار 'مفکر قرآن' کو نظامِ باطل کی چاکری اور خدمت ِطاغوت کے ذریعہ 'رزقِ حلال' کا بھی درس دیتی رہی ہے۔

یہ صورتِ حال اس امر کو واضح کرڈالتی ہے کہ حقیقت وہ نہیں جسے ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر واقعی یہ 'خالص قرآنی دعوت' ہوتی تو اَسود و اَحمر، اسے مٹا ڈالنے پر تُل جاتے۔ فرعون و نمرود اپنے لاؤ لشکروں کے ساتھ اس کا تعاقب کرتے۔ طاغوتی طاقتیں اس 'دعوتِ حق' اور اس کے علمبرداروں کوکچل ڈالنے کے لئے اپنے جملہ ذرائع و وسائل جھونک دیتیں اور دنیا کا ہر باطل اقتدار اس کا گلا گھونٹ دینے سے کم کسی بات پر راضی نہ ہوتا لیکن دیکھا یہ جارہا ہے کہ باطل اقتدار اور طاغوتی طاقتیں اس 'قرآنی دعوت' کو اپنے استحکام کا ذریعہ جانتے ہوئے درپردہ اس کی حمایت پر کمربستہ ہیں ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ عالم اسلام کے علما اس 'خالص قرآنی دعوت' کے علمبردار پر کفر کے فتوے عائد کررہے ہیں اور خالص کفر کے علمبردار نہ صرف یہ کہ 'مفکر ِقرآن' کی تعریف و تحسین کرتے ہوئے اُنہیں خراجِ تہنیت اور گل ہائے عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ وہ ایسی کتابیں بھی لکھ رہے ہیں جو اس 'خالص قرآنی دعوت' کو دنیا کے دور دراز گوشوں تک متعارف کرانے کا موجب بن چکی ہیں ۔ i

بہرحال علماے کرام نے وقار و متانت، شائستگی و سنجیدگی اور دلیل و برہان کے ساتھ پرویز صاحب کی مخالفت کی لیکن خود اُنہوں نے جوابی مخالفت میں جو اسلحہ استعمال کئے، وہ سب وشتم، دشنام طرازیوں ، افترا پردازیوں ، تہمت تراشیوں ، بہتان طرازیوں اور کذب بیانیوں کے اسلحہ تھے جس پر میری متذکرہ بالا کتاب کا ایک ایک لفظ شاہد ہے۔

مخالفت ِ علما میں پرویزی حیلے
چونکہ 'مفکر قرآن' کا تصورِ اسلام علماے کرام کے تصورِ اسلام سے نہ صرف مختلف بلکہ متضاد بھی تھا، اس لئے اُنہوں نے علماے کرام کی مخالفت کے لئے ایک ایسی ٹیکنیک اختیار کی جس کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ کہ علما حضرات کو خوب کثرت سے نشانہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لئے اُنہوں نے مُلا کا لیبل تراشا اور سارے جہاں کی نفرتوں کو اسی لفظ میں سمیٹتے ہوئے ہر اس عالم دین پر اس لیبل کو چپکا دیا جو قرآن و سنت کا داعی تھا۔

پرویزی مخالفت ِعلما کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ قرآن وسنت پر مبنی اسلام کو اُس معیار پر پرکھا جائے جو تہذیب ِمغرب نے اس کے لئے طے کررکھا ہے اور ساتھ ہی حدیث وسنت کو بھی نشانہ بناکر اسے مشکوک قرار دیتے ہوئے ساقط الاعتبار ٹھہرایا جائے۔

جہاں تک پہلے کا تعلق ہے، 'مفکر قرآن' نے لیبل تراشی کرتے ہوئے لفظ 'ملا' کا پیکر ان الفاظ میں پیش کیا ہے :
1. 'ملا' کے پیکر کا خمیر ہی نفرت اور خوف سے مرکب ہوتا ہے او ریہ خصوصیت مسلمانوں کے 'ملا' ہی کی نہیں ، بلکہ دنیا کے ہر مذہب کے 'ملا'کی ہی خصوصیت ہوتی ہے۔ 12
2. 'ملا' کے پاس نہ علم ہوتا ہے، نہ بصیرت؛ نہ دلائل ہوتے ہیں ، نہ براہین۔ 13
3. حقیقت یہ ہے کہ یہ حضرات قرآن سے قطعاً نابلد ہوتے ہیں اور جس چیز کو یہ قرآن کہہ کرپیش کرتے ہیں ، اس میں قرآن کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ 14
4. یہ لوگ قرآن کے عملاً منکر ہوتے ہیں ۔ 15
5. قرآن 'ملا' کی سمجھ میں آہی نہیں سکتا۔ 16

سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں 'مفکر ِقرآن' صاحب کا خاص طور پریہ اعلان تھا:
''پاکستان میں ملائیت کے منظم ادارے کے سرخیل سید ابوالاعلیٰ مودودی ہیں ۔'' 17
لیکن ع یہی دلسوز ہے جو رہ چکا ہے دل نشین برسوں

انہی سیدابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ رحمة اللہ علیہ کے متعلق کبھی طلوع اسلام نے بقلم پرویز یہ بھی لکھا تھا:
''خدا تعالیٰ نے مولانا موصوف کو اس زمانہ میں اسلام کی خدمت اور ملت ِکی تجدید کے لئے بہرۂ وافر عطا فرمایاہے اور وہ شرحِ صدر، وہ اسلامی بصیرت اور تفقہ فی الدین دیاہے جو مغربی الحاد کے دور میں ہر چیز کا صحیح اِدراک کرکے قرآنِ کریم کی روشنی میں ہر مرض کا تریاق مہیا کرتا ہے۔ 'ترجمان القرآن' کاموضوع قرآنِ حکیم ہے۔ ایک طرف وہ قرآن حکیم کی روشنی میں تاریک دلوں کو منور کررہا ہے اور دوسری طرف فرنگی اور مغربی الحاد کے خلاف مسلسل جہاد کرکے مغربی فلسفہ کا رعب دلوں سے نکال رہا ہے۔ قرآنِ حکیم کو منشاے الٰہی کے مطابق صحیح سمجھنا، صحیح اُصولوں پر اس کی نشرواشاعت کرنا، اسلام کے خلاف باطل سرچشموں کا پتہ لگانا او ر اُن کو عقل سلیم کی حجت سے بند کرنا، اسلام کے مقابلہ میں بڑی سے بڑی مخالفت سے مرعوب نہ ہونا، ذہنیتوں میں یکسر انقلاب پیدا کردینا اور وقت کی مناسبت سے جملہ مشکلات کا حل قرآنِ کریم سے پیش کرنا وغیرہ،وہ خصوصیات ہیں جو بحمداﷲ رسالہ 'ترجمان القرآن' کو حاصل ہیں ۔ ہندوستان میں آج کل سیاست کے نام سے جو گمراہی پھیلائی جارہی ہے، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اس سے غافل نہیں ہیں او رکتاب وسنت کی روشنی میں مسلمانوں کی سیاسی راہنمائی بھی فرما رہے ہیں ۔'' 18

امر واقعہ یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کی نظر اپنی وسعت ِمطالعہ کے لحاظ سے جدید و قدیم پرحاوی تھی۔ ان ہی خوبیوں او رکمالات کے باعث وہ ایک ایسی نمایاں اور قدآور ہستی تھے جو اُنہیں ممتاز و ممیز کئے ہوئے تھی۔ ان فضائل و کمالات کا پاکستان بننے سے قبل پرویز صاحب کو بھی اعتراف تھا لیکن قیامِ پاکستان کے بعد جب اُنہوں نے نیا اسلام وضع کیا اور مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ سے اس نوساختہ اسلام کے انکار کا جرم سرزد ہوا تو 'مفکر ِقرآن' ان کے شرف و امتیاز کو خاک میں ملانے کے لئے یہ کہنے لگے :
''حقیقت یہ ہے کہ مولوی نہ کسی شخص کا خطاب ہے او رنہ کسی زمانہ سے مختص۔یہ ایک ذہنیت ہے۔ پرانا مولوی جو کچھ کہے گا اور کرے گا، ماڈرن مولوی اس سے بہتر مظاہرہ نہیں کرسکتا۔ البتہ اس کے ہاں انگریزی کے بعض الفاظ کا استعمال ہوگا۔'' 19

''بعض لوگ یہ کہا کرتے ہیں کہ یہ ذہنیت جس کا اوپر ذکر کیا گیاہے، پرانی وضع کے ملاؤں کی ہے،نئے دور کے'علماے کرام'اس قسم کے نہیں ہیں ،لیکن قدیم و جدید کی یہ تمیز محض ان کی خوش فہمی ہے۔مُـلَّا مُـلَّا ہی رہتاہے،خواہ وہ دورِ قدیم کا ہو یا عصر جدید کا۔اصل چیز وہ قوت ہے جو مذہب کے نام سے اُسے حاصل ہوتی ہے۔'' 20

اور یہ 'ماڈرن مولوی' اور مُـلَّا کا لقب تو مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ کی بابت تھا، اب ان کی جماعت (جماعت اسلامی) کے متعلق بھی ان کا فتویٰ ملاحظہ فرمائیے :
''ان (حکمرانوں ) میں ایسے تھے جو جانتے تھے کہ صحیح اسلام کیا ہے؟ لیکن وہ ملاکے پراپیگنڈے سے ڈرتے تھے، اس لئے اسے کھلے بندوں ، زبان پر یا عمل میں لانے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔مُـلَّا سے اس ضمن میں بنیادی طور پر مرادجماعت ِاسلامی ہے۔'' 21

مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ ا وران کی جماعت پر 'ملا' کا لیبل لگادینے کے بعد 'مفکر قرآن' صاحب، جماعت اسلامی سے وابستہ افراد اور ان کے اندازِ تحریر اور اُسلوبِ نگارش کو بایں الفاظ نشانہ بناتے ہیں :
''ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اگرچہ تعلیم یافتہ کہلاتا ہے،لیکن ابتدائی تعلیم وتربیت او رماحول کے اثرات اور اپنی فکری صلاحیتوں کے فقدان کے باعث مذہب کے معاملہ میں بالکل عوام جیسا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جس کا ظاہر ماڈرن ہے، لیکن باطن، اسی دقیانوسی ملائیت کا حامل ۔ ۔ ۔ یہ جماعت، دقیانوسی ملائیت کی پیکر ہے لیکن اُنہوں نے اُسلوبِ نگارش ماڈرن رنگ کا اختیار کررکھا ہے۔ چنانچہ یہ طریق پرانے مولویانہ طریق سے مختلف ہے۔ اس لئے یہ لوگ محض اُسلوبِ بیاں اور طریق استدلال کے فرق کی بنا پر یہ خیال (Impression)عام کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کا پیش کردہ مذہب ملائیت سے مختلف ہے۔اس سے وہ تعلیم یافتہ طبقہ یعنی سوٹ پہننے والاملا ان کا ہم نوا ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے ان کی ظاہری ماڈرنز م بھی قائم رہ جاتی ہے اور قلبی ملائیت کی بھی تسکین ہوجاتی ہے۔'' 22

اس سے دو باتیں بالکل واضح ہیں :
جاہلی عصبیت
اوّلاً  یہ کہ 'مفکر قرآن' صاحب کے نزدیک مُـلَّا ہر وہ شخص ہے جو ان کے فکر کو قبول نہیں کرتا، قطع نظر اس کے کہ وہ جدید تعلیم یافتہ ہے یا نہیں ۔ وہ اپنی فکر سے بیگانہ افراد کو خواہ ان کا اُسلوبِ تحریر جدید انداز کا ہو یا قدیم، اس خود ساختہ لیبل کا مستحق گردانتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہر اس شخص کو جو اُن کا فکر نہیں اپناتا، اُنہیں اس لیبل کے تحت تضحیک و استہزا اور توہین کا نشانہ بنایا جائے۔ اس کے برعکس ہر وہ شخص مُـلَّا نہیں ہے جو قرآن کے نام پر ان کے خود ساختہ دین کو قبول کئے ہوئے ہے۔ خواہ وہ جدید تعلیم پائے ہو یا قدیم۔ یہ وہی ٹریڈ یونین ازم ہے جس کے تحت وہ قرآن کے نام کی آڑ میں جاہلانہ عصبیت کا شکار ہیں اور اپنے گروہ سے باہر ہر فرد کو مُـلَّا گردانتے ہوئے کشتنی و سوختنی قرار دیتے ہیں ۔
'کرو خود، مگر الزام دوسروں پر لگاؤ'

ثانیاً یہ کہ اپنے مخالفین کے لئے لیبل تراش کر اس کے تحت اِنہیں مطعون کرنا خود 'مفکر قرآن' (اور منکرین حدیث) کی وہ قبیح حرکت ہے جسے بہتاناً وہ اپنے فکری حریفوں کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ 'کرو خود، مگر الزام دوسروں پر لگاؤ' کا رویہ اپنانا، 'مفکر ِقرآن'کی ایک مستمر پالیسی تھی* تاکہ ان کی اپنی ایسی عادت چھپی رہے اور لوگوں کی توجہ اس شخص کی طرف مبذول ہوجائے جس کی طرف وہ اُسے منسوب کردیا کرتے تھے۔ اب یہاں یہ ملاحظہ فرمائیے کہ لیبل تراشی کی جو حرکت وہ خود علماے کرام کے خلاف کررہے ہیں ، ٹھیک اسی حرکت کا مرتکب وہ زعماے دین کو قرار دیتے ہیں اور یہ لکھتے ہیں :
''مُـلَّا کے پاس نہ علم ہوتا ہے، نہ بصیرت؛ نہ دلائل ہوتے ہیں ،نہ براہین۔ لیکن اس کے پاس ایک خطرناک حربہ ہوتا ہے جس کا جواب فریق مخالف کے پاس کچھ نہیں ہوتا۔ یہ حربہ ہوتا ہے کفر کا فتویٰ یا لیبل۔ وہ دلائل کی بجائے ایک لیبل تراشتا ہے اور فریق مقابل پر چسپاں کردیتا ہے۔'' 23

چنانچہ علماے کرام نے جو لیبل تراشا اور (بقولِ پرویز) اُن پر چسپاں کیا، وہ ہے :منکر سنت اور منکر حدیث ہونے کا لیبل :
''یہ حضرات طلوعِ اسلام کے پیش کردہ قرآنی دلائل کا جواب تو دے نہیں سکتے، اس لئے اُنہوں نے اس کے خلاف وہی حربہ استعمال کیا ہے جسے یہ اپنے مخالفین کے لئے شروع سے استعمال کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اُنہوں نے مشہور کردیا کہ طلوعِ اسلام، منکر حدیث ہے اور اس طرح عوام کے جذبات کو اس کے خلاف مشتعل کردیا۔'' 24

امر واقعہ یہ ہے کہ 'مفکر ِقرآن' کو منکر ِحدیث یا منکر ِسنت کہنا، نہ کوئی لیبل تراشی ہے اور نہ الزام بازی، نہ کوئی طنز ہے اور نہ کوئی گالی، بلکہ یہ صرف امر واقعہ کا اظہار ہے، کیونکہ یہ لوگ خود حجیت ِحدیث کا یہ کہہ کر انکار کردیتے ہیں :
''حدیث کا صحیح مقام دینی تاریخ کا ہے۔ اس سے تاریخی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں ، لیکن دین میں حجت کے طور پر وہ پیش نہیں کی جاسکتی ۔'' 25

اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان لوگوں کو 'منکر ِحدیث یا منکر سنت' کہنا ہر گز لیبل سازی نہیں ہے، لیکن علما پر لیبل سازی کا الزام، بہ تکرارِ بسیار صرف اس لئے دہرایا جاتا ہے کہ مُـلَّا اور ملائیت کے جو لیبل وہ خود تراش چکے ہیں ، ان کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول نہ ہوسکے۔

علما کے خلاف فتواے پرویز
لیکن ہمارے 'مفکر ِقرآن' صاحب اس سے آگے بڑھ کر خود ایک لیبل، بصورتِ فتویٰ تراشتے ہیں اور علماے کرام کو 'قرآن سے جاہل' ہی نہیں بلکہ 'منکر ِقرآن' بھی قرار دیتے ہیں ۔ چنانچہ وہ صرف اپنی فکر ہی کو قرآنی فکر قرار دیتے ہوئے اپنے مخالف علما کے متعلق یہ لکھتے ہیں :
''لیکن اس آواز کی مخالفت تمام منکرین قرآن کی طرف سے ہوگی۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مختلف فرقوں کے وہ علما، جو کل تک ناف پر یا چھاتی پر ہاتھ باندھنے کے اختلاف پر، باہمدگر دست و گریباں ہوا کرتے تھے، قرآن کی اس آواز کے خلاف متحدہ محاذ بناکر کھڑے ہوگئے ہیں ۔'' 26

اور یتیم پوتے کی وراثت کے مسئلہ کی آڑ میں ، مولانا مودودی رحمة اللہ علیہ پر بطور خاص 'منکر ِقرآن' ہونے کا فتویٰ بایں الفاظ رسید کیا:
''طلوعِ اسلام نے اپنی سابقہ اشاعت میں قرآنی دلائل سے یہ ثابت کیا کہ یتیم پوتا اپنے دادا کی وراثت سے محروم نہیں ہوسکتا۔ اس کے جواب میں منکرین قرآن کی طرف سے جو جواب شائع ہوا ہے، وہ ملاحظہ فرمائیے۔  27

چونکہ اس کے بعد جس جواب کو مقتبس کیا گیا ہے، وہ مولانامودودی رحمة اللہ علیہ ہی کا جواب ہے، اس لئے یہ فتویٰ یا لیبل اُن ہی پر چپکایا گیا ہے۔ چنانچہ پرویز صاحب علماے کرام کے دین اسلام کو (جو قرآن و سنت پر مبنی ہے) زمانۂ قبل از نزولِ قرآن کے اہل کتاب کا مذہب قرا ر دیا کرتے تھے، یا اسے ایرانیوں کا تراشیدہ 'عجمی اسلام' کہا کرتے تھے اور خود ان علما کو اپنے 'قرآنی فتویٰ'کی روشنی میں 'منکر قرآن' قرار دیا کرتے تھے، اس لئے وہ ان سے ایسا اندازِ تخاطب اختیار کیا کرتے تھے جو کفار ہی کے لئے سزاوار ہے۔ چنانچہ ایک مقام پر علما کے لئے لفظ 'مولانا' کے استعمال کو موہم شرک قرار دیتے ہوئے، یہی انداز اختیار کیاگیا ہے :
''کیا ہی اچھا ہو کہ اپنے آپ کو علماے دین کہلانے والے اس لفظ کا سوچ سمجھ کر استعمال کریں ، والسلام علی من اتبع الھدیٰ'' 28
اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مختصر سی گفتگو اُس فتواے کفر پربھی ہوجائے جو علماے کرام کی طرف سے 1962ء میں پرویز صاحب پرعائد کیا گیا تھا :

پرویز کے خلاف فتواے کفر
یہ فتویٰ تقریباً ایک ہزار علما کی طرف سے جاری ہوا تھا۔ اسے 'مفکر ِقرآن' صاحب کی کفر کی حد تک پہنچی ہوئی فکری اور اعتقادی گمراہیوں کی پوری پوری چھان بین اور وضاحت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ خود مفتی محمد شفیع صاحب نے اس وضاحت کو بایں الفاظ پیش کردیا تھا :
''جہاں تک آپ کے موقف و مسلک کے خلاف دلائل و براہین کا تعلق ہے، متعدد اہل علم، عرصۂ دراز سے وقتاً فوقتاً شرح و بسط کے ساتھ اور مختلف عنوانات سے اُنہیں پیش کرکے آپ کو متوجہ کرنے کی سعی کرتے رہے ہیں ۔ یہاں تک کہ اس موضوع پر معتدبہ لٹریچر جمع ہوگیا ہے جس سے آپ ناواقف نہ ہوں گے۔ میری جانب سے ان مسائل پر بحث و مباحثہ اور ردّ وقدح کا ایک نیا سلسلہ نہ کچھ نتیجہ خیز معلوم ہوتا ہے، نہ میرے قویٰ اور مشاغل اس کی چنداں اجازت دیتے ہیں ۔ اگر ان مسائل پر ہر اعتبار سے ایسے مؤثر اور مدلل انداز میں ، جو طالب ِحق کے لئے کافی ہونا چاہئے، حق کی وضاحت نہ ہوسکی ہوتی تو شائد اپنی تمام معذوریوں کے باوجود اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اپنی بصیرت و بضاعت کی حد تک ان مسائل پر جو آپ نے اس مکتوب میں چھیڑے ہیں ، ضرور کچھ لکھتا، لیکن نہ اس کی افادیت نظر آتی ہے، نہ ضرورت۔'' 29

دیگر علماے کرام کے علاوہ سب سے آخری وضاحت جس نے پوری طرح پرویز صاحب (اور ان کے مقلدین) کی کافرانہ ضلالتوں کو نہ صرف بے نقاب کردیا تھا بلکہ مکمل طور پر اتمامِ حجت بھی کرڈالی تھی، سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمة اللہ علیہ کی طرف سے تھی۔ جو 'ترجمان القرآن' ستمبر 1961ء کے 'منصب ِرسالت نمبر' پرمشتمل تھی۔

'مفکر ِقرآن' کا ردّعمل
جناب پرویز صاحب کا پہلا ردّعمل یہ تھا کہ جن عبارتوں پر فتواے کفر کی اساس تھی، ان کے علاوہ اُنہوں نے کچھ ایسی اپنی عبارتیں پیش کیں جن پر اُن کے بقول فتویٰ عائد نہیں ہوتا اور اس طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ مفتیانِ کرام نے جملہ عبارات کو پیش نظر رکھ کر دیانتداری سے فتویٰ نہیں دیا جبکہ اصل حقیقت اس عذرِلنگ کی یہ ہے کہ'مفکر قرآن' صاحب کا پورا لٹریچر مداری کی ایسی پٹاری ہے جس میں تضادات کا وافر ذخیرہ ہر وقت موجود رہتا ہے اور 'مفکر قرآن' صاحب جس وقت جس چیز کو مفید مطلب پاتے ہیں ، پیش کردیا کرتے ہیں ۔ چنانچہ مفتی صاحب کو پرویز صاحب نے جو خط لکھا اس میں یہ شکایت کی تھی کہ
''میری تحریروں میں سے ایک ایک، آدھ آدھ فقرہ، اِدھر اُدھر سے اَخذ کرلیا گیا ہے اور اُنہیں مکمل اقتباسات کہہ کر پیش کردیا گیا ہے۔ پھر ان منتشر ٹکڑوں سے جو مفہوم مرتب کیا گیا ہے، وہ بے حد غلط اور گمراہ کن ہے۔'' 30

مفتی صاحب نے اسے علماے کرام پربہتان قرار دیا اور مزید یہ لکھا کہ
''آپ نے پھر خلط ِمبحث کی سعئ لاحاصل شروع کردی، اور ایک طویل مراسلہ لکھ مارا، جس کا زیادہ سے زیادہ حاصل یہ ہے کہ آپ نے اپنی ہزاروں صفحات پر پھیلی ہوئی تصانیف میں ، متعدد جگہ ذاتِ باری تعالیٰ کے متعلق صحیح تصور بھی پیش کیا ہے۔ معلوم نہیں اس کی ضرورت آپ کو کیوں لاحق ہوئی، اس لئے کہ علما نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ ساری عمر میں آپ نے اپنی تحریروں میں کوئی بات یا کوئی عبارت صحیح لکھی ہی نہیں ۔ سوال تو یہ ہے کہ اگر سو جگہ، ایک شخص بالکل صحیح بات کہے اور دس بیس جگہ بالکل غلط اور کافرانہ عقائد کااظہار کرے تو کیا محض یہ امر کہ اس نے متعدد مرتبہ صحیح بات کہی تھی، اس کو غلط تصورات رکھنے یا شائع کرنے کی ذمہ داری سے بری قرار دے دے گا؟ آخر مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی تو متعدد جگہ اپنے آپ کو غیر نبی ہی قرار دیا ہے، صرف چند ہی مقامات ایسے ہیں جہاں اُس نے نبوت کا دعویٰ پیش کیا ہے۔'' 31

فتویٰ کی اتھارٹی
فتواے کفر پر اپنے ردّعمل ہی کے سلسلہ میں 'مفکر ِقرآن' صاحب نے علماے کرام کے خلاف یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ
''ان حضرات (یا کسی اور) کو یہ اتھارٹی کہاں سے مل جاتی ہے کہ وہ کسی کے کفر اوراسلام کا فیصلہ کردیں ؟ علما کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے کسی مذہبی مدرسہ سے کچھ کتابیں پڑھی ہیں ، تو کیا ان کتابوں کے پڑھ لینے سے کسی کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ جسے چاہیں کافر قرار دے دیں ۔'' 32

لیکن معلوم نہیں کہ ہمارے 'مفکر ِقرآن' صاحب کو کسی مذہبی مدرسہ سے کچھ کتابیں پڑھے بغیر ہی یہ اَتھارٹی کہاں سے مل گئی کہ وہ علماے کرام پر 'منکرین قرآن' ہونے کا فتویٰ رسید کریں اور ان کے مبنی برقرآن و سنت دین کو دورِ نزول قرآن سے قبل اہل کتاب کا مذہب قرار دیں ، اور کراچی کی سابقہ بزمِ طلوعِ اسلام کے ان اراکین پر 'منافق' ہونے کا فتویٰ عائد کریں جن کومیزان پبلی کیشنز کے پھڈے میں اس دن بزمِ طلوعِ اسلام سے دربدر اور جلاوطن کردیا گیاتھا جسے طلوعِ اسلام کی تاریخ میں خود 'مفکر قرآن' صاحب نے 'یوم الفرقان' قرار دے رکھا ہے۔ کیا اُنہوں نے میاں عبدالخالق اور حافظ برکت اللہ وغیرہ کے سینوں کو چاک کرکے یہ دیکھ لیا تھا کہ وہاں نفاق ہی نفاق پایا جاتاتھا؟ یا اپنے ہم نام مرزا غلام احمد آنجہانی، متنبّی دورِ حاضر کی طرح اُنہیں بھی وحی پانے کا دعویٰ ہے؟ اگر یہ دونوں باتیں ہیں تو پھر کیا وہ 'مزاج شناس خدا' تھے جس کی بنا پر 'منافقین قرآن' کے باطن ان پرروشن اور بے نقاب ہوچکے تھے؟

فتویٰ اور حکومتی ذمہ داری
علماے کرام کی طرف سے جاری ہونے والے فتویٰ پر 'مفکر ِقرآن' کا تیسرا ردّعمل مندرجہ ذیل الفاظ میں مذکور ہے :
''باقی رہے مفتی، سو اِسلامی سلطنت میں یہ ایک منصب تھا جس پر کوئی شخص، حکومت کی طرف سے تعینات ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی مفتی نہیں ہوتا تھا۔ جس طرح آج کل ایڈووکیٹ جنرل یا اٹارنی جنرل حکومت کی طرف سے تعینات ہوتے ہیں اور ہر وکیل اپنے آپ کو نہ ایڈووکیٹ جنرل قرار دے سکتا ہے اور نہ ہی اس منصب کے فرائض سرانجام دے سکتا ہے۔ مفتی کی حیثیت مشیر قانونی کی ہوتی تھی۔ اس کاکام صرف مشورہ یا رائے دینا تھا، فیصلہ کرنانہیں تھا۔ فیصلہ حکومت خود کرتی تھی یا اس کی طرف سے مقرر کردہ قاضی۔ اب نہ وہ حکومتیں باقی ہں ، نہ ان کی طرف سے مقررہ کردہ مفتی لیکن یہ حضرات ابھی تک اپنے آپ کو ان ہی معنوں میں مفتی سمجھتے ہیں اور صرف مفتی کے فرائض ہی انجام نہیں دیتے بلکہ قاضی کی حیثیت سے فیصلے بھی صادر کرتے ہیں ۔'' 33

کیا وابستگانِ طلوعِ اسلام ہمیں یہ بتانے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ ان کے 'بابا جی' کی طرف سے 'انکارِ قرآن' اور 'نفاق اعتقاد' کے یہ فتوے کس اتھارٹی کی بنا پرصادر ہوئے تھے؟ کیا وہ اس وقت خود حکومت تھے؟ یا حکومت پاکستان کی طرف سے صاحب ِاختیار ہستی تھے جنہیں حکومت نے اس کام کے لئے تعینات کیاتھاکہ وہ لوگوں کے دلوں میں جھانک کر ان کے متعلق ایمان و کفر، یا نفاق و اخلاص کے فیصلے صادر فرمایا کریں ۔(جاری ہے)

حوالہ جات

1. طلوع اسلام، اپریل، مئی 1958ء،ص 60
2. طلوع اسلام، دسمبر1957ء ،ص 7
3. طلوع اسلام، دسمبر1980ء ،ص 61
4. طلوع اسلام،جولائی 1959ء،ص 73
5. طلوع اسلام، ستمبر 1953ء،ص 63
6. طلوع اسلام، مارچ 1954ء،ص 52
7. طلوع اسلام، اگست 1980ء،ص 3
8. طلوع اسلام، مئی جون 1962ء،ص 159
9. طلوع اسلام، جنوری 1959ء،ص 29
10. طلوع اسلام، جولائی 1959ء ،ص 72
11. مقام حدیث:ج2ص 384
12. طلوع اسلام، مارچ 1967ء ،ص 13
13. طلوع اسلام 5 فروری 1955ء،ص 4
14. طلوع اسلام، جون 1956ء،ص 6
15. طلوع اسلام، فروری 1953ء،ص 10
16. طلوع اسلام، اکتوبر 1952ء،ص 32
17. طلوع اسلام، فروری 1953ء،ص 15
18. طلوع اسلام، جولائی 1938ء،ص 73
19. طلوع اسلام، مئی 1950ء،ص 29
20. طلوع اسلام، نومبر 1951ء،ص 73
21. طلوع اسلام، مئی 1973ء،ص 8
22. طلوع اسلام، اگستو ستمبر 1952ء،ص 13
23. طلوع اسلام،5 فروری 1955ء،ص 4
24. طلوع اسلام،12 فروری 1955ء،ص 3
25. مقام حدیث: ص 92
26. طلوع اسلام، نومبر 1952ء،ص 8
27. طلوع اسلام،اکتوبر1952ء،ص 58
28. طلوع اسلام، اپریل 1972ء ،صفحہ40
29. طلوع اسلام، اپریل 1962ء،ص 65
30. طلوع اسلام، مئی، جون 1962ء،ص 146
31. طلوع اسلام، مئی، جون 1962ء،ص 146تا 147
32. طلوع اسلام، اپریل 1962ء،ص 55
33. طلوع اسلام، اپریل 1962ء،ص 55

 


 

i.  تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب: 'جناب غلام احمد پرویز، اپنے الفاظ کے آئینے میں


 

مذہبی پیشوائیت ؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ (قسط 2)

مذہبی پیشوائیت؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ (قسط 3)

مذہبی پیشوائیت؛ مذہب ِپرویز کا ایک کھوٹا سکہ (آخری قسط)