میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

مدینہ منورہ یونیورسٹی کے اُستاذِ حدیث اور نامور علمی، تحریکی اور تدریسی شخصیت مولانا عبد الغفار حسن رحمانی کا سانحۂ ارتحال
خاندانِ عمرپور کے چشم و چراغ اور ہندوپاک میں علم حدیث کی ترویج و فروغ کے ایک عالی دماغ، مولاناعبدالغفار حسن رحمانی عمرپوری رحمة اللہ علیہ 93برس آٹھ ماہ کی بھرپور زندگی گزار کر جمعرات 22 مارچ کی صبح اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ تعلیم و تعلّم کے اعتبار سے اُنہوں نے دار الحدیث رحمانیہ، دہلی سے سند ِفراغت حاصل کی۔ پاکستان ہجرت کرنے سے قبل بنارس اور مالیرکوٹلہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ پاکستان پہنچ کر جماعت ِاسلامی کی صف اوّل کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر جماعت کے شعبۂ تربیت کواستحکام بخشا اور اس مقصد کے لئے 'انتخابِ حدیث' سے موسوم ایک مجموعہ حدیث ترتیب دیا۔ 1987ء میں جماعت سے علیحدگی کے بعدد وبارہ درس و تدریس کی مسند سنبھالی۔ جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ، جامعہ سلفیہ اور مدرسہ دارالقرآن والحدیث، فیصل آباد اور دار الحدیث رحمانیہ، کراچی میں علم حدیث کی شںعی روشن کیں ۔ 1964ء میں اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کی استدعا پر حجاز منتقل ہوگئے اور پھر مذکورہ جامعہ میں اٹھارہ سال دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے تشنگانِ علم کی پیاس بجھاتے رہے۔ 1982ء میں پاکستان واپسی کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر کی حیثیت سے نو سال تک ان تمام مسائل میں اپنی بصیرت افروز آرا سے نوازا جو کونسل کو اسلامی قوانین کی تدوین کے سلسلہ میں بھیجے جاتے تھے۔ علوم حدیث پر اُن کے مقالات کا ایک مجموعہ 'عظمت ِحدیث' کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ قرآن اور حدیث سے متعلق متعدد مقالات کتابچوں کی شکل میں طبع ہوتے رہے ہیں اور ایسے ہی وہ دروسِ قرآن بھی جو انہوں نے مدینہ منورہ، جدہ اور پھر پاکستان کے کئی شہرو ں میں دیئے۔ جماعت ِاسلامی سے وابستگی کے دوران مشرقی پاکستان اور پھر اپنے صاحبزادے ڈاکٹر صہیب حسن کی دعوت پر کینیا اور پھر انگلینڈ کابھی دورہ کیا۔ رفیقۂ حیات پندرہ سال قبل اسلام آباد ہی میں وفات پاچکی تھیں ۔پسماندگان میں ایک بیٹی اورسات بیٹے شامل ہیں اور پھر ان کے توسط سے اپنی زندگی میں پوتے، پوتیوں ، نواسے، نواسیوں کی ایک کثیر تعداد کو دیکھا اور جس طرح ان کی آبائی دو پشتیں علم و عمل کے لحاظ سے روشنی کا مینارتھیں ، ویسے ان کی اگلی دو نسلیں درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور دعوت و تبلیغ میں کوشاں ہیں ۔ ان کی نمازِ جنازہ میں اقربا اور احباب کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جمعتہ المبارک23؍مارچ2007ء کو صبح دس بجے اسلام آباد میں ان کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر صہیب حسن نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور تدفین کے بعد چھوٹے صاحبزادے ڈاکٹرسہیل حسن نے مسنون دعا کی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور اپنے کرم و رحمت سے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں ۔آمین!


مولانا عبدالغفار حسن 20؍جولائی 1913ء کو اپنے آبائی وطن عمرپور میں پیدا ہوئے۔ صغرسنی میں ہی دادا، والد اور والدہ یکے بعد دیگر ایک ہی سال(1916ء) میں وفات پاگئے۔ صرف دادی بقید ِحیات تھیں ، انہی کی تربیت،کوشش اوردعاؤں سے حصولِ علم کی مختلف منزلیں طے کیں اور اللہ تعالیٰ نے سعی و عمل کے ہر میدان میں کامیابی عطا فرمائی۔ اس اولوالعزم خاتون نے 1928ء میں وفات پائی۔ اللھم اغفرلھا وارحمھا !

مولانا عبدالغفار حسن نے حصو لِ علم کے سفر کا آغاز دہلی کی درس گاہ 'دارالہدیٰ' سے کیا جو وہاں کے محلہ کشن گنج میں واقع تھی۔ اس درس گاہ میں ان کے دادامولانا عبدالجبار عمرپوری، والد ِمکرم مولانا حافظ عبدالستار عمرپوری رحمة اللہ علیہ اور دیگر متعدد اساتذہ کرام علما و طلبا کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے رہے تھے۔ اس کے بعد دارالحدیث، کلکتہ اور دارالحدیث رحمانیہ، دہلی میں حصولِ علم میں مشغول رہے۔سند ِفراغت دسمبر 1933ء میں دارالحدیث، رحمانیہ سے لی۔ اساتذئہ کرام میں مولانا فضل الرحمن غازی پوری، حضرت مولانا احمد اللہ دہلوی، مولانا عبدالرحمن نگرنہسوی، مولانا محمد سورتی اور مولانا عبیداللہ رحمانی مبارک پوری شامل ہیں ۔ حضرت مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمة اللہ علیہ (صاحب ِتحفة الاحوذی) سے بھی جزوی طور پر استفادے کے مواقع میسر آئے۔ رحمہم اﷲ تعالیٰ رحمة واسعة !

اس کے بعد لکھنؤ یونیورسٹی سے فاضل ادب (عربی) کا امتحان دیا اور کامیاب ہوئے۔ پھر پنجاب یونیورسٹی سے مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ یہ مراحل طے ہونے کے بعد ان کا قافلۂ عمل وسعی جن جن منزلوں سے گزرا، اس سے آگاہی کے لئے ان کی کتاب 'عظمت ِحدیث' کا مطالعہ مفید ہوگا جس میں انہوں نے مختلف مراحل کا ذکر کیا ہے۔اس کی بعض تفصیلات 1994ء کے ہفت روزہ 'الاعتصام' کے متعدد شماروں اور اس انٹرویو میں بھی ہیں جو ان سے خالد سیال صاحب نے کیا اور دسمبر 1996ء کے ماہنامہ 'شہادت' اسلام آباد میں چھپا۔ مثلاً

1936ء سے 1942ء تک سات سال مدرسہ رحمانیہ، بنارس میں تفسیر و حدیث، ادب عربی اور دیگر علومِ عربیہ و اسلامیہ کی تدریس کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔
1942ء کے اگست میں مشرقی پنجاب کے شہر مالیرکوٹلہ چلے گئے۔ مئی 1948ء تک (چھ سال) وہاں کے مدرسہ کوثر العلوم میں ان کی تدریسی سرگرمیاں جاری رہیں ۔ یہ وہاں کی انجمن اہل حدیث کا مدرسہ تھا۔ وہاں کی جامع مسجد اہل حدیث کی خطابت بھی ان کے ذمے تھی۔

مولانا عبدالغفار حسن تین بار مولانا مودودی کی حیات میں جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر بھی بنائے گئے۔1953ء کی تحریک ِتحفظ ختم نبوت کے زمانے مںب گرفتار ہوئے اور گیارہ مہینے جیل میں رہے۔ کئی سال سیالکوٹ، راولپنڈی، کراچی، ساہیوال اور لائل پور (فیصل آباد) وغیرہ شہروں میں ان کا سلسلۂ درس و تدریس جاری رہا۔

اکتوبر 1964ء میں بغیر کسی درخواست کے اسلامی یونیورسٹی مدینہ طیبہ سے تدریس کے لئے دعوت آئی۔ 1980ء تک سولہ سال وہاں حدیث، علومِ حدیث اور اسلامی عقائد پر محاضرات (لیکچرز) دیتے رہے۔ اس طویل عرصے میں ایشیا، افریقہ، امریکہ، یورپ اور اسلامی ملکوں کے بے شمار علماء و طلبا نے ان سے استفادہ کیا۔ شریعت کالج، اُصولِ دین کالج، حدیث کالج وغیرہ جو مدینہ یونیورسٹی کے ماتحت ہیں ، ان کالجوں میں ان کے محاضرات اور تدریس کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کالجوں میں دنیا کے مختلف ممالک کے طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ وہ سب مولانا کے اندازِ تدریس اور اُسلوبِ تفہیم سے مطمئن تھے۔ اُنہوں نے مولانا سے خوب فیض حاصل کیا۔

1981ء سے 1985ء تک فیصل آباد کی جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ میں طلبا کو صحیح بخاری پڑھاتے رہے۔ اس کے علاوہ علومِ اسلامیہ کی بعض دوسری کتابوں کی تدریس کاسلسلہ بھی جاری رکھا۔
1981ء ہی میں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مقرر کئے گئے۔ کئی سال اس کونسل کے رکن رہے اور اس اثنا میں کتاب و سنت کی روشنی میں بہت سے اہم دینی مسائل کو موضوعِ تحقیق بنایا، جس کی تفصیل کونسل کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

مولانا ممدوح 1990ء سے مستقل طور پر اسلام آباد میں اقامت گزیں رہے۔ آپ کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ان کی حیاتِ مستعار کازیادہ تر حصہ درس و تدریس میں گزرا، اس لئے تصنیفی کام کے لئے وقت نہیں نکال سکے۔ چند چھوٹے چھوٹے رسالے لکھے یابعض اخباروں میں کچھ مضامین شائع ہوئے۔ ایک طویل مضمون 'ہندوستان کے دینی مدارس'کے عنوان سے 'الاعتصام' میں شائع ہوا۔ یہ قسط وار مضمون تھا جو 'الاعتصام 'کے یکم اپریل 1994ء کے شمارے سے شروع ہوا اور 27 جنوری 1995ء تک چھپتا رہا۔ درمیان میں کچھ تعطل بھی رہا۔ مختلف مدارس وشخصیات کے متعلق ان کا یہ تاثراتی اور مشاہداتی مضمون ہے جوبہت سی معلومات پر مشتمل ہے اوربڑا دلچسپ ہے۔ماہنامہ 'محدث' لاہور میں بھی 2001ء میں تفسیر قرآن پر آپ کا سلسلۂ مضامین شائع ہوتا رہا، جس میں اچھوتے تفسیری نکات پیش کئے جاتے۔

ان کی ایک کتاب 'عظمت ِحدیث' ہے جو تقریباً ساڑھے تین سو صفحات پرمحیط ہے۔ یہ کتاب حدیث اور علومِ حدیث کے تعارف اور حدیث کی حجیت و استناد کے موضوع پر ہے۔ اتنی ضخیم ان کی صرف یہی کتاب ہے۔ ایک چھوٹا سارسالہ 'معیاری خاتون' کے نام سے موسوم ہے، چند اور رسائل بھی ہیں ۔