میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

سطورِ ذیل میں ہم قارئین کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے شرعی تصورات اور بعض متجددین کی طرف سے پیش کیے گئے خانہ ساز نظریات کاقرآن و سنت اور ائمہ سلف کی آرا کی روشنی میں ایک علمی جائزہ پیش کررہے ہیں جو اسلام آباد کے معروف مدرسہ حفصہ اور لال مسجد کے حوالے سے اس وقت اخبارات کی شہ سرخیوں میں نمایاں ہے۔ اُمید ہے کہ قارئین اس بالواسطہ تبصرہ سے مستفید ہوں گے۔ إن شاء اللہ
براہِ راست تبصرہ اس لئے مناسب نہیں سمجھا گیا کہ اس واقعہ کی اندرونی کہانیوں کے بارے میں اہل علم و نظر مختلف الخیال ہیں ۔ اسی بنا پر مذکورہ مسجد و مدرسہ کی کہانی اخبارات کی زبانی ایک مستقل آرٹیکل کی صورت اس شمارہ میں شامل اشاعت ہے۔



معروف و منکر کا مفہوم اور اس کا تعین
اگر ہم آسان اور مختصر الفاظ میں قرآنی اصطلاح،معروف ومنکر کا مفہوم بیان کریں تو وہ یہ ہے کہ معروف سے مراد ہر وہ چیزہے کہ جس کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام کے 'دین فطرت' ہونے کے ناطے فطرتِ سلیمہ اورعقل صحیح بھی اس کے کرنے کا مطالبہ کرے گی اور وہ مسلم معاشروں میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اور ہر وہ بات جس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہو،منکر ہے نیز فطرتِ سلیمہ اور عقل صحیح بھی اس کے کرنے کو ناپسندکرے گی اور مسلم معاشروں میں بھی اس کو ناپسند کیا جائے گا۔

گویامعروف و منکرکا تعین اصلاً شریعت کرتی ہے۔کیا چیز معروف ہے اور کیا منکر ؟اس کا علم ہمیں شریعت سے حاصل ہو گا نہ کہ عقل و فطرت سے۔البتہ یہ بات بھی درست ہے کہ جس چیز کو ہماری شریعت نے معروف کہا ہے، اس کو عقل صحیح اور فطرتِ سلیمہ کی بنیاد پر قائم ایک مسلم معاشرہ بھی پسند کرتاہے اور جس چیز کوہماری شریعت نے منکر کہا ہے، اس کو عقل صحیح اور فطرتِ سلیمہ کی بنیاد پر قائم ایک مسلم معاشرہ بھی اجنبی سمجھتا ہے۔

اسی بات کو امام ابن جریرطبری رحمة اللہ علیہ ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں :
أصل المعروف کل ما کان معروفا فعله جمیلا مستحسنا غیر مستقبح في أھل الإیمان باﷲ وإنما سمیت طاعة اﷲ معروفا لأنه مما یعرفه أھل الإیمان ولا یستنکرون فعله وأصل المنکر ما أنکرہ اﷲ تعالی ورأوہ قبیحا فعله و لذلك سمیت معصیة اﷲ منکرًا لأن أھل الإیمان باﷲ یستنکرون فعلھا 1
''معروف کا اصل معنی یہ ہے کہ ہر وہ چیز کہ جس کا کرنا جانا پہچانا ہو اور وہ اہل ایمان کے نزدیک اچھا اور مستحسن ہو اور وہ اس کو قبیح نہ سمجھتے ہوں ۔ اور اللہ کی اطاعت کو بھی معروف اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ ان چیزوں میں سے ہے کہ جنہیں اہل ایمان پہچانتے ہیں اور اس کے کرنے کو ناپسند خیال نہیں کرتے۔ اور منکر کی اصل یہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے ناپسند جانا ہواور اہل ایمان بھی اس کے کرنے کو ناپسند خیال کرتے ہوں ۔ اسی وجہ سے اللہ کی نافرمانی کو منکر کہتے ہیں کیونکہ اہل ایمان اس کے کرنے کو ناپسند کرتے ہیں ۔''

اسی بات کو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے ان الفاظ میں بیان کیا:
ما رأی المسلمون حسنا فھو عند اﷲ حسن وما رأوا سیئا فھو عند اﷲ سيء2
''جس کو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ کے ہاں بھی اچھا ہے اور جس کو وہ برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی برا ہے۔''

مختصربات یہی ہے کہ عقل عام یافطرتِ انسانی معروف و منکر کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی کسوٹی یامعیار نہیں ہیں بلکہ اصل معیار وحی ہے اور وحی نے معروف اور منکر کا تعین کر دیا ہے اور وحی کے متعین کردہ ان تمام معروفات و منکرات کے معروف و منکر ہونے کی گواہی عقل صحیح اور فطرتِ سلیمہ پر مشتمل انسانی معاشرے بھی دیتے ہیں ۔

اسی بات کو ایک اور اندازمیں بیان کرتے ہوئے مشہور مفسر ابو حیان اندلسی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
فسّر بعضھم المعروف بالتوحید والمنکر بالکفر ولا شك أن التوحید رأس المعروف والکفر رأس المنکر ولکن الظاهر العموم في کل معروف مأمور به في الشرع وفي کل منهي نُهي عنه في الشرع
''بعض اہل علم نے معروف کی تفسیر توحید سے اور منکر کی تفسیر کفر سے کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ توحید معروف کی بنیادہے اور کفر منکر کی جڑ ہے۔ لیکن بظاہر الفاظ میں عموم ہے، لہٰذا معروف سے مراد ہر وہ شے ہے جس کا ہماری شریعت میں حکم دیا گیا ہے اور منکر سے مراد ہر وہشے ہے کہ جس سے ہماری شریعت میں منع کیا گیا ہے۔''3

امام ابو بکر جصاص رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
المعروف ھو أمر اﷲ ۔۔۔ والمنکر ھو ما نهی اﷲ عنه 4
''معروف سے مراد اللہ کا حکم ہے ۔۔۔جبکہ منکر سے مراد ہر وہ شے کہ جس اللہ نے منع کیا ہو۔''

علامہ آلوسی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
والمتبادر من المعروف الطاعات ومن المنکر المعاصي التي أنکرھا الشرع 5
''بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ معروف میں تمام اطاعتیں شامل ہیں اور منکر سے مراد وہ تمام معاصی ہیں جن کو شریعت نے نا پسند سمجھاہے۔ ''

علامہ ابن حجر ہیثمی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
المراد بالأمر بالمعروف والنهي عن المنکر: الأمر بواجبات الشرع والنهي عن محرماته6
''امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے مراد ان چیزوں کا حکم کرنا ہے جن کو شریعت نے واجب قرار دیا ہے اور ان چیزوں سے منع کرنا ہے جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے۔''

ابن ابی جمرہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
یطلق اسم المعروف علی ما عُرف بأدلة الشرع من أعمال البر سواء جرت به العادة أم لا 7
''معروف کے لفظ کا اطلاق ہر اس نیکی پر ہوتا ہے جس کا نیکی ہونا کسی شرعی دلیل سے معلوم ہو، چاہے رواج اس کے مطابق ہو یا نہ ہو۔''

ملا علی القاری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
المنکر ما أنکرہ الشرع وکرھه ولم یرض به 8
''منکر سے مراد جس کو شریعت نے ناپسند جانا ہو اور اس سے منع کیا ہو اور جس سے وہ راضی نہ ہو۔''

علامہ مناوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
(من رأی منکم منکرًا) شیئا قبَّحه الشرع فعلا أو قولا 9
''من رأی منکم منکرا'سے مراد وہ چیز ہے جس کے کہنے یا کرنے کو شریعت نے ناپسند جانا ہو۔''

امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
یدخل في المعروف کل واجب وفي المنکر کل قبیح والقبائح ھي السیئات وھي المحظورات کالشرك والکذب والظلم والفواحش 10
''معروف میں ہر واجب داخل ہے اور منکر میں ہر برائی داخل ہے یعنی وہ باتیں کہ جن سے شریعت نے منع کیا ہے جیسا کہ شرک،جھوٹ،ظلم اور بے حیائی کے کام ہیں ۔''

امام شوکانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
إنھم یأمرون بما ھو معروف في ھذہ الشریعة وینھون عما ھو منکر فالدلیل علی کون ذلك لشيء معروفا أو منکرا ھو الکتاب و السنة 11
''وہ ہراس چیز کا حکم دیتے ہیں جو اس شریعت میں معروف ہے اور اس سے منع کرتے ہیں جو منکر ہے پس اس چیز کے معروف یامنکر ہونے کی دلیل قرآن و سنت ہی ہیں ۔''

علامہ ابن الاثیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
المعروف اسم جامع لکل ما عرف من طاعة اﷲ والتقرب إلیه والإحسان إلی الناس وکل ما ندب إلیه الشرع ۔۔۔ وکل ما قبحه الشرع وحرمه وکرھه فھو منکر 12
''معروف ایک جامع لفظ ہے جس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو کہ اللہ کی اطاعت اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے اور لوگوں سے حسن سلوک کے حوالے سے معروف ہواور ہر وہ چیز جس کو شریعت نے پسندیدہ قرار دیا ہو۔۔اور ہر وہ چیز جس کو شریعت نے برا کہا ہو اور حرام قراردیا ہو اور اس کو ناپسند کیا ہو تو وہ منکر ہے۔ ''

علامہ صاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
المعروف المراد به ما طلبه الشارع ۔۔۔ المنکر ما نھي عنه الشارع
''معروف سے مراد ہر وہ چیز ہے کہ جس کا شریعت نے مطالبہ کیا ہو۔۔۔اور منکر سے مراد ہر وہ چیز ہے جس سے شارع نے منع کیاہو۔'' 13

حدادی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
المعروف ھو السنة والمنکر ھو البدعة 14
''معروف سے مراد سنت ہے جبکہ منکر سے مراد بدعت ہے ۔''

امام راغب فرماتے ہیں :
المعروف اسم لکل فعل یعرف بالعقل أو الشرع حسنه والمنکر ما ینکر بھما 15
'' معروف سے مراد ہر وہ فعل ہے جس کا اچھا ہونا عقل سے معلوم ہو یا شریعت اس کو اچھا کہے اور منکر وہ جسے عقل اور شریعت دونوں ناپسندکرتے ہوں ۔''

ہم یہ بات پہلے بیان کر چکے ہیں کہ جس کو ہماری شریعت نے معروف کہا ہے، اس کو عقل صحیح اور فطرتِ سلیمہ پر مشتمل مسلم معاشرہ بھی معروف کہتا ہے اور جس کوہماری شریعت نے منکر کہا ہے، اس کو عقل صحیح اور فطرتِ سلیمہ پر مشتمل مسلم معاشرہ بھی منکر کہتا ہے۔ اس لیے امام راغب رحمة اللہ علیہ نے معروف و منکر کی تعریف میں عقل صحیح کو بھی داخل کر دیا۔

غامدی صاحب کے نزدیک معروف ومنکر کا مفہوم اور اس کا تعین
اہل سنت کے ہاں معروف و منکر کا یہی صحیح مفہوم ہے جس کا تذکرہ ہم اوپر کر چکے ہیں جبکہ میڈیا کے معروف دانشور جناب جاوید احمد غامدی صاحب اہل سنت کے اس تصو ر کو نہیں مانتے۔ان کے نزدیک معروف و منکر شریعت کانہیں بلکہ فطرتِ انسانی کاموضوع ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین کہ یہ معروف ہے اور یہ منکر،اس کو اللہ تعالیٰ نے فطرتِ انسانی پر چھوڑ دیا یعنی وحی یا ہماری شریعت میں یہ رہنمائی موجود نہیں ہے کہ یہ معروفات اور یہ منکرات ہیں ۔جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں :

' 'قرآن کی دعوت اس کے پیش نظرجن مقدمات سے شروع ہوتی ہے، وہ یہ ہیں :
1. دین فطرت کے حقائق
2. سنت ابراہیمی
3. نبیوں کے صحائف

پہلی چیز کو وہ اپنی اصطلاح میں معروف و منکر سے تعبیر کرتا ہے ۔یعنی وہ باتیں جو انسانی فطرت میں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور وہ جس سے فطرت ابا کرتی اور اُنہیں برا سمجھتی ہے۔ قرآن ان کی کوئی جامع مانع فہرست پیش نہیں کرتابلکہ اس حقیقت کو مان کرکہ انسان ابتدا ہی سے معروف و منکر،دونوں کو پورے شعور کے ساتھ بالکل الگ الگ پہنچانتا ہے، اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ معروف کو اپنائے اور منکر کو چھوڑ دے

وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌...﴿٧١...سورۃ التوبہ

اور مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں ،یہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ یہ باہم دگر معروف کی نصیحت کرتے ہیں اور منکر سے روکتے ہیں ۔ اس معاملے میں اگر کسی جگہ اختلاف ہو تو زمانۂ رسالت کے اہل عرب کا رجحان فیصلہ کن ہو گا۔'' 16

ہماراسوال یہ ہے کہ اگر معروف و منکر شریعت کا موضوع نہیں ہے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا کیا مطلب ہے ؟
من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانه فان لم یستطع فبقلبه 17
''جو بھی تم میں سے کسی منکر کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دیـ۔ اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل سے۔''

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منکر کو ہاتھ سے روکنے کا حکم دے رہے ہیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نے منکرات کا تعین کر دیا ہے۔ اگرغامدی صاحب کا یہ نظریہ مان لیا جائے کہ معروف اور منکر کا تعین فطرتِ انسانی سے ہوگا تو شریعت ِاسلامیہ ایک کھیل تماشہ بن جائے گی۔ ایک شخص کے نزدیک ایک فعل معروف(i) ہو گا جبکہ دوسرے کے نزدیک وہی فعل منکر ہو گا۔مثلاً غامدی صاحب کے نزدیک رقص و سرود معروف کے تحت آئے گا۔اب غامدی صاحب کو قرآن کا یہ حکم ہے کہ وہ امر بالمعرو ف کا فریضہ سر انجام دیں یعنی لو گوں کورقص و سرود انجام دینے کا حکم دیں جبکہ علماے دین رقص و سرود کو منکرات میں شامل کرتے ہیں اور اُمت ِمسلمہ کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ وہ منکرات کو بزورِ بازو روکیں یعنی غامدی صاحب کو رقص وسرود کے جواز کا فتویٰ دینے سے ہر طرح روکیں ۔

کیا بدعات 'منکرات' میں شامل ہیں ؟
جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے جامعہ حفصہ کے حوالے سے اپنے ایک حالیہ ٹی وی پروگرام(ii) میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بدعات،منکر کی تعریف میں داخل نہیں ہیں ۔ ہم موصوف کی توجہ ایک صحیح حدیث کی طرف دلانا چاہیں گے جس میں ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بدعت کے لیے منکر کا لفظ استعمال کیا ۔حضرت طارق بن شہاب رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے:
أول من بدأ بالخطبة یوم العید قبل الصلاة مروان فقام إلیه رجل فقال الصلاة قبل الخطبة فقال قد ترك ما ھنالك فقال أبو سعید: أما ھذا فقد قضی ما علیه۔سمعت رسول اﷲ یقول من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانه فإن لم یستطع فبقلبه وذلك أضعف الإیمان 18
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کی لغت میں منکر کے لفظ میں بدعات بھی شامل تھیں جبکہ جناب جاوید غامدی صاحب کی عربی معلی اس بات کی جازت نہیں دیتی کہ بدعات کو منکرات میں شامل کیا جائے... یا للعجب !

دعوت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا فرق
دعوت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر جب اکٹھے استعمال ہوں تو ان میں ایک گونہ فرق ہوتا ہے یعنی دعوت کا مقصد پیغام رسانی اور ترغیب وترہیب ہوتا ہے جبکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا مقصد بھلائی کا فروغ اور برائی کو مٹانا ہے۔ علاوہ ازیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں نفاذِ شریعت کی مساعی بھی شامل ہیں ، اس لیے ہر دو اصطلاحات میں اس اعتبار سے فرق ہے جبکہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب نے اپنے ایک غلط فلسفے کوسیدھا کرنے کے لیے قرآنی آیات کی من مانی تاویلات کرتے ہوئے دعوت (جسے وہ تواصی بالحق بھی کہتے ہیں ) اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کو بالکل ایک ہی بنا دیا۔ جناب غامدی لکھتے ہیں :

''ایک دوسرے کو حق اور حق پر ثابت قدمی کی یہی نصیحت ہے جسے قرآن مجید نے بعض دوسرے مقامات پر 'امر بالمعروف 'اور 'نہی عن منکر'سے تعبیر کیا ہے ۔یعنی عقل و فطرت کی رو سے جو باتیں اچھی ہیں ، ان کی تلقین کی جائے اور جو بری ہیں ، ان سے لوگوں کو روکا جائے۔ یہ درحقیقت منفی ومثبت،دونوں پہلوؤں سے 'تواصی بالحق' ہی کا بیان ہے۔

ارشادفرمایا:

وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌...﴿٧١...سورۃ التوبہ

غامدی صاحب نے اس آیت کی من مانی تاویل کرتے ہوئے اس آیت میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے مراد 'تواصی بالحق' لیا ہے جس کی کوئی دلیل سلف صالحین تو کجا کسی عربی لغت یا غامدی صاحب کی عربی معلی میں بھی نہیں ملتی۔ غامدی صاحب کو چاہیے تھا کہ وہ اس آیت کے ظاہری الفاظ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے 'تواصی بالحق' مراد لینے کے لیے اپنی عربی معلی سے کوئی عربی شعر ہی بطورِاستشہادپیش کر دیتے تاکہ ہم غامدی صاحب کی اس تاویل کو کم از کم 'من مانی تاویل' تونہ کہہ سکتے۔

'تواصی بالحق' درحقیقت حق بات کی زور دار وعظ ونصیحت کو کہتے ہیں جبکہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر حق بات کی وعظ ونصیحت سے بڑھ کر اس کے لئے کچھ اقدامات کرنے کی بحث ہے۔ خود امر اور نہی کے الفاظ میں یہ بات بیان ہوئی ہے۔ ان اصطلاحات میں نفاذکا مفہوم بھی شامل ہے۔ ا س لئے تغییر (منکرکومعروف سے بدلنا) چاہے باللسان ہو یا بالید، یہ نہی عن المنکر کا موضوع تو ہوسکتا ہے لیکن تواصی بالحق کا موضوع ہرگزنہیں ہے۔

یہاں ایک اور بات کی وضاحت ضروری ہے کہ بعض لوگ منکر اور معصیت کو ایک ہی سمجھتے ہیں ، حالانکہ ان دونوں میں فرق ہے۔منکر کا لفظ وسیع مفہوم کا حامل ہے۔منکر میں معصیت کی نسبت کسی مسلم معاشرے کا ایک فعل کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنے کا مفہوم بھی اضافی طور پر پا یا جاتا ہے۔ امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے احیاء العلوم میں اس فرق کو کئی مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے مثلاً ایک بچہ پیشاب پی رہا ہو تو ہم اس کے اس فعل کو معصیت تونہیں کہیں گے کیونکہ وہ بلوغت سے پہلے شرعی احکام کامکلف نہیں ہے لیکن اس کا یہ فعل منکر ضرور ہے، اس لیے اسے اس فعل سے روکا جائے گا۔اسی طرح اگر کوئی پاگل زناکر رہا ہو تو وہ بھی مکلف نہ ہونے کی وجہ سے معصیت کا مرتکب نہیں ہے لیکن اس کا یہ فعل منکر ہے لہٰذا اسے اس فعل سے روکا جائے گا ۔اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم یا منکر خدا عمل قومِ لوط میں مبتلا ہو تو اگرچہ وہ شرعی احکام کا مکلف نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کو اس فعل سے روکنا نہی عن المنکر کے تحت آئے گا جیسا کہ اللہ تعالی نے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے فعل بد کے لیے {وَتَأْتُونَ فِى نَادِيكُمُ ٱلْمُنكَرَ‌ ۖ...﴿٢٩...سورۃ العنکبوت} کے الفاظ استعمال کیے۔

معلوم یہ ہوا ہے کہ منکر میں ہر معصیت شامل ہے لیکن ہر معصیت، منکر نہیں ہے۔یہ بات واضح رہے کہ بچے یا پاگل یا غیر مسلم کے اس فعل کا منکر ہونا ہمیں شریعت ہی سے معلوم ہوا ہے لہٰذا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ وحی نے کوئی ایسی چیزباقی نہیں چھوڑی کہ جس کے معروف و منکرہونے کے بارے میں عقل و فطرت کو حَکَم بنا نے کی ضرورت محسوس ہو۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکا وجوب و اہمیت
امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجباتِ شرعیہ میں سے ایک اہم ترین واجب ہے کہ جس کے وجوب پر قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت شاہد ہیں ۔قرآنِ مجید میں کئی جگہ اُمت ِمسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی تاکید کی گئی ہے،ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ‌ وَيَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ ۚ وَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٤...سورۃ آل عمران
''اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو خیر کی طرف بلائیـ۔ اُنہیں معروف کا حکم دے او رمنکر سے منع کرے اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں ۔''

امام قرطبی رحمة اللہ علیہ اس آیت ِمبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
و'مِنْ' في قوله تعالی:'منکم' للتبعیض۔ ومعناہ یجب أن یکونوا علماء ولیس کل الناس علماء وقیل لبیان الجنس والمعنی لتکونوا کلکم کذلك 19
اور مِنْ اللہ تعالی کے قول منکممیں تبعیض کے لیے ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ضروری ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے علما ہوں جبکہ تمام لوگ علما نہیں ہوتے اور ایک دوسرا قول یہ ہے کہمِن بیانِ جنس کیلئے ہے یعنی تم سب امر بالمعروف و نہی عن ا لمنکر کرو۔''

اس مفہوم میں قرآن کریم کی ایک اور آیت اس سے بھی زیادہ واضح ہے :
كُنتُمْ خَيْرَ‌ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌...﴿١١٠...سورۃ آل عمران
''تم لوگوں کے لئے نکالی گئی بہترین اُمت ہو۔ تم نیکی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو۔''

اسی طرح بہت سی احادیث میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید کی گئی ہے مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اوپر بیان ہو چکا ہے :
من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ فإن لم یستطع فبلسانه فإن لم یستطع فبقلبه وذلك أضعف الإیمان 20
''جو بھی تم میں سے کسی منکر کو دیکھے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دے۔ اگر اس کی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنی زبان سے اور اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتا تو اپنے دل سے۔''

اسی طرح علما کا اجماع بھی اس بات کی صریح دلیل ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے۔ امام ابو بکر جصاص رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
أکد اﷲ تعالی فرض الأمر بالمعروف والنھي عن المنکر في مواضع من کتابه وبینه رسول اﷲ ﷺ في أخبار متواترة عنه فیه وأجمع السلف وفقهاء الأمصار علی وجوبه 21
''اللہ تعالی نے امر بالمعرو و نہی عن المنکر کی فرضیت کو اپنی کتاب میں کئی جگہ تاکیداً بیان کیا ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی فرضیت کو ان احادیث میں بیان کیاہے جو کہ آپ سے متواتر مروی ہیں اور علما سلف اور تمام بلادِ اسلامیہ کے فقہا کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ فرض ہے۔''

امام نووی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
قد تطابق علی وجوب الأمر بالمعروف والنھي عن المنکر الکتاب والسنة وإجماع الأمة ۔۔۔ ووجوبه بالشرع لا بالعقل خلافا للمعتزلة 22
''امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فرض ہونے پر کتاب و سنت اور اجماعِ اُمت سبھی شاہد ہیں ۔۔اور اس کا فرض ہونا شرعاً ہے نہ کہ عقلاً جیسا کہ معتزلہ کا خیال ہے۔''

امر بالمعروف و نہی عن المنکر فرضِ عین یا فرضِ کفایہ
علما کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرضِ عین ہے یا فرضِ کفایہ؟جمہور علما کی رائے یہ ہے کہ یہ فرضِ کفایہ ہے جبکہ بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ یہ فرضِ عین ہے۔ علما کے ان اقوال میں تطبیق پیدا کرنے کے لیے امام شاطبی رحمة اللہ علیہ نے بڑی عمدہ بحث کی ہے،وہ فرماتے ہیں :
قد یصح أن یقال أنه واجب علی الجمیع علی وجه من التجوز لأن القیام بذلك الفرض قیام بمصلحة عامة فھم مطلوبون بسدھا علی الجملة فبعضھم ھو قادر علیھا مباشرة وذلك من کان أھلا لھا والباقون وإن لم یقدروا علیھا قادرون علی إقامة القادرین فمن کان قادرا علی الولایة فھو مطلوب بإقامتھا ومن لا یقدر علیھا مطلوب بأمر آخر وھو إقامة ذلك القادر وإجبارہ علی القیام بھا 23
''یہ کہنا مجازاًصحیح ہو گا کہ وہ ( فرضِ کفایہ)سب پر ہی فرض ہے کیونکہ اس فرض کو قائم کرنا درحقیقت دین کی ایک عمومی مصلحت کو پوراکرناہے اور اس عمومی مصلحت کے پورا کرنے کامطالبہ سب مسلمانوں سے ہے۔ پس بعض تو اس فرضِ کفایہ کوخود انجام دینے کی قدرت رکھتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جن میں اس فرض کی ادائیگی کی اہلیت ہوجبکہ باقی افراد اگرچہ اس فرض کی ادائیگی پر تو قادر نہیں ہیں لیکن وہ اس فرض کی قدرت رکھنے والوں کو ا س فرض کی ادائیگی کے لیے کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں پس جو شخص اس فرض کی ادئیگی پر قادر ہو تو اس سے اس فرض کی اقامت مطلوب ہے اور جو اس فرض کی اقامت پر قادر نہ ہو تو اس سے ایک اور چیز مطلوب ہے اور وہ یہ کہ وہ اس فرض کی ادائیگی کی قدرت رکھنے والے کو اس فرض کی اقامت کے لیے کھڑا کرے اور اسے اس فرض کے قائم کرنے پر مجبور کرے۔ ''

پس یہ معلوم ہوا کہ جو لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی استطاعت اور قدرت رکھتے ہیں تو ان پر اس فریضے کی ادائیگی فرضِ عین ہے جبکہ باقی افراد کا فرض یہ ہے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی استطاعت و قوت رکھنے والوں کو اس فرض کی ادائیگی پر مجبور کریں ۔اس اعتبار سے امام شاطبی رحمة اللہ علیہ کے نزدیک اس فریضے کے اقامت میں تمام لوگ شامل ہوجائیں گے۔

یہ واضح رہے کہ جو صاحب ِاستطاعت ہے، اس کے حق میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض عین ہو جاتا ہے۔ اس بارے میں امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
وھو فرض علی الکفایة ویصیر فرض عین علی القادر الذي لم یقم به غیرہ 24
''یہ فرضِ کفایہ ہے لیکن اس شخص پر یہ فرضِ عین ہو جاتاہے جو کہ اس پر قادر ہوجبکہ اس کے علاوہ اس فرض کو کو ئی اور انجام بھی نہ دے رہا ہو۔''

اس اعتبار سے حدودو تعزیرات کا نفاذ اصحابِ اقتدار اور اُمرا پر فرضِ عین ہے کیونکہ ا س فریضہ کی ادائیگی پر صرف یہی لوگ قادر ہیں ۔ اسی طرح اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ کوئی بھی انجام نہ دے رہا ہو تویہ بھی اصحابِ اقتدار پر فرضِ عین ہو گا۔

فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کی تقسیم میں ہمارے ہاں بڑے مغالطے پائے جاتے ہیں ۔ ہم ان غلط فہمیوں کو دورکرنے اور فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کے باہمی ربط و تعلق کو واضح کرنے کے لیے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بھلائی کو فروغ دینے اور برائی کے خاتمے کے لئے جو احکامات دیے ہیں ، ان میں مخاطبین کی دو حیثیتیں ہیں :
1. اگرا للہ کی طرف سے دیے گئے احکامات میں براہِ راست فرد مخاطب ہوتو معاشرے سے خطا ب بالواسطہ ہوگا، اسے فرضِ عین کہتے ہیں ۔
2. اگران احکامات میں اصل مخاطب معاشرہ یا جماعت ہواور جبکہ اشخاص، معاشرہ یا جماعت کے توسط سے میں شامل ہوں گے تویہ فرضِ کفایہ ہوگا۔

گویادونوں صورتوں میں انفرادی اور اجتماعی طور پر فرد و معاشرہ فرض کی ادائیگی کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ فرضِ عین میں براہِ راست خطاب فرد سے ہوتا ہے جبکہ فرضِ کفایہ میں اصل مخاطب معاشرہ یا جماعت ہوتی ہے۔ اس کی سادہ سی مثال رفاہِ عامہ کے کام اور معاشرے کی اصلاح ہے جوبلاشبہ حکومت کا فرض تو ہے ہی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے افرادیا این جی اوز(NGOs)بھی نہ صرف رفاہی اُمور انجام دیتے ہیں بلکہ حکومتوں سے بھی بازی لے جاتے ہیں ۔ یہ این جی اوز جس طرح رفاہی امور انجام دیتی ہیں اسی طرح اُنہیں معاشرے میں موجودسماجی خرابیوں کا بھی علاج کرنا چاہئے۔

معاشرتی اصلاح و بہبود کے اس عمل کی مثبت اور منفی دونوں جہتوں کا کوئی صاحب ِعقل انکار نہیں کرسکتا۔ لہٰذابلاشبہ معاشرے کی اصلاح و بہبود کے کام حکومت کے علاوہ عوام الناس یا کوئی سرکاری یا غیر سرکاری جماعت بھی انجام دے سکتی ہے لیکن فرد کے بجائے جب معاشرتی سطح پر کام کیا جائے تو یہ فرق ہوتاہے کہ اگرچہ کام تو افراد ہی کرتے ہیں لیکن سماجی انجمنوں کے کام انجام دینے کے بعد عام افراد سے یہ بوجھ اُتر جاتا ہے اسی لئے اسے فرضِ کفایہ (کچھ افراد کے کام نے سب کوکفایت کردیا) کہتے ہیں جبکہ فرضِ عین بعینہٖ(ہر فرد عین پر) لازم ہوتا ہے مثلاً بعض افراد کے پانچ نمازیں پڑھنے سے تمام معاشر ے سے نماز کی ادائیگی کی ذمہ داری ساقط نہ ہوگی جبکہ نمازِجنازہ اگر متعلقین ادا کرلیں تو تمام معاشرے کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے اسی لیے نمازِ جنازہ کو فرضِ کفایہ کہتے ہیں ۔

فرضِ عین اور فرضِ کفایہ کی تقسیم ایک اور اعتبار سے بھی کی جاسکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ شرع کا اصل مقصد یا تو بھلائی کو صرف وجود میں لانااوربرائی کا خاتمہ ہوتاہے یا ہر فرد و بشر کو اس کام کا مکلف بنانا بھی مقصود ہوتاہے۔ اگر کام کے ساتھ فرد کی ذاتی ذمہ داری بھی مطلوب ہو تو وہ فرضِ عین ہوگا اور اگر صرف کارِ خیر کا وجود مقصودہو تووہ فرضِ کفایہ ہوگا چنانچہ جب کام ہی مطلوب تھا اور وہ تکمیل پذیر ہوگیا تو مقصود حاصل ہوا،اس لیے باقی افراد سے اس فریضے کی ادائیگی کی ذمہ داری ساقط ہو جائے گی جیساکہ جہاد و قتال کا فریضہ ہے۔ اور اگر فرد کی ذاتی ذمہ داری بھی مطلوب ہے تو پھر اس کا ذاتی طور پر بھی اس عمل کو کرنالازم ہو گا جیسے اسلام کے ارکانِ خمسہ نماز،روزہ وغیرہ چنانچہ صرف ریاست کے اسلامی کلمہ (طیبہ) کے حامل ہونے کی بنا پر تمام شہری مسلمان نہ ہوں گے بلکہ اقلیتوں کے وجود کی بھی گنجائش ہو گی۔

جناب غامدی صاحب کو یہ غلطی لگی ہے کہ وہ روے زمین پر بسنے والے انسانوں کو صرف افراد کی حیثیت سے یا حکمران کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں جبکہ سماج و معاشرہ کی اہمیت کووہ نظر انداز کر رہے ہیں حالانکہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فرض کی ادائیگی کے لیے سماج ومعاشرہ بھی (غیر سیاسی حیثیت سے) بہت اہم ذمہ داریوں کا حامل ہے ۔لہٰذا وہ جس طرح امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کو ریاست کی انتظامیہ کے ساتھ خاص کر کے اصحابِ اقتدار کے اختیارات کے گن تو گارہے ہیں لیکن اُنہوں نے یہ بھی غور نہیں کیا کہ ان کی نام نہاد جمہوریت میں حکومت کی ذمہ داری تو عارضی ہوتی ہے جبکہ عوام کی سیاسی حاکمیت ہمیشہ بحال رہتی ہے اوریہ علم سیاسیات کی ایک اُصولی بات ہے کہ حکومتیں عوامی دباؤ سے بھی بہت سے کام کرتی ہیں چنانچہ چیک اینڈ بیلنس کا نظام بھی ریاست کے نظم و نسق کے لیے اشد ضروری ہے اوراربابِ اقتدار کو سیدھا رکھنے کا یہ کام سیاسی مقتدرِ اعلیٰ (سیاسی جماعتیں اور عوام) ہی انجام دیتے ہیں ،اس لیے أمر بالمعروف و نهي عن المنکر یقیناعوام الناس کا بھی فریضہ ہے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور شرطِ عدالت
بعض علما نے کہا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے عدالت شرط ہے یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی معروف پر عمل پیرا ہو اور منکر سے روکنے والا ہو۔کسی حد تک یہ شرط لگانا صحیح ہے کیونکہ قرآن نے ان لوگوں پر تنقید کی ہے جو کسی دوسروں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہیں لیکن خود نیکی نہیں کرتے ۔

جیسا کہ ارشادِ باری ہے :

أَتَأْمُرُ‌ونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبِرِّ‌ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَكُمْ...﴿٤٤...سورۃ البقرۃ
''کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنی جانوں کو بھول جاتے ہو۔''
لیکن یہ کہناکہ جو شخص کسی معروف کا تارک ہو یا کسی منکر کا مرتکب ہو تو اس پر سے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کافریضہ ساقط ہو جاتا ہے،پوری طرح صحیح نہیں ہے۔

امام ابو بکر جصاص رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
من لم یفعل سائر المعروف ولم ینته سائر المناکیر فإن فرض الأمربالمعروف والنھي عن المنکر غیر ساقط عنه 25
''جو تما م معروفات پر عمل پیر انہ ہو اور نہ ہی تمام منکرات سے بچا ہو ا تو اس سے امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا فریضہ ساقط نہیں ہوتا۔''

سعید ابن جبیر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
لو کان المرء لا یأمر بالمعروف ولا ینھی عن المنکر حتی لا یکون فیه شيء ما أمر أحد بمعروف ولا نھی عن منکر 26
''اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ اس وقت تک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرے گا جب تک کہ اس میں کوئی منکرہو تو اس طرح کوئی بھی کسی معروف کا نہ تو حکم دے سکتا ہے اور نہ ہی منکر سے منع کر سکتا ہے۔''

امام مالک رحمة اللہ علیہ سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ کے اس قول کے بارے میں فرماتے ہیں :

صدق من ذا الذي لیس فیه شيء 27
''سعید بن جبیر رحمة اللہ علیہ نے سچ کہا ہے کیونکہ کوئی بھی ایساشخص نہیں ہے کہ جس میں کوئی نہ کوئی منکر نہ پایا جاتا ہو۔''

حافظ ابن کثیر رحمة اللہ علیہ اس مسئلے میں فرماتے ہیں :
والصحیح أن العالم یأمر بالمعروف وإن لم یفعله وینھی عن المنکر وان ارتکبه 28
''صحیح بات یہ ہے کہ عالم معروف کا حکم دے گا، اگرچہ وہ خود اس کو نہ کرے اور منکر سے منع کرے گا، اگرچہ وہ خود اس کا مرتکب ہو۔''

امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا دائرئہ کار
أمر بالمعروف و نهي عن المنکر حوالے سے ایک چیز جو بہت ہی اہم ہے وہ یہ کہ اس کا دائرئہ کار کیا ہے۔ کیایہ صرف ریاست کی ذمہ داری ہے یاافراد کاذاتی سطح پر اور معاشرے کا بھی اس فریضے کی ادائیگی میں کوئی کردار ہے؟

جمہور علما کے نزدیک یہ فریضہ' ریاست' کے ساتھ ساتھ فرد اور عام معاشرے پر بھی عائدہوتا ہے ۔جبکہ ہمارے ہاں بعض متجددین نے اس کے لیے ریاست یا اس کی اجازت کو بطورِ شرط بیان کیا ہے ۔جناب علامہ جاوید احمد غامدی صاحب لکھتے ہیں :
''یہ حکم (یعنی أمر بالمعروف اور نهي عن المنکر) اربابِ اقتدار سے متعلق ہے ۔۔۔دوسرے لفظوں میں گویا قرآن کا منشا یہ ہے کہ فوج اور پولیس کی طرح اسلامی ریاست کے نظام میں ایک محکمہ قانونی اختیارات کے ساتھ امر بالمعروف اورنہی عن المنکرکے لیے قائم ہونا چاہیے۔۔۔قرآن مجید کی رو سے اُمت میں قیامِ حکومت کے بعد یہ فرض اس کے اربابِ حل و عقد پر عائد ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو خیر کی طرف بلاتے،منکر سے روکتے اور معروف کی تلقین کرتے رہیں ۔ ان پر لازم ہے کہ نظم ریاست سے متعلق دوسری تمام فطری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے ساتھ اپنی یہ ذمہ داری بھی لازماً پوری کریں ۔''29

غامدی صاحب کے نزد یک امر بالمعروف اور نہی عن المنکر حکومت یا صرف اس کی طرف سے متعین کردہ نمائندوں کا فریضہ ہے۔ ان کے نزدیک علما یا عوام الناس پر یہ فرض نہیں ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکریں ۔غامدی صاحب کایہ موقف قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت کے خلاف ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌...﴿٧١...سورۃ التوبہ
''مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ـ۔ وہ معروف کا حکم دیتے ہیں اور منکر سے منع کرتے ہیں ۔ ''

قرآن کی اس آیت سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریضہ عام ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم کی اور بھی بہت سی آیات اس بات شاہد ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ایک عام فریضہ ہے کہ جس میں حکومت و ریاست اور عوام و علما برابر کے شریک ہیں ۔ان آیات کو امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب إحیاء العلوم میں جمع کر دیا ہے ان میں ایک اور آیت ہم پیش کیے دیتے ہیں ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
لَّا خَيْرَ‌ فِى كَثِيرٍ‌ۢ مِّن نَّجْوَىٰهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ‌ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُ‌وفٍ أَوْ إِصْلَـٰحٍ بَيْنَ ٱلنَّاسِ ۚ...﴿١١٤....سورۃ النساء
''ان کی سرگوشیوں میں کوئی خیر نہیں ہے سوائے اس کے جس نے صدقہ کرنے کا حکم دیا یا کسی معروف کا حکم دیا یا لوگوں میں اصلاح کا حکم دیا۔ ''

انہی ارشاداتِ قرآنی وغیرہ کی رو سے علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر صرف اصحابِ اقتدار کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ عام مسلمانوں کے لیے بھی ثابت ہے ۔امام نووی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :
قال العلماء: ولا یختص الأمر بالمعروف والنھي عن المنکر بأصحاب الولایات بل ذلك ثابت لاحاد المسلمین۔ قال إمام الحرمین: والدلیل علیه إجماع المسلمین فإن غیر الولاة في الصدر الأول والعصر الذي یلیه کانوا یأمرون الولاة بالمعروف وینھوھم عن المنکر مع تقریر المسلمین إیاھم وترك توبیخھم علی التشاغل بالأمر بالمعروف والنھي عن المنکر من غیر ولاة 30
''علما نے کہا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اصحابِ اقتدار کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ یہ عام مسلمانوں کے لیے بھی ثابت ہے ۔امام الحرمین رحمة اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس بات کی دلیل مسلمانوں کا اجماع ہے کیونکہ صدرِ اوّل اور اس سے ملحق زمانوں میں عوام الناس،حکمرانوں کو معروف کا حکم دیتے تھے اور منکر سے منع کرتے تھے اور اس پر تمام مسلمانوں کی تقریر شاہد ہے۔ علاوہ ازیں تمام مسلمانوں کا حکمرانوں کے علاوہ افرادِ امت کے امر بالمعروف و نہی عن ا لمنکر میں مشغول ہو جانے پر کوئی انکار نہ کرنابھی ا س بات کی دلیل ہے کہ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یہ غیر حکمران کے لیے بھی روا ہے۔''

غامدی صاحب نے اپنے اس موقف کے اثبات کے لیے جو دلیل دی ہے، وہ قرآن کی درج ذیل آیت ہے :
ٱلَّذِينَ إِن مَّكَّنَّـٰهُمْ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ أَقَامُوا ٱلصَّلَو‌ٰةَ وَءَاتَوُا ٱلزَّكَو‌ٰةَ وَأَمَرُ‌وا بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَنَهَوْا عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ ۗ...﴿٤١...سورۃ الحج

اور یہ (اہل ایمان) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سرزمین میں اقتدار بخشیں تو نماز کا اہتمام کریں گے،زکوٰة ادا کریں گے،بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۔'' 31

ہم نے اس آیت کا ترجمہ وہی بیان ہے جو کہ غامدی صاحب نے اپنی کتاب 'میزان' میں لکھا ہے۔ غامدی صاحب نے اپنے اس ترجمے میں اس آیت کو اصحاب اقتدار کے ساتھ خاص کیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمة اللہ علیہ قرآن کی اسی آیت مبارکہ کی تفسیرکرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ألا إنھا لیست علی الوالي وحدہ ولکنھا علی الوالي والمولي علیه 32
''خبر دار یہ صرف حکمران کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ حکمران اور عوام الناس دونوں پر فرض ہے ۔''

کیونکہ 'تمکین فی الارض' صرف حکمران کو حاصل نہیں ہے بلکہ قرآن کی رُو سے ہر انسان کو کسی نہ کسی نوع کا تمکناس زمین میں حاصل ہے،

جیسا کہ ارشاد ہے:

وَلَقَدْ مَكَّنَّـٰكُمْ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَـٰيِشَ ۗ...﴿١٠...سورۃ الاعراف
''(اے انسانو!) ہم نے تم سب کو زمین میں جگہ دی ہے اور اسی میں تمہارے وسائل رزق رکھے ہیں ۔''

ظاہر ہے کہ تمام انسان زمین میں خلیفہ ہیں اور ہر انسان کوئی نہ کوئی اختیار رکھتا ہے لہٰذا جزوی اقتدار بھی ہر شخص کو حاصل ہے۔امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو اصحابِ اقتدار کے ساتھ خاص کرنا ایک ایسی غیرمنطقی اور خلافِ عقل بات ہے جس کا ردّ قرآن و سنت کی واضح و صریح نصوص کے علا وہ اجماعِ اُمت اورعقل عام سے بھی ہوتاہے۔ امام غزالی رحمة اللہ علیہ ،غامدی صاحب جیسا موقف رکھنے والے افراد کا ردّ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ھذا الاشتراط فاسد فإن الآیات والأخبار التي أوردناھا تدل علی أن کل من رأی منکرا فسکت علیه عصی إذ یجب نھیه أینما رأہ وکیفما رأہ علی العموم فالتخصیص بشرط التفویض من الإمام تحکم لا أصل له...استمرار عادات السلف علی الحسبة علی الولاة قاطع بإجماعھم علی الاستغناء عن التفویض بل کل من أمر بمعروف فإن کان الوالي راضیا به فذاك وإن کان ساخطا له فسخطه له منکر یجب الإنکار علیه فکیف یحتاج إلی أذنه في الإنکار علیه 33
''یہ شرط لگانا(کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے حکومت کی اجازت ضروری ہے) ہی فاسد ہے کیونکہ آیات اور احادیث جن کا ہم نے تذکرہ کیا ہے، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس نے بھی کسی منکر کو دیکھا اور اور اس پر سکوت اختیار کیا تو اس نے اللہ کی نافرمانی کی کیونکہ اس پر اس منکر سے روکنا واجب تھا۔ چاہے،جہاں بھی اس نے اس منکر کو دیکھا ہواور جس حالت میں بھی دیکھا ہو۔پس اس عام حکم میں اس شرط کے ساتھ تخصیص پیدا کرنا کہ نہی عن المنکر اس وقت فرض ہو گا جبکہ امام کی اجازت ہو، بلا دلیل ہے اور اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔۔۔سلف صالحین کایہ مسلسل طرزِ عمل کہ وہ حکمرانوں کا احتساب کرتے رہے، اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اس فریضے کی ادئیگی کے لیے حکمرانوں کی طرف سے مامور ہوناقطعاً ضروری نہیں ہے۔پس جس نے بھی معروف کا حکم دیا اور حکمران نے اس کو پسند کیا تو یہی چیز مطلوب ہے اور اگر حکمران اس معروف کے حکم کرنے سے ناراض ہوا تو حکمران کی یہ ناراضگی خود ایسا منکر ہے کہ جس کا انکار واجب ہے۔ اس صورت میں یہ شخص حکمران سے صادر ہونے والے اس منکر کے انکار کے لیے کیسے اس کی اجازت کا محتاج ہوگا؟

امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا میدانِ عمل
ہم یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ریاست اور اس کے افراد دونوں کی ذمہ داری ہے اور یہی موقف قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ فریضہ ادا کرتے وقت ایک ریاست اور عام شہری یا مسلمانوں کی تنظیم کے دائرئہ عمل میں کچھ فرق ضرور ہو گا۔لیکن اس فرق کے باوجود فرد اور ریا ست دونوں کے لیے یہ دائرئہ عمل بہت وسیع ہے ۔جناب جاوید احمد غامدی کی رائے اس سلسلے میں یہ ہے کہ وہ ایک فرد کے دائرئہ عمل کو اپنے گھر،اعزہ واقارب اور احباب تک محدود کر دیتے ہیں ۔ جناب غامدی صاحب لکھتے ہیں :
''اس دعوت کا اصل دائرئہ عمل،جس طرح کہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کے الفاظ سے واضح ہے،ہر شخص کا اپنا ماحول ہے۔اس کو یہ کام اپنے گھر،اپنے اعزہ و اقارب اور اپنے احباب ہی میں کرنا چاہیے۔۔۔ اسی 'تواصو بالحق' کے تحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ اگر کوئی منکر دیکھیں تو اپنے دائرئہ اختیار میں اس کا اِزالہ کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔شوہر،باپ،حکمران سب اپنے اپنے دائرئہ اختیار میں لاریب اسی کے مکلف ہیں کہ منکر کو قوت سے مٹا دیں ۔''34

غامدی صاحب نے تغییرالمنکرکے لیے دائرئہ اختیار کی جو شرط لگائی ہے، وہ امام نووی رحمة اللہ علیہ کے بقول اجماع کے خلاف ہے جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کیونکہ بھلائی کے پہلے قرونِ ثلاثہ میں عوام الناس اور علما 'اپنے حکمرانوں کو امر بالمعروف و نہی عن ا لمنکرکرتے رہے اور حکمران تو عوام الناس اور علما کے دائرئہ اختیار میں نہیں آتے۔اسی طرح صحیح مسلم کی ایک روایت ہے:
عن عبد اﷲ بن مسعود أن رسول اﷲ ﷺ قال ما من نبي بعثه اﷲ تعالی في أمة قبلي إلا کان له من أمته حواریون وأصحاب یأخذون بسنته ویقتدون بأمرہ ثم إنھا تخلف من بعدھم خلوف یقولون ما لا یفعلون ویفعلون ما لا یؤمرون فمن جاھدھم بیدہ فھو مؤمن ومن جاھدھم بلسانه فھو مؤمن ومن جاھدھم بقلبه فھو مؤمن ولیس وراء ذلك من الإیمان حبة خردل 35
''حضرت عبداللہ بن مسعود ؓسے روایت ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا: مجھ سے پہلی اُمتوں میں کوئی بھی ایسا نبی نہیں گزرا کہ جس کے لیے اللہ تعالی نے اس کی اُمت میں سے کچھ اصحاب اور حواری نہ بنائے ہوں جو کہ اس نبی کی سنت کو پکڑتے اور اس کی اقتدا کرتے تھے۔پھر ان کے بعد کچھ ناخلف قسم کے لوگ جانشین بنتے جو ایسی باتیں کرتے تھے جو کہ وہ نہیں کرتے تھے اور ایسے کام کرتے تھے جن کا ان کو حکم نہیں دیا جاتاپس جو ان سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے تو وہ مؤمن ہے اور جو کوئی ان سے اپنی زبان سے جہاد کرے تو وہ بھی مؤمن ہے اور جو کوئی ان سے اپنے دل سے جہاد کرے تو وہ بھی مؤمن ہے اور اس کے بعد تو رائی کے برابربھی ایمان نہیں ہے۔''

اس حدیث میں ناخلف اور نااہل حکمرانوں کے خلاف ہاتھ سے جہاد کو ایمان قرار دیا گیا ہے، حالانکہ حکمران ایک عام انسان کے دائرئہ اختیار میں داخل نہیں ہیں ۔ اسی طرح ایک حسن حدیث میں جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے کو افضل جہاد کہا گیا ہے(iii) اور یہ بھی زبان کے ساتھ امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہی ہے ۔

اگر تو کوئی شخص کسی منکر کا ارتکاب کر چکا ہوتو ا س پر حد یا تعزیر جاری کرنے کامعاملہ تو بلاشبہ حکومت یا امام کی ذمہ داری ہے لیکن اگرکوئی شخص کسی معصیت یامنکر کو دیکھ رہاہو تو اس دیکھنے والے کے لیے بھی اس معصیت یا منکر کا اِزالہ واجب ہو گا، اگر وہ اس کے ازالے کی قدرت رکھتا ہو۔امام ابو بکر جصاص رحمة اللہ علیہ نے اس مسئلے پر بڑی ہی مدلل گفتگو کی ہے ، فرماتے ہیں :
وفي ھذہ الأخبار دلالة علی أن الأمر بالمعروف والنھي عن المنکر لھما حالان: حال یمکن فیھا تغییر المنکر وإزالته،ففرض علی من أمکنه إزالة ذلك بیدہ أن یزیله، وإزالته بالید تکون علی وجوہ: منھا أن لا یمکنه إزالته إلا بالسیف وأن یأتي علی نفس فاعل المنکر فعلیه أن یفعل ذلك کمن رأی رجلا قصدہ أو قصد غیرہ بقتله أو یأخذ ماله أو قصد الزنا بامرأة أو نحو ذلك وعلم أنه لا ینتھي إن أنکرہ بالقول أو قاتله بما دون السلاح فعلیه أن یقتله لقوله ﷺ (من رأی منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ) فإذا لم یمکنه تغییرہ بیدہ إلا بقتل المقیم علی ھذا المنکر فعلیه أن یقتله فرضا عليه وإن غلب في ظنه أنه إن أنکرہ بیدہ ودفعه عنه بغیر سلاح انتھی عنه لم یجز له الإقدام علی قتله۔۔۔ وکذلك قال أبوحنیفة في السارق إذا أخذ المتاع ووسعك أن تتبعه حتی تقتله إن لم یرد المتاع قال محمد: قال أبو حنیفة في اللص الذي ینقب البیوت: یسعك قتله 36
''ان احادیث ِمبارکہ میں امر بالمعروف و نہی عن المنکرکی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں : ایک صورت تو یہ ہے کہ جس میں منکر کی تغییر اور اس کا اِزالہ ممکن ہو پس جو شخص اس منکر کوہا تھ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اس پر ہاتھ سے اس منکر کو ختم کرنا فرض ہے اور کسی منکر کو ہاتھ سے ختم کرنے کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں ۔ ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ اس منکر کا خاتمہ تلوار کے بغیراور اس منکر کے فاعل کی جان لیے بغیر ممکن نہ ہو تو اس پر ضروری ہے کہ وہ ایسا کر گزرے۔مثلاً ایک شخص اس کے یا کسی دوسرے شخص کے قتل کا ارادہ کر رہا ہے یا وہ ا س کا مال چھیننا چاہتا ہے یا وہ کسی عورت سے زنا کرنا چاہتا ہے یا اس قسم کا کوئی اور کام کرنا چاہتا ہے تو یہ بات بھی معلوم ہو کہ اگر وہ اس شخص کو صرف زبان سے منع کرے گا یا بغیر کسی ہتھیار کے اس سے لڑائی کرے گا تو باز نہیں آئے گا، ایسی صورت میں اس شخص کے لیے اس منکر کے ارتکاب کرنے والے کو قتل کرنا لازم ہے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو بھی تم میں سے کسی منکر کو دیکھے تو وہ اس کو ختم کر دے پس جب اس منکر کی ہاتھ کے ساتھ تغییر اس منکر کے مرتکب کے قتل کیے بغیر ممکن نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ وہ اس منکر کے مرتکب کو قتل کر دے اور اگر اس شخص کاغالب گمان یہ ہو کہ اگروہ منکر کے مرتکب کو بغیر کسی ہتھیار کے استعمال کے صرف ہاتھ سے روک دے تو وہ اس سے رک جائے گا تو اس کے لیے منکر کے مرتکب کو قتل کرنا جائز نہیں ہے۔۔۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے اس چور کے بارے میں جو تمہار امال لے جائے،کہا ہے کہ تیرے لیے گنجائش ہے کہ تو اس کا پیچھا کراور اگر وہ تیرا مال نہ واپس کرے تو تو اس کو قتل کر دے۔ امام محمد رحمة اللہ علیہ نے کہا کہ امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ نے اس چور کے بارے میں جو گھروں میں نقب لگاتا ہے، کہاہے :تیرے لیے اس کو قتل کرنے کی گنجائش ہے۔''

امام قرطبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
أجمع المسلمون في ما ذکر ابن عبد البر أن المنکر واجب تغییرہ علی کل من قدر علیه 37
''ابن عبد البر رحمة اللہ علیہ نے اس بات پر علما کا اجماع نقل کیاہے کہ ہر اس شخص پر منکر کی تغییر واجب ہے جو کہ اس کی تغییر کی قدرت رکھتا ہو۔''

لیکن قدرت کے باوجود اگر نہی عن المنکر سے کسی بڑے منکر یا بعض دوسرے مفاسدکے پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو علما اس کو جائز قرار نہیں دیتے۔ اس مسئلے پر امام ابن قیم رحمة اللہ علیہ کی تحریر بڑی ہی مؤثرہے۔ فرماتے ہیں :
إنکار المنکر أربع درجات: الأولی أن یزول ویخلفه ضدہ۔الثانیة أن یقل وإن لم یزل بجملته۔ الثالثة أن یخلفه ما ھومثله۔ الرابعة أن یخلفه ما ھو شر منه۔فالدرجتان الأولتان مشروعتان والثالثة موضع اجتهاد والرابعة محرمة 38
''انکارِ منکر کے چار درجات ہیں : پہلا درجہ وہ ہے کہ جس سے منکر ختم ہو جائے اور اس کی جگہ معروف قائم ہو جائے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ منکر کم ہو جائے، اگرچہ مکمل ختم نہ ہو۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ وہ منکر تو ختم ہو جائے لیکن اس کی جگہ ایک ویسا ہی منکر اور آ جائے اور چوتھا درجہ یہ ہے کہ اس منکر کے خاتمے کے بعد اس سے بھی بڑا اور بدترین منکر آ جائے ۔پس پہلے دو درجے مشروع ہیں جبکہ تیسرا درجہ اجتہاد کا میدان ہے اور چو تھا درجہ حرام ہے ۔''

شاید یہی آخری درجہ ہے جس کے حوالے سے علما کی ایک کثیر تعداد جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کے موقف کو تو درست لیکن طریق کار کو غلط قرار دیتی ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس طریق کارسے ایک بڑے شر کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لیکن ہم اس پر اتنا کہہ کر اپنی اس بحث کو ختم کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا کہ اس منکر کے اس طرح خاتمے کے لیے جدو جہد کرنے سے کوئی بڑا منکر پیدا ہو گا یا نہیں ؟ ایک اجتہادی امر ہے جس میں اختلاف کی گنجائش بہر حال موجود ہے ۔و اللہ أعلم بالصواب



حوالہ جات
1. جامع البیان في تفسیر آیات القرآن؛سورة آلِ عمران:110
2. مسند احمد:جلد4؍ص453
3. البحر المحیط؛ آلِ عمران:104
4. أحکام القرآن؛ سورة آلِ عمران، باب فرض الأمر بالمعروف
5. روح المعانی؛ سورة آل عمران:110
6. الزواجر:جلد3؍ص161
7. فتح الباری:کتاب الأدب، باب کل معروف صدقة
8. المبین المعین لفهم الأربعین:ص188بحوالہ 'معروف منکر' از جلال الدین عمری:ص79
9. التیسیر بشرح الجامع الصغیر:جلد2؍ص418
10. العقیدة الأصفهانیة :ص121
11. إرشادالفحول:ص74
12. النھایة :جلد3،ص442
13. حاشیة الصاوي علیٰ تفسیر الجلالین:جلد1؍ص152
14. روح البیان:جلد۱؍ ص959بحوالہ معروف منکر :ص96
15. مفردات :ص331
16. میزان:ص 48،49
17. صحیح مسلم:کتاب الإیمان،باب کون النهي عن المنکرمن الإیمان
18. صحیح مسلم:کتاب الإیمان،باب کون النھی عن المنکرمن الإیمان
19. الجامع لأحکام القرآن:سورة آلِ عمران:104
20. صحیح مسلم:کتاب الإیمان، باب کون النھي عن المنکر من الإیمان
21. أحکام القرآن:سورة المائدة ،باب الأمر بالمعروف و النھي عن المنکر
22. شرح النووی مع صحیح مسلم'کتاب الأیمان'باب کون النھي عن المنکر من الإیمان
23. الموافقات:جلد1؍ص178تا179
24. الحسبة في الإسلام:ص37
25. أحکام القرآن:سورة آلِ عمران،باب فرض الأمر بالمعروف و النھي عن المنکر
26. تفسیر ابن کثیر؛ البقرة :44
27. ایضاً
28. ایضاً
29. میزان:ص212
30. شرح النووی مع صحیح مسلم:کتاب الإیمان، باب کون النھي عن المنکر من الإیمان
31. میزان:ص212
32. تفسیر ابن کثیر:سورة الحج:41
33. احیاء العلوم:جلد2؍ص151'152
34. میزان:ص214'215'216
35. صحیح مسلم: کتاب الإیمان،باب کون النھي عن المنکر من الإیمان
36. احکام القرآن:سورة آل عمران،باب فرض الأمر بالمعروف و النهي عن المنکر
37. تفسیر القرطبی:جلد4؍ص49
38. اِعلام ا لموقعین: جلد 3؍ص151

 


 

i. "اشراق" کے نائب مدیر سید منظور الحسن اپنے مضمون "اسلام اور موسیقی "جو ]جاوید غامدی کے افادات [ پر مبنی ہے میں لکھتے ہیں : ""موسیقی انسانی فطرت کا جائز اظہار ہے، اس لئے اس کے مباح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔"" ... ""ماہر فن مغنیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اپنا گانا سنانے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے سیدہ عائشہ کو اس کا گانا سنوایا، سیدہ عائشہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شانے پر سررکھ کر بہت دیر تک گانا سنتی اور رقص دیکھتی رہیں ۔"" (اشراق بابت مارچ 2004ء، ص 8 و 19)
ii. "جیو" کا پروگرام "غامدی" بعنوان "معروف ومنکر" مؤرخہ 20اپریل 2007ء، 8 بجے رات
iii. (أفضل الجهاد کلمة عدل عند سلطان جائر) (سنن ابو داود: 4344)