میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اسلام آباد میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان تنازع بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ اس اختلاف کی رپورٹیں 20 جنوری کو حکومت ِپاکستان کی طرف سے مسجد امیر حمزہ اوراس سے ملحق مدرسے کو گرانے کے بعد میڈیا میں آنا شروع ہوئیں ۔ لال مسجد کے خطیب کے ایک مبینہ بیان کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد کی طرف سے کچھ عرصے کے وقفے کے ساتھ سات سے زائد مساجد کو گرایا گیا۔ علاوہ ازیں معروف کالم نگار جناب عرفان صدیقی کے28؍جنوری 2007ء کے کالم کے بیان کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ نے جامع مسجد ضیاء الحق، جامع مسجد شکر لال،جامع مسجد منگرال ٹاؤن،جامع مسجد راول چوک،مسجد شہدا، جامع مسجد مدنی،جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو بھی گرانے کے لیے نوٹس جاری کر دیے تھے ۔اسلام آباد انتظامیہ کی طرف سے مساجد و مدارس کوشہید کرنے کی اس مہم کی وجہ سے ملک بھر کے علما ا ور مذہبی حلقوں میں اضطراب اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔علما کے ایک اجلاس میں 'تحریک ِتحفظ مساجد، کے قیام کا اعلان ہواجس میں جامعہ حفصہ کی طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کے عزم کا اظہارکیااورحکومت کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے جامعہ حفصہ سے ملحق دو بڑے کمروں پر مشتمل ایک چلڈرن لائبریری پر قبضہ کر لیا ۔

25؍جنوری کی اخباری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں تنظیم المدارس کی طرف سے مساجد شہید کرنے کے حکومتی اقدام کے خلاف ایک ریلی کاانعقاد کیا گیا جس میں اتحاد تنظیم مدارس کے صدر مولا نا سلیم اللہ خان،متحدہ مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری جنرل عبد الغفور حیدری، مولانا ڈاکٹر سرفراز نعیمی، رکن قومی اسمبلی مولانا عبد المالک وغیرہ نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حکومت کے مساجد کو شہید کرنے کی مہم کو ہدفِ تنقید بنایا۔

27 جنوری کو لال مسجد کے مہتم مولانا عبد العزیز صاحب کی طرف سے اخبارات میں ایک بیان شائع ہوا کہ جس میں حکومت سے چند مطالبات کیے گئے تھے۔ ان مطالبات میں گرائی جانے والی مساجد کی تعمیر نو،ملک میں فحاشی کلچرکا خاتمہ، جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو بھیجے گئے حکومتی نوٹس کی واپسی اور پرویز مشرف کامساجد گرانے کے حوالے سے اللہ اور قوم سے معافی مانگنا شامل تھا۔مولانا نے مزید یہ بھی کہا کہ طالبات کا چلڈرن لائبریری پر اس وقت تک قبضہ برقرار رہے گا جب تک ملک کے اندر اسلامی نظام نافذ نہیں کیا جاتا۔

مولانا کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ نے شروع دن سے مساجد کی تعمیر نو کے علاوہ اپنے مطالبات میں فحاشی کے خاتمے اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی جو کہ ایک مستحسن امر ہے ۔
29؍ جنوری کی اخباری اطلاعات کے مطابق، جامعہ حفصہ کی طالبات نے مسجد کے احاطے میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیاجس میں طالبات کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ جان چلی جائے، ہم اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یکم فروری کو متحدہ مجلس عمل کے صدرجناب قاضی حسین احمد کا یہ بیان اخبارت میں شائع ہوا:
''ذبح ہونے کو تیار ہوں ،مسجد یا مدرسے کو گرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔جامعہ حفصہ کی طالبات سے اظہار یک جہتی کے لیے قوم چلہ کرے۔''

3؍فروری کے اخباری بیانات کے مطابق اسلام آباد پولیس نے کریک ڈاؤن کر کے مدارس کے ۱۲۵؍ اساتذہ اور طلبا کو گرفتار کر لیا۔نیزجامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو اپنے تجاوزات ختم کرنے کے لیے ۲۴ گھنٹے کا نوٹس دے دیا۔

5؍ فروری کی اخباری اطلاعات کے مطابق جامعہ حفصہ کی طالبات نے لائبریری کا قبضہ چھوڑنے سے انکار کر دیا جبکہ لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کا یہ بیان شائع ہوا کہ اگر طالبات کے خلاف کوئی کاروائی کی گئی تو اسلام آباد میں لاواپھٹے گا۔

10 ؍فروری کی اخباری اطلاعات کے مطابق،چلڈرن لائبریری پر جامعہ حفصہ کے قبضے کے حوالے سے علما اور حکومت کے مابین ہونے والے مذاکرات کی ناکامی کے بعداسلام آباد پولیس نے جامعہ حفصہ پر کریک ڈاؤن کی تیاریاں شروع کر دیں ،رینجرز نے گشت کرنا شروع کر دیا جبکہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے بھی مدرسہ کی چھت پر پوزیشن سنبھال لی۔

11؍فروری کے اخباری بیانات کے مطابق لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیزنے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بیان دیاکہ ہمیں اُڑانے اور معاملہ فوجی بریگیڈ کے پاس بھجوانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔حکومت نے ہمارے فون کاٹ دیے، میرا موبائل فون چار گھنٹے بند رہا۔اسی طرح حکومت دو سو طالبات کو لائبریری سے بے دخل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنا چاہتی ہے، حالانکہ طالبات نے لائبریری پرقبضہ صرف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے کیا تھا۔

12؍ فروری کی اخباری اطلاعات کے مطابق لائبریری سے طالبات کا قبضہ ختم کروانے کے لیے علما اور حکومت کے مابین مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔ جس پر انتظامیہ نے ویمن پولیس، ایف سی اور رینجرز طلب کر لی،جامعہ حفصہ نے بھی فارغ التحصیل طالبات کو بلوا لیا۔

13؍فروری کی اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر داخلہ جناب آفتاب احمد شیر پاؤ کی رہائش گاہ پر حکومت اور علما کے درمیان تقریبا چار گھنٹے مذاکرات ہوتے رہے جس کے نتیجے میں علما،سی ڈی اے اور انتظامیہ کے نمائندوں پر مشتمل آٹھ رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔ علاوہ ازیں مسجد امیر حمزہ کی دوبارہ تعمیر کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کیا گیا۔

18؍ فروری کے اخباری بیانات کے مطابق ضلعی حکومت نے علماے کرام کی وساطت سے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کو لائبریری کا قبضہ چھوڑنے کے لیے۴۸ گھنٹے کا الٹی میٹم دے دیاجبکہ لال مسجد کی انتظامیہ نے مطالبات پورے ہونے تک قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔

16؍ فروری کی اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم جناب شوکت عزیز نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم جب چاہیں لائبریری کا قبضہ ختم کرا سکتے ہیں ، قبضہ چھڑانا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہم یہ چاہتے ہیں کہ معاملہ افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے حل ہو، تاکہ بچیوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

9؍ مارچ کی اخباری اطلاعات کے مطابق جناب پرویز مشرف نے اسلام آباد میں یومِ خواتین کے موقع پر کنونشن سنٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ لال مسجد میں خواتین نے حکومت کو چیلنج کیا ہے۔ہمیں کمزور نہ سمجھا جائے۔ مجھے بتایا گیاہے کہ وہ خواتین خود کش حملے کے لیے تیار ہیں لیکن میں ڈرنے والا نہیں ہوں ۔ میں اندر جا کر لیڈ کرنے کو تیار ہوں لیکن کیا ادھر جا کر عورتوں کو ماریں ؟ مسجد کو اُڑا دیں ؟

تنازع کا دوسرا مرحلہ اور آنٹی شمیم کے واقعے کی اصل حقیقت
درمیان میں کچھ دن فریقین کی طرف سے خاموشی رہی لیکن25؍مارچ کوجامعہ حفصہ کی طالبات اور لال مسجد کے طلبا کی طرف سے آنٹی شمیم نامی ایک عورت اور اس کی بہو اور بیٹی کے جامعہ حفصہ منتقلی کا ایک واقعہ ایسا ہواکہ جس نے ا س تنازع کو ایک دفعہ پھر بھڑکادیا ۔آنٹی شمیم کے واقعے کا حقیقی پس منظر کیا ہے؟ اس بارے میں ہم لال مسجد کی انتظامیہ کا وہ بیان یہاں نقل کر رہے ہیں جو کہ لال مسجد کی ویب سائٹ پر 26؍ مارچ کی پریس ریلیز کے حوالے سے موجود ہے :
''لال مسجد کے طلبہ نے فحاشی و عریانی اور بدکاری کے اڈّوں کے خلاف اپنی مہم تیز کرتے ہوئے مختلف بازاروں اور مختلف علاقوں کے دورے شروع کر دیے جس میں میلوڈی، آبپارہ ودیگر مارکیٹیں شامل ہیں ۔ طلبہ نے ویڈیو سنٹروں پہ جا کر ان کو پیار ومحبت سے اس کام کو چھوڑنے کے لیے کہا تو الحمد للہ سب نے اس کام کو چھوڑنے کا وعدہ کیا۔گذشتہ روز طلبا کو آبپارہ کے کچھ لوگوں نے یہ اطلاع دی کہ یہاں آنٹی شمیم نامی خاتون اپنے گھر میں بد کاری کا اڈّہ چلا رہی ہے جس کے بعد مشورے سے یہ ترتیب قائم کی گئی کہ مردوں کا اندر جانا ٹھیک نہیں ہے، اس لیے کچھ طالبات بمع معلّمات اندر جائیں گی اور طلبہ باہر کھڑے رہیں گے۔تفصیلات کے مطابق تقریباً دن کے ساڑھے بارہ بجے ایک گاڑی میں طلبہ، دوسر ی گاڑی میں معلّمات بمع طالبات وہاں پہنچیں ۔ طلبہ باہر کھڑے رہے۔ محلے کے آتے جاتے لوگوں نے نے بڑی خوشی کا اظہار کیاکہ ہم تو اس اڈّے سے بہت تنگ تھے اور محلے والوں نے یہ بھی بتلایا کہ یہاں اوسطاً روزانہ کوئی ۱۵۰ کے قریب مرد آتے ہیں اور کئی بار پولیس بھی اس پر چھاپہ مار چکی ہے لیکن وہ بے بس نظر آتی ہے کیونکہ ان کے تعلقات بہت اونچے لوگوں سے ہیں ۔معلّمات اور طالبات جب اندر پہنچںہ تو اندر کئی نوجوان لڑکیاں فل میک اپ میں تھیں اور برقعوں میں ملبوس اتنی خواتین کو دیکھ کر گھبراہٹ میں ایک لڑکی کمرے سے نیم برہنہ حالت میں نمودار ہوئی۔ طالبات نے اڈّے کی نگران سے کہا: یہ غلط کا م کرنا ٹھیک نہیں ہے، یہ بہنیں اور بیٹیاں آپ کی ہیں ، آپ نے ان لوگوں کو غلط کاموں میں ڈال رکھا ہے۔ اس پر اس عورت نے کہا: میرے ہاتھ بہت لمبے ہیں اور میں کسی سے ڈرتی نہیں ہوں اور میں تم لوگوں کو دیکھ لوں گی۔اس پر طالبات نے کہا کہ وہ بھی سواے اللہ سے کسی سے ڈرنے والی نہیں ہیں اور ہم تو آپ کو پیار ومحبت سے بات سمجھا رہے ہیں اور آپ دھمکیاں دے رہی ہیں ۔ اس نے ایک سوال یہ کیا کہ آپ کو کس نے بتایا؟ تو طالبات نے کہا کہ ہمیں محلے والوں نے بتایا ہے تو اس نے کہا کہ میں محلے والوں سے نمٹ لوں گی۔ طالبات کے واپس آنے کے بعد اس محترمہ کی طرف سے معلّمات کو دھمکی آمیز فون موصول ہونے شروع ہو گئے تو معلّمات نے جواب دیا: آپ اپنے اخلاق و کردار کوتبدیل کریں ، ہم دھمکیوں سے مرعوب ہونے والی نہیں ہیں ، ہم سوائے اللہ سے اور کسی سے نہیں ڈرتیں ۔ اس محترمہ نے بعد ازاں اہل محلہ کو بھی دھمکیاں دیں ۔لال مسجد کے طلبہ نے لال مسجد میں ایک شکایت سنٹر قائم کردیاہے اور ایسے ہی جامعہ حفصہ میں مستوارات کے لیے ایک شکایت سنٹر قائم کر دیا گیا ہے۔ '' 1
یہ وہ پس منظر تھا کہ جس میں آنٹی شمیم کوغالباً ۲۷؍ مارچ کو جامعہ حفصہ کی دو معلّمات، ان کے دو مرد ساتھیوں اور ڈرائیور نے جامعہ حفصہ پہنچایاتھا۔


29؍مارچ:

مبینہ ذرائع کے مطابق پولیس نے جامعہ حفصہ کی دو معلّمات، ان کے دو مرد ساتھیوں اور ڈرائیور کو آنٹی شمیم اغوا کیس میں گرفتارکرلیاجبکہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے لال مسجد کے طلبا نے دوپولیس اہلکاروں او ر دو پولیس کی گاڑیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ رات گئے تک ضلعی حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ میں مذاکرات ہوتے رہے، مذاکرات کے نتیجے میں ضلعی حکومت نے ان دو معلّمات،ان کے دو مرد ساتھیوں اور ڈرائیور کو رہاکر دیاجن پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے جی سکس اسلام آباد سے آنٹی شمیم نامی ایک خاتون،ان کی بیٹی، بہو اورچھ ماہ کی پوتی کوجامعہ حفصہ پہنچا دیا تھا۔لال مسجد کے خطیب نے ان افراد کی رہائی کے بعد دو پولیس اہل کاروں اور موبائل گاڑیوں کو چھوڑ دیا لیکن آنٹی شمیم اور ان کی رشتہ دار خواتین کوتاحال لال مسجدنے اپنی تحویل میں رکھا ۔

30؍مارچ :

مبینہ ذرائع کے مطابق بدکاری کا اڈّا چلانے کے الزام میں محبوس شمیم اختر،اس کی بیٹی اور بہو کواڑھائی دن کی یرغمالی کے بعد لال مسجد کی انتظامیہ نے برقعے پہنا کررہا کر دیا۔ آنٹی شمیم کے سامنے تین آپشن رکھے گئے تھے: ایک یہ کہ ان کے خلاف کسی حکومتی عدالت میں مقدمہ چلا یا جائے گا اور جامعہ حفصہ کی طالبات ان کے خلاف گواہی دیں گی، دوسرا یہ کہ ان کے خلاف لال مسجد کی شرعی عدالت میں مقدمہ چلا یا جائے۔ تیسرا یہ کہ وہ اپنے گناہ کا اقرار کرنے کے بعدتوبہ کر لیں ۔آنٹی شمیم نے تیسرا آپشن قبول کر لیا اور ان کی توبہ کے بعد لال مسجد کی انتظامیہ نے اُنہیں رہا کر دیا۔ آنٹی شمیم نے رہائی کے بعد بیان دیا کہ اُنہوں نے جرم کا اقبال اپنی بیٹی اور بہو کو بچانے کے لیے کیاتھا۔ علاوہ ازیں تھانہ آبپارہ کے ڈیوٹی آفیسر کے بیان کے مطابق لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز غازی اور نائب خطیب مولانا عبد الرشید غازی سمیت اسی نامعلوم طلبا و طالبات کے خلاف مقدمہ درج کر لیاگیا۔

31؍مارچ:

مبینہ ذرائع کے مطابق لال مسجد کے کے خطیب نے اپنے خطابِ جمعہ کے دوران درج ذیل مطالبات کیے: حکومت فوری طور پر نفاذِ شریعت کا اعلان کرے، ورنہ آئندہ جمعہ لال مسجد میں منعقدہ 'نفاذِ شریعت کانفرنس' میں ہم خود اس کا اعلان کریں گے۔حکومت عریانی و فحاشی کے اڈے بند کرے اور اسلامی نظام نافذکر کے فحاشی کے مرتکب افراد کو بیس کوڑے لگائے، ورنہ لال مسجد میں قاضی کی عدالت میں ان پر حد لاگو کی جائے گی۔ بہت صبر کیا،مر جائیں گے لیکن فحاشی کے اڈّے نہیں چلنے دیں گے۔ نائب خطیب جناب عبد الرشید غازی صاحب کا بیان آیا کہ آنٹی شمیم سے پورا محلہ تنگ تھا۔آنٹی شمیم کے خلاف تقریباً اڑھائی سو معززین محلہ نے میڈیا کو بیانات دیے ۔

یکم اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق جامعہ حفصہ کی طرف سے اسلام آباد میں ویڈیو اور سی ڈیز کا کاروبار کرنے والے مالکان کو اس کاروبار کے تبدیل کرنے پر معاوضے کی پیش کش کی گئی۔ علاوہ ازیں ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے لال مسجد کے خطیب جناب عبد العزیز غازی صاحب نے کہا:آنٹی شمیم اس علاقے میں تقریباً دس برس سے کاروبار چلا رہی تھی، جامعہ حفصہ کی طالبات اس کو سمجھانے کے لیے گئی تھیں لیکن اس کا ردّ عمل ایسا تھا کہ وہ اس کو اُٹھا کر لے آئیں ۔اُنہوں نے مزید یہ کہا کہ حکومت طالبات کے لائبریری پر قبضے کے معاملے کو بہت اُچھال رہی ہے۔ اس وقت کیا ہو اتھا جب ٹونی بلیر کے اس بیان پرکہ''حکومت مدرسوں کے بارے میں کچھ کرے۔''دوسرے ہی روز پچاس کمانڈوز طالبات کے مدرسے میں گھس آئے۔ بعد ازاں طالبات پرپولیس نے لاٹھی چارج کیا، اُنہیں زمیں پر لٹا کر ڈنڈے اور ٹھڈے مارے گئے۔

3؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق جامعہ حفصہ کی انتظامیہ نے حکومت کو مذاکرات کی دعوت دے دی۔ لال مسجد کی انتظامیہ نے یہ بیان دیا کہ آئندہ جامعہ حفصہ کی طالبات اور لال مسجد کے طلبا انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی کاروائی نہیں کریں گے۔ آنٹی شمیم کے خلاف محلہ داروں نے کئی درخواستیں متعلقہ تھانے میں دی تھیں لیکن اس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی، حکومت اور این جی اوزآنٹی شمیم کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں ۔اگر حکومت شہید کی گئی مساجد دوبارہ تعمیر کر دے تو طالبات چلڈرن لائبریری کا قبضہ چھوڑر دیں گی۔ جن علما نے جامعہ حفصہ کی طالبات کے خلاف فتویٰ دیا، انہوں نے امر واقعہ کی تحقیق کے بغیر فتویٰ دیا۔

4؍ اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق لال مسجد کے نائب خطیب مولاناجناب عبد الرشید غازی نے گوجرانوالہ سے آنے والے علما کے ایک وفد سے خطاب کے دوران سختی سے اس افواہ کی تردید کی ہے کہ عدلیہ کے بحران سے توجہ ہٹانے کے لیے جامعہ حفصہ کا ایشو کھڑا کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ عدلیہ کا بحران مارچ میں پیدا ہوا جبکہ جامعہ حفصہ کا مسئلہ اَوائل جنوری سے چلا آ رہا ہے ۔

5؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق سیکڑی داخلہ کمال شاہ نے جمعرات کے روز اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت نے لال مسجد کے معاملے پر طاقت کے استعمال کو آخری آپشن قرار دیا ہے۔

6؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق آج لال مسجد میں نفاذِ شریعت اور 'عظمت ِجہاد کانفرنس' کے اختتام پر نفاذِ شریعت کا اعلان ہو گا۔ دس مفتیان پر مشتمل ایک شرعی عدالت قائم کی جائے گی۔ ہزاروں افرد ملک بھرسے لال مسجد پہنچ گئے۔ لال مسجد کے نائب خطیب نے کہا کہ آنٹی شمیم کو سمجھانے کے لیے لے جانے کے بعد بعض لوگوں نے ہمارے خلاف زہریلی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جامعہ حفصہ کی طالبات نے کسی بھی مارکیٹ میں جا کر ایک بار بھی تاجروں کو دھمکی نہیں دی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بعض لوگ ہمارا موقف سنے بغیر غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں ۔

7؍اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق جناب پرویز مشرف نے اپنے ایک بیان میں کہا:''لال مسجد والے غیر اسلامی کاروائیاں چھوڑ دیں ، ڈنڈہ بردار آ گئے تو ملک میں لا قانونیت پھیل جائے گی۔ ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے،لال مسجد والے اپنا بند ذہن کھولیں ، دعا ہے اللہ اُنھیں ہدایت دے۔'' جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے بیان دیا:''علما داعی ہیں ، قاضی نہیں ۔ شرعی عدالت کا قیام خلافِ دین ہے۔''جناب پرویز الٰہی کا درج ذیل بیان اخبارات میں شائع ہوا:''لال مسجد کا معاملہ مذاکرات سے حل کرنا چاہیے، لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی طالبات قانون ہاتھ میں نہ لیں ۔ قوانین بنانا اور اُنہیں نافذ کرنا ریاست کا کام ہے۔'' جناب قاضی حسین نے بیان دیا:''شریعت کورٹس ہر جگہ موجود ہیں ،خانہ جنگی چاہتے ہیں اور نہ ریاست کے اندر ریاست چاہتے ہیں ۔ہم پاکستان کو استعماری ایجنٹوں سے آئینی اور قانونی طور پر آزاد کرائیں گے ۔''

8؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق حکومت نے لال مسجد کی ویب سائٹ پر پابندی لگا دی۔ جناب پرویز مشرف کے ایما پر جناب چوہدری شجاعت حسین لال مسجد کی انتظامیہ سے مذکرات کے لیے گئے۔ تقریباً دو گھنٹے تک یہ مذاکرات جاری رہے، دونوں فریقین اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ نیویارک سے شائع ہونے والے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے لال مسجد کی انتظامیہ نے اپنے ایک بیان میں کہا: ''ہم ایسی عدالت سے انصاف کی اُمید نہیں رکھتے جس کے سربراہ کو سڑکوں پر بال پکڑ کرگھسیٹا گیا، جس کا سربراہ خود انصاف مانگتا پھر رہا ہے۔'' ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ'' جامعہ حفصہ کی سات ہزار خواتین میں سے ستر فی صد کا تعلق شمالی علاقہ جات سے ہے اور وہ کلاشنکوف چلانا جانتی ہیں ۔''

9؍اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ جناب آفتاب احمد شیر پاؤ نے ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے کہا:حکومت کا موقف ہے کہ معاملہ پر امن طریقے سے حل ہو۔ جامعہ حفصہ کی طالبات کے والدین کو متنبہ کرنے کے لیے حکومت کی طرف سے ایک اشتہاری مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ دوسری طرف سے لال مسجد کے نائب خطیب عبد الرشید غازی کی طرف سے اعلان ہوا :ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے۔

10؍اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق جناب پرویز مشرف نے کہا :کالے کوٹوں اور کالے برقعوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیں گے۔صدارتی کیمپ آفس راولپنڈی میں حکومتی عہدیداران کے اہم اجلاس میں کئے گئے فیصلے کے دوران یہ کہا گیا :لال مسجد کی انتظامیہ کے خلاف میڈیا مہم شروع کی جائے۔ وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی نے بیان دیا: ''جامعہ حفصہ سرکاری زمین پر قبضہ کر کے بنایا گیا ہے، فوری خالی کرائیں گے۔'' جناب چوہدری شجاعت نے اپنے ایک بیان میں مذاکرات کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ معاملہ پر امن طریقے سے حل ہو۔ ''

11؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق جناب چوہدری شجاعت نے ایک دفعہ پھر منگل کی شب جامعہ حفصہ کا دورہ کیا، یہ مذاکرات تقریباً اڑھائی گھنٹے جاری رہے جس کے نتیجے میں حکومت نے سات شہید کی گئی مساجد کی دوبارہ تعمیر کی یقین دہانی کرائی، علاوہ ازیں دونوں بھائیوں نے اس وقت تک چلڈرن لائبریری پر قبضہ برقرار رکھنے کا اعلان کیا جب تک کہ حکومت شریعت کو نافذ کرنے کی یقین دہانی نہیں کراتی۔

12؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق وزیراعظم جناب شوکت عزیز کی صدارت میں وفاقی کابینہ کا اجلاس تقریبا پانچ گھنٹے تک جاری رہا۔وفاقی وزیر برائے بندر گاہ و جہاز رانی جناب بابر غوری، وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف قاضی اور وزیر خارجہ جناب خورشید قصوری کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے خلاف فوراً ایسا ایکشن لیا جائے کہ جس سے یہ معاملہ ختم ہو جائے جبکہ بعض دوسرے وزرا جن میں وزیر مذہبی اُمورجناب اعجاز الحق 'وزیر داخلہ جناب آفتاب احمد شیر پاؤ اور جناب ہمایوں اخترشامل ہیں ، کا بیان تھا کہ معاملہ مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہونا چاہیے۔ جبکہ دوسری طرف آئی این پی کو دیے گئے اپنے ایک انٹر ویو کے دوران مولاناعبد العزیزغازی نے کہا:''ایم ایم اے والے سرحد میں اپنی حکومت کے باوجود اسلامی نظام نافذ نہیں کر سکے، وہ ہماری مدد کیا کریں گے۔ایم ایم اے والے جمہوریت کے ذریعے اسلامی نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم جہاد کے ذریعے اسلامی نظام نافذ کریں گے۔پانچ لاکھ کے قریب استحصالی ٹولے نے سترہ کروڑ عوام کو یر غمال بنا رکھا ہے ۔جب تک اسلامی نظام نافذ نہیں ہوتا، چلڈرن لائبریری پر اپنا قبضہ ختم نہیں کریں گے۔ چوہدری شجاعت حسین سے کہا ہے کہ ہم ریڈیو پر اپنا موقف پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ عوام الناس کو معلوم ہو کہ ہمارا موقف کیا ہے۔ہم پرویز مشرف کے نہ تو خلاف ہیں اور نہ ہی ہماری اس سے کوئی دشمنی ہے البتہ ہمارے خلاف آپریشن آپریشن کی رٹ لگانے کی وجہ سے ہم نے فدائی حملوں کی بات کی تھی ۔ہم نے ریاست کے اندر ریاست قائم نہیں کر رکھی بلکہ پاکستان میں ایس ایچ او سمیت ہر چھوٹے بڑے افسر نے ریاست کے اندر اپنی ایک ریاست قائم کر رکھی ہے۔ہمارے پاس اسلحہ ہے لیکن روایتی اسلحہ نہیں ، ہمارے طالب علموں نے اپنے جسموں کو اسلحہ بنا رکھا ہے۔ لال مسجد میں لائسنسی بندوقیں ہیں ، اگر حکومت نے کریک ڈاؤن کیا تو ہم اپنا دفاع کریں گے۔ مجھ پر ایجنسیوں کا بندہ ہونے کے الزامات محض الزامات ہیں ، میں صرف اللہ کا بندہ ہوں ۔''

13؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم جناب جاوید اشرف نے کہا:دینی مدارس میں قبضہ کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ہم نے دینی مدارس کے کردار کو کم کرنے کے لیے اسلامیات کا جدید سلیبس تشکیل دیا ہے جس کے بعد بچوں کو اسلامی تعلیم کے لیے مدارس کی طرف رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ علاوہ ازیں لال مسجد کی انتظامیہ سے مذاکرات کے نتیجے میں ان کی ویب سائٹ بحال کر دی گئی۔وفاق المدارس کے علما نے وفاقی وزیر برائے مذہبی اُمور جناب اعجاز الحق کے ساتھ کی گئی ایک میٹنگ میں کہا:اگر لال مسجد کے خلاف آپریشن کیا گیا تو علما لال مسجد کا ساتھ دیں گے۔

14؍اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق لال مسجد کے نائب خطیب مولاناعبد الرشید غازی صاحب نے کہا: چوہدری شجاعت سے مذاکرات کے اختتام تک شرعی عدالت غیر فعال رہے گی۔ جبکہ مولانا عبد العزیز غازی نے اپنے جمعہ کے خطبے میں کہا:اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے پراَمن تحریک چلائیں گے۔اسلامی نظام کے نفاذ کے موقف سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ہماری جدوجہد باطل نظام کے خلاف ہے، اگر پرویزمشرف اسلامی نظام نافذ کرتے ہیں تو ان کی جوتیاں اُٹھانے کو تیار ہوں ۔ڈنڈے اور تیزاب کی بات ہم نے نہیں کی، ڈنڈا تو وہ استعمال کر رہے ہیں جنہوں نے وزیرستان میں تباہی پھیلائی۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ چوہدری شجاعت کا رویہ مثبت ہے لیکن اعجاز الحق آپریشن کی بات کرتے ہیں ۔

15؍اپریل

:مبینہ ذرائع کے مطابق جامعہ بنوری ٹاؤن میں ایک علما کنونشن کے اختتام کے موقع پر وفاق المدارس کے جنرل سیکرٹری مولاناحنیف جالندھری صاحب نے کہا:جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے معاملے میں حکومت ہوش کے ناخن لے اور کسی انتہائی اقدام سے گریز کرے۔لال مسجد کے نائب خطیب جناب عبد الرشید غازی کی طرف سے یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا:کلاشنکوفی شریعت نافذ کی اور نہ ہی شٹل کاک برقعے کے علمبردار ہیں ۔ علاوہ ازیں بہارہ ٹاؤن اسلام آباد کے علاقے میں عمران ویڈیو شاپ کے مالک نے بعض نامعلوم طلبا کے دباؤ پر پندرہ سو ویڈیوزاورسی ڈیز جلا دیں ۔بعد ازاں پولیس نے تین طلبا اور دکاندار کو گرفتار کر لیا لیکن لال مسجد کی انتظامیہ نے کہا کہ اس کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

16؍ اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنوں نے کراچی میں لال مسجد اسلام آباد میں قاضی عدالت کے قیام کے خلاف مظاہرہ کیا۔ لندن سے ایک ٹیلی فونک کال کے ذریعے متحدہ کے سربراہ جناب الطاف حسین نے اس ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا: حکومت اور مشرف نے مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف فوری کاروائی نہ کی تو پھر دمادم مست قلندر ہوگا۔ خواتین پر تیزاب پھینکنے والے ہاتھ کاٹ دیں گے۔ قاضی کی ملین مارچ کی حسرت ہم نے پوری کر دی۔لال مسجد والے ملک کو سولہویں صدی میں لے کر جانا چاہتے ہیں جبکہ ہم اکیسویں صدی میں ۔ انتہاپسندوں سے اسلام آباد سہما ہوا ہے، عوام کلاشنکوف اور ڈنڈا بردار شریعت کے خلاف ہیں ۔ خواتین کو ڈرائیونگ سے روکا جا رہا ہے، ملازمت پیشہ خواتین کے لیے کام کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔جبکہ دوسر ی طرف لال مسجد کی انتظامیہ نے الطاف حسین کے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا:کلاشنکوفی اور لسانی سیاست کے خالق کو کروڑوں عوام جانتے ہیں ۔الطاف حسین کے دامن پر ہزاروں بے گناہ انسانوں کے خون کے دھبے لگے ہیں ۔ اُنہوں نے مزیدکہاکہ لاشوں کی سیاست کرنے والوں کو قرآن کی تشریح کا کوئی حق حاصل نہیں ۔اُنہوں نے کہا کہ جامعہ حفصہ یا لال مسجد کے کسی طالب علم نے بھی نہ تو اسلام آباد میں کسی خاتون کو گاڑی چلانے سے روکا ہے اور نہ ہی کسی دوکاندار کو دھمکی دی ہے اور نہ ہی کسی خاتون پر تیزاب پھینکنے کا واقعہ اسلام آباد میں ہوا ہے ۔

17؍اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق ایک فوجی ہیلی کاپٹر نے سوموار کے روز تقریباً صبح ساڑھے دس بجے کے قریب جامعہ حفصہ اور اس سے متصل لال مسجد کے اوپر کافی دیر تک پرواز کی۔لال مسجد کے خطیب مولانا عبد الرشید غازی صاحب نے بی بی سی کو اپنے ایک انٹرویو کے دوران کہا: فوجی ہیلی کاپٹر تقریباً بیس منٹ تک لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی فضا میں پرواز کرتا رہا، ہیلی کاپٹر کی پرواز بہت نیچی تھی اور اس میں بیٹھے ایک فوجی نے مدرسے کی تصویریں بھی اُتاریں ۔ علاوہ ازیں ہیلی کاپٹر سے طلباء و طالبات پر کیمیائی گیس بھی پھینکی گئی ۔مولانا کا کہنا تھا کہ جب اس مسئلے میں چوہدری شجاعت سے بات ہوئی تو اُنہوں نے اس واقعے سے لاعلمی کااظہار کیا اور واقعے کی تحقیقات کرانے کی یقین دہانی کرائی۔

18؍ اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق لال مسجد کی انتظامیہ کی طر ف سے یہ بیان اخبارات میں آیا: زہریلی گیس سے جامعہ حفصہ کی پانچ سو معلّمات و طالبات چوبیس گھنٹے گزرنے کے باجود بھی، ابھی تک متاثر ہیں جبکہ بعض طالبات کیمیائی گیس کے اثرات سے بے ہوش بھی ہوئیں ۔ایک نجی ٹی وی کے ملازمین نے جو کہ موقع پر موجود تھے، اس واقعے کی تصاویر بھی لیں ۔ علاوہ ازیں جامعہ حفصہ میں موجود سوئٹزر لینڈ کی دو صحافی خواتین نے بھی اس واقعے کو کور کیا۔ جبکہ دوسری طرف پشاور میں منعقدہ جمعیت علماے اسلام کے زیر اہتمام ایک کنونشن میں ملک بھر کے دو ہزار علما، مذہبی اساتذہ اورمدارس کے منتظمین نے لال مسجد، اسلام آباد کی انتظامیہ کی طرف سے نفاذِ شریعت کے اعلان کو دینی مدارس کے خلاف ایک سازش قرار دیااور خود کش حملے اور شریعت کے جبری نفاذ کو غیرا سلامی قرار دیا۔

20؍اپریل:

وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ کی دو روز ہ میٹنگ کے بعد ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے حکومت ِپاکستان درج ذیل مطالبات کیے گئے:حکومت جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مطالبات کو منظور کرے، ملک میں اسلامی نظام نافذ کرے،گرائی جانے والی مسجد کو دوبارہ تعمیر کروائے، بدکاری اور فحاشی کے اڈّے ختم کرے۔ اس اعلامیہ کے مطابق مجلس عاملہ نے جامعہ حفصہ کے مطالبات کو درست قرار دیا لیکن اُنہوں نے کہا کہ جا معہ حفصہ کی طالبات اور لال مسجد کی انتظامیہ کا طریق کار غلط ہے ۔

22؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ق) کے صدر جناب چوہدری شجاعت نے بیان دیا کہ وہ لال مسجد کی انتظامیہ سے خود ملنے نہیں گئے تھے بلکہ اُنھیں حکومت نے بھیجا تھا اور مسئلہ حل ہونے کے قریب ہے۔ دوسری طرف وفاق المدارس العربیہ کی مجلس عاملہ نے اپنے ایک اجلاس میں جامعہ حفصہ اسلام آباد اور لال مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے اسلامی نظام کے نفاذ،اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کی دو بارہ تعمیر،بدکاری اور فواحش کے اڈے ختم کرنے اور نام نہاد تحفظ ِحقوقِ نسواں ایکٹ کی خلافِ اسلام دفعات کی منسوخی کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔ مجلس عاملہ کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ ملک میں اسلامی احکام و قوانین کی عمل داری،اسلامی اقدار و روایات کے فروغ اور منکرات وفواحش کے سد ِباب کے لیے پرامن اور دستوری جدو جہد پر یقین رکھتی ہے۔

23؍اپریل:

مبینہ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شوکت عزیز کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں جامعہ حفصہ اور فریدیہ کو متبادل جگہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جب صدر پرویز مشرف کرنل کے عہدے پر فائز تھے تووہ لال مسجد کے قریب رہتے تھے اور جامعہ فریدیہ میں آتے تھے۔ ان کے والدسید مشرف مدرسے میں کھانا بھی بھجواتے تھے ۔

لال مسجد کے نائب خطیب نے بتایا کہ اظہر اقبال قوم اعوان جو کہ جہلم شہر کارہائشی ہے اور ضلع ناظم کا خاص دوست اور پولیس کا ایجنٹ ہے، اس نے محمد اسلم نامی آدمی کے بیٹے کو شراب نوشی کی عادت ڈالی اور اس کی بیوی کو چرس کے الزام میں جیل بھوا دیا اور گھر میں موجود اس کی تیں بیٹیوں میں سے ایک بیٹی سلمیٰ(عمر ۱۷سال) کو ماں سے ملوانے کے بہانے جیل لے گیا اور اس کو وہاں نیند کی گولیاں کھلاکر بے ہوشی کے عالم میں اس سے زیادتی کی اور اس کی ویڈیو فلم بھی بنا ڈالی۔ بعد ازاں اس شخص نے اپنے بھتیجے عمران عرف مانی کے ساتھ مل کر اس لڑکی کی دوسری بہن ثمینہ (عمر ۱۶سال) کو بھی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ان بہنوں نے پولیس سے رابطہ کرنے کی بجائے لال مسجد میں قائم شکایت سنٹر میں اپنی شکایت درج کرا دی جس پر لال مسجد کی انتظامیہ نے دونوں خواتین کے ساتھ زیادتی کا مقدمہ بطورِ ٹیسٹ کیس حکومت کی طرف بھوا دیا اور کہا کہ خلاف ِتوقع نتائج کی صورت میں ا س کا فیصلہ لال مسجد کی شرعی عدالت اور ملک بھر کے علما کریں گے۔

25؍ اپریل :

اخباری اطلاعات کے مطابق جناب چودھری شجاعت کی لال مسجد کے خطیب و نائب خطیب سے دو گھنٹے کی ملاقات ہوئی جس کے بعدجناب چوہدری شجاعت نے بیان دیا کہ لال مسجد میں کوئی اسلحہ نہیں ہے اور میری ملاقات لال مسجد کی طالبات سے ہوئی ہے، میں ان سے بہت متاثر ہوں ۔ اُنہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جامعہ حفصہ میں آپریشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اُنہوں نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ جہلم ریپ کیس کے ملزمان کے خلاف مقدمہ اسلام آباد میں درج ہو گا اور ایس ایچ او جہلم کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے۔

26؍ اپریل :

اخباری بیانات کے مطابق چوہدری شجاعت نے و زیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے دوران کہا کہ جامعہ حفصہ کا معاملہ حل کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہم نے ان کے مطالبات مان لیے ہیں اور اُنہوں نے ہمارے مطالبات مان لیے ہیں ۔ علاوہ ازیں پولیس تھانہ سول لائن جہلم نے اظہر اقبال اور عمران عرف مانی کے خلاف مقدمہ درج کر کے اظہر اقبال کو حراست میں لے لیا جبکہ عمران عرف مانی پہلے ہی سے شراب نوشی کے جرم میں جیل میں تھا۔

28؍اپریل:

اخباری بیانات کے مطابق لال مسجد کے خطیب نے خطابِ جمعہ میں کہا کہ حکومت اسلامی نظام نافذ کرے تو وہ چلڈرن لائبریری تو کیا جامعہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ بھی ان کے حوالے کر دیں گے۔ اُنہوں نے کہاکہ اس مسجد سے چالیس سال سے یہ آواز بلند کی جا رہی ہے کہ ملک میں خلافت ِراشدہ کا نظام قائم کیا جائے اور پچھلے تین ماہ سے اس مطالبے میں زور آ گیا ہے ۔

29؍اپریل :

مبینہ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم شوکت عزیز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں دینی مدارس پر فخر ہے۔ دینی مدارس کے حوالے سے معذرت خواہانہ رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مدارس تعلیمی شعبے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ۔بعض مدارس کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔

29؍ اپریل:

اخباری اطلاعات کے مطابق آنٹی شمیم نے اپنے حالاتِ زندگی اور گاہکوں کے بارے میں ایک کتاب لکھنے کا اعلان کیااور اس کتاب کے شائع کرنے کی ذمہ داری آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ نے لے لی ۔میڈم شمیم نے کہا کہ بعض ادارے مجھے قتل کروا کے اس کی ذمہ داری لال مسجد کے خطیب و نائب خطیب پر ڈالنا چاہتے ہیں ۔ ایک حکومتی شخصیت نصر اللہ دریشک کے کے گھر پر ایک عشائیے میں بعض اراکین اسمبلی، سپیکر قومی اسمبلی جناب امیر حسین اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے آنٹی شمیم کے اس بیان ور اس کے نتائج پر بحث کی۔ ایک رکن صوبائی اسمبلی کے بیان کے مطابق اس کتاب کے شائع ہونے سے بہت سے اراکین اسمبلی کی ازدواجی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں بلکہ بہت سوں کو طلاق کی نوبت بھی آ سکتی ہے۔

2؍ مئی :

امام کعبہ نے وفاقی وزیر اعجاز الحق سے سعودی عرب میں ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان میں خود کش حملے کرنے والے گمراہ ہیں ۔ اسلام سرکاری یا کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ کر کے مسجد یا مدرسہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا ۔حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی فرد اپنی شرعی عدالت قائم نہیں کر سکتا۔ یہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے، اگر وہ پورا نہیں کرتے تو اللہ کو جوابدہ ہوں گے۔جبکہ دوسری طرف لال مسجد کے نائب خطیب نے یہ بیان دیا کہ امام کعبہ کوحقائق کے منافی معلومات فراہم کی گئیں ، چودھری شجاعت معاملہ کو حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اعجاز الحق اس کو اُلجھا رہے ہیں ۔

یہ اب تک حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ کے مابین ہونے والے تنازع کی ایک مختصر واقعاتی روداد ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لال مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے کیے گئے کون سے اقدامات درست تھے اور کون سے غلط؟ تو اس پر کوئی تبصرہ کیے بغیر 'محدث' کے حالیہ شمارے میں قارئین کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے باب میں شرعی رہنمائی پیش کر دی گئی ہے جس کے مطالعہ کے بعد قارئین کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں



حوالہ جات
1. www.lalmasjid.com