حدیث أنتَ ومالک لأبیک کا تحقیقی جائزہ
اسلام ایک مضبوط ومستحکم خاندانی نظام کا حامل دین ہے جس میں حقوق و فرائض کی لمبی چوڑی تفصیلات ملتی ہیں اور انہی پر عمل بجا لاکر آج مسلمانوں میں رشتوں کا احترام اور اس کے نتیجے میں چین و سکون پایا جاتا ہے۔ موجودہ دورِ زوال میں آج بھی مسلم معاشرے اپنے اسی خاندانی نظام کی بدولت غیرمسلموں میں رشک کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ، اور اس امر کا کھلا اعلان ہیں کہ اسلام ہی ہماری فلاح کا ضامن ہے اور جس جس میدان میں اسلام پر عمل ہوگا، اس حد تک دین کی برکات ہمیں حاصل ہوتی رہیں گی۔ یاد رہے کہ خاندانی نظام سے لازماً 'مشترکہ خاندانی نظام' مراد نہیں بلکہ اس سے نسب ونسل، رضاعت و تربیت، کفالت، اولاد میں مساوات، وراثت و وصیت، نکاح و طلاق، نفقہ وسکنی، میاں بیوی، اولاد ووالدین اور رشتہ داروں کے مابین حقوق وفرائض کے شرعی احکامات مقصود ہیں جس کا نتیجہ قریبی عزیز واَقارب میں صلہ رحمی، قربانی، ذمہ داری اور قربت ومودّت کی صورت میں نکلتا ہے۔
دلچسپ امریہ ہے کہ مسلمانوں کے مغربی تعلیم یافتہ طبقے، سیکولرزم سے والہانہ وارفتگی کے باوجود اجتماعیت کی سب سے پہلی اور مضبوط اکائی 'خاندان' کو تاحال مذہب کی بنیاد پرہی استوار رکھنے پر مجبور ہیں ۔دوسرے لفظوں میں یہ اجتماعی زندگی کا وہ واحد میدان ہے جہاں مذہب کو ذاتی مسئلہ سمجھنے والے اپنے بنیادی رشتوں ناطوں کو دین کی بنیاد پر ہی استوار کرنے کے سوا کوئی جائے عافیت نہیں پاتے۔لیکن اہل مغرب نے اس بنا پر اجتماعی میدانوں میں مذہب کی اس غیرمعمولی اہمیت کو تسلیم کرنے کے بجائے اس کو اَحوال شخصیة Personal Life کا غیر حقیقی نام دے کرمنافقت ،ثنویت اور دوہرے معیارکا مظاہرہ کیا ہے۔
بہرطور اس فکری و نظری پس منظر سے قطع نظر، مسلم معاشروں میں باہمی رشتہ داریوں میں بعض مسائل انتہائی نازک وحساس حیثیت کے حامل ہیں جن میں ایک زیر نظر مسئلہ بھی ہے۔ دورِ حاضر میں اسلام کی مستند تشریح اور درپیش مسائل میں اصل مصادرِ اسلام سے رہنمائی حاصل کرنا 'محدث' کا مشن ہے۔ اسی بنا پردو برس قبل کعبہ معظمہ کے عین سامنے ایک جنرل سٹور پر راقم کو عربی زبان میں یہ نئی تحقیق نظر آئی تو اُسی وقت یہ عزم کرلیا کہ اس کو اُردو میں بھی پیش کیا جائے گا۔ آج یہ خواہش عملی طورپرالحمد للہ آپ کے سامنے موجود ہے۔ موضوع کے انتہائی نازک اور کثیر الجہت ہونے کے باوجود فاضل محقق نے بڑے سلجھے اور واضح علمی اُسلوب میں پیش نظر مسئلہ کی تحقیق سے پورا اِنصاف کیا ہے۔ مجلس التحقیق الاسلامی کے ریسرچ سکالرقاری مصطفی راسخ کے اُردو ترجمہ میں بھی بڑی سلاست اور روانی موجود ہے۔ اس مضمون کی دوسری اور آخری قسط میں ان آراء پر تجزیہ و تبصرہ کے بعد محدث کے قارئین ایک واضح موقف تک ضرور پہنچ جائیں گے۔ ان شاء اللہ
حمد وثنا کے بعد ... ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَقَضَىٰ رَ‌بُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوٓا إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلْوَ‌ٰلِدَيْنِ إِحْسَـٰنًا ۚ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ ٱلْكِبَرَ‌ أَحَدُهُمَآ أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْ‌هُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلًا كَرِ‌يمًا ﴿٢٣﴾ وَٱخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّ‌حْمَةِ وَقُل رَّ‌بِّ ٱرْ‌حَمْهُمَا كَمَا رَ‌بَّيَانِى صَغِيرً‌ا ﴿٢٤﴾ رَّ‌بُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا فِى نُفُوسِكُمْ ۚ إِن تَكُونُوا صَـٰلِحِينَ فَإِنَّهُۥ كَانَ لِلْأَوَّ‌ٰبِينَ غَفُورً‌ا ...﴿٢٥﴾...سورة ااسراء
''تیرے ربّ نے فیصلہ کردیا کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہاری موجودگی میں ان میں سے کوئی ایک، یا دونوں ، کبرسنی کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ اُنہیں جھڑک کر جواب دو بلکہ ان کے ساتھ احترام سے بات کرو اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو۔ اور دعا کیا کرو کہ ''پروردگار! ان پر رحم فرما جس طرح اُنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔ تمہارا ربّ خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیاہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لئے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبہ ہوکر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں ۔''

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ'' ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: رسولِ کریمؐ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں ، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں ، اس نے پوچھا: پھر کون ؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں ، اس نے پوچھا: پھر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تیرا باپ۔ ''1
سیدنا ابو دردائؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''والد جنت کے دروازوں میں سے درمیان والا دروازہ ہے، اگر تو چاہے تو اس دروازے کو ضائع کردے اور اگر چاہے تواسے محفوظ کرلے۔'' 2
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: '' ربّ کی رضا والد کی رضا میں ہے، اور ربّ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ۔'' 3
اسی معنی کی متعدد آیاتِ کریمہ اور احادیث ِمبارکہ موجود ہیں ، جن میں والدین کے ساتھ نیکی اور حسن سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
برّ الوالدین''والدین کے ساتھ نیکی کرنا'' ایک جامع کلمہ ہے جو ہر قسم کی خیر اور پسندیدہ فعل کو اپنے اندر سموے ہوئے ہے۔ یعنی والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، ان کی زیارت کرنا، ان کا احترام کرنا، ان کے ساتھ ادب سے پیش آنا، ان کے لئے اپنا مال خرچ کرنا، ان کے حقوق کا خیال رکھنا، ان کے پسندیدہ امور کو بجا لانا اور ان کی ناپسندیدگی سے بچنا، نافرمانی نہ کرنا اور ان کو اپنے کسی قول وفعل سے اذیت نہ دینا۔ وغیرہ4
'بر الوالدین' کا راستہ جنت کو لے جانے والا بہترین راستہ ہے اور دنیا و آخرت کی سعادت کا دروازہ ہے۔ والدین کے حقوق میں سے سب سے بڑا حق بڑھاپے میں ان پر خرچ کرنا ہے، بیٹا خواہ مال دار ہو یا تنگ دست، اگرچہ والدین کا مذہب مختلف ہی کیوں نہ ہو۔(i)

یہ بھی یاد رہے کہ والدین کا نفقہ بیٹے پر واجب ہے، خواہ والدین دائمی مریض ہوں جو کمائی کرنے سے عاجز ہوں یا صحت مند ہوں اور کمائی کرسکتے ہوں ۔برخلاف شوافع کے جن کے نزدیک طاقت مند اور کمانے کی قدرت رکھنے والے باپ پر خرچ کرنا بیٹے کے لئے ضروری نہیں ۔
جب یہ ثابت ہوگیا ہے کہ والدین کا نفقہ بیٹے پر واجب ہے تو اس مسئلہ میں اصل حکم یہ ہے کہ یہ نفقہ معروف طریقے سے واجب ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ البتہ نیکی اور احسان یہی ہے کہ والدین پر اچھے طریقے سے خرچ کیاجائے اور آدمی جو چیز اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے پسند کرتا ہے، وہی چیز بلکہ اس سے بہتر اپنے والدین کے لئے پسند کرے۔ یہ رویہ مناسب ومعروف طریقہ نہیں کہلا سکتا کہ آدمی خود توعیش و عشرت کی زندگی گزار رہا ہو جبکہ اس کے والدین تنگ دستی اور فقر و فاقے کی زندگی بسر کررہے ہوں ۔
والدین پر خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ بیٹے پر یہ بھی واجب ہے کہ وہ والدین پر خرچ کرنے کے عمل کو احسان نہ سمجھے بلکہ یہ اس پر قرض ہے جو اس کے والدین نے اس پر خرچ کیا تھا اور ان بے شمار احسانات کا بدلہ ہے جو والدین نے بچپن میں اس پر کئے تھے، جیسا کہ قرآن کریم کی مذکورہ آیات میں واضح طور پر بیان ہوا ہے اوربیٹے کو ہردم یاد رکھنا چاہئے کہ اپنے والدین کی من جملہ نیکیوں میں سے ایک نیکی وہ خود ہے اور والدین ہی اس کے حصول اور دنیا میں آنے کا ظاہری سبب ہیں ۔
مذکورہ بالا دلائل کی روشنی میں متعدد لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوا کہ کیا باپ جب چاہے، زبردستی اپنے بیٹے کا مال لے سکتا ہے؟ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے: أنت و مالك لأبیك '' تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لئے ہے۔ ''اور کیا مطلقاً باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی اولاد کے مال پر قبضہ کرلے، خواہ باپ غنی ہو یا فقیر، محتاج ہو یا غیر محتاج، اور بیٹا چھوٹا ہو یا بڑا، وہ یہ مال لینے سے راضی ہو یا ناراض اور والد کااپنے بیٹے کا مال حاصل کرنا بیٹے کے علم میں ہو یا نہیں ؟

علاوہ ازیں جب باپ محتاج ہو تو کیا وہ اپنی ضرورت کے مطابق ہی لے سکتا ہے یا جتنا اس کی مرضی چاہے، وہ لے لے؟ اور کیا ماں اور دادا کو بھی باپ کی مانند یہ حق حاصل ہے یا یہ اختیار صرف باپ کو ہی حاصل ہے؟
میرے پاس اس قسم کے متعدد سوالات آئے جنہوں نے مجھے اس مختلف فیہ مسئلہ پر ایک تحقیقی بحث لکھنے پر مجبور کردیا، لہٰذا میں نے اس مسئلہ میں اہل علم و فقہا کے اَقوال وآرا کو دلائل، اعتراضات و جوابات اور تبصرہ و تجزیہ کے ساتھ قلم بند کردیا ہے۔یہ بحث تین حصوں اور ثمرہ ونتیجہ میں ترتیب شدہ ہے۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے صحیح اور درست طریقے پر دین حنیف کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، مجھے اِخلاص کی نعمت سے نوازے اور مجھ سمیت ہم سب کو 'ہمارے والدین'، ہمارے اساتذہ، ہمارے اہل و عیال اور ہمارے مسلمان بھائیوں کو اجر ِعظیم سے نوازے۔ وصلی اﷲ علیٰ سیدنا محمد وعلی آله و صحبهِ وسلم أجمعین

حصہ اوّل: فقہاء کرام کے اقوال اور ان کے دلائل
اس مسئلہ میں فقہاے کرام اور اہل علم کے تین اقوال ہیں :
پہلا قول
باپ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ضروری نفقہ کے سوا اپنے بیٹے کے مال میں سے کچھ حصہ لے ، اور وہ اس وقت جب وہ اس کا ضرورت مند ہو۔ بیٹے کا مال اُسی کی اپنی ملکیت ہے اور باپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ اس کے مال میں سے کچھ لے، تاہم بیٹا اپنی رضامندی سے دے دیتا ہے تومضائقہ نہیں ہے۔
قائلین : یہ قول جمہور اہل علم اور حنفیہ، مالکیہ اور شافعیہ میں سے اکثر فقہاے کرام کا ہے۔ امام احمد رحمة اللہ علیہ سے بھی اس قول کی ایک روایت منقول ہے جبکہ حنابلہ میں سے ابوالوفاء ابن عقیلؓ کا بھی یہی قول ہے۔
صحابہ وتابعین میں سے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا یہی قول ہے اور کبار فقہاے تابعین، شریح القاضی، جابر بن زید، محمد بن سیرین، حماد بن ابی سلیمان اور زہری رحمہم اللہ کا بھی یہ قول ہے جبکہ ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ اور مجاہد رحمة اللہ علیہ سے ایک ایک روایت مروی ہے۔
اس قول کے قرآن، سنت، اجماع، اور عقل وفہم سے دلائل بالترتیب حسب ِذیل ہیں :

قرآن مجید سے دلائل :
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ‌ۢ فَلِلْوَ‌ٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَ‌بِينَ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ‌ۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ... ﴿٢١٥...سورة البقرة
''لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں ؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا۔''
امام قرطبی رحمة اللہ علیہ اس آیت ِکریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
''غنی شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے محتاج والدین کے کھانے اور پہننے اوڑھنے وغیرہ پر اتنا خرچ کرے جتنا اپنے اوپر خرچ کرتا ہے۔'' 5
مذکورہ آیت ِکریمہ مال پر بیٹے کی ملکیت کو ثابت کرتی ہے اور والدین کو اللہ تعالیٰ نے مصارف ِانفاق میں ذکر کیا ہے۔ لہٰذا باپ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بیٹے کے مال کو اپنی ملکیت بنا لے۔ اگر بیٹے کا مال باپ کا ہی ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس آیت میں والدین کو مصارفِ انفاق میں ذکر نہ کرتے اور اگر بیٹا اپنے کماے ہوئے مال کا مالک نہ ہوتا تو اس پراپنے والدین کا نفقہ ثابت نہ ہوتا جبکہ پیچھے فقہاے کرام کا اتفاق گذر چکا ہے کہ ضرورت مند والدین کا نفقہ بیٹے کے ذمہ واجب ہے۔ 6
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَٱلَّذِينَ هُمْ لِفُرُ‌وجِهِمْ حَـٰفِظُونَ ﴿٢٩ إِلَّا عَلَىٰٓ أَزْوَ‌ٰجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَـٰنُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ‌ مَلُومِينَ ﴿٣٠ فَمَنِ ٱبْتَغَىٰ وَرَ‌آءَ ذَ‌ٰلِكَ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْعَادُونَ ... ﴿٣١...سورة المعراج
''جواپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملوکہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں ۔ البتہ جو اس کے علاوہ کچھ چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔''

امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ آیت ِکریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ لونڈی کامالک اپنی لونڈی کے ساتھ مباشرت کرسکتا ہے جبکہ غیر مالک پر لونڈی کے ساتھ مباشرت کرنا حرام ہے اور اس آیت ِکریمہ کے حکم میں دونوں طرح کے بیٹے آجاتے ہیں :ایک وہ بیٹا ہے جس کا والد زندہ ہو اور دوسرا وہ بیٹا جس کا والد زندہ نہ ہو۔ اس سے ثابت ہوا کہ بیٹے کا مال بیٹے کا اپنا ذاتی ہے، والدین کا نہیں ہے۔ اگر بیٹے کا مال باپ کی ملکیت ہوتا تو جس بیٹے کا والد زندہ ہے اس کے لئے اپنی لونڈی کے ساتھ مباشرت کرنا حرام ہوتا،کیونکہ حقیقتاً وہ لونڈی اس کے باپ کی ملکیت ہوتی جبکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی لونڈی کے ساتھ مباشرت کی اجازت بیٹے کی ملکیت کو ثابت کرتی ہے۔ 7
اللہ تعالیٰ آیت ِوراثت میں فرماتے ہیں :
وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَ‌ٰحِدٍ مِّنْهُمَا ٱلسُّدُسُ مِمَّا تَرَ‌كَ إِن كَانَ لَهُۥ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُۥ وَلَدٌ وَوَرِ‌ثَهُۥٓ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ ٱلثُّلُثُ ۚ...﴿١١﴾...سورة النساء
''اگر میت صاحب ِاولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہئے اور اگر وہ صاحب ِاولاد نہ ہو اور والدین ہی اسکے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا۔''
امام شافعی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
''جب اللہ تعالیٰ نے باپ کو بیٹے کی میراث میں سے دیگر ورثا کی مانند ایک مقرر حصہ دیا ہے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بیٹا بلا شرکت غیرے اپنے مال کا خود مالک ہے۔'' 8
امام طحاوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
''اللہ تعالیٰ نے بیٹے کی موت پر ماں کو مقرر حصہ دیا ہے، اور یہ امر محال ہے کہ بیٹے کی موت پر ماں کو بیٹے کی بجائے باپ کے مال میں سے مقرر حصہ دیا جائے۔''9
اس آیت ِکریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ بیٹے کی موت پر باپ کو چھٹا حصہ دیا جائے گا، اور اگر باپ ہی اپنے بیٹے کے کل مال کا مالک ہوتا تو اس کو چھٹا حصہ ملنے کی بجائے سارا مال ملنا چاہئے تھا۔ 10
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں

کہ اللہ تعالیٰ نے میت کے مال میں والدین، خاوند، بیوی، بیٹے اور بیٹیوں سمیت تمام ورثا کے حصے مقرر کردیئے ہیں ۔ اگر بیٹے کا مال والد کی ملکیت ہوتا تو مذکورہ تمام ورثا محروم ہوجاتے، کیونکہ وہ ایک زندہ انسان (والد) کا مال ہوتا۔ 11
اللہ تعالیٰ آیت ِوراثت میں فرماتے ہیں :
مِنۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِى بِهَآ أَوْ دَيْنٍ ۗ ...﴿١١﴾...سورة النساء
''(یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے) جبکہ میت کی وصیت کو پورا کردیا جائے اور اس کے ذمے قرض کو ادا کردیاجائے۔''
اس آیت ِکریمہ میں اللہ تعالیٰ اس امر کی وضاحت کررہے ہیں کہ میت کے ترکہ کی تقسیم، اس کی وصیت کو پورا کرنے اور اس پر قرض کو ادا کرنے کے بعد کی جائی گی۔ یہ محال امر ہے کہ باپ کے مال سے بیٹے (میت) کی وصیت کو پورا کیا جائے اور اس بنا پر اس کے قرض کو ادا کیاجائے۔ 12
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وَلَا تَأْكُلُوٓا أَمْوَ‌ٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ...﴿١٨٨﴾...سورة البقرة
''اور آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ۔''
دوسری جگہ فرمایا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا لَا تَأْكُلُوٓاأَمْوَ‌ٰلَكُم بَيْنَكُم بِٱلْبَـٰطِلِ...﴿٢٩﴾...سورة النساء 

''اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ۔''
مذکورہ دونوں آیتیں اور اس معنی کی دیگر آیات ِکریمہ جو کسی دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں ، ان کا مدلول ومفہوم عام ہے جس میں عام انسانوں کے ساتھ باپ بھی شامل ہے ، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ پر اپنے بیٹے کامال کھانا اور اسے اپنی ملکیت بنالینا حرام ہے اِلا یہ کہ بیٹا از خود رضا مندی سے دے دے۔ 13
تنبیہ : یاد رہے کہ یہ عموم، اجماعِ امت کے ساتھ خاص ہوچکا ہے کہ والد فقط اپنی ضرورت کے مطابق اپنے بیٹے کے مال میں سے لے سکتا ہے، خواہ بیٹا راضی نہ بھی ہو۔ اس لئے اس عموم سے استدلال کرتے ہوئے باپ کے لئے بہ قدر ضرورت بیٹے کے مال سے لینا حرام نہیں ۔

سنت ِنبویؐ سے دلائل
سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن دماء کم وأموالکم وأعراضکم علیکم حرام کحرمة یومکم ھذا، في بلدکم ھذا، في شھرکم ھذا 14
''بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزت و آبرو، تمہارے اس دن اور اس شہر اور اس مہینے کی حرمت کی طرح، تمہارے درمیان حرام ہیں ۔''
امام طحاوی رحمة اللہ علیہ اس حدیث کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مؤمنو ں کے اَموال کو ایسے ہی حرام قراردیا ہے جس طرح ان کے خونو ں کو حرام کیا گیاہے، اور اس حرمت میں سے والد سمیت کسی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔ 15
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرمت ِاَموال کو حرمت ِاَبدان کی مانند قرار دیا ہے۔ جس طرح باپ کے لئے، سوائے حقوقِ واجبہ کے، اپنے بیٹوں کے اَبدان حرام ہیں ، اسی طرح اَموال بھی حرام ہیں سوائے حقوقِ واجبہ کے، اور حقوقِ واجبہ سے مراد اس کی نفقہ کی ضروریات ہیں ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا یحل مال امرئ مسلم إلا بطیب نفس منه16
''کسی مسلمان آدمی کا مال اس کی رضا مندی کے بغیر استعمال کرنا حلال نہیں ہے۔''
اس حدیث کا عموم بھی اس امر پر دلالت کررہا ہے کہ باپ پراپنے بیٹے کے مال کو استعمال کرنا حرام ہے، کیونکہ اس حدیث میں والد سمیت کسی کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا۔
امام بیہقی اپنے استدلال کے لیے ایک مرسل روایت بھی لائے ہی ں جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کل أحد أحق بماله من والدہ وولدہ والناس أجمعین17
''ہر شخص اپنے مال کا ، اپنے والد، اپنے بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ حقدار ہے۔''
یہ حدیث اپنے مدلول پر واضح اور نص صریح ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو کہا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں یوم الاضحی کو اس اُمت کے لئے عید کا دن بنا دوں ۔ اس آدمی نے کہا: آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر میں اپنے بیٹے کے مَنِـیحة (ایسا بالغ جانور ہے جو دودھ دوہنے کے لئے کسی کو مخصوص مدت کے بعد واپس کرنے کی شرط پر دیا گیا ہو) کے علاوہ کوئی جانور نہ حاصل کرسکوں تو کیا اس کو قربان کردوں ، آپؐ نے فرمایا: نہیں (وہ جانور مت قربان کر) لیکن تو اپنے بالوں ، ناخنوں اور مونچھوں کوکاٹ لے اور اپنے زیرناف بالوں کو مونڈ لے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہی تیری مکمل قربانی ہے۔''18
امام طحاوی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اپنے بیٹے کا مَنیحة ذبح کرنے سے منع کردیا اور اس کو اپنے ذاتی مال سے قربانی کرنے کا حکم دیا اور اس کی ترغیب دی تو اس سے ثابت ہوا کہ بیٹے کے مال کا حکم باپ کے مال کے حکم سے مختلف ہے۔ 19

اجماعِ اُمت
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نصوص اور اجماع سے یہ صحیح ثابت ہوچکا ہے کہ اگر کسی آدمی کے پاس غلام اور باندی ہو اور ان دونوں کا والد بھی زندہ ہو تو وہ غلام اور لونڈی اپنے مالک کی ملکیت ہیں ، اپنے باپ کی نہیں ۔ 20

متفق علیہ اُصول
تمام اہل علم کے نزدیک متفق علیہ اُصول ہے کہ ہر انسان کے مال کی حفاظت کی جائے اور کسی دوسرے شخص کو اس کے مال میں شریک نہ کیا جائے اور اس کے مال پر کسی غیر کی ملکیت دلیل قطعی کے بغیر ثابت نہ ہوگی اور ایسی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم بیٹے کے مال کو باپ کی ملکیت قرا ر دے دیں ۔

عقلی دلائل
اس قول کی تائید میں عقلی دلائل سے بھی استدلال کیا گیا ہے جن میں سے ایک قول امام سرخسی رحمة اللہ علیہ کا ہے، فرماتے ہیں : بیٹے کے مال میں باپ کی ملکیت نہیں ہے، کیونکہ کمائی، کمانے والے کے کام کرنے کے نتیجے میں اس کی ملکیت بنتی ہے۔ جس طرح باپ اپنے بیٹے کا مالک نہیں ہے، اسی طرح بیٹے کی کمائی کا بھی مالک نہیں ہے۔ کیونکہ بیٹا ہی اپنی کمائی کا حقیقی مالک ہے۔ حتیٰ کہ اپنے مال میں تصرف کا اختیار صرف بیٹے کو حاصل ہے کہ وہ اپنی لونڈی سے مباشرت کرے یا اپنا غلام آزاد کردے۔ بچپن میں والد نگران ہونے کی حیثیت سے بیٹے کے مال میں تصرف کرتا رہتا ہے مگر بیٹے کی بلوغت کے بعد یہ سبب زائل ہوجاتا ہے، اب وہ خود اپنے مال میں تصرف کا زیادہ حقدار ہے۔
اگر بیٹے کا مال باپ کی ملکیت ہے، تو باپ جب اپنے بیٹے کو ہبہ وغیرہ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ وہ خود اپنی ذات کو ہی ہبہ کررہا ہے۔ حالانکہ یہ فضول بات ہے جس کا اہل علم میں سے کوئی بھی قائل نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بیٹے کا مال اسی کی ملکیت ہے، باپ کی ملکیت نہیں ۔

دوسرا قول
باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے مال میں سے جب چاہے جتنا چاہے لے لے اور اپنی ملکیت بنا لے، خواہ باپ کو اس کی ضرورت ہو یا نہ ہو، بیٹا چھوٹا ہو یا بڑا، بیٹی ہو یا بیٹا، وہ مال دینے پرخوش ہو یا ناخوش، بیٹے کو باپ کے مال لینے کا علم ہو یا نہ ہو۔
قائلین: یہ قول صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت سے مروی ہے جن میں عمر بن خطابؓ، علی بن ابی طالبؓ، عبداللہ بن مسعودؓ، جابر بن عبداللہؓ، انس بن مالکؓ، ابن عباسؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ شامل ہیں ۔
فقہاے تابعین مشروق بن اَجدع رحمة اللہ علیہ ، سعید بن مسیب، ایک قول میں ابراہیم نخعی رحمة اللہ علیہ ، عامر شعبی رحمة اللہ علیہ ، ایک قول میں مجاہد رحمة اللہ علیہ ، حسن بصری رحمة اللہ علیہ ، حکم بن عتیبہ رحمة اللہ علیہ اور قتادہ بن دعامہ سدوسی سے بھی یہی موقف مروی ہے۔ فقہاے تبع تابعین میں سے ابن ابی لیلیٰ اور محمد بن عبدالرحمن کا بھی یہی قول ہے اور متاخرین میں سے امام صنعانی رحمة اللہ علیہ نے حدیث أنت ومالک لأبیک سے استدلال کرتے ہوئے اسی قول کی تائید کی ہے۔

دلائل :اس قول کے قائلین کی دلیل درج ذیل احادیث وآثار ہیں :
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ سیدنا عمر بن خطابؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک باپ بیٹا آئے، بیٹا اپنے باپ سے ایک ہزار درہم کا مطالبہ کررہا تھا جو اس نے اپنے باپ کو بطورِ قرض دیے ہوئے تھے جبکہ باپ کہہ رہا تھا کہ وہ قرض واپس کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ سیدنا عمرؓ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور باپ کے ہاتھ میں دے دیا اور فرمایا: ''یہ بیٹا اور اس کا مال اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھے عطیہ ہے۔'' 21
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالبؓ سے بھی اسی طرح منقول ہے کہ اُنہوں نے بیٹے کا مال والد کو دینے کا فیصلہ دیا۔ 22
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ نے اپنی سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ انصاریؓ سے روایت کیا ہے اور اسی روایت کو صحیح کہا ہے کہ ''ماں باپ اپنے بیٹے کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر لے سکتے ہیں ۔''23
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے بھی سیدنا جابرؓ کی مانند صحیح ثابت ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: آدمی اپنے بیٹے کے مال سے جتنا چاہے کھا سکتا ہے، لیکن بیٹا اپنے باپ کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر نہیں کھا سکتا۔ 24
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ ہی اپنی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ فضالہ بن ہرمزحنفی رحمة اللہ علیہ نے سیدنا انسؓ بن مالک کو کہا: میرے باپ نے میری لونڈی پر قبضہ کرلیا ہے حالانکہ میرے باپ نے اس کو خریدا نہیں ؟ سیدنا انس بن مالکؓ نے فرمایا: یہ لونڈی تیرے باپ کی ہے، اور تیرا مال اس کی کمائی ہے، تو اور تیرا مال اس کے لئے حلال ہے، اور اس کا مال تیرے اوپر حرام ہے، اِلا یہ کہ وہ تجھے رضا مندی سے دے دے۔25
امام ابن حزم رحمة اللہ علیہ اپنی سند کے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا: أولادکم ھبة اﷲ لکم، وأموالھم لکم ''تمہاری اولادیں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں اور ان کے مال تمہارے لئے ہیں ۔'' 26
اس موقف کے قرآن کریم اورسنت مطہرہ سے دیگر تفصیلی دلائل حسب ِذیل ہیں :

قرآنِ مجید سے دلائل
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
لَّيْسَ عَلَى ٱلْأَعْمَىٰ حَرَ‌جٌ وَلَا عَلَى ٱلْأَعْرَ‌جِ حَرَ‌جٌ وَلَا عَلَى ٱلْمَرِ‌يضِ حَرَ‌جٌ وَلَا عَلَىٰٓ أَنفُسِكُمْ أَن تَأْكُلُوا مِنۢ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ ءَابَآئِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهَـٰتِكُمْ ...﴿٦١﴾...سورة النور
''کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا، یا لنگڑا، یا مریض (کسی کے گھر سے کھالے) اور نہ تمہارے اوپر اس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاؤ یااپنے باپ دادا کے گھروں سے۔''
اس آیت ِکریمہ میں وجہ دلالت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں دس قسم کے رشتہ دار بیان کئے ہیں جن کے گھروں سے کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان دس اصناف میں اولاد کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں {أوْ بُیُوْتِ اَوْلَادِکُمْ} کے الفاظ نہیں ہیں ، کیونکہ اولاد {مِنْ بُیُوْتِکُمْ} کے حکم میں ہی داخل ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ اولاد کے گھر والدین کے اپنے گھروں کی مانند ہیں ، اسی لئے اولاد کے گھروں کا الگ سے ذکر نہیں کیا گیا۔ لہٰذا اولاد کے گھر بھی اولاد کے ہیں بلکہ والدین کے ہی گھر ہیں ۔
اس سے ثابت ہوا کہ حدیث ِنبوی أنت ومالک لأبیک درحقیقت کتاب اللہ سے ہی ماخوذ اور اس آیت کے ضمن میں موجود مخفی نتائج ومضمرات کی تفصیل ہے۔ 27
امام ابن قدامہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹا اپنے باپ کے لئے عطیہ (ہبہ) بنایا ہے۔

جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ إِسْحَـٰقَ وَيَعْقُوبَ...﴿٧٢﴾... سورةالانبیاء

''اور ہم نے اسے اسحق عطاکیا اور یعقوب''
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وَوَهَبْنَا لَهُۥ يَحْيَىٰ ...﴿٩٠﴾....سورۃ الانبیاء
''اور ہم نے اسے یحییٰ عطا کیا۔''
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : فَهَبْ لِى مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا ... ﴿٥...سورۃ المریم
''تو مجھے اپنے فضل خاص سے ایک وارث عطا کردے۔''
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى وَهَبَ لِى عَلَى ٱلْكِبَرِ‌ إِسْمَـٰعِيلَ وَإِسْحَـٰقَ ۚ...﴿٣٩﴾... سورۃ البراہیم
''شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسحق اور اسماعیل جیسے بیٹے دیئے۔''
اور جوشے (یعنی اولاد) باپ کوہبہ کی گئی ہے اس میں باپ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے غلام کی مانند اس اولاد کا مال بھی لے سکتا ہے۔ 28

حدیث ِنبویؐ سے دلائل
اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وہ اپنے باپ کے ساتھ ، اس کو دیے گئے قرض کے سلسلے میں جھگڑا کررہا تھا، آپؐ نے فرمایا: أنت ومالك لأبیك ''تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لئے ہے۔'' 29
سیدنا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور وہ اپنے باپ کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔ اس آدمی نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ (میرا باپ) میرے مال کا ضرورت مند ہے؟ آپؐ نے فرمایا: أنت ومالك لأبیك
''تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لئے ہے۔'' 30
سیدنا عمرو بن شعیبؓ عن ابیہ عن جدہؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے پاس مال، اور باپ ہے اور میرا باپ میرے مال کا صفایا کرنا چاہتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: أنت ومالک لأبیک ''تو اور تیرا مال تیرے باپ کے لئے ہے۔'' مزید فرمایا کہ تمہاری اولادیں تمہاری بہترین کمائی ہیں ، پس تم اپنی اولادوں کی کمائی سے کھاؤ۔'' 31
سیدنا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہؓ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میرا والد میرے مال کا صفایا کرنا چاہتا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو اور تیرا مال تیرے والد کے لئے ہے۔ بے شک بہترین کھانا، تمہاری اپنی کمائی سے ہے اور تمہاری اولادوں کے اَموال بھی تمہاری ہی کمائی ہے، پس تم خوش دلی کے ساتھ کھاؤ۔'' 32
سیدنا عمارہ بن عمیرؓ سے مروی ہے، وہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ ''اُنہوں نے اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے سوال پوچھا کہ میری گود میں یتیم بچہ ہے، کیا میں اس کا مال کھا سکتی ہوں ؟ اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہؓ نے فرمایا: بے شک بہترین کھانا، انسان کی اپنی کمائی سے ہے اور اولاد بھی اس کی کمائی ہے۔''33
اُمّ المؤمنین سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے کہ اُنہوں نے فرمایا: ''آدمی کا بیٹا اس کی کمائی ہے بلکہ بہترین کمائی ہے، لہٰذا تم اپنے اَموال سے کھاؤ۔''34
مذکورہ احادیث کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اولاد اور اولاد کی جملہ ملکیت کو باپ کی کمائی قرار دیا، بلکہ بہترین کمائی قرار دیا ہے، کیونکہ باپ کی ذات ہی، بیٹے کے وجود اور اس کی جملہ کمائی کا سبب ہے اور والدین کے لئے مطلقاً جائز ہے کہ وہ اپنی کمائی میں سے جس طرح چاہیں ، فائدہ اُٹھائیں ۔
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جس کو کرنے سے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ۔ آپؐ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، اگرچہ تجھے عذاب دیا جائے اور والدین کی اطاعت کرنا، اگرچہ وہ تجھے تیرے مال اور تیری ملکیت میں موجودہر چیزسے نکال دیں ... 35
سیدنا ابو درداء ؓ سے مروی ہے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کی وصیت فرمائی: اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا، اگر تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے یا جلا دیا جائے... اپنے والدین کی اطاعت کرنا، اگرچہ وہ تجھے اپنی دنیا سے نکل جانے کا حکم دیں ، پس تو نکل جا۔ 36
آخر الذکردونوں احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اگرچہ وہ اپنی اولاد کو اپنے مال اور اپنی ملکیت میں موجود دنیا کی ہر چیز سے نکل جانے کا حکم ہی کیوں نہ دیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کے مال میں ہر طرح کے تصرف کا حق حاصل ہے اور بیٹے پر واجب ہے کہ اپنے مال کے بارے میں والدین کے حکم کو مانے اور ان کی اطاعت کرے۔

تیسرا قول
یہ قول بھی دوسرے قول کی مانند ہے کہ باپ اپنے بیٹے کے مال پر قبضہ کرسکتاہے، لیکن اُنہوں نے چند شرائط لگا دی ہیں ، جن کی موجودگی میں باپ اپنے بیٹے کا مال لے سکتا ہے۔
قائلین:یہ حنابلہ کا قول ہے اور ان کے ہاں اسی کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے۔37
شرط:وہ مال بیٹے کی ضرورت سے زائد ہو تاکہ اس مال کو اپنی ملکیت میں لینے سے بیٹے کو ضرر نہ پہنچے ، کیونکہ ضرر سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا ضَرَر ولا ضِرار 38
لہٰذا باپ اپنے بیٹے کے ایسے مال کو اپنی ملکیت میں نہیں لے سکتا جو اس کی ضروریاتِ زندگی سے متعلق ہو جیسے کوئی مشینری جس سے وہ روزی کماتا ہے، یا تجارت میں رأس المال وغیرہ۔ کیونکہ شریعت کی نظر میں انسان کی ضرورت اس کے قرض پر مقدم ہے۔ جو باپ پر بھی بالاولیٰ مقدم ہے۔
چنانچہ فقہاء تابعین میں سے عطاء بن ابی رباح مکی رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ باپ کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے مال کواپنی ملکیت میں لے سکتا ہے بشرطیکہ بیٹے کو اس سے ضرر نہ ہو۔
شرط: باپ وہ مال اپنے لئے حاصل کرے، نہ کہ دوسرے بیٹے کو دے دے، یعنی ایک بیٹے (زید) کا مال لے کر دوسرے بیٹے (عمرو) کو نہ دے، کیونکہ یہ منع ہے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ باپ اپنی اولاد میں سے کسی ایک کواپنے مال میں سے عطیہ دے دے جبکہ دیگر کو نہ دے۔39

جب باپ اپنے ذاتی مال سے اپنی اولاد میں سے عطیہ دینے کے لئے کسی کو خاص نہیں کرسکتا تو ایک بیٹے کے مال سے لے کر دوسرے کو دینے کے لئے خاص کرنا بالاولیٰ حرام ہے۔
شرط:بیٹے کے مال کو اس وقت اپنی ملکیت بنانا جب کہ بیٹا یا باپ مرض الموت کی حالت میں نہ ہوں ، کیونکہ مرض کے ساتھ ہی ملکیت بنانے کا اختیار منقطع ہوگیا۔
شرط: باپ کافر اور بیٹا مسلمان ہو تو اس وقت بھی باپ اپنے بیٹے کے مال سے کچھ نہیں لے سکتا، بالخصوص اس وقت جب بیٹا کافر ہونے کے بعد مسلمان ہوجائے اور ا س کا باپ کفر پر ہی قائم ہو۔40
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :

''اسی کے مشابہ صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ باپ مسلمان ہو اور بیٹا کافر ہو۔ اس صورت میں بھی باپ اپنے بیٹے کے مال سے کچھ نہیں لے سکتا کیونکہ اختلاف ِ ادیان سے ولایت اور وراثت منقطع ہوجاتی ہے۔''
شرط :باپ جس چیز کو اپنی ملکیت میں لے رہا ہے وہ چیز بعینہٖ موجود ہوکیونکہ باپ اپنے بیٹے کے قرض کا مالک نہیں بن سکتا اور باپ کسی بھی چیزکو قبضہ میں لینے سے پہلے اس میں تصرف کا اختیار نہیں رکھتا، جیسا کہ احادیث میں کسی شے کو قبضہ میں لینے سے قبل اس میں تصرف کرنے سے صریح ممانعت وارد ہوئی ہے۔
جہاں تک باپ کی ملکیت کے ثبوت کا تعلق ہے تو یہ ملکیت اس کی نیت یا قول سے ثابت ہوجائے گی۔ مثلاً باپ کسی چیز کو اُٹھا لے اور دل میں نیت کرے کہ اب یہ میری ملکیت ہے یا زبان سے کہے کہ میں فلاں چیز کا مالک ہوں ۔
شرط: قول یا نیت سے قبضہ کرلینے سے پہلے بیٹے کے مال میں باپ کا تصرف غیر صحیح ہے، اگرچہ غلام ہی آزاد کرنا ہو۔ کیونکہ بیٹے کی اپنے مال پر مکمل ملکیت ہے اور وہ اپنے مال میں تصرف کا اختیار رکھتا ہے، اپنی لونڈی کے ساتھ مباشرت کرسکتا ہے۔ اگر لونڈی کی ملکیت باپ اور بیٹے میں مشترک ہو تو وہ ایسی لونڈی کے ساتھ بالکل اسی طرح مباشرت نہیں کرسکتا جیسا کہ کسی اور شخص کے ساتھ مشترکہ لونڈی سے وہ مباشرت نہیں کرسکتا۔ الغرض باپ کے لئے ضروری ہے کہ وہ جس شے کو اپنی ملکیت بنانا چاہتا ہے، اسے پہلے اپنے قبضہ میں لے پھر اس میں تصرف کرے۔ بنا بریں باپ اپنے بیٹے کے قرض یا جرمانے کا مالک نہیں بن سکتا، کیونکہ وہ ابھی تک قبضہ میں نہیں آیا۔
مذکورہ شرائط کا گہرا مطالعہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پہلی شرط ہی اہم ترین شرط ہے جبکہ بقیہ پانچ شرائط کا ہر حال اور جملہ معاملات میں لحاظ کرنا ضروری ہے، اور یہ شرائط ہمارے اسی مسئلہ کے ساتھ خاص نہیں ہیں ۔


دلائل
تیسرے قول کے دلائل، درحقیقت دوسرے قول والے دلائل ہی ہیں جو سابقہ صفحات میں گذر چکے ہیں ۔ ایسے ہی شروط و قیود کے دلائل بھی شرائط کے ساتھ ہی ذکر کئے جاچکے ہیں ۔
اگلی قسط میں فقہاے کرام کے تینوں اقوال او ران کے دلائل کا تجزیہ وتبصرہ پیش کیا جائے گا، اور ان میں پیش کردہ استدلال کا باہم تقابل کرتے ہوئے ایک واضح موقف تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان شاء اللہ


حوالہ جات
1. صحیح بخاری:5971
2. جامع ترمذی:1900
3. جامع ترمذی:1899
4. تعریف'برالوالدین'دیکھئے: مشارق الأنوار للقاضي: 1؍84، 2؍100؛ فتح الباري:10؍406؛ تحریر ألفاظ التنبیه للنووي، ص149
5. تفسیر قرطبی:3؍17
6. المُحلّٰی:8؍107 ؛ مشکل الآثار للطحاوي 4؍277
7. اللمُحلّٰی:8؍107 ؛ مُشکل الآثار للطحاوي:4؍277
8. الرسالہ: ص468
9. مشکل الآثار:4؍277
10. سنن بیہقی:7؍481؛ فتح القدیر ازامام ابن ہمام رحمة اللہ علیہ :4؍223
11. المُحلّٰی: 8؍106؛ الکاشف عن حقائق السنن شرح مشکوٰة المصابیح از امام طیبی رحمة اللہ علیة : 6؍ 19
12. مشکل الآثار:4؍277
13. سنن بیہقی :7؍481
14. صحیح بخاری:1739، صحیح مسلم:2159
15. شرح معانی الآثار:4؍ 159
16. مسند احمد:5؍72، سنن دارقطنی:3؍26، سنن بیہقی:6؍100
17. السنن الکبریٰ از امام بیہقی: 7؍481، سنن دارقطنی: 4؍236
18. سنن نسائی:4365، سنن ابوداؤد:2789، مسند احمد:2؍169، مستدرك حاکم:4؍223، وقال صحیح الإسناد ولم یخرجاہ ووافقه الذهبي
19. شرح معانی الآثار:4؍159
20. المُحلّٰی:8؍107
21. المُحلّٰی:8؍104، مصنف ابن ابی شیبہ: 7؍157،158
22. المُحلّٰی:8؍104، ومصنف ابن ابی شیبہ:7؍158،159
23. المحلّٰی:8؍104
24. ایضاً
25. ایضاً
26. ایضاً
27. المغني لابن قدامة:6؍288 بروایت ِسفیان بن عیینہ، مجموع الفتاویٰ :36؍68 کشاف القناع :4؍317
28. المغنی :6؍288؛کشاف القناع:4؍317
29. صحیح ابن حبان :2؍142 وصحَّحه الإمام العیني في عمدة القاري:13؍142
30. مسند احمد:2؍204
31. مسند احمد:2؍215
32. حمد:2؍179
33. سنن ابوداود:3528، سنن نسائی: 4450
34. سنن ابوداؤد:3؍800، رقم3529
35. قال المنذري في الترغیب والترهیب :1؍383، رواہ الطبراني في الأوسط 2956 ولا بأس بـإسنادہ في المتابعات
36. الأدب المفرد للبخاري :1؍69، وقال الھیثمي في مجمع الزوائد:4؍217 رواہ الطبراني وفیه شهر بن حوشب وحدیثه حسن وبقیة رجاله ثقات
37. المغنی:6؍288، کشاف القناع للبهوتي: 4؍ 317
38. ابن ماجہ:2340، مستدرک حاکم:2؍57 وصحَّحه ووافقه الذهبي علی تصحیحه
39. صحیح بخاری:2650
40. الاختیارات الفقهیة: ص187

 


 i. اس مسئلہ پر مذاہب اربعہ کا موقف جاننے کے لئے دیکھیں: شرح السنة للبغو: 3299، شرح أدب القاض للخصاف، للصدر الشہید 3174 333، المبسوط للسرخس 2225، تبیین الحقائق 643، بدائع الصنائع 304 وغیرہ

يَسْـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَآ أَنفَقْتُم مِّنْ خَيْرٍ‌ۢ فَلِلْوَ‌ٰلِدَيْنِ وَٱلْأَقْرَ‌بِينَ وَٱلْيَتَـٰمَىٰ وَٱلْمَسَـٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا۟ مِنْ خَيْرٍ‌ۢ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ ﴿٢١٥