Mohaddis-322-Jul2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اس سے پہلے ادارتی صفحات میں سزاے موت کے خاتمے کے پس پردہ محرکات، عالمی اورسیاسی صورتحا ل کے علاوہ قانونی جائزہ بھی پیش کیا جا چکا ہے۔ اس مضمون میں اس سزا ے موت کے خاتمے کاجائزہ قرآن وسنت کی روشنی میں لیا جائے گا۔
اسلام رہتی انسانیت تک اللہ کا پسند فرمودہ وہ دین ہے جسے اللہ نے تمام انسانوں کے لئے جامع وکامل بنا کر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کی نبوت تاقیامت برقرار ہے اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اسلام کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے اور شریعت ِمحمدیہ کے تاقیامت برقرار رہنے سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہردور میں ہونے والی ہر قسم کی ایجاد و ترقی سے بخوبی واقف ہونے کی بنا پر پہلے سے ہی شریعت کے ایسے دائمی احکامات نازل فرما چکے ہیں جن میں حالات اور زمان ومکان کی رو رعایت رکھی گئی ہے۔ اس بنیادی تصور کو ذہن نشین کرلینے سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ آج کے دور میں بسنے والے انسان لاکھ مہذب ومتمدن ہونے کا دعویٰ کریں، اسلام نے جو سزائیں مختلف جرائم کے لئے رکھ چھوڑی ہیں، ربّ ِکریم کا منشااور ختم نبوت کا تقاضا یہی ہے کہ آج ان سزائوں میں کوئی ردّ وبدل کرنے کی بجائے ان کو بعینہٖ تسلیم کرکے جاری وساری کیا جائے۔ مسلمانی کا تقاضا یہی ہے اور مختلف قرآنی آیات کا مفہوم ہمیں اسی بات کی نشاندہی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر لازم ٹھہرایا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فیصلوں کے مطابق ہی اپنی زندگیاںگزاریں، اس سلسلے میں اُنہیں اپنی من مانی یا خود ساختہ ترامیم کا کوئی اختیار نہیں، اس سلسلے میں قرآنِ کریم کی دو واضح آیات ہیں :
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِىٓ أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ...﴿٦٥﴾...سورة النساء
''اے نبیؐ! تیرے ربّ کی قسم، یہ لوگ کبھی بھی ایمان والے نہیں بن سکتے حتیٰ کہ آپ کے فیصلوں کو دل وجان سے تسلیم نہ کرلیں، پھر ان کے دلوں میں اس پر کوئی خَلش باقی نہ رہ جائے جو آپ نے فیصلہ فرما دیا ہے۔ اور یہ اس کو صمیم قلب سے تسلیم کریں۔''
ایسے ہی قرآن کریم کی ایک اور آیت ہے :
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَ‌سُولُهُۥٓ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَـٰلًا مُّبِينًا ...﴿٣٦﴾...سورة الاحزاب
'' کسی مؤمن مرد یا عورت کو یہ لائق نہیں کہ جب اللہ او راس کا رسول اس کے لئے کسی بات کا فیصلہ فرما دیں تو پھر اپنے معاملوں میں وہ اپنی مرضی استعمال کریں۔ اور جو شخص اللہ اور ا سکے رسول کا نافرمان ہے توایسا شخص بلاشبہ واضح گمراہی کا شکار ہے۔''
مندرجہ بالا آیات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی مسلمان کے لئے شرعی طورپر یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا واضح فیصلہ مل جانے کے بعد اپنی من مانی کرتا پھرے، قرآنِ کریم کی مذکورہ آیت میںاللہ تعالیٰ نے قسم اُٹھا کر کہا ہے کہ ایسا شخص کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا۔
یہاں اس امر کا اظہار بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے دائمی رہنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ شریعت ہر دور میں محفوظ وکامل برقرار رہتی تاکہ اس پر عمل بجا لانا ممکن رہتا۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا امت ِمحمدیہ پر یہ احسانِ عظیم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن وسنت (شریعت) کی حفاظت کی ذمہ داری انسانوں پر ڈالنے کی بجائے خود اپنے اوپر لی ہے۔ اسلام کا یہی اعجاز اس کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتا ہے اور فی زمانہ قرآنِ کریم کی یہی حفاظت ملت ِاسلامیہ کی وہ بنیادی متاع ہے جس کی بنا پر زوال کے بدترین دور میں بھی مسلمان قرآن کی بنا پر دوبار ہ اصل دین کی طرف پل بھر میں لوٹ سکتے ہیں۔ چونکہ باقی شرائع میں حفاظت کا یہ انتظام موجود نہیں، اس لئے آج ان پر عمل پیرا ہونے کا دعویٰ ایک خواہش سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ سزاے موت کا خاتمہ اور اس نوعیت کے دیگر ایسے بے شمار اقدامات جن کا تقاضا غیر مسلم اقوام مسلمانوں سے کرتی رہتی ہیں، ان کی ایسی مذموم خواہشات کی راہ میں بنیادی رکاوٹ قرآن کریم ہی بنتا رہتا ہے، جس میں صراحت کے ساتھ شریعت ِمطہرہ کے مسلمات، اساسی عقائد اور مقامِ نبوت کے تقاضے بیان کردیے گئے ہیں۔ اس لئے اللہ کی اس عظیم نعمت کا ملت کو ہردم احساس رہنا چاہئے۔ اسی 'نسخہ کیمیا' کی بنا پر ملت ِاسلامیہ کو اس کی اساسات سے ہٹانا ممکن نہیں۔ کوئی مسلمان کوتاہی یا لاعلمی میں کوئی گناہ تو کرسکتا ہے، لیکن جونہی قرآن مجید کی کوئی آیت یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان، جس کی اطاعت کا تقاضا خود قرآنِ مجید ہم سے کرتا ہے، مسلمان کے سامنے آتا ہے، اس کی جبینِ نیاز جھک جاتی ہے۔


علاوہ ازیں یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ شرعی اور وضعی (انسانوں کے خودساختہ) قانون کے مزاج میں بنیادی طورپر ہی کافی فرق ہے۔ چنانچہ شارع کریم (اللہ تعالیٰ) کے ہاں ظالم کے حقوق اور شرف وعزت کے تحفظ کی بجائے مظلوم ومقتول سے انصاف کے پہلو کو ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ قتل اور ظلم وستم کا یہ سلسلہ آگے بڑھنے کی بجائے بڑی سختی سے روک دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے قصاص لینے (قاتل کو جواباً قتل کرنے ) کو زندگی سے تعبیرکیا ہے۔ (البقرة:179) اوردیت وصول کر لینے کے بعد کسی کو قتل کرنے کی نبی کریم نے انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے کہ میں اس کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ 1
جبکہ انسانوں کے خودساختہ قانون میں تمام رعایتیں اور حقوق کو مجرم کے لئے مخصوص کرتے ہوئے مظلوم کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ یہاں ہمدردی اور انسانی حقوق کا فائدہ مظلوم کو ملنے کی بجائے ظالم اور مجرم کو ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجرم کے انسانی حق کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں سزاے موت کے خاتمے کی تحریک چلائی جارہی ہے جب کہ شریعت کی نظر میں جو شخص اپنے شرفِ انسانیت کا خودتحفظ نہ کرے ، تو اس آدمی کو ہمدردی اور احترام کا کوئی حق حاصل نہیں، اللہ کے قوانین کی خلاف ورزی کرکے ایسا شخص خود اپنے شرف اور حق کو ضائع کربیٹھتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : وَمَن يُهِنِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِن مُّكْرِ‌مٍ ۚ...﴿١٨﴾...سورة الحج
''جس کو اللہ رسوا کردے تو اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔''
ایسے ہی قرآن کریم نے زنا یا دیگر جرائم کی سزائوں میں یہ لازمی قرار دیا ہے کہ
وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَآئِفَةٌ مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ...﴿٢﴾...سورة النور
''ان کی سزا کے موقع پر مسلمانوں کی ایک جماعت موجود ہونی چاہئے۔''
اس اظہار اور شہرت کے پس پردہ شریعت کا یہ تصور بھی موجود ہے کہ دیگر لوگ بھی ایسی کوتاہی کرنے سے عبرت پکڑیں۔ گویا اسلام چند مجرموں کو سنگین سزا دے کر باقی انسانیت کو جرائم سے تحفظ دینا چاہتا ہے۔ اور اسلامی سزائوں کی یہ سنگینی سدذریعہ کے طورپر ہے۔


وضعی قانون میں ثبوتِ جرم اور اس کو سزا دلوانے کے سارے عمل میں شک واحتمال کا فائدہ مجرم کو حاصل ہوتا ہے حتی کہ قانونِ وضعی سے وابستہ بعض لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ مجرم قانون کا لاڈلا بیٹا ہوتا ہے اور قانون کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ مظلوم کے برعکس ظالم سے کوئی زیادتی نہ ہوجائے، یہی حد سے بڑھی ہوئی احتیاط پسندی ظالم کو مزید ظلم کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
اسلام کے پیش نظر سزائوں کے فلسفے میں یہ بات بھی موجود ہے کہ جس شخص نے دنیا میں سزا کاٹ لی، اس کے لئے آخرت میں کوئی سزا موجود نہیں، جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں واضح طور پر یہ آیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں صحابہ کرامؓ سے کہا :
''تم مجھ سے بیعت کرو کہ تم شرک نہ کرو گے، چوری نہ کرو گے، زنا اور قتل نہ کرو گے، بہتان طرازی نہ کرو گے، اور جائز بات میں نافرمانی نہ کرو گے۔ جو مسلمان ان اُمور کو بجا لایا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے(ومن أصاب من ذلك شیئًا فعُوقب في الدنیا فهو کفارة له ومن أصاب من ذلك شیئًا فَسَتَرہ اﷲ فأمرُہ إلی اﷲ إن شاء عاقبه وإن شاء عفا عنه ، فبایعناہ علی ذلك)2
''اور جس کسی نے ان باتوں میں سے کسی کا ارتکاب کرلیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا دے دی گئی تو یہ سزا اس کے لئے کفارہ بن گئی اور جس شخص نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی تو اس کا انجام اللہ کے ہاں ہے، چاہے تو اس کو روزِ قیامت سزا دے گا اور چاہے تو معاف فرما دے گا۔ چنانچہ ہم نے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔''
ایسے ہی احادیث میں متعدد واقعات ذکر ہوئے ہیں جن میں جرم کا ارتکاب کرنے والے صحابہ کرامؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوکر اپنے آپ کو پاک کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ قیامت کو ملنے والی سزا کی بجائے دنیا میں ہی اس کا بدلہ لے کر عافیت پانا چاہتے ہیں۔

اسلام کے فلسفہ جرم وسزا کا یہ پہلو چونکہ نادر اور دیگر قوانین سے خصوصی امتیاز کا حامل ہے، اس لئے اس کے بعض واقعات یہاں پیش کئے جاتے ہیں:
1) ایک صحابی ماعزؓ بن مالک سے زنا کا جرم سرزد ہوگیا تو دربارِ رسالت میں حاضر ہوکر اُنہوں نے تین مرتبہ اپنے آپ کو پاک کرنے کی فریادکی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (فیم أُطهرك؟) 3میں تجھے کس سے پاک کروں؟ تو حضرت ماعزؓ نے زنا کا اعتراف کیا ، چنانچہ تصدیق وتاکید کے بعد اُنہیں نبی کریم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔
2) ایسے ہی ایک غامدیہ عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پاک کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ عورت دو تین سالوں میں کئی بار نبی کریم کے پاس آئی اور آپ سے سزا پانے کی گذارش کی، آخر تمام تقاضے پورے ہوجانے پر نبی کریمؐ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا۔ 4
3) سمرہ بن حبیبؓ نامی ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ اس نے ایک اونٹ کی چوری کا اعتراف کرتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنے آپ کو پاک کرنے اور سزا پانے کے لئے پیش کردیا ۔چوری کی تصدیق ہوجانے کے بعد جب اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو راویٔ حدیث ثعلبہ کہتے ہیں کہ وہ زبان سے یوں کہہ رہا تھا : الْحَمْدُ ﷲِ الَّذِي طَهرَنِي مِنْکِ أَرَدْتِ أَنْ تُدْخُلِي جَسَدِيَ النَّارَ 5
'' تمام تعریفیں اس ذات کے لئے جس نے مجھے (اے ہاتھ) تجھ سے پاک کردیا، تو چاہتا تھا کہ میرے سارے جسم کو آگ میں داخل کردے۔''
4) نبی کریم کے سامنے ایک چور کو لایا گیا جو چوری کا خود اعتراف کررہا تھا لیکن اس سے مالِ مسروقہ برآمد نہیں ہوسکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ میں تمہیں چور نہیں خیال کرتا، لیکن وہ شخص اپنے چور ہونے پر باربار اصرار واعتراف کرتا رہا۔ چنانچہ اس بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کٹوا کر اس کے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعاے خیر کی۔6
5) حضرت علیؓ کے سامنے ایک عورت شراحہ نے اعترافِ زنا کیا تو حضرت علیؓ نے اس کو ٹالنے کی کوشش کی اور کہا :
''شاید کہ تجھ سے زنا بالجبر ہوا ہو، شاید کہ تیرا شوہر تیرے پاس آیا ہو، شاید یہ اور یہ لیکن وہ عورت بولی: نہیں۔سو جب اس عورت نے بچہ جن دیا جو اس کے پیٹ میں تھا تو آپ نے (جمعرات کو) اسے ۱۰۰ کوڑے مارے اور (جمعہ کو ) رجم کردیا۔'' 7

الغرض یہ اسلام ہی ہے جس نے جرائم کا دنیا وآخرت دونوں میں مؤاخذے کا تصور دے کر معاشرے سے جرائم کا قلع قمع کیا، کیونکہ ظاہری وسائل، پابندیاں اور قوانین آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی اس قابل نہیں کہ انسان کو جرم سے روک سکیں، اِلا یہ کہ وہ خود رب کے سامنے اپنے مؤاخذے سے فکر مند نہ ہو جیسا کہ جدید ممالک میں جرم وسزا کے اعداد وشمار اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے بالمقابل کتب ِحدیث میں خود اعترافِ جرم کے متعدد واقعات موجود ہیں، جہاں عند اللہ مسئولیت سے بچنے کے لئے مسلمانوں نے اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیا۔ او راس دور میں بھی جہاں جہاں اسلامی قانون اپنی روح کے ساتھ نافذ ہے، وہاں جرائم کی شرح دنیا بھر سے حیرت انگیز حد تک کم ہے۔

موجب ِقتل جرائم
مذکورہ بالا تمہیدی نکات کے بعد ان جرائم کا مختصراً تذکرہ جن کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ نے قتل کی سزا عائد کی ہے :
جو شخص بھی اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہوجاے تو اس کی سزا قتل ہے جیسا کہ واضح فرمانِ نبویؐ ہے :(من بدَّل دینہ فاقتلوہ)8
''جو مسلمان بھی اپنا دین تبدیل کرے تو اس کو قتل کردو۔''
الفقه الإسلامي وأدلته میں ڈاکٹر وہبہ زحیلی أحکام المُرتد کے تحت مرتد کی سزا قتل ہونے پر اجماعِ اُمت نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
اتفق العلماء علی وجوب قتل المرتد لقوله ﷺ:(من بَدَّل دینه فاقتلوہ) وقوله علیه السلام: (لایحل دم امریٔ مسلم إلا بإحدٰی ثلاث: الثیب الزاني،والنفس بالنفس،والتارك لدینه المفارق للجماعة) وأجمع أھل العلم علی وجوب قتل المرتد۔9
''علما کا اس پر اتفاق ہے کہ مرتد کا قتل واجب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو مسلمان اپنا دین بدل لے، اسے قتل کردو۔ نیز آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال اور مباح نہیں ہوتا مگر تین صورتوں میں: ایک یہ کہ وہ شادی شدہ زانی ہو، دوسرے یہ کہ وہ کسی جان کا قاتل ہو اور تیسرے یہ کہ وہ دین کو چھوڑ دے، یعنی مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوجائے اور اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ مرتد واجب ِقتل ہے۔''
سورة البقرة کی آیت 217 اور سورة المائدة کی آیت 54 میں بھی مرتد کی وعید موجود ہے۔
یاد رہے کہ دستورِ پاکستان میں آئین توڑنے کی سزا موت قرار دی گئی ہیـ۔(دفعہ ۶) ایسے ہی ملک سے بغاوت کی سزا بھی قتل مقرر کی گئی ہے۔ 10
شادی شدہ زانی کی سزا رجم(i) ہے، فرمانِ نبویؐ ہے:
(البکر بالبکر جلد مائة ونفي سنة والثیب بالثیب جلد مائة والرجم)
'' غیر شادی شدہ کوسو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ کو کوڑے اور رجم کی سزا دی جائے گی۔''11
یاد رہے کہ یہی سزا پاکستان کے فوجداری قانون میں بھی حد زنا آرڈیننس کی دفعہ 5 کے کی شق 2 کے تحت موجود ہے اور تحفظ ِخواتین ایکٹ 2006ء میں اس کو برقرار رکھا گیا ہے۔

قصاص:قرآنِ کریم میں واضح طورپر اللہ کا فرمان ہے :
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلْقِصَاصُ فِى ٱلْقَتْلَى ۖ ٱلْحُرُّ‌ بِٱلْحُرِّ‌ وَٱلْعَبْدُ بِٱلْعَبْدِ وَٱلْأُنثَىٰ بِٱلْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِىَ لَهُۥ مِنْ أَخِيهِ شَىْءٌ فَٱتِّبَاعٌۢ بِٱلْمَعْرُ‌وفِ وَأَدَآءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَـٰنٍ ۗ ذَ‌ٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَرَ‌حْمَةٌ ۗ فَمَنِ ٱعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَ‌ٰلِكَ فَلَهُۥ عَذَابٌ أَلِيمٌ ﴿١٧٨﴾ وَلَكُمْ فِى ٱلْقِصَاصِ حَيَو‌ٰةٌ يَـٰٓأُولِى ٱلْأَلْبَـٰبِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ...﴿١٧٩﴾...سورة البقرة
''ایمان والو!تم پر قتل کے سلسلے میں قصاص فرض کیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد مرد کو قتل کیا جائے اور غلام کے بدلے غلام کو، عورت کے بدلے عورت کوقتل کیا جائے۔ البتہ جس کو اس کے بھائی نے معاف کردیا تو معروف طریقے سے اس کا خون بہا مقرر کرنا اور احسان مندی کے ساتھ ادائیگی کرنا ہے۔ یہ تمہارے ربّ کی طرف تم پر تخفیف اور رحمت ہے، جوشخص اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا تو ا س کے لئے دردناک عذاب ہے۔ اہل عقل ودانش! تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے، تاکہ تم ربّ کا تقویٰ اختیار کرو۔''

مندرجہ بالا تینوںجرائم جن کی سزا قتل ہے، کا تذکرہ اس فرمانِ نبویؐ میں یکجا ہوا ہے:
(لا یحل دم امرئ مسلم یشھد أن لا إله إلا اﷲ وأني رسول اﷲ إلا بـإحدی ثلاث: النفس بالنفس والثیب الزاني والمفارق لدینه التارك للجماعة)12
''کسی مسلمان کا خون جائز نہیں جب کہ وہ یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین حالتوںمیں اس کا خون مباح ہوگا۔ پہلی یہ کہ قصاص کی حالت میں، دوسری یہ کہ شادی شدہ زانی ہونے کی صورت میں اور تیسری یہ کہ دین کو چھوڑنے اور مسلمانوں سے الگ ہونے کی شکل میں۔''
یاد رہے کہ یہ سزا پاکستانی قانون میں بھی موجود ہے۔ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر 302 کی شق ب ملاحظہ ہو:''جو شخص قتل کا مرتکب ہوگا، اسے قصاص کے طورپر موت کی سزا دی جائے گی۔''

حرابہ یعنی ڈاکہ اور زمین میں فساد پھیلانا وغیرہ جو اللہ سے جنگ کے مترادف ہے۔ قرآنِ کریم میں ہے :
إِنَّمَا جَزَ‌ٰٓؤُاٱلَّذِينَ يُحَارِ‌بُونَ ٱللَّهَ وَرَ‌سُولَهُۥ وَيَسْعَوْنَ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوٓاأَوْ يُصَلَّبُوٓا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْ‌جُلُهُم مِّنْ خِلَـٰفٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ ٱلْأَرْ‌ضِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ لَهُمْ خِزْىٌ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِى ٱلْءَاخِرَ‌ةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ...﴿٣٣﴾...سورة المائدة
''جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ ودو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں ان کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں،یا سولی پر چڑھائے جائیں، یاان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں یا وہ جلا وطن کر دیئے جائیں۔یہ ذلت ورسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔''
قرآنِ کریم کی ایک اور آیت میں سزاے موت کے جرم نمبر 3 اور 4 یکجا بیان ہوئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ یہ سزائیں صرف اسلام میں ہی نہیں بلکہ یہود یت وعیسائیت میں بھی موجود تھیں، ملاحظہ فرمائیں:
مِنْ أَجْلِ ذَ‌ٰلِكَ كَتَبْنَا عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَ‌ٰٓ‌ءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَيْرِ‌ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِى ٱلْأَرْ‌ضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحْيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعًا ۚ...﴿٣٢﴾... سورة المائدة
'' اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی او روجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔''
اس آیت میں سزاے موت کا پہلا جرم جان کے بدلے جان اور دوسرا جرم فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہؓ صدیقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان روایت کرتی ہیں:
(لا یحل دم امرئ مسلم یشھد أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدًا رسول اﷲ إلا في إحدٰی ثلاث: رجل زنیٰ بعد إحصان فإنه یرجم ورجل خرج محاربًا باﷲ ورسوله فإنه یقتل أو یصلب أو ینفی من الأرض أو یَقتل نفسا فیُقتل بھا) 13
''کسی مسلمان کا خون بہاناجائز نہیں ہے جو یہ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، مگر تین صورتوں میں اس کا خون مباح ہوجاتا ہے۔ پہلی صورت یہ ہے کہ وہ شادی کے بعد زنا کا ارتکاب کرے، اس جرم پر اسے سنگسار کیا جائے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ؍ بغاوت کرے تواسے قتل کیا جائے گایا اسے سولی دی جائے گی یا اسے جلاوطن کردیا جائے گا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وہ کسی کو قتل کردے تو اس پر اسے بھی (قصاص کے طور پر) قتل کردیا جائے گا۔''

موت کی مندرجہ بالا سزائیں تومتفقہ ہیں ،البتہ شریعت ِاسلامی میں موت کی بعض سزائیں ایسی بھی ہیں جن کے بارے میںعلماے کرام میں اتفاق نہیں، یا وہ جرائم ایسے ہیں جن کی سزا اوّل مرحلہ میں توموت نہیں، البتہ آخرکاراُنہیں سزاے موت دی جائے گی یا دی جاسکتی ہے۔
توہین رسالت کو بھی ارتداد کے تحت ہی لاتے ہوئے اس کی سزا قتل قرار دی گئی ہے، جیسا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد صحابہ کرامؓ کو بھیج کرگستاخانِ رسول کوقتل کرایا۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا فرمان ہے :
أَیُّمَا مُسْلِمٍ سَبَّ اﷲَ وَرَسُولَهُ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَاء فَقَدْ کَذَبَ بِرَسُولِ اﷲِ ﷺ وَهِیَ رِدَّة یُسْتَتَابُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلاَّ قُتِلَ وَأَیُّمَا مُعَاهِدٍ عَانَدَ فَسَبَّ اﷲ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَاءِ أَوْجَهَرَ بِهِ فَقَدْ نَقَضَ الْعَهدَ فَاقْتُلُوہُ14
''جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور ا س سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لئے اسے قتل کردو۔''
حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا فرمان ہے :
لا واﷲ ما کانت لِبَشر بعد محمد ﷺ15
''اپنی توہین کرنیوالے کو قتل کروا دینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لئے روا نہیں ہے۔''
حضرت عمرؓکے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا:
من سبَّ اﷲَ أو سبَّ أحدا من الأنبیاء فاقتلوہ16
''جس نے اللہ کویا انبیاے کرام ؑ میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کردیا جائے۔''
حضرت علیؓ نے حکم دیاکہ ''جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔''17

پاکستانی قانون میں یہ سزا(ii) موجود ہے، دیکھیں قانون توہین رسالت کی دفعہ 295 ج
''آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس نام کی بذریعہ الفاظ، زبان، تحریر یا دکھائی دینے والی اشکال کے ذریعے یا بذریعہ تہمت یا طعن آمیز اشارے یا درپردہ الزام کے ذریعے، براہِ راست یا بالواسطہ توہین کرے گا، تو اسے سزاے موت یا عمر قید کی سزا دی جائے گی، اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہوگا۔''18

جاسوس کی سزا: اس پر حاطبؓ بن ابی بلتعہ کا واقعہ دلیل ہے جب اُنہوں نے اہل مکہ کی نبی کریم کی پیش قدمی کے بارے میں بعض تفصیلات فراہم کیں اور نبی کریم کے علم میں آگیا تو اس موقع پر حضرت عمر ؓ نے کہا:
دعني یا رسول اﷲ أضرب عُنق هذا المنافق 19
''اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں ، میں اس منافق کی گردن مار دوں۔''
لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حاطبؓ کے بدری صحابی ہونے کی بنا پرحضرت عمرؓ کو اجازت نہ دی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ علامہ ابن قیم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''جاسوس کو قتل کرنا حاکم کی رائے پر موقوف ہے، اگر وہ اسے قتل کرنے میں مصلحت سمجھے تو قتل کروا دے وگرنہ اس کو زندہ رہنے دے۔''20

عادی چور کی سزا!شریعت ِاسلامیہ میں عادی چور کی سزا بھی قتل ہے، جیسا کہ حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص کو چار بار چوری کی سزا میں پکڑا گیا، او رنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی بنا پر ہربار اس کا ایک ہاتھ یا پائوں کاٹا جاتا رہا۔ جب اسے پانچویں بار لایا گیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَأُتِيَ بِهِ الْخَامِسَة فَقَالَ: (اقْتُلُوہُ) قَالَ جَابِرٌُ فَانْطَََلَقْنَا بِهِ فَقَتَلْنَاہُ ثُمَّ اجْتَرَرْنَاہُ فَأَلْقَینَاہُ فِي بِئْرٍ وَرَمَینَا عَلَیه الْحِجَارَة 21
'' جب اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کردو۔ جابر ؓکہتے ہیں کہ ہم اسے لے کرلے چلے، اور ہم نے اس کوقتل کر دیا۔ پھر اسے کھینچ کر ایک کنویں میں ڈال دیا اور اوپر سے پتھر وغیرہ پھینک دیے۔''

جادوگر کی سزا بھی قتل ہے جیسا کہ حضرت جندبؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ذکر کرتے ہیں کہ
(حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَة بِالسَّیفِ) 22
''حضرت جندبؓ بیان کرتے میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جادوگر کی سزا یہ ہے کہ اسے تلوار سے قتل کردیا جائے۔''
ایک خلیفہ کے بعد دوسرے خلیفہ کی بیعت کی جانے لگے تو دوسرے خلیفہ کو قتل کردیا جائے جیسا کہ فرمانِ نبویؐ ہے :
(إِذَا بُویِعَ لِخَلِیفَتَینِ فَاقْتُلُوا الآخِرَ مِنْهُمَا)23
''جب دو خلیفوں کی بیعت کی جانے لگے تو دوسرے کو قتل کردو۔''
زندیق اور تارکِ نماز وغیرہ کی سزا !ایسے ہی زندیق اور تارکِ نماز وغیرہ کی سزا کے بارے میں بعض علما کا موقف ہے کہ اُنہیں اپنے فعل پر اصرار کی وجہ سے آخر کار قتل کیا جاسکتا ہے۔ نیز مسلمانوں کے خلاف تلوار اُٹھانے والے کا خون بھی فرمان نبوی کی ر و سے رائیگاں ہے۔ 24

نبی کریمﷺکا خود قتل کی سزا دلوانا
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وصف قرآنِ کریم میں بیان ہوا کہ آپ رحمت للعالمین ہیں۔25

لیکن اس عظیم وصف' مجسمۂ رحمت' ہونے کے باوجود مجرموں سے آپ رحمت کا سلوک کرنے کی بجائے ان کو قرارِ واقعی سزا دیا کرتے کیونکہ اوّل توان سزائوں کو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان میں ترمیم وتنسیخ کا کوئی اختیار نہیں تھا، علاوہ ازیں ان سزائوں کا اجرا آخرت میں ان مجرموں کے لئے مغفرت کا سبب قرار پاتا ہے، جیسا کہ آغاز میں فرمانِ نبویؐ گزر چکا ہے۔ یوں بھی سدذریعہ کے طورپر یہ سزائیں دے کر ہی معاشرے سے جرائم کا قلع قمع کیا جانا اور دوسرے مسلمانوں کو محفوظ رکھنا ممکن ہوسکتا ہے۔ آپ کی زندگی میں ایسے واقعات بے شمار ہیں جب آپ نے خود قتل کا حکم صادر فرمایا، بطورِ مثال
رجم کی سزائیں آپ نے خود صادر فرمائیں۔ آپ کے حکم سے رجم کی سزا پانے کے واقعات کم وبیش ۸ ہیں جن کی تمام احادیث کا مکمل متن اورترجمہ محدث کے شمارئہ دسمبر 2006ء میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
توہین رسالت کے 16 واقعات میں گستاخوں کو قتل کیا گیا، جن میں سے 5 واقعات میں 9 مردوں اور 2 عورتوں کے قتل کا آپ نے خود حکم صادر فرمایا اور باقی ۱۱؍ واقعات میں صحابہؓ نے ازخود اُنہیں قتل کیا توآپ نے واقعہ کی تفتیش کے بعد گستاخی ثابت ہونے پر ایسے گستاخوں کے قتل کو رائیگاں قرار دیا۔ بلکہ 4 ملعون گستاخ تو ایسے ہیں، جن کے قتل کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باقاعدہ صحابہ کی مہمات روانہ کیں۔ ایسے تمام واقعات کی تفصیل کے لئے راقم کا مضمون دیکھئے: ''احادیث میں توہین رسالت کے واقعات اور ان کی سزائیں'' 26
چار نامراد لوگوں کے بارے میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ
(اقتلوهم وإن وجدتموهم متعلقین بأستار الکعبة : عکرمة بن أبي جهل وعبد اﷲ بن خطل ومقیس بن صبابة وعبد اﷲ بن سعد بن أبي السرح)
''اگر یہ لوگ کعبہ کے پردوں سے چمٹے ہوئے بھی مل جائیں تو ان کو قتل کردیا جائے: عکرمہ بن ابوجہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ ا ور عبد اللہ بن ابو سرح۔''27
ان میں آخر الذکر شخص کا جرم ارتداد تھا۔28

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 'نبی رحمت' ہونے کے باوجود ارتداد، حرابہ اور فساد فی الارض کی اس قدر سنگین سزا دی کہ انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کا جرم بڑا سنگین تھا، اس سزا کا تذکرہ ملاحظہ فرمائیے تاکہ اسلام کے تصورِ سزا کے بارے میں ہمارے ذہن میں جنم لینے والے شبہات واعتراضات رفع ہوسکیں اور ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل پر ایمان لاتے ہوئے ان سزائوں کو نعوذ باللہ وحشیانہ یا سنگین ہونے کا خیال جڑ سے اُکھاڑ دیں۔
یہ واقعہ مختصراً یہ ہے کہ دورِ نبویؐ میں کچھ لوگ اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے، اور بیت المال کے نگران کو قتل کرنے کے بعد بیت المال کے اونٹ ہنکا کر لے گئے تو
فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اﷲِ ﷺ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمْ فَأُدْرِکُوا فَجِيئَ بِهِم فَأَمَرَ بِهِم وَقُطِّعَتْ أَیْدِیهمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَسَمَرَ أَعْیُنَهُمْ ثُمَّ نَبَذَهم فِي الشَّمْسِ حَتَّی مَاتُوا قَالَ أَبُوقِلاَبَة وَأَيُّ شَيء أَشَدُّ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلاَءِ إِرْتَدُّوا عَنْ الإِسْلاَمِ وَقَتَلُوا وَسَرَقُوا29
''یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا اور وہ پکڑلیے گئے چنانچہ اُنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور ان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا۔ ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیری گئیں، پھر اسی طرح اُنہیں دھوپ میں پھینک دیا اورآخر وہ مرگئے۔ ابوقلابہؓ کہتے ہیں کہ جو کام اُنہوں نے کیا تھا، کیا ا س سے بڑھ کر کوئی جرم ہوسکتا ہے؟ وہ اسلام سے مرتد ہوئے، قتل وغارت کی اور چوری کا ارتکاب کیا۔''

سزاے قتل اور شریعت کی سہولت
اسلام میں سزاے قتل اور دیگر سزائوں کے وحشیانہ ہونے پر اہل مغرب کی طرف سے کئی اعتراض کئے جاتے ہیں لیکن درحقیقت وہ اسلام کے مکمل نظام سے واقف نہیں ہیں، صرف بدنام کرنے کے لئے ایسے اعتراضات پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً
قصاص میں مقتول کے ورثا اس قدر زیادہ رقم کا مطالبہ کرتے ہیں جس کی ادائیگی نا ممکن ہو، اس لحاظ سے یہ قاتل پر زیادتی کے مترادف ہوجاتا ہے۔ جبکہ یہ اعتراض لاعلمی کا نتیجہ ہے ، اوّل تویہ اعتراض مقتول پر ہونے والے ظلم کو نظر انداز کرنے یا کمتر جاننے کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے نیز قرآن نے اتباع بالمعروف کی شرط لگا کر معروف خون بہا کی شرط بھی عائد کردی ہے۔
پھر اسلام نے قصاص کو معاف کرنے کا اِمکان بھی پیدا کیاہے، اور اس سلسلے میں قصاص معاف کرنے کی شریعت میں بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے، فرمانِ نبویؐ ہے:
(مَنْ تَصَدَّقَ بِدَمٍ فَمَا دُونَهُ کَانَ کَفَّارَة لَهُ مِنْ یَومِ وُلِدَ إِِلَی یَومِ تَصَدَّقَ بِهِ)30
''جس نے خون یا اس سے کم کا صدقہ کیا (مراد اپنا خون وغیرہ معاف کردیا) یہ صدقہ اس کے لئے اس کے پیدائش کے دن سے لے کر صدقے کے دن تک کا کفارہ ہے۔''
اسلام نے قصاص کے خاتمے کیلئے ورثا میں سے ہر ایک کو معافی کا استحقاق دیا ہے، حتیٰ کہ یہ حق خواتین بھی استعمال کرسکتی ہیں، حضرت عائشہؓ نے یہ فرمانِ نبو یؐ روایت کیا ہے:
(عَلَی الْمُقْتَتِلِینَ أَنْ یَنْحَجِزُوا الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ وَإِنْ کَانَتِ امْرَأَة)
''مقتول کے ورثا کو چاہئے کہ وہ قصاص معاف کردیں اور یہ حق قریب سے قریب تر وارث کو حاصل ہے، اگرچہ وہ عورت ہی ہو۔''31
اسلام حاکم کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ مقتولین کے ورثا کو قصاص کی بجائے دیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہم نامی شخص سے قصاص لینے پر لیث قبیلہ کو بڑی محنت سے راضی کیا کہ وہ قصاص کی بجائے دیت لینے پر آمادہ ہوجائیں ، آخرکار ان کے آمادہ ہوجانے پر ان کو غیرمعمولی دیت دے کر قصاص کا خاتمہ کروالیا۔ 32


حوالہ جات
1. السنن الکبریٰ از امام بیہقی: رحمة اللہ علیہ 8؍54
2. صحیح بخاری: 7213
3. صحیح مسلم:1695
4. صحیح مسلم:1695
5. ضعیف سنن ابن ماجہ : رقم562
6. سنن نسائی: رقم 4877
7. مسند احمد: 1؍107،143، صحیح بخاری: 6812 ، إرواء الغلیل: 2340 'صحیح '
8. صحیح بخاری: 2524
9. جلد6؍ صفحہ 186
10. دفعہ 123؍اے
11. صحیح مسلم:1690
12. صحیح بخاری :6878
13. سنن ابوداود:4353، قال الالبانی:'صحیح'
14. زاد المعاد 5؍60
15. سنن ابوداؤد: 4363'صحیح' مختصراً
16. الصارم المسلول: ص419
17. مصنف عبد الرزاق: ج5؍ص 308
18. مجموعہ تعزیرات پاکستان: دفعہ 295 ج
19. صحیح بخاری: 3007
20. زاد المعاد: 3؍422
21. صحیح سنن ابو داود : رقم3710
22. سنن کبریٰ بیہقی 8؍136؛ ضعیف سنن ترمذی :244
23. صحیح مسلم : رقم 2،1853
24. صحیح سنن ابو داود :3772
25. الانبیاء: 107
26. محدث :مارچ 2008ء
27. صحیح بخاری: 1846
28. فتح الباری:12؍95
29. صحیح بخاری: 6899
30. مجمع الزوائد 6؍302 رجال إسنادہ رجال الصحیح
31. صحیح سنن ابو داود:4538
32. صحیح سنن ابو داود:3801

 


 

i. ان دونوں سزاؤں کی تفصیل اور متعلقہ آیات واحادیث کے لئے محدث کے دو مستقل مضامین ملاحظہ فرمائیں: قتل مرتد (فروری 2007ء) اور حدّ رجم (دسمبر2008ء)
ii. اس سزا کی مزید تفصیل اور احادیث کے لئے دیکھیں محدث کا شمارئہ مارچ 2008ء