306- Jan 2007

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

خون، مال اور عزت کے تحفظ کا حق
انسان کے وہ بنیادی حقوق جو تمدنی زندگی میں انتہائی ضروری ہیں اور معاشرہ کا کوئی فرد بھی اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا، وہ یہ ہیں ؛ انسانی جان کا تحفظ، خون کا تحفظ، مال کا تحفظ، عزت کا تحفظ اور عقل کا تحفظ۔ اسلام نے انتہائی مؤثر تعلیمات کے ذریعے اور عملاً جس طرح انسان کے ان تمدنی حقوق کا تحفظ کیا ہے، دنیا کا کوئی مذہب اس کی ہم سری کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔ پھر اس سلسلہ میں اس نے مسلم، غیر مسلم، ملکی اور غیر ملکی کا کوئی فرق روا نہیں رکھا بلکہ ان حقوق میں دنیا کا ہر فرد اس کی نظر میں برابر ہے۔ اس کی نظر میں یہ سب حقوق اور حرمات معصوم ہیں ، کسی شرعی سبب کے بغیر ان کو توڑنا اور پامال کرنا حرام ہے۔ کسی کا خون بہانا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ حق دار اس کا مطالبہ نہ کرے۔ ہاں اگر وہ دوسروں کی جان ، عزت ،مال پر کوئی ناحق حملہ کرے تو گویا وہ خود اپنے حقوق کو کھو رہا ہے۔چنانچہ فرمایا:

قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّ‌مَ رَ‌بُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِ‌كُوا بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓاأَوْلَـٰدَكُم مِّنْ إِمْلَـٰقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْ‌زُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَ‌بُوا ٱلْفَوَ‌ٰحِشَ مَا ظَهَرَ‌ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّ‌مَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَ‌ٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ﴿١٥١...سورة الانعام
''اے نبیؐ! ان سے کہو کہ آؤ میں تم کو بتاؤں کہ اللہ نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ تم پر واجب ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، والدین سے نیک سلوک کرو، اپنی اولاد کو تنگدستی کے خوف سے قتل نہ کرو۔ ہم جہاں تم کو روزی دیتے ہیں وہاں ان کو بھی دیں گے، فواحش کے قریب مت پھٹکو، وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔ کسی ایسی جان کو ہلاک نہ کرو،جسے اللہ نے محترم قرار دیا ہے، سواے اس صورت کے کہ ایسا کرنا حق کا تقاضا ہو۔ اللہ نے تمہیں ان باتوں کی تاکید کی ہے، شاید کہ تم کو عقل آجائے۔''

اور فرمایا:
مِنْ أَجْلِ ذَ‌ٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ‌ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًا ۚ...﴿٣٢...سورة المائدة
''اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو یہ لکھ کردیا کہ جو کوئی کسی کی جان لے، بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا زمین میں فساد کیا ہو، تو گویا اس نے تمام انسانوں کا خون کیا اور جس نے کسی کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو بچایا، ہمارے رسول ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے ،مگر اس کے بعد بھی ان میں سے بہت ایسے ہیں جو زمین میں حد سے تجاوز کرجاتے ہیں ۔''

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے روز اپنے خطبہ میں فرمایا:
( إن دماء کم وأموالکم و أعراضکم علیکم حرام کحُرمة یومکم ھذا، في بلدکم ھذا،في شھرکم ھذا) 1
''تمہارے خون، تمہارے اَموال، تمہاری عزتیں تم پر حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن، تمہارے شہر میں اور تمہارے اس مہینہ مگ محترم ہے۔''
الفاظ کا یہ عموم واضح کرتا ہے کہ اس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں ، اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی ہے :
(من قتل نفسًا معاھدًا لم یرح رائحة الجنة وإن ریحھا لیـوجد من مسیرة أربعین عامًا) 2
''جس نے کسی ذمی معاہد کو ہلاک کیا، اسے جنت کی خوشبو بھی نصیب نہ ہوگی حالانکہ اس کی خوشبو چالیس سال کی مسافت تک محسوس کی جائے گی۔''

ان دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم کو کسی صورت میں بھی ناحق کوئی تکلیف پہنچانا جائز نہیں ہے، نہ اس کی عزت ومال پر دست درازی جائز ہے اور نہ ناحق اس کی جان لی جاسکتی ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ
''ایک مسلمان نے کسی ذمی شخص کو قتل کردیا، اس کا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ذمہ کو وفا کرنے کا سب سے زیادہ ذمہ دار میں ہوں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلے میں مسلمان کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔'' 3

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِخلافت میں قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرہ کے ایک ذمی کو قتل کردیا، اس پر آپ ؓنے حکم دیا کہ قاتل کو مقتول کے ورثا کے حوالے کردیا جائے، تاکہ وہ اسے قتل کردیں ، چنانچہ وہ مقتول کے ورثا کو دے دیا گیا اور اُنہوں نے اسے قتل کردیا۔ 4

حضرت علیؓ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس ایک مسلمان کو لایا گیا جس پر ایک ذمی کے قتل کا الزام تھا، ثبوت مکمل ہونے کے بعد آپؓ نے قصاص میں اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ مقتول کے بھائی نے آکر عرض کیا کہ میں نے خون معاف کیا۔ مگر آپ مطمئن نہ ہوئے اور فرمایا: شاید اُنہوں نے تمہیں ڈرایا دھمکایا ہے؟ اس نے کہا: نہیں ، ایسی بات نہیں ہے، مجھے خون بہا مل چکا ہے اور میں سمجھتا ہوں ، اس کے قتل سے میرا بھائی واپس نہیں آجائے گا۔ تب آپؓ نے قاتل کو رہا کر دیا اور فرمایا:
(أنت أعلم،من کانت له ذمّتنا فذمته کذمَّتنا ودیته کدیتنا)
'' تم جانتے ہو کہ جو کوئی ہمارا ذمی ہوا، اس کا خون ہمارے خون کی طرح اور اس کی دیت ہماری دیت کی طرح ہے۔''
ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا:
''إنما بذلوا الجزیة لتکون دمائهم کدمائنا وأموالھم کأموالنا'' 5
''اُنہوں نے جزیہ اس لئے خرچ کیا ہے کہ ان کے مال ہمارے مال کی طرح اور ان کے خون ہمارے خون کی طرح ہوجائیں ۔''
قاضی ابوبکر بن عمر بن حزم انصاری نے اس بنا پر ایک مسلمان آدمی کو قتل کرنے کا فیصلہ دیا کہ اس نے ایک ذمی کو دھوکہ سے قتل کردیا تھا۔ 6

اسلام میں جنگ کا تصور
غیر مسلموں کے حقوق کے سلسلہ میں سب سے زیادہ اسلام کے تصورِ قتال کو مطعون کیا جاتا ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے اگر اسلام میں جنگ کے مقاصد کو پیش نظر رکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس میں غیر مسلموں کی حق تلفی کا شائبہ بھی موجود نہیں ہے۔

اسلام نے جنگ کے لئے جہاد کا جامع اور مقدس لفظ استعمال کیا ہے ،کیونکہ اسلام میں جنگ نہایت اعلیٰ مقاصد کے لئے لڑی جاتی ہے۔ ذیل میں ہم وہ مقاصد بیان کریں گے جن کی رو سے جنگ نہ صرف جائز بلکہ اخلاقی فرض قرار پاتی ہے :

 ظلم و تعدی کا جواب :

جنگ کا ایک مقصد یہ ہے کہ ظلم و طغیان کو مٹا کر عدل و انصاف قائم کیا جائے اور مظلوموں کو ظالموں کے ظلم سے نجات دلائی جائے کہ ان کی جڑ کٹ جائے اور بندگانِ خدا کو امن واطمینان سے زندگی بسر کرنے کا موقع مل سکے۔ چنانچہ اللہ کا فرمان ہے:
وَقَـٰتِلُوا فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ٱلَّذِينَ يُقَـٰتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوٓا ۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْمُعْتَدِينَ ﴿١٩٠...سورة البقرة
''جو لوگ تم سے لڑائی کررہے ہیں ، اللہ کی راہ میں تم بھی ان سے لڑو، البتہ کسی طرح کی زیادتی نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ ا ن لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو زیادتی کرنے والے ہیں ۔''

نیز فرمایا:
ٱلشَّهْرُ‌ ٱلْحَرَ‌امُ بِٱلشَّهْرِ‌ ٱلْحَرَ‌امِ وَٱلْحُرُ‌مَـٰتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَٱعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا ٱعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَٱتَّقُواٱللَّهَ وَٱعْلَمُوٓاأَنَّ ٱللَّهَ مَعَ ٱلْمُتَّقِينَ ﴿١٩٤...سورة البقرة
''ماہِ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا، لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اس پر دست درازی کرو، البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے جو اس سے ڈرتے ہیں ۔''

 دغا بازی اور عہد شکنی کی سزا

اسلام میں جنگ کا دوسرا مقصد ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے جو مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنے کے بعد تمام تر عہدوپیمان کو پس پشت ڈال کربغاوت کی روش اختیار کرتے ہیں ۔چنانچہ فرمانِ الٰہی ہے:
وَإِن نَّكَثُوٓاأَيْمَـٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوافِى دِينِكُمْ فَقَـٰتِلُوٓا أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ‌ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَـٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ ﴿١٢...سورة التوبہ
''اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو، کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں ۔ شاید وہ اس طرح باز آجائیں ۔''

 لوگوں کو راہِ حق سے روکنے والوں کے خلاف :

اسلام میں جنگ کا ایک مقصد ان راہزنوں کی سرکوبی کرنا ہے جو بندگانِ خدا کو راہِ حق (اسلام) پر چلنے سے زبردستی ہٹاتے ہیں ، یا اُن کے راستے میں کانٹے بچھاتے ہیں یا دوسروں کو اس راہِ خدا کی طرف آنے سے زبردستی روکتے ہیں یا حق کی دعوت کو لوگوں تک پہنچانے میں رکاوٹ بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے خلاف جنگ کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
وَقَـٰتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ ٱلدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ ٱنتَهَوْافَلَا عُدْوَ‌ٰنَ إِلَّا عَلَى ٱلظَّـٰلِمِينَ ﴿١٩٣...سورة البقرة
''اس وقت تک ان سے لڑتے رہو جب تک فتنہ ختم نہ ہوجائے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے پھر اگر وہ باز آ جائیں تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی روا نہیں ۔ ''

 ظلم کا خاتمہ اور مظلوموں کی حمایت :

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَمَا لَكُمْ لَا تُقَـٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَٱلْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ ٱلرِّ‌جَالِ وَٱلنِّسَآءِ وَٱلْوِلْدَ‌ٰنِ ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَآ أَخْرِ‌جْنَا مِنْ هَـٰذِهِ ٱلْقَرْ‌يَةِ ٱلظَّالِمِ أَهْلُهَا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَٱجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرً‌ا ﴿٧٥...سورة النساء
''اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ اللہ کی راہ میں ان کمزور مردوں ،عورتوں اور بچوں کے لئے جنگ نہیں کرتے جو کہہ رہے ہیں : اے ہمارے رب! !ہمیں اس بستی سے نکال،جہاں کے لوگ نہایت ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے کسی کو حامی اور اپنی طرف سے کسی کو مددگار بنا۔''

ایک ہندوستانی مفکر بی جی روڈرک اسلام کے اس مقصد ِ جہاد کو بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے:
''اسلام نے اپنے پیغمبر کو صرف ظلم و ستم کے خاتمہ اور ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے لئے جہاد کا حکم دیا ہے جو دعوتِ اسلام کے سامنے چٹان بن کر کھڑی ہوگئی ہیں لیکن وہ بزورِ شمشیر کسی کو اپنی حقانیت کا اقرار کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ وہ صرف لوگوں کو اپنے سایۂ عاطفت میں آنے کی دعوت دیتا تھا اور اس کے بعد اسے اختیار کرنے پر مکمل آزادی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی شخص حلقہ بگوش اسلام ہوجاتا ہے تو پھر وہ اس کو مضبوطی سے تھام لیتا ہے اور اس کے دفاع میں اپنی جان بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، سلامتی اللہ کے ساتھ اور سلامتی تمام کائنات کے ساتھ۔'' 7

جس طرح اسلام نے غیر مسلموں کی جان اور خون کا تحفظ کیا ہے، اسی طرح ان کی جائیداد و اَموال کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا ہے، لہٰذا وہ ان کا مال چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹنے، ان کا مال چھیننے والے پرتعزیر عائد کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ اور ان سے قرض لینے والے کے لئے اسے واپس کرنا ضروری قرار دیتا ہے اور واپس کرنے میں لیت و لعل کرنے والے کو سزا دیتا ہے ۔ داعی اسلامؐ کے متعدد ارشادات موجود ہیں جن میں غیر مسلموں کے اَموال پر دست درازی کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔

چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
(ألا لا تحل أموال المعاهدین إلا بحقھا) 8
''خبردار! غیر مسلم معاہدین کے مال پر ناحق دست درازی حلال نہیں ہے۔''

صعصعہ بن معاویہ نے حضرت ابن عباس ؓسے سوال کیا کہ ہم ذمیوں کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ہمارے لئے مرغی یا بکری وغیرہ ذبح کرکے ہماری مہمانی کرتے ہیں ۔ ابن عباسؓ نے پوچھا :اس بارے میں تمہارا کیاخیال ہے ؟ میں نے کہا :ہم تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ تو عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا:

''ھذا کما قال أھل کتاب {لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الْأُمِّيِّينَ سَبِيلٌ} إنھم إذا أدّوا الجزیة لم تحل لکم أموالھم إلا بطیب أنفسھم 9
''تم نے بھی وہی بات کی ہے جو اہل کتاب دوسروں لوگوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ ''اُمیوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے۔''جب وہ جزیہ ادا کردیں تو پھر ان کی رضا مندی کے بغیر ان کا مال تمہارے لئے حلال نہیں ہے۔ ''

تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ احمد بن طولون کا ایک کمانڈر مصر کے کسی شہر کا گورنر تھا۔ ایک عیسائی راہب احمد بن طولون کے دربار میں اس کے ظلم کی شکایت لے کر آیا۔ دربار کادربان جو اس کمانڈر کا تعلق دار تھا، اس نے اس سے پوچھا: تجھے کیا شکایت ہے؟ راہب نے جواب دیا: اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور میرے تین سو دینار غصب کئے ہیں ۔دربان نے کہا: تو شکایت نہ کر، تین سو دینار میں تجھ کو ادا کردیتا ہوں ۔ وہ راہب کو اپنے گھر لے گیا اور تین سو دینار اس کے حوالے کردئیے۔ راہب نے اسی کو غنیمت سمجھا اور لے کر چلا گیا ۔

احمد بن طولون کو واقعہ کی اطلاع مل گئی، اس نے کمانڈر، دربان اور راہب، تینوں کو دربار میں طلب کیا۔ کمانڈر سے پوچھا: کیا تیری ضروریات پوری نہیں کی جاتیں ؟کیا تجھے خوش حالی اور رزق میں کشادگی میسر نہیں ہے؟ اور کوئی ایسا محرک بھی نہیں ہے جو تجھے دست ِظلم دراز کرنے پر برانگیختہ کرے۔ پھر کس چیز نے تجھے ایسا کرنے پر اُکسایا؟ اس کے بعد احمد بن طولون نے کمانڈر اور دربان دونوں کوان کے عہدوں سے معزول کردیا۔ اس کے بعد عیسائی راہب کو بلایا اور اس سے پوچھا: اس نے تجھ سے کتنے دینار لئے تھے؟ اس نے بتایا: تین سو دینار۔ ابن طولون نے کہا: تیرا برا ہو، تین ہزار دینار کیوں نہیں کہتا، جتنے کہو گے اتنے لے کر دوں گا۔اس کے بعد کمانڈر کے مال سے اُتنے دینار لے کر راہب کو دے دئیے ۔ 10

اس کے علاوہ اسلام نے غیر مسلموں کی عزتوں کے تحفظ میں بھی کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی، ان سے تکالیف کو دور کرنا واجب قرار دیا، ان کی غیبت کو حرام ٹھہرایا ،کیونکہ جزیہ و اطاعت کے کے عوض مسلمان ان کے حقوق کی حفاظت کا معاہدہ کرچکے ہیں ۔ اُنہیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ، جیسا کہ ابن عابدین ) رحمة اللہ علیہ نے اس کی وضاحت کی ہے۔11بلکہ اُنہوں نے مزید لکھا ہے:

''إنه بعقد الذمة وجب له ۔ أي للذمي ۔ ما لنا۔ فإذا حرمت غیبة المسلم حرمت غیبته،بل قالوا: إن ظلم الذمي أشد'' 12
''ان کے لئے وہی کچھ واجب ہے جو ہمارے لئے ہے۔ پس جب کسی مسلمان کی غیبت کرنا حرام ہے تو ذمی کی غیبت بھی حرام ہے ،بلکہ ذمی پر ظلم کرنا زیادہ سخت جرم ہے۔''
عبداللہ بن وہب) رحمة اللہ علیہ جو امام مالک) رحمة اللہ علیہ کے شاگرد ہیں ، ان سے نصرانی کی غیبت کرنے کے بارے میں سوال ہوا تو اُنہوں نے فرمایا:
''أولیس من الناس قالوا: بلی۔قَال فإن اﷲ عزوجل یقول:وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا...سورة البقرة
''کیا وہ انسان نہیں ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں ، فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: لوگوں سے اچھی بات کہو۔'' 13

اور یہ حقوق صرف ہم وطن غیر مسلموں کو ہی حاصل نہیں ہیں بلکہ ان غیر مسلموں کو بھی یہ حقوق برابر حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کی پناہ اختیار کرچکے ہیں ۔انہیں اَمن و سکون مہیا کرنا ان کی حفاظت و حمایت کرنا اور انہیں اپنی رعایاجیسا حق دینا مسلمانوں پر فرض ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ ٱسْتَجَارَ‌كَ فَأَجِرْ‌هُ حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَـٰمَ ٱللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُۥ ۚ ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ ﴿٦﴾...سورة التوبہ
''اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے تو اسے پناہ دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر تم اسے اس کی جاے امن تک پہنچا دو۔یہ اس لئے کرنا چاہئے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔''
اور پھرغیرمسلموں کو پناہ دینے کایہ حق کسی مخصوص طبقہ کے لئے نہیں ہے، بلکہ ہر مسلمان کویہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی غیرمسلم کو پناہ دے ۔

چنانچہ حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(ذمة المسلمین واحدة،یسعی بھا أدناھم،فمن أخفر مسلما فعلیه لعنة اﷲ والملائکة والناس أجمعین۔ لا یقبل اﷲ منه یوم القیمة صرفًا ولا عدلاً ) 14
''غیر مسلم کو امان دینے میں سب مسلمان برابر ہیں ۔ ان کا ادنیٰ ترین شخص بھی اس کے لئے کوشش کرسکتا ہے۔ اورجس نے کسی مسلمان کے ذمہ کو توڑا، اس پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو، روزِقیامت اللہ تعالیٰ اس کی کوئی فرضی و نفلی عبادت کو قبول نہ کرے گا۔''
نیز فرمایا:

( ویجیر علی المسلمین أدناھم) 15
''ایک ادنیٰ مسلمان بھی غیر مسلم کو پناہ دے سکتا ہے۔''

چنانچہ جب صحابیہ رسول ا مّ ہانی ؓبنت ِابی طالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی:اے اللہ کے رسولؐ! میں ہبیرہ کے فلاں بیٹے کو پناہ دے چکی ہوں اور میرا بھائی علیؓ کہتا ہے کہ میں اس آدمی کو قتل کروں گا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( قد أجرنا من أجرتِ یا أمّ هاني)
''اے اُمّ ہانی جس کو تم نے پناہ دی، ہم بھی اس کو پناہ دیتے ہیں ۔'' 16
الغرض دین ِاسلام کے مخالفین جو امن و امان کے طلبگار ہوں ، اُنہیں امن و پناہ مہیا کرنا، پھراس پناہ کو توڑنے پر سخت وعید سنانا اور اس پناہ کے تحفظ کی ضرورت پر سخت زور دینا، امن امان دینے کا معاہدہ کرنے کے بعد ان پر کسی طرح کی زیادتی روا رکھنے کو سختی سے روکنا، اسلام کے وہ مناقب ہیں جن کا اس دین ِحنیف کے علاوہ کسی اور مذہب میں وجود محال ہے۔

 ظلم سے بچاؤ اور تحفظ کا حق 17

اسلامی حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ غیر مسلموں کو ان کے علاقہ میں ان تمام بیرونی دشمنوں سے تحفظ فراہم کرے جو اُنہیں نقصان پہچانا چاہتے ہیں اور یہ وہ تمدنی حق ہے جس میں کوتاہی کو اسلام نے برداشت نہیں کیا،کیونکہ غیر مسلموں کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہیں ، بلکہ تمام مصائب سے ان کا دفاع کرنا، ان کے تحفظ کی خاطر قتال کرنا اور دشمنوں سے ان کے قیدیوں کو چھڑانا مسلمانوں پر لازم ہیں ،کیونکہ وہ اس کے عوض جزیہ ادا کرتے ہیں ۔

امام ابن حزم ؓنے مراتب الاجماع میں اس امر کی صراحت کی ہے کہ
''أن من کان في الذمة وجاء أھل الحرب إلی بلادنا یقصدونه وجب علینا أن نخرج لقتالھم بالکراع والسلح ونموت دون ذلك صونًا لمن ھو في ذمة اﷲ وذمة رسوله فإن تسلیمه دون ذلك إھمال لعقد الذمة'' 18
''اگر کوئی شخص مسلمانوں کا ذمی ہے اور دشمن جنگجو ہمارے علاقہ میں آکر اس کو پکڑنا چاہتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلحہ سے لیس ہوکر ان کے خلاف لڑنے کے لئے نکلیں اور اس شخص کی حفاظت کی خاطر اپنی جان دے دیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے ذمہ میں ہے۔ اس کو دشمنوں کے حوالے کرنا اس عقد ِذمہ کو توڑنے اور پس پشت ڈالنے کے مترادف ہوگا۔''

تاریخ کے صفحات میں متعدد واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مسلمانوں نے کس قدر جگر سوزی کے ساتھ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ کیا ۔اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی کیا جاسکتا ہے جو امام ابویوسف ) رحمة اللہ علیہ نے کتاب الخراجمیں نقل کیا ہے۔ لکھتے ہیں کہ
'' لشکر ِاسلام کے سپہ سالار جلیل القدر صحابی حضر ت ابوعبیدہؓ بن الجراح نے شام کو فتح کرلیا اور اہل شام نے جزیہ دینے پر صلح کرلی۔ جب اہل ذمہ نے مسلمانوں کی وفاشعاری اور حسن سیرت کو دیکھا تو وہ مسلمانوں کے دشمنوں کے خلاف ان کے مددگار اور اعداے مسلمین کے سخت مخالف بن گئے۔اُنہوں نے اپنے بندے مقرر کئے جو رومیوں کی جاسوسی کرتے تھے اور ان کی خبریں مسلمانوں تک پہنچاتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کیا تیاری کررہے ہیں ؟ اُنہوں نے خبر دی کہ رومیوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک بہت بڑا لشکر جمع کرلیا ہے۔ ہر شہر کے رؤسا وہاں ابوعبیدہ بن الجراحؓ کے مقرر کردہ امیر کے پاس آئے اور ساری صورتِ حال ان کے گوش گزار کردی۔ اُمرا نے ابوعبیدہ بن الجراح ؓکو صورت حال سے آگاہ کیا اور ہر طرف سے ابوعبیدہ ؓکے پاس یہ خبریں پہنچنے لگیں کہ رومیوں نے مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر جرار جمع کرلیا ہے۔ حالات سنگین صورت اختیار کر رہے تھے۔ ابوعبیدہ ؓنے رومیوں کے مقابلہ میں اپنی فوجوں کو ایک مرکز پر جمع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ لہٰذا اُنہوں نے شام کے تمام مفتوحہ علاقوں کے والیوں کو لکھا کہ اہل ذمہ سے تم نے جو جزیہ اور خراج وصول کیا ہے، اُنہیں واپس کردو اور ان سے کہو: رومیوں کا لشکر ِجرار ہمارے خلاف جمع ہوچکا ہے۔ ان حالات میں ہم تمہاری حفاظت نہیں کرسکتے، لہٰذا وہ مال تمہیں واپس کرتے ہیں جو تمہاری حفاظت کے معاوضہ میں تم سے وصول کیا تھا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے سرفراز کیا تو ہم اسی معاہدئہ صلح پر باقی رہیں گے جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہوچکا ہے ۔یہ کہہ کر جب مسلمانوں نے ان کا تمام مال اُنہیں واپس کردیا تو انہوں نے مسلمانوں کا یہ عدل اور حسن سلوک دیکھ کر کہا : اللہ تمہیں فتح یاب کرے اور ہمارے پاس واپس لائے، اگر یہاں رومی ہوتے تو وہ ہمیں کچھ بھی واپس نہ کرتے،بلکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ بھی چھین لیتے اور ایک پائی بھی ہمارے پاس نہ چھوڑتے۔ پھر رومیوں اور مسلمانوں کی فوجیں آمنے سامنے ہوئیں ، گھمسان کا رن پڑا، دونوں فوجوں کے ہزاروں آدمی مارے گئے اور آخر اللہ نے مسلمانوں کوفتح عطا فرمائی۔جن شہروں کے باشندوں نے ابوعبیدہ ؓ سے صلح نہیں کی تھی، اُنہوں نے اپنے رومی ہم مذہبوں کا یہ حال دیکھ کر ابوعبیدہ سے صلح کی درخواست کی۔ آپؓ نے سابقہ دستور کے مطابق اُنہیں صلح کا پروانہ دے دیا، البتہ ان لوگوں نے اضافی یہ شر ط عائد کی کہ وہ رومی باشندے جو مسلمانوں کے خلاف لڑنے آئے تھے اور اب ان کی قید میں ہیں ، اُنہیں امن دے کر ان کے مال و متاع ، اہل و عیال کے ساتھ واپس روم لوٹنے کی اجازت دے دی جائے اور اس سلسلہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ ابوعبیدہؓ نے ان کی یہ شرط مان لی۔اس کے بعد اُنہوں نے جزیہ ادا کردیا اور مسلمانوں کے لئے اپنے شہروں کے دروازے کھول دیے۔

ابوعبیدہؓ وہاں سے واپس پلٹے، راستہ میں جس شہر سے گزرتے اس کے باشندے اپنے رؤسا کو بھیج کر صلح کے طلب گار ہوتے ۔آپؓ سابقہ دستور کے مطابق صلح کا معاہدہ لکھ دیتے اور جب ان شہروں سے گزرتے جنہوں نے رومیوں کے ساتھ جنگ سے پہلے ہی صلح کرلی تھی اور آپ نے ان کا جزیہ اور خراج واپس کردیا تھا، تو وہ جزیہ اور خراج کی وہ رقم لے کر حاضر ہوجاتے۔ لوگ گرجوں ، عبادت گاہوں اور بازاروں سے نکل کر آپ کااستقبال کررہے تھے۔پس آپؓ نے صلح کی سابقہ شرائط کو برقرار رکھا اوران میں کوئی کمی بیشی نہیں کی۔'' 19

غیر مسلموں کی حمایت اور تحفظ کی ایسی بے شمار مثالیں ہیں جن کے نقوش ابھی تک تاریخ کے چہرہ پر ثبت ہیں ۔مشہور واقعہ ہے کہ جب تاتاری شام پر غالب آگئے ۔بہت سے مرد، عورتیں قیدی بنا لئے گئے ۔یہ حال دیکھ کر ابن تیمیہ ) رحمة اللہ علیہ نے تاتاری بادشاہ قازان سے ملاقات کی اور قیدیوں کی رہائی کے سلسلہ میں اس سے گفتگو کی۔ اس پر تاتاری کمانڈر نے صرف مسلمان قیدیوں کو چھوڑنے پر رضا مندی ظاہر کی اور ذمی قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا، مگر ابن تیمیہ) رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
''لا نرضی إلا بافتکاك جمیع الآسارٰی من الیهود والنصارٰی،فھم أھل ذمتنا ولا ندع أسیرا،لا من أھل الذمة ولا من أھل الملة، فلما رأیٰ إصرارہ و تشدّدہ أطلقھم له'' 20
''ہم یہودی و عیسائی تمام قیدیوں کو چھوڑے بنا راضی نہیں ہوسکتے،کیونکہ ہم نے ان کی حفاظت کا عہد کررکھا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے نہ کسی ذمی کو قید میں چھوڑ سکتے ہیں اور نہ اپنے کسی ہم ملت کو ۔ تاتاری بادشاہ نے جب آپ کا مسلسل اصرار دیکھا تو اس نے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا۔''

خلیفہ واثق باللہ نے 231ھ میں ان تمام مسلمان اور ذمی قیدیوں کا فدیہ اداکر کے اُنہیں رہا کروایاتھا جو رومیوں کی قید میں تھے۔ 21
مذکورہ دلائل یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ بیرونی حملہ آور ظالموں سے غیر مسلم ذمیوں کی حفاظت بہرحال ضروری ہے تو اس سے یہ بات بالاولیٰ ثابت ہوجاتی ہے کہ داخلی اور ملکی ظلم و زیادتی سے غیر مسلموں کو بچانا اسلام کی رو سے اور بھی ضروری ہے۔امام ماوردی) رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''ویُلتزم لھم ۔ یعني أھل الذمة ۔ ببذل الجزیة حقان : أحدھما،الکف عنھم والثاني:الحمایة لھم،لیکونوا بالکف آمنین وبالحمایة محروسین''
''اہل ذمہ جو جزیہ ادا کرتے ہیں ، اس کے عوض ان کے لئے دو حق لازم ٹھہرتے ہیں : ایک، ان پر ظلم کرنے سے باز رہنا اور دوسرا، ان کی طرف بڑھنے والا ظلم کا ہاتھ روکنا، ان کی حمایت اور دفاع کرنا تاکہ وہ مامون و محفوظ ہوجائیں ۔'' 22

مسلمانوں کا اُنہیں اپنی حمایت سے محروم کردینا ان پر سخت ظلم ہے اور دین اسلام ظلم کی تمام انواع کے خلاف جنگ کرنے کا داعی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَن يَظْلِم مِّنكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيرً‌ا ﴿١٩...سورة الفرقان
''جو تم میں سے ظلم کرے گا، ہم اُنہیں بہت بڑے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔''

حدیث ِقدسی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں :
یا عبادي إني حرَّمتُ الظلم علی نفسي وجعلته بینکم محرماً فلا تظالموا 23
''اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر حرام کردیا ہے کہ کسی پر ظلم کروں ، اور میں تمہارے درمیان بھی اس کو حرام ٹھہراتا ہوں ، لہٰذا آپس میں ایک دوسرے پر ظلم نہ کرنا۔''

اور خلیفة المسلمین کا یہ فرض ہے کہ وہ ذمیوں سے کئے گئے معاہدوں کو پورا کرنے میں حریص ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذمی کو تکلیف دینا خود اپنے کو اور اللہ تعالیٰ کو تکلیف دینے کے مترادف قرار دیا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
(من آذیٰ ذمیا فقد آذاني ومن آذاني فقد آذی اﷲ) 24
''جس نے کسی ذمی کو تکلیف دی، یقینا اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی ، اس نے یقینا اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔''

نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من آذی ذمیًّا فأنا خصمه،ومن کنت خصمه خصمته یوم القیمة) 25
''جس نے کسی ذمی کو تکلیف دی، میں اس کے خلاف وکیل ہوں ۔ جس کے خلاف میں وکیل بن گیا تو پھر روز قیامت بھی میں اس کے خلاف وکالت کروں گا۔''

اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :
(ألا من ظلم معاهدًا أو کلَّفه فوق طاقته أو أخذ شیئًا بغیر طیب نفس منه فأنا حجیجه یوم القیمة) 26
''جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کی طاقت سے بڑھ کر اس پر بار ڈالا یا اس کی رضا مندی کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو میں اس کے خلاف روزِ قیامت جھگڑا کروں گا۔''

ان روایات کے تناظر میں یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اہل الذمہ کو ہرچھوٹے بڑے ظلم سے بچانا اور ان کی حمایت کرنا فرض ہے، چنانچہ امام قرافی ) رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''إن عقد الذمة یوجب حقوقًا علینا لھم،لإنھم في جوارنا وفي خفارتنا وذمة اﷲ تعالیٰ و ذمة رسوله(ﷺ) و دین الإسلام،فمن اعتدی علیھم، ولو بکلمة سوء أو غیبة في عرض أحدھم، أو نوع من أنواع الأذیة أو أعان علی ذلك فقد ضیّع ذمة اﷲ تعالیٰ وذمة رسولﷺ وذمة الإسلام''
''عقد ِذمہ ہمارے اوپر ذمیوں کے بہت سے حقوق واجب کردیتا ہے ،کیونکہ وہ ہماری پناہ اور حفاظت میں ہیں ، نیز اللہ، اس کے رسولؐ اور دین اسلام کی ذمہ داری میں ہیں ۔ جس نے ان پر زیادتی کی، خواہ کوئی ناروا بات کی یا اس کی غیبت کر کے اس کی عزت کو داغدار کیا یا اسے کسی بھی نوعیت کی اذیت سے دوچار کیا یا اس کے خلاف کسی کی مدد کی تو یقینا اس نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسولؐ اور اسلام کی ذمہ داری کو پامال کردیا۔'' 27

غیر مسلموں کے حقوق کے تحفظ کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو کہ ایک عام مسلمان آدمی نے بھی اگر کسی ذمی پر ظلم ہوتے دیکھا تو ازالہ کی ہر ممکن کوشش کی، جیساکہ عامر بن عبداللہ عنبری کے متعلق آتا ہے کہ ایک دفعہ وہ ایک سواری پر سفر کررہے تھے، دیکھا کہ بادشاہ کے ایک کارندے نے ایک ذمی کو پکڑ رکھا ہے28 ناور اسے دارالإمارة کی طرف کھینچ رہا ہے اور ذمی اس سے فریاد کررہا ہے ۔ عامر نے جب دیکھا تو اس کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا :میں اس کو دارالامارة میں جھاڑو دینے کے لئے لے جارہا ہوں ۔ عامر ذمی کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: کیا تم رضاکارانہ طور پر اس کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو؟اس نے کہا: نہیں ، اس سے میرا، کھیت کے کا م کا حرج ہوگا۔ عامر نے پوچھا: کیا تو نے جزیہ ادا کردیا ہے؟ اس نے کہا:ہاں ، اس پر عامر نے حکومتی کارندے سے کہا:دیکھو وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے جزیہ ادا کردیا ہے اور تمہیں بھی اس سے انکار نہیں ہے اور تم اس کو بلا معاوضہ خدمت اور بیگار پر لے جانا چاہتے ہو جس پر وہ راضی نہیں ہے، لہٰذا تم اسے چھوڑ دو۔ اس نے کہا: میں نہیں چھوڑوں گا، عامر نے کہا: اللہ کی قسم!میں اپنی موجودگی میں اللہ کے ذمہ پر ظلم نہیں ہونے دوں گا۔ میں اپنی زندگی میں اپنے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذمہ ٹوٹنا برداشت نہیں کرسکتا اور اس کے بعد ذمی کو اس کے ہاتھ سے چھڑا دیا۔ 29

سابق مفتی مملکت ِسعودی عرب سماحة الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز) رحمة اللہ علیہ نے نہایت پرزور انداز میں یہ بات کہی ہے کہ
''وہ غیر مسلم جو ہمارے خلاف برسر جنگ نہ ہوں ، ہم پابند ہیں کہ ان کوکسی قسم کی ایذا اور ضرر نہ پہنچائیں اور نہ ناحق ان پر زیادتی کریں ،بلکہ ان کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہئے جو ایک مسلمان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ان کی امانت واپس کریں ، ان کے ساتھ دھوکہ، جھوٹ اور خیانت کا ارتکاب نہ کریں اور ان کے ساتھ کوئی نزاع یا جھگڑا ہوجائے تو احسن طریقہ سے جھگڑیں اور انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ، کیونکہ قرآن کی تعلیمات یہی ہیں :

وَلَا تُجَـٰدِلُوٓا أَهْلَ ٱلْكِتَـٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِى هِىَ أَحْسَنُ...﴿٤٦...سورة العنکبوت

''اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو، مگر عمدہ طریقہ سے، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں ۔'' 30

غیر مسلموں کے حقوق کی اس اہمیت کے پیش نظر حضرت عمرفاروقؓ مختلف علاقوں سے آنے والے وفود سے اہل ذمہ کا حال دریافت کیا کرتے تھے اور وہ جواب دیتے تھے: ''مانعلم إلا وفاء'' ''ہم تو یہی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ عہد وفا ہوتے ہیں ۔'' 31
جب حضرت عمر فاروقؓ کے پاس یہود و نصاریٰ کی بکثرت شکایات آنے لگیں تو آپ کو معلوم ہوا کہ دیارِ بنی تغلب کا گورنر ولید بن عقبہ نے اُنہیں ڈرایا دھمکایا ہے۔آپؓ نے اس خطرہ کے پیش نظر کہ کہیں وہ اُنہیں کسی شر میں مبتلا نہ کردے، ولید بن عقبہ کو معزول کرکے اس کی جگہ کسی اور کو گورنر مقرر کردیا۔ 32

حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی وفات کے وقت اہل ذمہ کے ساتھ بھلائی کی وصیت کی۔ ابویوسف رحمة اللہ علیہ نے حصین بن عمرو بن میمون کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ عمر فاروق ؓنے فرمایا تھا:
''میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو اہل ذمہ کے ساتھ بھلائی کی تلقین کرتا ہوں ، ان کے ساتھ کئے گئے عہدوپیمان کو پورا کیا جائے۔ ان کی حفاظت کے لئے لڑا جائے اور انہیں ان کی طاقت سے زیادہ گراں بار نہ کیا جائے۔'' 33

آپؓ کی یہ وصیت اس لئے تھی کہ اسلام میں اہل ذمہ کے حقوق کی عظمت کو واضح کیا جائے، اور مسلم عوام اور قائدین کے ذہنوں میں یہ شعور پیدا کیا جائے کہ غیر مسلموں کے ان حقوق میں کوئی کمی کرنا یا ان کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے کسی ضروری حکم کی خلاف ورزی کرنا انتہائی بھاری جرم ہے۔

 


 حوالہ جات

1. صحیح البخاری:1739
2. ایضاً: 488
3. سنن الدار قطنی: 1353، رقم : 167
4. اسلامی حکومت میں اہل ذمہ کے حقوق ، از مودودی : 18
5. السنن الکبریٰ:348، سنن الدارقطنی: 3502نیز دیکھئے:غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي:13
6. أخبار القضاة: 1391
7. قالوا عن السلام:288
8. مسند الإمام أحمد:894
9. مصنف عبدالرزاق 916،أحکام القرآن از ابن العربی 2771
10. التذکرة الحمدونیة 2003۔201
11. ردّ المحتارعلی الدر المختار 2443
12. ایضاً: 2503
13. بھجة المجالس وأنس المجالس: 75421
14. صحیح البخاری:7300
15. سنن ابن ماجہ: 8952
16. صحیح البخاری: 3171
17. غیر المسلمین ف المجتمع الاسلامی:9تا11
18. الفروق از قرافی: 143 ، نیز دیکھئے: موقف الإسلام من غیر المسلمین في المجتمع الإسلامي ، از ڈاکٹر علی الصوا، کتاب : معاملة غیر المسلمین في الإسلام کے ضمن میں۔
19. کتاب الخراج : 149۔ 151
20. الرسالة القبرصیة :40، سماحة السلام، از حوفی : 39 اورغیر المسلمین في المجتمع الإسلامي: 10
21. البدایة والنہایة : 14 320۔321
22. الحکام السلطانیة:143،موقف الاسلام من غیر المسلمین في المجتمع الإسلامی:211
23. صحیح مسلم: 4674
24. الجامع الصغیر : 8370
25. ایضاً
26. السنن الکبریٰ للبیہقی: 2059
27. الفروق : 143
28. یعنی وہ ذمی کے ساتھ اُلجھ رہا تھا ۔
29. تاریخ دمشق : 1426
30. مجموع فتاویٰ ابن باز: 3936
31. التاریخ الطبری: 2184
32. سماحة السلام للحوف،ص 56
33. کتاب الخراج : 136


 بلادِ اسلامیہ میں غیر مسلموں کے حقوق (قسط 2)