307- Feb 2007

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

خطبہ حج 1427ہ / 2007ء (يومِ عرفہ) كا اُردو ترجمہ


اُمت ِمسلمہ اس وقت اندوہناك صورتحال سے دوچار ہے- اسے داخلى طور پر كئى كمزوريوں اور كوتاہيوں كا سامنا ہے تو بيرونى طور پر وہ كئى سازشوں اور عسكرى جارحيتوں كا شكار ہے- ايسى پريشان كن صورتحال ميں مسلم اُمہ كے عظيم الشان اجتماع 'حج بيت اللہ' اور روحانى مركز 'مكة معظمة' سے ان مسائل كى كيا تشخيص كى جاتى اور ان كے حل كے لئے كيا لائحہ عمل پيش كيا جاتا ہے؟ خطبہ حج كے زير نظر ترجمہ سے يہى نشاندہى مقصود ہے-زير نظر خطبہ ٴحج اسلام كى جامعيت كا مظہر ہے جس كے آغاز ميں اساسى عقائد و اَحكام كے علاوہ فرد و معاشرہ كى اصلاح كو كتابِ ہدايت 'قرآنِ كريم'سے پيش كيا گيا ہے- اسلام فرد كى اِصلاح پر زور ديتا ہے اور اسے اسلامى ہدايات پر عمل پيرا ہونے كا حكم ديتا ہے جس سے آخر كار ايك صالح معاشرہ وجود ميں آتا ہے- اسلام كيا ہے اور مسلمانوں سے اس كے تقاضے كيا ہيں ؟زير نظر خطبہ ميں درج قرآنى ہدايات سے اپنى زندگيوں كا جائزہ لے كر ہم بخوبى جان سكتے ہيں كہ ہمارى پستى اور درماندگى كى وجوہات ا س كے سوا اور کچھ نہيں كہ ہم اسلامى تعليمات پر نہ صرف عمل ترك كرچكے بلكہ اسے پس پشت ڈال كر مادّيت اور آزاد روى كے غلام بن چكے ہيں -اس خطبہ ميں حالاتِ حاضرہ كى ايك اجمالى منظر كشى كے بعد مسلم اُمہ كے مختلف ذمہ دار عناصر سے اپنا كردار صحيح بنيادوں پر ادا كرنے كى درد بھرى گذارش كى گئى ہے- ان عناصر كے كردار كا اس مخلصانہ دعوت سے موازنہ كركے ہميں يہ علم ہوسكتا ہے كہ يہ لوگ اپنى ذمہ دارياں كہاں تك اسلام كے مطابق ادا كررہے ہيں - اس خطبہ ميں مركز ِخلافت كے اِحيا، نظامِ تعليم كى اصلاح، ميڈيا كو راست روى اور مسلم حكمرانوں كو اپنى ذمہ دارياں ياد دلائى گئى ہيں -مسلم ممالك بالخصوص پاكستان، تركى، تيونس، مراكش اورخليج ومصر ميں ان دنوں جس 'روشن خيال اسلام'كا صور پھونكا جارہا ہے اور ا س كے لئے نظامِ تعليم ميں تبديلى اور ميڈيا پر لگاتار جن فكرى انحرافات كو رواج ديا جارہا ہے، مسلمانوں كے اس عظيم اجتماع كا ان اقدامات كے بارے ميں تبصرہ بہى خصوصيت سے لائق توجہ ہے- خطبہ كے آخر ميں موت، قبر، آخرت اور يومِ محشر كا تذكرہ كركے تمام مسلمانوں كو اللہ كا تقوىٰ اختيار كرنے كى تلقين كى گئى ہے- آج كى اس پريشان كن صورتحال ميں بھى اگرمسلم امہ انفرادى اوراجتماعى طورپر اپنى دينى اساس كى طرف نہيں لوٹتى تو پھر كيونكر كسى اصلاحِ احوال كى اُميد كى جاسكتى ہے- 



تمام تعريف اللہ تبارك و تعالىٰ كو سزاوار ہے، ہم اس كى حمد وثنا كرتے ہيں اوراس كى مدد اور مغفرت كے طلبگار ہيں - ہم اپنے نفسوں اور برے اعمال كے شر سے اس كى پناہ ميں آتے ہيں - جس كو وہ راہ ياب كردے اسے كوئى گمراہ نہيں كرسكتا اور جسے وہ گمراہ كردے اسے كوئى ہدايت دينے والا نہيں -اور ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبودِ برحق نہيں ، وہ يكتا ہے، اس كا كوئى شريك نہيں اور ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمدﷺ اللہ كے بندے اور اس كے رسول ہيں - امابعد!

لوگو! اللہ سے ڈر جاؤ جيسا كہ اس سے ڈرنے كا حق ہے اور اس كے انعام واكرام پر شكربجالاؤ كہ اُس نے ہميں لوگوں ميں سے بہترين اُمت بنايا، ہميں شك وشبہ سے مبرا دين مرحمت فرمايا، ہمارى طرف سب رسولوں سے افضل رسول بھيجا، ہمارے لئے كتب ِسماويہ ميں سے سب سے بہتر كتاب نازل فرمائى جو محكم اور واضح دلائل پرمبنى ہے-جس ميں وعد و وعيد، شرك سے بچنے اور توحيد كو اپنانے كا حكم موجود ہے-

مسلمانو!يہ كتاب تمہارے نبىﷺ كا معجزہ ہے، آپ كا ارشادِ گرامى ہے :
«ما من الأنبياء نبي إلا أعطي من الآيات ما مثله آمن عليه البشر وإنما كان الذي أوتيته وحيا أوحاه الله إليّ فأرجو أن أكون أكثرهم تابعا يوم القيامة» 1
"كوئى ايسا نبى نہيں گزرا جس كو كوئى نہ كوئى معجزہ نہ ملا ہو جسے ديكھ كر لوگ ايمان لائے اور مجےد اللہ نے جومعجزہ عطا فرمايا وہ وحى ہے جسے ميرى طرف بھيجاگيا اور مجھے اُميد ہے كہ قيامت كے دن(ميں انبيا ميں ) ميرے پيروكاروں كى تعداد زيادہ ہو گى-"

اس كتاب ميں تمام پيش آمدہ مسائل كا حل بيان كرديا گيا ہے- قرآن نے ہميں حج كے بارے ميں رہنمائى فرمائى تاكہ ہم اس نفع بخش فريضہ كو بجا لائيں ،جيساكہ فرمانِ الٰہى ہے:
لِّيَشْهَدُوا مَنَـٰفِعَ لَهُمْ...﴿٢٨...سورة الحج

تاكہ وہ اپنے لئے دينى و دنياوى فوائد حاصل كريں -"

اور قرآن نے ہمارى رہنمائى كى كہ ہم شريعت كے اُصولوں كے مطابق دعوتِ دين، امربالمعروف اور نہى عن المنكر كا فريضہ انجام ديں -فرمايا:
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى ٱلْخَيْرِ‌ وَيَأْمُرُ‌ونَ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ‌ ۚ وَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ ﴿١٠٤...سورة آل عمران

"اور تم ميں سے ايك گروہ ايسا ہو جو بھلائى كى طرف بلائے، اچھے كاموں كا حكم دے اور برے كاموں سے روكے-"

قرآن كے ذكر كردہ چند حلال وحرام اُمور
قرآن نے ہميں مطلع كيا ہے كہ تمہارے معاملات ميں اصل حلت ہے اور صرف وہ چيزيں حرام ہيں جن كى ممانعت كى دليل آچكى اوراس نے ہميں طيبات سے استفادہ كا حكم ديا:
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ لَكُم مَّا فِى ٱلْأَرْ‌ضِ جَمِيعًا...﴿٢٩...سورة البقرة
"اس نے تمہارے لئے ان تمام چيزوں كو پيدا كيا جو زمين ميں ہيں -"
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِى ٱلْأَرْ‌ضِ حَلَـٰلًا طَيِّبًا...﴿١٦٨...سورة البقرة
"اے لوگو! زمين ميں جتنى حلال و پاكيزہ چيزيں ہيں ، انہيں كھاؤ-"

اس نے نہ صرف ہمارے لئے خريدوفروخت كو مباح قرار ديا بلكہ اسلامى اصولوں پر مبنى تجارت كو جہاد كے متصل ذكر كياہے -فرمايا:
وَءَاخَرُ‌ونَ يَضْرِ‌بُونَ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَءَاخَرُ‌ونَ يُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۖ...﴿٢٠...سورة المزمل
"اور كچھ دوسرے لوگ زمين ميں سفر كريں گے، اللہ كى روزى تلاش كريں گے اور بعض دوسرے اللہ كى راہ ميں قتال كريں گے-"

قرآنِ كريم نے جائز بيع ميں منافع كے حصول كو حلال جبكہ سود كو حرام ٹہرايا، كيونكہ وہ ظلم وزيادتى پر مبنى ہے- فرمايا:

وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلْبَيْعَ وَحَرَّ‌مَ ٱلرِّ‌بَو‌ٰا ...﴿٢٧٥...سورة البقرة
"اور اللہ نے خريدوفروخت كو حلال كيا ہے اور سود كو حرام قرار ديا ہے-"

اس نے ہميں امانتيں ان كے مستحقين كے سپرد كرنے كا حكم ديا، فرمايا:
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّواٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا...﴿٥٨...سورة النساء
"اللہ تمہيں حكم ديتا ہے كہ امانتيں ان كے اصل حق داروں كو ادا كرو-"

اس نے لاٹرى اور جوا ايسے قبيح كاموں كو ہمارے لئے حرام ٹھرايا ہے، فرمايا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا إِنَّمَا ٱلْخَمْرُ‌ وَٱلْمَيْسِرُ‌ وَٱلْأَنصَابُ وَٱلْأَزْلَـٰمُ رِ‌جْسٌ مِّنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَـٰنِ فَٱجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٩٠...سورة المائدة
"اے اہل ايمان! بے شك شراب، جوا اوروہ پتر جن پر بتوں كے نام سے جانور ذبح كئے جاتے ہيں اور فال نكالنے كے تير، سب ناپاك ہيں ، ان سے پرہيز كرو، تاكہ تم فلاح پاؤ-"

اور رشوت كو حرام قرار ديا كہ وہ حرام كى كمائى ہے - قرآن كريم ميں يہوديوں كے اس فعلِ شنيع كى مذمت كرتے ہوئے اللہ نے فرمايا:
سَمَّـٰعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّـٰلُونَ لِلسُّحْتِ ۚ...﴿٤٢...سورة المائدة
"يہ لوگ جھوٹ بولنے كيلئے دوسرے كى باتوں پر كان لگاتے ہيں اور بڑے حرام خور ہيں -"

اس نے ظلم و زيادتى اور دہوكہ دہى سے كسى كا مال ہتھيانے اور ناجائز ذرائع سے دولت كمانے سے روك ديا، فرمايا:
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ ۚ...﴿١٦١...سورة آل عمران
" اور يہ ناممكن ہے كہ كوئى نبى خيانت كرے- جو كوئى بھى خيانت كا مرتكب ہوگا، قيامت كے دن خيانت كى ہوئى چيز كے ساتھ اسے لايا جائے گا-"

قرآن نے ہميں اسراف و تبذير اور غلط كاموں پر خرچ نہ كرنے كى تلقين فرمائى ہے :
وَكُلُوا وَٱشْرَ‌بُوا وَلَا تُسْرِ‌فُوٓا  إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِ‌فِينَ ﴿٣١...سورة الاعراف
"كہاؤ پيئو اور حد سے تجاوز نہ كرو ،بے شك اللہ حد سے تجاوز كرنے والوں كو پسند نہيں كرتا-"
إِنَّ ٱلْمُبَذِّرِ‌ينَ كَانُوٓا إِخْوَ‌ٰنَ ٱلشَّيَـٰطِينِ ۖ وَكَانَ ٱلشَّيْطَـٰنُ لِرَ‌بِّهِۦ كَفُورً‌ا ﴿٢٧...سورة اسراء
"اور آپ فضول خرچى نہ كيجئے، بے شك فضول خرچ لوگ شيطان كے بہائى ہيں اور شيطان اپنے ربّ كا ناشكراہے-"
قرآن نے قديم سے جارى رہن كے نظام كو برقرار ركہا البتہ لين دين كے معاملات ميں ايسا الہامى چارٹر ديا كہ انسانى عقيں كبھى اس كى مثال پيش نہيں كر سكتيں -

خاندانى نظام كا استحكام اور اُمت ِمسلمہ ميں اجتماعيت كو فروغ
اسلام چاہتا ہے كہ مسلمانوں كا خاندانى نظام مستحكم ہو جس كے لئے قرآن ميں جابجا ايسے احكامات وارد ہوئے ہيں جن كو اپنانے سے ہم خاندانى نظام كو تباہ ہونے سے بچا سكتے ہيں -
خاندانى نظام كى عمارت كو قائم كرنے اور اسے انتشار سے سے بچانے كے لئے قرآن نے ہميں كچھ بنيادى اقدامات كى ترغيب دى ہے ،جن ميں سے اہم ترين نكاحِ شرعى ہے :
وَأَنكِحُواٱلْأَيَـٰمَىٰ مِنكُمْ وَٱلصَّـٰلِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَآئِكُمْ ۚ...﴿٣٢...سورة النور
"اور تم ميں سے جو مرد و عورتيں بغير بيوى و شوہر كے ہيں ، ان كى شادى كردو اور اپنے نيك غلاموں اور لونڈيوں كى بھى شادى كردو-"

اور فرمايا:
فَٱنكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ ٱلنِّسَآءِ مَثْنَىٰ وَثُلَـٰثَ وَرُ‌بَـٰعَ ۖ...﴿٣...سورة النساء
"پس تم دو دو، تين تين اور چار چار عورتوں سے شادى كرلو جنہيں تم اپنے لئے پسند كرتے ہو-"

اور اسلام نے خاندانى نظام ميں رخنہ اندازى كے تمام راستوں كو بند كر دياہے جن ميں اہم ترين امر زنا كارى كى حرمت ہے- اللہ فرماتے ہيں :
وَلَا تَقْرَ‌بُوا ٱلزِّنَىٰٓ ۖ إِنَّهُۥ كَانَ فَـٰحِشَةً وَسَآءَ سَبِيلًا ﴿٣٢...سورہ الاسراء
"اور زنا كے قريب بھى مت پھٹكو، بلا شبہ وہ بڑى بے شرمى كا كام اور برا راستہ ہے-"

خاندانى نظام كے استحكام كے لئے اللہ نے مرد كو عورت پر قوّام (نگہبان)بنايا جس كى وجہ كسى صنف كى ذاتى برترى نہيں بلكہ اس كى وجہ يہ ہے كہ اللہ نے اپنى مخلوق پر سے بعض كو بعض پر يك گونہ فضيلت عطا فرمائى ہے اور يہ بھى كہ مرد عورتوں كى كفالت كے ذمہ دارہوتے ہيں - چنانچہ اللہ تعالىٰ فرماتے ہيں :

ٱلرِّ‌جَالُ قَوَّ‌ٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ ٱللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَآ أَنفَقُوامِنْ أَمْوَ‌ٰلِهِمْ ۚ...﴿٣٤...سورة النساء
"مرد عورتوں پر حاكم ہيں ، اس بنا پر كہ جو اللہ نے ان ميں سے بعض كو بعض پر برترى دى ہے اور اس لئے بھى كہ مردوں نے اپنا مال خرچ كيا ہے-"

اسى مقصد كے لئے اللہ نے نكاح كا باقاعدہ نظام ديا اور طلاق كے احكام كو بيان فرما ديا، ارشاد ہے :
ٱلطَّلَـٰقُ مَرَّ‌تَانِ ۖ...﴿٢٢٩...سورة البقرة

"طلاق (رجعى) دوبار ہے-"
نيز مسلمانوں كے درميان اجتماعى روابط كے لئے قرآنِ مجيد ہميں ايسے راستے اختيار كرنے كى دعوت ديتا ہے جن سے اجتماعى تعلقات ميں استحكام پيدا ہو اور يہ رہنمائى مندرجہ ذيل احكامات كى شكل ميں ہے :

اللہ نے ہميں والدين سے حسن سلوك كا حكم ديا، فرمايا :
وَٱعْبُدُوا ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِ‌كُوا بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا...﴿٣٦...سورة النساء
"اللہ كى عبادت كرو، اس كے ساتھ كسى كو شريك نہ ٹھراؤ اور والدين كے ساتھ اچھا سلوك كرو-"

نيز ان كى اطاعت كا حكم بھى ديا ليكن ساتھ يہ ہدايت بھى كر دى كہ اگر وہ اللہ كے احكام سے روگردانى كا حكم ديں تو ان كى اطاعت نہ كرو، فرمايا:
وَإِن جَـٰهَدَاكَ عَلَىٰٓ أَن تُشْرِ‌كَ بِى مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِى ٱلدُّنْيَا مَعْرُ‌وفًا ۖ...﴿١٥...سورة القمان
"اگروہ تجھ پر دباؤ ڈاليں كہ ميرے ساتھ كسى كو شريك كرو جس كا تجھے علم نہ ہو تو ان كى بات نہ ماننا ، البتہ دنيا ميں ان كے ساتھ نيك برتاؤ كرتا رہ-"

مسلمانوں كے درميان اجتماعيت كے فروغ كے لئے اللہ نے ہميں ہمسايوں سے حسن معاملہ كا حكم ديا ، ارشاد ہے:
وَٱلْجَارِ‌ ذِى ٱلْقُرْ‌بَىٰ...﴿٣٦...سورة النساء

"اور قرابت دار ہمسايہ سے (حسن سلوك كرتا رہ)"

عزيزواقارب سے حسن سلوك اور صلہ رحمى كا حكم ديا، فرمايا:
وَٱتَّقُوا ٱللَّهَ ٱلَّذِى تَسَآءَلُونَ بِهِۦ وَٱلْأَرْ‌حَامَ ۚ...﴿١...سورة النساء
"اس خدا سے ڈرو جس كا واسطہ دے كر تم ايك دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ وقرابت كے تعلقات كو بگاڑنے سے پرہيز كرو-"

اور مسلمانوں كو حكم ديا كہ وہ آپس ميں تعاون و خيرخواہى كا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑيں :
وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَـٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ...﴿٧١...سورة التوبہ
"موٴمن مرد اور موٴمن عورتيں يہ سب ايك دوسرے كے دوست ہيں -"

مزيد فرمايا :
وَتَعَاوَنُوا عَلَى ٱلْبِرِّ‌ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُواعَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَ‌ٰنِ ۚ وَٱتَّقُوا ٱللَّهَ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلْعِقَابِ ﴿٢...سورة المائدة
"نيكى اور پرہيز گارى ميں ايك دوسرے كى امداد كرتے رہو اور گناہ اور ظلم و زيادتى ميں ايك دوسرے كا تعاون نہ كرو-"

اسى طرح قرآنِ كريم عوام اور حكام كو اُمورِ خير ميں باہمى تعاون كى تلقين كرتا ہے اور عوام كو اپنے حكام كى اطاعت كا بھى حكم ديتا ہے :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا أَطِيعُوا ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا ٱلرَّ‌سُولَ وَأُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ...﴿٥٩...سورة النساء
"اے ايمان والو! اللہ اور اس كے رسول كى اطاعت كرو اور ان لوگوں كى جو تم ميں صاحب ِ امر ہوں -"

دوسرى طرف حاكم كو اس امر كا پابند كرتا ہے كہ وہ عدل سے فيصلہ كرے، فرمايا:
وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِٱلْعَدْلِ ۚ...﴿٥٨...سورة النساء
"جب تم لوگوں كے درميان فيصلہ كرو تو عدل كے ساتھ كرو-"

اور ہميں حكم ہے كہ ہم اپنے اہم معاملات كے جھگڑے اپنے ذمہ داران كى طرف لوٹائيں :
وَإِذَا جَآءَهُمْ أَمْرٌ‌ مِّنَ ٱلْأَمْنِ أَوِ ٱلْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِۦ ۖ وَلَوْ رَ‌دُّوهُ إِلَى ٱلرَّ‌سُولِ وَإِلَىٰٓ أُولِى ٱلْأَمْرِ‌ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ ٱلَّذِينَ يَسْتَنۢبِطُونَهُۥ مِنْهُمْ ۗ...﴿٨٣...سورة النساء
"يہ لوگ جب كوئى اطمينان بخش يا خوفناك خبر سن پاتے ہيں تواسے لے كر پھيلا ديتے ہيں ، حالانكہ اگر يہ اسے رسولﷺ اور مسلمانوں كے ذمہ دار اصحاب تك پہنچائيں تو وہ ايسے لوگوں كے علم ميں آجائے جو اس سے صحيح نتيجہ اخذ كرسكيں -"

نظامِ قضا
قرآن نے عدل وانصاف كے متعلق انسانيت كونہايت شاندار اُصول عطا كئے ہيں -
عدل اور احسان كو نظامِ قضا كى بنياد ٹھرايا - فرمانِ الٰہى ہے:
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ‌ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ...﴿٩٠...سورة النحل
"اللہ تعالىٰ عدل اور احسان كا حكم ديتا ہے-"

اور حكم ديا كہ حقوق كا اندراج گواہوں كى موجودگى ميں كياجائے:
وَٱسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّ‌جَالِكُمْ ۖ...﴿٢٨٢...سورة البقرة
"(معاملات لكھتے وقت) اپنے مردوں ميں سے دو كى اس پر گو اہى كرالو-"

اور گواہى كو ہرگز نہ چھپايا جائے:
وَلَا تَكْتُمُوا ٱلشَّهَـٰدَةَ ۚ...﴿٢٨٣...سوة البقرة

"شہادت كو ہرگز نہ چھپاؤ-"


نيزجہوٹى گواہى دينے كو حرام قرار ديا اور مسلمانوں كى يہ علامت بتلائى كہ
وَٱلَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ ٱلزُّورَ‌...﴿٧٢...سورة الفرقان

اور يہ لوگ جھوٹى گواہى نہيں ديتے-"
اور فرمايا:

فَٱجْتَنِبُوا ٱلرِّ‌جْسَ مِنَ ٱلْأَوْثَـٰنِ وَٱجْتَنِبُوا قَوْلَ ٱلزُّورِ‌ ﴿٣٠...سورة الحج
" بتوں كى گندگى سے بچو اور جھوٹى باتوں سے پرہيز كرو-"

نظامِ حدود و قصاص
قرآن نے حدود كے متعلق نظامِ عدل متعارف كرايااور حكم ديا كہ چوتہائى دينار كى چورى پر ہاتھ كاٹ ديا جائے،حالانكہ يہى ہاتھ جب امانت دارتھا تو اس كى ديت ايك بھارى رقم تھى- ليكن جب لوگوں كے مال اس سے محفوظ نہ رہے اور يہ ہاتھ گوياايك ناسور بن گيا تو پھر اسے كاٹ دينے كا حكم دے ديا :

وَٱلسَّارِ‌قُ وَٱلسَّارِ‌قَةُ فَٱقْطَعُوٓا أَيْدِيَهُمَا...﴿٣٨...سورة المائدة
"چورى كرنے والے مرد اور عورت كے ہاتھ كاٹ ديا كرو-"

اور غير شادى شدہ زانى كو حرمات كى خلاف ورزى كى پاداش ميں كوڑے لگانے كا حكم ديا:
ٱلزَّانِيَةُ وَٱلزَّانِى فَٱجْلِدُواكُلَّ وَ‌ٰحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ...﴿٢...سورة النور
"زنا كار عورت ومرد ميں سے ہرايك كو سو كوڑے لگاؤ-"

اور حكم ديا كہ دوسروں پر برائى كا جھوٹا الزام لگا كر ان كى عزتيں اُچھالنے والے كو كوڑے لگائے جائيں ، فرمايا:
وَٱلَّذِينَ يَرْ‌مُونَ ٱلْمُحْصَنَـٰتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوابِأَرْ‌بَعَةِ شُهَدَآءَ فَٱجْلِدُوهُمْ ثَمَـٰنِينَ جَلْدَةً...﴿٤...سورة لنور

"جو لوگ پاك دامن عورتوں پر زنا كى تہمت لگائيں پھر چار گواہ نہ پيش كرسكيں تو اُنہيں اسّى كوڑے لگاؤ-"


كسى كو ناحق قتل كرنے والے كو قصاص ميں قتل كرنے كا قانون جارى كياتاكہ معاشرے ميں امن و امان قائم ہوسكے، فرمايا:

وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَو‌ٰةٌ...﴿١٧٩...سورة لبقرة
"عقل و خرد ركھنے والو! تمہارے لئے قصاص ميں زندگى ہے-"

اور فرمايا:
وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَآ أَنَّ ٱلنَّفْسَ بِٱلنَّفْسِ...﴿٤٥...سورة المائدة
"ہم نے يہوديوں پر تورات ميں يہ بات مقرر كردى تہى كہ جان كے بدلے جان كابدلہ ہے-"

زمين ميں فساد برپا كرنيوالوں ، راہزنوں اور معاشرے كا امن و امان تہ و بالا كرنيوالوں كى جڑ كاٹ دينے كے احكام صادر كئے، تاكہ اُمت كو بدامنى كے ناسور سے نجات حاصل ہو:
إِنَّمَا جَزَ‌ٰٓؤُا ٱلَّذِينَ يُحَارِ‌بُونَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓا أَوْ يُصَلَّبُوٓاأَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم مِّنْ خِلَـٰفٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ ٱلْأَرْ‌ضِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٣٣...سورة لمائدة
"جو لوگ اللہ اور اس كے رسول سے لڑتے ہيں اور زمين ميں اس لئے تگ و دو كرتے پھرتے ہيں كہ فساد برپا كريں ، ان كى سزا يہ ہے كہ قتل كئے جائيں يا سولى پرچڑہائے جائيں يا ان كے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے كاٹ ڈالے جائيں يا وہ جلاوطن كرديے جائيں يہ ذلت ورسوائى تو ان كے لئے دنيا ميں ہے اور آخرت ميں ان كے لئے اس سے بڑى سزا ہے-"

اَخلاقى اُصول
مسلمانو! اسلام نے اخلاقى پہلو كو بھى تشنہ نہيں چھوڑا ،بلكہ قرآنِ حكيم نے ہميں اخلاقيات كى اصلاح كے لئے بہترين اُصول عطا كئے ہيں اور اسے سنوارنے كے لئے نبى آخرالزمانﷺ كو ہمارے لئے ماڈل قرار دياكيونكہ محمدﷺ كا اخلاق ہى درحقيقت نمونہ بنانے كے لائق تھا، فرمايا:
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ ﴿٤﴾...سورة القلم

"بلاشبہ تم اخلاق كے بڑے مرتبے پر فائزہو-"

اس كے لئے قرآن نے ہميں يہ تعليم دى كہ ہم صدق كو اپنائيں اور سچوں كا ساتھ ديں :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا ٱتَّقُوا ٱللَّهَ وَكُونُوامَعَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ﴿١١٩...سورة التوبہ
"اے ايمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں كا ساتھ دو-"

قول وفعل ميں اخلاص سے كام لينے كى تعليم دى:

فَٱعْبُدِ ٱللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ ٱلدِّينَ ﴿٢...سورة الزمر
"تم اللہ ہى كى بندگى كرو، دين كو اسى كے لئے خالص كرتے ہوئے-"

گناہوں سے اِعراض كرتے ہوئے سچى توبہ كرنے كا حكم ديا:
وَتُوبُوٓا إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١...سورة النور
"اے موٴمنو! تم سب مل كر اللہ سے توبہ كرو، توقع ہے كہ فلاح پاؤ گے-"

اور يہ تعليم دى كہ اللہ سے بخشش طلب كريں ، اسكى ياد كو اپنا معمول بنائيں ،نيكى كے كاموں ميں مال خرچ كريں ، وعدوں كو پورا كريں اور معاہدوں كى پاسدارى كريں ، فرمانِ الٰہى ہے :
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِأَمَـٰنَـٰتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَ‌ٰ‌عُونَ ﴿٣٢...سورة لمعارج
"جو لوگ اپنى امانتوں كى حفاظت كرتے اور اپنے عہد كا پاس كرتے ہيں -"

ہر ايك كے ساتھ عدل كا برتاوٴ كريں - دوستى اور دشمنى كو حمايت يا مخالفت كى كسوٹى نہ بنائيں :
وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَـَٔانُ قَوْمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعْدِلُوا  ٱعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ ۖ...﴿٨...سورة المائدة
"(ايمان والو!) كسى گروہ كى دشمنى تمہيں اتنا مشتعل نہ كردے كہ انصاف سے پھر جاؤ- عدل كرو، يہى خدا ترسى سے زيادہ مناسبت ركھتا ہے-"

خوش اخلاقى كو اپنايا جائے اور جہوٹ كو حرام سمجھا جائے:
إِنَّمَا يَفْتَرِ‌ى ٱلْكَذِبَ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ ۖ...﴿١٠٥...سورة النحل
"جھوٹ و افترا تو وہى باندہتے ہيں جنہيں اللہ تعالىٰ كى آيتوں پر ايمان نہيں ہوتا-"

خيانت كو حرام جانا جائے-فرمايا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا لَا تَخُونُوا ٱللَّهَ وَٱلرَّ‌سُولَ وَتَخُونُوٓا أَمَـٰنَـٰتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴿٢٧...سورة الانفال

"اے ايمان والو!  اللہ اور اس كے رسول كے ساتھ خيانت نہ كرو اور اپنى امانتوں ميں خيانت كے مرتكب نہ ہو-"

فساد فى الارض كو قبيح عمل سمجھا جائے :
وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يُعْجِبُكَ قَوْلُهُۥ فِى ٱلْحَيَو‌ٰةِ ٱلدُّنْيَا وَيُشْهِدُ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا فِى قَلْبِهِۦ وَهُوَ أَلَدُّ ٱلْخِصَامِ ﴿٢٠٤﴾ وَإِذَا تَوَلَّىٰ سَعَىٰ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ ٱلْحَرْ‌ثَ وَٱلنَّسْلَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ ٱلْفَسَادَ ﴿٢٠٥...سورة البقرة
"لوگوں ميں سے وہ شخص بھى ہے جس كى باتيں دنيا كى زندگى ميں تمہيں بہت بھلى معلوم ہوتى ہيں اور وہ اپنى نيك نيتى پر بارباراللہ كو گواہ ٹھراتا ہے، مگر حقيقت ميں وہ بدترين دشمن ِحق ہوتاہے اور جب اسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے تو زمين ميں اس كى سارى دوڑ دھوپ اس لئے ہوتى ہے كہ فساد پھيلائے،كھيتى كو غارت كرے اور نسل انسانى كو تباہ كرے-"

نيز قرآن نے ہميں خبردار كيا ہے كہ جادو حرام ہے ، اور اس سے بچنے كى تلقين كى اور اس كے ارتكاب كو كفر قرار ديا :
وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَآ إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ‌ ۖ...﴿١٠٢...سورة لبقرة
"اور وہ دونوں (ہاروت و ماروت) كسى شخص كو اس وقت تك (جادو) نہيں سكہاتے تہے جب تك يہ نہ كہہ ديں كہ ہم تو ايك آزمائش ہيں -"

بھائيو! اس حكم كو مانتے ہوئے نجوميوں اور جادوگروں كے دامِ فريب سے بچو،ان كى باتوں كى ہرگز توثيق نہ كرو ،نہ ان كى طرف كان دھرو- ان كے چھوڑے ہوئے شوشوں اور اٹكل پچوؤں كومسترد كردو-ان كى خرافات سے بچنے ميں ہى تمہارے ايمان كى سلامتى ہے-

قرآن كى يہ ہدايات زندگى كے ہر شعبہ كو محيط ہيں اور زندگى كا كوئى پہلو ايسا نہيں جس كے متعلق اس كى رہنمائى موجود نہ ہو- يہ ايسى كتاب ہدايت ہے كہ اللہ تبارك و تعالىٰ نے تمام بھلائى كى باتيں اس ميں جمع كردى ہيں - اللہ نے سچ فرمايا:
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْ‌ءَانَ يَهْدِى لِلَّتِى هِىَ أَقْوَمُ...﴿٩...سورة الاسراء
"يقينا يہ قرآن وہ راستہ دكھاتا ہے جو بہت ہى سيدہا ہے-"

موجودہ حالات اور مسلم اُمہ ميں اتحاد
مسلمانانِ اسلام! آج پورى دنيا مختلف قسم كے فكرى انتشار كى لپيٹ ميں ہے اور يہ افكار سياسى و فلسفى مناہج ، نفع اندوزى كى پاليسى، سوشلزم و كميونزم، خود پرستى، آزاد روى،نام نہاد روشن خيالى اور اس طرح كى ديگر آزادانہ پاليسيوں پرمشتمل ہيں -اس فكرى انتشار نے اُمت ِمسلمہ كو سواے مشكلات وابتلا كے كچھ نہيں ديا-آپ جس طرف بھى نظريں دوڑائيں جنگ و جدل، بہتا ہوا خون، بكھرے ہوئے انسانى اعضا، دہشت گردى، خوف وہراس اور بدامنى كے سوا كچھ نظر نہيں آئے گا اور يہ سب منتشر خيالى اور كج فكرى كا نتيجہ ہے- دنيا كو ان پراگندہ افكار سے كيا حاصل ہوا؟ كياان كو اپنانے سے اُنہيں اسلام كو اپنى زندگيوں سے ديس نكالا نہيں دينا پڑا؟

اے پاليسى سازو!ياد ركھو، دنيا ميں امن و امان اور استحكام اس وقت تك ممكن نہيں جب تك كہ اس ميں الٰہى پاليسيوں كو نافذ نہ كرديا جائے- دنيا كو تباہى و بربادى سے بچانے كيلئے قانونِ خداوندى كو مان لينا ناگزير ہے اور يہ اس ذات كى دى ہوئى پاليسى ہے جو تمام جہانوں كا پالنہار ہے ، جس نے تمام مخلوق كو پيدا كيا اوروہ بہتر جانتا ہے كہ اسكى اصلاح كيسے ممكن ہے؟ وہ خو د فرماتا ہے:

أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ ٱللَّطِيفُ ٱلْخَبِيرُ‌ ﴿١٤...سورة الملک
"كيا وہ بھى بے علم ہوسكتا ہے جو خود خالق ہو، پھر باريك بين اور باخبر بھى ہو-"

اور يہ امرمسلم ہے كہ ہر كاريگر ہى اپنى بنائى چيز كے متعلق بہتر جانتا ہے كہ بگاڑ كے وقت اس كى اصلاح كيسے كى جاسكتى ہے، لہٰذا دنيا ميں پيدا ہونے والے بگاڑ كى اصلاح كے لئے قرآنِ كريم كى طرف رجوع كے سوا كوئى چارہ كار نہيں -

اے قانون سازو!اس وقت ہمارى دنيا ہلاكت، سركشى ، مخربِ عادات طريقوں اور خوفناك جنگوں كے راستے پرچل نكلى ہے- حالات انتہائى دگرگوں ہيں - حيران وپريشان عقلوں كى وضع كردہ بوگس پاليسياں تباہ كن راستوں پر گامزن ہيں اور ان پاليسيوں نے اُمت ِمسلمہ كو خلفشار ميں مبتلا كر كے تباہ وبربادى كے دہانے پر لا كھڑا كيا ہے-ہر تدبير كا حل اسلامى نظام ميں مضمر ہے جو روح كو مضبوط عقيدہ كے ساتھ مخاطب كرتا ہے، ايسا عقيدہ جو دل كو نور و سرور سے بھر دے-

جى ہاں ! بگاڑ كا حل صرف اسلامى تعليمات ميں موجود ہے جو ايسى انصاف پرور شريعت لايا ہے جو ہر قسم كے مفادات كے لئے معتدل اور عمدہ ترين پيمانوں كو ملحوظ ركھتى ہے-

ہميں تسليم كرنا چاہئے كہ ہر قسم كے انتشار كا حل صرف اور صرف اسلام كى تعليمات ميں ركھ ديا گيا ہے- وہ ايسے معاشى نظام كو متعارف كراتا ہے جس ميں اقتصادى مشكلات كا حل اور اس كى ترقى و بڑہوترى كے لئے مكمل رہنمائى كا سامان موجود ہے اور وہ ايك مسلمان كا دوسرے مسلمان كے ساتھ ، مسلمان كا غير مسلم كے ساتھ تعلقات كى ہدايات بھى ديتا ہے اور اسى طرح اجتماعى، سياسى اور اخلاقى روابط كى حدود كا تعين كرتاہے كہ ان كے آپس كے معاملات كيسے نپٹائے جائيں -اس لئے كہ اسلامى شريعت كا مصدر و منبع وہ ذات ہے جو سب جہانوں كا پالنے والا ہے اور يہ بركتوں والا دين 'اسلام' كسى انسان كے ہاتھ كى جادوگرى اور كسى كہلنڈرے كا كھيل نہيں بلكہ تعريفات كے لائق اور دانا ہستى كى طرف سے نازل شدہ ہے-

اے اُمت ِمسلمہ !اللہ تبارك و تعالىٰ كا ہم پر احسان ہے كہ اس نے ہمارے لئے دين اسلام منتخب كيا اور ہمارا نام 'مسلم' ركھا اور اس نام كو پسند فرمايا- يہ وہ نام ہے جو اللہ نے اپنے موحد بندوں كے لئے تجويز كيا:

هُوَ سَمَّىٰكُمُ ٱلْمُسْلِمِينَ مِن قَبْلُ وَفِى هَـٰذَا لِيَكُونَ ٱلرَّ‌سُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ ۚ...﴿٧٨...سورة الحج
"اللہ نے پہلے بھى تمہارا نام مسلم ركھا تھا اور اس (قرآن) ميں بھى (تمہارا نام يہى ہے) تاكہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ-"

اور ہم اس صالح ومصلح اور عادل شريعت كے حامل ہونے كى وجہ سے لوگوں پر گواہ ہيں -
اے مسلمانانِ اسلام!ہر بلند كيا جانے والا نعرہ اور پكار جو اسلام كى روح سے خالى ہو، باطل و مسترد ہے- آج ہمارى دنيا گروہى، قومى عصبيت اور گروہى نعروں سے گونج رہى ہے- اللہ نے اس اُمت كو اسلام كى بدولت عزت و توقير سے نوازا- ہمارے منتشر گروہوں كى شيرازہ بندى كى، ہمارى صفوں ميں اتحاد پيدا كيا اور ہمارے دلوں ميں ايك دوسرے كے لئے اُلفت ڈال دى اور جب ہم نے اسلام سے ناطہ توڑا اور غيروں كے دَر سے عزت ڈھونڈنا چاہى تو اللہ نے ہميں ذليل و رسوا كرديا اور آج ہم ہرمحاذ پر غيروں كے ہاتھوں پٹ رہے ہيں -

ياد كيجئے! جب عہد ِنبوت ميں ايك مہاجر اور انصارى كے درميان جھگڑا ہوا اور يہ جھگڑا ايسا طول پكڑا كہ مہاجر نے مہاجرين كو 'يا للمہاجرين' كہہ كر حمايت كے لئے پكارا، اسى طرح انصارى نے انصار كو 'يا للأنصار' كہہ كر مدد كے لئے برانگيختہ كيا- آپ نے سنا تو فرمايا:

«أبدعوٰى الجاهلية وأنا بين أظهركم» 2
"يہ جاہليت (عصبيت) كى پكار كيسى ؟ حالانكہ مںر تم ميں موجود ہوں -"

ہمارے دين ميں عصبيت كى قطعاً گنجائش نہيں ،چاہے وہ عصبيت قوميت كى ہو، فارسى ہونے كى يا تركى ہونے كى ہو اور نہ ہى كسى گزرے ہوئے يا نئے پيدا ہونے والے گروہ كى- اسلام نسلى، لسانى عصبيتوں سے مبرا دينى وحدت كا دين ہے، جيسا كہ فرمان الٰہى ہے:
وَإِنَّ هَـٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَ‌ٰحِدَةً وَأَنَا۠ رَ‌بُّكُمْ فَٱتَّقُونِ ﴿٥٢...سورة المومنون
"اور يہ تمہارى اُمت ايك ہى اُمت ہے اور ميں تمہارا ربّ ہوں پس مجھ ہى سے ڈرو-"

اے وحدتِ اسلامى كے علمبردارو! وحدت اللہ تبارك و تعالىٰ كى ايك عظيم نعمت ہے - اس نے ہم پراحسان فرمايا اور اس وحدت كو قائم كرنے كا حكم ديا:
وَٱعْتَصِمُوا بِحَبْلِ ٱللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا ۚ...﴿١٠٣..سورة آل عمران
"اور اللہ كى رسى كو سب مل كر مضبوطى سے تھام لو اور بكہر نہ جاؤ-"

اور اپنى صفوں ميں اتحاد كے لئے ضرورى ہے كہ ہم فرمانِ رسالتﷺ

:« المسلم أخو المسلم لا يظلمه،لا يخذله ولا يحقره»

"مسلمان مسلمان كا بھائى ہے اور وہ اس پر ظلم نہيں كرتا،اسے بے يارو مددگار نہيں چھوڑتااور نہ ہى اس كى تحقير كرتا ہے

-"كو مدنظر ركھيں - مسلمانوں كى وحدت مضبوط بنيادوں پر قائم ہے اور وہ يہ ہے كہ ان كا ربّ ايك ہے، نبى ايك ہے، دين ايك ہے، قبلہ ايك ہے اور ان كى شريعت ميں ان سب كا ايك امام كے پےقي نماز ادا كرنا، ايك مہينے كے روزے ركھنا اور معروف مقررہ جگہ پر حج جيسى عبادت بجا لانا؛ يہ سب باتيں ايك مسلمان كو تمام اُمور ميں اتحاد كى تربيت ديتى ہيں - اگر ہم نے بدعات وخرافات اور انحرافات سے مبرا اپنى اس وحدت كو اپنا ليا تو يقينا رہتى دنيا تك كاميابى مسلمانوں كے لئے ہے- وحدت مسلمانوں كو آپس ميں مل بيٹھنے، ان كو اپنى قوت مجتمع كرنے اور دلوں كو قريب كرنے پر اُبھارتى ہے ، تاكہ مسلمان اپنے ربّ كى منشا كے مطابق زندگى بسر كريں اور اس مقام كو حاصل كر ليں :

كُنتُمْ خَيْرَ‌ أُمَّةٍ أُخْرِ‌جَتْ لِلنَّاسِ...﴿١١٠....سورة آل عمران
"تم بہترين اُمت ہو جو لوگوں كے لئے ہى پيدا كى گئى ہے-"

عزيز بهائيو!دشمن ہمارے تارو پود بكھيرنے كے درپے ہے- وہ ہمارے مركز يعنى ادارہ 'خلافت' كو توڑنے ميں كامياب ہوچكا، وہ ہمارى وحدت كو پارہ پارہ كرنا چاہتا ہے اور ہم ہيں كہ ابھى تك خود فريبى كا شكار ہيں اور ان كى آغوش ميں گررہے ہيں -

اے اُمت ِمسلمہ!اللہ عزوجل نے دينِ اسلام كا انتخاب كيا ہے اور اسے تمام اديان پر برترى دى اور محمدﷺكو منتخب فرمايا اور اُنہيں تمام انبياء و رسل كا خاتم بنايا اور آپ كو ہدايت دے كر اور دين حق دے كر مبعوث فرمايا تاكہ آپ لوگوں كو اس كى طرف دعوت ديں ، اس كے ثمرات كى خوشخبرى ديں ، اس سے روگردانى كے عذاب كى وعيد سنائيں -

اللہ تبارك و تعالىٰ اس دين كى حفاظت كرنے والا ہے، اس كا نگہبان اور اس كا مددگار ہے اور يہ ايسا دين ہے كہ اللہ نے اسے منتخب فرمايا اور اسے مكمل كيا اور اس ميں عدل، رحمت، احسان اور ديگر تمام فضيلتيں جمع كرديں - اس نے اس كى تكميل و بقا كا فيصلہ كيا ہے اور اس كى مدد كرنے والوں كى مدد كا ذمہ اُٹھايا ہے:

وَلَيَنصُرَ‌نَّ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُ‌هُۥٓ ۗ...﴿٤٠...سورة الحج
"جو اللہ كى مدد كرے گا اللہ بھى ضرور اس كى مدد كرے گا-"

مسلمانوں كى حالت ِزاراور اصلاح كا نبوى منہاج
قرآن كريم ميں ہے كہ موٴمن كو مصائب و تكاليف سے آزمايا جاتا ہے تاكہ اس كى ثابت قدمى كا امتحان ليا جائے، فرمايا:

وَلِيُمَحِّصَ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۗ...﴿١٥٤...سورة آل عمران
"اور تاكہ تمہارے دلوں كے اندر پوشيدہ رازوں كو نكھارے-"

اللہ تبارك و تعالىٰ جس كو توفيق دے اور وہ اس دين كو قبول كرلے تو اس پر سازشيوں كى سازشيں اور ہراساں كرنے والوں كى دھمكياں كچھ اثر نہيں كرتيں ،بلكہ وہ ايمان و عقيدہ ميں مزيد پختہ ہو جاتا ہے- تاريخ شاہد ہے كہ حق كو قبول كرنے والوں پر دنيا جہاں كے مال ومتاع پيش كئے گئے ،ليكن اُنہوں نے اسے ٹھكرا ديا اور ان كے پايہٴ استقلال ميں ذرا بھى لغزش نہ آئى- كفار و مشركين نے ان كى خوشامد وچاپلوسى كا ہتہھیار بھى آزما كر ديكھ ليا ليكن وہ ان كے اس دامِ تزوير ميں نہ آئے اور اس دين كى حمايت سے دست كش نہ ہوئے- سارى تدابير رائيگاں جانے پر ان كے ساتھ جنگ كى گئى، اُنہيں اور ان كے اہل خانہ كو اذيتيں دى گئيں ، ان كے اَموال چھين لئے گئے اوراُنہيں ان كے گھروں سے نكال ديا گيا ليكن وہ اپنے مشن پر ڈٹے رہے اور ان تكاليف پر صبر كرتے رہے اور ايك دوسرے كو صبر كى تلقين كرتے رہے جس كے بدلے آخرت ميں سكہ و چين اور انعامات كى زندگى ان كا مقدر ٹھرى-

آپ ديكھ رہے ہيں كہ آج مسلمانوں كے ساتھ كيا سلوك روا ركھا جارہا ہے؟ ہمارے دين پر طعنہ زنى كى جا رہى ہے، مسلمانوں كو ان كے دين كى وجہ سے گزند پہنچايا جاتا ہے، ان كے علاقوں پر حملے كئے جاتے ہيں ، ان كے قدرتى و معدنى ذخائر كو لوٹ ليا گيا، دشمن كى دسترس سے ان كے گھر تك محفوظ نہيں - ان پرباقاعدہ منصوبہ بندى سے حملے كئے جاتے ہيں - ان كا حقيقى مددگار صرف اللہ ہے:

وَكَفَىٰ بِرَ‌بِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرً‌ا ﴿٣١﴾...سورہ الفرقان
"اور تيرا ربّ ہى ہدايت كرنے والا اور مدد كرنے والا كافى ہے-"

قابل افسوس امر يہ ہے كہ آج ہمارى قوم ميں ايك ايسا گروہ پيدا ہوچكا ہے جو اُمت ِمسلمہ كے مفادات كا سوداگر بنا بيٹھا ہے -اس نے مسلمانوں كے سياسى مفادات، علاقائى مال و متاع اور مادى وسائل اَغيار كے ہاتھوں بيچ ڈالے ہيں -

اے مسلمانو! اب بھى وقت ہے،خوابِ غفلت سے بيدار ہوجاؤ! اپنے حالات كا جائزہ لو- اُمت ِ مسلمہ كے مقدمات خيانت و غدر كے بازار ميں سستے داموں بيچے جارہے ہيں - ہوش كرو! منافقين اپنے آپ كو منڈيوں ميں لے آئے تاكہ دشمنانِ اسلام مسلمانوں كے معاملات كى منصوبہ بندى كے لئے چلنے والے قلم خريد ليں - ايك اپنا اثرو رسوخ بيچ رہا ہے تو دوسرے نے اپنى فصاحت و خطابت بيچنے كو بازار ميں ركہ دى ہے اور كوئى ان كو اپنى ہر چيز چند ٹھيكريوں كے بدلے بيچنے كو تيار ہے-ان لوگوں نے بے شرمى اور ڈہٹائى كا مظاہرہ كرتے ہوئے اپنى قوم كو، اپنے بھائيوں كے خون اور اُمت ِمسلمہ كے اجتماعى مفادات كو ارزاں كرديا-

سيرتِ طيبہ كى روشنى ميں اصلاح و دعوت كى حكمت ِ عملى؟اے امت مسلمہ!ہر دعوت كى كاميابى كا انحصار ان مضبوط اور راسخ بنيادوں پر ہوتا ہے جو اس دعوت كى عمارت كو قائم و دائم ركھ سكيں اور اسلامى دعوت كا امتياز يہى ہے كہ اس كے اثرات واضح اور شفاف ہيں -اس كا منہج پرامن ہے اور اس كى طرف بلانے والے وصف صدق سے متصف ہيں -

اللہ تبارك و تعالىٰ نے محمدﷺكو ہمارى طرف ہدايت اور دينِ حق دے كر مبعوث فرمايا اور آپﷺ نے لوگوں كو اللہ اور اس كى توحيد كى طرف دعوت دى اور اس كے ساتھ كسى كو شريك ٹھرانے سے منع كيا- اور يہى آپﷺكى دعوت كى اساس اور رسالت كى غرض و غايت تہى جو آپﷺ سے قبل تمام انبيا كا مشن رہا ہے- آپﷺ نے اللہ تبارك وتعالىٰ كے فرمان: ﴿وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴿٢١٤...سورۃ الشعراء﴾ "اور اپنے قريبى رشتہ داروں كو اللہ كا تقوىٰ اختيار كرنے پر اُبہارئيے-"پر عمل كرتے ہوئے اور اُمت كے لئے نمونہ قائم كرنے كے لئے دعوت كى ابتدا اپنے قبيلے اور قريبى رشتے داروں سے كى-آپﷺ نے ان كے ايك ايك فرد كو اللہ كا پيغام پہنچايا-اس وقت تك يہ دعوت مخفى طور پر دى جارہى تھى- قريش آپ كى سرگرميوں اور دعوت سے بخوبى واقف تھے، ليكن وہ كہتے تھے:
أَجَعَلَ ٱلْءَالِهَةَ إِلَـٰهًا وَ‌ٰحِدًا ۖ إِنَّ هَـٰذَا لَشَىْءٌ عُجَابٌ ﴿٥﴾...سورة ص
"كيا اس نے اتنے سارے معبودوں كو ايك ہى بنا ديا ،واقعى يہ عجیب بات ہے"

جب آپﷺ كا مقام ذرا بڑھا تو اللہ نے آپ كو علىٰ الاعلان دعوت كا حكم ديااورفرمايا:
فَٱصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ‌ وَأَعْرِ‌ضْ عَنِ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ ﴿٩٤...سورة الحجر
"پس آپ كو جو حكم ديا جارہا ہے، اسے كھول كر بيان كرديجئے اور مشركين كى ذرا پروا نہ كيجئے-"

اور آپﷺ كو تسلى دى كہ سازشيوں كى سازشيں آپ كو گزند نہيں پہنچا سكتيں ، آپ كى حفاظت ميرے ذمے ہے:
وَٱللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ ٱلنَّاسِ ۗ...﴿٦٧...سورة المائدة
"اور آپ كو اللہ لوگوں (كے گزند) سے بچالے گا-"

آپﷺ نے دعوتِ دين كا علم بلند كيااور اپنے آپ كو قبائلِ عرب كے سامنے پيش كيا - مسلسل دعوت و تبليغ كے نتيجہ ميں اللہ نے اپنے دين كو عزت بخشنے كيلئے اَوس و خزرج ميں سے ايك گروہ كو ہدايت سے نوازا جو اَنصار كے لقب سے معروف ہوئے- اُنہوں نے آپﷺ كے ہاتھ پر بيعت كى كہ ہم، ہمارى اولاديں ، ہمارى عورتيں اور ہمارے خاندان والے دامے درمے سخنے ہر طرح سے آپكے ساتھ ہيں اور ہر حالات ميں آپ كى حفاظت كريں گے-اس پر آپ ﷺ انكے پاس مدينہ منورہ تشريف لے آئے جو اسلام كى قوت وسرفرازى كا باعث ہوا-

مسلم اُمہ كے ذمہ دارعناصر كو ياددہانى
اے اُمت ِمحمديہ!دنيا ميں گمراہ كن نظريات و افكار كا دور دورہ ہے جو ہدايت سے یكسر خالى، تاريك اور نامعلوم اَہداف اور مبہم وموہوم مقاصد كے حامل ہيں - اور ان نظرياتى جالوں كو پھلانے والے اپنے شكاروں كو دامِ ضلالت ميں پھنسانے كے لئے بتدريج رغبت دلاتے رہتے ہيں تاكہ مسلمانوں كا اسلامى، ملى اور خاندانى تشخص مسخ كرديں اور وہ اپنے تمام نظريات چھوڑ كر اس باطل دعوت كو اپنا ليں - ان فكرى تحريكوں كو چلانے والے پس پردہ ہيں جنہوں نے پورى دنيا كو ہلانے اور اس كے تار پود بكھيرنے، اس كى صفوں ميں انتشار پيدا كرنے اور ريشہ دوانيوں كو ہوا دينے كى ٹھان ركھى ہے-كتنى ہى دسيسہ كارياں ہيں كہ جن كى اُنہوں نے قيادت كى؟ اور كتنے شہر ہيں جنہيں اُنہوں نے تباہ و برباد كرديا؟ كتنے ہى جاہل لوگ منصب، مال اور دنيا كى عارضى لذات كے حصول كے لئے ان كے دامِ فريب ميں پھنس گئے اور ان كے ہاتھوں ميں كھلونا بن گئے-

اے عقل و دانش سے بہرہ ور لوگو! ان تحريكوں اور ان كے نعروں سے دہوكے ميں نہ آجانا-(i) ايك مسلمان پر اللہ تبارك و تعالىٰ كا كرم ہے كہ اسے اسلام كى نعمت سے نوازا اور اسے اس دين كے اپنانے كا شرف بخشا كہ جس كے اہداف ،آثار، غرض و غايت اور مقاصد نصف النہار كى طرح روشن اور واضح ہيں جبكہ اسكى قيادت كرنے والى ذاتِ مباركہ محمد رسول اللہ ﷺہيں جن كى سيرت بے عيب و بے مثال ہے اور ان كے فرمودات و راہنمائى محفوظ اور دہوكہ و فريب سے مبرا ہے-اس دين كاحامل اجر سے نوازا جائے گا اور دين كا يہ راستہ ہى سيدہا راستہ ہى-

اے عمائدين و سربراہانِ اسلام !اہل اسلام اور سرزمين اسلام كى بھارى ذمہ دارى تمہارے كندہوں پر ہے -آج عالم اسلام كٹھن حالات سے گزر رہا ہے- ہمارے دشمن ہمارا اسلامى تشخص مسخ كردينا چاہتے ہيں - وہ چاہتے ہيں كہ اسلام ہمارى زندگى كے معاملات سے نكال ديا جائے، تاكہ ہم عالمى قوتوں كے تابع مہمل اور ذليل ہوكر زندگى گزاريں - ہمارے دشمن اس وقت آسودگى اور جديد ٹيكنالوجى سے مالا مال ہيں اور ہمارے علاقوں كى معدنى دولت لوٹ رہے ہيں - ہمارى زمينيں ان كے سياسى و عسكرى كھيلوں كا اكھاڑا بن چكى ہيں جن پر وہ آئے دن جنگى تجربے كرتے رہتے ہيں -

اے مسلم حكمرانو!آج ضرورت ہے كہ مسلمانوں كى اسلامى شناخت اور اسلام كے شرعى وقانونى ڈھانچے كى حفاظت كى جائے- (ii) ان كى آئندہ نسلوں كے دين اور اسلامى ثقافت پر برقرار ركھنے كے ٹھوس اقدامات كئے جائيں - داخلى و خارجى سرحدوں كو ناقابل تسخير بنايا جائے اور موجودہ حالات كے پيش نظر مضبوط بنيادوں پر دليرانہ اور جاندار موقف اپنايا جائے جس سے اُمت كے مسائل حل ہوں اور اُمت دشمن كے لئے ميدانِ كار زار بننے سے بچ جائے- ہميں اپنے مسائل كے حل كے لئے اِدھراُدھر جانے كى ضرورت نہيں ، ہم اُمت ِاسلام ہيں اور ہمارا ايك الگ تشخص ہے-

اے علماے اسلام!اے انبيا كے وارثو! اے اہل فتوىٰ!سستى اور غفلت كى چادر كو اُتار پھينكو- اب سونے كا وقت گزر چكا-تم اُمہ كى نظرياتى سرحدوں كے محافظ ہو- اپنى اُمت كے مسائل كا شرعى حل ڈہونڈو- اُمت كو اس وقت ايسے واضح موقف كى ضرورت ہے جس سے ان كے غصب شدہ علاقے واگزار ہو سكيں -اُمت آج ثقافتى و فكرى يلغار كا شكار ہے- ان ميں داخلى طور پر تكفيريت، تشدد، فقہى جمود اورآزاد روى جيسے مرض دَر آئے ہيں -اُنہيں ان مسائل ميں رہنمائى فراہم كرو- مسلمانوں كے خلاف دشمنوں كے بنائے جانے والے منصوبوں كے متعلق اُمت كو تمہارى راہنمائى كى ضرورت ہے- مسلمانوں كو توجہ دلاؤ كہ يہ سارى مصيبتيں اس وجہ سے ہيں كہ آج تم نے دين سے تعلق توڑ كر خرافات و بدعات سے تعلق جوڑليا ہے-

اے نوجوانانِ اسلام! جوانى كا دور خطرناك دور ہے-نوجوانو! تمہيں اللہ كا واسطہ دے كر كہتا ہوں كہ اپنے دين كو بچانے كى فكر كرو، اپنى جانوں كو بچالو ، اپنى اُمت كا خيال كرو، ہوش كے ناخن لو، قوم كى اُميديں تم سے وابستہ ہيں ، ان كى اميدوں پر پورا اُترو- دشمن تمہارے سينے سے روحِ محمد نكال دينا چاہتا ہے ، تاكہ تمہيں اپنے مقاصد كے لئے استعمال كرسكے اور مسلمانوں كے خلاف اپنے سوچے سمھہے منصوبوں كو آگے بڑھاتے ہوئے فتنہ فساد برباد كردے-

اے قوم كے اساتذہ اور مربيو!ہمارے نونہالوں كى عقليں تمہارى مرہونِ منت ہيں - ان كى تربيت كے بارے ميں اللہ سے ڈرو-(iii) ہم چاہتے ہيں كہ ان كى تربيت اس نہج پر كى جائے كہ صحيح عقيدہ ان كے دل ميں راسخ ہو جائے، وہ اخلاقِ كريمہ سے آراستہ ہوں اور عصرى تقاضوں كو پورا كريں -

ہم چاہتے ہيں كہ ہمارا منہج تعليم ايساہو جو ہمارے حال كا رشتہ ہمارے ماضى سے جوڑ دے اور زمانہٴ حال ميں ہمارى بہترى كى اُميدوں كو برلائے- يقينا اللہ كا اس اُمت كے لئے وعدہ ہے كہ سارى بھلائياں انہى كے لئے ہيں اور يہ دين ہميشہ باقى رہنے والا ہے جيساكہ رسول اللہﷺنے فرمايا:

«ولا تزال طائفة من أمتي ظاهرين على الحق لا يضرهم من خذَلهم ولا من خالفهم» 3
"ميرى امت ميں سے ايك جماعت ہميشہ حق پر قائم رہے گى اور كسى كو ان سے كنارہ كشى اور ان كى مخالفت انہيں كچھ نقصان نہيں پہنچا سكے گى -"

اے ميڈياكے ذمہ دارو! ذرائع ابلاغ اُمت كى ترجمانى اور نمائندگى كا ذريعہ ہيں - تم اطلاعات كا تبادلہ ايماندارى سے كرو اور اپنى نشريات ميں سچ كو لازم پكڑو -تمہارے ممالك معدنى ذخائر كى دولت سے مالامال ہونے كى وجہ سے تمام عالم ميں دل كى حيثيت ركھتے ہيں - ميڈيا كو اسلامى عقيدہ و دين كا خادم بنا دو تاكہ اسلامى تعليمات كى اشاعت كو فروغ حاصل ہو اور اس كے ذريعے مسلمانوں كى ترقى كے ايسے منصوبوں اورنقشوں كو متعارف كرديا جائے جن سے اُمت موجودہ دور ميں اور مستقبل ميں فائدہ اُٹھا سكے- اسلامى ذرائع ابلاغ كى ذمہ دارى ہے كہ اس كے ذريعے گمراہ كن نظريات كى بيخ كنى كى جائے اور ضرباتِ حق سے باطل كا دماغ كچل ديا جائے نہ كہ ان كے ذريعے اسلام دشمن افكار ونظريات كو مسلمانوں ميں گھسنے كا موقعہ ديا جائے- ان كى يہ بھى ذمہ دارى ہے كہ ان كے ذريعے ايسے تمام چينلز كا منہ توڑ جواب ديا جائے جو الحاد كو مسلمانوں ميں داخل كرنا چاہتے ہيں ، ان كے اَخلاق بگاڑ رہے ہيں اور محض اس لئے كھولے گئے ہيں كہ اُمت كے جسم كا جوڑ جوڑ عليحدہ كرديا جائے كيونكہ ان چينلز پر فحاشى،(iv) جھوٹ اور باطل پروگراموں كے سواكچھ نشر نہيں ہوتا-

اے مسلمان بيٹيو!تم اُمت كے جگر كے ٹكڑے، عزت كا نشان اور آنكھوں كى ٹھنڈك ہو-ديكھو!دشمنانِ دين كے تيروں كا رُخ تمہارى طرف ہے- تمہارى بربادى سے متعلقہ كانفرنسوں كا انعقاد كيا جارہا ہے- عفت وعصمت كے تحفظ اور حجاب كے معاملہ ميں سختى اختيار كرو- يہى اقدام تمہيں قعرِ مذلت ميں گرنے سے بچا سكتا ہے- ديكھو ، حقوقِ نسواں كے مغرب زدہ علمبرداروں كى باتوں سے دھوكا نہ كہا جانا- ان كے ايجنڈوں پر چلنے كا نتيجہ اللہ كى نافرمانى كے سوا كچھ بھى نہيں ہے-(v) يہ لوگ تمہارى ساكھ اور اخلاق كو داغ دار كرنا چاہتے ہيں - اپنے دين پر ثابت قدم رہنا تاكہ تمہيں ايك صالحہ اور پاكدامن خواتين كى حيثيت سے پہچانا جائے-

اے ماہرين معاشيات !يقينا اسلامى ممالك معدنى دولت سے مالا مال ہيں اور مختلف صنعتى ممالك ان سے فائدہ اٹھا رہے ہيں - ہمارے پاس ايسا اقتصادى منصوبہ كيوں نہيں جو اسلامى ممالك كے ذخائر كو اَغيار كى غنیمت بننے سے بچاسكے-

اس وقت سود كى لعنت عام ہوچكى ہے اور يہ خباثت ہرسو پنپ رہى ہے -تم اس كے خاتمے كے لئے سرگرم كيوں نہيں ہوتے؟تمہيں چاہئے تھا كہ مسلمانوں كا اجتماعى مالى مركز قائم كرتے، جس سے لوگوں كو سود كے وبال سے چھٹكارا حاصل ہوتا- (vi)اب بھى وقت ہے اپنى ذمہ دارى كوسمجھو اور سود كے تدارك كى تدابير كرلو-

اے برادرانِ فلسطين و عراق، برادرانِ صوماليہ وافغانستان اور سارى دنيا كے مسلمان بھائيو!ميں تمہيں اس عظيم مقام اورعظيم منبر سے، عظيم دن اورعظيم مہينے ميں اللہ كے نام كا واسطہ ديتا ہوں - اللہ كى قسم دے كر تمہيں نبى كا وہ كلام سناتا ہوں جو اُنہوں نے آج كے دن اسى مقام پر اپنے خطبہ ميں ارشاد فرمايا تھا:
«إن دماء كم وأموالكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا في بلدكم هذا» 4

اور ميں رسول اللہﷺكى پيروى ميں ، ان كے حكم كى تعميل كرتے ہوئے اپنے بھائيوں سے كہتا ہوں كہ اپنے بھائيوں كے خون كا احترام كرو ، اُنہيں دشمنوں كے ہاتہوں نہ بيچو- اپنى جانوں كو اللہ كے غضب سے بچا لو، راہ يابى كى طرف لوٹ آؤ،اپنے معاملات كو منظم كرو اور تمام باطل اُمور سے دست كش ہوجاؤ- مفاداتِ عامہ كے ارفع و اعلىٰ مقصد كو اپنا نصب العين بناؤ اور اسے ہر چيز پر مقدم جانو- دشمن تمہارے باہمى اختلاف كو ہوا دے كر اپنے مذموم مقاصد كى تكميل (vii)كرنا چاہتا ہے- دشمن تمہارے گھروں تك آپہنچا اور تم ابھى تك آپس ميں دست وگريبان ہو- اللہ تبارك و تعالىٰ تمہارے منتشر گروہوں كى شيرازہ بندى سے، تمہارے دلوں اور زبانوں ميں وحدت پيدا فرمائے ، يقينا وہ ہر چيز پر قادر ہے-

مسلمانو!اللہ كى كتاب ميں غوروفكر كرو ، ہدايت اسى ميں موجود ہے- اس كى تلاوت خشوع و خضوع اور حضورِ قلبى كے ساتھ كثرت سے كيا كرو- قرآن ہمارى زندگى سے متعلقہ عبرتوں كا ذكر كركے ہميں جھنھوڑتا ہے-

وہ موت جيسى تلخ حقيقت كا ذكر كرتا ہے جو ہر ذى روح كا مقدر بننے والى ہے:
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ ﴿٣٠﴾ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ عِندَ رَ‌بِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ ﴿٣١...سورة الزمر
"يقيناآپ (ﷺ) نے بھى موت كا ذائقہ چكھنا ہے اور يہ سب (لوگ) بھى مرنے والے ہيں پھر تم قيامت كے دن اپنا مقدمہ اپنے ربّ كے سامنے پيش كروگے-"

قرآن ہميں موت كى گھڑيوں كے متعلق بتاتا ہے :
كَلَّآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلتَّرَ‌اقِىَ ﴿٢٦﴾ وَقِيلَ مَنْ ۜ رَ‌اقٍ ﴿٢٧﴾ وَظَنَّ أَنَّهُ ٱلْفِرَ‌اقُ ﴿٢٨...سورة القیامة
"ہرگز نہيں جب رُوح ہنسلى تك پہنچ جائے گى اور كہا جائے گا كہ كوئى جھاڑ پھونك كرنے والا ہے؟ اور اسے يقين ہوجائے گاكہ وقت ِجدائى آن پہنچا-"

اور فرمايا:
وَجَآءَتْ سَكْرَ‌ةُ ٱلْمَوْتِ بِٱلْحَقِّ ۖ ذَ‌ٰلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ ﴿١٩...سورة ق
"موت كى سختى يقينا پيش آئے گى، يہى ہے جس سے تو بدكتا پھرتا تھا-"

قرآن اس دن سے ڈراتا ہے جس دن ہمارى موت واقع ہوجائے گى اور اس دن سے بھى جب ہميں ہمارى قبروں ميں ركھ ديا جائے گا:
يَوْمَ يَخْرُ‌جُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ سِرَ‌اعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ ﴿٤٣﴾ خَـٰشِعَةً أَبْصَـٰرُ‌هُمْ تَرْ‌هَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَ‌ٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلَّذِى كَانُوا يُوعَدُونَ ﴿٤٤...سورة المعارج
"جب يہ اپنى قبروں سے نكل كر اس طرح دوڑے جارہے ہوں گے ،جيسے اپنے بتوں كے استہانوں كى طرف دوڑ رہے ہوں - ان كى آنكھيں جھكى ہوئى ہوں گى ، ان پر ذلت چھا رہى ہوگى -يہ ہے وہ دن جس كا ان سے وعدہ كيا جاتا تھا-"

قرآن قيامت كے دن كى ہولناكياں بيان كرتا ہے :
يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْ‌ضُ غَيْرَ‌ ٱلْأَرْ‌ضِ وَٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتُ ۖ وَبَرَ‌زُوا لِلَّهِ ٱلْوَ‌ٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ‌ ﴿٤٨﴾...سورة ابراہیم
"اس دن زمين و آسمان بدل كر كچھ كا كچھ كرديے جائيں گے اور سب كے سب واحد قہار كے رُوبرو پيش ہوں گے-"

اورفرمايا:
إِذَا نُفِخَ فِى ٱلصُّورِ‌ نَفْخَةٌ وَ‌ٰحِدَةٌ ﴿١٣﴾ وَحُمِلَتِ ٱلْأَرْ‌ضُ وَٱلْجِبَالُ فَدُكَّتَا دَكَّةً وَ‌ٰحِدَةً ﴿١٤﴾ فَيَوْمَئِذٍ وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُ ﴿١٥﴾ وَٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَهِىَ يَوْمَئِذٍ وَاهِيَةٌ ﴿١٦﴾ وَٱلْمَلَكُ عَلَىٰٓ أَرْ‌جَآئِهَا ۚ وَيَحْمِلُ عَرْ‌شَ رَ‌بِّكَ فَوْقَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَمَـٰنِيَةٌ ﴿١٧﴾ يَوْمَئِذٍ تُعْرَ‌ضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنكُمْ خَافِيَةٌ ﴿١٨...سورة الحاقة
"اور جب ايك دفعہ صور پھونكا جائے گا، زمين اور پہاڑوں كو اُٹھا كر ايك چوٹ ميں ريزہ ريزہ كرديا جائے گا، پيش آنے والا واقعہ (قيامت) پيش آجائے گا، آسمان پہٹ جائے گا اور اس دن بالكل بودا ہوجائے گا- اس كے اَطراف ميں فرشتے ہوں گے، اور آٹھ فرشتے تيرے ربّ كے عرش كو اُٹھائے ہوئے ہوں گے، يہ وہ دن ہوگا جب تم سب لوگ پيش كئے جاؤ گے اور تمہارا كوئى راز پوشيدہ نہيں رہے گا-"

قرآن ہميں بتا تا ہے كہ تمہارے ہر قول و عمل كى نگرانى ہو رہى ہے ، فرمانِ الٰہى:
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَ‌قِيبٌ عَتِيدٌ ﴿١٨...سورة ق
"كوئى لفظ انسان كى زبان سے نہيں نكلتا جسے محفوظ كرنے كے لئے نگہبان موجود نہ ہو-"

اور فرمايا:
وَوُضِعَ ٱلْكِتَـٰبُ فَتَرَ‌ى ٱلْمُجْرِ‌مِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَـٰوَيْلَتَنَا مَالِ هَـٰذَا ٱلْكِتَـٰبِ لَا يُغَادِرُ‌ صَغِيرَ‌ةً وَلَا كَبِيرَ‌ةً إِلَّآ أَحْصَىٰهَا ۚ وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرً‌ا ۗ وَلَا يَظْلِمُ رَ‌بُّكَ أَحَدًا ﴿٤٩...سورة الکھف
"اور نامہ اعمال سامنے ركھ ديا جائے گا- اس وقت تم ديكہو گے كہ مجرم لوگ اپنى كتاب ِزندگى كے اندراجات سے خوفزدہ ہورہے ہوں گے اور كہہ رہے ہوں گے: ہائے ہمارى بدبختى! يہ كيسى كتاب ہے- ہمارى كوئى چھوٹى بڑى حركت ايسى نہيں جو اس ميں مندرج نہ ہو اور جو كچھ بھى وہ كرتے رہے، اس ميں موجود پائيں گے اور تيرا ربّ كسى پر ظلم نہيں كرے گا-"

اور فرمايا:

وَكُلَّ إِنسَـٰنٍ أَلْزَمْنَـٰهُ طَـٰٓئِرَ‌هُۥ فِى عُنُقِهِۦ ۖ وَنُخْرِ‌جُ لَهُۥ يَوْمَ ٱلْقِيَـٰمَةِ كِتَـٰبًا يَلْقَىٰهُ مَنشُورً‌ا ﴿١٣﴾ ٱقْرَ‌أْ كِتَـٰبَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ ٱلْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا ﴿١٤...سورة اسراء

"ہم نے ہر انسان كى برائى بھلائى كو اس كے گلے ميں لٹكا ركھا ہے اور قيامت كے روز ہم اس كے سامنے اس كا نامہ اعمال نكاليں گے جسے وہ كھلى كتاب كى طرح پائے گا-"
وہ يومِ حشر كى ہولناكيوں سے آگاہ كرتا ہے اور بتاتا ہے كہ
أَصْحَـٰبُ ٱلْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ‌ مُّسْتَقَرًّ‌ا وَأَحْسَنُ مَقِيلًا ﴿٢٤...سورة الفرقان
"اس دن جنتيوں كا بہتر ٹھكانہ ہوگا اور خواب گاہ بھى عمدہ ہوگى-"

اے حى قيوم ذات ، اے سب سے بڑھ كر رحم كرنے والے ربّ ! ہميں اپنے عذاب سے آزاد فرما دے- اے ربّ العالمين !ہمارى لغزشوں سے درگزر فرما- اللہ تيرے يہ بندے آج كے عظيم دن اور عظيم مقام پر جمع ہوكر تيرے سامنے اپنى محتاجى، فقيرى اور عجز و انكسارى كا اعتراف كرتے ہوئے تيرى رحمت كا سوال كرتے ہيں - اے اللہ !ہمارے گناہوں سے صرف نظر كرتے ہوئے اپنى مغفرت سے ہميں نواز دے-اے اللہ ! ہمارے آبا كو بخش دے، ہمارى ماؤں كو بخش دے، ہمارى اولادوں كى اصلاح فرما-مسلمانوں كو خير پرمتحد كردے- اُنہيں عزت عطا فرما-ان كى كمزروى كو قوت ميں بدل دے-ان كى بكھرى ہوئى جماعتوں كو خيرپر مجتمع كردے- اے اللہ ! ان كو بہترين حاكم نصيب فرما-اے ہمارے ربّ!ہميں اور ہمارے ان موٴمن بھائيوں كو بخش دے جو ہم سے پہلے گزر چكے اور ہمارے دلوں ميں ايمان والوں كے لئے بغض نہ ڈالنا ،بے شك تو رؤف رحيم ہے-


حوالہ جات
1. صحيح بخارى:4981
2.  صحيح بخارى:4905،اسباب نزول للواحدى ص ١١٢
3. صحيح مسلم:1920
4.  صحيح بخارى:440، صحيح مسلم:1679

 


 

i. لیکن دوسری طرف مسلم ممالک میں نام نہاد دانشور طبقہ مغربی تہذیب کی چکا چوند سے مرعوب ہو کر اسلامی تعلیمات کا ایک ایسا حلیہ تیار کرنے میں کوشاں ہے جو مغرب کے لئے قابل قبول ہو۔


ii. توجہ طلب امر یہ ہے کہ میدانِ عرفات سے تو شریعت کے نظامِ عدل کو قائم کرنے کی صدا بلند ہورہی ہے اور ہمارے حکمران مغرب کی خوشنودی کے لئے ان کو معطل یا غیرمؤثر کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔میدانِ عرفات سے تو اسلامی ثقافت کے احیا پر اُنہیں توجہ دلائی جارہی ہے،لیکن ہمارے حکمران ملک میں مغربی ثقافت مثلاً میراتھن ریس، ویلنٹائن ڈے اور بسنت وغیرہ کو رواج دینا چاہتے ہیں ۔ ح م


iii. منبر حج سے تعلیم کا مقصد 'ذہنوں میں اسلامی عقائد کا رسوخ' بیان ہورہاہے اور ہمارے ہاں اسے بنیاد پرستی کی تعلیم قرار دے کر اصلاح کے نام پر مسلمانوں کے تعلیمی تقاضوں کومسخ کیا جارہا ہے۔ مکہ معظمہ سے یہ صدا بلند ہورہی ہے کہ اسلامی عقائد کی تعلیم اساتذہ کی ذمہ داری ہے اور ہمارے بعض اسلامی دانشور اسلامیات کی تعلیم کو نصاب سے خارج کرکے محض والدین کے رحم وکرم پر رکھ دینے کی انوکھی تجویزیں پیش کررہے ہیں ۔ یہاں تعلیم کا رشتہ مسلم ماضی سے جوڑنے کی باتیں ہورہی ہیں تاکہ مسلمانوں کی تابندہ روایات زندہ ہوسکیں اور قوم کا اپنے آپ پر اعتماد بحال ہوسکے لیکن ہمارے کرم فرما نصابِ تعلیم سے اسلامی تاریخ کو نکال کر ہندو راجائوں اور تہذیبوں کو شامل کرکے ہمارا ماضی غیرمسلموں سے جوڑنے اور قوم کی دینی اساس کو مٹانے پر تلے بیٹھے ہیں ۔
iv. مسلم میڈیا کا فرض ہے کہ وہ اسلام کا داعی بنے نہ کہ اسلام مخالف افکار ونظریات کا نمائندہ ہو، ایسے ہی قوم میں اچھی عادات اور حسن اخلاق کو ترویج دینا اس کا مشن ہونا چاہئے لیکن پاکستان کا مسلم میڈیا کیا یہ دونوں اسلامی ذمہ داریاں ادا کررہا ہے یا اس کے برعکس غیرمسلموں کا آلہ کار بن کرقوم کو عشق ومستی اور ناچ گانے کارسیا بنانے میں پیش پیش ہے۔ہمارے بعض چینل غیروں کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے قوم کو تباہ کرنے پر تلے بیٹھے ہیں اور قوم کے سنجیدہ فکر لوگ ان چینلز کی کارکردگی سے بخوبی آگاہ ہیں ۔ اسلام کے تقاضے اور ہیں اور ہمارے قومی رجحانات میڈیا کے ذریعے دوسری سمت موڑے جارہے ہیں پھر مسلمانوں کی بدحالی کا نوحہ کیوں کر؟
v. اس حوالے سے بھی پاکستان کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے، عورتوں کے حقوق کے نام پر زنان بازاری کے حقوق کا تحفظ کیا جارہا ہے اور مسلم خاتون کو اس کی اصل ذمہ داری چھڑوا کر شمع محفل بنانے کیلئے مغربی ایجنڈے کو پوری قوت سے نافذ کیا جارہا ہے۔ مغربی حقوقِ نسواں کے تصور کے فروغ کیلئے منعقد کی جانے والی کانفرنسوں کے اعلامیوں پر پاکستان نے دستخط کررکھے ہیں ،پھر اسلامی معاشرہ کا خواب کیونکر شرمندئہ تعبیر ہوسکتا ہو؟
vi. پورے عالم اسلام کی افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ اسلامی نظامِ معیشت دنیا بھر میں کہیں بھی نافذ العمل نہیں ۔سود، ٹیکس، بنک، جوا اور لاٹری وغیرہ نے دنیا بھر کی معیشت کو جکڑ رکھا ہے۔ اس بھیانک جرم میں جہاں مسلم عوام شریک ہیں ، وہاں دراصل مسلم حکومتیں اس ظالمانہ معیشت کو تبدیل نہ کرنے کی اصل مجرم ہیں ۔ سود کے خاتمے اور متبادلات کی کتنی ہی سکیمیں پاکستان کے مقتدر اداروں اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور تحقیقی اداروں کے پاس موجود ہیں لیکن کوئی حکومت بھی اس طرف سنجیدہ جدوجہد کے لئے آمادہ نہیں ان حالات میں اکثربنک غیراسلامی سکیموں کے اسلامی نام رکھ عوام کے دینی جذبے کا استحصال کررہے ہیں ۔ اس سلسلے میں سنجیدہ اور مسلسل جدوجہد کے بغیرغیراسلامی نظامِ معیشت سے چھٹکارا نہیں پایا جاسکتا۔
vii. مغرب کی مسلم علاقوں پر اپنا تسلط جمانے اور برقرار رکھنے کی یہ حکمت ِعملی روز روشن کی طرح واضح ہے کہ وہ وہاں کے مسلمانوں کو گروہوں میں تقسیم کرکے اور ان کے داخلی انتشار کو ہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد پورے کرتے ہیں ۔ افغانستان میں اگر شمالی اتحاد اور پاکستان سے اتحاد کے بل بوتے پر امریکہ نے اپنا اثر ورسوخ قائم کیا تو عراق میں شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دے کرامریکہ اپنے مقاصد پورے کررہا ہے۔ حال میں ہی صدام حسین کی پھانسی کو جس طرح امریکی پالیسی سازوں نے استعمال کیا ہے، اس سے امریکہ کے خلاف غصہ پیدا ہونے کی بجائے شیعہ سنی تصادم اور اختلافات کو مزید ہوا ملی ہے۔مسلمانوں کو باہم مل کر اپنے متحدہ دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا، وگرنہ مسلمانوں کی صفوں میں پیدا ہونے والا انتشار ان کی قوت کو کبھی مستحکم نہ ہونے دے گا۔