میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ماں باپ اپنى زندگى ميں اپنى اولاد كو كئى چيزيں عنايت كرجاتے ہيں، ايسے ہى اُنہيں كسى بيٹے يا بيٹى سے طبعاً زيادہ محبت بهى ہوتى ہے ليكن اسلامى شريعت نے اس سلسلے ميں چند ايك اُصول مقرر فرمائے ہيں جن كو پيش نظر ركهنامسلم والدين كے لئے ضرورى ہے- اس نوعيت كے مسائل مسلم معاشرہ ميں اكثر وبيشتر پيش آتے رہتے ہيں، زير نظر مضمون ميں ايسے ہى احكام سوال وجواب كى صورت ميں بيان ہوئے ہيں- واضح رہے كہ ہبہ كالفظ عربى زبان ميں كسى شے كو تحفت دينا ،گفٹ كردينا ، عطہا دينا وغيرہ كے معنى ميں استعمال ہوتا ہے-بعض جزوى اصلاحات ، حوالہ جات اور ترتيب كے بعد يہ مضمون ہديہٴ قارئين ہے-



اولاد ميں برابرى كا حكم كس نوعيت كے اُمور ميں ہے؟
سوال 1: حديث ِنبوى كى رو سے اولاد كے درميان مساوات كرنا چاہئے- اگر والدين اولاد كا نكاح كريں تو عموماً زيورات، پارچہ جات وغيرہ ميں والدين كى طرف سے كمى بيشى ہوجاتى ہے- اگر ايك بيٹے كو تعليم ميں لگايا تو اس كے اخراجات كے متحمل بهى والدين ہى ہوتے ہيں، حالانكہ بعض اوقات دوسرى اولاد پر اتنا خرچ نہيں كيا جاتا- اسى طرح كسى كو مكان لے كر ديا كسى كو كچھ اور كسى كو كچھ، اور مساوات كا لحاظ نہيں ركها گيا، تو سوال يہ ہے كہ
شريعت نے اولاد كو ديے جانے والے ہر عطيہ ميں مساوات ضرورى ركہى ہے- اگر يہى بات ہے توپهر يہ امر انسان كى طاقت سے باہر ہے اورارشادِ الٰہى ہے:

لَا يُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ...﴿٢٨٦...سورة البقرة

اگر ايسا نہيں تو پهر فرمانِ نبوى (لا أشهد على جور) (ميں ظلم پر گواه نہيں بن سكتا )جو مسلم كى حديث ميں وارد ہے، اس كے كيا معنى ہوئے؟

جواب : اكٹهے خرچ ميں تو مساوات بيگانوں ميں نہيں ہوسكتى، ايك گهر ميں كس طرح ہوگى؟ مثلاً سفر ميں دو شخص اپنا خرچ ايك جگہ كريں تو ضرور كمى بيشى ہوگى- ايك وقت ايك كو بهوك پياس نہيں ہوتى تو اس كى خاطر دوسرا بهوكا نہيں رہ سكتا، كبہى ايك شخص ايك روٹى كهاتا ہے تو دوسرا دو يا تين كها جاتا ہے- اسى طرح بيمارى وغيرہ ميں بهى پيسے كم و بيش خرچ ہوتے ہيں، سب سے احتياط والى چيز يتيموں كا مال ہے، جس كے متعلق قرآنِ مجيد ميں سخت وعيد بهى آئى ہے كہ جو يتيموں كا مال ظلم سے كهاتے ہيں ، وہ اپنے پيٹوں ميں آگ ڈالتے ہيں- اسى وجہ سے صحابہ نے يتيموں كا كهانا دانہ الگ كرديا مگر جب اس كا نبنا مشكل ہوگيا

تو ارشادِ خداوندى ہوا:

وَإِن تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَ‌ٰنُكُمْ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ ٱلْمُفْسِدَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِ ۚ...﴿٢٢٠...سورة البقرة

"يعنى اگر ان كو اپنے ساتھ ملا لو تو تمہارے بهائى ہيں اور اللہ تعالىٰ فسادى اور مصلح كو خوب پہچانتاہے-"

اس سے آپ سمجھ سكتے ہيں كہ اكٹهے خرچ ميں مساوات كى كوئى صورت نہيں بلكہ ہر ايك كى ضرورت كے بقدر خرچ ہوتا ہے، كوئى كهانا زياده كهاتا ہے، كوئى كم اوركسى كے وجود پركپڑے كا خرچ كم ہوتا ہے توكسى كے وجود پر زيادہ ،كيونكہ ان كے قدوقامت بهى برابر نہيں ہوتے- كسى كا وجود كمزور ہے، اس كو سردى ميں زيادہ گرم كپڑے كى ضرورت ہے توكسى كو ہلكا كافى ہے -كسى كے وجود پركپڑا جلدى پهٹتا ہے اور وہ سال بهر ميں كئى جوڑے چاہتا ہے، كوئى كم،بالخصوص لڑكيوں كے كپڑوں پر زيادہ خرچ ہوتا ہے بلكہ ساتھ ان كے زيور كا خرچ بهى هے، جيسا كہ قرآنِ مجيد ميں بهى ہے:

أَوَمَن يُنَشَّؤُا فِى ٱلْحِلْيَةِ...﴿١٨...سورة الزخرف

"لڑكيوں كى پرورش زيورات ميں ہوتى ہے-"

پهر بيماريوں وغيرہ كے موقع پر دواؤں پر اور حكيموں، ڈاكٹروں كى فيسوں ميں ايك انداز پر خرچ نہيں ہوتا- اس طرح بياہ شادى پر مختلف خرچ ہوتا ہے، كيونكہ لڑكى بيگانى ہوتى ہے، لڑكے والے جو چاہتے ہيں، خرچ كراتے ہيں- اس طرح لڑكيوں كى شادى ميں ايك قسم كے لڑكے نہيں ملتے اور نہ لڑكياں ايك صفت، ايك لياقت كى ہوتى ہيں تو پهر خرچ ميں برابرى كى كيا صورت ہے؟ اس طرح اولاد كى تربيت ميں بهى تفاوت ہوتا ہے- ان كى لياقت، استعداد اور ذہانت و طبيعت كا لحاظ كرتے ہوئے ان كو مختلف ہنر سكهائے جاتے ہيں- كسى كو طبابت، ڈاكٹرى، كسى كو انجينئرنگ، كسى كو تجارت اور كسى كو عالم دين بنا كر خادمِ اسلام بنا ديا جاتا ہے اور لڑكيوں كو بهى ان كے حسب ِحال تعليم دى جاتى ہے تو ان كے خرچ و اخراجات برابر كس طرح ہوسكتے ہيں؟

يہى صورتحال بيويوں كے بارے ميں بهى ہے كہ ان ميں بہى برابرى كا حكم ہے مگر اس قسم كے اُمور ميں ان كے درميان بهى تفاوت ہوجاتا ہے- چنانچہ رسول اللہﷺ كى بيويوں كے مہر مختلف تهے- ولمےك مختلف اور ان سے بات چيت مختلف تهى- ايك مرتبہ رسول اللہﷺ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ كو سفر ميں ساتھ لے گئے مگر رات كو اپنى سوارى حضرت عائشہ كى سوارى كے ساتھ ركهتے اور انہى سے بات چيت كرتے- حضرت حفصہ كو اس بات سے بڑى غيرت محسوس ہوئى- چنانچہ يہ لمبا قصہ صحيح بخارى ميں باب القرعة بين النساء إذا أراد سفرًا ميں موجود ہے- اس طرح محبت ميں بهى برابرى نہيں ہوسكتى كيونكہ يہ اختيارى شے نہيں بلكہ طبعى ہے- ايسے ہى جب تك طبعى ميلان نہ ہو مباشرت وغيرہ بهى نہيں ہوسكتى- البتہ ہر گهر ميں بارى بارى جانا اختيارى شے ہے، اس لئے رسول اللہﷺ بارى تقسيم كرنے كے بعد فرماتے

(اللهم هذه قسمتي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك) 1
" يا اللہ! يہ ميرى تقسيم ہے اس شے ميں جس كا ميں اختيار ركهتا ہوں، پس جس كا تو اختيار ركهتا ہے اور ميں نہيں ركهتا، اس ميں مجهے ملامت نہ فرما-"

اس تفصيل سے معلوم ہوا كہ حوائج ِضروريات اور تربيت ميں برابرى ناممكن ہے بلكہ ان ميں وہى يتيموں والا اُصول مدنظر ركہنا چاہئے يعنى

﴿وَاللَّـهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ...﴿٢٢٠﴾...سورۃ البقرۃ﴾ "

خدا مفسد كو اصلاح كرنے والے سے جانتا ہے-"

جس كا مطلب يہ ہے كہ اپنى طرف سے ہر ايك كى اصلاح اوربهلائى كى كوشش ہونى چاہئے، آگے ان كے اور والدين كے حسب ِحال كسى بات ميں تفاوت ہوجائے تو اس پر موٴاخذہ نہيں- البتہ حوائج اور ضروريات كے علاوہ زائد عطيہ ميں ضرور برابرى چاہئے- چنانچہ بخارى و مسلم كى حديث ميں جو نعمان بن بشير سے مروى ہے كہ
"سألت أمي أبي بعض الموهبة لي من ماله،ثم بدا له موهبها لي فقالت: لا أرضى حتى تشهد النبي فأخذ بيدي وأنا غلام فأتى بي النبي فقال: إن أمه بنت رواحة سألتني بعض الموهبة لهذا قال: (ألك ولد سواه؟( قال:نعم قال: فأراه قال:(لا أشهد على جور) " 2

آپ كے فرمان (لا أشهد على جُور)"یعنى ميں ظلم پر شہادت نہيں ديتا-" ميں اسى قسم كے عطيہ كا ذكر ہے اور ايك حديث ميں تصريح آتى ہے كہ سوّوا بين أولادكم في العطية 3

چنانچہ فتح البارى كے حوالہ سے اس كا ذكر آگے آتا ہے، يعنى ضروريات كے علاوہ كوئى عطيہ دينا ہو تو اس ميں برابرى ضرورى ہے- اسى بنا پر علما نے لكها ہے كہ اگر كوئى سبب ايسا پيدا ہوجائے جس سے بعض اولاد كو عطہي دينا پڑے تو اس صورت ميں بعض كو دينے ميں بهى كوئى حرج نہيں، مثلاً كوئى دائم المرض يامقروض ہو تو اس صورت ميں ان كو خاص بهى كيا جا سكتا ہے- چنانچہ حافظ ابن حجر نے فتح البارى ( 10/546) ميں اس كى تصريح كى ہے اور علامہ شوكانى نے نيل الاوطار ( 5/242) ميں بهى ذكر كيا ہے- اس كى وجہ يهى ہے كہ يہ درحقيقت عطيہ نہيں بلكہ اولاد كى ضروريات ميں داخل ہے كيونكہ دائم المرض اور مقروض ہونا ايك بڑى ضرورت اور مجبورى ہے- اس سے معلوم ہواكہ ضروريات تو كجا، اس عطيہ ميں بهى برابرى نہيں جو ضروريات ميں داخل ہو-

ہبہ كى برابرى ميں بيٹوں اور بيٹيوں ميں كوئى فرق ہے يا نہيں؟
سوال2:اولاد كو ديے جانے والے تحفہ ميں مساوات ضرورى ہے يا مثل وراثت لڑكى كا حصہ لڑكے كے نصف ہوگا؟
جواب:عطيہ ميں بيٹے بيٹيوں ميں برابرى كا حكم ہے يا نہيں؟ تو اس كا جواب يہ ہے كہ رسول اللہﷺ نے جس حديث ميں (لا أشهد على جور) فرمايا ہے، اس ميں يہ بهى ہے أ كلّ ولدك نحلتَ مثله4
يعنى نعمان بن بشير كہتے ہيں :جب ميرے والد نے مجهے ايك غلام ہبہ كركے رسول اللہﷺ كو اس پر گواہ بنانا چاہا توآپ نے فرمايا: "كيا اپنى تمام اولاد كو تو نے اس كے مثل ہبہ كيا ہے؟" ميرے والد نے كہا: نہيں- تو آپ نے فرمايا:اس ہبہ سے رجوع كرلے اور ايك روايت ميں ہے كہ كيا تو نے اپنى باقى اولاد كوبهى اس كى مثل ديا ہے؟ كہا:نہيں، تو فرمايا: اللہ سے ڈرو اور اولاد ميں عدل كرو- ان الفاظ " اس كے مثل ہبہ كيا ہے يا اس كى مثل ديا ہے؟" سے معلوم ہوتا كہ اس بارے ميں ذكور واُناث ميں كوئى فرق نہيں كيونكہ اولاد كا لفظ لڑكے اور لڑكيوں سب كو شامل ہے- اور اس حديث ميں يہ الفاظ بهى ہيں:

قال(أيسرّك أن يكونوا إليك في البرّ سواء؟)قال بلى قال:(فلا إذًا)
"رسول اللہﷺ نے فرمايا: كيا تجےب يہ بات پسندہے كہ تيرى اولاد تيرے ساتھ برابر نيكى كرے؟ كہا: ہاں تو آپ نے فرمايا: پس ميں اس ہبہ پر گواہ نہيں بن سكتا-"5

ان الفاظ سے بهى اس كى تائيد ہوتى ہے كہ تحفہ / ہبہ وغيرہ ميں لڑكے اور لڑكيوں ميں فرق نہيں، كيونكہ عموماً والدين چاہتے ہيں كہ ہمارى اولاد ہمارے ساتھ برابر نيكى كرے، خواہ وہ لڑكے ہوں يا لڑكياں- پس ترجيح اسى كو ہے كہ اس بارے ميں لڑكے اور لڑكيوں ميں برابرى كى جائے-مذكورہ حديث كى بعض روايتوں ميں اگرچہ اولاد كے عام لفظ كى جگہ بيٹوں كا لفظ بهى آيا ہے مگر حافظ ابن حجر نے فتح البارى (10 /539) ميں كہا ہے كہ اگر صرف لڑكے ہى ہوں اور اگر لڑكے لڑكياں دونوں ہوں تو پهر لڑكوں كا ذكر محض غلبہ كى بنا پر ہے، اس كے بعد حافظ ابن حجر نے بحوالہ ابن سعد، نعمان كے والد كى ايك بيٹى كا بهى تذكرہ كيا ہے جس كا نام اُبيّہ ہے جس سے يہى ظاہر ہوتاہے كہ جن روايتوں ميں لڑكوں كا ذكر ہے وہ محض غلبہ واكثريت كى بنا پر ہے جيسے والد اور والدہ ، دونوں كو والدين ہى كہہ ديتے ہيں ا ورحافظ ابن حجر نے يہ بهى كہا ہے كہ حديث ميں تسويہ (برابرى كرنے كا حكم) اسى امر كى طرف شہادت ديتا ہے كہ لڑكے لڑكيوں ميں فرق نہيں، پهر اس كى تائيد ميں ايك روايت بهى ذكر كى ہے جس كے الفاظ يہ ہيں:

(سووا بين أولادكم في العطية فلو كنت مفضلا أحدا لفضلت النساء) 6
یعنى "اولاد كو عطيہ دينے ميں برابرى كرو- پس اگر ميں كسى كو فضيلت ديتا تو عورتوں كو ديتا-"

اس حديث كى اسناد ميں اگرچہ علامہ شوكانى نے نيل الاوطار ( 5/242) ميں سعيد بن يوسف نامى راوى ضعيف بتايا ہے مگر حافظ ابن حجر كہتے ہيں: وإسنادہ حسن یعنى اس كى اسناد حسن ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے كہ معمولى ضعف ہوگا جس سے حديث صحت كے درجہ سے نكل كر حسن كے درجہ كو پہنچ گئى، مثلاً حافظہ ميں معمولى نقص ہوگا وغيرہ- بهرصورت اس حديث سے تائيد ضرور ہوتى ہے- پس ترجيح اسى كو ہے كہ عطيہ ميں لڑكے اور لڑكيوں ميں برابرى كى جائے-

نوٹ:اس حديث سے اس بات كى بهى تائيد ہوتى ہے كہ اولاد ميں ضروريات اور حوائج كے اندر برابرى كا حكم نہيں بلكہ عطيہ ميں برابرى كا حكم ہے، جيسا كہ اوپر تحقق ہوچكى ہے كيونكہ اس حديث ميں صراحت موجود ہے كہ اولاد ميں عطيہ كے اندر برابرى كرو-

اپنا تمام تركہ انسان كس مرض ميں ہبہ كرسكتا ہے ؟
سوال3: لڑكا مشرك، بدعتى اور بدقماش ہے جو اپنے باپ كا نافرمان ہے- بيوى بهى لڑكے كے ہم اوصاف ہے، بغرضِ طلاق اس كو بہن كہہ كر الگ بهى كيا ہوا ہے- لڑكى كو تركہ كے حصے سے دو ہزار روپيہ دے ديا ہوا ہے، اب زيد كا خيال ہے كہ ميرے بعد اگر جائيداد ورثا كو ملى تو وہ حرام راستہ پر جائے گى- زيد چاہتا ہے كہ اپنى جائيداد منقولہ و غير منقولہ كسى اسلامى ادارہ كو ہبہ كرجائے، كيا يہ جائز ہے؟

جواب: صورتِ مسئولہ ميں بيوى كى عدت پورى ہوچكى ہے، اس لئے اب وہ بيوى نہيں رہى- اب اس كا كوئى حق نہيں اور بيٹا مشرك ہے اور مشرك كافر ہے اور كافر مسلمان كا وارث نہيں ہوسكتا-البتہ لڑكى وارث ہوسكتى ہے، اگرچہ اس كودو ہزار روپيہ دے كر الگ كرديا ہے ليكن اس سے اس كى وراثت كا حق منقطع نہيں ہوتا كيونكہ وراثت موت كے وقت ہوتى ہے، اگر موت كے وقت زيد كے پاس كچھ مال ہوگا تو لڑكى وارث ہوگى اور اگر موت سے پہلے صحت اور تندرستى ميں زيد سارا مال كسى ادارہ وغيرہ كو دے دے تو اس صورت ميں لڑكى كا كوئى حق نہيں كيونكہ اس كى زيد كوشرعاً اجازت ہے، جيسے مشہور ہے كہ حضرت عمر نے فى سبيل اللہ نصف مال ديا اور حضرت ابوبكر نے سارا مال ديا- رہا بيمارى ميں دينا تو اس كى دو صورتيں ہيں: ايك يہ كہ بيمارى لمبى ہو جس ميں موت كا واقع ہونا كم ہوتا ہے، جيسے دمہ، كهانسى، بواسير وغيرہ جو عمر بهر ساتھ رہتى ہيں اور كچھ علاج معالجہ سے صحت بهى ہوجاتى ہے تو ايسا بيمار تندرست كے حكم ميں ہى ہے كيونكہ عموماً تهوڑا بہت انسان بيمار رہتا ہى ہے، جيسا كہ حضرت ابوبكر اس زہر سے فوت ہوئے جو ہجرت كے موقعہ پر غارِ ثور ميں كسى شے كے كاٹنے سے جسم ميں سرايت كرگيا تها- اسى طرح رسول اللہﷺ اسى زہر سے فوت ہوئے جو ٧ہجرى ميں خيبر كے موقع پر يہود نے دعوت كے بہانے سے بكرى كے گوشت ميں آپ كوكهلا ديا تها-آپﷺ كے تالو كا گوشت جس كو پنجابى ميں 'كامى' كہتے ہيں، اس زہر كے اثر سے سياہ پڑگئى تهى- حضرت عائشہ كو آپﷺ نے فرمايا كہ ہميشہ مجهے اس سے دُكھ رہتا ہے اور وفات كے وقت فرمايا كہ اب اس زہر كے اثر سے ميرى شہ رگ كٹ گئى ہے- اس قسم كے واقعات سے ثابت ہوا كہ لمبى بيمارى تندرستى كے حكم ميں ہے، ورنہ حضرت ابوبكر سارا مال ديتے اورنہ رسول اللہﷺ قبول فرماتے-

اور اگر خطرناك بيمارى ہو جس ميں عموماً موت واقع ہوجاتى ہے تو اس كى پهر دو حالتيں ہيں ايك يہ كہ اس كے بعد صحت ہوجائے تو اس بيمارى كے اندر تصرفات تندرستى والا ہى حكم ركهتے ہيں اور اگر اس بيمارى ميں موت واقع ہوگئى تو يہ مرض الموت ہے اور مرض الموت كے تصرفات وصيت كا حكم ركهتے ہيں چو تھائى مال تك ہى جارى ہوسكتى ہے چنانچہ تلخيص الحبير اور مُحلّى ابن حزم وغيرہ ميں لكها ہے كہ حضرت ابوبكر نے حضرت عائشہ كو باغ كى كهجوريں ہبہ كيں حضرت عائشہ سے كسى وجہ سے كاٹنے ميں دير ہوگئى- اسى اثنا ميں حضرت ابوبكر مرض الموت سے بيمار ہوگئے جس ميں موت كے آثار ظاہر ہوگئے، چونكہ ہبہ ميں قبضہ شرط ہے اور بغير قبضہ كے ہبہ نہيں ہوتا ا س لئے حضرت ابوبكر نے فرمايا: اے بيٹى! اگر تو ميرى بيمارى سے پہلے قبضہ كرليتى تو يہ تيرى چيز ہوجاتى- اب يہ مال وارث كا ہے يعنى دوسرے وارثوں كى طرح ہى تجهے اس سے حصہ ملے گا، اب يہ ہبہ نہيں رہا اور اس كو وصيت اس لئے نہيں بنايا كہ وارث كے لئے وصيت كرنا جائز نہيں- خلاصہ يہ كہ صورتِ مسئولہ ميں ديكهنا چاہئے كہ بيمارى كس قسم كى ہے- سو اسى كے مطابق فيصلہ ہوگا-

وارث كے لئے ہبہ اور قبضہ كے بغير ہبہ كا حكم
سوال4: ہندہ صاحب ِجائيداد عورت ہے اور لاولد ہے- اس نے اپنى كچھ جائيداد اپنے بهتيجوں ميں سے ايك بهتيجے زيد كو ہبہ كركے رجسٹرى كرا دى ہے ليكن جائيداد مذكور كواپنے ہى قبضہ ميں ركها ہوا ہے- ہندہ كى زندگى ميں زيد كا انتقال ہوگيا- ہندہ نے بعد انتقال زيد مذكور كے ہبہ كو منسوخ كرنے كى زبانى كوشش كى، اس كے بعد ہندہ كا بهى انتقال ہوگيا- اب سوال يہ ہے كہ ہندہ كا اپنے وارثوں كو ...جن كا حصہ شرع ميں مقرر ہے ...ہبہ كرنا جائز ہے؟ ہندہ كا ہبہ كردہ جائيداد كو اپنے قبضہ ميں ركهنا ہبہ كو منسوخ كرتا ہے يا جائيداد مذكور از روے شريعت ہندہ كے وارثوں ميں تقسيم ہوگى يا زيد كے وارثوں ميں؟

جواب : ہندہ بقائمى ہوش و حواس صحت و تندرسى ميں ہرايك كو ہبہ كرسكتى ہے، صرف اولاد ميں برابرى كا حكم آيا ہے، دوسرے ورثا كے متعلق رسول اللہﷺ نے كچھ نہيں فرمايا- ہاں مرضِ موت ميں اس كى اجازت نہيں كيونكہ مرضِ موت كا ہبہ درحقيقت وصيت ہے، ايسے ہى حديث ميں ہے كہ (لاوصية لوارث) يعنى "وارث كے لئے وصيت نہيں-"7
ہندہ كا ہبہ مذكورہ تكميل كو نہيں پہنچا-كيونكہ ہبہ ميں موہوب لہ (جس كو ہبہ كيا گياہے) كا قبضہ شرط ہے جوہبہ مذكورہ ميں نہيں- حضرت ابوبكر نے حضرت عائشہ كو كچھ ہبہ كيا، مگر حضرت عائشہ نے اس پر قبضہ نہ كيا، اس كے بعد حضرت ابوبكر بيمار ہوگئے، موت كے آثار نمودار ہوئے تو فرمايا: اے عائشہ! تو نے قبضہ نہيں كيا- اب يہ مال تركہ ميں شامل ہے اور اس ميں تجهے كوئى خصوصيت حاصل نہيں- يہ روايت تلخيص الحبير كتاب الہبہ ميں مذكور ہے، اس سے معلوم ہوا كہ ہندہ كا ہبہ مكمل نہيں ہوا، اس لئے ديگر ورثا بهى اس ميں حصہ دار ہيں-

جس ہبہ سے شرعى وارث محروم ہوں، اس كا حكم
سوال5: زيد كا ايك بيٹابكر اور تين بيٹياں ہندہ، كلثوم اور خديجہ ہيں- زيد اپنے لڑكے بكر كے ساتھ رہتا ہے- بيٹے بكر نے اپنى بہنوں اور اپنى بيٹيوں كو وراثت سے محروم كرنے كى غرض سے اپنے باپ زيد پر ناجائز دباؤ ڈال كر كل جائيداد منقولہ و غير منقولہ كو اپنے بيٹوں كے نام سے ہبہ بلا معاوضہ كراليا جس كو تقريبا آٹھ نو سال گزرگئے- ليكن عملاً زيد اسى مكا ن ميں بودوباش ركهتا ہے اور اس نے كبهى مكان كا تخليہ كركے اسے خالى نہيں كرايا- چند روز ہوئے كہ زيد فوت ہوگيا اور اس كے وارث مذكورہ تينوں لڑكياں اور ايك لڑكا بكر ہے- ہندہ نے جب اپنے بهائى بكر سے تركہ طلب كيا تو بكر نے جواب ديا كہ والد كى جو كچھ جائيداد تهى، خود ان كے حين حيات ميں ہبہ ہوچكى ہے، البتہ انہوں نے كچھ ذاتى رقم خرچ كے لئے عليحدہ ركهى ہوئى تهى، ان ميں سے جو كچھ بچا ہوگا، اس ميں سے تم كو حصہ مل جائے گا، سوال يہ ہے كہ
1 ايسا ہبہ جس سے ورثاء شرعى محروم ہوں اور وہ غير وارث كو مل جائے، كيا جائز ہے يا نہيں؟
2 آيا بيٹيوں كو اپنے باپ كى وراثت ميں سے حصہ ملے گا يا نہيں اور يہ حضرت نعمان بن بشير كے واقعہ أ كلّ أولادك نَحَلتَ (كياتم نے تمام اولاد كو ايسا ہى تحفہ ديا ہے؟) كے ضمن ميں داخل ہے يا نہيں؟
3 ہبہ بلا قبضہ كا كيا حكم ہے؟

جواب : نعمان بن بشير كى حديث ميں صراحت ہے كہ اولاد ميں عدل كرو- پس كسى ايك كے نام جائيداد كردينا، چاہے وہ بيٹى ہو يا بيٹا، يہ امر حديث كے خلاف ہے- زيد كو كوئى حق نہيں تها كہ وہ تمام جائيداد بكر كے نام كرتا اور اب بكر كو بهى اجازت نہيں كہ وہ اس جائيداد پر قبضہ كرے-تلخيص الحبيرميں ہے:
إن أبا بكر نحل عائشة جذاذ عشرين وسقا فلما مرض قال ودِدت أنك حزيتية أو قبضتيه وإنما هو اليوم مال الوارث. مالك في الموطأ عن شهاب بن عروة عن عائشة به وأتم منه رواه البيهقي من طريق ابن وهب عن مالك وغيره عن ابن شهاب عن حنظلة بن أبي سفيان عن القاسم بن محمد نحوه وقد روي الحاكم أن النبى ﷺ أهدى إلى النجاشي ثم قال لأم سلمة إنى لأرى النجاشي قد مات ولأرى الهدية التي أهديت إليه إلا سترد فإذا رددت إلي فهي لك فكان كذلك... الحديث -8
"حضر ت ابوبكر نے حضرت عائشہ كو اَسّى من كهجور ہبہ كى- جب آپ بيمار ہوگئے تو فرمايا: ميں چاہتا تها كہ تو كهجوروں كو اپنے قبضہ ميں كرليتى كيونكہ آج وہ وارث كا مال ہے- امام مالك نے اس كو موطأ ميں روايت كيا ہے اور امام بيہقى نے بهى اس كو بطريق وہب، امام مالك وغيرہ سے روايت كيا ہے اور حاكم نے يہ بهى روايت كيا ہے كہ نبى ﷺ نے نجاشى كو ايك تحفہ بهيجا- پهر اُمّ سلمہ كو كہا: ميں ديكهتا ہوں كہ نجاشى فوت ہوگيا ہے اور جو تحفہ ميں نے اس كو بهيجا تها، وہ ضرور لوٹا ديا جائے گا -پس جب وہ واپس آئے تو وہ تيرے لئے ہے ،چنانچہ اسى طرح ہوا- "

ان دونوں روايتوں سے ثابت ہوا كہ ہبہ ميں قبضہ ضرورى ہے- اگر صرف ہبہ كردينے سے ہبہ مكمل ہوجاتا تو حضرت ابوبكر حضرت عائشہ كو يہ نہ كہتے كہ "آج وہ مال وارث كا ہے-" نہ رسول اللہﷺ حضرت اُمّ سلمہ كو يہ كہتے كہ "جب واپس آئے تو وہ تيرے لئے ہے-" بلكہ اس كے حق دار نجاشى كے ورثا ہوتے-

اولاد ميں ہبہ كے وقت برابرى كا حكم، بعض اولاد كو دى گئى جائيداد كا حكم
سوال6: ايك شخص نے اپنے جوان بيٹے كو عليحدہ كرديا اور تقريباً سو بيگہ زمين گزارے كے لئے دے دى اور ايك پختہ مكان بهى ديا، جس ميں اس كى رہائش تهى- اس كا ايك اور بيٹا بهى تها اور تين بيٹياں بياہى ہوئى تهيں ليكن ان كو كچھ نہيں ديا، اب يہ لڑكا فوت ہوگيا- متوفى صاحب ِ اولاد تها، دادا نے وہ زمين گزارا كے لئے متوفى كى اولاد كو دے چهوڑى، اب دادا بهى مرگيا ہے- متوفى كى اولاد كا چچا سے تقاضا ہے اور وہ نصف حصہ مانگتى ہے- ان كو دادا نے جو زمين دے ركهى ہے، كيا شرعاً ان كو ملے گى يا وہ بالكل محروم ہوجائيں گے-
جواب : اولاد ميں سے بعض كو دينا اور بعض كو نہ دينا يہ شرعاً ناجائز ، جيساكہ نعمان بن بشير والى مشہور حديث اس سلسلے ميں بالكل واضح ہے-البتہ بيٹوں كى موجودگى ميں پوتوں كو كچھ ہبہ كيا جاسكتا ہے كيونكہ پوتے شرعاً وراثت سے محروم ہيں- پس پوتوں كو جو دادا نے ديا ہے، وہى ان كا حق ہے- بعض بيٹوں كا ہبہ بغير دوسرے كى رضا مندى كے صحيح نہيں-پس جو كچھ باپ دے گيا، وہ بهى تركہ ميں شامل كركے بدستور تركہ /قبضہ تقسيم ہونا چاہئے-

تحفہ دينے والے كا اپنى تحفہ كى ہوئى شے خريدنا
سوال7: دو بهائى تركہ كے حصہ دار تهے، باپ مرگياتو ايك بهائى نے اپنا حصہ بهائى كے حق ميں چهوڑ ديا- اب اس تركہ ميں سے معاف كنندہ كو دوسرے بهائى سے كوئى چيز خريدنا روا ہے يا نہيں؟
جواب: ايسا معاف كرنا دراصل ہبہ كى قسم سے ہے، اس كے خريدنے ميں بظاہر كچھ حرج معلوم نہيں ہوتا، كيونكہ كسى حديث ميں مجهے ہبہ كے خريدنے سے ممانعت تو ياد نہيں پڑتى، ويسے بغير خريدنے كے رجوع كى ممانعت آئى ہے- البتہ اگر معاف كرنے والے نے اپنے بهائى پر صدقہ كى نيت كى تهى تو اسے خريدنا منع ہے-جيسا كہ نبى ﷺنے عمر كو منع كرتے ہوئے فرمايا :
(لاَتَشْتَرِه وَإِنْ أَعْطَاكَه بِدِرْهمٍ وَاحِدٍ فَإِنَّ الْعَائِدَ فِي صَدَقَتِه كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِه) 9
"اگر وہ تمہيں يہ گهوڑا ايك درہم كے عوض بهى دے، تب بهى مت خريدنا كيونكہ صدقہ كركے اسے واپس لينے والا اس كتے كى طرح ہے جو قے كرتا ہے اور پهر خود ہى اسے چاٹ ليتا ہے-"



حوالہ جات
1. ترمذى:1140
2. بخارى:2650،مسلم:1623
3. بيہقى:6/177
4. صحيح مسلم:1623
5. ايضاً
6. بہقى :6/177
7. ترمذى:2120
8. تلخيص الحبير رقم:1328،1329
9. صحيح بخارى:2632، صحيح مسلم: 4139