ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • مارچ
2007
حسن مدنی
اسرائيل كو تسليم كرنے پرپاكستان ميں صدر مشرف نے اگست2003ء ميں بحث مباحثہ كا آغاز كيا جو تاحال مختلف پہلوؤں سے جارى ہے-ابهى حال ہى (جنورى 2007ء) ميں جنرل پرويز مشرف 'ہم خيال ممالك كا گروپ' تشكيل دينے كے لئے مشرقِ وسطىٰ كے 5 ممالك كا دورہ بهى كر آئے ہيں جس كے نتيجے ميں اسلام آباد ميں ايران اور شام كو نظرانداز كركے باقى مسلم ممالك كے وزرا خارجہ كا اجلاس بهى منعقد ہوچكا ہے۔
  • مارچ
2007
عبدالرشید اظہر
اللہ تعالىٰ نے حديث كى حفاظت كے ليے وحى كو منافقين كى دسترس سے دور ركها اور اس كا ذمہ صرف اپنے پاكباز بندوں یعنى صحابہ كرام رضى اللہ عنہم كوسونپا۔ يہى وجہ ہے كہ آج حديث روايت كرنے والوں ميں آپ كسى منافق كونہيں پائيں گے۔ سچے اور كهرے صحابہ جن كى اللہ نے آسمان سے شہادت دى ہے، وہى حديث روايت كرنے والے ہيں۔
  • مارچ
2007
عبداللہ روپڑی
ماں باپ اپنى زندگى ميں اپنى اولاد كو كئى چيزيں عنايت كرجاتے ہيں، ايسے ہى اُنہيں كسى بيٹے يا بيٹى سے طبعاً زيادہ محبت بهى ہوتى ہے ليكن اسلامى شريعت نے اس سلسلے ميں چند ايك اُصول مقرر فرمائے ہيں جن كو پيش نظر ركهنامسلم والدين كے لئے ضرورى ہے- اس نوعيت كے مسائل مسلم معاشرہ ميں اكثر وبيشتر پيش آتے رہتے ہيں، زير نظر مضمون ميں ايسے ہى احكام سوال وجواب كى صورت ميں بيان ہوئے ہيں۔
  • مارچ
2007
محمد رفیق چودھری
جناب جاويد احمد غامدى صرف احاديث ِصححہا ہى كے منكر نہيں، وہ قرآن كى معنوى تحريف كرنے كے عادى بهى ہيں-اُن كے ہاں تحريف ِ قرآن كے بہت سے نمونے پائے جاتے ہيں- اس مضمون ميں اُن كى تحريف ِ قرآن كا ايك نمونہ پيش كيا جاتا ہے:غامدى صاحب 'اسلام كے حدود و تعزيرات' پر خامہ سرائى كرتے ہوئے لكھتے ہيں:"موت كى سزا قرآن كى رُو سے قتل اور فساد فى الارض كے سوا كسى جرم ميں نہيں دى جاسكتى-
  • مارچ
2007
محمد دین قاسمی
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ مسلمانانِ برصغیر كى عظیم فكرى شخصیت ہیں اور آپ نے شاعرى كے ذریعے مسلم اُمہ میں بیدارى كى لہر پیدا كى- اثرآفرینى اور ملى افكار كى بدولت آپ كى شاعرى ممتاز حیثیت كى حامل ہے-لیكن ان غیر معمولى خصائص كا یہ مطلب نہیں كہ آپ كے جملہ افكار اور شاعرى كو مقامِ عصمت اور تقدس حاصل ہے۔
 
  • مارچ
2007
صالح بن حسین
قرآنِ كريم نے اس سلسلہ ميں يہ عظيم اور اساسى اُصول بيان كيا ہے كہ غير مسلموں كے ساتھ برتاوٴ اور لين دين ميں اصل يہ ہے كہ ان كے ساتھ حسن سلوك كا رويہ اختيار كيا جائے اور ان كے ساتھ نيكى اور احسان كرنے ميں اس وقت تك ہاتھ نہ كهينچا جائے جب تك ان كى طرف سے صريح دشمنى اور عہد شكنى كا كوئى عملى مظاہرہ نہيں ہوتا