میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

غير مسلموں كے ساتھ حسن سلوك كا حق
قرآنِ كريم نے اس سلسلہ ميں يہ عظيم اور اساسى اُصول بيان كيا ہے كہ غير مسلموں كے ساتھ برتاوٴ اور لين دين ميں اصل يہ ہے كہ ان كے ساتھ حسن سلوك كا رويہ اختيار كيا جائے اور ان كے ساتھ نيكى اور احسان كرنے ميں اس وقت تك ہاتھ نہ كهينچا جائے جب تك ان كى طرف سے صريح دشمنى اور عہد شكنى كا كوئى عملى مظاہرہ نہيں ہوتا-

چنانچہ اللہ تعالىٰ كا فرمان ہے:
لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِ‌جُوكُم مِّن دِيَـٰرِ‌كُمْ أَن تَبَرُّ‌وهُمْ وَتُقْسِطُوٓا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ﴿8﴾ إِنَّمَا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ قَـٰتَلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَأَخْرَ‌جُوكُم مِّن دِيَـٰرِ‌كُمْ وَظَـٰهَرُ‌وا عَلَىٰٓ إِخْرَ‌اجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ﴿9...سورة المتحنہ
"اللہ تمہيں اس بات سے نہيں روكتا كہ تم ان لوگوں كے ساتھ نيكى اور انصاف كا برتاوٴ كرو جنہوں نے دين كے معاملہ ميں تم سے جنگ نہيں كى اور تمہيں تمہارے گهروں سے نہيں نكالا ہے، اللہ انصاف كرنے والوں كو پسند كرتا ہے- وہ تمہيں جس بات سے روكتا ہے وہ تو يہ ہے كہ تم ان لوگوں سے دوستى كرو جنہوں نے تم سے دين كے معاملہ ميں جنگ كى ہے اور تمہيں تمہارے گهروں سے نكالا ہے اور تمہارے اِخراج ميں ايك دوسرے كى مدد كى ہے، ان سے جو لوگ دوستى كريں ، وہى ظالم ہيں -"

مذكورہ آيت ميں لفظ بِرّ ( بهلائى)، معاملہ حسنہ (حسن سلوك) سے زياہ وسيع مفہو م كا حامل ہے- يہ لفظ حسن سلوك كے علاوہ اور معانى بهى اپنے اندر ركْتاِ ہے- امام قرافى اس كا مفہوم بيان كرتے ہوئے فرماتے ہيں :
" ان كے كمزور لوگوں پر نرمى كى جائے- ان كے محتاجوں كى ضروريات كو پورا كيا جائے- ان كے بهوكوں كو كهانا كهلايا جائے، ان كے بے لباسوں كو لباس مہيا كيا جائے، ان كے ساتھ ازراہ تلطف نرمى سے گفتگو كى جائے - ان پر خوف اور ذلت مسلط نہ كى جائے، ان كے پڑوس ميں رہتے ہوئے اگر ان كى طرف سے كوئى اذيت پہنچے تو از راہ كرم اسے برداشت كيا جائے- ان كے لئے ہدايت كى دعا كى جائے كہ اللہ تعالىٰ اُنہيں سعادت مندوں ميں سے بنا دے- دين ودنيا كے تمام معاملات ميں ان كے ساتھ خير خواہى كى جائے- ان كى عدم موجودگى ميں اگر كوئى شخص ان كى عزت، مال و متاع اور اہل و عيال كے درپے ہو تو اس كى حفاظت كا سامان كيا جائے، الغرض ان كے تمام حقوق اور مصالح كا تحفظ كيا جائے اور دست ِظلم كو ان كى طرف بڑهنے نہ ديا جائے اور ان كے تمام حقوق ان كے گهر كى دہليز تك پہنچائے جائيں -"1

كلام الٰہى كى يہ توجيہ محض كاغذى قانون اور پڑهنے كى حد تك نہيں ہے ،بلكہ اس كے پےام عملى نفاذ كى ايك شاندار تاريخ بهى موجود ہے- پيغمبر اسلام، خلفاے راشدين اور ديگر مسلم حكمرانوں سے لے كر عامة المسلمين تك ايسے متعدد واقعات اَوراقِ تاريخ ميں آپ كو مليں گے جن سے تاريخ كا چہرہ ضيا ياب ہوا، خصوصاً رسول اللہﷺ كا غيرمسلموں كے ساتھ حسن سلوك كا رويہ اسلامى تاريخ كا روشن باب ہے- غير مسلموں كے ساتھ آپ كا پڑوس رہا، آپ نے ہميشہ ان كے ساتھ بهلائى اور حسن سلوك كا رويہ اختيار كيا، آپﷺ ان كو تحفے تحائف ديتے اور ان كے تحفے اور دعوتيں قبول كرتے تهے ليكن دوسرى طرف سے اس كا جواب كيا ملا؟

كاش تاريخ كا وہ واقعہ بهى غيرمسلموں كو ياد رہتا كہ ايك يہودى عورت نے آپ كو دعوت پر بلايا اور بكرى كے پائے كے گوشت ميں زہر ملا كر آپ كو شہيد كرنا چاہا تها- 2
آپﷺ غيرمسلم مريضوں كى بيمار پرسى كرتے، ان پر صدقہ و خيرات كرتے، ان كے ساتھ تجارتى لين دين كرتے، كتب ِاحاديث ميں يہ واقعہ موجود ہے كہ رسول اللہﷺ ايك يہودى گهرانے كو صدقہ ديا كرتے تهے3اور مسلمانوں نے آپ كے بعد اس گهرانے كے صدقہ كو برابر جارى ركها-

ابوقتادہ بيان كرتے ہيں كہ حبشہ سے عيسائيوں كا ايك وفد مدينہ منورہ آيا تو رسول اللہﷺ نے اُنہيں اپنى مسجد ميں ٹهرايا اور خود اپنے ہاتھ سے ان كى ضيافت و خدمت كے فرائض انجام ديئے- آپ ﷺكا ان حبشيوں كے ساتھ عمدہ اخلاق اور حسن سلوك يہ مظاہرہ ان كے اس حسن سلوك كا بدلہ تها جو اُنہوں نے مہاجرين حبشہ كے ساتھ روا ركہا تها،

چنانچہ آپﷺنے فرمايا:

(إنهم كانوا لأصحابنا مكرمين فأحب أن أكرمهم بنفسي)
"اُنہوں نے ہمارے اصحاب كى عزت افزائى كى تهى تو كيوں نہ ميں خود ان كى عزت و تكريم كروں -" 4

اور آپﷺ اپنے صحابہؓ كى بهى حسن سلوك كے اسى نہج پر تربيت فرماتے، آپﷺنے بسوس و داحس اور فجار ايسى خون آشام داستانوں كى گود ميں پرورش پانے والوں كو صبروتحمل كا پيكر بنا ديا تها-علامہ ابن كثير بيان كرتے ہيں كہ
"زيدبن سعنہ نامى ايك يہودى نے رسول اللہﷺ سے اپنا قرض واپس لينا تها، وہ قرض مانگنے آيا اور آكر رسول اللہﷺ كا گريبان اور چادر پكڑ لى اور زور سے كهينچا- وہ گالياں بهى بك رہا تها اور ساتھ رسول اللہﷺ كو غضب آلودنگاہوں سے ديكھ رہاتها،كہنے لگا: اے محمد! كيا ميرا قرض ادا نہيں كرو گے؟ تم اے عبدالمطلب كى اولاد! بڑے بدمعاملہ لوگ ہو- اس كا طرزِ گفتگو انتہائى جارحانہ تها- حضرت عمرفاروق نے اس يہودى كى طرف ديكها، ان كى نگاہيں اس كے سر ميں يوں گهوم رہى تهيں جيسے كشتى بہنور ميں چكر لگاتى ہے-پهر كہا: اے اللہ كے دشمن! اللہ كے رسولﷺ كے ساتھ يہ بدكلامى اور بے باكى جو ميں سن رہا ہوں ؟ كيا رسول اللہﷺ كے ساتھ تيرا يہ سلوك جو ميں ديكھ رہا ہوں - اس ذات كى قسم، جس نے آپﷺ كو حق دے كربهيجا ہے! اگر مجهے آپ كى ملامت كا ڈر نہ ہوتا تو ميں تلوار سے تيرا سرقلم كرديتا- رسول اللہﷺ سكون اور محبت كے ساتھ عمر كو ديكھ رہے تهے اور مسكراہٹ آپ كے چہرے پر پهيل گئى تهى-

پهر فرمايا:

(أنا وهو يا عمر كنا أحوج إلى غير هذا منك يا عمر: أن تأمرني بحسن الأداء وتأمره بحسن التقاضي اذهب به يا عمر فاقضه حقه وزده عشرين صاعًا من تمر)

"مجهے اور اس (يہودى) كو اے عمر، اس وقت جس چيز كى سب سے زيادہ ضرورت ہے، وہ يہ كہ مجهے حسن ادائيگى كى تلقين كرو اور اسے حسن تقاضا كى تلقين كرو- جاوٴ اے عمر! اس كو ساتھ لے لو اور اس كا قرض ادا كرو اور 20 صاع كهجور زيادہ دے دو-"

يہودى نے يہ پيغمبرانہ رويہ ديكها تو بول اُٹها:
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمداً عبده ورسوله 5
"ميں شہادت ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود نہيں اور ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمدﷺ يقينا اللہ كے بندے اور اس كے رسول ہيں -"
صبر و تحمل كى يہ انتہائى مثال ہے جو ہميں كسى دوسرى جماعت كى تاريخ ميں نہيں مل سكتى-

سيرتِ نبوى كا ايك اور ورق پلٹئے-

رسول اللہﷺ كے پاس يہود كے كچھ لوگ آئے اور كہا: السام عليكم(تم پر ہلاكت ہو) آپﷺ نے جواب ديا: وعليكم (تمہارے اوپر) حضرت عائشہ كہتى ہيں : ميں يہوديوں كى با ت سمجھ گئى اور ميں نے كہہ ديا:

وعليكم السام واللعنة(تمہارے اوپرہلاكت اور لعنت ہو) تو آپﷺ نے فرمايا: عائشہ يوں نہ كہو! اللہ تعالىٰ معاملات ميں نرمى كو پسند كرتا ہے- ميں نے كہا: اللہ كے رسولﷺ، كيا آپ نے ان كى بات نہيں سنى؟ رسول اللہﷺ نے فرمايا: ميں نے كہہ تو ديا تها كہ تمہارے اوپر ہو- 6

رسول اللہﷺ كے صحابہ نے بهى غير مسلموں كے ساتھ حسن سلوك اور روادارى ميں آپ كى سيرت كو نقش قدم بنايا- حضرت عمر فاروق  نے جب ايك تنگ دست يہودى كو بهيك مانگتے ديكها تو بيت المال سے ہميشہ كے لئے اس كا اور اس كے اہل و عيال كا روزينہ مقرر كرديا اور بطورِ دليل اللہ تعالىٰ كا يہ فرمان پيش كيا:
إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَ‌آءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّ‌قَابِ وَٱلْغَـٰرِ‌مِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿60...سورة التوبہ
"صدقات صرف فقيروں اور مسكينوں كے لئے ہيں اور ان لوگوں كے لئے جو صدقات كے كام پرمامور ہيں اور ان كے لئے جن كى تاليف ِقلبى مطلوب ہو، نيز يہ كہ گردنوں كے چهڑانے اور قرض داروں كى مدد كرنے كے لئے ہيں اور راہ خدا ميں اور مسافر نوازى ميں استعمال كرنے كے لئے ، يہ ايك فريضہ ہے اللہ كى طرف سے اور اللہ سب كچھ جاننے والا اور دانا و بينا ہے-"
آپ نے تنگ دست اہل كتاب كو بهى مساكين كے زمرہ ميں شامل كركے اُنہيں بهى زكوٰة وصدقات كا مستحق قرار ديا - 7

جليل القدر صحابى حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اپنے ہمسايوں كے ساتھ بہت زيادہ احسان كيا كرتے تهے، بلكہ اپنے غلام كو يہودى ہمسايہ كے گهر قربانى كا گوشت پہنچانے كى بار بار تاكيد فرماتے- 8بڑا حيران ہوا اور يہودى ہمسايہ كے ساتھ اس عنايت كا راز پوچها تو حضرت عمرو بن العاص نے جواب ميں رسول اللہﷺ كا يہ فرمان پيش كيا:
(ما زال جبريل يوصيني بالجار،حتى ظننت أنه سيورّثه) 9
"جبريل مجهے پڑوس كے متعلق مسلسل وصيت كرتے رہے حتىٰ كہ مجهے خيال ہوا كہ وہ پڑوس كو وراثت ميں حصہ دار بنا ديں گے-"

تاريخ نے ہمارے لئے ايك نہايت جامع اور بے نظير قانونى دستاويز محفوظ كى ہے جو ايك مسلم حكمران محمد بن عبداللہ سلطانِ مغرب نے 26 شعبان 1280ہ بمطابق 5 فرورى 1864ء كو يہودى باشندوں كے متعلق وہاں كے گورنروں كے لئے لكىح تهى-اُنہوں نے لكها:
"نأمر من يقف على كتابنا هذا من سائر خدامنا وعمّالنا والقائمين بوظائف أعمالنا: أن يعاملوا اليهود الذين بسائر إيالتنا بما أوجبه الله تعالىٰ من نصب ميزان الحق،والتسوية بينهم وبين غيرهم في الأحكام،حتى لا يلحق أحدًا منهم مثقال ذرة من الظلم،ولا يضام ولا ينالهم مكروه ولا اهتضام وأن لا يعتدوا هم ولا غيرهم على أحد منهم في أنفسهم،ولا في أموالهم، وأن لا يستعملوا أهل الحِرَفِ منهم إلا عن طيب أنفسهم،وعلى شرط تَوْفِيَتِهمْ بما يستحقونه على عملهم؛ لأن الظلم ظُلُمَاتٌ يوم القيامة،ونحن لا نوافق عليه،لا في حقهم ولا في حق غيرهم ولا نرضاه ؛ لأن الناس كلهم عندنا في الحق سواء، ومن ظلم أحدا منهم، أو تعدى عليه، فإنا نعاقبه بحول الله.وهذا الأمر الذي قررناه وأوضحناه وبيناه كان مقررا ومعروفا ومحررا، لكن زدنا هذا المسطور تقريرًا وتأكيدًا ووعيدًا في حق من يريد ظلمهم وتشديدا ؛ ليزيد اليهود أمنًا إلى أمنهم، ومن يريد التعدي عليهم خوفا إلى خوفهم." 10
"تمام گورنروں ، ملازمين اور حكومت كے كسى بهى شعبہ سے منسلك تمام افراد كے لئے ہمارا يہ حكم ہے كہ وہ ہمارے تمام صوبوں ميں بسنے والے يہوديوں كے لئے حق و انصاف كا ترازو قائم كريں ، جس كا اللہ نے انہيں حكم ديا ہے- فيصلوں ميں ان كے اور ديگر لوگوں كے درميان اس طرح مساوات قائم كريں كہ كسى يہودى كو ذرّہ برابر بہى ظلم و ستم اور تكليف نہ پہنچنے پائے- ان كى جانوں اور اَموال پر نہ تو خود زيادتى كريں اور نہ كسى دوسرے كو كرنے ديں اور ان ميں سے اہل صنعت وحرفت لوگوں سے كوئى ايسا كام نہ ليا جائے جس پر وہ راضى نہ ہو ں اور اُنہيں ان كے كام كا پورا پورا معاوضہ ديا جائے جس كے وہ واقعى مستحق ہيں كيونكہ ظلم دراصل روزِ قيامت كى ظلمتيں ہيں ، جس كے ہم روا دار نہيں ہوسكتے، نہ ان كے حقوق ميں اور دوسروں كے حقوق ميں - حقوق كے سلسلہ ميں ہمارے نزديك سب لوگ برابر ہيں ، جس نے ان پر كسى قسم كى ظلم و زيادتى كى، اللہ كى توفيق سے ہم اسے ضرور سزا سے دوچار كريں گے-

يہ حكم نامہ جو ميں نے بيان كيا ہے، اگرچہ يہ پہلے سے معروف اور تحرير شدہ موجود ہے ليكن ان سطور كا اضافہ محض تاكيد اور اس شخص كو خبردار كرنے كيلئے ہے جو اہل يہود پر كسى ظلم اور زيادتى كا خواہاں ہے تاكہ ظالم كو كان ہوجائيں اور اہل يہود كے امن و امان ميں اضافہ ہوجائے-"

بے شمار انصاف پسند مغربى مفكرين نے بهى مسلمانوں كى اس عظيم خوبى كا اعتراف كياہے-مشہور مستشرق رينو لكهتا ہے :
"اندلس ميں مسلمانوں كا وہاں كے عيسائى باشندوں كے ساتھ نہايت اچها سلوك تہا، اسى طرح نصارىٰ نے بهى مسلمانوں كے جذبات كا لحاظ ركها- وہ اپنى اولاد كا ختنہ كرتے تهے اور خنزير كا گوشت نہيں كهاتے تهے-" 11

بلكہ ڈاكٹر گوسٹاف ليبن(Gustav LeBon) نے ديگر اقوام عالم ميں اس تيزى كے ساتھ اسلام كے پهيلنے كو مسلمانوں كے انكے ساتھ حسن سلوك كا مرہون قرار ديا ہے-لکھتا ہے :
"اسلام كى واضح اور عالمگير تعليمات اور اسكے نظامِ عدل واحسان نے اقوامِ عالم ميں اشاعت اسلام ميں بهرپور كردار ادا كيا ہے اور ہم سمجهتے ہيں كہ يہى وہ امتيازى خصوصيات تهيں جو بے شمار عيسائى اقوام كے قبولِ اسلام كا باعث ہوئيں -مصريوں كو ديكهئے، وہ قيصروں كے دورِ حكومت ميں نصرانى تهے، ليكن جب وہ اسلام كے اُصولوں سے واقف ہوئے تو وہ مسلمان بن گئے- اسى طرح كوئى قوم بهى اسلام كو دل سے قبول كرنے كے بعد دوبارہ عيسائى نہيں ہوئى، قطع نظر اس سے كہ يہ اُمت غالب تهى يا مغلوب تو اس كى وجہ بهى اسلام كى ہى امتيازى خصوصيات تهيں - 12

باہمى تعاون وكفالت كا حق
بعض ممالك كو مفلس اور محتاج لوگوں كے لئے سوشل ويلفيئر كى فراہمى پر فخر ہے - يہ بلاشبہ ايك قابل ستائش امر ہے ليكن ہر شخص اپنے تئيں اس حقيقت كا اعتراف كرنے پر مجبور پائے گا كہ اسلام ان ممالك سے چودہ صدياں قبل باہمى تعاون اور سوشل ويلفيئر كا ايك پورا نظام دنيا كے سامنے پيش كرچكا ہے-

اس وقت ميرا موضوع يہ نہيں كہ شريعت ِاسلاميہ نے مسلمان مفلسوں اور محتاجوں كے لئے باہمى تعاون كے كيا كيا اسباب مہيا كئے ہيں - اس كے لئے زكوٰة اور صدقات و خيرات كا ايك وسيع نظام موجود ہے، جس كى تفصيل ميں جانے كى ضرورت نہيں -مقصود اس وقت يہ واضح كرنا ہے كہ اجتماعى كفالت كى يہ قسم اسلامى معاشرے ميں بسنے والے غير مسلموں كو كس حد تك شامل ہے- تو حقيقت يہ ہے كہ شريعت ِاسلاميہ نے ازكارِ رفتہ اور معذور انسانوں كى كفالت كے لئے باقاعدہ ايك نظام وضع كيا ہے- خواہ وہ مسلمان ہوں يا غيرمسلم، اسلام مسلم حكومت پر ان كى كفالت كو فرض قرار ديتا ہے، اسلامى بيت المال ان كى كفالت كا ذمہ دار ہوگا اور اگر كوئى حكومت اس حق كى فراہمى ميں كوتاہى كى مرتكب ہوگى تو اسلام كى نظر ميں وہ مجرم ہے-

خلفا اور مسلم حكمرانوں نے غير مسلموں كے لئے باہمى تعاون اور اجتماعى كفالت كے اس حق كى پاسبانى كا جس طرح حق ادا كيا، تاريخ اسلامى نے اس كى متعدد مثاليں اپنے دامن ميں محفوظ كى ہيں -ان ميں سے ايك واقعہ امام ابويوسف نے13 عمر بن نافع ، عن ابى بكر كے حوالہ سے بيان كيا ہے كہ
اميرالمومنين عمرفاروق ايك دروازے سے گزرے، وہاں ايك ضعيف العمر نابينے آدمى كو بهيك مانگتے ديكها- آپ نے اسے پےحں سے كہنى مارى اور پوچها: اہل كتاب كى كس نوع سے تعلق ہے؟ اس نے جواب ديا: يہودى ہوں - آپ نے پوچها: كس چيز نے تجهے يہ بهيك مانگنے پر مجبور كيا ہے- اس نے كہا: بوڑها ہوں ، اپنى ضروريات اور جزيہ ادا كرنے كے لئے بهيك مانگتا ہوں - حضرت عمر نے اس كا ہاتھ پكڑا اورگهر لے گئے اور گهر سے كچھ مال اس كو ديا- اس كے بعد خزانچى كو بلوا كر كہا :

"اس كو اور اس قسم كے لوگوں كو ديكهو، خدا كى قسم! يہ ہرگز انصاف نہيں ہے كہ ہم اس كى جوانى سے تو فائدہ اُٹهائيں اور بڑهاپے ميں اسے رسوا ہونے كے لئے چهوڑ ديں :

إِنَّمَا ٱلصَّدَقَـٰتُ لِلْفُقَرَ‌آءِ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱلْعَـٰمِلِينَ عَلَيْهَا وَٱلْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِى ٱلرِّ‌قَابِ وَٱلْغَـٰرِ‌مِينَ وَفِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۖ فَرِ‌يضَةً مِّنَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿60...سورة التوبہ

يہ مساكين اہل كتاب ميں سے ہے- اس كے بعد آپ نے اس كا اور اس قسم كے تمام ذميوں كا جزيہ معاف كرديا-"
راوى ابوبكركا بيان ہے كہ ميں اس واقعہ كا عينى شاہد ہوں اور ميں نے اس بوڑهے كو ديكهاہے-

خالد بن وليد اور اہل حيرہ كے درميان جو صلح نامہ لكها گيا تها، اسكے الفاظ يہ تهے:
فإن فتح الله علينا فهم على ذمتهم،لهم بذلك عهد الله وميثاقه أشد ما أخذ على نبي من عهد أو ميثاق وعليهم مثل ذلك لا يخالفوا فإن غلبوا فهم في سعة يسعهم ما وسع أهل الذمة،ولا يحل فيما أمروا به أن يخالفوا،وجعلت لهم أيما شيخ ضعف عن العمل، أو أصابته آفة من الآفات،أو كان غنيا فافتقر،وصار أهل دينه يتصدقون عليه،طرحت جزيته،وعيل من بيت مال المسلمين وعياله، ما أقام بدار الهجرة ودار الإسلام،فإن خرجوا إلى غير دار الهجرة ودار الإسلام فليس على المسلمين النفقة على عيالهم. 14
"اگر اللہ ہميں فتح ياب كرتا ہے تو ان كو حقوقِ ذمہ بدستور حاصل رہيں گے، اس كى ضمانت ہم اللہ سے كئے ہوئے عہد اور اس پختہ ترين ميثاق كے حوالہ سے ديتے ہيں جو اس نے اپنے كسى نبى سے ليا ہے- اس كا حوالہ دے كر ہم ان سے مطالبہ كرتے ہيں كہ وہ ان شرائط كى خلاف ورزى نہ كريں اور اگر ان پر كوئى اور طاقت غالب آجائے تو اُنہيں اس بات كى آزادى ہوگى كہ اہل ذمہ جو كچھ كرسكتے ہيں ، وہ كريں - البتہ جن باتوں كا اُنہيں حكم ديا جائے، ان كى خلاف ورزى نہ ہوگى- ميں نے ان كے لئے يہ حق بهى ركها ہے كہ جو شخص بڑهاپے كے باعث از كارِ رفتہ ہوجائے، يا اس پر كوئى آفت ٹوٹ پڑے، يا وہ مال دار تها اور اب فقير ہوگيا ہے كہ اس كے ہم مذہب اس كو صدقہ و خيرات دينے لگے ہيں تو اس كا جزيہ معاف كرديا جائے گا اور اسے اور اس كے بال بچوں كو مسلمانوں كے بيت المال سے خرچ ديا جائے گا جب تك كہ وہ دارِہجرت اور دارِاسلام ميں قيام كرے- البتہ اگر ايسے لوگ دارِہجرت اور دارِاسلام كو چهوڑ كر باہر چليں جائيں تو ان كے اہل و عيال كى كفالت مسلمانوں كے ذمہ نہ ہوگى-"
شام كے سفر ميں حضرت عمر ايك قوم كے پاس سے گزرے جو كوڑہ كے مرض ميں مبتلا تهى تو ان كو صدقات دينے اور امدادى وظائف مقرر كرنے كے احكام جارى كئے- 15

اميرالموٴمنين عمر بن عبدالعزيز نے بصرہ كے گورنر عدى بن ارطاة كو يہ حكم جارى كيا:
وانظر من قبلك من أهل الذمة من قد كبرت سنه وضعفت قوته، وولت عنه المكاسب فأجر عليه من بيت مال المسلمين ما يصلحه. 16
"اپنے علاقہ كے اہل ذمہ كا جائزہ ليں ، ان ميں سے جو شخص بڑهاپے اور كمزورى كے باعث ازكار رفتہ ہوگيا ہے،اس كے لئے بيت المال سے اس كے مناسب حال وظيفہ مقرر كرديں -"
اور اللہ تعالىٰ كا فرمان بهى ہے:
لَّا يَنْهَىٰكُمُ ٱللَّهُ عَنِ ٱلَّذِينَ لَمْ يُقَـٰتِلُوكُمْ فِى ٱلدِّينِ وَلَمْ يُخْرِ‌جُوكُم مِّن دِيَـٰرِ‌كُمْ أَن تَبَرُّ‌وهُمْ وَتُقْسِطُوٓاإِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ﴿8...سورة الممتحنہ
"اللہ تمہيں اس بات سے نہيں روكتا كہ تم ان لوگوں كے ساتھ نيكى اور انصاف كا برتاوٴ كرو جنہوں نے دين كے معاملہ ميں تم سے جنگ نہيں كى ہے اور تمہيں تمہارے گهروں سے نہيں نكالا ہے - اللہ انصاف كرنے والوں كو پسند كرتا ہے- "

اور بعض تابعين كے بارے ميں آتا ہے كہ وہ عيسائى راہبوں كو زكوٰة الفطر ديا كرتے تهے اور بعض علما نے تو ان كو زكوٰة دينے كى اجازت بهى دى ہے-
اس كے علاوہ جو متعدد حقوق اسلام نے غير مسلموں كو عطا كئے ہيں ،چونكہ وہ تمام حقوق واضح، معروف اور بديہى ہيں لہٰذا ميں ان كا ذكر نہيں كروں گا- مثال كے طور پر

1تجارت اور كاروبار كرنے كا حق

2 رہائش اور نقل مكانى كا حق

3 تعليم كا حق

4 آزادىٴ فكر كا حق

5 اجتماعى آزادى كا حق

6انفرادى ملكيت كا حق وغيرہ وغيرہ" 17

البتہ ميں اپنى گفتگو كو ختم كرنے سے پہلے دو اہم اور بنيادى باتوں كى طرف اشارہ كرنا ضرورى سمجهتا ہوں - ان دو اُصولى باتوں كے بغير يہ بحث يقينا تشنہ اور ادہورى رہ جائے گى:
1 پہلی بات اسلام ميں غير مسلموں كے جن حقوق كا ميں نے تذكرہ كيا ہے، ان كى بنياد وحى الٰہى پر ہے جس كا سرچشمہ قرآنِ كريم ہے يا رسول اللہﷺ كى تعليمات ہيں ،جو اپنى خواہش اور مرضى سے نہيں بولتے اور يہ وہ ابدى اور عالمگير حقوق ہيں جو روزِ قيامت تك بغير كسى تعبيروتبدل كے قابل تنفيذ اور قابل عمل ہيں ،كيونكہ يہ خالق كائنات اور اس كے رسولﷺ كے احكام ہيں ، اس كى تعميل، تلقين اور تنفيذ ہر ا س شخص پر فرض ہے جو كلمہ اسلام كا قائل ہے-

اللہ تعالىٰ كا فرمان ہے:

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا ﴿36...سورة الاحزاب

"كسى موٴمن مرد اور كسى موٴمن عورت كو يہ حق نہيں ہے كہ جب اللہ اور اس كا رسول كسى معاملہ كا فيصلہ كردے تو پهر اسے اپنے اس معاملہ ميں خود فيصلہ كرنے كا اختيار حاصل ہو اور جس نے اللہ اور اس كے رسول كى نافرمانى كى، وہ صريح گمراہى ميں پڑ گيا-"

يہ سب حقوق اللہ اور اس كے رسول كے مشروع كردہ ہيں ، كسى فلسفى يا معلم اخلاق كى كاوشِ فكر كا نتيجہ اور ا س كے ذہن كى اختراع نہيں ہيں كہ اُنہيں كسى معاشرے، طبقہ يا كسى حاكم كى رائے سے ناقابل عمل قرار دے ديا جائے يا ان ميں كوئى تبديلى كردى جائے- وہ اسلام كے مستقل اور ناقابل تغيير احكام ہيں ،جنہيں روشن خيال اعتدال پسندى كے نام سے تغير و تبدل اور تحريف و تاويل كى سان پر نہيں چڑهايا جاسكتا- اسلام كے ان اَوامر كو معطل اور نظر انداز كرنا اور ان كے خلاف وضعى قوانين پر عمل كرنا كسى مسلمان كے لئے جائز نہيں ہے اور جہاں تك جديد بين الاقوامى انسانى حقوق كے معاہدوں اور مواثيق كا تعلق ہيں ،وہ يقيناانسانى ذہن كى تخليق اور كاوشِ فكر كا نتيجہ ہيں ، يہ سب وضعى قوانين ہيں ، معاشرہ اور قانون ساز افراد ان قوانين كو جب چاہيں معطل اور تبديل كرسكتے ہيں - بلكہ بعض ممالك نے يہى طريقہ كار اختياركيا ہے كہ ان ميں سے جو قوانين ان كے مقاصد كى تكميل كرتے ہيں اُنہيں اختياركرليتے ہيں اور باقى كو نظر انداز كرديا جاتا ہے- حقيقت يہ ہے كہ انسانى حقوق كے متعلق وضعى قوانين، معاہدے اور چارٹر طاقتور ممالك كے ہاتهوں كٹھ پتلى بن چكے ہيں ، جنہيں وہ بعض مخصوص ممالك سے اپنے مطالبات منوانے اور اپنے اقتصادى اور سياسى مقاصد كے حصول كے لئے بطورِ ہتهيار استعمال كررہے ہيں - ليكن شريعت ِاسلاميہ كے تمام احكام جس ميں غيرمسلموں كے حقوق بهى شامل ہيں ، انسانى خواہشات و مقاصد، زمان و مكان اور حالات كے تابع نہيں ہيں ، يہ آج بهى ويسے ہى قابل نفاذ اور قابل عمل ہيں جيسے آج سے چودہ سو سال قبل تهے- ان كو معطل كرنے والا اور ان ميں كمى بيشى كرنے والا يقينا بہت بڑا مجرم اور انسانيت كا دشمن ہوگا-

2 دوسرى بات جو ميں ذكر كرنا چاہتا ہوں وہ يہ ہے كہ سابقہ تاريخى مثالوں سے يہ بات واضح ہوچكى ہے كہ بلادِ اسلاميہ ميں مقيم غير مسلم اقوام كے ساتھ جس طرح عدل و مساوات كا سلوك روا ركها گيا اور كس طر ح ان كے حقوق كا ہر ممكن تحفظ كيا گيا، اس كى نظير گذشتہ اقوام اور غير مسلم ممالك ميں نہيں ملتى-اب بعض غير مسلموں كى طرف سے يہ كہا جارہا ہے كہ يہ حقوق دورِ قديم ميں تو غيرمسلموں كو حاصل تهے ،ليكن آج كے اسلامى ممالك ميں معاملہ اس كے برعكس ہے، اور وہاں غير مسلم ان حقوق سے محروم ہيں -

مجهے يہ كہتے ہوئے كوئى باك نہيں كہ ہر انصاف پسند يہ ديكھ رہا ہے كہ آج بهى غيرمسلم اسى امتياز اور اسى شان سے بلادِ اسلاميہ ميں رہ رہے ہيں - آج بهى اُنہيں وہى حقوق حاصل ہيں ، بلكہ طرفہ تماشا يہ ہے كہ اكثر اسلامى ممالك ميں وہ اقليت ہونے كے باوجود برسراقتدار بهى ہيں - ہم غير مسلموں سے يہ مطالبہ كرتے ہيں كہ انصاف كے علمبردار بنيں اور حق كا ساتھ ديں خواہ اس كى زد ان كے اوپر ہى كيوں نہ پڑ رہى ہو، جيسا كہ ہم مسلمان بهى اس كے مامور ہيں -فرمانِ الٰہى ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُونُوا قَوَّ‌ٰمِينَ بِٱلْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَوِ ٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَ‌بِينَ ۚ إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرً‌ا فَٱللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا ٱلْهَوَىٰٓ أَن تَعْدِلُوا ۚ وَإِن تَلْوُۥٓا أَوْ تُعْرِ‌ضُوافَإِنَّ ٱللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا ﴿135...سورة النساء
"اے ايمان والو! انصاف كے علمبردار اور خدا واسطے كے گواہ بنو، اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہارى گواہى كى زد تمہارى اپنى ذات پر يا تمہارے والدين اور رشتہ داروں پر ہى كيوں نہ پڑتى ہو- فريق معاملہ خواہ مالدار ہو يا غريب، اللہ تم سے زيادہ ان كا خيرخواہ ہے ،لہٰذا اپنى خواہش نفس كى پيروى ميں عدل كا دامن ہاتہ سے چهوڑ نہ دو اور اگر تم نے لگى لپٹى بات كہى يا حق سے پہلو تهى كى تو جان ركهو كہ جو كچھ تم كرتے ہو ،اللہ كو اس كى خبر ہے-"

ان لوگوں كايہ اعتراض سراسر اِفترا ہے،كيونكہ خود اسلامى ممالك ميں بسنے والے غيرمسلم اپنے ساتھ مسلمانوں كے اچهے سلوك كى گواہى دے رہے ہيں - ميں اس كى صرف دو مثاليں ذكر كرنے پر اكتفا كروں گا:

1 مصرى عيسائيوں نے 5 نومبر 1998ء كو اخبار Herald Tribune ميں مكمل صفحے كا ايك اشتہار شائع كيا جس پر دو ہزار سے زائد مشہور عيسائى مصنّفين، صحافيوں ، ملازمين، وكلا، ڈاكٹرز اور ديگر اعلىٰ شخصيات كے دستخط تهے-اُنہوں نے يہ كہا كہ قبطى عيسائيوں كو مصر ميں اپنے مذہبى شعائر بجا لانے كى كهلى آزادى ہے- وہ اپنے گرجے تعمير كرتے ہيں اور مسلمانوں كے ساتھ ان كے تعلقات انتہائى خوشگوار ہيں اور وہ اجتماعى طور پربالكل متحد ہيں -18
2 يہودى حكومت كے وزير خارجہ تيونس نژاد سلفان شالوم نے فلسطين ميں 'الشرق الاوسط' اخبار كو انٹرويو ديتے ہوئے يہ بات كہى:
"عالم عرب ميں تمام يہوديوں كو مذہبى آزادى حاصل ہے..."

اس نے مزيد كہا :
"ميں يہ تسليم كرتا ہوں كہ يہوديوں كو عرب حكومتوں كے زير سايہ زندگى گزارنے كے جو مواقع ميسر تهے، وہ ان مواقع سے كہيں بہتر ہيں جواُنہيں مغربى عيسائى حكومتوں كے زير سايہ حاصل ہيں - مثال كے طور پر 1492ء يہوديوں كو ہسپانيہ سے جلا وطن كر ديا گيا-(اس سے قبل) يہودى اندلس ميں آزادى سے زندگى بسر كر رہے تهے-عرب اسلامى مملكت كے زير سايہ يہ لوگ بڑے بڑے اجتماعات منعقد كرتے تهے-يہوديوں كو اندلس سے كب جلا وطن كيا گيا؟ اس وقت جب عيسائى مسلمانوں پر غالب آ گئے تهے، اندلس اور پرتگال سے جلا وطن ہونے كے بعد يہودى مغرب اور شمالى افريقہ كے ممالك كى طرف ہجرت كر گئے اور مصر ميں يہ لوگ نہايت خوش حالى كى زندگى بسر كرتے رہے-" 19
اس كے برعكس جب ہم اس دور ميں يا گزشتہ تاريخ كے تناظر ميں اسلامى ممالك ميں بسنے والے غيرمسلموں اور غير مسلم ممالك ميں مقيم مسلم اقليتوں كے حالات كا باہم موازنہ كرتے ہيں تو دونوں كے حالات كے درميان ہميں واضح فرق نظر آتا ہے-

صليبى جنگوں كى خون آشام تاريخ كو پڑهئے كہ غيرمسلموں كے ہاتهوں مسلمانوں پر كيا بيتى؟ سقوطِ اندلس كى تاريخ كو ذہن ميں تازہ كريں ، جہاں لرزہ خيز مظالم كى داستانيں جابجا بكهرى پڑى ہيں ، چين كى تاريخ بهى مسلمانوں كے خون سے رنگين ہے، سوويت يونين كے ہاتهوں مسلم اُمہ كے خون كى ندياں چند برس قبل ہم نے اپنى آنكهوں سے بہتى ديكهيں ، جہاں عدل، مساوات اور انسانيت كے تمام تقاضے فراموش كرديے گئے تهے-اور آج بلقان، روس، فلسطين، كشمير، ہندوستان اور فلپائن ميں بسنے والے مسلمانوں پر جو ظلم ڈهائے جارہے ہيں ،يہ سب كچھ كيا ہے؟ ذرا سوچو ! پهر انصاف سے بتاوٴ، كس نے عدل و انصاف اور حق كا بول بالا كيا اور كس نے حق و انصاف كا خون كيا ،كيونكہ تمام شرائع اور مہذب قوانين ميں قولِ حق كا اصول موجود ہے اور قولِ حق ہى ہر انسان كا شيوہ ہونا چاہئے :

وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ ٱعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ وَٱتَّقُوا ٱللَّهَ ۚ...﴿8...سورة المائدة

"كسى گروہ كى دشمنى تمہيں اتنا مشتعل نہ كردے كہ تم حق و انصاف سے پهر جاوٴ، عدل و انصاف كرو ، يہ خدا ترسى سے زيادہ مناسبت ركهتا ہے، اور خدا سے ڈرو- جو كچھ تم كرتے ہو، اللہ اس سے پورى طرح باخبر ہے-"


حوالہ جات

1. الفروق 153، الأقلیات الدینیة والحل السلامی : 45،46
2. سنن أبي داود :3911
3. کتاب الأموال، از عبید قاسم بن سلام : 613
4. معجم الشیوخ : 971،مکارم الأخلاق : 1111، التذکرة الحمدونیة: 953، من روائع حضارتنا: 134
5. البدایة والنھایة 5073، دلائل النبوة: 48
6. صحیح البخاری:807 ،صحیح مسلم :17061
7. الخراج: 26،غیر المسلمین ف المجتمع الإسلامي : 51
8. سنن الترمذی :1866
9. صحیح البخاری : 36910، 370
10. الأقلیات الدینیة والحل الاسلامی: 58،59
11. من روائع حضارتنا : 147
12. حضارة العرب:125
13. کتاب الخراج : 136
14. أیضاً: 155، 156
15. فتوح البلدان :135،غیر المسلمین ف المجتمع السلامی : 17
16. کتاب الأموال : 57،الأموال، از ابن زنجویہ: 152
17. فقہ الاحتساب علی غیر المسلمین:43تا58، الحوار السلام المسیح: المباد ۔التاریخ الموضوعات۔ الأھداف :48، السلامی والمساواة بین المسلمین وغیر المسلمین:215،أحکام عقد الأمان والمستأمنین:109،112، الأوضاع القانونیة للنصاریٰ والیہود ف الدیار السلامیة حتی الفتح العثمانی: 49، 74تا99،193تا212
18. السلام ف عیون السویسریین: 21
19.  الشرق الاوسط،بروز ہفتہ 22/4/1424ہ بمطابق 22/6/2003ء


 بلادِ اسلامیہ میں غیر مسلموں کے حقوق (قسط 1)