پانی کی ٹینکی میں چھپکلی
عیدگاہ کے لئے جگہ روک رکھنا
رکعت کا درمیانی سجدہ رہ جائے تو؟
پانی کی ٹینکی میں چھپکلی مرجائے تو؟
صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنا


سجدئہ سہو کی مختلف صورتیں
سوال: بارہا دفعہ مختلف مکاتب ِفکر کی مساجد میں نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ہر مسلک کے ائمہ کرام 'سجدئہ سہو' مختلف انداز سے اَدا فرماتے ہیں ۔ براہِ کرام'سجدئہ سہو' کس وقت اور کیونکر کیا جاتا ہے؟ اس میں کیا پڑھا جاتا اور سلام کس وقت پھیرتے ہیں ؟ (محمد صدیق طارق، راولپنڈی)

جواب:سجدئہ سہو احادیث میں جس طرح وارد ہے، ویسے ہی کرنا چاہئے۔ پس اگر ایک شخص بھول کر دو یا تین رکعات پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیتا ہے تو اسے حضرت ابوہریرہؓ اور عمرانؓ کی حدیث کے مطابق نماز مکمل کر کے سلام کے بعد سجدئہ سہو کرنا چاہئے۔ اگر وہ دو رکعت پڑھ کر اُٹھ کھڑا ہو ا اور بیٹھا نہیں تو اسے نماز مکمل کرلینے کے بعد ابن بحینہ کی حدیث کی رُو سے سلام سے پہلے سجدہ کرنا چاہئے۔اور اگر اسے شک ہو کہ آیا اس نے تین رکعات پڑھیں ہیں یا چار؟ تو اسے یقین پر اعتماد کرتے ہوئے ابوسعیدؓ اور عبدالرحمن بن عو فؓ کی حدیث کی رو سے سلام سے قبل سجدہ کرنا ہوگا اور اگر اسے شک واقع ہو مگر اسے یہ بالکل علم نہیں ہے کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کی ہیں تو وہ ظن غالب پر بنا کرتے ہوئے نماز پوری کرے اور حدیث ابن مسعودؓ کے مطابق سلام کے بعد سجدئہ سہو کرے۔ اس طرح سب احادیث پر عمل ہو جائے گا۔

مذکورہ صورتوں کے علاوہ اگر کوئی اور صورت پیش آجاتی ہے تو وہ مذکورہ صورتوں میں سے جس صورت کے قریب ہوگی، اس کا حکم اس صورت کا حکم ہوگا۔  علامہ شوکانی رحمة اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے۔ مگر ابن حبان رحمة اللہ علیہ اور ان کے قول میں فرق یہ ہے کہ اُنہوں نے نئی پیش آمدہ صورت میں 'ہردو طرح درست ہے'کو اختیارکیاہے، یعنی اس صورت میں سجدئہ سہو سلام سے پہلے یا بعد میں ، ہرطرح اختیار ہے۔ واضح رہے کہ اس مسئلہ میں اختلاف فضیلت کی حد تک ہے۔ یعنی سجدئہ سہو سلام سے قبل افضل ہے یا سلام کے بعد۔ رہا جواز تو اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ۔1

واضح ہو کہ سجدئہ سہو سلام سے قبل یا بعد کرنے کا ذکر تو آپ احادیث میں ملاحظہ فرما چکے البتہ صرف ایک ہی طرف سلام پھیر کر سجدئہ سہو کرنا سنت سے ثابت نہیں ۔ اورسجدئہ سہو میں تسبیح وہی ہے جو عام حالات میں پڑھی جاتی ہے۔

عیدگاہ کے لئے جگہ روک رکھنا
سوال:آج کل اکثر شہروں اور دیہات میں رواج ہے کہ عیدین پڑھنے کے لئے گاؤں کے باہر، کہیں مناسب جگہ پر کچھ زمین حاصل کرکے اسے عیدگاہ کے طور پر مخصوص کرلیا جاتاہے اور اس کے ارد گرد چاردیواری کرلی جاتی ہے۔ وہ سارا سال بیکار پڑی رہتی ہے۔ صرف سال میں دو مرتبہ اس میں عید پڑھی جاتی ہے، کیاایسا کرنا جائز ہے؟ کیا کھلی جگہ پرعید پڑھنا لازمی ہے؟ (غلام حسین تہاڑیا، قصور)

جواب:نمازِ عید کھلی جگہ جنگل میں یا ایسی جگہ جہاں چار دیواری نہ ہو، کھلے میدان میں پڑھنے کی سعی کرنی چاہئے۔ بصورتِ دیگر جیسے بھی ممکن ہو نمازِعید پڑھی جاسکتی ۔ لیکن سال بھر مخصوص ایام کے لئے جگہ روکے رکھنا درست فعل نہیں ۔

کسی رکعت کا درمیانی سجدہ رہ جائے تو؟
سوال:اگر کسی نمازی سے پہلی رکعت کا دوسرا سجدہ رہ جائے، پھر نماز کے بعد اس کو بتایاگیا تو اب وہ کیا کرے ؟
جواب:ہمارے شیخ محدث روپڑی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دو سجدوں میں اگر ایک سجدہ رہ جائے تو جس رکعت میں سجدہ رہا ہے، وہیں سے نماز شروع کرے جس کی صورت یہ ہے کہ ایک سجدہ پہلے ہوچکا ہے، اب ایک اور سجدہ کرکے اس کے بعد کی رکعتیں پڑھ لے۔ پھر آخرمیں التحیات کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے یا بعد میں سجدئہ سہو کرے۔کیونکہ دونوں سجدے رکن ہیں ، ایک سجدہ کے چھوٹنے سے نماز نہیں ہوتی۔2

پانی کی ٹینکی میں چھپکلی مرجائے تو؟
سوال:دو اڑھائی من پانی پرمشتمل ایک ٹینکی ہے، جس میں پانی جاری رہتا ہے۔ مثلاً موٹر کے پائپ سے پانی داخل ہوتا ہے، اور دوسری طرف خارج بھی ہوتا رہتا ہے۔ سوال یہ ہے ہ اگر اس ٹینکی میں زندہ یامردہ چھپکلی گر جائے یا اس میں حلال یا حرام جانور بیٹ کردیں تو اس پانی کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:ایسی صورت میں ٹینکی سے پانی نکال کر اسے صاف کرلینا چاہئے ۔ پانی اصلاً پاک ہے جو دو طرح سے نجس ہوتا ہے:a نجاست کی وجہ سے اس کا رنگ، بُو اور مزہ بدل جائے تو وہ پلید ہوجاتا ہے، خواہ تھوڑا ہو یازیادہ۔bاندازاً پانچ مشک سے اس کی مقدار کم ہو تو نجاست گرنے سے پلید ہوجاتا ہے ،خواہ رنگ، بُو اور مزا بدلے یا نہ بدلے۔
بعض اوقات پانی میں پاک شے پڑنے سے اس کانام بدل جاتا ہے، مثلاً شربت یا عرق یا لسی وغیرہ تو اس سے وضو اور غسل نہیں ہوگا ۔البتہ اگر پانی کا نام نہ بدلے، جیسے کنوئیں میں پتے گرنے سے بھی بعض دفعہ رنگ ، بوُ، مزہ بدل جاتاہے مگر اس کا نام پانی ہی رہتا ہے تو اس سے وضو، غسل وغیرہ درست ہے۔ یہی حکم پانی میں حلال جانور گرنے کا بھی ہے۔

سوال: کیا گاڑی یا کشتی پرفرض نماز ادا کرنا جائز ہے؟
جواب:اصل یہ ہے کہ فرض نماز زمین پر ہی ادا کی جائے۔ البتہ اضطراری حالت میں جواز ہے، تاہم کشتی میں نماز کے جواز کی تصریح موجو دہے۔3

سوال: سگریٹ یا تمباکو کے کاروبار کا کیا حکم ہے؟
جواب:صحیح مسلک کے مطابق حقہ،سگریٹ وغیرہ حرام ہے،لہٰذا اس کا کاروبار کرنابھی حرام ہے۔4

زندگی میں اپنا حصہ وراثت نواسے کے نام کردینا
سوال: میرے والد صاحب نے اپنی جائیداد میں سے میری والدہ کے کہنے پر والدہ کا شرعی حصہ جو کہ 8؍1 ہے ،اپنے نواسے کے نام منتقل کردیا۔ اب جبکہ وارث اور وراثت میں حصہ داران سب زندہ ہیں تو واضح فرمائیں کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
جواب : بقید ِحیات عطا کردہ چیز کا نام ہبہ ہے ،وراثت نہیں ۔ وراثت کا تعلق موت کے بعد سے ہے۔ معلوم نہیں والدین میں سے پہلے کس نے فوت ہونا ہے،لہٰذا والدہ کا یہ قول کہ میں اپنا شرعی حصہ شوہر کی وراثت سے نواسے کے نام منتقل کرتی ہوں ، بلا فائدہ کلام ہے۔شرعاً اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔البتہ والد بذاتِ خود اپنی ملکیت سے نواسے کوکوئی چیز ہبہ کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے ،کیونکہ وہ اس کا مالک ہے اور باقی حصہ داران کی بھی یہی حیثیت ہے۔

صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھنا
سوال: 'تعلیم الاسلام 'ص400 پر لکھا ہے کہ'' اے تنہا نماز پڑھنے والے تو صف میں کیوں داخل نہیں ہوگیایاصف میں سے کسی کو کھینچ کرکیوں نہیں لایا؟تواپنی نماز لوٹا(اے ابولیلی) 5
لیکن'نمازِ نبویؐ'مرتبہ ڈاکٹر شفیق الرحمن کے صفحہ 129 پر لکھا ہے کہ
''اگر صف میں جگہ ہے تو پیچھے اکیلے کی نماز نہیں ہوتی اور اگر صف میں جگہ نہیں ہے تو یہ اضطراری کیفیت ہوگی، ایسی صورت میں اکیلے ہی کھڑا ہوجانا چاہئے ،کیونکہ اگلی صف میں سے کسی کو پیچھے کھینچنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔ امام مالک، احمد، اوزاعی، اسحق اور ابوداؤد رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے کہ صف سے آدمی کو نہ کھینچا جائے۔ البتہ ایک امام اور ایک مقتدی والے مسئلہ پر قیاس کر کے اس کا جواز ملتا ہے۔''
اس توجیہ سے اطمینان نہیں ہواکیونکہ جب کبھی کسی امام یا مقتدی کا وضو فسخ ہوجائے تو اسے امامت سے ہٹنا اور پچھلے مقتدی کو امام بنانا ہوتا ہے اور وضو فسخ ہونے والے کو مقتدیوں کی متعدد صفوں میں سے پیچھے نکلنا ہوگا۔ لامحالہ کچھ خلل تو ہوگا پھر مل جانے سے معمولی خلل دور ہوجائے گا۔ علیٰ ہذا القیاس پیچھے کھینچے گئے نمازی کی جگہ بآسانی پُر ہوسکتی ہے۔دوسری طرف اکیلے شخص کی نماز نہیں ہوتی۔
ثانیاً: یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے نمازی کو نماز لوٹانے کا حکم دیا تو کیا صف میں جگہ باقی تھی یا نہیں ؟ پھر متذکرہ بالا شروع کی روایت میں پیچھے کھینچنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ صحیح طریقہ کیا ہونا چاہئے؟
جواب: ایسے شخص کو چاہئے کہ صف میں دائیں بائیں کھڑا ہونے کی جگہ تلاش کرے۔ بصورتِ دیگر امام کی دائیں جانب کھڑا ہو۔ یہ بھی ناممکن ہو تو صف سے آدمی کھینچ لے، اگرچہ حدیث ضعیف ہے لیکن ابن عباسؓ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازِ تہجد والی روایت سے اتنی سی حرکت کا جواز معلوم ہوتا ہے6

سوال: مولانا عبد السلام بستوی کی کتاب 'تعلیم الاسلام ' کی جلد 1؍ ص291 پر لکھا ہے کہ ''نمازِ عشا میں پہلے دو یا چار رکعت سنت ہیں ۔'' البتہ اس کا اُنہوں نے کوئی حوالہ نہیں دیا ،کیا یہ صحیح ہے اور کس حوالے سے؟
جواب: اس بارے میں کوئی صحیح حدیث میری نظر سے نہیں گزری۔


حوالہ جات
1. نیل الاوطار: 3؍112 بحوالہ القول المقبول: ص511
2. فتاویٰ اہلحدیث:2؍280
3. ملاحظہ ہو: منتقی الأخبار،باب الصلاة في السفینة ،نیل الأوطار 3؍211
4. تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو فتاویٰ اہل حدیث: 3؍318
5. المجمع: ج2 ؍92
6. تفصیلی بحث کے لئے دیکھئے :'الاعتصام '14؍ستمبر 1990ء