307- Feb 2007

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

زير نظر مضمون سلفيّت كو در پيش عالمى صورتحال بالخصوص عرب ممالك ميں در پيش حالات كے تناظر ميں تحرير كيا گيا ہے- اس مضمون ميں سلفيت كو 'اُصول پسند اسلام' يا 'اپنے مسائل كے حل كيلئے كتاب وسنت تك براہ راست رسائى' كے مفہوم ميں استعمال كيا گيا ہے جس كے ايك اہم مظہر كے طورپر اہل مغرب سعودى عرب اور اس كے بعض عرب ممالك ميں پائى جانے والى دينى لہركو پيش كرتے اور اسے 'وہابيت' سے موسوم كرتے ہيں -
خبردار ! سلفيت اور سلفيوں كا داخلہ ممنوع ہے! يہ آج كا وہ فيصلہ كن عنوان ہے جوكہ 'نئى صدى'، 'تيسرا ہزاريہ' يا 'نيو مڈل ايسٹ' كى دہليز پر نصب كر ديا گياہے- نئى صدى، تيسرا ہزاريہ اور نيو مڈل ايسٹ وغيرہ وہ مختلف نام ہيں جو جديد دور كے بارے ميں مختلف مغربى فلسفوں / تصورات كى عكاسى كرتے ہيں - گو كہ يہ اصطلاحات اپنى تفاصيل اور مشمولات كے لحاظ سے ايك دوسرے سے مختلف ہيں ليكن مستقبل كے ايك نكتہ كے بارے ميں يہ تينوں مغربى نظريات متفق نظر آتے ہيں ، اور وہ يہ ہے كہ
"دورِ جديد ميں 'اُصول پسند سلفى اسلام' كے لئے كوئى جگہ نہيں ہے-"

ايك امريكى سٹڈى سنٹر نے مستقبل كے متوقع حالات كے بارے ميں ايك مفصل بحث لكهى ہے جس ميں اس سوال كاجواب ديا گيا ہے كہ آج سے ١٥ سال بعد، متعين طور پر ٢٠٢٠ء ميں ، دنيا كى شكل كيا ہوگى؟ اس ريسرچ كو تيار كرنے ميں متعدد محققين اور ريسرچ سكالرز نے حصہ ليااور يہ بحث امريكى خفيہ ادارے كے قومى بورڈ كى زيرنگرانى تياركى گئى ہے-
بحث ميں مستقبل كے حالات كے بارے ميں 'منظرنامہ مستقبل' كے عنوان سے چار مفروضے پيش كئے گئے ہيں :
1 مراكش تا انڈونيشيا متحدہ عالمى اسلامى مملكت يا
2 'دہشت گردى' اور لاقانونيت كا عالمى غلبہ يا
3 امريكى اثر ورسوخ سے خالى گلوبلائزيشن (العولمة) كاغلبہ يا
4 دنيا پر واشنگٹن كا كنٹرول اور امريكى تہذيب كا غلبہ

اس رپورٹ كى تكميل كے ساتھ ہى امريكى صدر نے اپنے ہفتہ وار خطاب ميں مستقبل كى عالمى اسلامى مملكت كے متوقع قيام كے خطرے سے خبردار كيا-
امريكہ كا اسلام سے يہ خوف بعض اعتبار سے درست بهى ہے ليكن چند مخصوص مقاصد كى خاطر اس كوبڑها چڑها كر بهى پيش كيا جاتاہے- يہاں يہ اہم سوال پيدا ہوتا ہے كہ اسلامى دعوت كے ميدان ميں بہت سے مناہج و اَفكار كام كر رہے ہيں ، ايسى حالت ميں امريكہ كو كس منہج و فكر سے زيادہ خوف لاحق ہے :
1 اسلامى سياسى تحريكوں اور پارٹيوں سے ؟
2سلفى تحريكوں اور اداروں سے ؟
3 تصوف كے پورے عالم اسلام ميں پہيلے ہوئے مختلف سلسلوں سے؟
4 حكومتوں كے زير نگرانى دينى اداروں سے ؟

بہت سے امريكى تهنك ٹينكس نے اس سوال كا واضح جواب دياہے، اور اب سب كا اس امر پر اتفاق پايا جاتا ہے كہ سلفى تحريكيں ہى امريكہ كے لئے سب سے زيادہ خوف اور پريشانى كامركزى سبب ہيں - يہاں اس اہم حقيقت كا انكشاف ايك اور سوال كو جنم ديتا ہے كہ امريكہ كو لاحق اس 'عظيم خطرہ' كامقابلہ كرنے كے لئے كون سا طريقہ بہتر ہوسكتا ہے ؟
1 سلفيت كے متبادل افكار و مناہج كو رائج كيا جائے يا
2 سلفيت كو اپنے زير كنٹرول كر كے اس كى سرپرستى كى جائے يا
3 سلفيت پر پابندى عائد كر كے اس كا مكمل صفايا كر ديا جائے

پہلا آپشن: سلفيت كامتبادل
متبادل سے مراد يہ ہے كہ مختلف مغربى اداروں كے ذريعہ ايسى تحريكوں اور مناہج وافكار كى پشت پناہى كى جائے جو مسلم اور غير مسلم ممالك ميں تيزى سے پهيلتے ہوئے سلفى منہج كے متبادل كے طور پر سامنے آسكيں - اہل مغرب كے ہاں اب يہ فكر مندى قدرے نماياں ہورہى ہے كہ عوام كے اندر بہت تيزى سے پهيلتے ہوئے دينى احساس اور پهر معقول حد تك اس كے پروان چڑهنے كا اہميت سے جائزہ ليا جائے- اس سے پتہ چلتا ہے كہ مسلمانوں كى دين دارى كے بارے ميں مغرب كى رائے ميں بہت تبديلى آئى ہے- اس سے قبل وہ صرف اس اُسلوب پر عمل پيرا تهے كہ دين دارى كى جڑوں كو كهوكهلا كرنے كے لئے جاذبِ نظر لا دينى افكار كو فروغ ديا جائے، ان كى كوشش تهى كہ جمہور مسلمانوں كى دين كے ساتھ روايتى اور نام نہاد وابستگى كو ہى مزيد ترقى دى جائے- ليكن اس اُسلوب كى ناكامى يا مكمل مطلوبہ نتائج كے عدمِ حصول كے بعد اُنہوں نے ايك اور قدم اُٹهانے كا فيصلہ كيا، اور وہ يہ كہ مسلمانوں كو دين كى راہ سے تو نہ روكا جائے بلكہ دين كا جديد اور نظرثانى شدہ (ريوائزڈ) ايڈيشن ان كے سامنے پيش كيا جائے-

سلفيت كے دشمنوں كے لئے منہج سلفيت كا سب سے خطرناك پہلو يہ ہے كہ اس كے داعى لوگوں كو ايسى سيدھى اور مختصر شاہراہ كے راہى بنا رہے ہيں جو لوگوں كے طرزِ معاشرت كو اسلام كے حقيقى مصادر (قرآن و سنت) سے براہ راست ملا رہى ہے جبكہ غيرسلفى افكار و مناہج كى حالت يہ ہے كہ وہ لوگوں كو خود ساختہ افكار و نظريات كى دنيا ميں گھماتے پهرتے ہيں اور وہ اُنہى ميں سرگرداں رہتے ہيں ، يا پهر ديگر تحريكيں ان كو شاہراہ قرآن و سنت كو بائى پاس كروا كر آخر كار اپنے مخصوص اَہداف كى طرف لے جاتے ہيں -

دين اسلام كا وہ 'امريكى ايڈيشن' جو مسلمانوں كے سامنے پيش كيا جارہا ہے، اس كو متعارف كرانے كے لئے كچھ اس انداز سے كام ہورہا ہے :
1 ايسى بعض شخصيات اور 'دينى' رہنماؤں كو منظر عام پر لايا جارہا ہے جو اسلامى تعليمات كى 'روشن خيال'انداز ميں تشريح كرتے ہيں اور لوگوں كو(نام نہاد)'اعتدال' اور 'باہم روادارى' كا درس ديتے ہيں اور اپنے تئيں لوگوں كو يہ باور كروانے كى كوشش كرتے ہيں كہ اسلام كا سلفى مفہوم شدت پسندى پر مبنى ہے-

2 بعض مسلمہ سياسى تحريكوں كے ذريعہ لوگوں كے ذہنوں كى اس نہج پر تعمير كى جارہى ہے كہ سلفى فكر سياسى طور پر بالكل اپاہج ہے جبكہ دوسرى تحريكيں اُن دينى اصول ومبادى كو 'قربان' كرنے كى مكمل استعداد ركھتى ہيں جو 'عظيم تر سياسى مقاصد' كے حصول كى راہ ميں ركاوٹ بنتے ہيں -

3 ايسے تمام سلفى ادارے اور اَفراد جو صرف دعوت كے ميدان ميں كام كررہے ہيں اور محض دعوتى وعلمى كام ميں مصروف ہيں ، ان كو بهى جہاد كے ساتھ جوڑنے اور عسكرى عمل سے مربوط كركے پيش كيا جارہا ہے، اور اس طرح گويا سلفى دعوت اور عسكرى عمل كو لازم و ملزوم قرار ديا جارہا ہے اور سلفيت كوعسكريت پسند منہج قرار ديا جارہاہے-

4 بہت سے اسلامى ممالك ميں تصوف كى طرف دعوت دينے والوں كے لئے راہ ہموار كى جارہى ہے اور خاص طور پر صوفى ازم كے ان داعيوں كے لئے جنہوں نے گيارہ ستمبر كے واقعہ كے بعد اپنے اندازِدعوت ميں واضح تبديلى پيدا كى ہے اور وہ ہراس بات سے گريز كرتے ہيں جو مغرب كے لئے ناقابل قبول ہو- ايسے لوگ اسلام كو 'جديد مفہوم' كے غلاف ميں پيك كركے پيش كررہے ہيں تاكہ مغربى ثقافت كے بازار ميں اس كى ترويج ہوسكے-
يہاں پر ہم 'روشن خيالى' اور تصوف كے داعيوں كے بارے ميں قدرے مزيد تفصيل پيش كريں گے :

نام نہاد اعتدال پسندى كے علمبردار
جہاں تك روشن خيالى يا اعتدال پسندى كى طرف بلانے والوں كا تعلق ہے تو گيارہ ستمبر كے واقعہ كے بعد ان كا ستارہ كافى چمك اُٹها ہے، اس كى وجہ يہ ہے كہ يہ لوگ ہر اس نقطہ نظر سے احتراز كرتے ہيں جو مغرب كے لئے قابل قبول نہ ہو، اور ان كے 'جذبات' كو ذرّہ بهر ٹهيس پہنچانے كا سبب بنے- كيونكہ ايسا كرنے كى صورت ميں سپرپاور كے قہروغضب كا نشانہ بن سكتے ہيں - يہ روشن خيال دانشور خاص طور پر الولاء والبراء (دوستى اور دشمنى صرف اللہ كے لئے) جيسے اہم اسلامى عقيدہ كو مغربى مفادات كى دہليز پر قربان كرنے سے نہيں ہچكچاتے- اس كے ساتھ ساتھ وہ كسى ايسے اسلامى ادارے يا تحريك سے تعلق ركهنے سے بهى گريز كرتے ہيں جو مغربى حكومتوں كى نظر ميں مشكوك ہو-

ايسے لوگ درحقيقت زندگى كے تمام پہلوؤں پر محيط حقيقى اسلام تك عوام الناس كى رسائى ميں ركاوٹ پيدا كرنے والا خطرناك كردار ادا كررہے ہيں - وہ عوام كے پاؤں ميں بيڑياں بن كربيٹهے ہوئے ہيں اور ان كودين دارى كے ايك ايسے مرحلے ميں روكے كهڑے ہيں جہاں پہنچ كر وہ لادينيت اور اِلحاد سے تو چهٹكارا كسى حدتك پاچكے ہيں ، ليكن اسلام كا وہ مفہوم جو ائمہ اسلاف نے پيش كيا ہے، اس تك نہيں پہنچ پائے- يہ مذہبى رہنما زبانِ حال سے اپنے مدعوين كو يہ كہہ رہے ہيں كہ
"ہم آپ كو اس مرحلہ پر صحيح سلامت پہنچنے پر مباركباد ديتے ہيں - بس يہى آپ كى منزل ہے، اب آپ مكمل دين دار بن چكے ہيں "

اسلامى بيدارى يا اصلاح كا مغرب كے ہاں يہى مفہوم اور يہى اس كى سرحد ہے جس سے اس كو... ان كى رائے ميں ... قطعاً تجاوز نہيں كرنا چاہئے- بہت سے مغربى مفكرين اور اہل قلم نے اس حقيقت كا صريحاً اعتراف بهى كيا ہے- 'جہاد واچ' نامى ويب سائٹ كا ڈائريكٹر رابرٹ سپنسر تيزى سے پهيلتے ہوئے اسلامى شعور پر تبصرہ كرتے ہوئے كہتا ہے :
"آپ اس كو اسلامى بيدارى كہيں يا تحريك ِاصلاح جو بهى كہيں ، اس ميں ضرورى ہے كہ قرآنى تعليمات كى حرف بحرف تطبيق كے منہج (سلفيت) كو روكا جائے اور اس كو دوبارہ ظہور پذير نہ ہونے ديا جائے-"

جبكہ دوسرى طرف يہ بهى حقيقت ہے كہ روشن خيالى كے يہ داعى جس قدر بهى 'قربانياں ' پيش كرتے رہيں ، اس وقت تك مغرب كى خوشنودى حاصل نہيں كرسكتے جب تك ايك ايك كركے تمام اسلامى اقدار كو ترك نہ كر بيٹهيں حتىٰ كہ مكمل طور پر اسلام سے دستبردار ہوجائيں ، اور يہى آخركار مغرب كا ہدف ہے-

اسى حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں سے زبردست عداوت ركهنے والا'ڈينيل پائپس' جس كو وائٹ ہاؤس ميں بہت اہميت حاصل ہے، اس نے ايك امريكى اخبار ميں "ہم اعتدال پسند مسلمانوں كو كيسے پہچانيں ؟" كے عنوان سے ايك مضمون ميں لكها ہے :
"بہت سے نام نہاد اعتدال پسند ايسے بهى ہيں جو حقيقت ميں بنياد پرست ہيں ، ليكن ان كى حقيقت تك پہنچنا بہت مشكل ہے- باوجوديكہ ميرے جيسے باريك بين افراد اس معاملہ ميں انتہائى محنت اور بہت وقت صرف كررہے ہيں -"

اس سے يہ پتہ چلتا ہے كہ مغرب ميں اعتدال پسندوں كو بهى شك كى نظر سے ديكها جاتا ہے- حالانكہ ہم جانتے ہيں كہ يہ 'اعتدال پسند' انتہائى 'اخلاص' اور 'استقامت' سے كام كررہے ہيں - اس پر ہمارا تبصرہ يہ ہے كہ ڈينيل كا يہ گمان شيعہ مسلمانوں كے بار ے ميں تو صحيح ہوسكتا ہے جن كے ہاں تقيہ كى بہت زيادہ اہميت ہے بلكہ ان كے ہاں دين كا ١٠/٩ حصہ تقيہ پر مشتمل ہے، ليكن سنى مسلمانوں كے بارے ميں كسى طرح بهى صحيح نہيں ہے- جن كے ہاں تقيہ كا كوئى تصور نہيں ہے- 'ڈينيل پائپس' اپنے مقصود اور مدعا كى مزيد وضاحت يوں كرتا ہے :
"بنياد پرستوں كو اب اعتدال پسندى كى ضرورت كا احساس ہورہا ہے اور وہ اب يہ سیکھنے كى كوشش كررہے ہيں كہ اعتدال پسندى كا روپ كس طرح اختيار كيا جائے، اور ميرے خيال ميں بلا شبہ يہ روپ وقت گزرنے كے ساتھ ساتھ مزيد گهرا ہوجائے گا جس كى حقيقت كو پہنچاننا مزيد مشكل ہوتا جائے گا-"

دورِ جديد اور صوفى ازم
يہ موضوع بهى اپنى اہميت كى وجہ سے قدرے تفصيل كا متقاضى ہے-تصوف يا صوفى ازم دين حق كے سامنے بہت بڑا چيلنج ہے-يہ بات اب بہت سے دلائل اور براہين سے واضح ہوچكى ہے كہ امريكى اربابِ دانش كے سامنے مسلمانوں كے درميان بڑهتے ہوئے كتاب وسنت پر مبنى دينى شعور كى موجودہ صورتِ حال ميں صوفى ازم ايك بہترين متبادل راستہ ہے، جس كو مسلمانوں ميں پهيلا كر اسلام كے 'خطرہ' سے بچا جاسكتا ہے-
يہاں ہم اس دعوىٰ پر كچھ دلائل پيش كرتے ہيں اور پهر چاہتے ہيں كہ دورِ جديد ميں تصوف كے داعيوں كے دو نمونے بهى اپنے قارئين كے سامنے ركهيں -

٢٠٠٣ء ميں نكسن سٹڈى سنٹر، واشنگٹن ميں "تصوف اور امريكہ كى عالمى سياست ميں اس كا متوقع كردار" كے عنوان سے ايك سيمينار منعقد ہوا- اس سيمينار كے شركا ميں معروف اسلام دشمن امريكى سكالر ڈاكٹربرنارڈ لوئيس سرفہرست تها- دوسرے شركا ميں تركى كے سابق صدر ترگت اوزال كے بھائى كركوت اوزال اور امريكن اسلامك كونسل كے ڈائريكٹر محمد ہشام قبانى بهى شامل تهے- سيمينار ميں اسلامى تحريكوں اور مذاہب كے حوالے سے اعداد و شمار پر مشتمل لٹريچرتقسيم كيا گيا- اس مواد ميں كچھ اسلامى تحريكوں كو نہايت خطرناك باور كروانے كے لئے عليحدہ گروپ ميں درج كيا گيا اور اس گروپ كو سرخ دائرے كے اندر دكهايا گيا- اس ميں ذكر تها كہ سلفى تحريكيں دراصل علامہ ابن تيميہ كى فكر سے تعلق ركهتى ہيں - سلفى تحريكوں ميں 'وہابيت' سرفہرست تهى، اس كے علاوہ فلسطين كى اسلامى تحريكوں اور دوسرى بہت سى سلفى تحريكوں كو بهى اسى گروپ ميں درج كيا گيا-

'امريكن اسلامك كونسل' صوفى ازم يا تصوف كا نمائندہ ادارہ ہے جس كے بانى جناب ہشام قبانى ہيں - يہ كونسل امريكى حكومت كا بڑے كهلے دل اور خلوص سے تعاون كرتى ہے اور خاص طور پر اسلام اور مسلمانوں كے بارے ميں 'اہم معلومات' فراہم كرنے سے بهى نہيں چوكتى- مزيد برآں امريكہ كے اندر مسلمانوں كى سرگرميوں پر خصوصى نظر ركهتى ہے اور وقتاً فوقتاً ان كى سرگرميوں پر مشتمل رپورٹ امريكى حكومت ميں متعلقہ اداروں تك بهى پہنچاتى رہتى ہے-

ياد رہے سابق امريكى نائب وزير دفاع پال ولف كى اسلامك كونسل كے ممبران كے ساتھ باقاعدہ سلسلہ وار ميٹنگز منعقد ہوتى تهيں جن ميں اسلامى دہشت گردى كے علاوہ دوسرے اہم موضوعات پر تبادلہ خيالات ہوتا تها اور ان ملاقاتوں كے دوران اسلامك كونسل كے اراكين اسلامى خطرہ سے نمٹنے كے لئے اپنے 'مخلصانہ' مشورے امريكى وزارتِ دفاع كے ذمہ داران كے سامنے پيش كرنے كا 'شرف' بهى حاصل كيا كرتے تهے-

تركى ميں اردگان كى پارٹى كے برسر اقتدار آنے كے بعد امريكى سفارت خانہ كے ذمہ داران نے تركى كى اسلامى تحريكوں كے بارے ميں نہايت باريكى سے معلومات جمع كرنا شروع كرركهى ہيں - امريكى ذمہ داران مكمل آزادى سے اسلامى تحريكوں كے مراكز اور اداروں كا دورہ كررہے ہيں ، اور اُنہيں ترك وزيراعظم طيب اردگان كى مكمل حمايت بهى حاصل ہے- ياد رہے كہ اردگان صوفى سلسلہ نقشبنديہ سے منسلك ہيں - امريكى ذمہ دار ان اس بات پر غور كررہے ہيں كہ تركى كے صوفى، امريكى حمايت كے سائے ميں صوفى ازم كو پورى دنيا كے مسلمانوں ميں پهيلانے كا كام انجام ديں - اس كے لئے امريكہ كى طرف سے ان كومكمل سياسى اور اقتصادى تعاون ديا جائے گا- اسى سلسلے ميں ترك صوفيوں كو 'زيورِ علم'سے مزيد آراستہ كرنے كے لئے امريكى يونيورسٹيز ميں سكالرشپ ديے جائيں گے-1

اب ہم صوفى ازم كى دو اہم عالمى شخصيات كا تذكرہ كرتے ہيں :

ان ميں پہلى شخصيت على جعفرى اور دوسرى ہشام قبانى ہے- يمنى نژاد عرب على جعفرى صوفيت كا سرگرم داعى ہے- گذشتہ كچھ عرصہ سے اس نے كافى شہرت حاصل كى ہے- اس كى شہرت كا آغاز يوں ہوا كہ مصر ميں اس نے مالدار اور تاجر طبقہ ميں صوفيانہ انداز سے وعظ اور سماع كى مجالس منعقد كرنا شروع كریں ،جن مجالس كى وجہ سے اس طبقہ كے افراد ميں اس كانام واعظ كى حيثيت سے مشہور ہوگيا- لوگوں كے ذہنوں ميں اس كا معتبر مقام بن گيا اور يہ عموماً صوفيوں كا طريقہ كار ہے كہ وہ عوام كو قرآنى اور نبوى تعليمات كے قريب كرنے كى بجائے شخصيات كے گرد جمع كرتے ہيں -

اس كے بعد بہت سے ٹى وى چينلز پر بهى دينى پروگرامز ميں على جعفرى ظاہر ہونا شروع ہوا- 11 ستمبر كے واقعہ كے بعد تو اس كى شہرت كو چارچاند لگ گئے- تهوڑے ہى عرصہ ميں يہ ايك عالمى واعظ كى حيثيت سے معروف ہوگيا اور پهر يہ حال تها كہ 'قبلہ حضرت' جہاں بهى جاتے، ان كے رستہ ميں پهول نچهاور كئے جانے لگے- نہايت كم عرصہ ميں اس نے امريكہ كے كئى دورے كئے- 'قبلہ حضرت' على جعفرى امريكہ كى متعدد رياستوں ميں جاجاكر سيمينارز اور صو فيانہ مجالس منعقد كررہے تهے جبكہ دوسرى طرف صحيح اسلامى منہج و فكر كے حامل رہنماؤں كے امريكہ ميں داخلہ پر پابندى لگائى جارہى تهى، جس طرح كہ معروف برطانوى نژاد نو مسلم داعى يوسف اسلام كے ساتھ بارہا ايسا ہوا كہ ان كو امريكہ ميں داخل ہونے سے روكا گيا اور خاص طور پر ١١ ستمبر كے بعد تو ان پر مزيد سخت پابندياں عائد كردى گئيں - اس كا سبب صرف يہ تها كہ يوسف اسلام اور ان جيسے دوسرے داعى صوفيانہ شرك و بدعات كى بجائے صحيح اسلام جو كہ صرف اور صرف كتاب و سنت پر مبنى ہے، اس كى طرف دعوت ديتے ہيں -

دوسرى طرف 11 ستمبر كے واقعہ كے اثرات على جعفرى كے حق ميں نہايت مثبت رہے- اس كے لئے امريكہ اور يورپ كے كسى بهى ملك ميں كسى بهى وقت جانے كى اجازت ہے- على جعفرى نے برطانيہ، آئرلينڈ، ہالينڈ اوربلجيم وغيرہ كے كئى دورے كئے- اس كے علاوہ وہ انڈونيشيا، سرى لنكا، كينيا، تنزانيہ اور جزرالقمر كے متعدد دورے بهى كرچكا ہے-

صوفى ازم كى دوسرى عالمى شخصيت ڈاكٹر ہشام قبانى ہے جن كا پہلے بهى تذكرہ ہوچكا ہے- يہ اصل ميں لبنانى ہے اور امريكہ ميں مقيم ہے جہاں پر اس نے 'اسلامك كونسل' كے نام سے صوفى ازم كے معروف ادارے كى بنياد ركہى ہے- اسے امريكى حكومت كى زبردست حمايت حاصل ہے- امريكى وزارتِ دفاع اور وزارتِ خارجہ ميں اس كے كئى ليكچرز ہوچكے ہيں - ان ليكچرز كے مقاصد كا اندازہ ان ميں سے ايك ليكچر كے عنوان سے لگايا جا سكتاہے،جو يہ ہے:

"اسلامى بنياد پرستى اور امريكى سلامتى كے لئے اس كے خطرات"
ڈاكٹر ہشام قبانى سلفيت اور سلفيوں كا شديد دشمن ہے، خاص طور پر شيخ محمد بن عبدالوہاب كى اصلاحى دعوت كا جس كوعالم كفر اور اس كے كارندے 'وہابيت' سے موسوم كرتے ہيں - قبانى بهى اس دعوت كى دشمنى ميں كافى شہرت ركهتااور خالص كتاب و سنت كى دعوت كى مخالفت عبادت سمجھ كر كرتا ہے اور اس كو وائٹ ہاؤس ميں تقرب حاصل كرنے كا ذريعہ سمجهتاہے- 'وہابيت' سے متعلقہ معلومات كيلئے امريكى حكومت اس كو نہايت نادر اور اہم مصدر سمجهتى ہے-

امريكى حكومت كو وہ باور كرواتا ہے كہ امريكہ كى ستر فيصد مساجد پر وہابيوں كا قبضہ ہے- على جعفرى كى طرح ڈاكٹر ہشام قبانى بهى مكمل آزادى كے ساتھ بلكہ مكمل امريكى حمايت كے سايہ تلے پورى دنيا ميں دورے كرتا ہيں - اس كے 'اقوالِ زرّيں ' ميں سے ہے كہ
"ميرى معتدل رائے كے مطابق اس وقت وہابى آواز مسلمانوں ميں زيادہ زور اور طاقت رکھتی ہے، اسلامى لٹريچر كے ميدان ميں وہابيت غالب ہے اور ا سى كے پاس مالى وسائل بهى زيادہ ہيں -"

ايسى صورتِ حال ميں وہ صوفى ازم كو وہابيت كے متبادل كے طور پر سامنے لانے كى دعوت ديتا ہے- اس كے لائحہ عمل كے لئے وہ كہتا ہے كہ
" طلبہ كو تعليمى اداروں ميں باقاعدہ تصوف كى تعليم دى جائے، ضرورى ہے كہ طلبہ 'امن پسندى' كا درس سيكهيں اور عالمى معاشرت كے اندر گهل مل كر رہنا سيكهيں ، جبكہ وہابيت نوجوانوں اور عام لوگوں كو يہ سكهلاتى ہے كہ وہ غير مسلم معاشرے كا حصہ نہ بنيں - جبكہ ضرورى ہے كہ ہر انسان جس معاشرے ميں رہ رہا ہے، اس كے اندر رَچ بس جائے اور اس كے نظام ... چاہے وہ اسلامى ہو يا غير اسلامى... كا حصہ بن جائے اور اس كى تعمير ميں مخلصانہ كردار ادا كرے- جہاں تك دين كا تعلق ہے تو اس كى حدود محض فرد كى انفرادى زندگى تك ہيں اور وہ فرد كے اور ربّ كے درميان انفرادى تعلق كا نام ہے- ميرے خيال ميں اسلام كى تعليمات بهى يہى ہيں -" 2

ہشام قبانى اسلامى ممالك كے دورہ جات كے ضمن ميں ازبكستان كا تين مرتبہ دورہ كرچكا ہے- اپنے دوروں ميں وہ ازبكستان كے ظالم حكمران اسلام كريموف كى بڑھ چڑھ كر تعريف وتوصيف كرتا رہتا ہے جبكہ اس حكمران كى تاريخ يہ ہے كہ اس نے برسراقتدار آتے ہى ہزاروں مسلمانوں سے اپنے ملك كى جيلوں كو بهر ديا، تمام دينى مدارس پر پابندى لگا دى اور اُنہيں بند كرديا، حجابِ اسلامى كے خلاف باقاعدہ اعلانِ جنگ كرديا، مساجد بهى اس كے ظلم سے محفوظ نہ رہيں اور ان ميں سے متعدد مساجد كو مقفل كرديا گيا-

قبانى كے ازبكستان كے آخرى دورے ميں ١٢٠/افراد پر مشتمل ايك وفد اس كے ہمراہ تها- اس وفد نے پورے ملك كا جگہ جگہ دورہ كيا اور قبانى كى قيادت ميں ہر جگہ اسلام كو انتہائى مسخ كركے پيش كيا، يہ لوگ صوفيانہ خرافات كے بيج لوگوں كے ذہنوں ميں بكهيرتے رہے-

ايسى صورتِ حال كو سامنے ركهتے ہوئے يہ امر تعجب خيز نہ ہوگا كہ امريكى ميگزين 'يو ايس نيوز' يہ خبر شائع كرتا ہے كہ"واشنگٹن اسلامى تحريكوں كامقابلہ كرنے كے لئے صوفى ازم كو بطورِ اسلحہ استعمال كررہا ہے اور اس كى تبليغ اور تشہير كے لئے كوشاں ہے-" اس كى خاطر تمام وسائل بروئے كار لارہا ہے، عالم اسلام ميں جگہ جگہ مزارات كى تعمير كى حوصلہ افزائى كى جارہى ہے، تصوف كے متعلق پرانى كتابيں جو ابهى تك طبع نہيں ہوئيں اور مخطوطات كى صورت ميں ہيں ، ان كى طباعت كروائى جارہى اور مختلف زبانوں ميں ترجمہ كروا كے ان كوشائع كيا جارہا ہے-

يوں امريكى پاليسى ساز ادارے اس بات پر متفق ہيں كہ تصوف اور اس كے پيروكار ايك بہترين اسلحہ ہے جس كے ذريعہ پورى دنيا ميں 'شدت پسند' مسلمانوں كامقابلہ كيا جاسكتا ہے-
امريكى ماہرين عالم اسلام ميں صوفى ازم اور دوسرى اسلامى تحريكوں كے درميان موجود اختلافات كو اہميت كى نظرسے ديكهتے ہيں اور اس سے فائدہ اُٹهاتے ہوئے امريكہ نے حكومتى سطح پر براہ راست انداز ميں صوفى ازم كى مكمل حمايت كا فيصلہ كيا ہے۔

ايك امريكى ميگزين كى رپورٹ كے مطابق شمالى افريقہ كے عرب ممالك كى حكومتوں نے ان ممالك ميں موجود صوفى قائدين كى ايك كانفرنس منعقد كى،اور ان كے سامنے امريكى ايجنڈا ركهتے ہوئے ان كو كئى ملين ڈالر كى امداد دے كر 'شدت پسند' مسلمانوں كے خلاف ميدان ميں برسرپيكار ہوجانے كا مشن سونپا ہے-
امريكى كانگرس ميں موجود دينى آزادى كے متعلقہ كميٹى بهى اپنى ايك رپورٹ ميں عالم اسلام ميں صوفى ازم كى مكمل حوصلہ افزائى اور حمايت كرنے كى سفارش كرچكى ہے-

عراق كے لئے امريكہ كے خصوصى نمائندے زلمے خليل زاد كى غير مسلم بيوى'شريل بينارڈ' نے كچھ عرصہ پہلے 'عالم اسلام ؛ ١١ ستمبر كے بعد' كے عنوان سے ايك كتاب لكهى ہے، جس ميں اس نے عالم اسلام ميں برپا ان تحريكوں اور افكار كے بارے ميں لكها ہے جو عالم اسلام ميں تبديلى لانے كى طاقت ركهتے ہيں - تصوف كے حوالے سے وہ لكهتى ہے كہ

"اس وقت عالم اسلام كى غالب اكثريت علاقائى اور خود ساختہ عقائد و افكار كى پيروكار ہے اور يہ افكار عام طور پر 'شدت پسندى' سے دور ہيں - يہ لوگ قبروں كى تقديس كرتے ہيں اور وہاں جاكر اپنى حاجتيں طلب كرتے ہيں - ان عقائد كى كثرت نے مسلمانوں كے اندر وہ شدت پسندى ختم كردى ہے جس كى نمائندگى وہابى فكر كررہى ہے- اكثر لوگ جانے يا انجانے صوفى ازم پر چل رہے ہيں ، يہ لوگ اپنے ممالك كى سيكولر حكومتوں كو اپنے عقائد و افكار كے لئے بالكل خطرہ نہيں سمجهتے اور نہ ہى ان كے عقائد ان كو اپنى حكومتوں كے خلاف اٹهنے پر اُكساتے ہيں -"
آگے چل كروہ لكهتى ہے :
"وہابى سلفى عالم اسلام ميں صوفيوں اور جامدروايت پسندوں كے سخت دشمن ہيں - اس مخالفت نے اہل تصوف كو مغرب كا فطرى حليف بنا ديا ہے (i) اور وہ ريڈيكل ازم كے خلاف مغرب كے حمايتى ہيں -' '3

سلفيت كے متبادل كے حوالے سے گذشتہ صفحات ميں ہم نے جو كچھ ذكر كيا ہے، ہم يہ سمجهتے ہيں كہ متبادل كى يہ اصطلاح سلفيت كے خلاف مغرب كى يلغار كى مكمل اور باريك بينى سے عكاسى نہيں كرتى،كيونكہ مغربى يلغار نے محض سلفيت كا متبادل لانے كے منصوبے پراكتفا نہيں كرركها اور نہ ہى اس كو مسائل كا حل سمجها ہے بلكہ بہت سے اسلامى ممالك جو مغرب كى نظر ميں سلفيت كامتبادل لانے ميں كامياب ہوچكے ہيں وہ ممالك بهى ابهى تك 'سلفى خطرہ' كے دائرہ سے باہر نہيں ہيں - اس امر كى وضاحت مندرجہ ذيل نكات سے ہوتى ہے:

اوّلاً: مغرب كو اس بات كا احساس ہے كہ دوسرے افكار اور نظريات كے برعكس سلفيت كا خطرہ اس فكر كے حامل افرا دكى كثرت ميں نہيں بلكہ حقيقى خطرہ اس فكر كے اندر پنہاں ہے جس كے وہ حامل ہيں - يہ فكر اپنے اندر كچھ ايسى خصوصيات ركهتى ہے جس كى وجہ سے يہ بڑى سرعت كے ساتھ پهيلتى ہے-يہ توسلفيت كے بارے ميں مغرب كا تصور ہے، ليكن يہاں ہم اسلامى تصور كا اضافہ بهى كرتے ہيں اور وہ يہ كہ دراصل سلفى فكر مكمل طور پر فطرت كے موافق منہج ہے، يعنى اگر لوگوں كو ان كى فطرت پر چهوڑ ديا جائے اور دوسرے خارجى اثرات سے دور رہيں تو وہ يقينا كتاب و سنت پر مبنى راستے كى طرف لوٹيں گے اور اسى راستے كا نام سلفيّت ہے-

ثانياً : سلفى فكر اس لحاظ سے دوسرے افكار سے مختلف ہے كہ وہ معاشرہ كى اكثريت ميں موٴثر كردار ادا كرتى ہے -اس سلسلہ ميں بطورِ مثال عرب ملك مصر كو پيش كيا جاسكتا ہے- وہاں پر تعداد اور پهيلاوٴ كے لحاظ سے تصوف كے مختلف سلسلوں كے پيروكار سب سے زيادہ ہيں جن كى تعداد كروڑوں ميں ہے، دوسرے نمبر پر اخوان المسلمين كے حلقے كے لوگ ہيں جبكہ سلفى فكر كے حاملين كى تعداد سب سے كم ہے- اس كے باوجود معاشرہ كى اكثريت سلفى افكار سے نہ صرف متعارف ہے بلكہ سلفيت سے كافى حد تك متاثر بهى ہے جس كى دليل يہ ہے كہ اسلامى لٹريچر ميں كتاب و سنت پر مبنى سلفى لٹريچر سب سے زيادہ مقبول ہے، اسى طرح سلفى دعاة اور علما كى آڈيوز اور ويڈيوز نماياں طور پر معروف و مشہور ہيں -

ثالثا ً: سلفيت اور مغرب كے درميان جنگ كا اصل سبب اور راز يہ ہے كہ سلفى منہج اسلام كو اس كے اصلى اور خالص مآخذ ومصادر سے حاصل كرنے كى دعوت ديتا ہے اور زندگى كے ہر چهوٹے اور بڑے شعبہ ميں كتاب و سنت كے براہ راست نفاذ كا درس ديتا ہے، جبكہ مغرب كے ہاں يہ تصور گويا پتهر پر لكير كى صورت ميں ان كے ذہنوں پر نقش ہو گيا ہے... اور جس كى سچائى كى دليل محض موجودہ حالات نہيں بلكہ صديوں پرانے تجربات اس كى سچائى پر گواہ ہيں ... كہ اسلام كے ان اصلى اور خالص مآخذ و مصادر كا احيا دراصل مغربى اجارہ دارى اور طاقت كا زوال ہے-اس لئے كوئى بهى تحريك يا جماعت خواہ وہ دنياكے كسى كونے ميں ہو، وہ افريقہ كے جنگلوں يا ريگستانوں ميں ہو، سائبيريا كے برف پوش علاقوں ميں يا ہماليہ كى پہاڑى چوٹيوں ميں ہو،اگر وہ كتاب وسنت كى اصل اور بنياد كے ساتھ متمسك نظر آتى ہو تو اس كو مٹانے كے لئے فوراً اُٹھ كهڑے ہوجانے كے علاوہ مغرب كے پاس كوئى دوسرا راستہ نہيں ہے- كتاب وسنت كو مضبوطى سے تهام لينا ہى سلفيت كا اصل 'جرم' ہے-

"پختہ فكر سلفى كہتے ہيں كہ وہ خالص اسلام كا پهر سے احيا كريں گے، جس كا مطلب يہ ہے كہ صديوں پر محيط مغربى تہذيب جو كہ شعروادب، فنون اور موسيقى وغيرہ كى صورت ميں موجود ہے، اسے ناقابل قبول ٹھراا كر زمين ميں دفن كرديا جائے گا-" يہ اسلامى امور كے امريكى ماہر ڈيوڈ شوارٹز كے وہ الفاظ ہيں جو امريكى اخبار 'ويكلى سٹينڈرڈ' نے شائع كيے ہيں -

ويب سائٹ 'اسلام ڈيلى' نے رابرٹ سپنسر،جس كا ذكر پہلے گزر چكا ہے،كے يہ الفاظ بهى نقل كئے ہيں :"وہابيت كے اصلاحى طريق كار كے اندر جو شدت پائى جاتى ہے وہ حقيقت ميں اس دين كى اصلى اور خالص نصوص كى عكاسى كرتى ہے جو (اس كے زعم ميں ) اپنے حاملين كو ايسا تعصب سكهاتى ہيں جوكسى دوسرے پر رحم نہيں كرتا-"
جى ہاں ! اسلام كى حقيقى نصوص كتاب وسنت كسى ظالم طاغوت پر رحم نہيں سكهاتيں بلكہ تہ تيغ كرنا ہى سكهاتى ہيں ، ليكن انسانيت كے لئے وہ سراپا رحمت اور سعادت ہيں -

دوسرا آپشن: سلفيت كى سرپرستى يا سركارى كنٹرول
مغربى ايجنڈے ميں موجود اس آپشن پر گفتگو كرنے سے پہلے ايك نہايت باريك اور غور طلب نكتہ كوملحوظ ركهنا ضرورى ہے اوروہ يہ كہ سلفيت بحيثيت ِمنہج و فكر اور سلفيوں ميں بہت فرق ہے- اس حقيقت كومدنظر ركهتے ہوئے جب ہم سلفيت كى سرپرستى يا سركارى كنٹرول كے حوالہ سے گفتگو كرتے ہيں تو موضوع كے دو پہلوہمارے سامنے رہنے چاہئيں : ايك سلفيت اور دوسرے سلفى لوگ، ليكن ياد رہے كہ سلفيت پر كنٹرول حاصل كرنے كے لئے سلفيوں پر كنٹرول يقينا لازمى ہے يا كم از كم ان ميں سے موٴثر افراد كو كنٹرول ميں لانا ضرورى ہے-

اس آپشن پر كچھ اسلامى ممالك ميں عمل ہورہا ہے اور پورى كوشش كى جارہى ہے كہ سلفى دعاة كى زيادہ سے زيادہ تعداد كو اور پهر ان كے ذريعہ ان كے ماتحت سلفيوں پر كنٹرول حاصل كيا جائے- يہى وجہ ہے كہ اب يہ بات تعجب خيز نہيں كہ اكثر ممالك ميں سلفى تحريكوں كے دو گروہ ہيں يعنى ايك گروہ جو مقامى حكومت كا حامى ہے اور دوسرا مخالف-

اس موضوع كے حوالہ سے جن دوسرے اُمور كى طرف اشارہ ضرورى ہے، ان ميں ايك يہ بهى ہے كہ اگر ہم اسلامى تحريكوں كى تاريخ پر غور كريں تو ہميں معلوم ہوگا كہ ان ميں سے اكثر جماعتيں دو نہايت نازك موڑوں سے گزرتى ہيں - پہلے موڑ پر اكثر جماعتوں ميں تاسيس كے كچھ عرصہ بعد ہى شگاف پيدا ہوجاتا ہے جس كے نتيجہ ميں كچھ افراد جماعتى اُصولوں اور نظريات پر زيادہ سختى سے كاربند رہتے ہيں ، ايسا رويہ بعض اوقات لوگوں كو تكفير كى طرف بهى لے جاتا ہے ليكن يہى افراد كچھ دہائياں گزرنے كے بعد اور اپنے غلو سے بهرے نظريات كے سبب وقت كے نظاموں (حكومتوں ) كے ہاتهوں سختيوں اور مصيبتوں سے دوچار ہونے كے بعد جماعت ميں دوبارہ شگاف پيدا كرتے ہوئے دوسرا موڑ ليتے ہيں اور اپنے نظريات سے رجوع كرتے ہيں اور سختى كى بجائے نرمى اور تفاہم پسندى كى راہ اختياركرتے ہيں ، واپسى كے اس سفر ميں حتىٰ كہ وہ اپنے بعض ايسے نظريات سے بهى قطع تعلقى كرجاتے ہيں اور براء ت كااظہار كرتے ہيں جو پہلے ان كے ہاں بنيادى اُصولوں كى حيثيت ركهتے تهے-

ماضى قريب ميں اس كى مثال مصر كى جماعت إخوان المسلمون ہے- ساٹھ كى دہائى ميں اس جماعت ميں اس وقت دراڑيں پڑيں جب اس كے بہت سے افراد تكفير كى روش اختيار كر گئے حتىٰ كہ إخوان المسلمون سے عليحدہ ہوكر انہوں نے جماعة التكفيروالہجرة كے نام سے نئى جماعت قائم كرلى- اب كچھ عرصہ سے مصر ميں إخوان المسلمون پهر سے اختلافات كا شكار ہے كيونكہ اس جماعت كے بہت سے افراد مصر كى حكومت اور مصر ميں موجود لادينى(سيكولر) قوتوں سے مفاہمت كى راہ اختيار كرنا چاہتے ہيں بلكہ اسى بنياد پر حزب الوسط كے نام سے نئى پارٹى كى بنياد ركهنے كى تيارياں بهى ہورہى ہيں -

يہ ايك تاريخى حقيقت ہے جو ہميں كئى ايك سبق سكهاتى ہے جن كو مدنظر ركهتے ہوئے اگر ہم سلفى دعوت كو ديكهيں تو ہميں پتہ چلتا ہے كہ سلفيوں اور پهر سلفى دعوت كو كنٹرول كرنے كے لئے اور سركارى سرپرستى ميں لانے كے لئے كيا كيا وسائل اختيار كئے جارہے ہيں ؟ ہميں پتہ چلتا ہے كہ سلفيت پر ايك عجيب و غريب طرز كى حكمت عملى اختيار كى جارہى ہے، جس كا انداز كچھ يوں ہے كہ سلفيت كى طرف منسوب بعض دعاة كو اس قدر مشہور كرديا جائے اور ہر طرح كے ذرائع ابلاغ تك ان كى رسائى كردى جائے جہاں ان كے مخاطب ہر طبقہ كے لوگ ہوں - اس كانتيجہ يہ ہوگا كہ يہ سلفى دعاة جو اپنے سامنے تمام راستے كهلے ہوئے پائيں گے اور ديكهيں گے كہ ان كے مخاطبين ايسے معاشرے كے افراد ہيں جس ميں تمام مفاہيم اور اَوزان ومقياسات بدل چكے ہيں - پهر وہ اپنے آپ كو ايسے معركے كے ميدان ميں پائيں گے جس ميں مقابلہ كے لئے ان كے پاس دركار اسلحہ مناسب اور كافى نہ ہوگا، اس وقت ان دعاة كو احساس ہوگا كہ ايسے حالات ميں ضرورى ہے كہ اپنے كچھ بنيادى اُصولوں ميں نرمى پيدا كى جائے اور ضرورى ہے كہ مختلف طبقات اور ثقافتوں سے تعلق ركهنے والے اپنے مخاطبوں كے احساسات كا خيال ركها جائے اور ان كے ہاں مقدس تصورات كو مجروح نہ كيا جائے اور ساتھ هى ساتھ ان غيور سلفى افراد كو مطمئن كرنے كى كوشش بهى كى جائے جو ان دعاة كے اس طرح كے نرم رويہ سے نالاں ہوں اور اُنہيں يہ باور كروايا جائے كہ ہمارے اس رويہ كا يہ مطلب نہيں كہ ہم اپنے اُصولوں سے انحراف كررہے ہيں بلكہ اپنى دعوت كو مزيد پهيلانے كے لئے يہ جديد دور كے تقاضے ہيں بس صرف بات يہ ہے كہ ذرائع ابلاغ كے سامنے كچھ اہتمام و مدارات سے كام ليا جائے-

ليكن دوسرى طرف دشمنانِ سلفيت كے لئے ان بعض سلفى دعاة كے مزاج ميں جگہ ليتى ہوئى نرمى بلكہ تساہل سونے سے زيادہ قيمتى ہے جس كو ضائع كئے جانے كى كوئى گنجائش نہيں - وہ فوراً اس طرح كے ہلكے سے شگاف ميں ہاتھ ڈالتے ہيں تاكہ وہ دوبارہ آپس ميں ملنے نہ پائے اور ان سلفى دعاة كو تساہل كى راہ كو مزيد آگے بڑهانے پر قائل كرنے كى كوشش كرتے ہيں اور جديددور كے تقاضوں كو ان كے سامنے پيش كركے دعوتى رويہ ميں مزيد تبديلى پر آمادہ كرتے ہيں اور اس كے پس پردہ ان كا ہدف يہ ہے كہ سلفى دعوت كى ترجيحات كو تبديل كرديا جائے-

ان كے پيش نظر يہى رہ جاتا ہے كہ سلفى دعوت كى ترجيح صرف يہ بن جائے كہ لوگوں كے اندر اسلامى شعائر كى اجمالى پابندى كا احساس پيدا كيا جائے اور اسلام كى عمومى تعليمات سے عوام كى دورى كو كم كيا جائے جبكہ سلفى دعوت كى حقيقى ترجيحات اس سے مختلف ہيں اور وہ يہ ہيں كہ معاشرے كے اندر دين كے حوالے سے نہايت حساس قسم كے انحرافات اور خرابيوں كو بهى روكا جائے اور عقيدہ، شرك وبدعات، ولاء و براء (اہل كفرسے دوستى اور دشمنى كا معيار) ايسے دوسرے نازك موضوعات كو بهى تفصيل سے ليا جائے اور لوگوں كے سامنے ان معاملات ميں حق اور باطل كو صاف طور پر عليحدہ كركے دكهايا جائے اور پهر حق كى بهر پور اشاعت كى جائے اور باطل كى كهلى اور بغير كسى مداہنت كے ترديد كى جائے-

يہاں پر ايك اہم مسئلہ درپيش ہے كہ سلفيت كى طرف منسوب دعاة گذشتہ سطور ميں ذكر كئے گئے اسباب كى وجہ سے اپنى فكر ميں جب تبديلى لاتے ہيں تو اگر وہ اپنے اس اقدام كو پست قدمى يا دستبردارى سے تعبير كريں تو ان (اعداے سلفيت) كے لئے اس ميں كوئى فائدہ نہيں ہے- چنانچہ اہم تر ہدف يہ ہے كہ سلفيت كى امتيازى خصوصيات كو اس كے حاملين كے ہاتهوں ہى تبديل كيا جائے- دوسرے لفظوں ميں سلفيت كو اندر ہى سے رخنہ اندازى كا شكار كياجائے-

ان حالات ميں اس امر كى اہميت مزيد بڑھ جاتى ہے كہ حالات كے تغيروتبدل كے نتيجہ ميں سلفى دعوت كى صاف و شفاف پيشانى پر پڑ جانے والے غبار سے پاك كرنے كا عمل مسلسل جارى رہنا چاہئے تاكہ سلفيت كے نام سے وہ افكار و خيالات جو ترغيبى يا ترہيبى دباؤ كے نتيجہ كے طور پر سامنے آئے ہيں ، سلفيت كے خالص منہج كے اندر جگہ نہ لے سكيں - اور يہ بهى ضرورى ہے كہ افراد، بالخصوص سلفى دعوت كو قبول كرنے والوں كى تربيت اس نہج پر كى جائے كہ ان كو شخصيات كى بجائے منہج سلف سے جوڑا جائے اور صحابہ و تابعين اور تبع تابعين سے ورثہ ميں ملنے والے اس منہج حق كے مسلمہ اُصول ان كے ذہنوں ميں بٹهائے جائيں - شخصيات كى مدح و ستائش اور تقديس كے طريقہ كو مكمل طور پر ردّ كيا جائے، كيونكہ اب وقت كچھ ايسا ہے كہ اس ميں حق پراستقامت ايك ناياب چيز بن كر رہ گئى ہے- إلاماشاء الله

اَسلاف كا منہج دل ميں راسخ ہونا چاہئے كہ كسى دو رميں اگر كوئى بڑى سے بڑى شخصيت حالات كى تبديلى كى وجہ سے اپنا رويہ و منہج تبديل كربيٹهے تو سلفيت كے حامل دوسرے افراد پر اس كا كوئى اثر نہ پڑے- رسول اللہﷺ كے اس فرمان پر ہميں بار بار غور كرنا چاہئے :
«تركت فيكم شيئين لن تضلوا بعدهما: كتاب الله وسنتي، ولن يتفرقا حتى يردا عليّ الحوض» 4
"ميں تمہارے درميان دو چيزيں چهوڑ كرجارہا ہوں ، ان كى موجودگى ميں (ان پر عمل كركے) تم كبهى گمراہ نہيں ہوسكتے- وہ اللہ تعالىٰ كى كتاب 'قرآن' اور ميرى سنت ہے- يہ دونوں ہرگز آپس ميں عليحدہ نہيں ہوسكتے حتىٰ كہ يہ قيامت كے روز حوضِ كوثر پر ميرے ساتھ آمليں -"

اگر ہم معاشرے پر نظر دوڑائيں تو ہميں كتاب و سنت سے تعلق كے دو طريقے نظر آتے ہيں : ايك تو يہ كہ كتاب و سنت كو ہر وقت كاندہوں پراُٹهاے ركهنا ليكن ان كے اندر غور نہ كرنا حتىٰ كہ ان كے وزن سے كاندهے تهك جائيں اور كتاب و سنت ايك ناقابل برداشت بوجہ بن جائے جبكہ دوسرا طريقہ يہ ہے كہ كتاب و سنت كو كاندهے پر اُٹهانے كى بجائے نظر كے سامنے ركها جائے اور وہ جس طرف كو چليں اور جس راستے كى طرف رہنمائى كريں ، ان كے پيچهے چلا جائے اور ان كے نقش قدم كو اختيا ركيا جائے- ايسا شخص جو پہلے تو كوئى قدم اٹهاتا ہے يا كوئى فيصلہ كرتا ہے اور پهر كتاب وسنت سے اپنے اس فيصلہ كى تائيد ميں نصوص تلاش كرتا ہے، اس شخص ميں اوردوسرے اس شخص ميں زمين و آسمان كا فرق ہے جو پہلے كتاب و سنت ميں غور كرتا ہے تاكہ ان كى ہدايت كى روشنى ميں قدم اُٹهائے اور فيصلہ كرے-

تيسرا آپشن : سلفيت پر پابندى
كچھ عرصہ پہلے بعض اسلامى ممالك ميں سلفى دعوت كے لئے مكمل آزادى ميسر تهى- اس سلسلے ميں جزيرئہ عرب اور خليجى ممالك كى مثال دى جاسكتى ہے- وہاں پر سلفى منہج كے حامل كو آزادى تهى كہ وہ ہر طرح كى دعوتى سرگرميوں ميں كام كريں - ليكن اب ان ممالك ميں بهى حالات تبديل ہوچكے ہيں اور مغرب كے شديد دباؤكى وجہ سے وہاں بهى سلفيت كو شك كى نگاہ سے ديكها جانے لگا ہے- سلفى دعاة كى حركات و سكنات كو مكمل نظر ميں ركها جارہا ہے- ان ممالك ميں اس غير معمولى تبديلى كى اصل وجہ مغربى ذرائع ابلاغ كى وہ مذموم كوشش ہے جس ميں وہ ہر سلفى دعوت كو جو كہ بے شك محض علمى اور دعوتى ہو، اس كو لازمى طور پر جہاد اور جہادى تحريكوں كے ساتھ مربوط كررہے ہيں -يہ مغربى ذرائع ابلاغ كى ايك خاص مہم ہے جس كے ذريعہ وہ مختلف سلفى تحريكوں اور اداروں كو ايك ہى تحريك ميں ضم كركے پيش كرناچاہتے ہيں اور يہ باور كروانا چاہتے ہيں كہ اس تحريك كا مقصد دنياكے كونے كونے ميں عسكرى عمل كو پهيلانا ہے-

اس ميں كچھ شك نہيں كہ علىٰ وجہ البصيرة جہاد فى سبيل اللہ تاريخ كے ہر دور ميں سلفى تحريكوں كا ہى طرئہ امتياز رہا ہے اور سلفى لوگ كل بهى اور آج بهى جہادى تحريكوں ميں اگلى صفو ں ميں برسرپيكار نظر آتے ہيں - ليكن واضح رہے عسكريت پسندى قطعاً سلفى منہج نہيں ہے ،بلكہ سلفى منہج ميں عسكرى عمل كے لئے خاص زمان ومكان اور دوسرے اعتبارات كو بهى مدنظر ركها جاتاہے اور ان حالات ميں فيصلہ كرنے كے لئے قرآن و سنت اور اسلاف كے اُسوہ سے راہنمائى لى جاتى ہے-ليكن آج مغربى ذرائع ابلاغ ميں عسكريت پسندى كو سلفيوں سے منسوب كر كے پيش كيا جا رہا ہے- چنانچہ امريكى كانگرس كا ايك ركن اس بارے ميں كہتا ہے:
"وہابى عقيدہ يہ ہے كہ ہر وہ شخص جو غير وہابى ہے، اس كا انجام قتل ہے-"

واشنگٹن پوسٹ كى ايك خاتون صحافى لكهتى ہے:
"جو لوگ وہابى عقيدہ كو اختيار نہيں كرتے،وہابيوں كى نظر ميں وہ سب كافر ہيں -" 5

اوپر ذكر كردہ سارى بحث سے بخوبى يہ واضح ہوتا ہے كہ سلفيت كے مقابلہ كے لئے متعدد مراحل كى ايك منصوبہ بنديہے جس پر مختلف انداز سے عمل ہورہا ہے اور يہى وہ مراحل يا امكانات ہيں جن كے بارے ميں ہم نے گذشتہ صفحات ميں گفتگو كى ہے، يعنى سلفيت كامتبادل، سلفيت كى سرپرستى يا اس پركنٹرول اور سلفيت پرپابندى يا اس كا مكمل كا صفايا-

اب اگر ہم دوبارہ اس مغربى سوال كى طرف لوٹيں جس كا ذكر ہم نے اس مثال كے آغاز ميں كيا تها كہ سلفى دعوت كى تحريكوں كا مقابلہ كيسے كيا جائے؟ تو ہميں معلوم ہوگا كہ اس كا جواب ايك طريقہ ہى ميں نہيں بلكہ تينوں طريقوں كے لئے عليحدہ عليحدہ تجويز كيا گيا ہے-اور اس ميں كوئى شك نہيں كہ مغرب كے لئے يہى طريقے بطورِ حل مناسب ہيں ، بالخصوص ايسے حالات ميں كہ سلفى تحريكيں پورى دنيا كے ممالك ميں مختلف انداز ميں پهيلى ہوئى ہيں ، يہى وجہ ہے كہ ان كا مقابلہ كرنے كے لئے مغربى قوتيں مختلف اساليب اپنانا ضروريسمجهتى ہيں -

كچھ ممالك اس حوالے سے پہلے مرحلے سے گزر كر اب دوسرے اور تيسرے مرحلے كے درميان ہيں ، ايسے ممالك ميں مصر كى مثال لى جاسكتى ہے جبكہ بعض ممالك تينوں مراحل طے كرچكے ہيں جن ميں تيونس اور ليبيا شامل ہيں اور كچھ ممالك پہلے اور دوسرے مرحلے كے درميان ميں ہيں -

اس مختصر تجزيہ سے يہ واضح ہوتا ہے كہ دوسرے مرحلے يا دوسرے آپشن پر حاليہ وقت ميں بہت سے ممالك ميں كام ہورہا ہے اور وہ ہے سلفيت كى سرپرستى اور اس پر كنٹرول كا آپشن اور موجودہ حالات اس بات كا شدت سے تقاضا كرتے ہيں كہ رہنمايانِ سلفيت اس مغربى خطرناك ہتهكنڈے اور اس كے اثرات پر سنجيدگى سے غور كريں - وصلى الله على نبينا محمد !

 

حافظ ابو سعد عبد الکریم سمعانی فرماتے ہیں: کہ 'سلفی' سلف کی طرف نسبت ہے۔ 6

حافظ ذہبی کہتے ہیں کہ ''سلفی اسے کہتے ہیں جو سلف کے مذہب پر ہو۔'' 7

 علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:لا عیب من أظهر مذهب السلف وانتسب إ لیه واعتزی إ لیه بل یجب قبول ذلك منه بالاتفاق فن مذهب السلف لا یکون لا حقا '' جو شخص سلف کا مذہب ظاہر کرے اور سلفیت کی طرف منسوب ہو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسے شخص کے اعلان کو قبول کرنا بالاتفاق واجب ہے۔ کیونکہ ائمہ سلف کا مذہب ہی حق ہے۔'' 8

 


حوالہ جات
1. ديكهئےSufiyah.com
2. اخبار 'سنڈے سٹريٹ ٹائم' اور ويب سائٹ'اسلام ڈيلى'
3. انٹرنيٹ اخبار 'دنيا الوطن ١٧/ دسمبر 2005ء
4. صحيح الجامع الصغير:حديث2937
5. ديكهئے ويب سائٹ 'اسلام ڈيلى
6. الانساب: 2733
7. سیر اعلام النبلاء: 621
8. مجموع فتاویٰ: 1496

i. تصوف کے فروغ اور اس کی حمایت کیلئے مغرب کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے۔ پاکستان میں بھی صوفیت کے فروغ کیلئے اس کا اظہار ایک ماہ قبل مشرف کی زیر ہدایت، پنجاب حکومت کی سرپرستی میں منعقد ہونیوالی عالمی صوفی کانفرنس میں بھرپور طریقے سے ہوا اور اس کی حمایت ومخالفت میں اخبارات میں کئی کالم بھی لکھے گئے۔