Mohaddis-326-Nov,Dec2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

محدث کے 'تصویر نمبر' پر ایک دوسرے موقف کی ترجمانی کرتے ہوئے 'سلسلہ تفہیم السنہ' کے فاضل مصنف مولانا اقبال کیلانی نے اپنی رائے کا اظہار فرمایا ہے اور علماے کرام سے اپنے فتویٰ پر نظرثانی کی دردمندانہ درخواست کی ہے۔ اس سلسلے میں مزید مضامین اور بحوث وردود کا سلسلہ 'محدث' میں جاری ہے جس کے لئے ادارہ محدث نے بعض دیگر اہل علم سے بھی اس موضوع پر لکھنے کی درخواست کی ہے۔ اتباعِ کتاب وسنت کے مخلصانہ جذبہ کی حامل یہ تحریر نذرِ قارئین ہے، جس سے اُنہیں اس کا دوسرا رخ جاننے کا بھی موقع حاصل ہوگا۔ اس بحث کی سابقہ تحریریں جون کے علاوہ اگست 2008ء کے شمارہ میں بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں ۔(مدیر)
جون 2008ء کے ماہنامہ 'محدث' لاہور میں 'ملّی مجلس شرعی' کے مذاکرئہ علمیہ کی روداد شائع ہوئی ہے جس میں مختلف مکتب ِفکر سے تعلق رکھنے والے پندرہ واجب الاحترام علماے کرام نے یہ فتویٰ صادر فرمایا ہے کہ
''دعوت و اصلاح اور اسلامی مقاصد کے حصول خصوصاً اسلام کے دفاع اور دین مخالف پروپیگنڈہ کاجواب دینے کے لیے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال جائز ہے، خواہ بہ اکراہ ہی کیوں نہ ہو۔''

اُمید تھی کہ اس موضوع پر دیگر علماے کرام بھی اظہارِ خیال فرمائیں گے لیکن حیرت کی بات ہے کہ چار پانچ ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود کم از کم میری نظر سے ایسا کوئی مضمون نہیں گزرا جس میں اس فتویٰ سے اختلاف کیاگیا ہو۔ کم وبیش پانچ ماہ بعد ہفت روزہ 'الاعتصام' لاہور نے 10 تا16؍ اکتوبر 2008ء کے شمارہ میں محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب حفظہ اللہ کا 'محدث' میں مطبوعہمضمون دوبارہ شائع کیاہے، کیا اس سے یہ تاثر لیا جائے کہ پاکستان کے تمام علماے کرام اس فتویٰ سے متفق ہیں ؟ علماے کرام کے کسی متفقہ فیصلے سے اختلاف کرنا مجھ جیسے کم علم طالب ِعلم کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ طبیعت کے لیے ناگزیر بھی ہے لیکن یہ موضوع اپنے نتائج کے اعتبار سے اس قدر اہم اور حساس ہے کہ اس کے مثبت اور منفی پہلوؤں کا جائزہ لینا ازبس ضروری ہے۔

جہاں تک تصویر کی حرمت کا تعلق ہے، احادیث ِ مبارکہ میں بیان کی گئی شدید وعید کے پیش نظر بے غبار اور قابل اطمینان بات یہی ہے کہ تصویر ہاتھ سے بنائی گئی ہو یا کیمرے سے، ویڈیو کی ہو یا ٹی وی کی، پردئہ سکرین پر ہویا کاغذ پر، متحرک ہو یا غیر متحرک۔ قطعی طور پر حرام ہے۔ مذاکرئہ علمیہ میں شریک تمام علماے کرام نے اتفاقِ رائے سے دینی پروگراموں کے لیے ٹی وی پر آنے کو جائز قرار دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض علماے کرام نے برضا و رغبت اور بعض نے اسے بکراہت جائزقرار دیاہے، دونوں صورتوں میں نتیجہ بہرحال ایک ہی ہے۔

مذاکرئہ علمیہ میں شریک واجب الاحترام علماے کرام کوہم تین گروہوں میں تقسیم کرسکتے ہیں :
  1.  وہ گروہ جو پہلے سے ہی اس فتویٰ پر عمل کررہاہے مثلاً جماعت ِاسلامی اور دیگر دینی جماعتوں کے بعض علماے کرام۔
  2.  وہ گروہ جس نے مذاکرہ میں برضا ورغبت ٹی وی پروگراموں میں شرکت کا اظہار فرمایا۔
  3.  وہ گروہ جس نے بہ کراہت ٹی وی پروگراموں میں شرکت کو جائز قرار دیا۔

پہلے دونوں گروہوں کا معاملہ تو ایک جیسا ہے جن کے موقفکی ہم کسی صورت میں تائید نہیں کرسکتے، البتہ تیسرے گروہ کے دلائل کا تجزیہ پیش خدمت ہے:
1.ٹی وی پروگراموں میں بہ کراہت شرکت کرنے والے علماے کرام اصلاًاس بات سے متفق ہیں کہ یہ شرکت عام حالات میں جائز نہیں ، البتہ جب اضطراری کیفیت پیدا ہوجائے تو بہ کراہت ایسا کرنا جائز ہے۔ یہ جواز قرآنِ مجید کی اس آیت ِمبارکہ سے پیدا کیاگیا ہے:
فَمَنِ ٱضْطُرَّ‌ غَيْرَ‌ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَآ إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ...﴿١٧٣﴾... سورة البقرة
اس آیت ِ کریمہ میں اللہ سبحانہ' وتعالیٰ نے خنزیر یا حرام چیز کھانے کی اجازت بعض شرائط کے ساتھ دی ہے :
اوّلاً : حلال چیز میسر نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ وطن عزیز میں علماے کرام پر دعوت اور تبلیغ کے تمام جائز راستے بند ہوچکے ہیں ؟ اگر ایسا نہیں (اور واقعی نہیں ) تو پھر اس آیت ِمبارکہ سے اضطرار کا جواز کیسے پیدا کیا جاسکتاہے ؟
ثانیاً: حلال چیز میسر نہ ہونے کی وجہ سے جان کاخطرہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک فرد کی مثال کو پوری قوم یا ملک پر منطبق کرنا کسی طرح بھی درست معلوم نہیں ہوتا، کجا یہ کہ پوری دنیا میں مشرق سے مغرب تک پھیلی ہوئی ملت ِاسلامیہ پر اسے منطبق کیا جائے۔ اگر یہ درست بھی ہو تو غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار کے پریشان کن تنزل اور انحطاط کے باوجود کیا واقعی پاکستان سے اسلام کے مکمل طور پر ختم ہونے اور مٹنے کے آثار موجود ہیں ؟ چلئے لمحہ بھر کے لئے مان لیجئے کہ پاکستان سے مکمل طور پراسلام کے مٹنے کے آثار موجود ہیں (لا قدَّر اﷲ أبدًا)... تو پھر بھی کیاپاکستان سے اسلام کا وجود ختم ہونے کے ساتھ ہی پوری دنیا سے اسلام کا وجود مٹ جائے گا؟ کیا ہسپانیہ سے اسلام کے ختم ہونے کے ساتھ اسلام ساری دنیا سے ختم ہوگیا؟ ہرگز نہیں ، تو پھر کیا پاکستان میں موجودہ صورتِ حال کو اضطراری قرار دینا واقعی درست ہوگا؟
ثالثا ً: حرام چیز کااستعمال بقدرِ ضرورت ہو۔ گویا اضطراری حالت میں بھی حرام کو حلال کرنے کی اجازت بالکل محدود اور عارضی ہے، غیر محدود اور مستقل نہیں ۔ کیا ٹی وی پربکراہت آنے کی اجازت دینے والے واجب الاحترام علماے کرام نے اس عارضی مدت کا تعین فرما لیاہے جس میں وہ قوم کی اصلاح کرلیں گے۔ اسلام کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈہ کا تدارک کرلیں گے اور اس کے بعد ٹی وی پر آنا بند کردیں گے۔
سچی بات یہ ہے کہ فرد کے اضطرار کو پوری قوم کے اضطرار پر قیاس کرکے حرام چیز کو مستقل حلال کرنے کا اجتہاد ہماری سمجھ سے بالکل ہی بالاتر ہے۔

2ٹی وی پربہ بکراہت آنے کے حق میں سورة النحل کی آیت نمبر 106 کا حوالہ بھی دیاگیا ہے جس میں ایمان پر مطمئن رہتے ہوئے کلمہ کفر کہنے کی رخصت دی گئی ہے۔ یہاں بھی جان بچانے کے لئے عارضی طور پر کلمہ کفر کہنے کی اجازت ہے۔ کیا اس آیت ِکریمہ سے واقعی ایک حرام چیز کو مستقل حلال کرلینے کا جواز پیدا ہوتا ہے جبکہ جاں کے خطرے کاپہلو بھی محل نظر ہو؟

3اِضطراری کیفیت کے سلسلہ میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات پر تصاویر کی مثالیں بھی دی گئی ہیں ۔ ہماری ناقص رائے میں ان مثالوں سے اضطرار کا جواز اس لیے پیدا نہیں ہوتا کہ اوّلاً یہ تصویریں بنوانے کے لیے قانون کا اس قدر جبر موجود ہے کہ ان کے بغیر کسی بھی انسان کا کاروبارِ زندگی چلانا ممکن نہیں ۔ ثانیاً اس مسئلہ کو کوئی دوسرا متبادل حل بھی نہیں ، لہٰذا فرد اس 'جرم' سے بری الذمہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ٹی وی پر آنے والے علماے کرام پر واقعی کوئی ایسا جبر موجود ہے کہ ٹی وی پر آئے بغیر ان کے لیے دعوت کا کام ناممکن ہوگیا ہو یا پھر اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی دوسرا متبادل نہ ہو؟

4ایک بڑی پُرکشش اور دل فریب دلیل یہ بھی دی گئی ہے: ''کیا صرف تصویر کی حرمت کی خاطر پوری قوم کو لادین عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیاجائے؟''... ''بدکاری، فحاشی اور عریانی کی دعوت کے جواب میں علماء اس لیے خاموش بیٹھے رہیں کہ تصویر حرام ہے؟''... ''توپ کامقابلہ تلوار سے اور کلاشنکوف کا مقابلہ میزائل سے ممکن نہیں لہٰذا نئی نسل کو لادینیت کی یلغار سے بچانے کے لیے جدید ذرائع کا استعمال ضروری ہے۔'' وغیرہ وغیرہ

ہمارے واجب الاحترام علماے کرام نے یہ دلیل اس وثوق اور پُرزور طریقے سے دی ہے گویا ۱۶ کروڑ عوام کا قبلہ درست ہونے میں اگر کسی چیز کی کمی ہے تو وہ صرف علماے کرام کے ٹی وی پر آنے کی ہے۔ جیسے ہی علماے کرام ٹی وی پر قدم رنجہ فرمائیں گے، پاکستان صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان بن جائے گا۔ حالانکہ امر واقعہ یہ ہے ٹی وی پروگراموں میں علماے کرام کی شرکت سے حالات کی اصلاح کا نتیجہ تو قطعاً غیریقینی ہے۔ البتہ حرام کو حلال کرنے کا گناہ سو فیصد یقینی ہے یعنی إثمھا أکبر من نفعھا !
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ بعض الفاظ اور فقرات واقعی جادو کا سا اثر رکھتے ہیں ، مخاطب پر اثر انداز ہونے کی اپنے اندر بے پناہ قوت رکھتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ عملی زندگی میں ان کے نتائج بھی ویسے ہی خوبصورت اور خوش نما ہوں ۔
آج سے کم و بیش نصف صدی قبل دینی جماعتوں نے ایسے ہی پُرکشش اور خوبصورت دلائل کی بنا پر سیاست کے میدانِ خارزار میں قدم رکھا۔ سیاست میں بعض دینی جماعتوں اور بعض علماے کرام کے مثبت کردار سے ہمیں انکار نہیں لیکن مجموعی طور پر غور فرمائیے کہ گذشتہ نصف صدی سے دینی جماعتوں اور واجب الاحترام علماے کرام کی میدانِ سیاست میں موجودگی کے باوجود سیاست کی غلاظت اور گندگی میں اضافہ ہوا یا کمی آئی ہے؟
اس کے ساتھ ہی یہ سوال بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ علماے کرام کے میدانِ سیاست میں آنے کے بعد علماے کرام کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے یا کمی آئی ہے؟ معاشرے میں علماے کرام کی عزت اور وقار میں اضافہ درحقیقت اسلام کی دعوت اور اشاعت میں اضافہ کا باعث ہے اور علماے کرام کی عزت اور وقار میں کمی اسلام کی دعوت اور اشاعت میں کمی کا باعث ہے، لہٰذا اس پہلو کو بھی کسی صورت نظر اندازنہیں کیا جاسکتا۔

توپ کا مقابلہ توپ سے، کلاشنکوف کا کلاشنکوف اور میزائل کا میزائل سے اور ٹی وی کا گند ٹی وی سے صاف کرنے کی دلیل کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جب افغانستان پر امریکی حملہ کے وقت پاکستان نے امریکہ کو تمام سہولتیں دینے کے لئے گھٹنے ٹیک دیئے تو امریکہ نواز دانشوروں نے یہ کہہ کر حکومت کی تائید کی کہ ہم امریکہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے ہمیں ویسی ٹیکنالوجی اور اسلحہ تیار کرنا چاہیے، پھر مقابلہ کرنا چاہیے۔ تب ہمارے واجب الاحترام علماے کرام نے غزوئہ بدر سے لے کر جہادِ افغانستان تک کی تاریخ سے اس بات کے حق میں دلائل کے انبار لگا دیئے کہ حق و باطل کی جنگ میں اسلحہ اور سازوسامان نہیں ، جذبۂ ایمان اہم ہوتا ہے... ؎ مؤمن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی!
لیکن ٹی وی کے معاملے میں اب علماے کرام خود یہ فرما رہے ہیں کہ میزائل کا مقابلہ کلاشنکوف سے اور توپ کا مقابلہ تلوار سے ممکن نہیں ۔ ٹی وی سے پھیلائی جانے والی غلاظت کی صفائی ٹی وی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ وطن عزیز کے جید علماے کرام کے اس'یوٹرن' کو کون سا نام دیا جائے؟

5مذاکرئہ علمیہ میں سعودی عرب کی فتویٰ کونسل کے ایک فتویٰ کا ذکربھی کیا گیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : ''ٹی وی پر گانے، موسیقی اور تصویر جیسی منکرات حرام ہیں لیکن اسلامی کلچر، تجارتی اور سیاسی خبریں جن کی شریعت میں ممانعت وارد نہیں ، جائز ہیں ۔''
بلا شبہ اس فتویٰ سے ٹی وی پر دینی پروگراموں میں شرکت کی تائید ہوتی ہے لیکن ہماری گزارش یہ ہے کہ اس فتویٰ کے بعد اس پر عمل درآمد کی صورتِ حال کا بھی جائزہ لیا جائے۔ دائمی فتویٰ کونسل کا یہ فتویٰ 1411ہجری میں شائع ہوا، اب 1429ہجری کا اختتام ہے۔ ممکن ہے 1411ہجری میں ٹی وی پر صرف اسلامی لیکچر، تجارتی اور سیاسی خبریں ہی دی جاتی رہی ہوں لیکن اٹھارہ سال بعد آج کی صورتِ حال کیا ہمارے علماے کرام کی نظروں سے مخفی ہے؟ آج کل جو کچھ ٹی وی پر آرہا ہے، وہ ہے تو بہرحال اسی فتویٰ کا مرہونِ منت۔
دوسری مثال اپنے گھر کی لے لیجیے: وطن عزیز پاکستان میں جماعت ِاسلامی، 'ملّی مجلس شرعی' کے قیام سے پہلے ہی بقول محترم مولانا عبدالمالک صاحب، الیکٹرانک میڈیا میں حصہ لینے کو جائز قراردے چکی ہے۔ ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ جماعت ِ اسلامی کے واجب الاحترام علماے کرام نے کتنی مدت پہلے یہ فیصلہ فرمایاتھا لیکن آج کی صورتِ حال یہ ہے کہ جماعت کے روزنامہ'جسارت'کی اشاعت ِخاص بسلسلہ اجتماعِ عام 24 تا26؍اکتوبر2008ء کے صفحہ 32 پر 'عرق مہزل لاثانی' اور' گیسٹووینا سیرپ لاثانی' نیز صفحہ 68 پر 'وگورین چلڈرن سیرپ' کی تشہیر کے لئے روایتی ماڈل گرلز کی بے حجاب تصویریں موجود ہیں ۔ یہ تصویریں برضا و رغبت ٹی وی پر آنے کی اجازت دینے کے فیصلہ کی مرہونِ منت نہیں تو اور کیا ہیں ؟
کیا عمل بالحدیث کا دعویٰ رکھنے والے علماے کرام اپنے ہاں بھی ایسی افسوسناکِ صورت حال دیکھنا پسند فرمائیں گے؟
کوئی فیصلہ کرتے وقت ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ بند دروازہ کھولنا بہت آسان ہے، لیکن اسے مزیدکھلنے نہ دینا یا اسے دوبارہ بند کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

6خیر و شر کی بحث میں بکثرت دی جانے والی مثال کا حوالہ بھی مذاکرہ میں دیاگیا کہ ٹی وی تو محض ایک آلہ ہے، اس سے خیر اور شر دونوں کا کام لیاجاسکتا ہے۔ لہٰذا اس سے خیر کا کام لینے میں کیا حرج ہے؟
ٹی وی کے بارے میں اوّلاً تو ہمیں یہ تسلیم کرنے میں ہی تامل ہے کہ یہ خیر وشر کا آلہ ہے۔ اس میں اگر کوئی خیر کی بات ہے تو اتنی ہی ہے جتنی شراب، جوا، سود، رشوت، بے حجابی اور موسیقی وغیرہ میں ہے۔ ثانیاً، لمحہ بھر کے لئے ہم تسلیم کرلیتے ہیں کہ ٹی وی خیر و شر دونوں کا آلہ ہے لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ علماے کرام نے ٹی وی کے 'خیر' کے پہلوؤں پر تو گفتگو فرمائی ہے مگر اس کے شر کے پہلوؤں پر گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی، حالانکہ بیلنس شیٹ تو منفی مثبت دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر تیار ہونی چاہیے۔
بلاشبہ محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب نے ٹی وی کے شر کے پہلوؤں کو اُجاگر کرنے کی کوشش فرمائی جو بالکل درست اور قابل تحسین تھی لیکن افسوس، محترم حافظ صاحب نے آخر میں بہ کراہت ٹی وی پر آنے کی اجازت دے کر اپنے ہی دلائل پر خط ِتنسیخ پھیر دیا۔ کاش وہ ایسا نہ فرماتے!
آخر میں ہم واجب الاحترام علماے کرام کی خدمت میں چند سوالات پیش کرناچاہتے ہیں ۔ ہماری درخواست ہے کہ کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے ان پربھی غور فرما لیاجائے:
عہد ِنبویؐ میں نضربن حارث نے اسلام کا راستہ روکنے کے لیے ٹی وی کلچر (گانا بجانا، فحاشی اور بے حیائی) کا آغاز کیا تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا توڑ کیسے فرمایا؟
2۔ تبلیغی جماعت سے بعض اختلافات کے باوجود کسی پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کے استعمال کے بغیر حیران کن حد تک،اعلیٰ تعلیم یافتہ،متوسط تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ؛ تینوں طبقوں میں پوری دنیا کے ممالک میں منظم ترین دعوت اور تبلیغ کے کام میں ہمارے لیے کوئی سبق ہے یا نہیں ؟


؎ سبب کچھ اور ہے جسے تو سمجھتا ہے
زوال بندہ مؤمن کا بے زری سے نہیں

چند سال قبل ایک فلم 'خدا کے لیے' بنائی گئی جس میں حجاب،داڑھی، عورتوں کے حقوق،مرتد کی سزا، قانونِ حدود اور بعض دیگر اسلامی احکام کا مذاق اُڑایا گیاہے۔علماے کرام کو بطور خاص نشانۂ تضحیک بنایا گیا ہے۔ کیا نظریۂ ضرورت کے تحت اس کا توڑ کرنے کے لئے فلم بنانے کی اجازت بھی دے دی جائے گی؟ فنی اعتبار سے فلم اور ویڈیو میں ویسے بھی کچھ فرق نہیں ۔
ٹی وی پر فحاشی، عریانی، بے حیائی اور اسلامی اقدار کی تضحیک بلاشبہ کبائر میں سے ہے لیکن اکبر الکبائر تو شرک ہے جسے ٹی وی دیگر کبائر کی طرح دن رات بڑی تیزی سے پھیلا رہا ہے۔ کیا 'ملّی مجلس شرعی' کے واجب الاحترام علماے کرام ٹی وی پر قبرپرستی اور شرک کے خلاف بھی آواز اُٹھاناپسند فرمائیں گے یا نہیں ؟
ہماری گزارشات کا خلاصہ یہ ہے کہ ملّی مجلس شرعی کے واجب الاحترام علماے کرام کو اپنے فتویٰ پر نظرثانی کرنی چاہے تاکہ موہوم اُمیدوں کے حصول میں کتاب و سنت کے واضح احکام پامال نہ ہو۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
''مریض کا علاج حرام دوا سے نہ کرو'' 1

کم از کم جو علماے کرام تصویر کو ہر صورت میں حرام سمجھتے ہیں ، اُنہیں تو یہ 'دوا ' 'مریض' کے لئے تجویز کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ویسے بھی انسان اللہ تعالیٰ کے ہاں سعی اور جدوجہد کا مکلف ہے، نتائج کا نہیں تو پھر حدود اللہ کو پامال کیوں کیا جائے؟
عمل بالحدیث کی فکر رکھنے والے واجب الاحترام علماے کرام سے ہماری خاص طور پر مؤدبانہ گزارش ہے کہ اُنہیں
اوّلاً: اپنی کراہت کا اظہار ٹی وی پروگراموں میں شریک ہوکر نہیں بلکہ شریک نہ ہوکر کرنا چاہیے۔
ثانیاً: کتاب و سنت کے چشمہ صافی کو ہر طرح کی آمیزشوں اور آلائشوں سے پاک صاف رکھنا اور آنے والی نسلوں تک اسے من و عن پہچانا آپ کا مشن ہے، اس میں کوئی کوتاہی اور لغزش نہ ہونے پائے۔
ہماری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے علماے کرام کو سیاست کی دلدل میں پھنسنے کے بعد اب ٹی و ی کے فتنے سے محفوظ رکھے۔آمین!وصلی اﷲ علی نبینا محمد وآله وأصحابه أجمعین


حوالہ جات
1. مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی وغیرہ