دوسرے قول (مطلقاً جواز) کے دلائل کا جائزہ
سورة النور کی اس آیت: وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِنۢ بُيُوتِكُمْ..﴿٦١﴾...سورۃ النور سے یہ استدلال کرنا کہ (اللہ تعالیٰ نے یہاں اولاد کے گھروں کا تذکرہ نہیں کیا جو اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ گھر باپ دادا کے ہیں ۔( کا جواب امام قرطبی رحمة اللہ علیہ کی زبانی ملاحظہ فرمائیے :
(اس آیت ِکریمہ سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے بھی کھا سکتے ہو جن گھروں میں تمہارے اہل اور اولاد رہتے ہیں ، پس وہ گھر اہل اور اولاد کے ہیں ۔''1
ابھی تک ہم دیکھتے ہیں کہ بیٹے اپنے والدین کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہائش پذیر ہیں جو ان کے باپ کا گھر ہے تو یہاں اس آیت ِکریمہ میں تغلیباً باپ دادا کے گھروں کو ذکر کیا گیا ہے، جو اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ باپ اپنے بیٹے کے مال کا مالک ہے۔ واللہ اعلم!
امام قرطبی رحمة اللہ علیہ نحاس رحمة اللہ علیہ وغیرہ سے نقل کرتے ہیں کہ اس آیت ِکریمہ میں اولاد کے گھروں کا تذکرہ نہ ہونے کی علت سے ان گھروں کوباپ دادا کی ملکیت بنا دینا کتاب اللہ کے خلاف فیصلہ ہے۔ 2
اس آیت ِکریمہ سے استدلال کرنے والوں کو جواب یوں بھی دیا جاسکتا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے جیسا کہ امام قرطبی رحمة اللہ علیہ وغیرہ سے منقول ہے۔3
قرآنِ مجید کی متعدد آیاتِ کریمہ میں اولاد کو والدین کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہبہ قرار دیا گیا ہے، لہٰذا باپ کے لئے جائز ہے کہ وہ غلام کی مانند اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کرسکتا ہے۔ ان آیاتِ کریمہ سے ایسا موقف ثابت کرنے والوں کے استدلال کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ ان آیات میں ہبہ سے مراد بڑھاپے میں وِلادت کا ہبہ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم ؑ اور سیدنا زکریا ؑ پر احسان کیا، ملکیت اور غلامی کا ہبہ نہیں جیسا کہ اسی معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے:يَهَبُ لِمَن يَشَآءُ إِنَـٰثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَآءُ ٱلذُّكُورَ‌ ...﴿٤٩﴾...سورۃ الشوریٰ ''وہ جسے چاہتا ہے، لڑکیاں دیتا اور جسے چاہتا ہے، لڑکے دیتا ہے۔''

اس آیت ِکریمہ میں بھی ولادت کا ہبہ مراد ہے، اگرچہ بڑھاپا نہ بھی ہو، کیونکہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وَيَجْعَلُ مَن يَشَآءُ عَقِيمًا...﴿٥٠﴾... سورۃالشوریٰ''اور جسے چاہتا ہے، بانجھ بنا دیتا ہے۔''
ان کی مضبوط ترین دلیل حدیث ِنبویؐ (أنت ومالك لأبیك) کے متعدد جوابات دیئے گئے ہیں :
بعض نے اس حدیث کے معنی کی توجیہ کرتے ہوئے اس کی ایسی تفسیر کی ہے کہ اس حدیث ِنبوی اور اس مسئلہ کہ ''باپ بلا ضرورت اپنے بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت نہیں بناسکتا۔'' کے دلائل کے درمیان جمع وتطبیق ممکن ہوسکے۔
بعض نے اس حدیث کو منسوخ کہا ہے۔
بعض نے اس حدیث کے عموم کو خاص کر دیا ہے۔
بعض نے اس حدیث کے ثبوت اور ضعف میں کلام کی ہے۔
ذیل میں ہر قول کے حاملین کا تذکرہ بالاختصار ملاحظہ فرمائیے:

حدیث (أنت ومالك لأبیك)کے معنی میں ذکر کردہ توجیہات
امام بیہقی رحمة اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ منذر بن زیاد الطائی سے روایت کیا ہے کہ ہمیں اسماعیل بن ابوخالد نے خبر دی، اُنہوں نے قیس بن ابوحازم رحمة اللہ علیہ سے روایت کیا ہے کہ میں امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس حاضر تھا کہ ایک آدمی نے ان سے کہا:''یا امیرالمومنین! میرا باپ چاہتا ہے کہ میرے سارے مال پر قبضہ کرلے اور اس کو تباہ وبرباد کردے؟
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس آدمی کے والد کو کہا:'' تیرے لئے اس کے مال سے اتنا لینا جائز ہے جو تجھے کفایت کرجائے۔ اس نے کہا: یا خلیفة الرسول ! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا: (أنت ومالك لأبیك)''تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ راضی ہوجا۔
امام بیہقی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ بھی دیگر رواة نے منذر بن زیاد سے نقل کیا ہے اور اس میں مذکور ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اس سے نفقہ مراد لیا تھا، اور منذر بن زیاد ضعیف ہیں ۔ 4

امام طحاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث (أنت ومالك لأبیك) بیٹے کی کمائی پر باپ کی ملکیت کو ظاہر نہیں کرتی بلکہ یہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ بیٹے کو چاہئے کہ وہ اپنے مال میں اپنے باپ کے حکم کونافذ کرے، جس طرح وہ خود اپنا حکم نافذ کرتا ہے۔ اور کسی معاملہ میں اپنے باپ کی مخالفت نہ کرے۔ کیونکہ اس حدیث (أنت ومالك لأبیك) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹے اور اس کے مال، دونوں کی نسبت باپ کی طرف کی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کی گئی نسبت کی وجہ سے جس طرح بیٹا اپنے باپ کا مملوک نہیں بنتا، اسی طرح اس کا مال بھی اس کے باپ کی ملکیت نہیں بنتا۔5

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹے کی ذات کی نسبت، اس کے باپ کی طرف کی ہے، جس طرح کہ اس کے مال کی نسبت اس کے باپ کی طرف کی ہے۔ اگر بیٹے کے مال میں باپ کا تصرف جائز ہوتا تو بیٹے کی ذات میں بھی باپ کا تصرف جائز ہونا چاہئے تھا کہ وہ اس کی غلاموں کی مانند خریدوفروخت کرتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جس طرح اس نسبت سے بیٹا اپنے باپ کا مملوک نہیں بنتا، اسی طرح اس کا مال بھی باپ کی ملکیت نہیں بنتا۔(i)
امام طحاوی رحمة اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''جتنا فائدہ مجھے ابوبکر صدیقؓ کے مال نے دیا ہے، اتنا فائدہ کسی مال نےنہیں دیا۔''
سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا: (إنما أنا ومالي لك یا رسول اﷲ)''اے اللہ کے رسولؐ! میں اور میرا مال آپؐ کے لئے ہیں ۔''

امام طحاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہاں سیدناابوبکر صدیقؓ کی مراد یہ نہیں تھی کہ ان کا مال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملکیت ہے بلکہ ان کی مراد تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ان کی ذات اور مال میں نافذ ہوسکتا ہے۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول: (أنت ومالك لأبیك)کو بھی اسی معنی پر محمول کیا جائے گا۔ 6
امام طحاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکرصدیقؓ کے اس قول سے ان کی مراد یہ تھی کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ ؐ کے اقوال و افعال میری ذات اور میرے مال میں اسی طرح نافذ العمل ہیں جس طرح کسی شے کا مالک اپنی شے میں اپنے اقوال و افعال کو نافذ کرتا ہے۔ 7

امام ابن حبان رحمة اللہ علیہ اس حدیث کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو اپنے باپ کے ساتھ اجنبیوں والا معاملہ کرنے پر ڈانٹا تھا اور اسے اپنے والد کے ساتھ حسن سلوک کرنے اور قول و فعل میں نرمی برتنے کا حکم دیا تھا، یہاں تک کہ اس پرمال خرچ کرے۔ آپؐ نے اس کو سمجھاتے ہوئے کہا: (أنت ومالك لأبیك)یعنی بیٹے کی زندگی میں اسکی رضا مندی کے بغیر باپ اسکے مال کا مالک نہیں بن سکتا۔8

امام خطابی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ سائل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مال پر باپ کے قبضے اور اس مال کو ختم کرنے کے حوالے سے جو شکایت کی تھی، وہ مال کو ختم کرنے کی شکایت باپ پر خرچ کرنے کے سبب ہو، یعنی باپ کا نفقہ جس کا وہ محتاج ہے، زیادہ ہو جس کو اس آدمی کا مال برداشت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہوں ، اِلا یہ کہ وہ سارے کا سارا ختم ہو جائے۔ لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی معذرت قبول نہ کرتے ہوئے اپنے باپ کے نفقہ سے دستبردار ہونے کی رخصت نہیں دی اور فرمایا: (أنت ومالك لأبیك) یعنی جب بھی تیرے باپ کو ضرورت ہوگی وہ بقدرِ ضرورت تیرے مال میں سے لے سکتا ہے۔ جس طرح وہ اپنے مال سے لیتا ہے اور جب تیرے پاس مال نہ ہو اور تیرے پاس ہمت ہو تو تجھ پر لازم ہے کہ تو کمائی کرکے اپنے باپ پرخرچ کر۔ اور اگر باپ کا مقصد بیٹے کے مال کو اپنے لئے حلال کرنا ہو اور بیٹے کو اس سے الگ تھلگ کرکے اس پر خود قبضہ کرلینا ہو تو فقہا میں سے کسی سے بھی اس کے جواز کا قول ثابت نہیں ہے۔ واللہ اعلم 9

علامہ زرکشی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ''اس حدیث میں متعدد قرائن کی بنیاد پر حقیقی معنی مراد نہیں ہے، کیونکہ بیٹے کا مال اس کی اپنی ملکیت ہے اور اس مال کی زکوٰة اسی پر واجب ہے اور مرجانے کی صورت میں وہ مال اس کی وراثت ہوگا جس کو اس کے ورثا میں تقسیم کیا جائے گا۔ جب ان الفاظ کی حقیقت ہی ثابت نہیں ہوسکی تو بوقت ِضرورت باپ کے لئے حق ملکیت کیسے ثابت ہوسکتا ہے۔'' 10
اس حدیث میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ترغیب ہے، حقوقِ ملکیت یا تشریعی احکام کابیان نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب سیدنا معاذ بن جبلؓ سے سوال کیا گیا کہ بیٹے پر والدین کا کیا حق ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا اگر تو اپنے اہل و عیال اور مال سے بھی نکل جائے، تب بھی ان کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ 11

ب) نسخ حدیث کا قول
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ہم پر یہ اعتراض کرے کہ آپ تو ہر صحیح حدیث کو ماننے والے ہیں ، پھر اس حدیث (أنت ومالك لأبیك)کو کیوں کر ترک کر رہے ہیں ؟ تو اس شخص کو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح احادیث کو ترک کرنے سے محفوظ فرمائے۔ ہم ہر صحیح حدیث پر عمل کرتے ہیں اِلا یہ کہ وہ منسوخ ہوچکی ہو اور مذکورہ حدیث(أنت ومالك لأبیك) بلا شک و شبہ آیت ِمیراث سے منسوخ ہوچکی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے والدین، خاوند، بیوی اور اولاد کی میراث کے تفصیلی احکام نازل کردیئے ہیں ۔
علامہ شیخ محمد عابد سندھی انصاری رحمة اللہ علیہ مسند امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ کی شرح میں امام عبدالحق اشبیلی سے نقل کرتے ہیں کہ ابوبکر بزار وغیرہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث (أنت ومالك لأبیك) آیت میراث کے ساتھ منسوخ ہے۔  12

ج) اس حدیث کے عموم کی تخصیص کا قول
امام ابوبکر رازی جصاص رحمة اللہ علیہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
''اس حدیث کا عموم تقاضا کرتا ہے کہ باپ خوش حالی و تنگ دستی دونوں حالتوں میں بیٹے کا مال لے سکتا ہے، لیکن فقہاے کرام اس امر پر متفق ہیں کہ باپ خوشحالی کی حالت میں اپنے بیٹے کی رضا مندی کے بغیر اس کا مال نہیں لے سکتا، البتہ تنگ دستی کی حالت میں بقدرِ ضرورت لے سکتا ہے۔13

د) حدیث (أنت ومالک لأبیک) کے ضعف کا قول
بعض علماے کرام نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیاہے جن میں سے امام شافعی رحمة اللہ علیہ بھی ہیں جنہوں نے نام لئے بغیر ایک جماعت سے اس کا ضعف نقل کیا ہے۔14
اسی طرح امام قرطبی رحمة اللہ علیہ نے اس کا ضعف نقل کیا ہے۔ 15
لہٰذا اس حدیث سے استدلال کرنادرست نہیں ہے۔لیکن حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اپنے تمام طرق کو ملا کر قوی ہوجاتی ہے اور اس سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ( فتح الباری۵؍۲۱۱) اور امام عینی رحمة اللہ علیہ نے بھی 'عمدة القاری' میں اس کو صحیح کہا ہے۔16
حدیث (ولد الرجل من کسبه، فکلوا من أموالھم)کی دلیل کا جائزہ
اس حدیث سے ان کے استدلال کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ یہ حدیث اپنے عموم پر نہیں ہے بلکہ دیگر روایات نے اس کے عموم کی تخصیص کردی ہے جیسا کہ سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(إن أولادکم هبة اﷲ لکم،یھب لمن یشاء إناثا ویھب لمن یشاء الذکور فھم وأموالھم لکم إذا احتجتم إلیھا)17
''تمہاری اولاد تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہبہ ہے، وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے ... پس وہ اولاد اور ان کے مال تمہارے لئے ہیں ، جب تم اس کے محتاج ہوجاؤ۔''
''إذا احتجتم'' کی زیادتی کے ساتھ اس حدیث کی تائید علامہ استروشنی رحمة اللہ علیہ کی روایت کردہ دوسری حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(الأب أحق بمال ولدہ إذا احتاج إلیه بالمعروف)''باپ اپنے بیٹے کے مال کازیادہ حقدار ہے جب وہ معروف طریقے سے اس کا ضرورت مند ہو۔'

امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث (إن أطیب ما أکل الرجل من کسب یدہ، ووَلدُہ من کسبِه )کھانے سے متعلق ہے، لہٰذا ہمارے نزدیک باپ کے لئے اپنے گھر یا بیٹے کے گھر سے جو چاہے جب چاہے، کھانا جائز ہے۔ بیع و شرائ، رہن، ہبہ یا ملکیت سے اس حدیث کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 18
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ کی اس تفسیر میں امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کی تفسیر کا جواب ہے جس میں امام صنعانی رحمة اللہ علیہ نے لفظ (أکل)سے مطلقاً 'انتفاع ' مراد لیا ہے۔ امام ابن حزم کی تفسیر راجح اور اولیٰ ہے، کیونکہ امام صنعانی کی تفسیر اس اُصول کے خلاف ہے کہ ہر شخص کی ملکیت کا تحفظ کیا جائے۔


ان کی دلیل ان حدیث (أطع والدیك وإن أخرجاك من مالك)کا جائزہ
اس حدیث سے ان کے استدلال کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ اس حدیث میں مال کی نسبت بیٹے کی طرف کی گئی ہے، باپ کی طرف نہیں ۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ (وإن أخرجاك من مالك)ہیں ، (وإن أخرجاك من مالھما)نہیں ہیں اور سیاقِ کلام سے بھی محسوس ہوتا ہے کہ والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کے لئے یہاں مبالغہ سے حکم دیا گیا ہے۔

 

بعض صحابہ کرام ؓ کے اقوال سے ان کے استدلال کا جائزہ
سیدنا عمرؓ، علیؓ، جابرؓ، انسؓ اور اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے منقول آثار کی نصوص میں غوروفکر کرنے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ باپ بقدرِ ضرورت اپنے بیٹے کے مال سے لے سکتا ہے، اور اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ باپ اپنے بیٹے کے مال سے بقدرِ ضرورت لے سکتا ہے۔ان آثارکے اسی مفہوم کی تائید مصنف عبدالرزاق کی سیدنا عمرؓ سے نقل کردہ روایت سے بھی ہوتی ہے، عبدالرزاق اپنی سند کے ساتھ بکر بن عبداللہ مزنی سے روایت کرتے ہیں کہ
''ایک دیہاتی آدمی نے اپنی بیٹی کانکاح کیا، اور اس کے حق مہر پر خود قبضہ کرلیا۔ جب باپ مرگیا تو وہ عورت اپنے بھائیوں سے حق مہر کی رقم کا مطالبہ کرنے لگی، بھائیوں نے کہا: اس کو ہمارے والد نے اپنی زندگی میں ہی اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور عورت نے کہا : مجھے میرا حق مہر چاہئے؟ سیدنا عمرؓ نے ان کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا: جو چیز تجھے بعینہٖ مل جائے تو اس کی زیادہ حق دار ہے اور جو تیرے باپ نے خرچ کرلیا ہے، وہ تیرے باپ پر تیرے لئے قرض نہیں ہے۔''19
اس حدیث سے معلوم ہواکہ اس عورت کا حق مہر اس کی اپنی ملکیت ہے، اور اس میں سے باپ نے جو خرچ کرلیا تھا، وہ بقدرِ ضرورت تھا، اور اس کے لئے اس کے باپ پر کوئی قرضہ نہیں ہے، کیونکہ اس کے باپ نے وہ مال ضرورت کے تحت خرچ کیا تھا اور اگر اس عورت کا حق مہر اس کے باپ کے قبضہ کرلینے کے بعد باپ کی ملکیت ہوتا تو سیدنا عمرؓ اس مال کو جمیع وراثت کے ساتھ جملہ ورثا میں تقسیم کرنے کا حکم دیتے اور حق مہر میں سے باقی ماندہ اشیا کو اس عورت کی ذات کے ساتھ خاص نہ کرتے۔

پہلے قول (بلا ضرورت منع ) کے دلائل کا جائزہ
[یاد رہے کہ حنابلہ کا قول(تیسرا) یہ ہے کہ چند شرائط پائے جانے کی صورت میں باپ بیٹے کا مال لے سکتا ہے، جبکہ جمہور کا قول (پہلا) یہ ہے کہ بلاضرورت والد کے لئے بیٹے کا مال لینا ممنوع ہے۔ یہاں ایک قول(دوسرا) یہ بھی ہے کہ والد کے لئے ہرصورت میں ، بلاکسی شرط کے لینا جائز ہے، جس کے دلائل کی تردید و توجیہ بھی اوپر گزر چکی ہے۔ مدیر]
حنابلہ نے جمہور علما کی رائے اور ان کے دلائل کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے جمہور کی طرف سے قولِ ثانی کے دلائل میں اس امر کی تردید کی ہے کہ ضرورت کے تحت مال لینا جائز ہے۔ یعنی جمہور نے عام حرمت سے والد کی ضرورت کو خاص کردیا ہے تو حنابلہ نے اس عموم کی تخصیص پیدا کرنے کی تردید کی ہے۔چونکہ اس سلسلہ میں سب سے تفصیلی گفتگو امام صنعانی نے کی ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ یہاں امام صنعانی کی کلام کو کچھ تشریح ووضاحت کے ساتھ بیان کردیا جائے۔
امام صنعانی رحمة اللہ علیہاس آیت ِ مبارکہ وَلَا تَأْكُلُوٓا أَمْوَ‌ٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ...﴿١٨٨﴾...سورةالبقرة ''اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقہ سے کھاؤ۔'' کے عموم سے جمہور کے استدلال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
جمہور کے دلائل محل نزاع کے بارے میں نہيں ہیں (یعنی ایسے مسئلہ سے متعلق ہیں جن میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں )کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے مال کو باپ کا مال قرار دیا ہے لہٰذا باپ، غیر کا مال نہیں کھاتا بلکہ اپنا ہی مال کھا رہا ہوتا ہے۔اگر اولاد کے مال اور والدین کے لئے نہی کے عمومی دلائل کو تسلیم بھی کرلیا جائے تو پھر یہ فرمانِ نبویؐ (أنت ومالك لأبیك) ان دلائل کی تخصیص کرنے والی ہے۔
یاد رہے کہ جمہور نے ان عمومی دلائل کے باوجود باپ کے نفقہ کو بیٹے پر واجب قرار دینے کی تخصیص کی ہے، بیٹا پسند کرے یا نہ کرے، لیکن باپ کا نفقہ اس پر واجب ہے۔ اسی طرح حدیث ِہندؓنے بھی ان عمومی دلائل کی تخصیص کی ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں موجود ہے کہ ہندؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوسفیانؓ کی کنجوسی کی شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا: (خذي مایکفیك وولدك بالمعروف)20
تو اتنا لے سکتی ہے جو معروف طریقے سے تجھے اور تیری اولاد کو کافی ہوجائے۔ 21
جمہور علما کی طرف سے اس حدیث (أنت ومالك لأبیك) کو منسوخ کہنے کا جواب
امام صنعانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دعویٰ نسخ کے لئے ضروری ہے کہ ناسخ کے مؤخر ہونے پر دلیل موجود ہو، جبکہ یہاں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے جو ناسخ کے مؤخر ہونے پر دلالت کرتی ہو۔ اور یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرامؓ سے یہ نسخ مخفی رہ گیا ہو خصوصاً جب وہ سیدنا عمرؓ ، سیدنا علی ؓ، ابن مسعودؓ، سیدنا جابرؓ، سیدنا انسؓ، ابن عباسؓ اور سیدہ عائشہؓ جیسے کبار صحابہ کرامؓ ہوں ۔
پھر امام صنعانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مختلف دلائل میں امکانِ جمع کے باوجود کون سیشے دعویٰ نسخ پر مجبور کررہی ہے؟ جب امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ کے لئے دلائل کے مابین جمع کرنا بظاہر مشکل ہوگیا تو اُنہوں نے نسخ کا حکم لگا دیا۔لیکن ہمارے نزدیک یہاں جمع ممکن ہےکہ اس حدیث (أنت ومالك لأبیك) نے فیصلہ کردیا کہ بیٹااور اس کا مال اس کے باپ کا ہے۔ دوسرے دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ جب بیٹا فوت ہوجائے تو اس کا ترکہ والدین، بیوی، اور بھائیوں میں تقسیم ہوگا۔ بظاہر یہ دونوں احکام مخالف نظر آتے ہیں ، لیکن ان میں جمع وتطبیق کی صورت یہ ہے کہ تقسیم وراثت کا حکم بیٹے کی وفات کے بعد ہے، جبکہ پہلا حکم (أنت ومالك لأبیك)اس کی زندگی کے دوران ہے۔ لہٰذا جب باپ بیٹا دونوں حیات ہوں توبیٹے کا مال باپ کی ملکیت ہونے کے لئے کون سا مانع موجود ہے۔ لہٰذا اس آیت کریمہ کو بیٹے کی موت جبکہ حدیث ِمبارکہ کو بیٹے کی زندگی پر محمول کیا جائے گا۔

امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ کے اس قول کہ اگر بیٹے کا مال باپ کی ملکیت ہوتا تو بیٹے کے لئے اپنے مال سے خریدی گئی لونڈی کے ساتھ مباشرت کرنا حلال نہ ہوتا، کیونکہ اس آیت ِکریمہ إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَ‌ٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ ...﴿٦﴾... سورةالمومنون کے عموم سے اپنی مملوکہ لونڈی سے مباشرت کی حلت معلوم ہوتی ہے۔اس کا جواب دیتے ہوئے امام صنعانی فرماتے ہیں :
اس حدیث (أنت ومالك لأبیك) میں لفظ (مالک)کا عموم، مخصوص ہے۔ مال اسم جنس ہے جو مضاف ہے اور یہ عموم کے صیغوں میں سے ہے۔ اس عموم کو اجماعِ اُمت نے خاص کردیا ہے کہ بیٹا اپنے باپ کی زندگی میں اپنے مال سے خریدی گئی لونڈی کے ساتھ مباشرت کرسکتا ہے، اسی طرح بیٹا بیوی کو حق مہر دے کر اس سے نکاح بھی کرسکتا ہے، باوجود اس کے کہ مال حق مہر بھی اس کے باپ کا ہی تھا، کیونکہ یہ امر عہد نبویؐ میں معلوم تھا اور اس کو اس دور میں گوارا کیا گیا ہے۔
عموماً بیٹا شادی کرتے وقت یا لونڈی خریدتے وقت اپنے زندہ باپ سے ضرور مشورہ کرتا ہے۔ لہٰذا جو کام بیٹے نے اپنے باپ کی اجازت اور مشورے سے کیا ہو، وہ بیٹے کے لئے مباح ہے۔ اور اگر کوئی بیٹا اپنے باپ کی رائے اور مشورے کے خلاف کام کرتا ہے تو وہ نافرمان اور گناہگار ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ باپ کی رضا مندی ہی بیٹے کے لئے اس کے مال کو مباح کردیتی ہے اور اسی بنا پر بیٹا اپنے باپ کے مال میں تصرف کرسکتا ہے۔(یہاں تک امام صنعانی کا کلام ختم ہوا)


جمہور کی اس دلیل: حدیث (کل أحد أحق بماله من والدہ وولدہ والناس أجمعین)کاجواب
یہ حدیث مرسل ہے ۔ اگر تسلیم بھی کرلیا جائے تو یہ حدیث بیٹے کے حق کو باپ کے حق پر ترجیح دینے پر ہی دلالت کرتی ہے، کلیة باپ کے حق کی نفی نہیں کرتی یعنی ضروریاتِ زندگی کو پورا کرنے میں بیٹا اپنے باپ سے زیادہ حق دار ہے۔ 22
میں سمجھتا ہوں کہ شاید حدیث ِ مرسل سے ان کی مراد حدیث ِضعیف ہے۔ واللہ اعلم، کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ احادیث ِمرسل کو ضعیف سمجھتے ہیں اور فتو اے صحابی کو اس پر مقدم کرتے ہیں ۔


جمہور (بلاضرورت منع کے قائل) کے دلائل کے ساتھ کئے گئے مباحثے کا جواب
امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کا یہ قول کہ'' جمہور کے دلائل غیر محل نزاع میں ہیں ، کیونکہ باپ کسی غیر کا مال نہیں کھاتا بلکہ اپنا ہی مال کھارہا ہوتا ہے''، کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کا یہ فہم غیر صحیح ہے اور یہاں غیر ملزوم کو لازم کیا گیا ہے۔ لہٰذا اس دعویٰ کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کیا جائیگا۔ اسی طرح اس آیت ِ کریمہ وَلَا تَأْكُلُوٓا أَمْوَ‌ٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ ...﴿١٨٨﴾...سورۃالبقرة میں جمع کے مقابلے میں جمع کالفظ آیا ہے{ اَموالكم بينكم} جو مفرد کے مقابلے میں مفرد کا متقاضی ہے۔ یعنی جس طرح سب مل کر دوسروں کا مال باطل طریقے سے نہیں کھا سکتے ، اس طرح کوئی اکیلا شخص بھی کسی دوسرے اکیلے شخص کا مال نہیں کھا سکتا۔ لہٰذا ہم کہیں گے کہ بیٹا باپ کے بالمقابل مفرد ہے اور اس آیت کریمہ کا معنی ہوگا کہ باپ اپنے بیٹے کا مال باطل طریقے سے نہیں کھا سکتا۔ اس اعتبار سے یہ آیت کریمہ محل نزاع میں واضح نص ہے۔
امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کا یہ قول کہ جمہور کے عمومی دلائل کو حدیث (أنت ومالك لأبیك)خاص کرنے والی ہے، کاجواب یوں دیا گیا ہے کہ بلا شبہ یہ حدیث بسا اوقات اس مفہوم کو خاص کرتی ہے، جیسا کہ گذر چکا ہے کہ جمہور کے نزدیک بھی باپ کا نفقہ بیٹے پر واجب ہے، لیکن امام صنعانی کے اس مفہوم کو کہ بیٹے کا مال باپ کی ملکیت ہے، پر بہر حال دلالت نہیں کرتی، لہٰذا یہ مفہوم ناقابل قبول ہے۔ اس حدیث کے معنی میں جمہور کی ذکر کردہ وجوہ ہی اولیٰ و اَقرب ہیں ۔
امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کا یہ قول کہ اس حدیث (أنت ومال لأبیك)کے نسخ پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے جو ناسخ کے متاخر ہونے پر دلالت کرے۔ اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ اس حدیث کا ناسخ اجماعِ اُمت ہے کہ دیت کا ترکہ ورثا میں تقسیم کیا جائے گا جیسا کہ آیت میراث سے معلوم ہوتا ہے۔ نیز یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دلائل نسخ فقط ناسخ کی تاریخ کے مؤخر ہونے میں محصور نہیں بلکہ اجماعِ امت بھی دلائل نسخ میں سے ایک دلیل ہے۔
امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کا یہ قول کہ اس حدیث اور آیت ِمیراث میں جمع ممکن ہے، کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ عموم حدیث کے مطابق جب بیٹے کی زندگی میں اس کا مال اس کے باپ کی ملکیت ہے۔ تو اس کے مرجانے کے بعد اس کی ذاتی ملکیت کیسے ہوسکتا ہے تاکہ اس کو ورثا پر تقسیم کیا جاسکے۔ پھر اگر دادا زندہ ہے، تو بیٹے کا مال درحقیقت دادا کا مال بن جائے گا، کیونکہ اس اُصول کے مطابق دادا، بیٹے کے باپ کے سارے مال کا مالک ہے۔ یہ ایک ایسا تسلسل ہے جس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تسلسل بیٹے کی ملکیت کو منفی کردینے والا ہے جب تک کہ اس کا باپ، دادا یا پڑدادا زندہ ہیں اور یہ واضح امر ہے کہ اہل علم میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کو اپنے مال کا مالک بنایا ہے اور اسے اپنے والدین پر خرچ کرنے، زکوٰة نکالنے، صدقہ کرنے اور جملہ مالی حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسی طرح اگر بیٹے کی زندگی میں اور موت کے بعد، اس کے مال کی دو مختلف حالتیں ہیں تو پھر بیٹے کی ذات سے متعلق کیا حکم ہے جیسا کہ حدیث (أنت ومالك لأبیك)میں مال کے ساتھ ذات کا بھی ذکر موجود ہے، کیا وہ بھی مال کی مانند شمار ہوگا؟ واضح بات ہے کہ اہل علم میں سے کوئی ایک بھی اس امر کا قائل نہیں ۔
اگر جمہور کے پاس فقط آیت ِمیراث ہی دلیل ہوتی تو زندگی اور موت کے بعد بیٹے کے مال سے متعلق مذکورہ تفصیل قابل توجہ تھی، لیکن جمہورکے پاس اس کے علاوہ بھی متعدد دلائل ہیں ، جن کا ذکر گذر چکا ہے۔
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ کی دلیل پر امام صنعانی رحمة اللہ علیہ کے ردّکا یوں جواب دیا گیا ہے کہ اگرچہ عرفِ عام کو ردّ نہیں کیا جاسکتا کہ بیٹے عموماً اپنے والدین کے مشورے سے ہی کام سرانجام دیتے ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اولاد کی اکثریت مکمل آزادی سے اپنے مال میں تصرف کرتی ہے اور اولاد کا آزادی سے اپنے مال میں تصرف کرنا گناہ یا نافرمانی نہیں ہے۔

امام ابن قدامہ رحمة اللہ علیہ کی کلام کہ'' حدیث (کل أحد أحق بماله)مرسل ہے'' کاجواب یوں دیا گیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ کے نزدیک مرسل حدیث حجت ہے ، جیسا کہ کثیر حنابلہ رحمة اللہ علیہ نے اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔23


بیٹے کے مال پر ماں اور دادا کی ملکیت کا حکم
اس مسئلہ پر مذاہب ِاربعہ میں سے صرف حنابلہ نے ہی گفتگو کی ہے۔ کیونکہ حنابلہ نے ہی چند سابقہ شروط کے ساتھ باپ کے لئے مباح قرار دیا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت بنا سکتا ہے۔
ایسے ہی امام صنعانی رحمة اللہ علیہ نے حدیث (أنت ومالك لأبیك) پر اپنے رسالہ میں بھی اس مسئلہ پر کچھ گفتگو کی ہے۔ دیگر تینوں مذاہب (جن کے نزدیک بلا ضرورت باپ اپنے بیٹے کے مال سے نہیں لے سکتا) نے ماں کا حکم سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ کیونکہ ان کے نزدیک جب باپ اپنے بیٹے کے مال سے بلا ضرورت نہیں لے سکتا تو ماں بالاولیٰ نہیں لے سکتی۔
حنابلہ کے ہاں بیٹے کے مال کا مالک بننے کے سلسلے میں ماں کا حکم باپ کے حکم سے مختلف ہے۔ ان کے نزدیک صحیح ترین اور معتمد مذہب یہ ہے جس پر ان کے اصحاب ہیں کہ ماں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ باپ کی مانند اپنے بیٹے کے مال سے کچھ لے۔ 24
ماں کے لئے ملکیت کے عدمِ جواز پربحث کرتے ہوئے امام صنعانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''اموال میں اصل حکم منع ہے (یعنی ایک آدمی کامال دوسرے کو دینا منع ہے) البتہ باپ کے لئے اس حکم کی مخالفت دلالت ِنص کی بنا پر کی گئی ہے اور وہ نص یہ حدیث (أنت ومالك لأبیك) ہے۔باقی لوگوں کے لئے حرمت ِمال کا حکم اپنی اصل پرہی باقی ہے۔''
البتہ حنابلہ کے ہاں ایک قول جواز کا بھی پایا جاتاہے، لیکن اس پر فتویٰ نہیں دیا جاتا۔ اس قول جواز کے لئے حدیث (أنت ومالك لأبیك)کے عموم سے استدلال کیا جاتاہے کہ اس جگہ (لأبیك)سے مراد 'اصل' (جڑ)ہے جوخصوصیت ماں اور باپ دونوں کو حاصل ہے۔ اسی طرح سیدنا جابر بن عبداللہؓ اور سیدہ عائشہؓ کے اثر سے بھی استدلال کیا جاتا ہے ، جو پیچھے گذر چکا ہے کہ ماں باپ دونوں بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت بناسکتے ہیں ۔

بیٹے (پوتے) کے مال پر دادا کی ملکیت کا حکم
حنابلہ کے نزدیک دادا کو باپ کی مانند یہ حق حاصل نہیں ہے، ان کی دلیل وہی ہے جو اُنہوں نے ماں کے لئے اس حق کے عدم جواز پر ذکر کی ہے۔ امام صنعانی رحمة اللہ علیہ سوالیہ انداز اپناتے ہوئے فرماتے ہیں : اپنے بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت بنانے میں کیا ماں ، باپ کی مانند ہے؟
میں کہتا ہوں کہ یہ نص فقط باپ کے بارے میں وارد ہے اور سیدنا جابرؓ کا قول: ''یأخذا الأب والأم من مال ولدھما بغیر إذنه''ان کی ذاتی رائے ہے، اُنہوں نے ماں کو باپ پر قیاس کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول (إن أولادکم من أطیب کسبکم فکلوا من کسب أولادکم) کے عموم میں والدین دونوں کو داخل کردیا ہے۔25
اس امر میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اولاد والدین کی کمائی ہے اور حدیث میں بیٹے کے مال سے لینے کی یہی علت بیان ہوئی ہے۔ لیکن لفظ (أولادکم)عام ہے اور عام اپنی علت پر محصور نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص کہے کہ لفظ (أولادکم) میں ضمیرِ انسان ہے، کیا یہ ضمیر مردوں کے ساتھ خاص ہے؟ تو میرا جواب یہی ہے کہ ہاں ! یہ ضمیر مردوں کے ساتھ خا ص ہے جو اُمہات کو شامل نہیں ہے، سواے تغلیب کے اور تغلیب مجاز ہے جبکہ اصل ہی حقیقت ہے۔
اور اصل یہ ہے کہ بیٹے کے مال کی حفاظت کی جائے اور اس میں کسی غیر کو شریک نہ کیا جائے اور وہ مال کسی مضبوط دلیل کے بغیر کسی دوسرے شخص کو نہ دیا جائے، جیسا کہ باپ کے بارے میں نص وارد ہے۔ لہٰذا سیدنا جابر کا اثر اور حدیث (من کسبکم)کاعموم ماں کے لئے ملکیت ثابت کرنے کے لئے ناکافی ہیں ۔
اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ماں کوباپ کے ساتھ ملحق کرنے میں کون سا مانع ہے؟ حالانکہ علت دونوں کے متعلق ہے،کیونکہ اولاد ماں باپ دونوں کی کمائی ہے، اکیلے باپ کی نہیں ہے۔
اس میں میرا جواب یہی ہوگا کہ علت پر نص صریح آجانے کے بعد میں اس کو بعید خیال نہیں کرتا۔ واللہ أعلم!

خاتمہ، حاصل بحث اور اقوال میں ترجیح
آخر میں مذکورہ مسئلہ میں اہل علم کے اقوال، دلائل، مباحثے اور جوابات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے اور ان کے تین اقوال ہیں :
پہلا قول: باپ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ سواے ضروری نفقہ کے وہ اپنے بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت بنائے۔
یہ قول حنفیہ، مالکیہ اور شافعیہ میں سے جمہور اہل علم کا ہے اور ایک روایت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ سے بھی مروی ہے۔ اُنہوں نے نصوصِ قطعیہ اور قواعد ِشرعیہ عامہ سے استدلال کیا ہے جو بیٹے کے لئے اس کے مال کی حفاظت و عصمت کو ثابت کرتے ہیں اور ان دلائل میں سے سرفہرست دلیل آیت ِمیراث اور مالِ غیر کو اس کی رضا مندی کے بغیر کھانے کی حرمت پر دلالت کرنے والی آیاتِ کریمہ اور احادیث ِنبویہ کا عموم ہے اور حدیث (أنت ومالك لأبیك) کو اُنہوں نے ضرورت و حاجت پرمحمول کیا ہے۔
بہرحال دیگر مسائل فقہ کی مانند یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ ہے۔


دوسرا قول :مطلقاً باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جتنا چاہے ،اپنے بیٹے کے مال میں سے لے لے اور اسے اپنی ملکیت بنالے، خواہ اس کو ضرورت ہو یا نہ ہو۔یہ قول صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت سے منقول ہے جن میں سے سیدنا عمرؓ بن خطاب، سیدنا علیؓ، سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ اور سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سرفہرست ہیں ۔
اُنہوں نے نصوصِ قرآنیہ اور احادیث ِنبویہؐ سے استدلال کیاہے، لیکن ان کی مضبوط ترین دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث (أنت ومالك لأبیك)اور (إن أولادکم من أطیب کسبکم، فکلوا من کسب أولادکم) ہے۔


تیسرا قول : یہ قول بھی دوسرے قول کی مانند ہے، لیکن اُنہوں نے دوسرے قول کے اِطلاق کو چھ شرائط کے ساتھ مقید کردیاہے۔ جن میں سے اہم ترین شرط پہلی ہے کہ بیٹے کا مال لینے سے اس کوضرر نہ پہنچے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (لاضرر ولا ضرار) اس قول کو حنابلہ نے المُعتمد میں اختیار کیاہے اورانکے ہاں اسی کے مطابق فتویٰ دیا جاتاہے۔
لیکن اگر سابقہ اقوال اور ان کے دلائل کو بنظر عمیق دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ تیسرا قول اپنی شروط و قیود سے پہلے قول کے موافق ہے۔ کیونکہ اس قول میں اُنہوں نے باپ کے لئے بیٹے کے مال سے لینے کے مطلق جواز کو چند شرائط کے ساتھ مقید کردیا ہے اور بیٹے کو ضرر نہ پہنچنے کی قید لگائی ہے...!


جمہورکے قول سے واضح ہوتا ہے کہ باپ بلاضرورت اپنے بیٹے کے مال سے نہیں لے سکتا۔ اس قول میں جمہور نے طرفین (باپ اور بیٹا دونوں ) کی رعایت رکھی ہے، باپ کا حق بوقت ِضرورت نفقہ حاصل کرنے کے ذریعے محفوظ ہے اور بیٹے کا حق اس کے مال کی حفاظت کے ذریعے محفوظ ہے۔ دونوں کے حقوق اپنے اپنے مقام پر محفوظ ہیں ۔ اس قول میں خاندانی مشکلات کا حل اور ہر فریق کو اپنے ایمان کی زیادتی اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر قناعت کرنے کی دعوت ہے۔ اس قول سے دل مطمئن ہوجاتا ہے اور اس میں مذکور حِکم واَسرار سے سینہ کھل جاتا ہے اور عقل پرسکون ہوجاتی ہے۔


اس بنا پر اگر باپ بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت بنانے یا اپنی ضرورت سے زیادہ مال حاصل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے اور بیٹا اس مطالبے کو مسترد کردیتا ہے تو وہ بیٹا نافرمان اور گناہگار نہیں ہوگا، کیونکہ بقدرِ ضرورت ان پر خرچ کرکے وہ اپنا فریضہ ادا کررہا ہے اور ان کے حق میں کوتاہی نہیں کررہا۔


یہ ایک پہلو سے ہے، اگر دوسرے پہلو سے دیکھا جائے تو یہ امر واضح ہوتا ہے کہ علماے کرام کا اختلاف رحمت ہے۔ مثال کے طور پراگر معاملہ قاضی کے پاس عدالت میں چلا جاتا ہے تو قاضی دلائل، شہادات اور حالات کو سامنے رکھ کر علما کے ان اقوال میں سے کسی اَحسن اور حالات کے موافق قول کو اختیار کرکے فیصلہ دے سکتا ہے۔
باپ کے لئے نصیحت ہے کہ وہ نیکی پر اپنے بیٹے کا تعاون کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے (رحم اﷲ والدًا أعان وَلَدَہ علی برّہ) 26
تاکہ بیٹا بھی اس کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک سے پیش آئے۔ والد کی طرف سے نیکی طبعی امر ہے جبکہ بیٹا اس کا مکلف ہے۔


اس میں بیٹے کو بھی نصیحت ہے کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک سے پیش آئے، ان کے لئے جود و سخا کے ہاتھ کھول دے اور ان پر خرچ کرنے میں کنجوسی نہ کرے۔ تنگی اور احسان محسوس کئے بغیر بلا مطالبہ ان کو دیتا رہے خصوصاً جب اللہ تعالیٰ نے رِزق کی وسعت د ی ہو۔ بلکہ والدین کے ساتھ احسان کرنا زیادتی ٔرزق اور طوالت ِعمر کا سبب ہے، جیسا کہ مشہور احادیث میں موجود ہے۔
اسی طرح بیٹا جب محسوس کرے کہ والدین اس کے مال سے توقع رکھتے ہیں اور وہ بلاحد اس میں سے لینا چاہتے ہیں تو اس کو چاہئے کہ وہ اس کے ساتھ حکیمانہ راستہ اختیار کرے اور ان کے ساتھ نیکی کرے۔ ان کو غصہ دلانے کا سبب نہ بنے، کیونکہ دانا شخص کبھی وسیلوں کا راستہ ختم نہیں کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:(لا یجزي ولد والدًا إلا أن یجدہ مملوکًا فیشتریه،فیعتقه) کوپیش نظر رکھے۔27
''کوئی شخص بھی اپنے والد کا حق ادا نہیں کرسکتا، اِلا یہ کہ وہ اپنے والد کوغلام پائے تو خرید کر اس کو آزاد کردے۔''
نیک بیٹے کو چاہئے کہ وہ والدین کی رضا میں اللہ کی رضا تلاش کرے، جیسا کہ سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ سائل نے ان سے پوچھا: ما حق الوالدین علی الولد؟ بیٹے پر والدین کا کیا حق ہے؟ تو اُنہوں نے فرمایا:''لو خرجت من أھلك ومالك ما أدیت حقَّھما'28
''اگر تو اپنے مال اور اہل و عیال سے بھی نکل جائے تو تب بھی تو نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔''

حسن بصری رحمة اللہ علیہ سے جب والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حوالے سے سوال کیا گیا، تو اُنہوں نے فرمایا: (أن تبذل لھما ما ملکت وأن تطیعھما في ما أمراك به إلا أن یکون معصیة)29
''والدین کے ساتھ حسن سلوک یہ ہے کہ تو اپنی ملکیت میں موجود ہر شے کو ان کے لئے خرچ کردے، اور ان کے ہرحکم کی اطاعت کرے، سواے معصیت کے۔''
امام ابن ابی الدنیا رحمة اللہ علیہ مرسل سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ فی سبیل اللہ خرچ کرنے سے بھی افضل نفقہ کون سا ہے؟صحابہ کرامؓ نے کہا: اللہ اوراس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔ تو آپؐ نے فرمایا: بیٹے کا اپنے والدین پر خرچ کرنا۔30
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب مسلمانوں کو اور ہمارے والدین کو معاف فرمائے جس طرح کہ اُنہوں نے بچپن میں انتہائی محبت واہتمام سے ہماری پرورش کی۔ آمین !


حوالہ جات
1. الجامع لا َحکام القرآن:12؍314
2. ایضاً:12؍312
3. ایضاً
4. السنن الکبرٰی:7؍481، المعجم الأوسط للطبراني: 1؍448 (810 وقال لم یروہ عن إسمٰعیل إلا المنذر
5. شرح معانی الآثار:4؍158، مشکل الآثار: 4؍ 277
6. شرح معانی الآثار:4؍158، صحیح ابن حبان :15؍273، مسنداحمد:2؍253
7. شرح معانی الآثار:4؍277
8. صحیح ابن حبان:2؍143
9. معالم السنن:5؍183
10. بدائع الصنائع :4؍30
11. مصنف ابن ابی شیبہ:8؍356
12. المواهب اللطیفةمخطوط ج2، لوحہ 346
13. شرح مختصر طحاوي في الفقه الحنفي القسم الثالث، ص241
14. الرسالہ:ص468
15. الجامع لا َحکام القرآن:12؍314
16. 13؍142
17. مستدرک حاکم :2؍284، وصحَّحه ووافقه الذھبي،سنن البیهقي من طریق الحاکم نفسه1: 7؍481
18. المُحلی:8؍108
19. مصنف عبدالرزاق: 6؍221
20. بخاری:5364
21. رسالہ امام صنعانی رحمة اللہ علیہ: ص27
22. المغنی:6؍288
23. دیکھئے الکوکب المنیر:2؍576، أصول مذھب الإمام أحمد: ص333
24. المغنی :6؍294، الانصاف:7؍54، المبدع :5؍381
25. المُحلی: 8؍104، و صححہ عنہ
26. رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب العیال:1؍306 ، رقم150
27. صحیح مسلم:1510
28. مصنف ابن ابی شیبہ:8؍356
29. البروالصلة للحسین المروزي عن ابن المبارك ص7، مصنف عبد الرزاق :5؍176، رقم9288
30. کتاب العیال:1؍161، رقم26

 


 

i. اس مسئلہ پر مذاہب اربعہ کا موقف جاننے کے لئے دیکھیں: شرح السنة للبغوي: 3299، شرح أدب القاضي للخصاف، للصدر الشهید 3174 333، المبسوط للسرخسي 2225، تبیین الحقائق 643، بدائع الصنائع 304 وغیرہ