کتب ِاحادیث میں صحیحین اوربالخصوص صحیح بخاری کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے جو شہرتِ دوام عطا فرمائی ہے، وہ کسی او رکتاب کو حاصل نہیں ۔ محدثین کرام رحمة اللہ علیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ صحیح بخاری کی تمام روایات صحیح اورقابل احتجاج ہیں ۔ اس کی احادیث کو تلقی بالقبول کا شرف حاصل ہے۔ البتہ معدودِ چند روایات اس تلقی سے خارج ہیں جن پر بعض محدثین نے اعتراض کیا ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی قطعاً نہیں کہ وہ احادیث ضعیف یا مردود ہیں ۔ علامہ الوزیر الیمانی نے انہی روایات کے بارے میں صاف صاف فرمایا ہے :
''اعلم أن المختلف فیه من حدیثھما ھو الیسیر ولیس ذلك الیسیر ما ھو مردود بطریق قطعیة ولا إجماعیة بل غایة ما فیه أنه لم ینعقد علیه الإجماع'' 1
''خوب جان لو کہ بخاری و مسلم کی یہ تھوڑی سی مختلف فیہ احادیث نہ قطعی طور پر ضعیف ہیں اور نہ ہی اجماعی طو رپر، بلکہ زیادہ سے زیادہ ان کے بارے میں یہ بات ہے کہ ان کی صحت پر اجماع نہیں ہوا۔''

یعنی وہ متکلم فیہ روایات بھی صحیح ہیں ، البتہ ان کی صحت پر اتفاق نہیں اور وہ تلقی بالقبول کے درجہ سے کم ہوگئی ہیں ۔ بالخصوص وہ روایات جن سے شیخین نے استدلال کیا ہے اور ترجمة الباب میں اوّل وہلہ میں اُنہیں ذکر کیا ہے، صحت کے اعتبار سے ان کا درجہ ان روایات سے فائق ہے جو متابعت اور شواہد میں مذکور ہیں ۔ خود امام مسلم رحمة اللہ علیہ نے بھی مقدمہ مسلم میں اس فرق کی طرف اشارہ کیا ہے اور دیگر ائمہ فن نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔

صحیحین کی متفق علیہ روایات میں ایک روایت حضرت عائشہؓ سے مروی ہے جس میں عید کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں جاریتین یعنی دو 'جاریہ' کے دف بجانے اور گانے کا ذکر ہے اور صحیحین ہی میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ''ولیستا بمغنیتین'' وہ دونوں پیشہ ور مغنیہ نہ تھیں ۔

یادرہے کہ موسیقی کے جواز کا فتویٰ دیتے ہوئے اس کی تائید و حمایت میں اربابِ اشراق نے اولاً تو ان الفاظ کو ذکر ہی نہ کیا تھا۔ہم نے بفضل اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس کی نشاندہی کی تو پھر اُنہوں نے ان الفاظ کو ضعیف ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کازور لگا دیا۔ ہم نے اس حوالے سے انکے خدشات کا اِزالہ کرنے کی کوشش کی مگر اس سے بھی ان کی تشفی نہیں ہوئی۔ چنانچہ ماہنامہ 'اشراق' ستمبر ۲۰۰۶ء کے شمارہ میں اپنے خطرات کو ایک نئے اُسلوب میں پیش کیا گیا جن کے بارے میں ہم اپنی معروضات اب قارئین کرام کی خدمت میں پیش(i) کررہے ہیں ۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری سمجھی گئی کہ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی ہے اور اربابِ اشراق سے پہلے کسی محدث یا کسی صاحب ِعلم نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ موسیقی کے جواز کا فتویٰ اربابِ اشراق کے علاوہ بعض اور حضرات نے بھی دیا ہے، مگر اُنہیں بھی اس کی جسارت نہیں ہوئی کہ وہ اس متفق علیہ روایت کو ضعیف قرار دیں ۔

حدیث ِعائشہؓ میں راوی کا تصرف
اربابِ اشراق کا اس حدیث پر پیش کردہ اشکال یہ ہے کہ یہاں ''قالت: ولیستا بمُغنّیتین'' یعنی اُمّ المومنین سیدہ عائشہؓ نے فرمایا کہ یہ دونوں پیشہ ور گانے والی نہیں تھیں ، اس جملہ کے بارے میں اہل اشراق کا نقطہ نظر یہ ہے کہ
''یہ حضرت عائشہؓ کا قول ہی نہیں ، یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے جسے اُنہوں نے متن میں شامل کردیا ہے۔'' 2

ان کے اس دعویٰ کی کہ  جوہم بحمدﷲ 'الاعتصام' (جلد 58؍عدد29،30)میں واضح کرچکے ہیں ۔ اب تازہ ارشاد جو اُنہوں نے فرمایا، طولِ بیان اور سخن سازی، جس میں ہم ان کی مہارت کے معترف ہیں ، سے قطع نظر اس کا خلاصہ یہ ہے کہ
''ذخیرۂ حدیث میں اس کی اَن گنت مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ایک راوی کوئی روایت بیان کرتا ہے اور اس کے متن میں کوئی ایسی بات بھی شامل کردیتا ہے جس کو وہ بربنائے فہم اصل روایت کا حصہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ اگر کسی موقعہ پراپنے شامل کردہ ٹکڑے کو قال یا قالت کہہ کر اوپر کے راوی کی طرف منسوب کردیتا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔'' 3

ہمیں تسلیم ہے کہ ذخیرۂ حدیث میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں ۔ محدثین نے اس نوعیت کی روایات کو مُدرج کی اصطلاح سے متعارف کروایا ہے اور اِدراج کے ثبوت کے لئے اُصول و ضوابط مقرر کئے ہیں اور اس نوعیت کی روایات کو مستقل کتابوں میں جمع کرکے ایسی روایات کی نشاندہی کی ہے۔ افسوس ہے کہ ان ضوابط سے منحرف ہوکر بلا دلیل محض اپنی فکر کی ہم نوائی میں کسی جملہ کو مدرج قرار دینا بہت بڑی جسارت ہے۔ محترم جناب عمار خان ناصر جو اس بحث میں اشراق کے ممدو معاون بنے ہیں اور ماشاء اللہ 'علمی نکات' سے اسے سہارا دے رہے ہیں ۔ انہی کے جد ِمحترم حضرت مولانا محمد سرفراز صفدر صاحب رقم طراز ہیں :
''محدثین کرام کاضابطہ ہے کہ جو جملہ حدیث کے ساتھ ہو تو وہ متصل ہی مانا جائے گا اور محض احتمال سے اِدراج ثابت نہیں ہوسکتا اور اِدراج کے اثبات کے لئے محدثین نے جو قواعد بیان کئے ہیں ، وہ یہ ہیں کہ مُدرج حصہ کسی دوسری روایت میں الگ آیا ہو، یا راوی صراحت سے بیان کرے کہ یہ مُدرج ہے، یااطلاع پانے والے اماموں میں سے کوئی اس کی تصریح کرے یا اس قول کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہونا محال ہو۔'' 4

مولانا صفدر صاحب نے جو کچھ فرمایا اُصول حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے۔ اس اُصول کی روشنی میں کیا یہ حصہ کسی دوسری روایت میں الگ طور پر آیا ہے؟قطعاً نہیں ۔ کسی راوی یا محدث نے تصریح کی ہے کہ یہ فلاں راوی کی غلطی سے حدیث میں درج ہوگیا ہے؟ بالکل نہیں ۔ بلکہ گیارہ سو سال سے تمام محدثین اور اہل علم اسے صحیح تسلیم کرکے اس سے استدلال کرتے رہے۔ مگر اب اہل اشراق پر یہ راز فاش ہوا ہے کہ یہ تو راوی کی غلطی سے حدیث میں درج ہوگیا ہے۔ اسی ضمن میں محترم عمار صاحب نے اپنی بات میں رنگ بھرتے ہوئے راقم کی تالیف'توضیح الکلام' سے راقم کی ہی ایک عبارت کو اپنی موافقت میں نقل کیا کہ توضیح الکلام میں ایک روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے راقم نے لکھا ہے :

''بعض اہل علم نے ان الفاظ کو صرف اسی بنا پر صحیح باور کرلیا ہے کہ یہ صحیح بخاری میں ہیں ۔ مگر یہ صحیح نہیں ، جبکہ صحیح بخاری و مسلم میں شیخین ایسی حدیث کوبھی لے آتے ہیں جومقصود کے اعتبار سے تو صحیح ہوتی ہے (یعنی من حیث المجموع) اگرچہ کوئی ٹکڑا اس کا ان کے معیارِ صحت کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ اس میں بعض رواة کا وہم ہوتا ہے۔ صحیحین کا غائر نظر سے مطالعہ کرنے والے حضرات کے لئے یہ بات نئی نہیں ۔''5

اس عبارت سے ان کا مقصد یہ ہے کہ جب راقم نے صحیحین میں بعض راویوں کے وہم کو تسلیم کیا ہے تو زیر بحث روایت میں راوی کے وہم سے انکار کیوں ہے؟ مگر ہمیں افسوس ہے کہ محترم عمار صاحب نے ہمارے موقف کی صحیح ترجمانی نہیں کی۔ صحیح بخاری میں جس وہم کا راقم نے ذکر کیا ، کیا وہ راقم کابتلایاہوا وہم ہے یا اس وہم کا اشارہ خود امام بخاری، امام بیہقی، علامہ ابن قیم اورعلامہ زیلعی نے کیا ہے؟ اس طرح صحیحین میں بعض راویوں کا وہم ذکر کرنا بھی ہیچمدان کی جسارت نہیں ،اس کی نشاندہی بھی محدثین سابقین رحمة اللہ علیہ نے کی ہے؟
سخن شناس نئی دلبرا خطا ایں جا است

اپنی بات بلکہ اپنے فیصلے کو مستحکم کرنے کے لئے یہ بھی فرمایا گیا کہ
''کسی حدیث کی صحت وضعف کو طے کرنے کا معیار نقد ِروایت کے اُصول ہیں یا ائمہ فن کے اقوال؟ آخر ائمہ فن کس بنیاد پر کسی روایت کی صحت و ضعف کا فیصلہ فرماتے ہیں ؟ اگر ان کے فیصلوں کی بنیاد وحی و الہام کے بجائے دلائل و شواہد پر ہوتی ہے تو دلائل کی روشنی میں ان کی رائے سے اختلاف کیوں نہیں کیا جاسکتا...؟ ''

علامہ جلال الدین سیوطی رحمة اللہ علیہ لکھتے ہیں :''ابن الصباغ نے کہا ہے کہ اگر راوی اضافہ بیان کرے، جبکہ اس کے بغیر روایت کرنے والے راوی ایک ایسی جماعت ہو جس کا وہم میں مبتلا ہوجانا بعید از قیاس ہو یا ان جیسے راویوں کا اس جیسی بات کونقل کرنے سے غافل رہ جانا عادتاً ممکن نہ ہو تو زیادت ناقابل اعتبار قرار پائے گی۔'' ابن السمعانی نے بھی یہی بات کہی ہے اور اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ ''وہ بات ایسی ہو کہ اس کو نقل کرنے کے محرکات اور دواعی بھی کافی پائے جاتے ہیں ۔'' ہم نے اسی اُصول پر ہشام کی روایت میں ابواسامہ کے اضافہ کردہ جملے ''قالت: ولیستا بمغنیتین''کو ابواسامہ کا وہم قرار دیا ہے۔'' 6

بلا شبہ کسی روایت کو پرکھنے اور اس پر صحت و ضعف کا حکم لگانے کے اُصول ہیں اور انہی اُصولوں کی بنا پر ہی محدثین رحمہم اللہ نے کسی حدیث پرصحت و ضعف کا حکم لگایا ہے۔ اور یہ حکم لگانے والوں میں بعض وہ ہیں جن کا حزم و احتیاط اوران کا تتبع سب کے ہاں مسلم ہے۔ پھر تنہا ان کے حکم پر ہی کیا موقوف، متاخرین نے بھی انہی اُصولوں کے تحت ان روایات کامزید جائزہ لیا اوران کی موافقت کی۔متقدمین کی نگاہوں میں ذخیرۂ احادیث تھا۔ ایک ایک روایت کی متعدد اسانید اُنہیں ازبر تھیں ۔ اوریوں لاکھوں احادیث کے وہ حافظ تھے۔جیسا کہ تاریخ وتراجم کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ اس کے برعکس چند مطبوعہ کتابوں کی ورق گردانی سے ان سابقین محدثین کے فیصلہ کے خلاف فیصلہ دینا خود سری ہے اور بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ 'سبیل المومنین' سے انحراف ہے۔

علامہ انور شاہ صاحب کشمیری فرماتے ہیں :
''ولیعلم أن تحسین المتأخرین وتصحیحھم لایوازي تحسین المتقدمین فإنھم کانوا أعرف بحال الرواة لقرب عھدھم بھم، فکانوا یحکمون ما یحکمون به بعد تثبت تام ومعرفة جزئیة ،أما المتأخرون فلیس عندھم من أمرھم غیرالأثر بعد العین، فلا یحکمون إلا بعد مطالعة أحوالھم في الأوراق، وأنت تعلم أنه کم من فرق بین المجرب والحکیم،وما یغني السواد الذي في البیاض عند المتأخرین عما عند المتقدمین من العلم علی أحوالھم کالعیان، فإنھم أدرکوا الرواة بأنفسھم فاستغنوا عن التسآؤل والأخذ عن أخواہ الناس، فھؤلاء أعرف الناس فبھم العبرة '' 7
''یہ بات خوب جان لیں کہ متاخرین کی تحسین اور تصحیح متقدمین کی تحسین کے برابر نہیں کیونکہ متقدمین قربِ عہد کی بنا پر راویوں کے اَحوال کو زیادہ جانتے تھے، وہ جوبھی فیصلہ فرماتے، پورے احتیاط اور اس کی جزئیات کو معلوم کرنے کے بعد فیصلے فرماتے تھے۔(متاخرین کی طرح) وہ اَوراق میں لکھے ہوئے راویوں کے اَحوال دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے تھے۔ اور تمہیں معلوم ہے کہ ایک تجربہ کار او رحکیم کے مابین کیا فرق ہے؟ متقدمین کے پاس راویوں کو براہِ راست پرکھنے کا جو علم تھا، اس کے مقابلے میں متاخرین کے نزدیک کتابوں میں لکھا ہواعلم فائدہ نہیں دیتا۔ کیونکہ متقدمین کو براہِ راست راویوں سے سابقہ پڑا ہے۔ وہ کسی اور سے پوچھنے اور سوال کرنے سے مستغنی تھے۔ وہی راویوں کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔ لہٰذا انہی کی بات قابل اعتبار ہے۔''

مگر ہم نے تو عرض کیاکہ روایت زیربحث کو متقدمین کیامتاخرین، سواے اہل اشراق کے، سب صحیح تسلیم کرتے رہے ہیں اورجس اُصول کی بنا پر آج عمل جراحی شروع ہواہے، وہ آخر ان کے پیش نظر بھی تھا یا نہیں ؟

پھر جہاں تک اس اُصول کاذکر ہے جسے تدریب الراوی (ج1؍ص246) کے حوالے سے علامہ ابن صباغ سے نقل کیا گیا ہے۔ تو اس بارے میں بھی اہل اشراق نے بڑا گھپلا کیا ہے اور اس کی محترم عمار صاحب سے قطعاً توقع نہ تھی۔ پہلے یہی دیکھئے کہ علامہ ابونصر ابن الصباغ جن کا نام عبدالسید بن محمد بن عبدالواحد ہے، وہ 477ھ میں فوت ہوئے۔ پانچویں صدی ہجری کے وہ معروف شافعی فقیہ ہیں ۔ ابن السمعانی ان سے بھی متاخر ہیں ۔ محترم عمار صاحب کو آخر پانچویں صدی ہجری میں بیان کیا ہوا اُصول ہی کیوں نظر آیا؟ کیااس تدریب الراوی میں کوئی اور اُصول بیان نہیں ہوا؟ کہ اُنہوں نے اسی کونقل کرنے کی زحمت فرمائی ہے۔

جبکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اسی تدریب الراوی میں سب سے پہلے یہ بیان ہوا ہے کہ جمہور فقہا او رمحدثین مطلقاً ثقہ کی زیادت(اضافے) کو قبول کرتے ہیں بلکہ ابن طاہر نے تو اس پر اتفاق کا دعویٰ کردیا ہے۔ کاش محترم عمار صاحب نے اس حوالے سے اپنے دادا جان حضرت مولانا محمد سرفراز صفدر صاحب سے ہی دریافت کرلیا ہوتا کہ یہ مسئلہ کیا ہے۔ ان جیسے بحاث اور ناقد سے یہ توقع تو نہیں کہ وہ اپنے دادا جان کے فیصلے سے بے خبر ہوں گے۔ تاہم عرض ہے کہ اُنہوں (مولانا سرفرازصفدر صاحب)نے دو اڑھائی صفحات میں متعدد حوالے نقل کرکے، جن میں تدریب الراوی کا بھی حوالہ ہے، فرمایا ہے:
''محدثین کرام فقہاے عظام اور اربابِ اُصول کا یہ اتفاقی، اجتماعی اور طے شدہ قاعدہ ہے کہ جب راوی ثقہ اورحافظ ہو او روہ زیادت کرے تو مطلقاً اس کی روایت مقبول ہے۔''8

ہماری طرح ممکن ہے جناب محترم عمار صاحب کو دادا جان کے اس دعویٰ 'اتفاق و اجماع' سے اختلاف ہو۔ لیکن اس سے یہ بات تو ظاہر ہوگئی کہ علامہ ابن صباغ او رابن السمعانی کے برعکس رائے رکھنے والے کون اور کتنے ہیں ؟

مزید یہ کہ تدریب الراوی کی اس مبحث میں علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ نے مختلف اقوال نقل کرنے کے بعد بالآخر شیخ الاسلام حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ سے نقل کیا ہے :
''والمنقول عن أئمة الحدیث المتقدمین کابن مھدي ویحیٰی القطان وأحمد وابن معین وابن المدیني والبخاري وأبي زرعة وأبي حاتم والنسائي والدارقطني وغیرھم اعتبار الترجیح فیما یتعلق بالزیادة المنافیة بحیث یلزم من قبولھا ردّ الروایة الأخری'' 9
''متقدمین ائمہ حدیث، جیسا کہ امام عبدالرحمن بن مہدی، امام یحییٰ بن سعید قطان، امام احمد، امام یحییٰ بن معین، امام علی بن مدینی، امام بخاری ، امام ابوزرعہ، امام ابوحاتم، امام نسائی، امام دارقطنی وغیرہم سے منقول ہے کہ جو زیادت (دوسری روایات کے) منافی ہے، اس میں ترجیح کا اعتبار ہے، بایں طور کہ اس کے قبول کرنے سے دوسری روایت کی تردید لازم آتی ہو۔''

یعنی اگر وہ زیادت دوسری روایات کے منافی ہے تو مقبول نہیں ، اگر منافی نہیں تو وہ مقبول ہے۔ یہ ہے متقدمین محدثین رحمہم اللہ کا فیصلہ، جماعت کے مقابلے میں ایک کی روایت میں خطا کا بلاشبہ احتمال ہے۔ مگریہ تب ہے جب وہ اَحفظ اورثبتنہ ہو اور اس کی زیادتی دوسری روایت کے منافی ہو۔ اسی اُصول کے مطابق محدثین نے ابو اُسامہ کی روایت کو قبول کیا اور اسے صحیح قرار دیا۔اُنہوں نے کوئی بے اُصولی نہیں کی، یہ بھی بایں طور کہ ابواسامہ مطبوعہ کتابوں میں ہمیں تنہا نظر آتا ہے۔ احادیث تو محفوظ ہیں مگر ان کے تمام طرق محفوظ نہیں ۔ پھر ابواسامہ حماد بن اُسامہ تو وہ ہیں جن کے بارے میں امام احمد فرماتے ہیں

: ''أبو أسامة ثقة ''
''ابواسامہ ثقہ ہیں اور ہشام سے باکثرت روایات بیان کرتے ہیں ۔اُنہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ابواسامہ سے بڑھ کر ہشام سے روایت کرنے اور اس سے بہتر روایت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔'' 10

ہشام سے روایت کرنے میں ان کے اختصاص کا یہ عالم تھا کہ وہ ان سے چھ سو احادیث بیان کرتے تھے۔ ۷۰ کے قریب وہ روایات ہیں جو بخاری اورمسلم میں ہیں ۔

امام احمد ہی فرماتے ہیں :

''کان ثبتا ما کان أثبته لا یکاد یخطئ''
''ابواسامہ ثبت تھے، وہ اس قدر ثبت تھے کہ خطانہیں کرتے تھے۔''

امام احمد رحمة اللہ علیہ ہی سے ان کے اور امام ابوعاصم ضحاک بن مخلد جیسے ثقہ و ثبت کے بارے میں دریافت کیاگیا تو اُنہوں نے فرمایا: ''ابواسامہ تو ابوعاصم جیسے 100 ہوں ، ان سے بھی ثبت ہیں ۔ ابواسامہ ضابط تھے، صحیح الکتاب تھے۔'' گویا امام ابواسامہ احادیث لکھتے تھے۔ وہ خود بھی ثبت اور ان کی کتاب بھی صحیح تھی، وہ خود فرماتے ہیں :''میں نے اپنی ان انگلیوں سے ایک لاکھ احادیث لکھی ہیں ۔''ملاحظہ ہوالتہذیب:ج3؍ص2،3؛السیر:ج9،ص278؛التذکرة : ج1؍ص321وغیرہ۔ لہٰذا جب وہ ثقہ اور ثبت ، ہشام سے روایت کرنے میں پیش پیش، او رصحیح الکتاب تھے۔ ان کی روایت میں یہ جملہ کسی بھی روایت کے معارض و مخالف نہیں ۔ انہی وجوہ کی بنا پر محدثین کرام نے ان کی بیان کردہ اس روایت پراعتماد کیا۔لیکن چونکہ اربابِ اشراق کے لئے یہ جملہ سوہانِ روح ہے، اسی لئے وہ اسے صحیح تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ۔ بلکہ محدثین کے فیصلے کو اُصول سے انحراف تصور کرتے ہیں ۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ محدثین نے اسے صحیح کہنے میں اپنے کسی اُصول سے انحراف نہیں کیا۔ پانچویں صدی میں ابن الصباغ کے قول کو محدثین کا فیصلہ اور اُصول قرار دینابجائے خود درست نہیں ۔

ایک اور گھپلا
یہی نہیں ،اس سے بھی عجیب تر بات یہ ہے کہ محترم عمار صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے بیان کئے ہوئے اُصول ہی کے تحت اُمّ المومنین کی زیربحث روایت میں ایک دوسرے راوی کے بیان کردہ اضافے پر ہماری تنقید سے راقم نے اتفاق کیا ہے کہ اسحق بن راشد نے ابن شہاب زہری سے روایت میں دوسرے تلامذہ کے خلاف یہ اضافہ کیا ہے کہ: ابوبکر نے دونوں لونڈیوں کو بُرا بھلا کہا اور ان کے دف پھاڑ دیے۔ اس حوالے سے راقم نے عرض کیا تھا کہ
''اسحق بن راشد گو ثقہ ہیں ، تاہم امام زہری رحمة اللہ علیہ سے روایت کرنے میں ان کے کچھ اوہام ہیں اور یہ روایت بھی اسحق بن راشد نے امام زہری سے ہی بیان کی ہے۔''

اسی عبارت کو محترم عمار صاحب نے اپنی موافقت میں پیش کرتے ہوئے فرمایا:
''ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ثقہ راوی کے ہاں کچھ اوہام کے پائے جانے سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کی نقل کردہ روایات اور زیادات بالکل قابل اعتبار نہ رہیں ؟ خود مولانامحترم (راقم) نے ہشام بن عروہ کے عراقی تلامذہ کی روایات میں بعض اوہام کے پائے جانے کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کا دفاع کیا ہے... 11

یہاں پہلے تو یہ دیکھئے کہ اسحق بن راشد ثقہ و صدوق ہیں مگر امام زہری رحمة اللہ علیہ کی روایات میں ان کے کچھ اوہام ہیں ۔ حتیٰ کہ امام یحییٰ بن معین نے تو فرمایا ہے: ''لیس ھو في الزھري بذاک'' امام محمد بن یحییٰ الذہلی، جن کا امام زہری کی روایات میں اختصاص محدثین کے ہاں معروف ہے، فرماتے ہیں :ھو مضطرب الحدیث في حدیث الزھري۔ اسی طرح امام نسائی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اسحق کی زہری سے روایات قوی نہیں ، لیس بذاک القوي۔ (التہذیب:ج1؍ ص230 ، مقدمہ فتح الباری: ص389، تحفة الاشراف:ج12؍ص28) امام زہری رحمة اللہ علیہ سے اسحق کی روایات میں کلام کے باعث ہی امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے تنہا إسحٰق عن الزہريکی سند سے کوئی روایت نہیں لی۔ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے بھی لکھا ہے:
''غالب ما أخرج له البخاري ما شارکه فیه غیرہ عن الزھري وھي مواضع یسیرة ''12
''امام بخاری نے زہری سے اس کی اکثر روایات وہ بیان کی ہیں جن میں دوسرے اس کے شریک ہیں ۔ اور وہ چند ہی مقامات ہیں ۔ ''

جس سے امام بخاری کے تتبع اور احتیاط کی تائید ہوتی ہے۔ اسی بنا پر راقم نے عرض کیاتھا : اسحق کی روایت میں ''نسبھما وخرق دفیھما'' کے الفاظ محل نظر ہیں کیونکہ اسحق بن راشد کے علاوہ امام زہری کے باقی تلامذہ میں سے کسی نے بھی یہ الفاظ یا اس نوعیت کی بابت منقول نہیں جس میں دَف پھاڑنے کا ذکر ہو۔کسی ثقہ راوی کے ہاں کچھ اوہام پائے جانے سے بلا شبہ اس کی تمام روایات ناقابل اعتبارنہیں ہوجاتیں ۔ لیکن ثقہ راوی جب ایسے راوی سے روایت کرے، جس سے روایت کرنے میں محدثین نے اس پر کلام کیاہو اور وہ اس سے روایت کرنے میں یا کوئی زیادت ذکر کرنے میں منفرد ہو تو اس کا تفرد قابل قبول نہیں ہوگا۔

امام زہری سے اسحق بن راشد کی روایت پر ہمارے اس کلام کے تناظر میں ابواسامہ حماد بن اسامہ کی ہشام سے زیر بحث روایت میں ابواسامہ کے تفرد پر کلام کرنا قطعاً درست نہیں ۔ اس لئے کہ ابواسامہ گو کوفی راوی ہیں مگر ہم آگے با دلائل واضح کریں گے کہ ہشام کے عراق جانے کے بعد ا س کی تمام روایات میں وہم کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ ان کی زیادہ سے زیادہ انہی روایات میں کلام ہے جو اُنہوں نے دوسری یا تیسری بار جانے پر بیان کی تھیں ، جبکہ امام مسلم، امام احمد، امام دارقطنی ان جیسی روایات کو طبیعت کے مختلف ہونے پر محمول کرتے ہیں ۔ جب انبساط اور اطمینان کی صورت ہوتی تو ہشام اس کی پوری سند ذکر کرتے اور جب طبیعت غیر مطمئن ہوتی تو ارسال کرتے اور یہ صرف ہشام ہی نہیں ، دوسرے ثقات بھی ایسا کرتے ہیں ۔ جیساکہ امام مسلم نے مثالیں دے کر اسے واضح کیا ہے۔ اس لئے ایسی چند روایات کی بنا پر نہ ان کی مُعنعن روایات پراعتراض درست ہے اور نہ ہی اُنہیں متغیر ومدلس کہا جاسکتا ۔

ابواسامہ کوہشام کے ساتھ جو اختصاص حاصل تھا اور امام احمد نے اس حوالے سے جو کچھ فرمایا ہے، قارئین کرام اسے پڑھ آئے ہیں کہ ابواسامہ سے بڑھ کر ہشام سے اچھی روایات بیان کرنے والا اور کوئی نہیں ۔ ان کی ہشام سے بیان کی ہوئی حدیث 'اِفک' کی امام احمد نے تحسین فرمائی اور فرمایا: ''جَوَّدَہ وجوَّدہ'' اسے اُسامہ نے بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔اسی طرح ہشام سے

حضرت زبیرؓ کے ترکہ کی روایت کے بارے میں فرمایا کہ

''کتنے اچھے طریقے اور مکمل طور پر ابواسامہ نے اسے بیان کیا ہے۔''

ہشام سے ابواسامہ کی روایات کے بارے میں امام احمد کی ان وضاحتوں کے بعد کوئی عقلمند کہہ سکتا ہے کہ ابو اسامہ عراقی ہیں ، ہشام کی عراق میں بیان کردہ روایات مخدوش ہیں اور ان میں وہم پایاجاتاہے لہٰذا ابواسامہ کی یہ روایت بھی ان کے وہم کا نتیجہ ہے۔

مزید برآں ہشام کی ایسی روایات کے بارے میں بیان کرنے والے یہ بھی بتلاتے ہیں کہ ہشام کے اس آخری دور میں ان سے روایت کرنے والے وکیع، ابن نمیر اور محاضر ہیں اور یہ روایت تو ہشام سے ابواسامہ بیان کرتے ہیں ۔ اس اعتبار سے بھی ہشام کی اس روایت میں کلام سراسر بے اُصولی پر مبنی ہے۔ لہٰذا جب ابواسامہ کی ہشام سے روایات معتبر اور صحیح ہیں تو ابواسامہ کے تفرد کوإسحٰق بن راشد عن الزھري میں اسحق کے تفرد پر قیاس کرنا علم وفن کی کوئی خدمت نہیں ۔کیونکہ یہاں تو محدثین کرام نے سرے سے اس کی امام زہری سے روایات کو کمزور اور ان میں اس کا وہم بتلایا ہے۔ اس لئے زہری سے دوسرے ثقات کے مقابلہ میں اس کا تفرد قابل قبول کیونکر ہوسکتا ہے۔

امام بخاری کا اسلوب بجائے خود اس کا مؤید ہے کہ اُنہوں نے اسحٰق عن الزھري کی وہی روایات لی ہیں ، اور وہ بھی چند ایک جن میں اس کی متابعت پائی جاتی ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے بھی اس کی وضاحت کی ہے۔ شیخ صالح بن حامد الرفاعی حفظہ اللہ نے ایک مستقل کتاب ''الثقات الذین ضعفوا في بعض شیوخھم'' کے عنوان سے لکھی ہے جس میں اُنہوں نے ان راویوں کا ذکر کیاہے جو یوں تو ثقہ ہیں مگر وہ اپنے بعض شیوخ سے روایت کرنے میں ضعیف قرار دیے گئے ہیں ، اس میں انہوں نے اسحق بن راشد کا بھی ذکر کیا ہے اور خلاصۂ کلام جو ذکر کیا، وہ یہ ہے:
''إن اسحق بن راشد ثقة وقد ثبت سماعه من الزھري، لکن في حدیثه عن الزھري بعض الوھم کما قال ابن حجر، لذلك لا یقبل من حدیثه عن الزھري إلا ما وافقه علیه غیرہ'' 13
''اسحق بن راشد ثقہ ہیں اور ان کا زہری سے سماع ثابت ہے لیکن اس کی زہری سے حدیث میں کچھ وہم ہے جیسا کہ ابن حجر نے کہا ہے، اس لئے زہری سے ان کی انہی روایات کو قبول کیا جائے گا جس میں دوسرے راوی نے اس کی موافقت کی ہو۔''

مگر کیاابواسامہ حماد بن اسامہ کے بارے میں بھی کسی نے کہا ہے کہ اس کی ہشام سے روایات میں وہم پایا جاتاہے۔ جبکہ اس کی ہشام سے روایات کو تو اَحسن واَجود کہا گیاہے مگر افسوس ہے محترم عمار صاحب دونوں کو ایک ہی ترازو میں رکھ کر فرماتے ہیں کہ اسحق کا تفرد قبول نہیں تو ابواسامہ کا قبول کیوں ہے؟
ہماری ان گزارشات سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہوگئی ہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں ابواسامہ عن ہشام کی یہ روایت صحیح اور بے غبار ہے۔یہ حکم کسی خوش فہمی یا تقلید کی بناپرنہیں بلکہ دلائل و براہین پر مبنی ہے !

'گانے والیاں ' کون تھیں ؟
حضرت عائشہؓ کی اسی حدیث میں ''وعندي جاریتان'' کے الفاظ ہیں کہ میرے پاس دو جاریہ تھیں ۔ ''جاریہ'' کے یہاں معنی حافظ ابن تیمیہ، حافظ ابن جوزی، علامہ نووی، حافظ ابن قیم وغیرہ کی رائے میں چھوٹی بچیاں ہیں ۔ گویا گانے کا شغل دو بچیوں کا تھا۔ مگر اہل اشراق فرماتے ہیں کہ وہ لونڈیاں تھیں اور اس کی بے ہنگم تائیدمیں ہمارے مہربان جناب عمار ناصر صاحب بھی یہی فرماتے ہیں ۔ ان کے ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ حافظ ابن حجر نے اس کا مفہوم لونڈیاں مراد لیاہے۔ روایت میں ''لیستا بمُغنیتین'' کا جملہ بھی اس کا قرینہ ہے کیونکہ اگر وہ چھوٹی بچیاں تھیں توان کے بارے میں یہ گمان پیدا ہونا ہی بعید ہے کہ گانا گانا ان کا پیشہ ہوگا۔ پیشے کے طور پر گانا گانے کا احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں نہیں بلکہ لونڈیوں ہی کے بارے میں پیداہوسکتا ہے۔
''قَیْنَتَان کا لفظ بھی آیا ہے جو لونڈیوں کے مفہوم میں بالکل صریح ہے اور حافظ ابن حجر نے غالباً انہی قرائن کی بنا پرجاریتان کو لونڈیوں کے معنی میں لیاہے۔ '' 14

گزارش ہے کہقینتان کا لفظ لونڈیوں کے بارے میں کس حد تک 'بالکل صریح' ہے، یہ بات پہلے مقالات میں ہم عرض کرچکے ہیں ۔جبکہ اس حوالے سے اس فقیر کا جو مذاق دانشمندانِ اشراق نے اُڑایا ہے، اس کا جائزہ بھی پیش کرچکے، جس کے اِعادہ کی ضرورت نہیں ۔ حافظ ابن حجر نے ان قرائن کی بنا پر قطعاً جاریتانکو لونڈیوں کے معنی میں نہیں لیا بلکہ طبرانی وغیرہ کی ضعیف اور ناقابل اعتبار روایات کی بنا پر اُنہوں نے یہ مفہوم مراد لیا ہے جس کی وضاحت بھی ہم پہلے کرآئے ہیں ۔ اپنے چبائے ہوئے نوالوں کو حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ کے منہ میں ٹھونسنا کوئی دانشمندی نہیں ۔ حافظ ابن حجر نے جاریتان کو لونڈیوں کے معنی میں لے کر بھی یہی فرمایا ہے کہ وہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں ۔ اسی حدیث سے اہل اشراق کے پیشرو صوفیوں کی ایک جماعت نے بھی غنا کے جواز پراستدلال کیاہے، جس کے جواب میں حافظ ابن حجر نے فرمایا ہے:

''ویکفي في ردّ ذلك تصریح عائشة في الحدیث الذي في الباب بعدہ بقولھا ''ولیستا بمُغنیتین'' فنفت عنھما عن طریق المعنی ما أثبته لھما باللفظ، لأن الغناء یطلق علی رفع الصوت وعلی الترنم الذي تسمیه العرب النَّصْب بفتح النون وسکون المھملة وعلی الحداء ولا یُسمّٰی فاعله مُغنیا... الخ'' 15
''صوفیوں کی تردید میں حضرت عائشہؓ کی تصریح، جو بعد کے باب میں ہے، سے ہوتی ہے۔ جس میں اُنہوں نے فرمایا ہے کہ وہ دونوں گانے والیاں نہ تھیں ، حضرت عائشہؓ نے ان دونوں سے معنوی طور پر اس چیز کی نفی کردی جس کا ثبوت ان کی طرف لفظ غنا سے ہوتا تھا۔ کیونکہ غنا کا اِطلاق بلند آواز اور ترنم سے شعر پڑھنے پر ہوتا ہے جسے عرب نصب اور حدی خوانی کہتے ہیں اور یہ کام کرنے والوں کو وہ مغنی یعنی پیشہ ور گانا گانے والا، گویّا نہیں کہتے تھے۔''

بلکہ اس کے بعد انہوں نے علامہ قرطبی رحمة اللہ علیہ سے بھی نقل کیا ہے کہ''لیستا بمغنیتین'' کے معنی یہ ہیں کہ ''وہ دونوں اس طرح گانانہیں جانتی تھیں جس طرح معروف گانا گانے والے گاتے ہیں ۔'' جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ حافظ ابن حجر ''جاریتان'' کے معنی لونڈیاں کرنے کے باوجود اُنہیں پیشہ ور مغنیہ نہیں سمجھتے تھے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس بات کی نفی حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے بالصراحت کی ہے،جناب محترم عمار صاحب اس کا انتساب محض اپنی فکر کی بنیاد پر حافظ ابن حجر کی طرف کررہے ہیں ۔

چنانچہ فرماتے ہیں :
''پیشے کے طور پر گانا گانے کا احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں نہیں بلکہ لونڈیوں ہی کے بارے میں پیدا ہوسکتا ہے اورحافظ ابن حجر نے غالباً انہی قرائن کی بنا پر جاریتان کو لونڈیوں کے معنی میں لیاہے...

انصاف شرط ہے؟

کیا حافظ ابن حجر نے ''جاریتان'' کے معنی لونڈیاں کرنے کے باوجود انہی پیشہ ور مغنیہ قرار دیا؟ قطعاً نہیں ، تو پھر اس طولِ بیان کا کیا فائدہ؟ پھر اگر تسلیم کیا جائے کہ وہ لونڈیاں تھیں تو اس کی کیا دلیل ہے کہ ان کا یہ عمل بلوغت کے بعد تھا؟ اور کیا لونڈیوں اور بچیوں کے مابین کوئی منافات ہے؟ لونڈیاں بچیاں بھی ہوسکتی ہیں ۔ اس میں استحالہ کیا ہے؟

محترم عمار صاحب نے اسی ضمن میں یہ بات بھی فرمائی ہے کہ حافظ ابن حجر نے جاریتان کی تعیین میں طبرانی وغیرہ سے جو روایات نقل کی ہیں ، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لونڈیاں تھیں ، راقم نے اُنہیں ضعیف قرار دیا ہے، مگر توضیح الکلام: ص۲۷۷ میں اپنے استاذِ محترم مولانا حافظ محمد گوندلوی کے ایک ضعیف روایت سے استدلال کا دفاع کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا ہے کہ صحیح حدیث کے محتملات کی تعیین کے لئے ضعیف روایت سے استدلال خلافِ اصول نہیں ، لیکن ابن حجر کی تین ضعیف روایتوں سے استدلال کو قبول نہ کرنے کے لئے یقینا ان کے پاس معقول وجوہ ہوں گے، اگر وہ ان پر روشنی ڈال سکیں تو ان کی توضیحات ہمارے لئے استفادہ کا ذریعہ ہوں گی۔ 16

پیشہ ورانہ موسیقی کے جواز کا فتویٰ دینے والے حضرات کا یہ بھی ایک ناکام سہارا ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ حضرت الاستاد محدث گوندلوی نے ضعیف حدیث سے استدلال کیا اور کسی ناقدکی اس کے ضعیف ہونے کی نشاندہی پر راقم نے اس کا جواب دیا، اور یہ بھی کہ کیا ان کا استدلال اسی پرموقوف ہے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ضعیف روایت سے أحد المحتملات کی تعیین ہوسکتی ہے۔ مگر غور طلب بات یہ ہے کہ زیربحث روایت میں جاریتانکے لفظ کی تعیین میں جو حافظ ابن حجر نے ضعیف روایات کے پیش نظر فرمایا کہ یہ لونڈیاں تھیں ،کیا اس سے ان کے بچیاں ہونے کی نفی لازم آتی ہے؟ ''جاریتان'' میں اسی ابہام کی بنا پر ہی تو سیدہ عائشہؓ نے وضاحت فرما دی کہ وہ معروف مغنیہ نہیں ، بچیاں تھیں ، جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ وغیرہ نے فرمایا ہے۔ بالفرض اگر تسلیم کیا جائے کہ وہ لونڈیاں تھیں تو کیا اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ وہ پیشے کے طور پر گانا گایا کرتی تھیں ؟

عید اور شادی کے موقعہ پر بعض گھرانوں میں آج بھی گانے کا رواج ہے اور وہ بھی چند لڑکیوں پرمشتمل ہوتا ہے۔ یوں نہیں کہ قبیلہ اور برادری میں سب عورتیں یہ کام کرتی ہیں ۔ اس کے باوجود نہ وہ پیشے کے طور پر یہ شغل اختیار کرتی ہیں اور نہ ہی اُنہیں معروف مغنیہ سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں میں بھی نعت و غزل پڑھنے والے معروف ہوتے ہیں مگر کوئی بھی نہ خود کو گویّا سمجھتا ہے، نہ ہی پیشے کے طور پر وہ معروف ہوتا ہے۔ اس لئے حافظ ابن حجر نے جاریتان سے لونڈیاں سمجھ کر بھی یہی سمجھا کہ وہ مغنیہ نہیں تھیں ، جیسا کہ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا ہے۔ مگر ہم نے عرض کیا کہ بنیادی طور پرجاریتانکے لونڈیاں ہونے اور ان کے بچیاں ہونے میں کوئی منافات نہیں ۔اور یوں یہ دونوں قول باہم متناقض بھی نہیں ۔ دونوں صورتوں میں اسی بات پراتفاق ہے کہ وہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں ۔ مگر اربابِ 'اشراق' اس سے متفق نہیں ۔ محض اس لئے کہ اس سے موسیقی کے جواز کی عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے اور اس کے جواز کے سارے حیلے تارِعنکبوت کی طرح تار تار ہوجاتے ہیں ۔

آپ پڑھ آئے ہیں کہ تمام محدثین اس حدیث کی بتمامہ صحت پر متفق ہیں اور اس پر بھی ان کا اتفاق ہے کہجاریتان پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں ۔ اربابِ اشراق نے اپنی دانشمندی اور روشن ضمیری میں متفق علیہ مسائل سے انحراف کی جو راہ اختیار کی ہے اور سبیل المومنین سے انحراف کرکے جو راستہ اپنایا ہے، یہ بہرنوع قابل مذمت ہے۔
تعجب ہوتا ہے کہ ایک خانوادۂ علم و عمل کا چشم و چراغ بھی اس فکر کا ہم نوا ہے اورگھسے پٹے دلائل سے اس کی آبیاری میں مصروف ہے۔
اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه... آمین!


حوالہ جات
1. الروض الباسم: ج1؍ص79
2. اشراق:مارچ 2006، ص30
3. 'اشراق': ستمبر2006ء،ص22
4. تسکین الصدور:ص180
5. ج1؍ص124
6. اِشراق : ستمبر2006ئ،ص34
7. فیض الباری: ج4؍ ص414
8. احسن الکلام :ج1؍ص196،طبع دوم
9. تدریب الراوی:ج1؍ص246
10. شرح العلل لابن رجب: ج2؍ص280
11. اشراق:ستمبر 2006ء، ص35، 36
12. ہدی الساری: ص389
13. الثقات الذین ۔۔۔:ص200
14. 'اشراق': ص36
15. فتح الباری:ج2؍ ص442
16. اشراق : ص 36 , 37

 


 

i. موسیقی کے حرمت وجواز کے سلسلے میں لکھے جانے والے مضامین میں ماہنامہ "اشراق" مارچ 2006ء(ص 30) میں یہ دعویٰ کیا گیاکہ ""بخاری کی معروف روایت عن عائشة قالت دخل أبو بکر وعند جاریتان من جوار الأنصار تغنیان...قالت: ولیستا بمغنیتین (بخاری:952) میں لیستا بمغنیتین کے جملے کے بارے میں ہمارا نقطہ نظر یہ ہے کہ یہ درحقیقت سیدہ عائشہ کا قول ہی نہیں ہے، یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے۔"" بعد ازاں اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے عمار ناصر صاحب نے ماہنامہ اشراق کے اپریل 2006ء اور ستمبر 2006ء کے شمارہ میں مذکورہ بالا جملہ کے مُدرج ہونے کے بارے میں مزید سطور لکھیں ۔ اس مضمون میں مولانا ارشاد الحق اثری نے تفصیل سے اُن تمام اعتراضات کا جواب دیا ہے جو اہل اشراق اس حدیث کے بارے میں اُٹھاتے ہیں ۔پہلے اس روایت کی سنداور رجال پر بعض اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے، اس حصہ کو سردست مؤخرکرتے ہوئے حلقہ اشراق کے دعواے اِدراج اور دیگر شبہات کی وضاحت ملاحظہ فرمائیں ۔اپنی اصل ترتیب کے ساتھ یہ مضمون الاعتصام میں بھی عنقریب شائع ہورہا ہے۔ (محدث)