Mohaddis-324-Sep2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

حکومت ِترکی کا 'اصلاحِ حدیث' کے نام پر ایک اور سیکولر اقدام
انسانی ذہن پر مادیت کے پردے جس قدر دبیز ہوتے جارہے ہیں ، مذہب کے حوالہ سے طرح طرح کے فتنے ظہور میں آرہے ہیں ۔ زیغ وضلال، زندقہ واِلحاد ،گمراہی اور بے دینی کے داعی جدیدسائنسی اُسلوب اور منطقیت کو بنیادبنا کرمذہبی روایات اور شرعی احکام پر تیشہ تنقید تیز کرتے اور نشرواشاعت کے جدید طرق سے اپنے مزعومہ ومذمومہ افکار کے زہریلے اثرات مسلم اُمہ میں پھیلا رہے ہیں ۔ کم علمی کے باعث جو فرداِن کے پھندہ میں پھنس جاتا ہے وہ کافر یا اُن کا مؤید بن کر کفر کا داعی بن جاتا ہے۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا تھا: دعاة إلی أبواب جهنم مَن أجابهم إلیها قذفوہ إلیها 1
''دوزخ کے دروازوں کی طرف بلانے والے ہوں گے۔ جو شخص ان کی دعوت کو قبول کرے گا، اُسے دوزخ میں پہنچا کرچھوڑیں گے۔''


انہی فتنوں میں سے ایک عظیم فتنہ 'فتنۂ انکارِ حدیث' ہے جو فکری لحاظ سے اسی قدر قدیم ہے جس قدر روایت ِ حدیث۔ تاہم دورِ جدید میں یہ فتنہ جدید اُسلوب اختیار کرچکا ہے اورسائنسی، کلامی اورمنطقی بنیادوں کو استعمال کرتے ہوئے ذخیرئہ حدیث کو مشکوک،نامکمل اور تہذیب حاضر کا مخالف قرار دینے کی تگ ودَو میں مصروف ہے۔حدیث کے دورِ تدوین سے لے کر گذشتہ صدی کے اَواخرتک 'انکارِ حدیث' اس فتنہ کایک نکاتی فکری محور تھا،لیکن جب اُنہوں نے دیکھا کہ اُمت کے اس اِجماعی سرمایہ کا ضیاع محض انکار سے ممکن نہیں تو اُنہوں نے اس کو جدید قالب میں ڈھالتے ہوئے 'اصلاحِ حدیث' کے نام سے سرگرمی شروع کردی ہے۔جس کا ماحصل یہ ہے کہ قدیم علم الکلام اوراسلام کاروایتی فلسفہ اسلام کی تعبیر میں ناکام ہوچکا ہے۔ چنانچہ اس کے لیے جدید کلامی بنیادیں استوار کرنا اور حدیث کی ازسرنو تدوین و تشریح کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کا حالیہ ثبوت ریاست ترکی کی انقرہ یونیورسٹی میں جاری 'حدیث پروجیکٹ' ہے جو اپنے منہج، عزائم، پس منظر اور منفی اثرات کے لحاظ سے نہ صرف قابل غور ہے بلکہ فکری وکلامی بنیادوں پر اس منصوبہ اور تحریک کا ردّ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔


اسلامی دنیا خصوصاً پاکستان میں اس منصوبہ کی آگاہی مہم اس لیے بھی ضروری ہے کہ ترکی اور پاکستان کے معروضی وفکری حالات ایک دوسرے سے کچھ مختلف نظر نہیں آتے، کیونکہ ہمارا برسر اقتدار طبقہ بالخصوص اور روشن خیال طبقہ بالعموم سیکولرازم کا بری طرح سے شکار ہوکر ترکی کی مذہبی پالیسیوں کا اپنے ہاں نفاذ کا خواہاں ہے۔
اگرچہ ترکی میں اس منصوبہ کا آغازسال ۲۰۰۶ء سے ہوچکا تھا، لیکن اس منصوبہ کو مخفی رکھنے کی کوشش کے باوجود 26؍فروری2008ء میں پہلی بار اس کا انکشاف بی بی سی کے مذہبی اُمور کے نمائندہ رابرٹ پیگاٹ(Robert Pigott)کی رپورٹ کے ذریعہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، اس منصوبہ کی تردیداور آگاہی مہم کے لئے یہ صفحات پیش کیے جارہے ہیں تاکہ اہل فکر ودانش اس ضمن مں اپنا کردار اداکرتے ہوئے حفاظت ِحدیث کی ذمہ داری پوری کرسکیں ۔
اس مقالہ کودو حصوں میں تقسیم کیاگیا ہے : مبحث ِاوّل میں 'فتنہ انکارِ حدیث'سے فتنہ 'اصلاحِ حدیث'تک کا تاریخی پس منظر اور اس کے دفاع میں قدیم وجدید مساعی کا تذکرہ جبکہ مبحث دوم میں 'حدیث پروجیکٹ:پس منظر، تعارف، عزائم اور ممکنہ اثرات' کاجائزہ لیاگیا ہے۔ اُمیدہے کہ علمائے حدیث اس چشم کشا منصوبہ سے نہ صرف آگاہی حاصل کریں گے بلکہ فکری طورپر اس کے ردّ کے لئے ممکنہ کردار بھی ادا کریں گے۔

مبحث ِاوّل: فتنہ 'انکارِ حدیث' سے فتنہ 'اصلاحِ حدیث' تک
حدیث کی متداول دینی تعریف کے مطابق نبیؐکے قول فعل اور تقریر کو 'حدیث 'کانام دیا جاتا ہے۔ تمام اُمت کا اجماع ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مسلمانوں کی ہدایت کا اہم ذریعہ ،شریعت کا دوسرا بڑا ماخذ اور زندگی کے جملہ اُمور میں قرآنِ مجید کے ساتھ مل کر ایک مکمل راہنمائی ہے۔ ارشاداتِ نبویہ کی تحریری حفاظت پر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی ہمت افزائی فرمائی اور اہل عرب جو برسوں سے اپنے کام کتابت کی بجائے حفظ ،روایت اور زبانی کلام سے چلانے کے عادی تھی، ان میں تحریر کا شوق اُجاگر کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تنبیہات بھی پیش نظر رہنی چاہئیں جو آپ نے روایت ِحدیث کے سلسلہ میں ارشاد فرمائی ہیں :
''...آپ نے صاف طور پر فرما دیا کہ جھوٹی روایت کرنے والا قطعی جہنمی ہوگا۔ یہ اس عہد کی بات ہے جب تعلیم وتربیت سے لوگ جنت ودوزخ کو ایک حقیقت مانتے اور آخرت کے عذاب کو سب سے بڑی مصیبت گردانتے تھے۔ آج کا ذہن اپنی بے باکی کے باعث شاید اسے اتنی اہمیت نہ دے، لیکن اس وقت کسی مسلمان کو دوزخ کی وعید سنانااور اس دور کے انسان کے لئے اس سے بچنا ایک غیر معمولی تصور ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمؐنے حکمت ِ پیغمبرانہ کے تحت حدیث کی نشرواشاعت کی تلقین [فرماتے ہوئے] اوراس میں جھوٹ کی آمیزش سے احتراز کی سخت تاکید فرمائی۔'' 2
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط الفاظ یا ان کی تعبیر منسوب کرنے سے متعلق ارشاد فرمایا:
(مَن کذب عليّ متعمّدًا فلیتبوّأ مَقعدہ من النار) 3
''جوشخص قصداً جھوٹی بات میری طرف منسوب کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنالے۔''


اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کتابت ِ حدیث کی اجازت نہ صرف آقاعلیہ السلام نے خود مرحمت فرمائی بلکہ اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس کی کتابت وتدوین کے ضمن میں تنبیہات بھی ارشاد فرمادیں تاکہ ذخیرئہ حدیث کے ساتھ من گھڑت احادیث شامل نہ ہونے پائیں ۔ منکرین حدیث اور دورِ حاضر کے نام نہاد 'مصلحینِ حدیث' کا یہ اعتراض کہ احادیث عہد ِنبویؐ کے تین سو سال بعد لکھی گئیں ، تاریخ سے عدمِ واقفیت کی بدترین مثال ہے۔ اب ظاہر ہے کہ خود کو اہل قرآن کہنے والے جب قرآن میں کتابت ِ حدیث یا عہد صحابہ وبعد ہ کی سرگرمیاں ڈھونڈنے کی کوشش کریں گے تو قرآن کی کسی آیت میں اس کا ذکر تو نہیں ملے گا اور نتیجتاً وہ اس کا انکار کردیں گے۔ لیکن تاریخ سے واقف ہر شخص یہ جانتا ہے کہ کتابت ِ حدیث تین سو سال بعد نہیں بلکہ عہد ِنبوی میں ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو ہوتی رہی :
عن أبي هریرة قال: ما من أصحاب النبي ﷺ أحد أکثر حدیثًا مني إلا ما کان من عبد اﷲ بن عمرو، فإنه کان یکتب ولا أکتب 4
''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں مجھ سے زیادہ احادیث کا روایت کرنے والا کوئی نہیں ہے، سواے عبداللہ بن عمرو کے... کیونکہ وہ لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا۔''


حضرت عبداللہ ؓبن عمرو کا احادیث ِشریفہ کو لکھنا حضورِ اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے تھا۔ مستدرک حاکم کی روایت ہے کہ قریش نے حضرت عبداللہ ؓبن عمرو سے کہا کہ تم حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں لکھتے ہو حالانکہ آپ بشر ہیں ، غصے ہوجاتے ہیں جیسے اور لوگ غصہ میں ہوتے ہیں ۔ ان لوگوں کی یہ بات سن کر حضرت عبداللہ ؓبن عمرو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور قریش کی بات نقل کی،آپ ؐنے اپنے دونوں لبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
(والذي نفسي بیدہ ما یخرج مما بینهما إلا حق فاکتب 5
''قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، ان دونوں ہونٹوں سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا، لہٰذا تم لکھا کرو۔''
حضرت انس ؓ بھی احادیث لکھا کرتے تھے اور حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے شاگردوں کو نقل کرنے کے لئے اپنی بیاضیں دے دیاکرتے تھے۔ 6
صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد تابعین رحمة اللہ علیہ نے احادیث کی کتابی وصدری حفاظت کا غیر معمولی اہتمام کیا۔ احادیث کی جمع وترتیب، تدوین وتبویب اور تنقیح وتہذیب کا عظیم الشان کام اکابر علماے اُمت کے ذریعہ انجام پایا۔ روایاتِ ابو ہریرہؓ کا مجموعہ،صحیفۂ ہمام بن منبّہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص کی لکھی ہوئی حدیثیں جو باجازتِ نبوی تحریر کی گئیں ، مکتوباتِ نبویہؐ، احکامِ زکوٰة سے متعلق حضرت علیؓ کے لئے لکھی گئی تحریر، الوثائق السیاسیة کے نام سے ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کا مرتب کردہ مجموعہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة اللہ علیہ کا تدوینِ حدیث کی طرف متوجہ ہونا، امام ابن شہاب زہری رحمة اللہ علیہ کے ذریعہ ذخیرئہ حدیث کے جمع کا ابتدائی اِقدام، مکہ میں ابن جریج، رحمة اللہ علیہ مدینہ میں امام مالک رحمة اللہ علیہ ، بصرہ میں ربیع بن صبیح رحمة اللہ علیہ اور دیگر متقدمین اہل علم کا کتابی صورت میں احادیث کو مرتب فرمانا؛ یہ سب وہ کوششیں ہیں جن کے ذریعہ احادیث کا مجموعہ محفوظ رہا۔


انسانی احتیاج کے پیش نظر مسموع کو مرقوم کردیاجاتاہے، لیکن بذاتِ خود مسموع کو یہ احتیاج لاحق نہیں ہوتی۔اسی طرح ارشاداتِ نبویہ کی کتابت ایک انسانی حاجت وضرورت تھی نہ کہ خود علمِ حدیث کی۔اس اُصول کو نہ سمجھنے کی بناپر علم حدیث کی ترتیب وتدوین پر شکوک وشبہات پیدا ہوتے ہیں ۔اگرچہ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ذخیرئہ حدیث کی تدوین کے دوران تمام تر احتیاط اور نبوی تنبیہات کے باوجود بعض دشمنانِ اسلام نے من گھڑت احادیث شامل کرنا چاہیں تاہم متقدمین محدثین نے من گھڑت روایات کو'موضوعات' کے عنوان سے مرتب کرکے دودھ اور پانی کا فرق واضح کردیا۔ تدوینِ حدیث کے ضمن میں محدثین کرام کے مسلمہ اُصول ہی اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہیں کہ وضعِ حدیث کا فتنہ نہ صرف اسی وقت دم توڑگیاتھا بلکہ قیامت تک اس کا دروازہ بھی بند کردیاگیا۔


ان تمام ترمساعی کے باوجود، بعض ملحدانہ سوچ کے مالک افراد حدیث کی حجیت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہوئے اور اس کی روایت ودرایت پر اپنے ہی قائم کردہ مفروضوں کی بنیاد پر شکوک وشبہات کا بازار گرم کیے رکھا۔ حدیث کی حجیت سے انکار کی یہ فکر'فتنۂ انکارِ حدیث' کہلاتی ہے۔ یہ فتنہ اگرچہ دورِ تدوین کے دوران کی پیداوار ہے تاہم اس کے بارے میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے پیشین گوئی کردی تھی:
''حضرت مقدامؓ بن معدیکرب سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ عنقریب ایسا ہوگا کہ ایک شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھا ہوگا، اس سے میری حدیث بیان کی جائے گی تو کہے گا کہ ہمارے تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اس میں جو ہم حلال پائیں گے اسے حلال مانیں گے اور اس میں جو حرام بتایاگیا ہے، اسے ہم حرام سمجھیں گے۔ (یہ فرما کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ)خبردار! جس چیز کو اللہ کے رسول نے حرام فرمایا ہے، وہ اِنہی چیزوں کی طرح حرام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام فرمایا ہے''۔ 7
زبانِ نبویؐ سے اس فتنہ کی پیشین گوئی ہوجانے کے بعد اس کا ظہور یقینی تھا۔ اسی کے پیش نظر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، عہد ِصحابہ اور بعدازاں عہد ِ تابعین وتبع تابعین میں بھی حدیث کی تہذیب وتحفیظ کا سلسلہ جاری رہا تاکہ کوئی خارجی قول، حدیث ِ نبوی کی حیثیت اختیارنہ کرسکے۔ لیکن ہٹ دھرم، ضدی اور قبولِ حق کی صلاحیت سے محروم شخص کے لئے، حق اپنی تمام تر حقانیت ووضاحت کے باوجود مشکوک ہی رہتا ہے۔ چنانچہ منکرینِ حدیث نے حدیث کو اس کی تمام تر حجیت، مربوط نظامِ تدوین، ثبوت کے عقلی ونقلی دلائل کے باوجود درخورِاعتنا نہیں سمجھا اور اپنے لیے 'اہل قرآن' کا خوش نما لیبل منتخب کر کے عوام الناس کو مزید دھوکے میں مبتلا کردیا۔ قرآن مجید سے ان لوگوں کا تعلق کس قدر اور انکارِ حدیث کا مقصد کیا ہے؟
اس کے بارے میں مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رقم طراز ہیں :
''[منکرین حدیث]سب کے سب قرآن کے جھٹلانے والے اور قرآن کے خود تراشیدہ معانی ومفاہیم کے خواہاں ہیں ... حدیث کا انکار درحقیقت آزادیٔ نفس کے لیے ہے اور انکارِ حدیث کی لپیٹ میں انکارِ قرآن بھی مضمر ہے۔ یہ لوگ عجمی سازش کا شکار ہیں ۔'' 8
جہاں تک اس تحریک کی علمیت کا سوال ہے تو مولانا یوسف لدھیانوی کی یہ رائے بہت صائب ہے کہ
''انکارِ حدیث کوئی علمی تحریک نہیں ، یہ جہالت کا پلندہ ہے۔ اس کا اصل منشا صرف یہی ہے کہ اب تک ایک ہی خدا کی عبادت اور ایک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی جاتی تھی؛ لیکن اس نام نہاد ترقی یافتہ دور کے تعلیم یافتہ آزروں کو ہر روز نیا خدا چاہیے جس کی وہ پوجا کیا کریں ، اور ہر بار نیا رسول ہونا چاہیے جو ان کے لئے نظامِ ربوبیت کی قانون سازی کیا کرے۔'' 9
ایک دوسرے پہلو سے جائزہ لیا جائے تومعلوم ہوگا کہ انکارِ حدیث دراصل انکارِ قرآن ہے۔ ایک موقع پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمة اللہ علیہ نے فرمایا:
''یہ تو میرے میاں ( صلی اللہ علیہ وسلم )کا کمال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور یہ میرا کلام ہے، ورنہ ہم نے تو دونوں کو ایک ہی زبان سے صادر ہوتے ہوئے سنا تھا۔
جس طرح خدا اور رسول کے مابین عقیدے کے لحاظ سے تفریق نہیں ہوسکتی کہ ایک کو مانا جائے اور دوسرے کو نہ مانا جائے، بعینہٖ کلام اللہ اور کلام الرسول میں سے ایک کا انکار دوسرے کے انکار کو لازم کردے گا: فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ ٱلظَّـٰلِمِينَ بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ يَجْحَدُونَ ...﴿٣٣﴾...سورة الانعام''پس اے نبیؐ! یہ لوگ آپ کے کلام کونہیں ٹھکراتے بلکہ یہ ظالم اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں ۔''

مولانا محمد یوسف لدھیانوی 'فتنۂ انکارواصلاحِ حدیث' کے پس پردہ حقائق میں سے ایک عجیب نکتہ بیان فرماتے ہیں :
''اس فتنہ کے اُٹھانے والے ظالموں نے نہیں سوچا کہ وہ اس سوال کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو اعتماد یا عدمِ اعتماد کا فیصلہ طلب کرنے کے لیے اُمت کی عدالت میں لے آئیں گے۔ اُمت اگر یہ فیصلہ کردے گی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات(حدیث) قابل اعتماد ہے، تو اس کے مرتبہ کا سوال ہوگا اور اگر نالائق اُمتی یہ فیصلہ صادرکردیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات(حدیث) آپ کے زمانہ والوں کے لیے لائق اعتماد ہو توہو؛لیکن موجودہ دور کے تمدن اور ترقی پسند افراد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرنا ملائیت ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عدمِ اعتماد کا فیصلہ ہوجائے گا۔ (معاذ اللہ، أستغفراللہ)
اگردل کے کسی گوشے میں ایمان کی کوئی رمق بھی موجود ہے تو کیایہ سوال ہی موجب ندامت نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات لائق اعتماد ہے یا نہیں ؟...تُف ہے اس مہذب دنیا پر کہ جس ملک کی قومی اسمبلی میں صدرِ مملکت کی ذات کو تو زیربحث نہیں لایاجاسکتا لیکن اسی ملک میں چند ننگ ِاُمت،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کو نہ صرف یہ کہ زیر بحث لاتے ہیں بلکہ زبان وقلم کی تمام تر طاقت اس پر صرف کرتے ہیں کہ اُمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عدمِ اعتماد کا ووٹ دے ڈالے۔ اگرایمان اسی کا نام ہے تو مجھے کہنا ہوگا: {بِئْسَمَا يَأْمُرُ‌كُم بِهِۦٓ إِيمَـٰنُكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿٩٣...سورة البقرة} 10

تاریخی پس منظرواسباب
ذات اَقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر عدمِ اعتماد کی فکر اٹھارویں صدی عیسوی کے اوائل میں مغرب کے منصوبہ بندپروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر ایک تجدد پسند طبقہ کی صورت میں ظاہر ہوئی جس نے حدیث سے متعلق شکوک وشبہات پیدا کر کے 'انکارِ حدیث' کے نظریے کو فروغ دیا۔ یہ وہ طبقہ تھا جس کی نظر میں زندگی کے ہر شعبے میں مغرب کی نظریاتی غلامی ہی ترقی کی اصل علامت ہے۔
مصر میں طہٰ حسین، توفیق صدقی، محمود ابو ریہ اور ترکی میں ضیاء کوک الپ اس طبقہ کے سرکردہ رہنما قرار دیے جاسکتے ہیں ، بعد میں جن لوگوں نے اس فتنہ کو ایک تحریک کی شکل دی اور اس سلسلہ میں شبہات کو تقویت دی، وہ ان ہی کے خوشہ چیں تھے۔ اگرچہ اس تحریک کے بعض ارکان نے صراحة حدیث کا انکار کرنے کی بجائے یہ طریقہ اختیار کیا کہ جہاں کوئی حدیث اپنے مدعا یا عقل کے خلاف نظر آئی، اس کے بارے میں کہہ دیا کہ حدیث قابل استدلال نہیں ، اس کی صحت کا انکار کردیا، خواہ اس کی سند کتنی ہی قوی کیوں نہ ہو۔برصغیر میں عبداللہ چکڑالوی اور اسلم جیراج پوری نے اس فتنہ کو ہوا دی، یہاں تک کہ غلام احمد پرویز نے اس کی باگ دوڑ سنبھالی اور اسے ایک منظم نظریہ کی صورت دی۔ جبکہ دورِ حاضر میں غامدی فکر، بعض معمولی تبدیلیوں اور خصوصی احتیاط کے ساتھ، اسی تحریک کا نظریاتی ترجمان ہے۔
رہا یہ سوال کہ آخر وہ کون سی مجبوریاں تھیں جن کے باعث ان افراد کو اجماعِ امت کے خلاف یہ راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ اس کے بارے میں ڈاکٹر مصطفی سباعی چار وجوہات بیان کرتے ہیں جن مںا سے کوئی ایک وجہ ضرور محرک ہواکرتی ہے:
اوّل:اسلامی سرمایہ کے حقائق سے عدمِ واقفیت اور اسلام کے اساسی مصادر سے مطالعہ نہ کرنا
دوم:مستشرقین کے نام نہاد سائنٹفک تحقیقی منہاج سے مرعوبیت
سوم: اتباعِ علما کے دائرہ سے نکل کر آزاد وروشن خیالی کے ذریعے شہرت ونمود کی خواہش
چہارم:فکری بے راہ روی 11


رہے منکرین ونام نہاد مصلحینِ حدیث کے اعتراضات، تو یہ بحث ہمارے اس موضوع سے باہر ہے، اس کے لیے 'حجیت ِ حدیث'کے عنوان سے مستقل کتب ملاحظہ ہوں ۔ تاہم ہمارے لیے یہ بات اہم ہے کہ علم حدیث کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اس پر اعتراضات اور شکوک وشبہات بھی بدلتے رہے۔ اوّلاً کلامی انداز میں حدیث اور اس کے مقام کو چیلنج کیاگیا، بعدازاں راویانِ حدیث کی شخصیت کو مشکوک ٹھہرایاگیا اور یہ دعویٰ کیاگیا کہ ذخیرئہ احادیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو سال بعد مرتب کیاگیا۔ اب جدید دور میں یہ دعویٰ کیاجارہا ہے کہ
''حدیث، دورِ حاضر کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، چنانچہ ذخیرئہ حدیث میں سے ایسی روایات کا اِخراج یا پھر ان کی دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعبیر وتشریح کی جائے تاکہ مغرب کے سامنے اِسلام کی جامعیت مشکوک نہ ہوسکے ۔ اس کے پیش نظر ذخیرئہ حدیث کی ازسرنو تدوین وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ زمانۂ ماضی میں بعض سیاسی اورتمدنی ضرورتوں کے لیے روایات مندرج کردی گئی تھیں ۔''
ترکی میں شروع ہونیوالا حالیہ منصوبہ اسی مقصد کی تکمیل کا خواب ہے۔اس کا ایک تعارفی جائزہ نذرِ قارئین ہے :

مبحث دوم: حدیث پروجیکٹ ؛ پس منظر،تعارف ،عزائم اور ممکنہ اثرات
فروری2008ء کی بی بی سی رپورٹ کے مطابق ترکی کے 'مضبوط ترین' ادارہ برائے مذہبی اُمور نے حدیث میں بنیادی تبدیلیوں (Fundamental revision of the Hadith) کے لئے 12 ترکی کی 23جامعات کے 80سکالرز پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی ہے۔13 ترکی کی وزارتِ مذہبی اُمور 'دیانت'(Diyanet) کے ڈپٹی ڈائریکٹر پروفیسر مہمٹ گورمیز (Mehmet Gormez)اس 'منصوبہ برائے اصلاحِ حدیث' کے سربراہ ہیں ۔یاد رہے کہ مہمٹ گورمیز نے علم الکلام کی تعلیم عیسائی اساتذہ سے حاصل کی۔ 14 اس منصوبہ کے محرکات اور اسباب حسب ِ ذیل بیان کیے گئے ہیں :
اسباب و محرکات
سوسائٹی پر حدیث کے منفی اثرات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان کے اِزالہ کے لئے ذخیرئہ حدیث کا ازسرنوجائزہ لیاجائے:
The Turkish state has come to see the Hadith as having an often negative influence on a society, it is in a hurry to modernise and believes it responsible for obscuring the original values of Islam 15.
''ریاست ترکی نے مشاہدہ کیا ہے کہ حدیث، معاشرہ میں اکثر وبیشتر منفی تاثر کی حامل رہی ہے چنانچہ اس کو جدید خطوط پر اُستوار کرنے اور اسلام کی بنیادی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنانے پر یقین رکھتی ہے۔''
احادیث کی ایک غیر معمولی تعداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں ، یاپھر ان کی تعبیر نو وقت کی اہم ضرورت ہے :
 16"A significant number of the sayings were never uttered by Muhammad and even some that were need now to be reinterprated".
''احادیث کی ایک غیرمعمولی تعداد زبانِ نبویؐ سے صادر نہیں ہوئی یا پھراب ان کی ازسرنو تشریح کی ضرورت ہے۔''
اس ضمن میں پروجیکٹ کے سربراہ پروفیسر مہمٹ گورمیزنے عورت کے محرم کے ساتھ سفر کرنے کی شرعی پابندی کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک معاشرتی حکم تھا جو آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم نے خطۂ عرب میں عورت کی حفاظت کے پیش نظر صادر فرمایا تھا جبکہ آج کے دور میں چونکہ یہ علت موجود نہیں ، لہٰذا اس حدیث کو ختم یا پھر اس کی نئی تشریح ہونی چاہیے۔کیونکہ حالات کی تبدیلی کے باوجود یہ پابندی اب بھی نص میں موجود ہے جس کے خلاف کئی ایک علاقوں سے آوازیں بلند ہوئی ہیں ۔ 17
منطق اور دلیل جو کہ اسلام کی ہمیشہ سے پہچان رہی ، کی دوبارہ دریافت ہونی چاہیے:
 18"...the spirit of logic and reason inherent in Islam at its foundation are being rediscovered".
''آج ہم حدیث کو کسی باضابطہ طریقہ کار اور منہج کے بغیر استعمال کر رہے ہیں جس نے اس(ذخیرئہ حدیث) کے اندر بہت سی مشکلات پیداکردی ہیں ...مذہبی نصوص کو سمجھنے کے لئے جدیددنیا میں رائج طریقہ ہاے تحقیق کو استعمال کرتے ہوئے ہم حدیث کو پہلے سے زیادہ قابل فہم، قابلِ عمل اور اَغلاط سے پاک بنانے کا عزم رکھتے ہیں ۔'' 19

پروجیکٹ کے مقاصد
پروجیکٹ کے سربراہ پروفیسر گورمیز نے27فروری2008ء کو جریدہ 'فنانشل ٹائمز' کے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس پروجیکٹ کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ'' حدیث ِنبوی کو آج کے لوگوں کے لئے ایک نئی تعبیرکے ذریعے پہلے سے زیادہ قابل فہم بنایا جاسکے۔'' 20 جبکہ موصوف نے نیٹ بلاگ 'روٹرز' کو ایک انٹرویو کے دوران اس منصوبہ کے حتمی مقاصد کا ذکر اِن الفاظ میں کیا:
"There are three aims: firstly, to isolate misunder- standings that stem from history, secondly to make clear how much is cultural, how much is traditinal and how much is religious, thirdly to help people today to under- stand them right 21".
''ہمارے تین مقاصد ہیں : پہلا یہ کہ تاریخی مداخلت کی وجہ سے پیداشدہ غلط فہمیوں کو روکنا، دوسرا: حدیث میں معاشرتی، روایتی اورمذہبی عناصر کو واضح کرنا اور تیسرا لوگوں کو حدیث کے صحیح فہم میں مدد دیناہے۔''

منصوبہ برائے اصلاحِ حدیث کا منہج وطریقہ کار
مذکورہ منصوبہ کے سربراہ کے بقول اگرچہ یہ صرف نئی درجہ بندی (Re-classifying) اوربعض احادیث کی تعبیرنو(Re-interpretaion)تک محدود ہے اوراس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ 22 تاہم اس منصوبہ کے منہجِ تحقیق کا ذکر کرتے ہوئے حکمراں پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی(AK)کے ترجمان مصطفی اکیول نے برطانوی روزنامہ 'گارڈین' کو ایک انٹرویو کے دوران کہا:
 23"The reviewer may DELETE some hadiths about women or declare them UNAUTHENTIC, that would be a bold step",
''[اس پروجیکٹ کے] جائزہ لینے والے، خواتین سے متعلق کچھ احادیث کو 'ختم'، یا پھر اُنہیں 'غیرمستند' قراردے سکتے ہیں ، جو کہ ایک بہت جرأت مندانہ اِقدام ہوگا۔''
احادیث کی ازسرنوتدوین کے منہج کے بارے میں کہاگیا ہے کہ
 24"... the Ankara School of theologians working on the new Hadith have been using Western critical techniques and philosophy".
''انقرہ سکول، مغربی طرقِ انتقاد اور فلسفہ کواستعمال کرتے ہوئے 'جدید حدیث' کے منصوبہ پر کام کررہا ہے۔''
'اصلاح شدہ ذخیرئہ حدیث' کی ضخامت سے متعلق یہ وضاحت کی گئی ہے کہ یہ پانچ یا چھ جلدوں پر محیط ہوسکتا ہے تاہم ابھی کچھ حتمی طورپر نہیں کہاجاسکتا۔ 25 جبکہ اس'اصلاح' کے بعد تیارشدہ 'حدیث ورژن' کو بیچنے کی بجائے مساجد میں مفت رکھاجائے گا تاکہ لوگ ان سے آسانی سے استفادہ کرسکیں ۔ 26
'اصلاحِ حدیث' کے منصوبہ پر مغربی میڈیانے بھی بجاطورپر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ 'دی گارڈین' نے اپنی ۲۷؍فروری کی اشاعت کی شہ سرخی "Turkey strives for 21 st century form of Islam"کے عنوان سے سجائی۔27 جبکہ BBCنے اسے "Turkey in radical revision of Islamic texts"کے جملہ سے رپورٹ کیا۔
قارئین کرام!'منصوبہ برائے اصلاحِ حدیث'سے متعلق تعارفی معلومات کی بناپر ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ مصلحین کے بقول :
حدیث نے (خدانخواستہ) سوسائٹی پر برے اثرات مرتب کیے ہیں ۔
بعض احادیث موجودہ تہذیب سے ہم آہنگ نہیں ۔
عہد ِنبویؐ میں بعض فیصلے معاشرتی وجوہات کی بناپر صادرکیے گئے، مذہب سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا۔
حدیث پر بعض تاریخی وسیاسی اثرات کی و جہ سے اسے سمجھنے میں مشکل درپیش ہے۔
ذخیرئہ حدیث کسی مرتب اور مربوط طریقہ کار سے خالی ہے۔
چنانچہ اس 'چارج شیٹ'کی بنیاد پر حدیث کی ازسرنوتدوین اورتشریح وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اب آئیے اس 'تحریک براے اصلاحِ حدیث'کے پس پردہ حقائق اور عزائم کا جائزہ لینے کے علاوہ یہ دیکھتے ہیں کہ بیان کردہ محرکات ومقاصد کس حد تک مبنی برحقیقت ہیں :

پس پردہ حقائق اورعزائم
ترکی کا مسئلہ یہ ہے کہ ریاستی طورپر یورپ کا جزو بننے کی خواہش نے اسے مغرب کا فکری غلام بنا کے رکھ دیا ہے ۔ چنانچہ مغربی ثقافت سے ہم آہنگی اور اس کے فروغ کاہر وہ جائز یا ناجائز اِقدام جس کا مطالبہ اعلانیہ یا غیراعلانیہ طور پر اہل مغرب کی طرف سے ہو، ترکی کے سیکولر حکمران اس کی تکمیل کو اپنی فلاح اور یورپی یونین میں شمولیت جیسے ناممکنہ خواب کو پورا ہوتاخیال کرتے ہیں ۔ مذہب اسلام کی تعبیر نو کے ضمن میں ،دیگر غیر اسلامی اقدامات مثلاً حجاب، اذان ودیگر مذہبی شعائر پر پابندی کے علاوہ حال ہی میں ایک اور سیکولر اقدام بھی توجہ طلب ہے جس کے تحت ۴۵۰ خواتین کو تربیت دینے کے بعد بطور سینئر امام مختلف مراکز میں مقرر کیاگیا ہے جو 'ویز'(Vaizes)کہلاتی ہیں ۔جن کی تقرری کا مقصد یہ ہے کہ وہ ترکی کے دوردراز علاقوں کے لوگوں کو اسلام کی صحیح تشریح سے روشناس کرواسکیں :
"Turkey has given theological training to 45( women, and appointed them as senior imams called vaizes. They have been given the task of explaining the original spirit of Islam to remote communities in Turkey's vast interior 28".
جہاں تک حدیث کی ازسرنوتدوین کا تعلق ہے تو یہ معاملہ کچھ نیا نہیں بلکہ ریاست ترکی کے قیام کے بعد اس کی پہلی پارلیمنٹ نے 1923ء ہی میں حدیث کی ازسرنو تدوین وتشریح کا فیصلہ دیاتھا۔ حالیہ منصوبہ ترکی میں دوسری کوشش ہے۔ 29
ترکی کے سیکولر عناصر کی طرف سے اس طرح کے اقدامات کے پس پردہ 'اصلاحِ مذہب' کی وہ فکر کارفرما ہے جو یورپ سے درآمدشدہ ہے۔ جس نے 16ویں صدی عیسوی میں کلیسا کی اصلاح کے نام پرنہ صرف مذہب کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیابلکہ اس کی کلامی بنیادوں کو ہی سرے سے تبدیل کردیا۔ ترکی میں جاری اصلاحِ مذہب کی حالیہ تحریک بھی انہی خطوط پرجاری ہے۔ ترکش ماہرفادی حاکورا (Fadi Hakura)نے بجاکہاہے:
 30"This is kind of akin to the Christian Reformation. Not exactly the same, but... it's changing the theological foundations of the religion".
''یہ اصلاح عیسائیت سے ملتی جلتی قسم ہے، اگرچہ بعینہٖ ویسی نہیں تاہم یہ بھی مذہب کی کلامی بنیادوں کو تبدیل کررہی ہے۔''
اس پس منظرسے یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ 'اصلاحِ حدیث' کی یہ نام نہاد تحریک کن عزائم کے چلمن پیچھے چھپی ہے۔ 'اصلاحِ حدیث' دراصل اُمت ِمسلمہ کے لئے باعث ِافتخار پہلے سے موجود ذخیرئہ حدیث، روایت وتحقیق کے معیار، محدثینِ کرام کی مساعی اور ان کے طے کردہ اُصول پر عدمِ اعتماد کا اعلانیہ اظہار ہے۔ روشن خیال اور مذہب بیزار طبقہ نے ہمیشہ دلکش عناوین کے ذریعے ہی مبادیاتِ اسلام پر حملہ کیا ہے اور یہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔
پروفیسر مہمٹ نے اس منصوبہ کے جواز کے لئے عورت کے محرم کے ساتھ سفرکی جو مثال بیان کی ہے کہ'' یہ ایک معاشرتی حکم تھا اور اس کا مذہبی پابندی سے کوئی تعلق نہیں اور اب معاشرتی تقاضا یہ ہے کہ عورت کو بغیرمحرم کے اجازت دی جائے۔'' درحقیقت اس استشراقی فکر کی ترجمانی ہے جو رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبرکی بجائے صرف ایک مصلح (Reformer) کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں ۔ گورمیز کے الفاظ ہیں :
"But this isn't a religious ban. It came about becuase in the Prophet's time it simply wasn't safe for a woman to travel alone like that. But as time has passed, people have made permanent what was only supposed to be a temporary ban for safety reasons 31".
''تاہم یہ کوئی مذہبی پابندی نہ تھی۔ یہ حکم اس لیے دیاگیا کیونکہ عہد ِنبوی میں عورت کے لیے اکیلے سفر کرنا بالکل غیرمحفوظ تھا۔ وقت کے گذرنے کے ساتھ لوگ اکیلے سفر کرنے کے عادی ہوگئے، چنانچہ اسے صرف عارضی پابندی ہی تصورکیاجائے گا۔''


جہاں تک محرم مرد کے ساتھ عورت کے سفر کا حکم ہے تو پروفیسرمہمٹ گورمیزکی بیان کردہ 'حفاظت درسفر'کی علت کم علمی پر مبنی ہے کیونکہ اس حکم کی علت یہ ہرگزنہیں بلکہ فتنۂ اندیشہ کو اس کی علت کے طور پربیان کیاجاتا ہے۔ لیکن اگرایک لمحہ کے لئے گورمیز کی تراشیدہ علت 'حفاظت درسفر' کو بھی مان لیاجائے تو کیا گارنٹی ہے کہ آج کی عورت چودہ سوسال پہلے کی عورت سے زیادہ محفوظ ہے؟ اگر اس خودساختہ اُصول کومان لیاجائے تو یہ ہردینی حکم کے لئے معاشرتی تاویل کادروازہ کھولنے کے مترادف ہوگا کہ کل کو کوئی یہ کہے کہ قرآن مجید کی چند آیات کسی معاشرتی پس منظر میں نازل ہوئی تھیں اور آج معاشرتی تبدیلی کے پیش نظر ان آیات کا اِخراج ضروری ہے...


حدیث سے متعلق یہ منصوبہ صرف کہنے کی حد تک علمِ حدیث سے منسلک ہے ورنہ اگر بنظرعمیق جائزہ لیاجائے تویہ دراصل اسلام کی بنیادوں تک کو ہلادینے والا اِقدام ہے۔ اس کا اندازہ پروفیسر مہمٹ گورمیز کے اس جواب سے لگائیے جو اُنہوں نے اسلامی سزائوں سے متعلق دیا۔ جب ان سے پوچھاگیا کہ وہ حدیث میں مذکور سزائوں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ؟ ... تو اُنہوں نے کہا :
"...you don't see such things in the hadith or the Koran. Punishment is not on our agenda. ... We have no aim to put issues from history (such as punishments) to the agenda 32".„
''آپ کوایسی چیزیں حدیث یا قرآن میں کہیں نظر نہیں آئیں گی۔ سزائوں جیسے 'تاریخی موضوعات' پرگفتگو کرنا ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ۔''


آپ اندازہ کیجئے کہ کس طرح قرآن وحدیث کی بیان کردہ سزائوں کو بے بنیادکہتے ہوئے ان کو مذہبی حکم ماننے کی بجائے 'معاشرتی موضوع' یا محض 'تاریخی واقعہ' قراردیاگیا۔ یہی وہ مقصد ہے جو سیکولرعناصر کے پیش نظر ہے کہ اسلامی مبادیات اور ان کے مصادر(قرآن وحدیث) کو ہی اِصلاح کے نام پر تبدیل کردیاجائے تاکہ عیسائیت کی طرح دین اسلام کی بنیادیں بھی تاریخی دھندلکوں کا شکار ہوکر متبعین اسلام سے اوجھل ہوجائیں اور اپنی شناخت گم ہوجانے کی صورت میں دوسروں کے رحم وکرم پر زندگی گذارنے پر مجبورہوں ۔


آخر میں محققینِ علمِ حدیث اور علماء ودانشور حضرات سے گذارش ہے کہ وہ 'اصلاحِ حدیث پروجیکٹ' کی آڑ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاداتِ عالیہ کی من چاہی تعبیر کے اس منصوبے کو نہ صرف بے نقاب کریں بلکہ علمی بنیادوں پر اس کا ردّ کریں ۔ کیونکہ خدانخواستہ اگرہم نے حسب ِ سابق اس فتنہ پربھی چب سادھے رکھی تو پھر اسلامی علمی روایت پر حملوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوگا کہ اس کا سد ِباب مشکل ترہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی اساسیات اور علمی ورثہ کے تحفظ کا احساس نصیب فرمائیں ۔ آمین!


 حوالہ جات

1. صحیح بخاری:3606
2. حفاظت ِ حدیث ازڈاکٹر خالدعلوی ص120،121
3. صحیح بخاری:110
4. صحیح بخاری:113
5. مستدرک حاکم:1041
6. مستدرک حاکم:5733
7. سنن ابن ماجہ:12
8. فتنہ انکارِ حدیث اوراس کا پس منظرازمولانا عاشق الٰہی بلند شہری: ص27،28
9. انکارِ حدیث کیوں؟ ازمولانا یوسف لدھیانوی: ص5
10. 'انکارِ حدیث کیوں؟'ازمولانایوسف لدھیانوی:ص7
11. السنة ومکانتها في الشرع إسلامي از ڈاکٹر مصطفی سباعی،ص4
12. http://news.bbc.co.uk/2/hi/europe/7264903.stm
13. http://www.islamonline.net/servlet/
14. دی جرنل آف ترکش ویکلی۔ 28فروری2008ء
15. http://news.bbc.co.uk/2/hi/europe/7264903.stm
16. ایضاً
17. ایضاً
18. ایضاً
19. http://blogs.reuters.com/faithworld/2008
20. دی جرنل آف ترکش ویکلی:28 فروری2008ء
21. islamonline.net
22. http://blogs.reuters.com/faithworld/2008
23. Turkish Weekly, 28 Feb 2008
24. BBC Report
25. islamonline.net
26. http://blogs.reuters.com
27. دی گارڈین۔ 27فروری2008ء
28. BBC Report
29. دی جرنل آف ترکش ویکلی۔28فروری2008ء
30. news.bbc.co.uk/2/hi/europe/7264903.stm
31. ebid
32. blogs.reuters.com/faithworld