october 2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

رسول اﷲ ﷺ کے اُصولِ قضا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے قضا کے منصب پر فائز کیا اور اس کے کچھ اُصول مقرر کیے جیسا کہ قرآنِ مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَقُلْ ءَامَنتُ بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِن كِتَـٰبٍ ۖ وَأُمِرْ‌تُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ...﴿١٥﴾...سورۃ الشوری 1

''اور فرمادیجئے میں اس کتاب پر ایمان رکھتا ہوں جو اللہ نے نازل فرمائی ہے اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے درمیان عدل قائم کروں ۔''
قُلْ أَمَرَ‌ رَ‌بِّى بِٱلْقِسْطِ...﴿٢٩﴾...سورۃ الاعراف 2
''اور کہہ دیجئے کہ میرے رب نے مجھے انصاف کا حکم دیا ہے۔''
وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ...س﴿٤٢﴾...ورۃ المائدۃ 3
''اور اگر تو ان کے درمیان فیصلہ کرے توانصاف کے ساتھ فیصلہ کر۔''
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قاضی کا منصب اس عہدہ کے تحت تو کبھی کسی کو عطانہیں فرمایا، البتہ عمال کی ذیلی ذمہ داریوں میں اُمورِ قضا کی انجام دہی بھی شامل تھی۔حضرت علیؓ اور حضرت معاذبن جبلؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یمن کے امیر تعینات فرمایا تھا۔ دراصل عمرؓ اسلام کے دورِ خلفاے راشدین کے پہلے قاضی تھے جنہیں حضرت ابوبکرؓ نے اپنے عہد ِخلافت میں باقاعدہ قاضی کے عہدے پر فائز کیا مگر سال بھر تک ان کے سامنے کوئی مقدمہ ہی پیش نہ ہوا۔چنانچہ جہاں تک دور نبوی کی بات ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہؓ کو اکنافِ عرب میں مقدمہ کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے کر روانہ فرمایا ،اگرچہ ان کے لیے قاضی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔ 4
جب حضرت علیؓ کو یمن بھیجا گیاتو اُنہوں نے کہا: ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہاں نئے نئے مقدمات پیش ہوں گے اور مجھے قضا کا تجربہ ہے، نہ علم۔'' تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''اللہ تعالیٰ تیری زبان کو راہِ راست کی توفیق عطا فرمائے گا اور تیرے قلب کو ثبات بخشے گا۔'' بہرحال حضرت علیؓ نے اپنے آپ کو اس منصب کا پورا پورا اہل ثابت کیا جو عین جوانی میں ان کے سپرد کیا گیا تھا۔ 5 معاذ بن جبلؓ کواسی غرض سے یمن روانہ کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کیف تقضي؟) ''تم فیصلہ کیسے کروگے؟'' تو اُنہوں نے کہا: کتاب اللہ کے مطابق، پھر سنت ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق...الخ۔'' 6
یمن کے نواح میں چار اور فیصلہ کرنے والے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائے۔ خالد بن سعیدؓ صنعاء کے لیے، مہاجری بن اُمیہؓ کندہ کے لیے، زیاد بن لبیدؓ حضر موت کے لیے اور ابو موسیٰ ؓ اشعری کو زبید، زمعہ، عدن اور سواح کے لیے روانہ فرمایا۔ اسی طرح عتاب بن اسیدؓ کو مکہ میں عامل مقرر فرمایا، ان کی عمر اس وقت بیس برس کے لگ بھگ تھی۔ عہدئہ امارت کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مہاجر کو عامل مقرر فرماتے تو ہمراہ کسی انصاری کو بھی روانہ فرماتے۔ ان اصحاب کے انتخاب کے وقت حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی علمیت اور کردار کا جائزہ ضرور لیا کرتے تھے اور اس سلسلہ میں روانگی سے پہلے ان عمال کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک انٹر ویو لیتے جنہیں عملاً بطورِ قاضی بھی کام کرنا ہوتا تھا۔ 7
عاملینِ زکوٰۃ کی ایک طویل فہرست کتب ِ سیر میں ملتی ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ وقتاًفوقتاً یہ لوگ بھی جھگڑے چکا دیا کرتے تھے۔ بہرحال قاضی یاجج کا عہدہ بعد کے زمانے میں امارت یا عامل سے الگ کیا گیا۔ ابن خلدون نے قضا کو خلافت کے وظائف(functions)میں شمار کیا ہے اور اسے صرف خلیفہ کے لیے سمجھا ہے اور کہا ہے کہ حضرت عمرؓ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے اُمورِ خلافت کے پھیلاؤ کے باعث یہ منصب بطورِ عہدہ اپنے پورے اختیار کے ساتھ حضرت ابودردانہ انصاریؓ اور عویمربن ثعلبہ انصاریؓ کو مدینہ میں مقرر فرمایا۔دراصل یہ تقسیم کار کی ایک صورت تھی۔ 8
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفرپر روانہ ہوتے توعبداللہ ابن اُمّ کلثوم ؓ کو بھی اپنا نائب یا امیر مقرر فرمایا کرتے اور وہ نابینا تھے۔9 دورِ مکی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس امر کا اہتمام فرمایا کہ ایسے افراد تیار کئے جائیں جو اسلامی مملکت کے سیاسی، انتظامی اور مالی اُمور بحسن و خوبی چلاسکیں ، جبکہ حصولِ اقتدار کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مدینہ منورہ ہجرت کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اسلامی مملکت کا قیام عمل میں لائے اور مسلمانوں کے درمیان باہمی بھائی چارہ قائم کردیا۔ پھر یہودیوں ، عیسائیوں اور مشرکین عرب سے معاہدہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ پہنچ کر مختلف اقوام سے متعدد معاہدے کئے جن کے مجموعے کو میثاق مدینہ بھی کہہ دیا جاتا ہے، اس میثاق کی 24 اور 44 دونوں دفعات عدل پر مشتمل ہیں ۔ بعض لوگوں نے اسے دنیا کا پہلا تحریری دستوربھی قرار دیاہے۔10 جس میں سیاسی فوجی اور مالی اُمور شامل ہیں ۔ معاہدہ کرنے والے سب فریق ان اُمور کے پابند تھے۔
اب ہم ان معاہدات کا تنقیدی مطالعہ پیش کرتے ہیں جن میں اصلاح کے بہت سے پہلو شامل ہیں اور ان میں سے ایک نظامِ عدل کی اصلاح بھی ہے۔ اس معاہدے کی رو سے وہ تمام اُصول اور ضابطے منسوخ قرار پاگئے تھے جن پر پہلے نظامِ عدل کی اساس تھی اور ایسے نئے اُصول اور ضابطے میسر آگئے جو انسانیت کیلئے پہلے سے زیادہ اطمینان بخش تھے۔ڈاکٹر لوتھر نے بڑی عقیدت کے ساتھ ایسے نئے اُصولوں کے بارے میں کہا ہے:
''اسلام نے بڑی سلطنتوں اور مستقل تہذیبوں کو تہہ وبالا کرکے نفوسِ اقوام کو نئی ترکیب دی اور ایک مکمل جدید دنیا یعنی دنیاے اسلام تعمیر کی جس کا اثر تمام نوع انسان پر پڑکر رہے گا۔'' 11
فتح مکہ کے بعد صرف طائف کا قبیلہ ایسا تھا جس نے اطاعت قبول نہیں کی تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا محاصرہ کیا مگر چند روز بعد بعض وجوہ کی بنا پر محاصرہ اُٹھا لیا۔ صخر کے ایک رئیس کو جب معلوم ہوا تو اس نے خود طائف کی حصار بندی کی اوراُنہیں مصالحت پر آمادہ کیا۔ اس واقعہ کے بعد مغیرہ بن شعبہ ثقفی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ صخرنے ان کی پھوپھی کو اپنے قبضے میں لے رکھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر کو بلا کر حکم دیا کہ مغیرہ کی پھوپھی کو ان کے گھر پہنچا دو۔ اس کے بعد بنوسلیم نے آکر شکایت کی کہ اسلام لانے سے قبل صخر نے ان کے چشمہ پر قبضہ کرلیا تھا، اب چونکہ وہ اسلام لاچکے ہیں ، لہٰذااُن کا چشمہ اُنہیں دلایا جائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر کو بلا کر فرمایا کہ جب کوئی قوم اسلام قبول کرلیتی ہے تو وہ اپنے جان ومال کی مالک ہوجاتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چشمہ واپس کرادیا۔ ان دونوں معاملات میں فیصلہ صخر کے خلاف ہوا، حالانکہ فتح طائف کا سہرا اِنہی کے سر تھا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خدمات کے باوجود عدل وانصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ 12
قرآن اور سنت ہی وہ اُصول ہیں جن کی اتباع ان پر واجب ہے۔ نیز اس مجموعہ معاہدات کی شق نمبر 42 کا منشا یہ ہے کہ غیرمسلموں کو قانونی حقوق حاصل ہیں ، چنانچہ قرآنِ حکیم میں یہودیوں ، عیسائیوں اور دیگر ادیان کے پیروکاروں کے حقوق کا ذکر کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
فَإِن جَآءُوكَ فَٱحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِ‌ضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّ‌وكَ شَيْـًٔا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَٱحْكُم بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ﴿٤٢﴾ وَكَيْفَ يُحَكِّمُونَكَ وَعِندَهُمُ ٱلتَّوْرَ‌ىٰةُ فِيهَا حُكْمُ ٱللَّهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوْنَ مِنۢ بَعْدِ ذَ‌ٰلِكَ ۚ وَمَآ أُولَـٰٓئِكَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ... ﴿٤٣﴾...سورۃ المائدۃ 13
''اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر ) آئیں تو تمھیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو۔ انکار کر دو تو یہ تمہار ا کچھ بگاڑ نہیں سکتے،اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اور یہ تمھیں کیسے حَکَم بتاتے ہیں جبکہ ان کے پاس تو راۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔''
اس آیت میں مذکور ہے کہ دیگر ادیان کے پیروکار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع فرمائیں گے، جب وہ آپس میں اپنے جھگڑوں کا فیصلہ نہ چکا سکیں ۔ چنانچہ عہد ِرسالت میں مدینہ کے باشندے اپنے جھگڑے اور دعوے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا کرتے تھے۔

سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں عدل
ادارئہ نبوت کے ذمہ خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت سمیت جو مختلف فرائض سپرد رہے، ان میں سے قرآنِ مجید کی شہادت کے مطابق ایک بڑا فریضہ قیامِ نظامِ عدل بھی تھا۔ عدل وانصاف کے اعلیٰ او ر برتر اُصولوں کی حکمرانی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ہی ہمیشہ جواب دہی کے لیے تیار رہتے تھے اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی سلوک سے نادانستہ طور پر کسی شخص کو ایذا پہنچ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنا بدلہ لینے کے لیے فراخ دلانہ پیش کش فرماتے۔ ایک مرتبہ مالِ غنیمت کی تقسیم کے دوران میں ایک شخص کے چہرے پر جو اپنا حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھک آیا تھا تو آپؐ کے نیزے کا زخم لگ گیا۔ آپؐ نے فوراً اسے بدلہ لینے کی پیش کش کی مگر اس نے کوئی بدلہ نہ لیا۔ 14
ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی کمر پر،جواِدھراُدھر کی باتیں کر کے لوگوں کو ہنسا رہا تھا، ٹھوکا دیا جس پر اس نے بدلہ لینے کی خواہش ظاہر کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کمر آگے کردی۔ مگر اس نے کہا: ''میں برہنہ تن تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قمیص پہنے ہوئے ہیں ۔ اس پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیص اُٹھادی، اس نے آگے بڑھ کر مہر نبوت کو چوما اور کہا میں تو صرف یہ چاہتا تھا۔15 '' حضور صلی اللہ علیہ وسلم بیماری کی حالت میں تشریف لاتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں :
''اے لوگو!اگر میں نے کسی کی پیٹھ پر کبھی درّہ مارا ہے تو یہ میری پیٹھ حاضر ہے، وہ مجھ سے بدلہ لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کو برابھلا کہا تو یہ میری آبرو حاضر ہے، وہ اس سے انتقام لے سکتا ہے۔ اگر میں نے کسی کا مال چھینا ہے تو میرا مال حاضر ہے، وہ اس سے اپنا حق لے سکتا ہے۔اور تم میں سے کوئی یہ اندیشہ نہ کرے کہ اگر کسی نے انتقام لیا تو میں اس سے ناراض ہوں گا ،یہ بات میری شان کے لائق نہیں ۔'' 16
اولاد کے ساتھ عدل کے بارے میں حدیث میں آتا ہے۔حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت نعمان بن بشیرؓ کی اہلیہ نے اُن سے کہا: میرے لڑکے کو فلاں غلام بخش دو، اس پررسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ۔ حضرت نعمانؓ بن بشیرنے یہ سارا واقعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ اور بھی اولاد ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں !فرمایا:پھر میں ناحق پر گواہ نہیں بن سکتا۔ 17
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

فاتَّـقوا اﷲ واعدلوا بین أولاد کم 18
''خدا سے ڈرو اپنی اولاد میں انصاف کرو۔''
سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ اسمائؓ بنت ِیزید بن سکن انصاری عورتوں کی نمائندہ کے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہا: ''یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مردوں اور عورتوں دونوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ ہم عورتیں بھی ربّ ِ جل جلالہ پر ایمان لائی ہیں ، لیکن خدا کی راہ میں جان کی بازی تمام فضیلت اور ثواب کے ساتھ صرف مردوں پر واجب کی گئی ہے کہ اگر وہ فتح کریں تو اُن کو ثواب اور مالِ غنیمت ملتا ہے اور اگر قتل کردئیے جائیں تو مقامِ شہادت پر فائز ہوتے ہیں ۔ ہم عورتیں جب ہمارے شوہر جنگ کے میدان میں ہوتے ہیں تو گھر اور بچوں کی رکھوالی اور گھریلو کاموں کی بجاآوری میں مشغول ہوتی ہیں ، کیا ہم بھی جہاد کے ثواب میں مردوں کے برابر شریک ہوسکتی ہیں ؟'' تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کی طرف رُخ کرکے فرمایا کہ اُنہوں نے کس قدر اچھا سوال کیا ہے۔پھر حضرت اسمائؓ سے فرمایا کہ دوسری عورتوں سے بھی جن کی طرف سے تم نے یہ بات کہی ہے، میرا یہ قول پہنچادینا کہ گھریلوفرائض کی انجام دہی، بچوں کی پرورش اور شوہر کی خدمت عورتوں کی طرف سے خدا کی راہ میں جہاد شمارکیا جاتا ہے۔'' 19
خواتین کے معاملے میں عدل وانصاف کے بارے میں بہت ساری احادیث کا ذکر ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ خواتین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپؐ سے فیض حاصل کرنے میں ہم پر مرد غالب رہتے ہیں ، اس لیے آپؐ ہمارے لیے ایک دن مختص فرمادیجئے۔ آپ نے ان کے لیے ایک دن متعین فرمادیا، ان سے ملے، وعظ فرمایا اور احکام دئیے۔اس موقع پر آپ نے خواتین سے یہ بھی فرمایا کہ تم میں سے کسی کے اگر تین بچے فوت ہوگئے تو وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے رکاوٹ ثابت ہوں گے۔ایک خاتون نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر دوہی بچے فوت ہوئے تو آپ نے فرمایا: اگر دو بھی فوت ہوئے تب بھی۔20 مذکورہ بالادوحدیثوں پر اگر غورکیا جائے توجہاں چند ایک نہایت ہی اہم باتوں کی وضاحت ہوتی ہے وہاں ان کے متعلق ہمیں توجیہات وتعلیماتِ نبوی سے بھی آگاہی ہوتی ہے۔
اسی طرح خواتین کے لیے وراثت کا حق رکھنا، اُن کو تعلیم دلوانا، ان کی اچھی تربیت کرنا سب خواتین کے لیے عدل کے حکم میں آتا ہے۔
غلاموں کے بارے میں حدیث میں ہے کہ صہیب رومیؓ کو بارگاہِ رسالت پناہ صلی اللہ علیہ وسلم میں وہی قرب حاصل تھا جو حضرت صدیق اکبرؓ اور حضرت فاروق اعظمؓ کو حاصل تھا۔ حضرت اُسامہؓ امیرِ لشکر بنائے گئے جو بظاہر غلام زادہ تھے ،لیکن اسلام نے اُن کو وہ سربلندی عطا کی تھی کہ ان کی قیادت وامارت میں بڑے بڑے ذی حشم خاندان کے افراد اور عزت وسروری کے کلاہ کج سروں پر رکھنے والے قبائل کے افراد جو دولت ِ ایمان سے سربلندی حاصل کرچکے تھے، جوش ایمانی اور جذبۂ جہاد سے سرشار ان کو اپنا رہنمابنائے منزلِ مقصود کی طرف گامزن تھے۔ دنیا اس مساوات اور معاشرتی عدل کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلاموں کے بارے میں متعدد مرتبہ اِرشاد فرمایا:''یہ تمہارے بھائی ہیں ...
(فأطعموہ مما تأ کلون،واکسوہ مما تکتسون) 21
''جو خود کھاؤ اُنہیں کھلاؤ،جوخود پہنو اُنہیں پہناؤ۔''


عن أبي مسعود الأنصاري قال: کنت أضرب غلامًا لي فسمعت من خلفي صوتًا: اِعلم أبا مسعود)... فالتفتُّ فإذا ھو رسول اﷲ ﷺ فقلت: یا رسول اﷲ ﷺ! ھوحرٌّ لوجه اﷲ قال: (أما [إنك] لو لم تفعل لَلَفَحَتْکَ النار) 22
''حضرت ابو مسعود انصاریؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنے غلام کو مارے جارہے تھے۔ کسی نے پیچھے سے آواز دی جا ن لے ابومسعود! اُنہوں نے مڑکر دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تھے، عرض کی: میں نے اسے آزاد کردیا، فرمایا:''اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ کی آگ تمھیں پکڑلیتی۔''
عدلِ عائلی کے بارے میں سیدہ عائشہؓ صدیقہ سے روایت ہے کہ مرض الموت کے آخری دِنوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ میرے گھر میں قیام کریں تو باقی ازواجِ مطہرات سے ایسا کرنے کی اجازت چاہی اور قیام فرمایا،23 جو عدلِ عائلی کی نمایاں مثال ہے۔یہ الگ بات ہے کہ وصال کے دن حضرت عائشہؓ کی باری ہی تھی۔


انصاف کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک مسلم اور غیرمسلم،اپنے اور بے گانے میں کوئی فرق نہ تھا۔ چنانچہ کئی بار ایسا ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے خلاف غیرمسلم کے حق میں فیصلہ دیا مثلاً ایک روایت ہے کہ ایک یہودی کا ایک مسلمان پر قرض تھا۔ اس نے غزوئہ خیبر کے دوران تقاضا شروع کردیا ۔مسلمان نے مہلت مانگی، مگر یہودی نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقروض کو فوری ادائیگی کا حکم دیا اور تعمیل نہ ہونے کی صورت میں قرض خواہ کو اس کے بعض کپڑے لے جانے کی اجازت دی۔ 24
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ منورہ آنے سے پہلے بنو قریظہ اور بنونضیر کے مابین قصاص اور دیت کے معاملات میں فرق تھا۔ چنانچہ اگر کوئی نضیری(بڑی قوم کا) کسی قرظی(چھوٹی قوم کے کسی شخص) کو ہلاک کردیتا تو نصف دیت ادا کی جاتی اور برعکس صورت میں پوری لازمی سمجھی جاتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ناانصافی کو ختم کردیا اور دونوں کے مابین اس بارے میں مساوات قائم فرمائی۔ 25
فتح خیبر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتی باڑی کا سارا کام یہودیوں کے سپرد کردیا۔ یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ مسلمان اپنا حصہ لینے کے بعد بھی ان کی فصلوں اور سبزیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اقلیت(معاہدین) کا مال مسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہے۔اس کے بعد مسلمان ان سے سبزی وغیرہ بھی قیمتاً خریدتے تھے۔ 26
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر معاملے میں عدل سے کام لیا حتیٰ کہ کسی معاہدے میں حد سے تجاوز کرنے سے روکا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کسی معاہدے میں بھی ظلم کو برداشت نہیں کیا۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمھیں کسی قوم سے جنگ لڑنی پڑے اور تم ان پر غالب آجاؤ اور وہ تم سے چند شرائط پر صلح کرلے تو تمہارے لیے ان مقررہ شرائط سے تجاوز کرنا جائز نہیں ۔ 27
(من قتل معاهدًا في غیر کنھه حرم اﷲ علیه الجنة) 28
''جس نے بلا وجہ کسی معاہد کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت کو حرام کردیا۔''

حد ود کے معا ملے میں عدلِ نبوی ﷺ
حضرت انس بن مالکؓ نے فرمایا کہ مدینہ منورہ میں ایک لڑکی یا لونڈی بالیاں پہنے ہوئے گھر سے باہر نکلی تو ایک یہودی نے اسے پتھر مارا۔ وہ لڑکی زخمی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی جبکہ ابھی اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(من قتلکِ، فلان قتلکِ؟) فقالت: لا، برأسھا قال: (من قتلك، فلان قتلك؟) قالت:لا، برأسھا۔فرفعت رأسھا فقال لھا في الثالثة: (فلان قتلکِ؟) فخفضت رأسها فدعا به رسول اﷲ فقتله بین الحجرین 29
''فلاں شخص نے تجھے قتل کیا؟ اس لڑکی نے اپنے سرکے اشارے سے کہا: نہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کس نے تجھے قتل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تجھے فلاں شخص نے قتل کیا ہے؟اس نے پھر اپنے سرسے اشارہ کیا: نہیں ۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا کہ فلاں شخص نے تجھے قتل کیا ہے؟ تو اس نے اپنا سر اثبات میں نیچے کردیا۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو بلوایا اور دوپتھروں کے درمیان رکھ کر اسے قتل کرادیا۔''


حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ اُن کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے انصارکی ایک لونڈی کا اگلا دانت توڑ دیا تو اس کے گھر والوں نے ان سے قصاص کا مطالبہ کیا۔یہ ان سے معافی کے طلب گار ہوئے، اُنہوں نے انکار کردیا۔اُنہوں نے دیت کی پیشکش کی تو اُنہوں نے اس کے لینے سے بھی انکار کردیا۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اُنہوں نے کتاب اللہ کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ کردیا۔ 30
ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ جھگڑے کا فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں قصاص کا حکم دیا۔ربیع کے بھائی، انسؓ بن مالک کے چچا،انسؓ بن نضر نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپؐ ربیع کا اگلا دانت توڑیں گے؟اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا دانت نہیں توڑیں گے۔ دوسری روایت میں ہے، آپ اس کا اگلا دانت نہیں توڑیں گے۔ جب کہ وہ اس لونڈی کے گھر والوں سے معافی اور دیت کا مطالبہ کرچکے تھے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انسؓ : کتاب اللہ قصا ص کا مطالبہ کرتی ہے۔جب ربیع کے بھائی، جوانس ؓ کے چچا اوراُحد کے شہید ہیں ، نے قسم اُٹھائی تو وہ لوگ راضی ہوگئے۔ اُنہوں نے معاف کردیا اور دیت قبول کرلی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں ، اگر وہ اللہ پر قسم ڈال دیں تو اللہ اسے ضرور پورا کرتا ہے۔ 31
ماعز بن مالکؓ کے بارے میں حدیث میں آتا ہے کہ اُنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے زنا کا اعتراف کیا: ''فأمر به أن یُّرجم''32 ''پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے رجم کرنے کا حکم دیا'' اور اُن کو رجم کردیا گیا۔ اسی طرح ایک حاملہ عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد رجم کیاگیا۔ جب یہ ثابت ہوچکا تھا کہ اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہے۔ ایک غیر شادی شدہ زانی کو سو کوڑے لگائے ، جبکہ اس کے خلاف زنا کا جرم ثابت ہوچکا تھا۔ 33
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص پیش کیا گیا جس نے صفوان بن اُمیہ کے کپڑے چوری کئے تھے۔ عدالتی جرح کے نتیجہ میں اس شخص کا جرم ثابت ہوگیا تو اسے ہاتھ کاٹنے کی سزا دی گئی۔ 34
اسی طرح فتح مکہ کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مال دار عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا:
''عن عائشة قالت: کانت امرأة مخزومیة تستعیر المتاع وتجحدہ،فأمر النبي ﷺ بقطع یدھا'' 35
''حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مخزومی قبیلے کی ایک عورت چوری کرتی تھی اور پھر انکار کرتی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ ''


دوسری روایت میں ہے کہ اس نے حضرت اُسامہؓ کی سفارش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بھیجی تو آپؐ نے خطبہ دیا اورفرمایا کہ پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ اگر بڑا آدمی چور ی کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور کمزور آدمی کو سزا دیتے اور فرمایا:
(وأیم اﷲ لو أن فاطمة بنت محمّد سرقت لقطعت یدها) 36
'' اللہ کی قسم اگر فاطمہ بنت محمد چوری کرتی تو میں اس کابھی ہاتھ کاٹ دیتا۔''


اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا جس نے دوسروں کا مال چرا لیا تھا۔ اور اس نے عدالت کے سامنے اقبالِ جرم کرلیا تھا۔ 37

عائلی زندگی کے بارے میں عدل نبوی ﷺ
عن ابن عباس قال: إن جاریة بکرًا أتت النبي فذکرت أن أباھا زوَّجھا وھي کارھة فخیَّرھا النبي ﷺ 38
''ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کے باپ نے اس کی ناپسندیدگی کے باوجود اس کا نکاح کردیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا کہ چاہے تو اپنا نکاح باقی رکھے چاہے توڑ دے۔''
عن ابن عباس قال: جاء ت امرأة ثابت بن قیس بن شماس إلی النبيﷺ فقالت: یارسول اﷲ! ما أنقم علی ثابت في دین ولا خلق، إلا أنی أخاف الکفر۔فقال رسول اﷲ: فتردین علیه حدیقته قالت: نعم فردَّت علیه وأمرہ ففارقھا 39
''ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس بن شماس کی بیوی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ثابت کے دین اور اخلاق میں کوئی عیب چینی نہیں کرتی۔ البتہ مجھے اندیشہ ہے کہ میں اس کی فرمانبرداری نہیں کر سکوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کا باغ اس کو لوٹا دے گی؟ کہنے لگی: ہاں ۔ چنانچہ اس نے باغ لوٹا دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جدائی کا فیصلہ دے دیا۔''

طلَّق رکانة بن عبد یزید أخو بني المطلب امرأته ثلاثًا في مجلس واحد فحزن علیھا حزنًا شدیدًا فسأله رسول اﷲ کیف طلقتھا؟ فقال طلقتھا ثلاثًا فقال في مجلس تلك واحدة فارجعھا إن شئت قال فراجعھا 40
''رکانہ بن عبدیزید بنو مطلب کے بھائی نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دیں ۔ پھر اسے بہت افسوس ہوا۔ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پوچھا کہ تو نے کیسے طلاق دی تھی۔ اس نے کہا: میں تین طلاقیں دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا ایک مجلس میں ؟ اس نے کہا: ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تو ایک ہے، چاہے تو رجوع کرلے،پس اس نے رجوع کرلیا۔''


لعان کے مقدمات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بصیرت افروز ارشادات ملتے ہیں ۔مثلاً
عن أبي ھریرۃ أن رجلاً أتی النبي ﷺ فقال: یارسول اﷲ! ولد لي غلام أسود، فقال:( ھل لك من إبل ؟) قال: نعم قال: (ما ألوانھا؟) قال: حمر، قال:( هل فیھا من أورق؟) قال نعم۔قال: (فأنّٰی ذلك؟) قال: لعله نزعه عِرق قال: (فَلَعلَّ ابنك ھذا نزعه) ٌ 41
''حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ہاں سیاہ رنگ کا بچہ پیدا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ کہا: ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے رنگ کیسے ہیں ۔ اس نے کہا : سرخ تو فرمایا ان میں کوئی ازرق(سیاہی مائل)ہے؟ اس نے کہا: ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کہاں سے آیا؟اس نے کہا: شاید اوپر کی نسل میں کوئی چیز ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بیٹے میں بھی شاید اسی طرح اوپر کی نسل سے کوئی چیز آگئی ہو۔''


عن عبداﷲ أن رجلا من الأنصار قذف امرأته فاحلفھما النبي صلی اﷲ علیہ وسلم ثم فرَّق بینھما 42
''حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار کے ایک مرد نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم لی ، پھر دونوں میں تفریق کرادی۔''

اسلامی نظامِ عدل وقضا کی خصوصیات
اسلام کی اس سربلندی اور عظمت کی سب سے بڑی وجہ عدل وانصاف پر مبنی اسلام کا وہ نظامِ قضا ہے جس کے تحت اسلامی مملکت کے ہرشہری کو آسان اور سستا انصاف ہر آن میسر آتا ہے کہ ہر کوئی بغیر کسی دِقت اور پریشانی کے اپنے حقوقِ ذاتی کا تحفظ آسانی سے کرسکتا ہے۔ اسلام کا یہ نظام اپنی جگہ بے مثال ہے اور ایسی خصوصیات کا حامل کہ جن میں یہ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ذیل میں انہی خصوصیات کا بیان ہے :

عدلیہ کی اسلامی اساس
کوئی بھی عدلیہ اپنے وجود کے اعتبار سے بیکار محض ہے اگر اس کی پشت پر رہنمائی کے لیے کوئی محکم اساس نہ ہو ، دوسرے لفظوں میں عدل کا معیار اور مستحکم میزان انصاف کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ اسلامی عدلیہ کی محکم اساس قرآن و سنت اور اجماع وقیاس کے اُصولِ اربعہ پر مبنی ہے۔ مسائل کے استنباط اور قوانین کے اخذ واستفادہ کے لئے قرآن وسنت کی حیثیت اُصول استناد کی ہے کہ جنہیں دین میں دلیل شرعی اور حجت ہونے کی بنا پر سند کے طور پیش کیا جاتا ہے جبکہ اجماع وقیاس اجتہاد کے بنیادی اُصول قرار پاتے ہیں کہ جن کی رہنمائی میں مجتہد اور فقیہ مسائل کے لیے محنت اور کوشش کرتا ہے۔

انفرادی حقوق کی ضمانت
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس معیاری نظامِ عدل وقضا کو دنیا کے سامنے پیش فرمایا، اس کی دوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس نظام کے ذریعہ مملکت کے ہر فرد کے حقوق کی مکمل طور پر ضمانت دی گئی ہے۔ اسی لیے یہ بات اربابِ حکومت کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ مملکت کے ہر باشندے کی عزت وآبرو، جائیداد ومال جسم وجان اور چادروچاردیواری کے تحفظ کا اہتمام کریں ۔ اور عدل وانصاف کی بنیاد پر ہر اس شخص کے حقوق کی پاسداری کا بندوبست کریں جو اس مملکت کا شہری ہے ورنہ وہ نااہل تصورہوں گے اور اپنی کوتاہیوں اور فرائض سے غفلت پر اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے
إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ‌كُمْ أَن تُؤَدُّوا ٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِٱلْعَدْلِ...﴿٥٨﴾...سورۃ النساء 43
''بلاشبہ تم کو اللہ اس بات کا حکم دیتا ہے کہ تم اہل حقوق کو ان کے حقوق پہنچادو اور جب لوگوں میں تصفیہ کرنے بیٹھو تو انصاف کے ساتھ تصفیہ کرو۔''

شخصی آزادی
اسلامی عدل وانصاف کی ایک بہت ہی خوبصورت خوبی شخصی آزادی کا ہونا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر فرد کو ہر قسم کے حاکمانہ جبرو استحصال سے نجات دلائی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی واقعہ شخصی آزادی کے تحفظ کے لیے کافی ہے:
عن بھز بن حکیم عن أبیه عن جدہ أن أخاہ أو عمّه قام إلی النبي ﷺ وھو یخطب فقال: جیراني بما أخذوا؟ فأعرض عنه مرتین ثم ذکرما شاء فقال النبي ﷺ خلُّوا لہ عن جیرانه 44
''بہزبن حکیم ؓ اپنے باپ سے اوروہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (والد کے بھائی یعنی چچا) حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے درآنحالے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ اُنہوں نے سوال کیا میرے پڑوسیوں کو کس قصور میں گرفتار کیا گیا ہے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دو مرتبہ سے صرفِ نظر کیا۔ تو اس شخص نے پھر کچھ کہا ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے پڑوسیوں کو چھوڑدو۔''
نبوی معاہدات کا مجموعہ 'میثاقِ مدینہ' رائے اور مسلک کی آزادی کا بہترین نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ پورا خطبہ حجۃ الوداع انسانی حقوق کے تحفظ کا عظیم اوّلین چارٹر ہے۔

قانون کی حکومت
اسلامی نظامِ عدل وقضا کی تیسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں پر آزاد، غلام، امیر، غریب، کمزور، توانا، کالے، گورے یا حاکم ومحکوم کی کوئی تفریق نہیں اور قانون کی نظر میں سب کے سب برابرکی حیثیت کے مالک ہیں ۔اس نظام میں بادشاہ یا امیر مملکت بھی عدالت کے روبرو ویسے ہی کٹہرے میں کھڑا ہوگا جس طرح ایک عام آدمی کھڑا ہوتا ہے اور اپنے مقدمے کی پیروی کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابی ابن کعبؓ کے ساتھ مقدمہ کے وقت امیر المومنین حضرت عمرؓ بن خطاب جب حضرت زیدؓ بن ثابت کی عدالت میں پہنچے تو آپ کو دیکھ کر حضرت زیدؓ نے درمیان میں فرش پر جگہ کشادہ کردی اور عرض کیا: امیر المومنین! یہاں تشریف رکھئے۔ یہ بات آپؓ کو ناگوار گزری جس پر آپ نے فرمایا:
ھٰذا أوّل جورٍ جریت في حکمك ولکن أجلس مع خصمي'' 45
''یہ پہلا ظلم ہے جو تمہارے فیصلے میں ہوا ہے میں تو اپنے مدمقابل کے ساتھ ہی بیٹھوں گا ۔''

آسان اور سستا انصاف
حضرت معاذ بن جبلؓ کو جب حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو موسیٰ کے ہمراہ یمن کا گورنر بنا کر روانہ فرمایا تو دونوں کو وصیت فرمائی :
''یسّرا ولا تُعسّرا وبشرا ولا تنفرا وتطاوعا'' 46
''نرمی برتنا، دشواری پیدا نہ کرنا،خوشخبری سنانا، نفرت انگیزی نہ کرنا اور باہم متحد رہنا۔''
اس لیے یہ بات ہرگز جائز نہیں ہے کہ عوام کے لیے انصاف کے حصول کو مشکل بنادیا جائے اور ایسے قواعدوضوابط وضع کیے جائیں جن سے عام آدمی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے دوسروں کا دست نگر ہو کر رہ جائے اور عدل وانصاف تک نہ پہنچ سکے۔

پاکستان میں عدل وانصاف کے ادارے

  1. 15؍جولائی1947ء کو برطانوی پارلیمنٹ میں مسودہ 'قانون استقلالِ ہند' منظور ہوا۔ 18؍جولائی کو شاہِ انگلستان نے اس کی منظوری دی۔ عارضی دستور کے طور پر کام دینے کے لیے 'گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء' کی ترمیم کی گئی جو اگست1947ء سے دونوں نوآبادیوں میں 'انڈیا آرڈر1947ء 'کی رو سے نافذ کیا گیا۔ 47
  2. فیڈرل کورٹ کا قیام:ایکٹ1935ء کے تحت ایک فیڈرل کورٹ قائم کیا گیا جو صوبوں اور ریاستوں کے قانونی تصفیوں کا ذمہ دار تھا۔ یہ ایک چیف جسٹس اور چھ ججوں پر مشتمل تھا۔ اس کا کام یہ بھی تھا کہ صوبوں اور فیڈرل اسمبلی کے دائرہ کار کو آئینی حدود سے باہر نہ نکلنے دے۔ 48
  3. چنانچہ قیام پاکستان کے بعد 1935ء کے ایکٹ کو ہی چند ترامیم کرکے پاکستان کے عبوری آئین کے طور پر اختیار کیا گیا۔22؍مارچ1949ء کو لیاقت علی خاں کی تحریک پر آئین ساز اسمبلی نے مولانا عثمانی کے لیاقت علی خاں وسردار عبدالربّ نشتر کے ساتھ مل کر اقتدارِ اعلیٰ، جمہوریت، بنیادی حقوق اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق قرار دادِ مقاصد مرتب کی اور اسے منظور کر کے پاکستان کی نظریاتی سمت کا تعین کردیا۔ 49
  4. 1956ء کے تحت سپریم کورٹ،پاکستا ن کا قیام عمل میں آیا اور اسکو اعلیٰ اختیارات دئیے گئے۔
  5. مرکزی عدالتی نظام:1962ء کے آئین کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ عدلیہ آزاد تھی ۔آئین کی رو سے پاکستان میں ایک سپریم کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ایک چیف جسٹس اور دیگر ججوں پر مشتمل تھا اور جن کی تعداد کا تعین بذریعہ قانون کیا گیا۔سپریم کورٹ پاکستان کی سب سے اعلیٰ ترین عدالت تھی۔ آئین کے تحت سپریم کورٹ کو اس کا اختیار تھا کہ وہ مرکزی مقننہ کے کسی ایکٹ کے احکام اور مرتب کردہ قواعد کے تابع کسی فیصلے یا حکم کی، جو اس نے صادر کیا ہو، نظرثانی کر سکے۔(آئین پاکستان1962ء)
  6. صوبائی عدالتی نظام: یہ قرار دیا گیا کہ ایک ہائی کورٹ کے جج کو صدر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور متعلقہ صوبے کے گورنر سے مشورہ کے بعد مقرر کریں گے۔ ہائی کورٹ کے جج کے لیے پاکستان کا شہری ہونا لازم قرار دیا گیا۔
  7. 1973ء کا آئین اور عدلیہ: دستورمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کااسلام کو سرکاری مذہب قرار دیا گیا ۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا قیام عمل میں لایاگیا اور عدلیہ کی آزادی کو برقرار رکھا گیا۔
  8. 1973ء کے آئین میں ترامیم اور عدالتی نظام: تیسری ترمیم1975ء: اس ترمیم کے ذریعے امتناعی نظر بندی کے قوانین میں ردّوبدل کیا گیا۔ چوتھی ترمیم975ء امتناعی نظربندی کے قوانین میں مزید ردّوبدل کی گئی۔ پانچویں ترمیم1976ء چیف جسٹس سپریم کورٹ و ہائی کورٹس اور جج صاحبان کے عہدہ کی معیاد ریٹائر منٹ کی شرط میں تبدیلی کی گئی۔چھٹی ترمیم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان ہائی کورٹ کے اختیارات میں کمی کی گئی۔
  9. وفاقی شرعی عدالت: 198۰ء میں اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے وفاقی شرعی عدالت کا قیام عمل میں لایا گیا ۔
  10. بارہویں ترمیم1991ئ:گھناؤنے،وحشیانہ جرائم میں ملوث افراد کے مقدمات کی تیزی سے سماعت کے لیے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت قائم کی گئی۔

پاکستانی عدالتوں کی تقسیم
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدالتوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
  • ضابطۂ فوجداری کے تحت فوجداری عدالتوں پر قائم نظام عدالت
  • ضابطۂ دیوانی کے تحت دیوانی عدالتوں کا نظام

عدالت ِ فوجداری کی ذمہ داری: مجموعہ ضابطہ فوجداری تعزیری قوانین کا ایک مکمل ضابطہ ہے جو ایسے جرائم سے متعلق ہے جو ملکی معاشرے پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ مثلاًقتل غارت گری، چوری، ڈکیتی، اغوا ،دھوکہ دہی اور بدکاری وغیرہ۔
عدالت ِ دیوانی کی ذمہ داری:وہ مقدمے جو ترکے ،جائیداد کی تقسیم، جائیدادوں کے رہن، خریدوفروخت اور انتقال وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ، دیوانی مقدمات کہلاتے ہیں ۔
اس کے علاوہ بھی چند ایسی عدالتیں ہیں جو پاکستان میں انصاف فراہم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں مثلاًجرگہ، پنچائیت، مصالحتی عدالتیں ،دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں ، افواجِ پاکستان کی عدالتیں ،لیبرکورٹس،قاضی عدالتیں ، شریعت کورٹس،سروس ٹریبونلز اور اس کے علاوہ نابالغ مجرمان کی عدالتیں ۔قبل اس کے کہ ہم دونوں قسم کی عدالتوں کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کریں ، اس امر کی نشاندہی ضروری ہے کہ پاکستان کے موجودہ نظام ہاے عدالت کی بنیاد برطانوی قانون دان لارڈ میکالے کے وضع کردہ قانونی نظام پر رکھی گئی ہے۔ جس نظامِ عدل کو انگریز حکمرانوں نے برصغیر پاک وہند میں رائج کیا تھا، وہی نظامِ عدل قیامِ پاکستان کے بعد بھی قائم رکھا گیا، گو کہ اس میں چند ترامیم بھی کی گئیں تاہم بنیادی طور پر انگریزی قانونی وعدالتی نظام ہی پاکستان میں رائج رہا ہے۔

سنٹرل جوڈیشل سسٹم (Central Judicial System)
مرکزی عدالتی نظام:1962ء کے آئین کی رو سے پاکستان میں ایک سپریم کورٹ کا قیام عمل میں لایا گیا جو ایک چیف جسٹس اور دیگر ججوں پر مشتمل تھا اور جن کی تعداد کا تعین بذریعہ قانون کیا گیا۔ سپریم کورٹ پاکستان کی سب سے اعلیٰ عدالت ہے:
The Supreme Court of Pakistan
(Introduction) "The Supreme Court shall consist of chief Justice to be known as the Chief Justice of Pakistan and so many other judeges as may be determined by Act of [Majlis-e-Shora or Parliment] or, until so determined as may be fixed by the president 50.–
''عدالت ِعظمیٰ ایک چیف جسٹس پر مشتمل ہوگی جسے چیف جسٹس آف پاکستان کہا جائے گا۔ اور اتنے دیگر ججوں پر مشتمل ہوگی جس کی تعداد مجلس شوریٰ کے ایکٹ کے ذریعہ متعین کی جائے یا اس طرح تعین ہونے تک جو صدر مقرر کرے۔''
تشریح:عدالت ِعظمیٰ پاکستان میں عدل وانصاف کا اعلیٰ ترین ادارہ ہے، اسے یہ نام1956ء کے آئین کے تحت دیا گیا تھا۔ اس سے قبل اسے 'فیڈرل کورٹ آف پاکستان' کہا جاتا تھا۔ 1962ء اور 1973ء کے دساتیر میں بھی اس کا نام بدستور عدالت ِعظمیٰ (سپریم کورٹ) ہی رہنے دیا گیا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر صدرِ مملکت کرتا ہے۔

پاکستان میں ضابطہ دیوانی کے تحت قائم کردہ دیوانی عدالتیں
دیوانی عدل: اگر وہ فعل یا ناجائز ترکِ فعل جس سے حق تلفی ہوئی ہو، جرم کی تعریف میں نہ آتا ہو یا سزا دلانے سے اس کو جس کی حق تلفی ہوئی ہے، کو ئی خاص فائدہ نظر نہ آئے تودیوانی عدالت میں چارہ جوئی کرنا مناسب ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو دیوانی عدالتیں قائم ہیں ، وہ مندرجہ ذیل ہیں :
عدالت ِ عالیہ(High Court): اس سے مراد کسی مقامی رقبہ یا علاقہ کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ عدالت ِعالیہ میں وہ عدالتیں شامل ہیں جن کو صوبائی حکومت وقتاً فوقتاً بذریعہ اشتہار عدالت ِعالیہ قرار دیں ۔ عدالت ِعالیہ اور دوسری عدالتوں میں فرق طریقۂ کار اور اختیارات کے استعمال کی نوعیت کا ہے۔ پاکستان میں چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس موجودہیں ، جس میں ابھی حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا اضافہ بھی کردیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ سیشن جج (District Judge):ہر ضلع میں سب سے بڑی عدالت ڈسٹرکٹ جج کی ہوتی ہے ۔کراچی کو چھوڑ کر سارے ڈسٹرکٹ کورٹ 'اپیل کی عدالت' ہوتی ہے۔ ڈسٹرکٹ جج کی عدالت کے علاوہ چند دوسری عدالتیں بھی ضابطہ دیوانی کے تحت پاکستان میں قائم ہیں ۔
سینئرسول جج(Senior Civil Judge):یہ ڈسٹرکٹ جج کی طرف سے ضلع کی دیوانی عدالتوں کی نگرانی کرتا ہے ۔ایسے جج کے فیصلے کیخلاف ڈسٹرکٹ کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔
سول جج درجہ اوّل(First Class Civil Judge): یہ ڈسٹرکٹ جج کی طرف سے ضلع کی دیوانی عدالتوں کی نگرانی کرتا ہے۔ سینئر سول جج کے فیصلے کے خلاف اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی جاسکتی ہے۔
سول جج درجہ دوم(Second Class Civil Judge):سول جج درجہ دوم پانچ ہزار روپے تک کی مالیت کے مقدمات کی سماعت کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے فیصلوں کے خلاف بھی اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ میں کی جاسکتی ہے۔
سول جج درجہ سوم(Third Class Civil Judge):صرف دوہزار روپے تک کے مقدمات کی سماعت کا اختیار رکھتا ہے۔ اس کے فیصلوں کے خلاف اپیل سینئر سول جج کی عدالت میں کی جاسکت ہے۔
عدالت ِخفیفہ:دیوانی وفوجداری اور سیشن عدالتوں کے علاوہ ضلع میں حسب ِضرورت عدالت ہائے خفیفہ ہوتی ہیں ۔ اس قسم کی عدالتوں کو پانچ سوروپے تک مالی اور دیوانی معاملات کی سماعت کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ جن اضلاع میں عدالت ِہائے خفیفہ ہیں ، وہاں کا کام ایڈیشنل سول جج کی عدالت سرانجام دیتی ہیں ۔51
ان عدالتوں کے علاوہ بھی پاکستان میں دیوانی اختیارات کی حامل عدالتیں ہیں ۔ اَراضی یا اس کی پیداوار کے متعلق مالک و مزارع میں جو تنازعات ہوتے ہیں ، ان کا تصفیہ مال گزاری کی عدالتیں کرتی ہیں ۔ مال گزاری کی عدالتیں حسب ِذیل ہوتی ہیں :

  • کلکٹر کی عدالت
  • ڈپٹی کلکٹر کی عدالت
  • اسسٹنٹ کلکٹر کی عدالت
  • سب ڈویژنل افسر کی عدالت
  • تحصیل دار کی عدالت
  • نائب تحصیلدار کی عدالت

صوبہ میں مال گزاری کے مقدمات کی سماعت کے لیے سب سے بااختیار ادارہ 'ریونیوبورڈ' ہے۔ بورڈ کے فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی۔

فوجداری عدالتوں کی تقسیم
ہائی کورٹ(High Court)اور ان دیگر عدالتوں کے علاوہ جو کسی قانون نافذ الوقت کے تحت قائم کی جائیں ، پاکستان میں پانچ قسموں کی فوجداری عدالتیں ہوں گی:

  1. عدالت ہائے سیشن کورٹ
  2. پریزیڈنسی مجسٹریٹ(حذف ہوئی)
  3. مجسٹریٹ درجہ اوّل
  4. مجسٹریٹ درجہ دوم
  5. مجسٹریٹ درجہ سوم اور خصوصی مجسٹریٹ

سیشن کورٹ:ضلع کی سطح پر فوجداری مقدمات کے سلسلے میں سب سے بڑی عدالت سیشن عدالت ہوتی ہے۔ یہ عدالت سزاے موت تک دے سکتی ہیلیکن اس پر عمل درآمد سے پہلے ہائی کورٹ کی توثیق ضروری ہے۔ سیشن کورٹ ماتحت عدالتوں یعنی مجسٹریٹوں کی عدالتوں کے خلاف اپیل سننے کا اختیار رکھتی ہے۔
بنیادی طور پر پاکستان میں ضابطہ دیوانی اور فوجداری کی عدالتیں اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور وہی دومجموعہ ہائے قانون یعنی ضابطہ دیوانی اور ضابطہ فوجداری نافذ العمل ہے۔


ضابطہ دیوانی اور فوجداری کی چند مخصوص عدالتیں
ضابطہ دیوانی اور فوجداری کی چند مخصوص عدالتیں بھی ہیں جو بنیادی طور پر ضابطہ فوجداری اور دیوانی کے تحت ہی کام کرتی ہیں اور پاکستان کے نظام کا حصہ ہیں جن میں مندرجہ ذیل عدالتیں قائم ہیں :

  • مصالحتی عدالتیں
  • نابالغ مجرموں کی عالتیں
  • قاضی عدالتیں
  • لیبر کورٹس
  • انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں
  • قاضی ،محتسب کی عدالتیں
  • فیملی کورٹس
  • نارکوٹکس(منشیات)کی عدالتیں
  • جرگہ اور پنچائیت کی عدالتیں
  • قاضی شرعی عدالت
  • افواجِ پاکستان کی عدالتیں
  • سروس ٹریبونلز وغیرہ

مجموعہ تعزیراتِ پاکستان کے تحت پاکستانی عدالتیں مندرجہ ذیل سزائیں صادر کرسکتی ہیں :

  • قصاص
  • دیت
  • اَرش
  • ضمان
  • تعزیر
  • موت
  • عمرقید

سزاے قید جو دوقسم پر مشتمل ہے:
قید بامشقت قید محض ضبطی جائیداد جرمانہ
اس وقت بشمول چیف جسٹس فل بینچ میں بارہ جج صاحبان شامل ہیں ۔ عدالت ِعظمیٰ کاکوئی فیصلہ جس حد تک کہ اس میں کسی امر قانونی کا تصفیہ کیا گیا ہو یا وہ کسی اُصولِ قانون پر مبنی ہو یا اس کی وضاحت کرتا ہو،پاکستان میں تمام دوسری عدالتوں کے لیے واجب التعمیل ہوگا۔52
اسلام نے اپنے ابدی قوانین کو اسلامی معاشرے کے لیے رائج کیا اور اس کے فوائد آج چودہ سوسال گزرنے کے باوجود قائم ودائم ہیں ۔ قیامِ پاکستان کے بعد حکومتوں نے بیرونی استعماری طاقتوں کی سازش پر ایسا ماحول ملک کے اندر پیدا کردیا کہ عوام میں یہ رائے پیدا کی جانے لگی کہ اسلامی نظام کا نفاذ اس ملک کے لیے ممکن اور موزوں نہیں ہے۔یہاں پرپہلے ہمارے عدالتی نظام کی چند خامیاں بیان کی جاتی ہیں اور بعد ازاں چند ایک تجاویز پیش کی جاتی ہیں جو پاکستان میں اسلامی نظامِ عدل قائم کرنے کے لیے فائدہ مند ہوں گی۔

موجودہ عدالتی نظام کی خامیاں

  1. اسلامی عدالتی نظام کے برعکس پاکستان میں مروّجہ نظام ہائے عدالت آزاد وخود مختار نہیں ہے۔ پاکستان کے تمام دساتیر جب بنائے گئے، عدالتو ں میں عدلیہ کی آزادی اور خودمختاری کے وعدے تو کیے گئے مگر ان پر عمل درآمد نہ کیا گیا۔ 1973ء کے آئین میں بھی اس بات کی تائید توموجود تھی مگر تاحال اس پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔
  2. پاکستان میں عدالتیں سربراہِ مملکت ،وزیر اعظم، گورنر اور وزرا کے خلاف مقدمات ازخود چلانے کی مجاز نہیں ہیں ۔ اعلیٰ حکام کے خلاف حکومت سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح غیر ملکی سفرا کے خلاف مقدمات بھی نہیں چلائے جاسکتے، یہ امتیازی سلوک کی واضح مثالیں ہیں ۔
  3. ججوں کی اسامیاں بعض دفعہ میرٹ کی بجائے سیاسی بنیادوں پر پُرکرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومتیں عدلیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں ۔ ماتحت عدالتوں میں مجسٹریٹ انتظامیہ کے ماتحت ہوتے ہیں ۔
  4. پاکستان میں مروّجہ عدالتی نظام انتہائی پیچیدہ ہے جس کی وجہ سے مقدمات طول پکڑتے ہیں اور نتیجتاً ملزمان سزا سے بچ نکلتے ہیں ۔
  5. شہادت کا نظام انتہائی ناقص ہے، گواہ عدالتوں میں پیش ہی نہیں ہوتے۔ پولیس چالان داخلِ عدالت کرنے میں تاخیر کرتی ہے۔ گواہوں کی جانچ اور پرکھنے کا کوئی معیار ونظام مقرر نہیں ہے۔
  6. ملزمان کی طرف سے سرکاری و کلا پیروی نہیں کرتے ہیں اور ذاتی مفادات، حکومتی پالیسی کو ترجیح دیتے ہیں ۔ نیز صحیح طور پر مقدمات کی پیروی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔
  7. ماتحت عدالتیں بلاجواز ملزم کو ریمانڈ کے ذریعے حوالہ پولیس کردیتی ہیں ۔
  8. جیل سے قیدیوں کو پیش کرنے کا نظام ناقص ہونے کی وجہ سے عدالتیں ہر تاریخ سماعت پر سماعت ملتوی کرنے پر مجبور ہوتی ہیں ۔
  9. ماتحت عدالتوں کے افسران انتظامی افسران ہونے کی وجہ سے لاء اینڈ آرڈر کنٹرول کرنے میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے عدلیہ سے متعلق اُمور تاخیر کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
  10. عدالتوں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے ایک عدالت میں کافی تعداد میں مقدمات زیر سماعت رہتے ہیں جس کی وجہ سے عدالتیں ان پر مکمل توجہ نہیں دے پاتیں ۔
  11. عدالتوں پر حکومتی وسیاسی دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔جس کی بنا پر عدالتیں یڈ اپنے آزادانہ فیصلوں میں دشواری محسوس کرتی ہیں ۔
  12. عدالتی افسران، اہلکاروں کی تنخواہیں اور مراعات معاشرتی ضرورتوں سے ہم آہنگی نہیں رکھتیں ۔
  13. عدالتوں کے جج صاحبان کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتااور ان کی زندگیوں کو ہر وقت خطرہ لاحق رہتا ہے۔
  14. ہمارے عدالتی نظام کے اندر ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ایک ملک کے اندر مختلف قوانین چل رہے ہیں ، کہیں انگریزی قوانین کے مطابق فیصلہ ہورہا ہے، کہیں شریعت کے مطابق ،ایک ہی کیس میں اپیل کے لیے اتنے سارے فورم ہیں کہ فیصلے پر عمل درآمد دشوار ہو جاتاہے۔ 53
  15. سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی اسلامی ریاست میں قرآن وسنت ہی عدل وانصاف کی بنیاد اور میزان قرار پا سکتے ہیں ، جبکہ خدا بیزار انسانی قوانین معاشرے میں حقیقی عدل وانصاف قائم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں ۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اللہ اور اس کے رسول کو ہی اپنا حکم تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی او رگنجائش موجود نہیں ہے۔ اس لحاظ سے قیام پاکستان کی اساس کو مد نظر رکھتے ہوئے مسلمانوں کی بنیادی ضرورت یعنی نفاذِ شریعت کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور یہی پاکستان میں عدل کی ناگفتہ بہ حالت کی سب سے بڑی وجہ ہے۔


پاکستان کے عدالتی نظام کی اصلاح کے لیے تجاویز

  1.  سب سے پہلی تجویز یہ ہے کہ اسلامی نظامِ عدالت رائج کیا جائے۔ تحصیل اور ضلعی سطح پر قاضی کو رٹس قائم کی جائیں ۔ اور ہر تھانہ میں قاضی کورٹ ہو، جہاں سرکاری وکیل تعینات ہوں ، سیکولر بنیادوں پر نافذ قوانین کو اولین فرصت میں ختم کرکے شریعت اسلامیہ کا نفاذ کیا جائے۔
  2. وفاقی شرعی عدالت کو سپریم کورٹ میں ضم کرکے اس کے ججوں کو سپریم کورٹ کے ججوں کے برابر تسلیم کیا جائے، ہر ہائی کورٹ میں کم از کم ایک تہائی تعداد مفتیوں کی ہو۔
  3. اسلامی نظریاتی کونسل کو مزید فعال بنایا جائے۔ اگر کسی قانون کی کوئی دفعہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی نظرمیں فیصلے میں اس کا تذکرہ کردے اور متعلقہ حصہ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دے تو کونسل کے لیے لازمی ہو کہ وہ ایک مہینے کے اندر اندر اپنی رپورٹ اسمبلی اور کورٹ کو بھیج دے۔
  4. عدالتی آسامیاں اہل، قابل، دیانت دار ،محنتی اور اسلامی قانون کے ماہرین سے پر کی جائیں ۔ سفارش اور اقربا پروری عدلیہ کے لیے جائز نہیں ہے بلکہ ایک جج کے لیے ضروری ہے کہ قرآن وسنت اور فقہ کا ماہر ہو اور جدید تعلیم سے آشنا ہو، کیونکہ عدل کی میزان کتاب وسنت ہیں اور جج انہی کی بنا پر فیصلہ کرکے اپنی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوسکتا ہے۔
  5. شہادت کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ ملزم کو عدالت میں بروقت پیش کیا جائے۔ اس کے ساتھ گواہان اور مثل مقدمہ پیش کیا جائے تاکہ تاخیر نہ ہو، بلاجواز ریمانڈ نہ دیا جائے۔ جو عدالت ملزم کو جیل بھیجے، اس کی نگہبان بھی وہی عدالت ہو جو اس کا ریکارڈ رکھے اور اُسے عدالت میں منگوانے کا انتظام کرے یا جیل میں جاکر اس کا فیصلہ کردے۔
  6. عدلیہ اور انتظامیہ کو الگ الگ کیا جائے۔ انتظامیہ کی ذمہ داری امن وامان کا قائم رکھنا اور ریونیواکٹھا کرنا ہو جبکہ عدالتیں صرف عدالتی کام کریں ۔ عدالتی افسران کیلئے ایل ایل بی، قرآن وحدیث ، فقہ اسلامی اور مسلم قاضیوں کے فیصلوں سے آگاہی لازمی قرار دی جائے۔
  7. جج صاحبان کو خصوصی مراعات دی جائیں ۔ان کی تنخواہوں اور مراعات کو معاشی ومعاشرتی ضروریات کے مطابق کیا جائے۔ جج صاحبان کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر فیصلے کرسکیں ۔
  8. عدالتوں کو سیاسی اور حکومتی دباؤ سے آزاد رکھا جائے تاکہ وہ بلاخوف وخطر فیصلے کرسکیں ۔
  9. عدالتوں کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے۔ قوانین میں تبدیلی کی جائے تاکہ سربراہِ مملکت، اعلیٰ حکام، وزرا اور سفرا وغیرہ پر مقدمہ چلانے کے لیے اجازت کی ضرورت نہ رہے۔ امتیازی سلوک کو ختم کیا جائے اور قانون کی نظر میں عام شہری حکمران طبقے کے برابر ہو۔
  10. جرائم میں ملوث یا غفلت ورشوت ستانی کے مرتکب افسران اور اہلکاروں کو عبرتناک سزادی جائے۔
  11. ایف آئی آر درج کرنا انتہائی آسان ہو اور پولیس کی طرف سے ایف آئی آر درج ہونے کے پندرہ دن کے اندر اندر مقدمہ کا چالان عدالت میں پیش ہونا چاہیے، خواہ چالان مکمل ہو یا نامکمل ہو۔ عدالت چاہے تو چالان مکمل کرنے کے لیے مزید ایک مہینہ دے سکتی ہے۔ مقدمے کی مکمل سماعت ایک مہینے کے اندر اندر شروع کی جائے اور اس کی سماعت سے پہلے ساری کاغذی کاروائیاں مکمل ہونی چاہیے۔
  12. مقدمات کی تاریخوں کا موجودہ طریقہ کار بالکل ختم کیا جانا چاہیے۔ ایک دفعہ مقدمہ کی سماعت شروع ہوجائے تو پھر یہ سماعت مسلسل اس وقت تک جاری رہنی چاہیے جب تک تمام گواہوں کے بیانات اور وکیلوں کی بحث ختم نہ ہوجائے۔ مقدمہ کی سماعت مکمل ہونے کے پندرہ دِن کے اندر اندر فیصلہ سنانا ضروری ہو۔ اس طریقے سے کوئی بھی مقدمہ چھ مہینے سے زیادہ نہیں لے گا۔کوشش کی جائے کہ مقدمہ ایک ماہ میں ختم ہو۔
  13. اگر کسی تحصیل ہیڈکوارٹر میں ایک فوجداری اور ایک دیوانی سیشن جج پر کام کا بوجھ زیادہ ہے تو وہاں دویادو سے زیادہ سیشن ججوں کو تعینات کیا جائے۔ مقدمات کی سماعت مختصر اور آسان ہو۔
  14. وکلا کی فیسیں عام آدمی کو انصاف کی راہ سے دور رکھتی ہیں ۔ پاکستان میں غربت انصاف کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے۔ وکلا صاحبان کی فیسیں اس قدر زیادہ ہیں کہ ایک غریب آدمی کے لیے انصاف حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی طرف سے وکیل کے اخراجات ادا کرے۔
  15. وفاقی محتسب کے ادارے کو مزید فعال بنایا جائے۔ جہاں صرف ایک سادہ درخواست لکھ دینے سے انسان کے لیے انصاف کا راستہ نکل آتا ہے جس سے سرکاری محکموں کی ناانصافیوں کے خلاف عام آدمی کو انصاف مہیا ہونے میں آسانی پیدا ہوگی۔
  16. تمام عدالتوں کے ججوں کے لیے یہ اُصول اختیار کیا جائے کہ اگر وہ مقرر وقت کے اندر کیس کا فیصلہ نہیں کریں گے تو یہ ان کا ایک ڈِس کریڈٹ شمار ہو۔ ان کو لازماً انصاف کی فوری فراہمی کا بندوبست کرنا چاہیے۔ ججوں کو اضافی وقت صرف کرنے کا اضافی معاوضہ دیا جائے۔ اس سے ان کی استعدادِ کار میں اضافہ ہوگا۔
  17. بعض وکلا اپنے مؤکلین کے فائدے کے لئے تاخیری حربوں کا سہارا لیتے ہیں ،اگر ایک جج چاہے تو ان چیزوں کو بڑی آسانی سے کنٹرول کرسکتا ہے۔
  18. ترقی یافتہ ممالک میں وکلا گروپ کی شکل میں پریکٹس کرتے ہیں ۔اس طرح کسی وکیل کی بیماری یا چھٹی کو وجہ سے کیس کی سماعت پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ اس لیے پاکستان میں بھی وکلا گروپ کی شکل میں اگر پریکٹس کریں گے تو ایک وکیل کی غیر حاضری میں دوسرا وکیل کیس کو چلاسکے گا اور مقدمات کا فیصلہ بروقت ہوجائے گا۔
  19. محکمہ پولیس کی اصلاح کی جائے،کیونکہ ملزمان عدالت میں پہنچ کرنا کارہ شہادتوں کی ناقص کاروائیوں اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے بری ہوجاتے ہیں اصل ملزم کے گرفتار ہونے اور سزا یاب ہونے کا مکمل انحصار پولیس کی تفتیش اور عدالت میں مقدمہ کی پیروی پر منحصر ہے۔ اگر صحیح خطوط پر تفتیش ہوا اور صحیح معنوں میں مقدمہ کی پیروی ہو تو ملزم سزا سے بری ہوجاتے ہیں ۔ پولیس مقدمہ درج ہی نہیں کرتی۔ مدعی مقدمہ درج کرانے کے لیے سفارش کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے، اکثر ا صلی مجرم پولیس کی غلط تفتیش،غلط کاروائی، غلط رپورٹنگ اور عدم پیروی سے سزا سے بچ جاتے ہیں ۔
  20. جیلوں کی اصلاح کی جائے، جیل میں قیدیوں کو رکھنے کا مقصد ان کی اصلاح کرنا ہے۔ ان کے کیے کی سزا دینا اور دوسروں کو عبرت دینا وغیرہ۔ اسلامی نظام میں جیل کا مقصد اصلاح وتربیت گاہ اور عبرت گاہ ہے۔ جیل سے سزا کاٹ کر ایک صحیح انسان بن کر باہر نکلے اور وہ معاشرے کے لیے پریشانی کا باعث نہ ہواور ناسور نہ رہے جب کہ ہمارے ہاں اکثر لوگ جیل سے واپسی پر بڑے مجرم بن کر آتے ہیں ۔
  21. جیل حکام ملزموں کو بروقت پیشی پر پیش نہیں کرتے جس کی وجہ سے بے گناہ اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ جیل میں قیدیوں کی اخلاقی، مذہبی،علمی اور فنی تعلیم وتربیت کے لیے کوئی معقول بندوبست نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان کی صحت وصفائی اور خوراک کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں تھانے اور جیںی مجرم کو مزید مجرمانہ ٹریننگ مہیا کرنے کے ادارے کا کام کرتے ہیں ۔
  22. سرکاری وکلاء کی کارکردگی بہتر بنائی جائے، سیشن کے سرکاری وکلاء کا ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے کیونکہ وہ زیادہ تر اپنے ذاتی مقدمات میں زیادہ محنت اور وقت صرف کرتے ہیں اور سرکاری مقدمات کے لیے فیس کم ہونے کی بناء پر زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ انہیں کل وقتی وکیل مقرر کیا جائے، تاکہ وہ ان مقدمات پر توجہ دے سکیں اور انہیں اچھی تنخواہیں اور مراعات دی جائیں تاکہ وہ دل جمعی سے کام کرسکیں اور بدعنوانی میں ملوث نہ ہوں ۔
  23. تعزیراتِ پاکستان، جو مغربی رنگ لیے ہوئے ہے اس کی جگہ اسلامی حدودو تعزیرات نافذ کی جائیں ۔ تعزیراتِ پاکستان میں مقدار کے لحاظ سے سزائیں بہت کم ہیں ، خصوصاً کوڑوں کی سزا سواے حدود آرڈیننس کے شامل نہیں ہے۔ اسلامی قوانین کے مطابق حاکم، سرکاری اہلکار وغیر ہ سب کے سب عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں جب کہ مغربی قوانین کے مطابق سربراہِ مملکت، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ ، گورنر کے خلاف تو عدالتیں کاروائی نہیں کرسکتیں جب کہ سرکاری افسروں کے لیے پہلے مرکز یا صوبائی حکومتوں سے اِجازت لینا پڑتی ہے جو کہ عدل وانصاف کے تقاضوں کے منافی ہے،لہٰذا ضروری ہے کہ ایک عام آدمی سے لے کر سربراہِ مملکت تک شہریوں اورحکام کو عدالت کے سامنے جوابدہ بنایا جائے۔ایسی تمام مستثنیات خواہ تعزیراتِ پاکستان، ضابطہ فوجداری یا آئین میں جومود ہیں منسوخ کی جائیں تاکہ یکسانیت او ر مساوات پیدا ہو،تاکہ عدل وانصاف میں تمام اَفراد برابر ہوسکیں ۔ 54

یہی اسلام کی تعلیم اور اسلامی عدل کا طرۂ امتیاز ہے۔


حوالہ جات

1. الشوریٰ: 15
2. الاعراف: 29
3. المائدة: 42
4. شبلی نعمانی، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم (مکتبہ رحمانیہ،لاہور)502
5. عباس محمود العقادمصری،علی بن ابی طالب،ترجمہ مولانا فتح پوری(نفیس اکیڈمی،لاہور)ص259
6. ابوداؤد،السنن،ص516،حدیث نمبر3592۔ ( حدیث ضعیف)
7. ابوالحسن،علی بن محمد بن حبیب،الأحکام السلطانیة(دارالطباعت عثمانیہ،لاہور)ص21
8. ابن خلدون،عبدالرحمن، المقدمة (مصطفی محمد القاہرہ،1329ھ)
9. ابوداؤد،السنن،ص426،حدیث نمبر2931
10. محمد حمید اللہ ، عہد ِنبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں نظام حکمرانی (مکتبہ ابراہیمہ،حیدرآباد دکن)841
11. ڈاکٹر لُوتھر،جدید دنیاے اسلام(بحوالہ مقالات سیرت،نویں قومی کانفرنس،اسلام آباد)ص165
12. ابو داؤد،السنن،ص449،حدیث نمبر3067
13. المائدہ:42،43
14. ابوداؤد،السنن ،ص641،حدیث نمبر4536
15. ایضاً،ص733،حدیث نمبر5224
16. صفی الرحمن مبارکپوری،الرحیق المختوم(مکتبہ سلفیہ،لاہور1994ء)ص745
17. البخاری ،الجامع الصحیح(دارالسلام، الریاض1998ء)ص417،حدیث نمبر2650
18. ایضاً،ص417،حدیث نمبر2587
19. مقالاتِ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ،ص:192
20. البخاری ،الجامع الصحیح،ص23،حدیث نمبر101
21. ابوداؤد،السنن، ص725،حدیث نمبر5162
22. ایضاً،ص725،حدیث نمبر 5159
23. ابن ہشام،السیرة النبویة(مطبعة مصطفی البابي حلبي ،مصر)2984 تا301
24. احمد بن حنبل،المسند(دارالفکر،بیروت)2432
25. ابوداؤد،السنن،ص515،حدیث نمبر3591
26. الواقدی،محمد بن عمر،کتاب المغازی(عالم الکتب،بیروت)6912
27. ابوداؤد،السنن،ص401،حدیث نمبر2759
28. ایضاً،ص401،حدیث نمبر2760
29. صحیح بخاری :6877،ابوداود:4529
30. مسلم،الجامع الصحیح(دارالسلام ،الریاض،1998ء)ص743،حدیث نمبر4374
31. الموسوعة القضائیة مترجم (فلاح فاؤنڈیشن،لاہور)ص89
32. ابوداؤد،السنن،ص622،حدیث نمبر4419
33. ایضاً،ص625،حدیث نمبر4445
34. ایضاً،ص618،حدیث نمبر4394
35. ایضاً،ص615،حدیث نمبر4374
36. ترمذی ، السنن،ص346،حدیث نمبر1430
37. ابوداود، السنن، حدیث نمبر4380
38. ایضاً،ص303،حدیث نمبر2096
39. البخاری، الجامع الصحیح،ص943،حدیث نمبر5276
40. ابن قیم، اعلام الموقعین(مطبعة التجاریة، القاہرہ،1962ء)2914
41. البخاری، الجامع الصحیح،ص948،حدیث نمبر5305
42. ایضاً،ص948،حدیث نمبر5301
43. النساء:58
44. ابوداؤد،السنن،ص521،حدیث نمبر3631
45. مقالاتِ سیرت(حصہ اوّل) نویں قومی سیرت کانفرنس (وزارتِ مذہبی اُمور، حکومت ِپاکستان،اسلام آباد1984ء) ص90
46. ابوداؤد،السنن،ص1067،حدیث نمبر6124
47. سید ریاض حسن،پاکستان ناگزیر تھا (شعبہ تصنیف،کراچی یونیورسٹی،کراچی )ص523
48. محمدمجاہد فاروق،پاکستان کی نظریاتی تاریخ حکومت اور سیاست (نیوبک پیلس ،لاہور)ص57
49. چودھری محمد اعظم،پاکستان کا آئین1973ء ،ص40
50. Khan, Makhdom Ali "The Constitution of Republic of Pakistan" 1973, Karachi, (Pakistan Law Book House) p.86
51. اُردو انسائیکلوپیڈیا،ص689
52. رہنماے وکالت،ص428
53. کنیزفاطمہ،اسلامی نظام عدل کی روشنی میں پاکستان کے عدالتی نظام کا تحقیقی مطالعہ(مقالہ ڈاکٹریٹ شعبہ معارف ِاسلامیہ، جامعہ کراچی2005ء)ص 386،387

54. ایضا:ص388 تا 390