زیر تبصرہ کتاب فاضل مصنف ڈاکٹر حافظ محمد اسحق زاہد حفظہ اللہ کی نئی علمی کاوش ہے جسے اُنہوں نے جمعیة احیاء التراث الاسلامی کی لجنة القارة الہندیة کے ایما پر کمیٹی کی طرف سے برصغیر میں مبعوث اُن دعاة اور مبلغین کے لیے ترتیب دیا ہے جو اُردو بول چال کے علاقوں میں دعوت و تبلیغ کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔

اسلام میں منبر ومحراب کی ہمیشہ سے اہم اور مرکزی حیثیت رہی ہے اور تاریخ اس امر کی گواہی دیتی ہے کہ جب بھی اسلامی اقدار اور روایات کو مسخ کیا جانے لگا اور خرافات وبدعات کے جھکڑ چلے تو ان حالات میں منبر و محراب سے اُٹھنے والی متبرک آواز نے ہی ان انحرافات کو روکا اور اسلامی تشخص برقرار رکھنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کیا۔

برصغیر میں صدیوں سے مختلف اَقوام ومذاہب کے لوگ اکٹھے رہ رہے ہیں اور اس بنا پر اس خطہ میں پائے جانے والے مذاہب، رسوم ورواج اور تہذیبوں کا ایک دوسرے سے متاثر ہونا لازمی امر تھا۔ چنانچہ برصغیر کے مسلمان بھی ان غیر مسلم تہذیبوں سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکے اور ان کے اندر بعض بدعات وخرافات در آئیں۔ ایسے ہی جہاں مسلمانوں نے غیر مسلم تہذیبوں اور مذاہب سے اثرات قبول کئے ، وہاں برصغیر کا طبقہ خطبا بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔

کسی بھی مسلمان کا سب سے مضبوط تعلق مسجد کے ساتھ ہوتا ہے اور مساجد میں ہونے والے وعظ ونصیحت سے ہر دین دار شخص خاطرخواہ اثر قبول کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے آج کے خطبا بعض اوقات کم علمی یا پھر نادانستہ طور پر ضعیف اور موضوع روایات پر مبنی مسائل کو بھی اپنے خطبات میں پیش کردیتے ہیں جس بنا پر آج مسلمانوں کے اندر بدعات و خرافات کم ہونے کے بجائے پھیلتی جارہی ہیں ۔ اس پر طرہ یہ کہ ان مبلغین کی رہنمائی کے لیے لکھے جانے والے لٹریچر میں بھی غیر مستند روایات و آثار، قصہ گوئی، داستانیں اور فضائل ومناقب کے متعلق من گھڑت واقعات جا بجا نظر آتے ہیں۔

ماضی میں بھی خطباے عظام کی رہنمائی کے لئے نامور اہل علم نے خطبات کے بعض مجموعے ترتیب دیے لیکن عملاً اس نوعیت کی مجموعے یا تو بہت کم ہیں، یا ان میں پیش کردہ استدلال وواقعات بار بار دہرائے جانے کی وجہ سے اب غیرمعمولی تاثیر کے حامل نہیں رہے۔ ان حالات میں اس بات کی اشد ضرورت تھی کہ خطباے کرام کے لیے مصادرِ اصلیہ قرآن وسنت اور آثارِ سلف کے مواد پر مبنی ایسا مجموعہ مرتب کیا جائے جس سے استفادہ کرتے ہوئے خطبا حضرات دین کی اصل تعلیمات سے لوگوں کو متعارف کرواسکیں اور رواج پا جانے والی بدعات وخرافات کا خاتمہ کر سکیں۔ یہ سعادت فاضل مصنف کے حصہ میں آئی کہ اُنہوں نے عالم عرب میں میسر اہم علمی کتب ومراجع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک وقیع تازہ علمی مجموعہ ترتیب دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُنہیں اس نیک کام پر اجر جزیل عطا فرمائے۔ آمین!

حافظ صاحب موصوف نے مدینہ یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ اپنی دینی تعلیم مکمل کی اور بعد میں حدیث کے موضوع پر کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری حاصل کی۔آپ اس سے قبل بھی کئی اہم موضوعات پر دادِ تحقیق دے چکے ہیں، بالخصوص بعض انتہائی اہم کتب کا انتخاب کرکے ان کے اُردو ترجمے کرنا ان کا خصوصی ذوق رہا ہے۔

آپ کا ترتیب شد ہ خطبات کایہ مجموعہ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ جس میں پہلی جلد میں سال کے مختلف مہینوں کی مناسبت سے اہم موضوعات پر خطبا تِ جمعہ ترتیب دیے گئے ہیں۔ جن میں متعلقہ اسلامی مسائل واحکام یااس مہینہ میں مروّجہ بدعات پر بھی خاطرخواہ روشنی ڈالی گئی ہے۔ پہلی جلد کے خطبات کی فہرست ِحسب ذیل ہے:

محرم : ماہِ محرم اور یوم عاشورائ ،فضائل صحابہ، ہجرت مدینہ
ربیع الاوّل: رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل ومعجزات اور خصوصیات ،جشن میلاد کی شرعی حیثیت ،اُمت پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ،حقوق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اعلیٰ اخلاق
رجب: ماہ رجب کی بدعات، اسراء ومعراج ،تحفہ معراج
شعبان: ماہ شعبان کے فضائل واحکام، انفاق فی سبیل اللہ
رمضان: رمضان المبارک نیکیوں کا موسم بہار ،فضائل قرآن مجید، توبہ واستغفار
شوال: خطبہ عید الفطر
ذی القعدہ: فضائل حرمین شریفین احکام وآداب حج
ذوالحجہ: فضائل عشرہ ذی الحجہ، خطبہ عید الاضحی ،خطبہ حجة الوداع وغیرہ

اسی طرح دوسری جلد میں ۲۵ مختلف موضوعات ،مثلاً:توحید،شرک،بر الوالدین،صلہ رحمی وغیرہ پر قرآن وسنت اور آثارِ سلف سے مواد جمع کر دیا گیا ہے۔ کتاب کے ابتدائی صفحات میں شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی،پروفیسر عبدالجبار شاکر،شیخ الحدیث حافظ عبدالستار حماد اور حافظ صلاح الدین یوسف حفظہم اللہ کی تقاریظ مرقوم ہیں جبکہ مصنف کی طرف سے مقدمہ اور مولانامحمد صادق مدنی کے قلم سے پیش لفظ درج ہے۔

چونکہ یہ کتاب خصوصی طور پر خطبا حضرات کے لیے تیار کی گئی ہے، لہٰذا مصنف نے ہر موضوع کو ایک مستقل جمعہ کی شکل میں ترتیب دیا ہے اور جمعہ کے دو خطبوں کی مناسبت سے ہر موضوع کے مواد کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ہر حصے کا مواد موضوع سے متعلقہ آیات، احادیث اور آثار واَقوال سے مزین ہے۔ مصنف نے کوشش کی ہے کہ دلائل میں مستند روایات کو پیش کیاجائے، لہٰذا ہر روایت کے ساتھ اس کی صحت کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے۔ فنی محاسن کابھی اچھا اہتمام کیا گیا ہے ، ٹائٹل دیدہ زیب، جلد مضبوط، کاغذ معیاری اور کمپوزنگ بہترین ہے جبکہ پروف ریڈنگ کی غلطیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

خطبات کی زبان سادہ وسلیس ہے، دلائل بر محل اور اندازِ نگارش شگفتہ اور متین ہے۔ موضوع کے مطابق مواد کی پابندی کی گئی ہے۔ پوری کتاب غیر سنجیدہ باتوں، جذباتی اشعار اور بے سروپا واقعات سے مبرا ہے۔ بالخصوصکتاب کے آغاز میں مولانا عبدالخالق محمد صادق مدنی نے 33صفحات پرمشتمل ایک رہنما مقدمہ قلم بند کیا ہے جس میں اُنہوں نے ایک خطیب کے مدنظر رہنے والے اساسی اُصولوں کی نشاندہی کرکے اس مجموعہ کی افادیت کو دو چند کردیا ہے۔

کتاب کی ورق گردانی سے ایک خطیب کو وہ سب کچھ مل سکتا ہے جو اسے کسی بھی خطبہ میں اپنے سامعین کو مؤثر انداز مین تبلیغ وتعلیم کے لئے درکار ہے، اس قیمتی مواد کو کوئی بھی خطیب اپنے انداز میں ڈھال کراپنی بات کو عوام الناس کے دلوں میں بخوبی بٹھا سکتا ہے۔ اس کامیاب کاوش پر مصنف مبارک باد کے مستحق ہیں۔ تقبل اﷲ سعیه وبارك في جهودہ

تاہم کتاب کے آئندہ ایڈیشن میں درج ذیل باتوں کا اہتمام مزید فنی تحسین اور افادیت میں غیرمعمولی اضافہ کا موجب ہوسکتا ہے۔
احادیث کی تخریج میں بعض جگہوں پر صرف متفق علیہ یامسلم،بخاری لکھ دیا گیا ہے،لیکن اس کی ترقیم وغیرہ درج نہیں کی گئی، مناسب ہوگا کہ ہر حدیث کے مکمل حوالہ جات بمعہ ترقیم بھی درج کردیے جائیں ۔
برصغیر کے خطبا و واعظین اکثر احادیث کی ترجمہ شدہ کتب سے استفادہ کرتے ہیں لہٰذا آئندہ ایڈیشن میں کتب ِستہ کی احادیث کا حوالہ اگرکتاب اور باب کے ساتھ ذکر کر دیا جائے توخطبا ترقیم کے اختلاف سے بچتے ہوئے مطلوبہ عبارت تک جلد پہنچ سکتے ہیں۔
جس طرح احادیث کی صحت پر حکم درج کیے گئے ہیں، اگر آثار واقوال کی صحت کا بھی اہتمام کر دیا جائے تو ان اقوال وآثار کو بھی اعتماد کے ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے۔
کتاب کے آخر میں کتاب میں درج شدہ تمام حوالہ جات کی کتب کو طباعت کے مقام وسال کے ساتھ درج کر دیا جائے تاکہ قاری کو حوالے کا مصدر ڈھونڈنے میں آسانی ہو۔


غرض خطبات کا یہ مجموعہ دینی لٹریچر میںایک قابل قدر اضافہ ہے، اور ہر خطیب کو اسے اپنی ذاتی لائبریری میں رکھنا چاہئے۔ یہ مجموعہ پاکستان میں ان مقامات سے مل سکتا ہے:
جمعیة المناہل الخیریة: نزد جامع مسجد اتحاد المسلمین (اہلحدیث)
میر سٹریٹ گل روڈ گوجرنوالہ فون نمبر:055-3733934
مؤسسة الفرقان الخیریة:مکان نمبر56؍اِی،کینال روڈ یونیورسٹی ٹاؤن، پشاور فون نمبر:091-5705687
جامعة دار الحدیث رحمانیة : چونگی نمبر 14، ملتان
رانا طاہر محمود ،لاہور فون نمبر:0333-4237720
جامعة محمدیة للبنین والبنات،Tایریا کورنگی نمبر۲، کراچی
مولانا ارشد علی فون نمبر 021-2005291