Mohaddi-323-Aug2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

یہ مضمون ماہنامہ 'محدث' جون 2006 کے خصوصی شمارے براے تصویر نمبر کے تناظر میں تحریر کیا گیا ہے۔ لاہور میں تمام مکاتب ِ فکر: بریلوی، دیوبندی اور اہل حدیث کے جید علماے کرام کے درمیان ایک 'ملی مجلس شرعی ' منعقد ہوئی جس کا موضوع تبلیغ اسلام کے لئے جدید میڈیا خصوصاً ٹی وی کا استعمال تھا۔ چونکہ ٹی وی پر تبلیغ کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ تصویر کی حرمت ہے، لہٰذا مسئلہ تصویر کی شرعی حیثیت ہی اس مجلس کا اصل محور و مرکز تھا۔ گو کہ علماے کرام کی تعبیر و تشریح کے اُسلوب میں فرق تھا، لیکن اس نقطے پر سب کا اتفاق تھا کہ فی زمانہ تبلیغ دین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ٹی وی پر آنا جائز ہے۔
اس مضمون کا مقصد مسئلہ تصویر پر اختیار کئے گئے موقف کی بجائے علماے کرام کے اس مفروضے کا جائزہ پیش کرنا ہے کہ ''ٹی وی بس ایک آلہ ہے، کیونکہ آج یہ کافر کے قبضے میں ہے، لہٰذا اس سے شر کا فروغ ہو رہا ہے، لیکن اگر یہ مسلمانوں کے پاس آجائے تو اس سے خیر کے سوتے پھوٹنے لگیں گے۔''
در حقیقت ٹی وی کے بارے میں یہ مفروضہ ایک عامیانہ تجزیے پر مبنی ہے اور اس مضمون میں ہم دکھانے کی کوشش کریں گے کہ نہ صرف یہ کہ ٹی وی کے ذریعے تبلیغ دین کا کام مؤثر طور پر کرنا ممکن نہیں بلکہ یہ اُلٹا نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ وماتوفیقی الا باللہ

مقصد اور ساخت کا تعلق باہمی
سب سے پہلے یہ اُصولی بات سمجھ لینی چاہئے کہ کسی مقصد کو حاصل کرنے کی خاطر جو طریقہ اختیار کیا جاتا ہے، اس کی ساخت (structure) کا حصولِ مقصد اور اس کے دوام کے ساتھ نہایت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اَفراد جب کسی شے کے حصول کو اپنا مقصد بنا تے ہیں تو اس کے حصول کے لئے کوئی نہ کوئی انتظامی شکل ضرور اختیار کرتے ہیں اور بہت سی انتظامی شکلوں میں سے وہی شکل زندہ رہ جاتی ہے، جو زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہوتی ہے۔ افراد کی خود سے اختیار کردہ مخصوص انتظامی ہیئت ان معنوں میں تو ضروری نہیں ہوتی کہ وہ بذاتِ خود اَصلاً مطلوب تھی ، مگر ان معنوں میں یقینا ضروری ہوتی ہے کہ اس کی بقا سے افراد کے معا شرتی مقاصد قائم رہتے ہیں اور اس کا انہدام ان تمام مقاصد کے انہدام کا باعث بھی بنتا ہے جو اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں ۔ ساخت و ڈھانچے کے اندر جو روح (sprit) موجود ہوتی ہے، اسے اس ساخت سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح شریعت کے بیان کردہ ڈھانچے غیر متبدل ہوتے ہیں ، کیونکہ شریعت نے ایسے ڈھانچوں کی نشان دہی کردی ہے جنہیں اختیار کرکے مقاصد الشریعہ کا حصول ممکن ہوجاتا ہے۔ درحقیقت اسلامی نظام زندگی بدن اور روح کے آموختے کا نام ہے ، ساخت اور روح ساتھ ساتھ ہوتے ہیں ۔ ہر ڈھانچے اور نظام کی اپنی روحانیت (sprituality) اور دانش (wisdom) ہوتی ہے جو اس کے اندر سرایت کیے ہوئے ہوتی ہے، جب تک آپ اس نظام کو اس کی ساخت کے ساتھ چلاتے رہتے ہیں تو اس کی مخفی دانش (potential wisdom) اور روحانیت(potential sprituality) ایسے ایسے طریقوں سے اپنا اظہار کرتی رہتی ہے کہ جن کا اِدراک کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ عمل کی ساخت اور اس کی روح کے تعلق کی وضاحت چند آسان مثالوں سے کی جا سکتی ہے:

مثال: کھڑے ہو کر کھانے والے نظام کی اپنی دانش وروحانیت ہے جو حرص و حسد کی عمومیت کے ذریعے ظہور پذیر ہوتی ہے، لیکن اسلامی آداب طعام کی روحانیت و دانش دسترخوان پربیٹھ کر کھانے میں مضمر ہے۔ جو شخص دسترخوان پر بیٹھ جاتا ہے وہ کھڑے ہو کر کھانے والوں کی طرح لوٹ مار، چھینا جھپٹی نہیں کرسکتا۔ وہ دسترخوان پر تعلقات کے ایک ایسے تانے بانے میں بندھ جاتا ہے جہاں اس کی نقل و حرکت ناممکن ہو جاتی ہے۔ وہ حالت حرکت سے حالت ِسکون میں آجاتا ہے، وہ ایک پیالے سے دوسرے پیالے ایک برتن سے دوسرے برتن کی طرف آزادانہ رجوع نہیں کرسکتا۔ جو کچھ اس کے سامنے میسر و موجود ہے وہ اسی پر اکتفا کرتاہے۔ صرف اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے ساتھ جو لوگ فروکش ہیں ان کا حصہ بھی ان چیزوں میں موجود ہے جو سامنے برتنوں میں رکھی ہیں ، اس سے وہ اعتنا نہیں کرسکتا۔ اگر برتن میں پانچ بوٹیاں ہیں اور کھانے والے بھی پانچ ہیں توکوئی فرد پانچوں بوٹیاں اپنی رکابی میں ڈالنے کی جرات نہیں کرسکتا کہ پانچ نگاہیں اس کے تعاقب میں ہوں گی، اس کا اخلاقی وجود کڑی نگرانی میں ہوتا ہے۔ کوئی قانون نافذ نہیں ہوتا، لیکن نفسِ لوامہ اور اخلاقیات کا قانون دسترخوان کے ڈھانچے کے ذریعے فرد پر مسلط ہو جاتا ہے اور وہ اس کے جبر سے اوپر نہیں اُٹھ سکتا۔ اس کے برعکس کھڑے ہو کر کھانے کی اخلاقیات ہی دوسری ہوتی ہیں ، ایک میز سے وہ پسند کی بوٹیاں و اشیا چنتا ہے، پسند نہیں آتیں تو دوسری میز پر پھینک کر دوسری رکابی اٹھا کر دوسری اشیا استعمال کرنا شروع کردیتا ہے، پسندیدہ اشیا ایک میز پر نہ ملیں تو وہ ہر میز پر گھوم پھر کر ڈھونڈتا اور لوٹتا رہتا ہے۔ کیوں کہ وہ اپنا زمان و مکاں تیزی سے بدل رہاہے، لہٰذا کسی کی نظر میں نہیں ہے بلکہ صرف نفس امارہ (حرص و حسد و ہوس) کی گرفت میں ہے۔ دسترخوان اس کے اخلاقِ رذیلہ کے اظہار کی صلاحیتیں سلب کرلیتا ہے، اسی لئے دسترخوان پر بیٹھنے والا مرغی کی گردنیں بھی کھاتا ہے، لیکن بوفے میں کھانے والا گردنوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا تا۔

مثال: ہمارے گاؤ ں دیہات میں چوپال اور بیٹھک لوگوں کی روز مرہ زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتے تھے (کہیں کہیں اب بھی یہ نشستیں موجود ہیں )۔ اب دیکھئے اسلام چا ہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے تعلقات سے جو معا شرہ وجود میں آئے، وہاں پڑوسیوں کی خوب خبر گیری ہونی چاہئے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ خیال کیسے رکھا جا ئے؟ اس کا انتظام کیا ہو؟ کیا ہر شخص روز انہ رات سونے سے پہلے اپنے پڑوسی کا دروازہ بجا کر اس سے پوچھے کہ بھا ئی کیسے ہو؟ ظا ہر ہے ایسا تو نہیں ہو سکتا، مگر پھر کیا ہو ۔ اب ذرا غور کریں کہ یہ بیٹھک کیا ہے؟ عام نشست کی ایسی جگہ جہاں لوگ شام کے وقت تھوڑی دیر دل لگی اور فرحت ِطبع کے لئے اکٹھے بیٹھتے جس کے ذریعے اُنہیں پورے گاؤں اور اسکے اطراف کے لوگوں کے حالات معلوم ہوتے، مثلاً گاؤں میں کون بیمار ہے، کس کے گھر شادی ہے، کس کے گھر فوتگی ہوئی وغیرہ وغیرہ۔ اگر کوئی شخص دو دن تک بیٹھک نہ آتا تو لوگ اس کے گھر خیریت معلوم کرنے جاتے۔ یوں سمجھئے کہ ایک طرف تو یہ گاؤں کے حالاتِ حاضرہ کو اَفراد تک پہنچا نے کا ایک مکمل طریقہ تھا تو دوسری طرف ایک ساتھ مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کا خیال کرنے کی اَقدار کے فروغ کا ذریعہ تھا۔ پڑوسیوں کی خبر گیری کرنے کا بھلا اس سے بہتر انتظام اور کیا ہو سکتا تھا؟

لیکن پھر ٹی وی آگیا اور ہرشخص فرحت ِطبع کے لئے اب بیٹھک کے بجا ئے اپنے اپنے گھر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کا عا دی ہو نے لگا۔ نشستیں ختم ہونے لگیں ، اور ان نشستوں کے ٹوٹنے سے وہ سارا ما حول بھی ہما رے معا شروں سے رخصت ہو گیا جو ان کا مر ہونِ منت تھا۔ کہا جانے لگا کہ ٹی وی سے ہمیں خبریں ملتی ہیں ، مگر کس قسم کی خبریں ؟ وہ خبریں جو ہمارے اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لئے کسی کام کی نہیں ۔ ٹی وی لوگوں کو یہ تو بتاتا ہے کہ بھا رت میں کس فلمی ہیرو کی شا دی کس ہیروئن سے ہوئی، امریکہ میں لوگ روزانہ کتنے کتے خریدتے ہیں ، مگر اُنہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ تمہارے پڑوسی کس حال میں ہیں ؟ بیچارہ ٹی وی کیا کرے، اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ وہی بات کہے گا جہاں سے اسے پیسے ملنے کی امید ہو، کیو نکہ اس کا تو سارا دھندہ ہی اشتہاری کمپنیوں کے سرماے کا فروغ ہے۔ ہم یہاں ٹی وی کے نقصانات کی بات نہیں کر رہے بلکہ معا شرتی مقا صد کے حصول کے ضمن مںا اداروں کی بقا کی اہمیت و افادیت کی بات کر رہے ہیں ، کیو نکہ یہ ادارے ہی ہیں جو افراد کا تعلق کسی خا ص مقصد سے منسلک اور قائم رکھنے کا با عث بنتے ہیں ۔

مثال: عطاء اللہ شاہ بخاری، علامہ احسان الٰہی ظہیر، شورش کاشمیری، رشید ترابی، شفیع اوکاڑوی اور مولانا نورانی وغیرہ جب جلسہ عام میں خطابت کا جادو جگاتے تو لاکھوں کا مجمع سیلاب کی طرح اُبلنے لگتا، نعرے اور تحسین کی آوازیں بلند ہوتیں ۔ جلسہ گاہ رزم گاہ کا منظر پیش کرتا ہے اور خطیب اس صورتحال سے فائدہ اٹھا کر لوگوں کو آتش بجاں کرتا چلا جاتا ہے۔ لیکن یہی خطبا جب اپنی اپنی مساجد کے منبروں پر اسی رفتار و گفتار کے ساتھ جمعہ کے دن خطابت کرتے ہیں تو مجال ہے کہ مسجد میں کوئی شخص نعرہ لگادے، شور مچادے، یا تحسین وستائش کے ڈونگرے برسا دے۔ مسجد کا تقدس لوگوں کے جذبات کو سلب کرلیتا ہے، ان کے جذبات کو ایک خاص تنظیم کے سانچے میں ڈھال کر اُنہیں ساکت وصامت بنادیتا ہے۔ اس نظام کی روحانیت انسانی وجود کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتی ہے اور اس کے جذبات کواس کے بدن سے خارج کرکے اسے بے بس کردیتی ہے، یہ مسجد کے ادارے کی روحانیت کا ثمر ہے۔

اسی طرح تراویح جب مسجد میں ادا کی جاتی ہے تو اس کا ماحول، نورانیت وروحانیت بالکل الگ ہوتی ہے، وقار،سکون ، سنجیدگی، قلب کی آمادگی، دنیا سے فراغت کی کیفیات طاری ہوتی ہیں ۔ مسجد کی تراویح میں مسجد کے خدام بھی شامل ہوتے ہیں اور انتظامی عملہ بھی، مسجد اُنھیں اس عبادت سے محروم کرنے کا ذریعہ نہیں بنتی وہ مسجد کی اجتماعیت اور اجتماعی عبادت کا حصہ ہوتے ہیں ۔ لیکن یہی تراویح جب مساجد سے نکل کر شادی ہالوں ، کمیونٹی سینٹروں اور ہالوں میں چلی جاتی ہے تو اس کی روحانیت سلب ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس تقریب کے انتظامات میں مصروف ہو کر تراویح کی عبادت سے قصداً رضا کارانہ محروم ہو جاتے ہیں ، کیونکہ کچھ ویڈیو بناتے ہیں ،کچھ صوتی نظام چلاتے ہیں ، کچھ کتابوں کے اسٹال پر بیٹھتے ہیں ، کچھ کتابیں پڑھ رہے ہوتے ہیں ، کچھ چائے بنانے کے انتظام میں مصروف ہوتے ہیں ، کچھ تھک کر کرسیوں پر آرام فرما ہوکرچائے پی رہے ہوتے ہیں ، کچھ سستانے لگتے ہیں ، وقفوں میں چائے کا دور اور کھانے پینے کاسلسلہ چلتا ہے۔ نتیجتاً وہ روحانیت مفقود ہو تی ہے جو تراویح کا حاصل ہے۔

وجہ یہ ہے کہ مسجد کا ادارہ چھوڑتے ہی یہ روحانیت بھی رخصت ہو جاتی ہے، روحانیت اس خاص ڈھانچے کے اندر ہے، وہ ڈھانچہ نہیں رہے گا تو روحانیت بھی نہیں رہے گی اور دنیا کو، حرص و ہوس کو اور لذتِ دنیا کو اس روحانیت میں دخل اندازی کی کھلی اجازت خود بخود مل جاتی ہے

مثال: خا نقاہ اسلامی معاشرت کا فطری ادارہ ہے جس کے ذریعے لوگ بچپن ہی سے اپنے بچوں کے تزکیۂ نفس کا سامان فراہم کرنے کے لئے اُنہیں کسی مردِ صا لح کے ہاتھ بیعت کراکے ان کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دلاتے۔ خانقاہ درحقیقت ایک خود کار (automatic) صف بندی فراہم کرتی تھی جن سے منسلک ہونے کے نتیجے میں فرد اور معاشرہ اسلامی اقدار پر گامزن ہوجاتا۔ ایک طرف یہ خانقاہیں تبلیغ اسلام کے ذریعے غیر مسلموں کو دائرہ اسلام میں لانے کا سبب بنتیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو اچھا مسلمان بنانے کا نظام فراہم کرتیں ۔ خانقاہی نظام میں فرد مردانِ حق کی صحبت کے ذریعے ایسے تعلقات کا پابند ہوجاتا ہے جو اسے اخلاقِ رذیلہ اپنانے سے روکتے ہیں ، ہزاروں آنکھیں اس کا تعاقب کرتی ہیں کہ دن بھر وہ کیا کرتا رہا؟ خانقاہی نظام کے اس سلسلے کے ختم ہو جا نے کے بعد اب مسلمانوں میں تز کیہ نفس کا کوئی ادارہ موجود نہیں رہا، کیونکہ ساخت ختم ہوتے ہی مقصد بھی فوت ہوجاتا ہے ۔

ان تمام مثالوں میں نوٹ کرنے کی اہم بات یہ بھی ہے کہ ساخت کوئی غیر اقداری (value-neutral or objective free)شے نہیں ہوتی، بلکہ ہر ساخت ایک مخصوص مقصد کو حاصل کرنے کے لئے ہی مددگار ہوتی ہے۔ چوپالوں اور بیٹھکوں کے ذریعے مل جل کر رہنے کی معاشرت ہی کو عام کیا جا سکتا ہے، ان کے ذریعے اغراض پر مبنی معاشرت کبھی قائم نہیں ہو سکتی۔ علم تصوف کوئی ایسا غیر اقداری علم نہیں کہ جسکے ذریعے 'ہر قسم کی انفرادیت ' کا فروغ ممکن ہوسکے بلکہ خانقاہی نظام کے ذریعے وہی شخصیت وقوع پذیر ہوتی ہے جس کی قلبی کیفیات کا نقشہ احادیث کی کتاب الرقاق میں کھینچا گیا ہے۔ خانقاہ درحقیقت صرف کسی جگہ کا نام نہیں بلکہ ایک مخصوص مقصد کے حصول کے لئے افراد کے تعلقات سے اُبھرنے والا ایک مکمل نظام ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہر ساخت افراد کے مخصوص مقاصد کو حاصل کرنے کی خاطر وضع کردہ تعلقات کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ ساخت اور روح کا چولی دامن کا ساتھ ہے، ساخت ختم ہوتے ہی روح بھی تحلیل ہوجاتی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ ساخت ختم ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ افراد کے تعلقات کا وہ تانا بانا جو اس مقصد کے حصول کی ضمانت تھا، اب موجود نہیں رہا۔ کسی تہذیب کا زوال درحقیقت ان اداروں کی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے عیاں ہوتا ہے جو ایک تہذیب کے مقا صد کے حصول کی خا طر افراد کے تعلقات کے نتیجے میں اُبھرتے ہیں ۔

ٹی وی کی ساخت و مقصدیت اور دینی علم کا مزاج
اوپر دی گئیں مثالوں کا مقصد اس نقطے پر غور کی دعوت دینا ہے کہ کیا واقعی ٹی وی کی ساخت میں دینی تعلیم کا مقصد داخل کرناممکن ہے؟ اس سوال کے جواب کے لئے ٹی وی کی ساخت اور مقصدیت پر غور کرنا ہوگا، یعنی پہلے اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ٹی وی کیا ہے؟

بنیادی طور پر یہ بنئے کی دکان ہے جس کا کام سرمایہ داروں کی تیار کردہ اشیا کو اشتہارات کی لیپا پوتی کے ذریعے عوام کو بے وقوف بناکر بیچنا ہے۔ ٹی وی اور پرچون کی دکان میں اصلاً کوئی فرق نہیں ، دونوں بازار میں اشیاے صرف و ضرورت[consumer goods] بیچنے کے لئے بیٹھے ہیں ۔

اگر آپ کو لگتا ہے کہ ٹی وی کے بارے میں ہماری یہ رائے محض جذباتیت اور خام خیالی ہے تو ٹی وی پر معاشی (economic) و کاروباری (business) نقطہ نگاہ سے غور کیجئے۔ معاشی نقطہ نگاہ سے کسی کاروبار میں وصولیوں (revenues)اور اخراجات (costs) کا حساب لگایا جاتا ہے۔ ٹی وی کے اخراجات کیا ہیں ؟ اوّلاً: ایک ٹی وی چینل قائم کرنے کے لئے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے کی ضرورت ہوتی ہے، ثانیاً: ٹی وی پر نشر کئے جانے والے پروگرام بھی ٹی وی کے اِخراجات میں شامل ہوتے ہیں نہ کہ وصولیوں میں ، کیونکہ ٹی وی ان پروگراموں (مثلاً ڈراموں و فلموں وغیرہ) کو قیمتاً خریدتے ہیں ۔ ٹی وی کے پاس اِخراجات کی اتنی طویل فہرست پورا کرنے کا آخرذریعہ کیا ہے؟ اس کا جواب ہے: اشتہارات، یعنی ٹی وی اپنے اِخراجات اشتہارات دکھا کر وصول کرتے ہیں ۔

اگر معاشیات کا یہ مفروضہ درست ہے کہ کاروبار کا مقصد نفع کمانا ہے تو ظاہر بات ہے ٹی وی کا مقصد پروگرام دکھا کر اخراجات کرنا نہںا بلکہ اشتہارات دکھا کر روپے کمانا ٹھرتاہے، جیسا کہ اوپر بتایا گیا؟ ٹی وی کے نفع کا انحصار اس بات پر ہے کہ کتنی کمپنیاں اسے اشتہارات دینے پر تیار ہوتی ہیں اور زیادہ اچھے اشتہارات اسی ٹی وی چینل اور پروگرام کو ملتے ہیں جسے لوگ پسند کرتے ہیں ۔ کمپنیاں اشتہارات پر روپے کیوں خرچ کرتی ہیں ؟ اس لئے کہ عوام الناس ان کی زیادہ سے زیادہ اشیا خریدیں اور ان کے نفع میں اضافہ ہوتا چلا جائے۔ ایک فرد اس دھوکے میں مبتلا رہتا ہے کہ پچاس روپے ٹی وی لائسنس اور کیبل کی معمولی فیس دے کر اتنے سارے ٹی وی چینلز سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملنا مفت کا سودا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اشتہاری کمپنیاں اشتہارات کے اخراجات کو اشیا کی قیمت میں شامل کرکے سب کچھ لوگوں سے وصول کرتی ہیں ، گویا پورا معاشرہ مل کر ٹی وی ، فنکاروں ، اداکاروں اور کھلاڑیوں کو پالتا ہے۔ پروگرام ٹی وی چینلز کی پروڈکٹس ہیں جنہیں وہ اشتہارات کے عوض بیچ کر نفع کماتے ہیں ۔

ٹی وی ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد تعلیم وتدریس، تبلیغ وتلقین یا تطہیر نفس نہیں بلکہ نفس پرستی حرص و حسد اور نفع خوری کے عموم کے لئے صنعتی اداروں کی اشیا کی فروخت ہے جو اشتہارات کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اصلاً و عملاً ٹی وی مشتہرین (advertisers) کے دھندے کو پھیلانے اور کمپنیوں کے نفع میں اضافہ کرنے کا دھندہ ہے۔ جیسے پرچون کی دکان کے مالک کا اصل مقصد نفع کمانا ہوتا ہے نہ کہ کوئی مخصوص شے بیچنا، اسی طرح ٹی وی کو اس بات سے کوئی سرو کار نہیں کہ وہ کیا بیچ رہا ہے بلکہ اس کا مقصد وہ شے بیچنا ہے جس کے ذریعے اس کا نفع بڑھ سکے اور جو ٹی وی کو محض ذریعہ ابلاغ مان کر اسے علم دین کی اشاعت کا ذریعہ سمجھتے ہیں ، وہ خوش فہمی کا شکار ہیں ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ ٹی وی علم اور دین کے ذریعے بھی دھندہ کرنے اور کاروبار پھیلانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا، لہٰذا یہ رمضان میں دینی پروگرام پیش کرکے مال بناتا ہے۔ ٹی وی کے لئے ہر عالم کے دروازے کھلے ہیں بشرطے کہ وہ خود کو اس لائق ثابت کردے کہ اس کے ذریعے ٹی وی پیسے بنا سکتا ہے۔ اگرٹی وی کو پتہ چل جائے کہ کسی عالم یا کسی عابد زاہد کے سامعین کی تعداد زیادہ ہے تو اس کے نام پر بھی ٹی وی والے اشتہارات کا دھندہ شروع کردیتے ہیں ۔ ٹی وی پر یا اشیا فروخت ہوتی ہیں یا انسان۔ ٹی وی ایک مکمل نظام ہے جسے اگر نفع خوری اور لذت پرستی کے فریم ورک سے الگ کردیا جائے تو یہ سلسلہ ایک دن نہیں چل سکتا۔ آخر اشتہارات کے بغیر کروڑوں روپے کی لاگت کہاں سے پوری ہوگی؟ اور ان اشتہارات کا مقصد کمپنیوں کے نفع میں اضافے کے لئے صارفانہ معاشرت و معیشت (consumer society) کے فروغ کے علاوہ اور کیا ہے؟

ٹی وی کی یہ حیثیت سامنے رکھنے کے بعد اب دینی تعلیم کے مزاج پر غور کریں ۔ دینی تعلیم صرف 'کیا جاننا ہے؟' (what to know?) کا ہی نام نہیں بلکہ 'کیسے سننا اور بولنا؟' (how to listen and speak?) بھی اس کا لازمی جز ہوتا ہے، یعنی علم کا ما فیہ (content) اور اس کے حصول کا طریقہ (medium) دونوں دینی تعلیم کا جزوِ لاینفک ہیں یہ دونوں جب تک اکٹھے رہتے ہیں ، دینی علم کی روحانیت اور اثر ات باقی رہتے ہیں جونہی آپ اُنہیں علیحدہ کریں گے، علم دین کی اثر انگیزی زائل ہوتی جائے گی۔

یہی وجہ ہے کہ مدارس میں آج تک دینی تعلیم دینے کا رنگ ڈھنگ روایتی رکھا جاتا ہے ، دین کے سیکھنے کا ایک طریقہ ہے اور وہ طریقہ اختیار کئے بغیر دین نہیں مل سکتا۔ اسی لئے ریڈیو، ٹی وی، وی سی آر کیسٹ کے ذریعے کوئی شخص دین کی روحانیت کا مکمل اِحاطہ ، اِدراک، احساس، تصور اوراندازہ نہیں کرپاتا۔ وہ ادھورا رہتا ہے اس کا علم و فہم دین بھی اَدھورا ہی رہتا ہے ۔ نماز جب گھر میں پڑھی جاتی ہے تو وہ ارد گرد کے علائق سے شدید متاثر ہوتی ہے، لیکن جب مسجد کے پرسکون ماحول میں ادا کی جائے تو اس کی لذت، حاضری و حضوری کی کیفیت، روحانیت، قلبی حالت سب کچھ بالکل مختلف ہوتی ہے ۔ یہ گھر اور مسجد کے سانچے اور ڈھانچے کا فرق ہے۔ ہمارے تمام علماء تہجد کے بعد تصنیف و تالیف کا کام کرتے تھے، اس وقت میں جو لذت، برکت، جمالیات اور سکون ہے اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو اس وقت مطالعہ کرے۔ ہمارے جید علماء کے کام میں جو برکت و روحانیت ہے، وہ تہجد اور فجر کی نماز کے بعد کی روحانیت کا فیضان ہے، عصر حاضر کے جدید یت پسند علماء اس فیض سے عاری ہیں ۔

تبلیغ دین بذریعہ ٹی وی کے منفی اثرات
درج بالا بحث کو مد نظر رکھتے ہوئے اب ہم ٹی وی کے ذریعے علم دین پھیلانے کی کوششوں کی خرابیا ں بیان کرتے ہیں ۔ ٹی وی کی ساخت و مقصدیت تعلیم دین کے مزاج پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے، اس کا اندازہ درج ذیل نکات سے لگائیے:
ہرسوال کا جواب دینا اور اپنی علمیت کا بے جا اظہار کرنا ٹی وی کے نظام جبرکا حصہ ہے: کبھی آپ ٹی وی پر 'عالم آن لائن' وغیرہ جیسے پروگراموں پر غور کیجئے جن میں لوگ سوالات پوچھتے ہیں اور علماے کرام جوابات دیتے ہیں ۔ ان پروگراموں کا مقصد سائل کی فوری تسلی اور تشفی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر عالم 'ہر سوال ' کا فوری جواب (instant answer) دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ ٹی وی پر علماے کرام دین کی تبلیغ و اشاعت سے زیادہ اپنے تبحر علم اور وسعت ِمطالعہ کے اظہار پر مجبور ہیں تاکہ ان کی علمیت و عظمت مسلم ہو جائے۔ اس کی وجہ علما کا کبر، ریا اور غرور نہیں بلکہ ٹی وی کے نظامِ جبر کا ڈھانچہ ہے ۔ ٹی وی کے نظامِ جبر کا تقاضا یہ ہے کہ فون پریا مجلس مکالمہ میں جیسے ہی کوئی سائل سوال پوچھے، متعلقہ عالم فوری جواب دے ۔ اگر کسی عالم نے جواب دینے میں تامل کیا یا اسے تردّد ہوا یا اُس نے کہا کہ مجھے جواب معلوم نہیں تو وہ عالم خواہ کسی قدر جید، متبحر اور مسلمہ ہو، اسی لمحے عوام کی نظروں میں اپنا وقار، معیار اور اعتبار کھودے گا، بے وقعت (discredit) ہو جائے گا اور ٹی وی انتظامیہ بھی اسے بے کار عالم قرار دے کر پروگرام سے خارج کردے گی۔ اگر کوئی عالم کسی پروگرام میں ہرسوال پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے تتبع میں احتیاطاً یہ کہتا رہے کہ ''میں نہیں ، اللہ جانتا ہے''، یا سلف کی پیروی میں یہ کہہ دے کہ' 'میں نہیں جانتا، آپ فلاں عالم سے پوچھیں '' یا ''میں نے اس مسئلے پر ابھی غور نہیں کیا '' یا یہ کہ' 'میں اس مسئلے پر پچھلے کئی سال سے غور کررہا ہوں ، لیکن ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچا'' یا یہ کہہ دے کہ ''میرے ساتھ اس پروگرام میں جو دوسرے عالم بیٹھے ہیں ،وہ شاید اس کا بہتر جواب دے سکیں ، میں متامل ہوں ۔'' تو اسی لمحے اس عالم کی عزت، شہرت، حیثیت ،مرتبہ، وقار، علم، تقویٰ، خشیت،علمیت نہ صرف عوام کی نظر وں میں بلکہ اس کے اپنے اہل مسلک کی نظر میں بھی مشکوک ہوجائے گی۔

اب چونکہ ٹی وی دوکان ہے، لہٰذا دکان پر کسی گاہک کو انکارنہیں کیا جاسکتا اورنہ دکان بند کرنا ہوگی۔ پرچون کی دکان پر آنے والے ہر گاہک کو دکان والا مطلوبہ اشیا دے گا، اگر مطلوبہ اشیا نہیں ہیں تو اس کا متبادل دے گا۔ اگر چائے کا ایک برانڈ نہیں ہے تو دوسرا برانڈ د ے گا یا کہے گا کہ اس چائے کا معیار صحیح نہیں ہے۔ ہم نہیں لے رہے یا آج کل مانگ زیادہ نہیں آرہی وغیرہ۔ وہ کسی نہ کسی طرح گاہک کو مطمئن کرنے کی کوشش کرے گا۔ گاہک بضد ہوا تو دوسری دکان سے وہ چیز منگوالے گا، لیکن گاہک کو خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا،اسے اپنا اسیر بنا کر رہے گا۔

لیکن یاد رہے کہ علم اور اشیاے ضرورت میں بنیادی فرق ہے۔ عالم کا کام سائل کو خوش کرنا نہیں ہے ۔ استفسارات اور سوالات کا جواب اگر معلوم ہے تو دیا جائے گا، اگر توقف ہے تو سائل کووقت دیا جائے گا،کیونکہ ہرسوال محل تحقیق اور محل تفکر و تدبر و تجزیہ ہے۔ عالم پرچون فروش نہیں ہے کہ جو بھی گاہک آئے، اس کے سوال پر ایک پڑیا اسے تھما دے۔ جیسا گاہک ویسی پڑیا کا فلسفہ اقلیم علم میں نہیں چل سکتا۔ علم دکاندار ی نہیں ، یہ منصب ِانبیا کی وراثت ہے جہاں خوف، حرص، حسد، طمع سے اوپر اُٹھ کر حق بات کا بیان ضروری ہے، خواہ اس حق کی زد، حق بیان کرنے والے پر پڑے۔ اگر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ جو فقیہ ِ اُمت ہیں ، اپنے علم وعمل وتقویٰ کے باوجود یہ کہہ سکتے ہیں کہ ''میں نہیں جانتا، اللہ ہی بہتر جانتا ہے'' اوراس جواب کونصف علم قرار دیتے ہیں تو کیااُمت میں اب کوئی ایسا عالم پیدا ہوگیا ہے جو عبداللہ بن مسعودؓ سے بڑا عالم ہو، جو ہر سوال کا جواب دے سکتا ہو اور کسی سوال کا جواب دینے میں اسے کوئی تردّد ، تامل یا تکلف نہ ہو ؟

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص لوگوں کے ہر سوال کا جواب دینا ضروری سمجھتا ہے وہ پاگل ہے۔ ''1

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:'' نا اہل سے علمی گفتگو نہ کرو، ور نہ وہ تمہی کو جاہل کہے گا۔ علم ہو یا دولت تم پر دونوں کے حقوق ہیں ۔ ''2
''عوام کو ان کی عقل کے مطابق مسائل بتاؤ۔''3

دوسرے لفظوں میں ایسا نہ کرسکو تو خاموشی اختیار کرو۔ کیا ٹی وی پر خاموش رہنا ممکن ہے؟فرمایا: جب تم لوگوں کے سامنے ایسی گفتگو کر و گے جو ان کی عقل کی رسائی سے باہر ہو تو وہ کچھ لوگوں کے لئے فتنہ بن جائے گی۔ 4

ٹی وی پر اس طرح کے مباحثے کرنا کہ خدا ہے یا نہیں ؟ وجودِ خدا کیسے ثابت ہوتا ہے وغیرہ صرف فتنہ پردازی کے طریقے ہیں ۔ دنیاکی بڑی اکثریت آج بھی وجودِ خدا کی قائل ہے، انکارِ وجودِ باری تعالیٰ دنیا، خصوصاً مسلم دنیا میں سرے سے کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں ۔ ٹی وی پر اس قسم کے موضوعات کو اُٹھانے کا مقصد فکری انتشار پھیلانے، تفریح طبع مہیا کرنے اور اپنی علمیت کے اظہار کے سوا اور کچھ نہیں ۔

ٹی وی کو لائوڈ سپیکر جیسے آلہ ابلاغ پر قیاس کرنا درست نہیں : پہلے لوگ علم دین حاصل کرنے کے لئے مقتدر اصحاب و علما (authorities) سے رجوع کرتے تھے، اب علما خود عوام سے رجوع کررہے ہیں ۔ وہ بھی ایک ایسے واسطے (medium) اور آلے کے ذریعے جس کی بنیاد شر، نفع خوری، لذت، مزے، چٹخارے ، مال کمانے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے پر رکھی گئی ہے۔ جس کا ہر پروگرام موسیقی سے شروع ہوتا اور اسی پر ختم ہو تا ہے۔ عریانی و فحاشی سے گزر کرہی اسلامی پروگرام کا وقت آتا ہے اور دینی پروگراموں کے دوران بھی عریاں اشتہارات دکھائے جاتے ہیں ۔ دین اور عالم دین ٹی وی پر فسق و فجور اور طغیان و عصیان کے درمیان گھرا ہوتاہے لیکن وہ عالم اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ میں صحرا میں اذان دے رہا ہوں ۔ ٹی وی پر دینی پروگرام کا انعقاد صرف ایک سادہ سا مسئلہ نہیں ہے۔ ٹی وی ایک کلی (totality)ہے جبکہ دینی پروگرام محض اس کا ایک جز (part) اور وہ بھی لاغر ومعطل جز۔ ایک جز کے اچھے ہونے کی بنیاد پر کل اچھا نہیں ہوجاتا، تھوڑا بہت خیر تو دنیا کی ہر شے میں دکھایا جا سکتا ہے۔ ٹی وی ایک مکمل پیکیج کے ساتھ آپ کودینی پروگرام دیتا ہے جس کے نتیجے میں دینی پروگرام کی اہمیت ہی ختم ہوجاتی ہے اورٹی وی کی تہذیب وثقافت اس فرد کا احاطہ کرلیتی ہے، یہ ٹی وی جیسے کاروباری ادارے کی ماہیت، حقیقت، اصلیت کے پیکیج کا کمال ہے !

لوگ ٹی وی کو لاؤڈ سپیکر کی مانند ایک مشین اور آلہ سمجھتے ہیں جبکہ یہ ایک نظام ہے اور ایک بڑے سرمایہ دارانہ نظام کا ایک پرزہ ۔ ظاہری مماثلتوں (superficial similarities) کی بنیاد پر کسی شے کو کسی دوسری شے پر قیاس کرنا غیر علمی طرزِ عمل ہے۔ ایک ثقافتی طائفے (art club) میں شامل ہو کر اَشعار پڑھنے، ہجو کہنے، خطابت کرنے اور ڈھول بجانے کومیدانِ جنگ کے طبلِ جنگ سے تشبیہ دے کر اسلامی روایت قرار دینا جہالت ہے۔ میدانِ جنگ میں ڈھول بجانا، رِجزیہ اشعار پڑھنا، ہجو کہنا اور خطابت کا صور پھونکنا، دو مختلف وسیلے (medium) اورراستے (ways) ہیں ۔ میدانِ جنگ میں کوئی غیر پاکیزہ جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔ زندگی اور موت کی دہلیز پر ڈھول بجانے والا اور جنسی جذبات مشتعل کرنے کے لیے آلاتِ موسیقی استعمال کرنے والے ثقافتی طائفے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

ظاہری مماثلتوں کی بنیاد پر ہی فیصلے ہوں تو عیسائیوں اور مسلمانوں میں اختلافات کی کیا ضرورت ہے؟ دونوں حضرت عیسیٰ ؑپر ایمان لاتے ہیں ، لیکن کیا عیسائی جس حضرت عیسیٰ کو مانتے ہیں ، مسلمان بھی اسی تصورِ عیسیٰ پر ایمان لاتے ہیں ؟ باوجود اس کے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بطورِ جسمانی وجود ایک معین شخصیت ہیں ، لیکن مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصورِ مسیحیت میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہماری مابعد الطبیعیات میں وہ ایک رسول بشر جبکہ ان کے ہاں خدا ہیں ۔ ظاہری مماثلت کی بنیاد پر کیاوہ ما بعد الطبیعیاتی اختلافات اور تصورِ علمیت ختم ہوجاتے ہیں جو صدیوں سے چلے آرہے ہیں ؟ اگر ظاہری مماثلت سے اختلافات حل ہوسکتے تو عیسائیت سے اسلام کے اختلافات ابھی تک حل ہوجاتے۔

اب ایک عملی مثال لیجئے: فرض کریں ،کوئی شخص صحابہ کرامؓ کی گھوڑ دوڑ اور نیزہ بازی اور چند دیگر کھیلوں کی بنیاد پر دورِ جدید کے اولمپک گیمز اور عالمی کھیلوں کے مقابلوں کا اِثبات کرنے لگے تو ایسے قیاس کو قیاس مع الفارق نہ کہیں تو اور کیا کہیں ؟ اس شخص کا قیاس اس مفروضے پر مبنی ہے کہ موجودہ کھیل کی نوعیت بھی ویسی ہی ہے جیسی صحابہؓ کے کھیلوں کی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کھیل صرف کھیل نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کا ایک معاشرتی ادارہ (social institution) ہیں ، جن کی حیثیت اَربوں ڈالر سرماے والی ایک انڈسٹری کی ہے، جس کے بقا کے لئے ضروری ہے کہ کچھ لوگوں کی زندگیوں کا مقصد ہی کھیلنا بن جائے یعنی کھیل ہی ان کی پہچان (profession)ہو اور عوام الناس دنیا و آخرت سے بے پرواہ ہوکر جنونیوں کی طرح کھیلوں کے تماش بین بن کر اَربوں ڈالر اُن پر برباد کردیں ۔ اور تو اور حکومتوں کا بھی یہ بنیادی وظیفہ ہو کہ وہ کھیلوں کے فروغ کے لئے سہولتیں فراہم کرے تاکہ عوام الناس ان میں مشغول ہوں اور اپنی نسلوں کو جہنم کی تیاری کرنے کے لئے کھلاڑی بنانے پر راغب ہوں وغیرہ وغیرہ۔ آخر کھیل ایک 'وقتی شخصی تفریح ' اور 'کھیل ایک معاشرتی ادارے ' میں کیا مماثلت ہے؟

اسی طرز کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ بخاری شریف کی کتاب الحدود میں ایک ایسے صحابیؓ کا ذکر موجود ہے جو رسالت ِ ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی فرحت ِ طبع کی خاطر مزاح فرماتے۔ اب فرض کریں کوئی شخص ان صحابیؓ کے عمل کو بنیاد بنا کر معاذاللہ موجودہ دور میں مزاحیہ اداکاری (comedy) کی پوری انڈسٹری کو 'اسلامی' ثابت کرنے لگے تو ایسے اجتہاد کو فساد نہ کہیں تو اور کیا کہیں ؟ بالکل اسی طرح ٹی وی کو لاؤڈ سپیکر پرقیاس کرنا اسی قسم کے قیاسات مع الفارق جیسی ایک مثال ہے۔ یہیں سے یہ نقطہ بھی صاف ہوجانا چاہئے کہ ہیومن رائٹس کی بعض شقوں کی اسلام سے مماثلت تلاش کر کے اُنہیں خطبہ حجة الوداع سے ماخوذ قرار دینا سراسرغیر علمی رویہ ہے!

ٹی وی پر تبلیغِ دین 'اسلام' کی بجائے عوام اور منتظمین کی خواہش کے مطابق: پھر بذریعہ ٹی وی تبلیغ کے اس پہلو پر بھی سوچنا چاہئے کہ تبلیغ دین کے لیے تبلیغ کے طریقے کی بہت اہمیت ہے، یعنی تبلیغ کہاں کی جائے؟ کسے کی جائے؟ کس طرح کی جائے؟ کس وقت کی جائے ؟ کس بات کی تبلیغ کی جائے؟ مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق گفتگو کی جائے وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ٹی وی پر یہ فرق بر قرار رکھنا ناممکن ہے اور مقرر کو یہ مفروضہ ماننا پڑتا ہے کہ تمام سامعین کی ذہنی سطح یکساں ہے۔ ان تمام پہلووں کو مدنظر رکھنا تو ایک طرف ٹی وی پر توپروگرام بھی آپ کی مرضی کا نہیں ہوتا۔ ٹی وی والاآپ کو وہی موضوع دے گا جس کو وہ درست سمجھے گا، آپ تو صرف ان کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ علماء کو ٹی وی والے بتائیں گے کہ آپ کو کس موضوع پر بولنا ہے، کب تک بولنا ہے ، کس اشتہار پر وقفہ کرنا ہے ، کن مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے آپ کو اور آپ کے پروگرام کو استعمال کیا جائے گااور کب آپ نے کہنا ہے کہ''آیئے! اب ہم وقفہ لیتے ہیں ۔'' سوچئے تو سہی اس سارے عمل میں آپ کی حیثیت کیا ہے ؟ آپ کہاں کھڑے ہیں ؟ کیا آپ ایک تابع مہمل کے سوا بھی کچھ ہیں ؟ یہ بات علما طے کریں گے کہ عوام کو کیا بتانا ہے یا اشیا کی فروخت کا دھندہ کرنے والے ٹی وی کے جہلا علماے کرام کو بتائیں گے؟

دیکھئے یوں تو دین کے مآخذ چار ہیں : قرآن و سنت ،اجماع وقیاس، لیکن ٹی وی پر دین کے مآخذ صرف دو رہ جاتے ہیں ۔یہ دو مآخذبھی شو بزنس سے متعلق ہیں یعنی اسلامی موضوعات پر بولنے والے مقرر کا انداز بیان(style of talking) اور گفتگو میں بے پناہ اعتماد (confidence)۔ جو شخص بھی لچھے دار گفتگو کرنے کا ماہر ہو، اپنے جہل پر نہایت اعتماد کے ساتھ قائم ہو کر گفتگو کر رہا ہو، وہی کامیاب مقرر قرار پاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کے علم و جہل کا تعین نہ اس کے اندازِ بیان سے ہوتا ہے اور نہ ہی اعتماد سے بلکہ اس کا تعلق اس کے دلائل کے وزن سے ہوتا ہے۔ اور یہ فیصلہ کہ کس کا علم اور دلیل و زنی ہے، عوام کا کام نہیں ، علما کا کام ہے۔ اسلامی تاریخ میں پہلی مرتبہ عوام یہ بتا رہے ہیں کہ عالم کون ہیں ، جو جتنا چرب زبان اور پر اعتماد ہے، وہی سب سے بڑا عالم ٹھہرتا ہے۔ جاہلوں کو ان کی فنکاری کی بنیاد پر عالم ثابت کرنا ٹی وی کا کمال ہے۔ ٹی وی کے عوامی سروے بتاتے ہیں کہ کون سا عالم بڑا عالم ہے، کیونکہ کسی آدمی کے بڑے ہونے کا (سرمایہ دارانہ) طریقہ یہ ہے کہ اسے کتنے عوام پسند کرتے ہیں اور اس پروگرام کو کتنے ادارے اشتہارات دیتے ہیں ۔ لہٰذا ٹی وی کے جس دینی پروگرام کو زیادہ کاروبار ملے اور جس پروگرام پر عوام کا ردّعمل سب سے زیادہ آئے، وہی اصلی اور حقیقی عالم ہے اور وہی پروگرام اصلی دینی پروگرام ہے۔

تبلیغ دین کا اپنا ایک مزاج ہے جو ٹی وی ماحول سے قطعی مختلف ہے: ٹی وی کی ساخت ومقصدیت کو نظر انداز کرکے یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ٹی وی کے ذریعے بڑے پیمانے پر دعوت پھیلائی جاسکتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے مان لیں کہ واقعی لاکھوں لوگ سنجیدگی کے ساتھ دینی پروگرام دیکھتے ہیں ، لیکن پھر بھی علم دین کے مزاج اور تبلیغ دین کے طریقے کی اہمیت کیسے نظر انداز کردی جائے؟ دیکھئے عوام الناس کی بڑی اکثریت کھیلوں کے مقابلے دیکھنے میدانوں میں جاتی ہے، تو کیا اکثریت تک دین پہنچانے کے جوش میں علما ان مراکز پر وعظ و نصیحت کی مجالس آراستہ کریں کہ لوگ کھلاڑیوں کے مقابلوں سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ فہم دین بھی حاصل کریں ؟ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس طرح بھی کچھ نہ کچھ دینی مزاج تو بن جائے گا اور اس میں کیاہر ج ہے؟ بڑے بڑے کنسرٹ، بیلے ڈانس کی تقاریب، فیشن شو کے باہر اسلامی کتابوں کے اسٹال لگانے سے کیا دین پھیل جائے گا؟

یہ اسی طرح کی کوشش ہے کہ سٹی گورنمنٹ، کراچی نے ساحل سمندر پر 'فوڈ فیسٹیول' لگایا تو اس میں کراچی یونیورسٹی کی کتابوں کا بھی ایک اسٹال لگادیا گیا جس پر صرف دس آدمی تشریف لائے۔ کیا فوڈ فیسٹیول کے مصالحے دار چٹخارے والے ماحول میں کتابوں کی طرف توجہ کی کوئی گنجائش رہ سکتی ہے؟ مسجد، گھر اور بازار میں نماز پڑھنے کا جو فرق ہے وہ ذریعے (medium)کا ہے۔ کسی پیغام کی ترسیل کے لئے ذریعے کی اہمیت پیغام سے کم اہم نہیں ۔ ذریعہ بدلنے سے پیغام کی ماہیت، شدت، اصلیت ، حقیقت ،کیفیت اور اثر بدل جاتا ہے۔

ذریعے کی اہمیت ماضی کے گلو کار جنید جمشید سے سیکھئے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں ان سے پوچھا گیا کہ اللہ نے آپ کو اتنی عمدہ آواز دی ہے۔ آپ گاتے ہیں تو لگتا ہے کہ آپ کے گلے میں بھگوان بول رہا ہے، آپ کی آواز نغمہ داؤد کی یاد دلاتی ہے، آپ کا لحن دلوں کی دنیا بدل دیتا ہے تو آپ گائیکی کے ذریعے تبلیغ دین کا فریضہ کیوں انجام نہیں دیتے؟ ہماری تاریخ میں بھی اسکی مثالیں ملتی ہیں جیسے شاہ لطیف بھٹائی وغیرہ جیسے صوفی جو اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں کو موسیقی کے ذریعے پہنچاتے تھے۔ مریدانِ رومی جن کا رقص دل کی دنیا بدل دیتا ہے، قوالی کی روایت جو روح کی تاروں کو چھیڑتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ

جنید جمشید نے برجستہ جواب دیا کہ ہماری تاریخ میں تبلیغ، تعلیم، تدریس اور دعوت کا کام کبھی گائیکی، سارنگی اور طبلے وغیرہ سے نہیں ہوا۔ اس کام کا ایک خاص اُسلوب ، ماحول اور طریقہ کارہے۔ ہم نے تاریخ کے سفر میں یہی دیکھا ہے کہ داعی لوگوں تک دین کی دعوت اپنے قول وعمل سے پہنچاتا ہے، فیسٹیول منعقد کرکے یا ڈھول ، باجے اور گائیکی کی سائیکی (نفسیات) کے ذریعے تبلیغ دین کی روایت سے ہماری تاریخ خالی ہے۔

تبلیغ، تدریس، دعوت وتعلیم کے لئے جو طریقہ (procedure) اورذریعہ (medium) سنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہؓ،اجماعِ علما ا ور تعاملِ اُمت سے نسل در نسل ہم تک منتقل ہواہے، اس میں گا بجا کر، مٹک کر، آلاتِ موسیقی کے ذریعے دعوتِ دین کی کوئی روایت نہیں ملتی، ایک آدھ استثنا حجت نہیں ہے۔

افسوس کہ ایک سابقہ گلوکار دین کی ترسیل، تعلیم، تبلیغ اشاعت کے سلسلے میں اختیار کیے جانے والے ذریعے کے بارے میں ہمارے جدیدیت پسند علماء سے زیادہ فہم دین رکھتا ہے۔ فرض کریں ملکہ ترنم نور جہاں کی آواز سے اگر کفار دعوتِ ایمان قبول کربھی لیں تو ایمان کا اصل ذریعہ تو نور جہاں کی آواز ہے، اللہ کا پیغام تو حید نہیں ہے!

کسی کی خوبصورت آواز پر ایمان لانے والا اس سے زیادہ خوبصورت آواز سن کر اپنا ایمان لمحوں میں بدل سکتا ہے۔ ابن جوزی نے اپنی کتاب میں وہ واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک عیسائی کی بیٹی نے کسی خوش الحان مؤذن کی آواز سن کر اسلام قبول کرلیا تھا، لیکن ایک بد آواز مؤذّن کی اذان سن کر ایسے دین سے توبہ کرلی جس کی اذان ایسی کرخت آواز میں ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ و تہذیب میں لوگوں کا دینی مزاج اس طرح تیار کرنے کی کوئی روایت نہیں ملتی۔

یہ وہی حکمت ِ عملی ہے جو ساٹھ کے عشرے میں عیسائیوں نے اختیار کی تھی۔ کلیسا میں عبادت کے لئے نوجوان لڑکے لڑکیاں نہیں جاتے تھے تو عیسائی راہبوں نے کلیسا کے ساتھ سستے قحبہ خانے [Pub] کھول دیے، لیکن اس کا راستہ کلیسا کے اندر سے گزر کرجاتا تھا۔ عیسائی قدامت پسندوں نے اعتراض کیا تو عیسائی علما نے جواب دیا: کم از کم نوجوان اس راستے سے گزرکر قحبہ خانے جائیں گے تو اُنہیں کلیسا، خدا، مریم ؑ و عیسیٰ ؑ تو یاد رہیں گے، ہوسکتاہے اس راستے پروہ پلٹ آئیں ۔

علم کو اشتہار بازی اور عوامی پسند ناپسند کے بل پر عام کرنا اس کی توہین ہے: ٹی وی کو دکان اور فروخت کے عمل کے بجائے ذریعۂ تعلیم و تدریس و تربیت سمجھنا سادہ لوحی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ علم مصنوعات کی اشتہا ر بازی کے ذریعے عام کیا جائے اور تعلیم و تدریس سے پہلے یا اس کے بعد یا اس کے دوران وقفے وقفے سے تعلیم و تدریس کا عمل روک کر لوگوں کو اشتہارات دکھائے جائیں ۔ اس قسم کے پروگرام سے کوئی سنجیدگی، وقار اور علمیت نہیں پھیل سکتی کیونکہ یہ علم کو پرا گندہ کرنے ، آوارہ بنانے ، چھچھور پن کی سطح پر لے جانے، اس کے وقار کو ختم کرنے ، اس کی اہمیت کو کم کرنے اور اسے لفنگے پن کے عمل کاحصہ بنادینے کی کوشش ہے، اور کہنا پڑتا ہے کہ نہایت کامیاب کوشش ہے۔

مثلاً ٹی وی پر اور اخبارات میں جیو کا ایک اشتہار شائع ہوا جس میں مفتی رفیع عثمانی صاحب کی تصویر کے بالکل برابر ایک ماڈل گرل کی تصویر دکھائی جارہی تھی۔ ٹی وی بنیادی حقوق کے ڈھانچے (Frame work) میں چلتاہے اور اس منہاجِ علم میں مفتی رفیع عثمانی اور ماڈل گرل میں کوئی فرق نہیں ، دونوں انسان ہیں ، برابر ہیں ، آزادہیں اور اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے کسی حکم کے پابند نہیں ۔کیا یہ قابل قبول صورتِ حال ہے؟ کیا دین اور عالم دین اسی کام کے لئے رہ گئے تھے ؟ ٹی وی پر درس قرآن یا دینی پروگرام سے پہلے، اس کے بعد اوردرمیان میں جس قسم کی اشتہار بازی ہوتی ہے، اسے کون نہیں جانتا؟ ایک عام مسلمان کی غیرتِ ایمانی بھی یہ گوارہ نہیں کرسکتی کہ لوگ ابھی درسِ قرآن سنیں اوراس کے ساتھ ہی طوائفوں کا نظارہ بھی کریں ۔

دین کی ایسی بے توقیری تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی اور یہی وجہ ہے کہ دینی کاموں سے برکت اُٹھ گئی ہے۔ خطابت بہت ہے مگر اثر پذیری براے نام بھی نہیں ۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ کی مجلس میں روزانہ سینکڑوں لوگ توبہ کرتے اور سینکڑوں اپنی زندگیاں بدل لیتے، لیکن ٹی وی کے دینی پروگرام سن کر ایسا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ ٹی وی کا کمال ایک ایسا دینی مزاج پیدا کرناہے جو رنگ رلیوں ، ہلے گلے، مستی، موج میلے کو بھی دین کا حصہ سمجھے اور یہی مغرب کو مطلوب ہے ۔

علم پوری توجہ وانہماک اورمعلم سے تبادلہ خیال کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے: تبلیغ، تعلیم اور دین کی تدریس تاریخ میں کبھی اس طرح نہیں ہوئی کہ انسان حواسِ خمسہ کے بجائے صرف دو حواس یعنی سماعت اور بصارت سے کام لے۔ ٹی وی دیکھنے میں صرف دو حواس کام کرتے ہیں باقی سارا انسانی وجود معطل ہو کر رہ جاتا ہے ۔ تبلیغ، تعلیم و تدریس کے عمل میں کبھی یہ نہںی ہوا کہ مخاطب بولنے والے سے براہِ راست تعلق نہ رکھے اور اس سے براہِ راست سوال نہ کرسکے۔ اس عمل میں کبھی یہ موقع نہیں آیا کہ سننے والا پیر پھیلا کر بیٹھا ہوا ہے، بستر پر لیٹا ہوا ہے، کھانا کھا رہا ہے، چائے پی رہا ہے، باتیں کر رہا ہے، ٹیلی فون سن رہا ہے، دنیا کا ہر کام کر رہا ہے اور دینی پروگراموں میں وعظ ونصیحت بھی سن رہا ہے۔ ارتکازِ توجہ کے بغیر نہ دین ملتا ہے، نہ دنیا۔ اگر کوئی شخص دنیا یا دین دونوں میں سے کچھ حاصل کرنا چاہے تو اس کے حصول کی خاطر کچھ نہ کچھ دیر کے لیے دنیا ترک کرنی پڑتی ہے۔ تبلیغ و تدریس و تعلیم کے دوران خواہ وہ دین کی ہو یا دنیا کی طالب علم کو اس مختصر عرصے کے لیے دنیا کے علائق سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے۔

اسکول میں تعلیم کے دوران بات کرنے، کھانے پینے اور فون سننے کی اجازت کیوں نہیں ہوتی، لیکن ٹی وی سے دینی پروگرام جب نشر ہوتے ہیں تو کیا سننے والا اس حالت میں ہوتا ہے کہ وہ اس فیض سے اثر حاصل کرسکے؟ حصولِ علوم خواہ وہ دینی ہو یا لادینی، اس کا ایک خاص طریقہ ہے، اس طریقے کو اختیار کیے بغیر نہ دین ملتا ہے اور نہ ہی دنیا ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں Virtual Universities کا تجربہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرسکا، کیونکہ تعلیم کبھی فاصلاتی طریقے سے حاصل نہیں کی جاسکتی ۔ علم کا حصول اُستاد کی صحبت، فیضانِ نظر اور عطاکے بغیر ممکن نہیں ۔ ویڈیو کا نفرنسنگ کے ذریعے بھی حصولِ علم کے تجربے کا میاب نہیں ہوسکے، جب دنیاوی علم (material knowledge) ٹی وی اور ویڈیو سے حاصل نہیں ہوسکتا تو اسے دینی تعلیم کے فروغ کا ذریعہ سمجھنا محض عامیانہ نقطہ نظر ہے۔

دین سیکھنے یا سکھانے سے آتا ہے۔ یا تو کوئی خلوص سے سیکھنا چاہے یا کوئی خلوص سے سکھانا چاہے۔ اس دو طرفہ عمل میں فریقین کے اندر کسی ایک فرد کا مخلص اور محنتی ہونا ضروری ہے جبکہ ٹی وی کے ذریعے رابطے میں خلوص نامی شے کا وجود ہی ناممکن ہوتا ہے۔ اگر کسی بزرگ کی محفل ذکر کو ٹی وی پر دکھایا جائے تو اس میں سمع و بصرکے سوا کوئی حس حصہ نہیں لے گی لہٰذاس محفل کا اثر ناظرین محسوس ہی نہیں کرسکتے۔ اسی لئے بہت سے وعظ، گفتگو اور تقریریں جو بہت عمدہ ہوتی ہیں جب کیسٹ اور ٹی وی پر ریکارڈ کرکے سنی جاتی ہیں تو وہ نہایت کمزور اور بے اثر لگتی ہیں ۔ وجہ یہ ہے کہ گفتگو کرنے والے کی شخصیت اپنے وجود اور روحانیت کے ساتھ آپ سے مکالمہ کرتی ہے اور آ پ خود بھی اپنے حواسِ خمسہ، عقل، وجدان ، جذبات، احساسات ، میلانات ، روح کے تاروں اور دوسری تمام خصوصیات کے ساتھ اس عمل میں شریک ہوتے ہیں ، لہٰذا اس اثر کا ابلاغ ٹی وی اور ویڈیو کیسٹ سے نہیں ہوسکتا۔ یہ تو صرف زندہ صحبت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تزکیۂ نفس کے لئے کسی زندہ شخص کی شاگردی اور صحبت اختیار کرنا ضروری سمجھا گیاہے۔

جو شخص دین سیکھنے کے لیے محنت نہیں کرنا چاہتا اور جو عالم دین سکھانے کے لیے مشقت پر آمادہ نہیں ، دونوں دنیا کے محروم ترین انسان ہیں ۔ دین، علم وتعلّم، کیپسول نہیں ہے کہ اسے دے دیا جائے، یہ حکیم کی پڑیا نہیں ہے کہ پھانک لی جائے تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ دین سیکھنے کے لئے وقار اور صبر ضروری ہے۔ ایک شخص جو پہلو بد ل بدل کر چینل بدل رہا ہے، چائے پیتے ہوئے اچانک اس کے ذہن میں سوال آیا اس نے فون اٹھایا اور 'عالم آن لائن' سے سوال کرلیا، سوال کرنے کا یہ طریقہ ہی درست نہیں ۔

پھر سوال، استفسار اور اعتراض میں بھی فرق ہے۔ سائل کون ہے ، مقصد حصولِ علوم ہے یا محض تفریح ،اس کا اندازہ اس وقت ہوگا جب پیاسا کنویں کے پاس آئے گا، جب کنواں پیاسے کے پاس جا کر اسے زبردستی سیراب کرنے لگے تو یہ افسوسناک صورت حال ہوگی ۔ دنیا کی اکیس تہذیبوں میں کبھی نہ اس طرح دینی علم کی اشاعت ہوئی نہ دنیاوی علم پھیلا۔ علم کے حصول کے لئے یا تو سائل کو آنا ہوگا یا عالم کو لوگوں تک پہنچنا ہوگا جس طرح تبلیغی جماعتیں دنیا کے کونے کونے تک دین کی اشاعت کے لئے جاتی ہیں ، لوگوں کو مسلمان رکھتی اور مسلمان کرتی ہیں ۔ دین و دنیا مشقت سے ملتے ہیں دین حاصل کرنے والے کو بھی مشقت اُٹھانی پڑے گی اوردین پہنچانے والے کو بھی مشقت کرنا ہوگی۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک بٹن دبا کر علم مل جائے ، اگر ایسا ہوسکتا تو تمام اسکول، کالج ویونیورسٹیاں بند کر دی جاتیں ، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو رہا ۔ توپھر اہل دین ،دین کو اس شر انگیز ذریعے سے دین پہنچانے کے لیے کیوں آمادہ ہیں ؟

تبدیلی براہِ راست فرد سے رابطے سے ہی پیدا ہوتی ہے: یہ مفروضہ بھی محل نظر ہے کہ ٹی وی کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو دینی تحریکات کا ہم نوا بنایا جاسکتا ہے۔ دیکھئے انبیا کا طریقہ فرد سے خطاب ہے۔ جدید ابلاغیات کے نظریات میں Inter Personal Communication Theory سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ فرد سے ملاقات، فرد سے رابطہ، فرد کے دروازہ دل پر دستک دینے سے فرد میں کیا تبدیلی آتی ہے؟ ٹی وی، ملٹی میڈیا، اخبارات، پمفلٹ، کتاب، پوسٹر، ہینڈ بل، کیسٹ ویڈیو کے ذریعہ تبلیغ دین میں کیا کیا مشکلات، رکاوٹیں اور موانع ہیں ، اس کی چھوٹی سی مثال تبلیغی جماعت، دعوتِ اسلامی، جماعت ِاسلامی، تنظیم اسلامی اور دانش سرا وغیرہ کی اِبلاغی اور ثقافتی حکمت ِعملی کے تقابلی مطالعے سے واضح ہوسکتی ہے۔ جماعت ِاسلامی، تنظیم اسلامی اور دانش سرا جدید سائنس و ٹیکنالوجی سے حاصل اِبلاغی انقلاب کے ذریعے لوگوں تک پہنچنے اورانبوہِ کثیر کو اس ذریعے سے جمع کرنے کو عین اسلامی انقلابی دینی رویہ سمجھتے ہیں ۔ لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ سب سے کم حاضری ان اداروں کے سالانہ اجتماعات میں ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دعوتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے کسی مظہر سے استفادہ نہیں کرتیں اور وہ انبیاے کرام کے طریقہ تبلیغ یعنی فرد سے رابطہ، فرد سے خطاب کے ذریعے فرد کی تبدیلی پر یقین رکھتی ہیں ۔ وہ تصویر، ٹی وی، میڈیا، پمفلٹ، ہینڈبل، پوسٹر، ملٹی میڈیا، ویڈیو فلم جیسے کسی ذریعے کو تشہیر، تبلیغ، تدریس وتعلیم کے لیے استعمال نہیں کرتیں ، لیکن دنیا میں حج کے بعد سب سے بڑے اجتماعات اِنہی جماعتوں کے ہوتے ہیں اور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک میں ان کے اجتماعات سب سے بڑے ہوتے ہیں ۔ جو لوگ میڈیا کے کمالات اور فوائد کی باتیں کرتے ہیں ، وہ بتا ئیں کہ آخر میڈیا پر جان نچھاور کرنے والی دینی جماعتیں اپنے سالانہ اجتماعات میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ایک لاکھ آدمی بھی کیوں جمع نہیں کرپاتیں اور دعوتِ اسلامی اور تبلیغی جماعت ایک پیسہ خرچ کئے بغیر کئی کئی لاکھ آدمی کیسے جمع کرلیتی ہیں ؟ ایسے افراد کو میڈیا کے قصیدے پڑھنے کے بجائے ان جماعتوں کی حکمت ِعملی پر غور کرنا چاہئے۔

ٹی وی پر آزادانہ تبلیغ کا تصور سراب سے زیادہ نہیں :یہ بھی محض ایک مفروضہ ہی ہے کہ ٹی وی 'ہر بات ' کہنے کی اجازت دیتا ہے۔ حال ہی میں محترم ڈاکٹر اسرار احمد کے ساتھ ایک آیت کے شانِ نزول کی وضاحت کے سلسلے میں ہونے والا سلوک اس مفروضے کی مضحکہ خیزی بیان کرنے کے لئے کافی ہے۔ ٹی وی چینل صرف وہی بات کہنے کی اجازت دیتا ہے جو زیادہ منافع کے ساتھ بکنے کی اُمید ہو، جس بات سے عوام ناراض ہوتے ہوں ، اسے ہرگز ٹیلی کاسٹ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس ٹی وی کا کمال ہے کہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان اور اسلامی تحریک کا ایک پر خلوص رہنما ٹی وی پر مجرموں کی طرح کھڑا عوام سے معافی مانگ رہا تھا ۔ سرمایہ داری کا ہر اِدارہ عوام کی بالادستی کو ممکن بنانے کا سامان فراہم کرتا ہے، یہ مقصدیت اس کی ہر ساخت میں رچی بسی ہے اور اسے کسی صورت اس سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا۔

جو بات ڈاکٹر صاحب نے ٹی وی پر کہی، وہی بات اگر آپ اپنے حلقہ احباب میں کہتے تو کیا ایسا ہوتا کہ افراد اُٹھ کر ڈاکٹر صاحب کے خلاف سراپا احتجاج بن کر آپ سے معافی کا مطالبہ کرتے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایتی طریقہ علم میں عالم اور صوفی مرشدو پیر ہوتے ہیں جبکہ ٹی وی پر وہ ٹی وی مالکان اور عوام کے مرید بن جاتے ہیں ۔

ٹی وی کس طرح مذہب کی بنیادی دعوت پر اثر انداز ہوتا ہے، اس کا اندازہ امریکہ میں اوینج لیکل (evangelical) عیسائیت کے ساتھ ہونے والے سلوک سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اوینج لیکل عیسائیت کا ایک راسخ العقیدہ فرقہ تھا جس کی تبلیغ کا آغاز اُنیس سو چالیس کی دہائی میں بلی گراہم (Billy Graham) نے کیا۔ گراہم بنیادی طور پر نہایت متشدد عیسائی تھا، اس کا ایمان تھا کہ راسخ العقیدہ (conservative)پروٹسٹنٹ کے علاوہ کوئی گروہ جنت جانے کا حقدار نہیں ، اس کی دعوت کا بنیادی نقطہ گناہوں سے بھری امریکی معاشرت سے بغاوت تھی۔ اپنی اس متشدد (radical) دعوت کے نتیجے میں گراہم کی عوامی شہرت میں اضافہ ہونے لگا۔ لیکن پھر اسے امریکی ٹی وی کے ذریعے عوام الناس تک اپنا پیغام پہنچانے کی سوجھی اور نتیجتاً وقت گزرنے کے ساتھ اس کی دعوت کے تیور بدلنے لگے۔ چند ہی دہائیوں میں اس کی دعوت راسخ العقیدہ عیسائیت کے فروغ کے بجائے کثیر الانواع تصوارتِ خیر(pluralism) پر مرکوز ہوکر رہ گئی۔

وہ عیسائیت کے معاشرتی غلبے کے ایک پرجوش حامی کے بجائے ہر امریکی صدر کا خواجہ سرا دکھائی دینے لگا۔ وہ شخص جو کبھی گناہوں بھری امریکی زندگی پر کڑی تنقید کیا کرتا تھا، کلنٹن کے مونیکا کیس پر کان لپیٹ بیٹھا رہا۔ اس کی تبدیلی کی وجہ صرف یہ تھی کہ گراہم جان گیا تھا کہ کیا چیز ٹی وی پر بکتی ہے اور کیا نہیں ؟ اچھے سے اچھا عالم بھی ٹی وی کے نظامِ جبر کے سامنے اس طرح مجبور ، بے بس ، بے کس ، بے نوا اور بے وفا ہو جاتا ہے کہ آپ اندازہ نہیں کرسکتے۔ اس کی وفاداری صرف ٹی وی سے باقی رہ جاتی ہے اور اس کا مطمع نظر یہ ہو جاتا ہے کہ یہ آلہ ہماری پہنچ میں رہے تاکہ خیر عوام تک پہنچانے کا ذریعہ محفوظ رہے، چاہے اس ذریعے کی حفاظت کرنے کے جنون میں مقصد ہاتھ سے نکل جائے۔

چند لوگ بظاہر ٹی وی کے بے تاج بادشاہ دکھائی دیتے ہیں کہ جو چاہیں کہتے ہیں ، لیکن حقیقتاً وہ ٹی وی پر نیم برہنہ خواتین کے جھرمٹ میں بیٹھ کر پر جوش طریقے سے پردے کے خلاف دلائل دیتے تو دکھائی دیں گے مگر مجال ہے کہ کبھی ان بے حیا عورتوں کے لباس پر تنقید کردیں ؛ تنقید تو دور کی بات وہ تو اُنہیں نصیحت بھی نہیں کرسکتے ۔ نجانے ان عورتوں کے بجائے جن کے لباس چھوٹے ہوتے جارہے ہیں ، اُنہیں ایسی عورتوں کی فکر کیوں دامن گیر ہوتی ہے جنہوں نے زیادہ لباس پہن رکھا ہے؟ درحقیقت امریکہ میں ٹی وی کو مذہبی تعلیمات کے فروغ کے لئے نہیں بلکہ چرچ کے متبادل کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کے ذریعے عوام الناس کا رابطہ چرچ اور پوپ سے کاٹ کر گراہم جیسے 'عالم آن لائنوں ' سے جوڑ دیا گیا ہے۔

مذہبی تعلیمات کے روایتی نظام میں مقامی مساجد کے ائمہ اور خانقاہوں کے بزرگ اَفراد کے معلم و مزکی ہوا کرتے ہیں ۔ تعلیم، تزکئے اور تبلیغ کے اس روایتی ڈھانچے کا فائدہ یہ ہے کہ ایک فرد تعلقات کے ایسے تانے بانے میں بندھ جاتا ہے کہ اس کے لئے بنیادی مذہبی معاشرتی تعلیمات و اخلاقیات کی خلاف ورزی کرنا ممکن نہیں رہتا، کیونکہ وہ سب کی نظروں میں ہوتا ہے، لیکن ٹی وی پر عالم آن لائن سے ہدایت حاصل کرنے کے طریقے میں فرد پر تعلقات کا کوئی جبر مسلط نہیں ہوتا اور وہ محاسبے کی قیود سے آزاد ہو کر علم دین کو محض ذہنی عیاشی کے طور پر سیکھتا ہے۔

ہرٹی وی چینل کوانسانی حقوق کی پابندی کرنا ہوتی ہے: بالفرض اگر آپ کسی طرح اپنا ٹی وی چینل بنا بھی لیں ، تب بھی قانونی نقطہ نگاہ سے یہ ناممکن ہے کہ آپ ٹی وی پر جو چاہیں کہتے پھریں ۔ جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر ٹی وی چینل ہیومن رائٹس قانون کا پابندہوتا ہے۔ ان رائٹس کی خلاف ورزی کرنے کے نتیجے میں ٹی وی چینلز کے خلاف مقدمے کرکے بھاری جرمانے عائد کردئیے جاتے ہیں اور چینل بند کرنے کی نوبت بھی آ پہنچتی ہے۔

ٹی وی کی اصل حقیقت، اس کے مقاصد، اس کی ساخت اور خباثت سے فلسفیانہ سطح پر واقفیت رکھے بغیر ٹی وی سے خیر کی توقع رکھنا محض سادہ لوحی ہے۔ ٹی وی اگرآپ کو دین بیان کرنے کا موقع دیتا ہے تو آپ سے بہت کچھ چھین بھی لیتاہے، اور دین بیان کرنے کا یہ موقع بھی ہیومن رائٹس کے حقوقِ اظہار آزادی (right of self-expression)کے ما تحت ہی ملتا ہے۔ یعنی ٹی وی دینی پروگرام اس لئے نہیں دکھاتا کہ یہ 'خیرمطلق' ہے بلکہ اس لئے دکھاتا ہے کہ جیسے دوسرے لوگوں کو اپنے اپنے تصوراتِ خیر کے مطابق اظہارِ ذات کا حق حاصل ہے، بالکل اسی طرح مذہبی لوگوں کو بھی اپنی بات کہنے کا 'حق' ہے۔ ہیومن رائٹس قانون کے تحت ٹی وی پر آنا اس مفروضے کو مان لینا ہے کہ ہر شخص جیسے چاہے اپنی ذات کا اظہار کرسکتا ہے، چاہے تو گا کر کرے یا ناچ کر، کسی کو یہ حق نہیں کہ دوسرے کے طریقہ اظہارِ آزادی پر قدغن لگائے۔

آخری بات نیک مقاصد کے لئے نیک ذرائع
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اگر مقاصد نیک بھی ہوں ، تب بھی ان مقاصد کے حصول کے لیے جب تک نیک ذرائع اختیار نہ کیے جائیں ، دین کو کبھی غلبہ نصرت اور اخلاقی فتح حاصل نہیں ہوسکتی۔ ذریعے، طریقے اور وسیلے کی اہمیت مقصد کے ساتھ ساتھ مسلم ہوتی ہے۔ نیکی کا کام بدی کے راستے سے ہو تو اپنی روحانی اخلاقی اساس کھو دیتا ہے اور اس سے خیر و برکت بھی اُٹھ جاتی ہے۔ ٹی وی کسی بزرگ اہل اللہ کی قبر نہیں ہے جس کے بارے میں عطاء اللہ شاہ بخاری نے فرمایا تھا کہ لوگ اہل اللہ کی قبر پر جاتے ہیں تو شرک کرتے ہیں اور اپنا ایمان گنوا کر آتے ہیں میں وہاں جاتا ہوں تو اپنے ایمان میں اضافہ لے کر آتا ہوں ۔

اوّلاً تو ٹی وی سے دین کا ابلاغ ہو نہیں پاتا اور اگر کچھ دین پھیلتا بھی ہے تو وہ بے دینی میں اضافے کا ذریعہ بن جاتاہے۔ ذریعے کی بحث سب سے اہم بحث ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جس دین نے ایسے شخص کی شہادت قبول نہیں کی جو بازاروں میں سر عام کھاتا پیتا ہوا پایا جائے تاکہ شاہدکے درجۂ ثقاہت کا اندازہ ہو، اس دین کے وارث علما ٹی وی میں میزبان عورتوں کے کمرے میں انتظار فرماتے، حسب ِضرورت میک اَپ کرواتے، کئی کئی گھنٹے ریکارڈنگ کے لئے انتظار فرماتے اور رنگین کپڑے پہن کر جاتے ہیں ۔

یاد رہے کہ ٹی وی کے کیمرے کے لئے صرف سفید لباس ناقابل قبول ہے، اس لئے ٹی وی والے مشورہ دیتے ہیں کہ سفید کپڑے پر رنگین واسکٹ پہنو یا اسکرین رنگین لگائیے۔ اس کے کیمرے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ رنگ بھی پسند نہیں ۔ رنگینی کے بغیر ٹی وی کا کام ہی نہیں چلتا اور رنگینی کا دین سے کوئی تعلق نہیں ۔ دین سنجیدگی، برد باری ، وقار، تحمل، نفاست کے بغیر عام نہیں ہوسکتا۔ دین پہنچانے اور تیل فروخت کرنے میں فرق ہے اور ٹی وی دونوں کا موں کو یکساں سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ نیکی بدی کے ذریعہ غالب نہیں ہوسکتی۔ ٹی وی کا مقصد کیا ہے، اس کی ما بعد الطبیعیات کیا ہے، اس کے مقاصد کہاں سے آتے ہیں اور کون طے کرتا ہے ، اگر ان سوالوں پر علماء کرام غور فرمالیں تو اُنہیں اس دھوکے کی حقیقت معلوم ہو جائے گی ۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ ٹی وی پر آنا حرام ہے، حلت و حرمت کا فیصلہ کرنا یقیناعلماے کرام ہی کو زیب دیتا ہے۔ ہمارے مضمون کا مقصد تو ٹی وی کے بارے میں سادہ لوحی پر مبنی رویے کی حقیقت واضح کرنا ہے۔ اگر واقعی کوئی محسوس کرتا ہے کہ تبلیغ دین و اِبطال باطل کے لئے ٹی وی پر آنا ناگزیر ہے تو اسے درج بالا باتوں کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ اسے ٹی وی کو تبلیغ دین کے لئے آئیڈیل ذریعے کے بجائے ایک اضطراری حکمت ِعملی (strategy) کے طور پر قبول کرنا چاہئے اور وہ بھی اپنی شرائط کے ساتھ۔ مختصر لباس میں ملبوس خواتین کی میزبانی میں پروگرام کرنے سے صاف انکار دینا چاہئے، دورانِ پروگرام ٹی وی اشتہارات کی نوعیت معلوم کرنا چاہئے، بحث سے قبل مکالمے مںد شریک شرکا کے بارے میں معلوم کرنا چاہئے کہ کہیں جہلا سے مکالمہ تو نہیں ہوگا، مکالمہ شروع کرنے سے پہلے پروگرام کے ابتدا میں ہی مکالمے میں شریک افراد کے فکری منہاج (paradigm) کے بارے میں سوال کرنا چاہئے کہ آیا تم کس منہاج کے آدمی ہو، اہل سنت والجماعت کے اجماعی موقف کو مانتے ہو یا نہیں ؟ کیونکہ جب تک فکری منہاج ہی معین نہ ہو بحث لا حاصل رہتی ہے۔ میزبان اگر غیر متعلق یا غلط سوال پوچھے تو اسے یہ کہہ کر کہ 'یہ سوال ہی غلط ہے' چپ کرا دینا چاہئے۔ مشہور امریکی مفکر نام چومسکی (Chomsky) نے ایک مرتبہ بیسویں صدی کے بڑے پس جدیدی فلسفی فوکالٹ (Focault) سے ٹی وی انٹرویو کے دوران جب ایک سوال پوچھا تو فوکالٹ نے کہا کہ میرے منہاجِ علم میں تمہارا سوال ہی غلط ہے، لہٰذا میں اس کا کوئی جواب نہیں دوں گا، چومسکی خاموش ہوکر رہ گیا۔

مضمون کا اختتام ہم اسی سوال پر کرتے ہیں جو مدیر' محدث' حافظ حسن مدنی نے اپنے مضمون میں اُٹھایا ہے کہ
'' ٹی وی چینلوں کے ذریعے مذہبی رجحانات کی تشفی کی بات کرتے وقت یہ بنیادی نقطہ نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے کہ جب دین کی مقدس تعلیم کو بھی مقصد و ہدف سے قطع نظر ٹی وی چینل کے مالک کے جذبۂ حصولِ منفعت کے پیش نظر ابلاغ کی لہروں کے سپرد کیا جائے گا تو منبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مقدس مشن کیسے لوگوں کے سپرد ہوگا اور عوام کی دینی تعلیم و تدریس کی کو نسی نوعیت اربابِ ابلاغ کے ہاں مطلوب و معتبر قرار پائے گی...؟''

حوالہ جات
1. کبیر
2. دارمی
3. بخاری
4. مسلم