جب سے انگریز بہادرنے اس خطے پر قبضہ جمایا ہے، تب سے ہمیں وہی چیز پسند آتی ہے جسے انگریز یا انگریزی سے نسبت ہوتی ہے۔ دیگر باتیں تو ایک طرف، ہمارے ہاں اپنی ذاتی پہچان کے حوالے 'دستخط' تک انگریزی ہی میں ثبت کرنا تہذیب و شائستگی قرار پائے۔ کچھ یہی حال تعلیم کا ہے۔ کبھی تعلیمی معیار کی علامت عیسائی مشنری تعلیمی ادارے تھے، اور ابھی تک ہم اسی جادو کے اسیر تھے کہ اب اس کے ساتھ 'اے' لیول اور 'او' لیول کا برطانوی امتحانی نظام (GCE) بھی ہمارے ذہنوں پر بھوت بن کر مسلط ہوگیا ہے۔ جس فرد کے پاس چند ہزار روپے فاضل ہیں یا جو شخص واقعی 'اسٹیٹس'(status) کے بارے میں حساس ہے، اس کے قدم خود بخود انہی اداروں کی جانب اُٹھ جاتے ہیں۔ آج پاکستان کا قومی تعلیمی نظام کس کسمپرسی سے دوچار ہے، اس کا اندازہ جی سی ای نظام کے بڑھتے ہوئے رجحان سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران میں پاکستان پر مسلط فوجی حکمرانوں نے بظاہر ناصحانہ، مگر دراصل بے جا طور پر یہ طوفان اُٹھائے رکھا کہ ''اسلامیات کی کتاب میں فرقہ واریت ہے، ہمیں ایمانیات اور تاریخ کے بجاے زندگی کے معاملات پر اسلامی سوچ طالب علموں میں منتقل کرنی ہوگی اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔'' ساتھ ہی ایک جرنیلی وزیرتعلیم نے یہ بھی فرمایا کہ ''قرآن کے 40پارے ہوتے ہیں۔'' کچھ لوگوں نے اسے جنرل موصوف کی لغزش زبان (slip of tongue) قرار دیا، مگر کچھ لوگوں کے بقول: یہ بات ویسے ہی نہ کہی گئی تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک نظامِ فکر کا دبائو (push) بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوسکتا ہے۔ بہرحال قومی نظامِ تعلیم اور قومی نصابِ تعلیم پر چار حرف بھیجنے والے فوجی حکمرانوں اور ان کے پشت پناہ مغرب زدہ لوگوں کی یہ ہوشیاری زیادہ دیر تک اپنا رنگ نہ جما سکے گی۔
اس وقت ہمارے پیش نظر ایک کتاب ہے، جس کا نام ہے Islamiat for Students۔ اس کتاب کے 'تعارف' اور 'دیباچے' کے مطابق یہ 'او' لیول کے طالب علموں کے لیے تیار کی گئی ہے، فیروز سنز لاہور نے اسے شائع کیا ہے، 2009ء میں بطورِ نصاب یہ نافذالعمل ہوگی اور اس کی مصنفہ کا نام فرخندہ نورمحمد ہے، جب کہ قیمت 175 روپے ہے۔ اعلیٰ طبقاتی نظامِ تعلیم میں میٹرک کی سطح کے پاکستانی طلبہ و طالبات میں اس کتاب کے طفیل کون سی فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا ہوگی اور اُنہیں اسلامی تاریخ کے بارے میں کس درجہ یکسوئی نصیب ہوگی، آیندہ سطور میں اسی حوالے سے کچھ معروضات پیش کی جارہی ہیں۔
مصنفہ نے دیباچے میں دعویٰ کیا ہے: ''میٹرک اور 'او' لیول کی سطح کے طالب علموں کے لیے اسلامیات کی یہ کتاب اس انداز سے لکھی گئی ہے کہ طرزِ تحریر براہِ راست اور عام فہم ہو، اور وہ تمام لوگ جو اسلام کی پیدایش (birth) اور پھیلائو کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، اُنہیں اس میں معلومات ملیں۔ اس کتاب میں دلچسپ مواد پیش کیا گیا ہے۔ بہت سی اصطلاحیں اور واقعات دانستہ طور پر دہرائے گئے ہیں، تاکہ عام سطح کا بچہ ان سے مانوس ہوجائے''__

ہر مصنف کسی نہ کسی دعوے کے ساتھ کتاب تحریر کرنے کی کوشش کرتا ہے، یہاں پر بھی مصنفہ کے اس حق کو تسلیم کرنے کے باوجود، حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ بعثت ِ نبویؐ کو 'اسلام کی پیدایش' قرار دے رہی ہیں، حالانکہ اسلام تو آدم علیہ السلام سے لے کر تمام انبیا علیہم السلام کے ہاں ایک تسلسل، روایت اور پختہ ایمان کے طور پر موجزن رہا ہے۔ اس لیے اسلام کی 'پیدایش' کو خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنا، اس قرآنی حکم سے مناسبت نہیں رکھتا، جس میں فرمایا گیا ہے کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے ہوئے کہا:
''اے میرے بچو! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا مرتے دم تک مسلم ہی رہنا۔'' ...﴿١٣٢﴾...سورة البقرة
یہ اور دیگر بہت سے مقامات پر اللہ تعالیٰ نے ماقبل کے انبیا علیہم السلام کو مسلم ہی کہا یا اسلام سے وابستہ بیان فرمایا۔ اس لیے محض اس ایک لفظ 'پیدایش' کی لغزش خود ایمان کے بنیادی عناصر تک کو خلط ملط کردیتی ہے، مگر فاضلہ اس مقام سے یوں ہی گزر جاتی ہیں۔
یاد رہے اسلامیات کی یہ کتاب مصنفہ نے نظرثانی کے بعد پانچویں ایڈیشن کے طور پر شائع کی ہے، اور نظرثانی کے دوران میں جن ابواب کو کتاب سے خارج کیا گیا ہے، وہ ہیں: اسلام اور معاشرتی زندگی، اسلامی اخلاقیات (شائستگی، احترام، نظم، عدل وانصاف)، اسلام اور انسانوں کے حقوق وغیرہ __ اس کے بجاے جو مواد شامل کیا گیا ہے، وہ ہے: اسلام کی سیاسی تاریخ، شیعہ عقائد کے حوالے سے اُمور۔
یہاں پر قابلِ غور بات یہ ہے کہ روشن خیالی اور جدیدیت کے علَم برداروں نے اسلامیات کے قومی نصاب پر فرقہ واریت کا الزام دھرتے ہوئے اسے تلپٹ کرنے کا اہتمام کیا ہے، مگر اپنے ممدوح نصابِ تعلیم میں شیعہ سُنّی فرقہ واریت پر مبنی لوازمہ غیرمناسب اور غیرمتناسب انداز سے پیش کیا ہے، اور وہ بھی 13 سے 16 سال کی عمر کے بچوں کے نصاب میں، جو عمر کے اس حصے میں ایسے اختلافی اُمور سے بالاتر ہوتے ہیں، یا اُنہیں عملی طور پر اس تفریق سے بالا رکھنا ضروری ہے۔ اس طرح یہ نظرثانی شدہ کتاب اسلامی اخلاقیات اور اس کی روح کو نظرانداز کرکے فرقہ وارانہ اختلاف کی بنیادوں کو گہرا کرنے کا سامان مہیا کرتی ہے۔
قرآن کی تفسیر کا تذکرہ پڑھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ مصنفہ کے بقول: ''یہ عربی لفظ fasara سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے: تشریح کرنا۔''1
فسارا یا فصارا یا فثارا، تینوں لفظ ناقابلِ فہم ہیں۔اگر یہ عربی لفظ فَسَّرَ ہے تو پھر اس کی انگریزی اِملا درست نہیں۔
اس کتاب کے مندرجات میں موجود خوبیوں اور فنی کمزوریوں پر گفتگو سے زیادہ اہم نکتہ وہی ہے جسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کہتے ہیں، اور یہی چیز اس میں تشویش کا پہلو لیے ہوئے ہے۔ یہ امرواقعہ ہے کہ یہ مندرجات شیعہ علما نے کتاب میں شامل نہیں کرائے، لیکن جب ان پر بحث اُٹھ کھڑی ہوگی تو پھرلامحالہ اُنہیں درمیان میں آنا پڑے گا۔ اگرچہ وہ مناظرے کے اس اسٹیج کو تیار کرنے کے ذمہ دار نہیں۔ اب دیکھئے: کتاب کا حصہ چہارم اور باب سوم۔

باب سوم کا عنوان ہے: 'امامت'۔ امامت محض ایک لفظ نہیں، اس کا ایک مخصوص پس منظر ہے، اس کا تعلق تاریخ کی ایک خاص تعبیر سے ہے، یہ لفظ محض واقعاتی تعبیر ہی پر منتج نہیں ہوتا بلکہ اس کا تعلق عقیدے، ایمان اور اَفکار سے بھی جڑتا ہے۔ یہی چیز بہ اندازِ دگر اس باب میں زیربحث آئی ہے۔ دسویں جماعت کے بچوں کے سامنے اور وہ بھی اکثر سُنّی طالب علموں کے سامنے یہ بیان کرنا کہ
''شیعہ، حضرت علیؓ اور ان کے خلفا کے حق جانشینی کی وکالت کرتے ہیں... شیعہ عقیدے کے مطابق 'امامت' ایک قطعی استحقاقی (prerogative) منصب ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے رحلت ِ نبویؐ سے قبل ہی ایک فرد سرفراز (bestowed) فرما دیا تھا، اور پھر یہ منصب امامت دوسرے جانشینوں تک منتقل ہوتا گیا، لیکن اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ [عمر میں] سب سے بڑا ہو، بلکہ روحانی طور پر پاک دامن ہو''۔ شیعہ مسلمانوں کے نزدیک رسولِ کریمؐ نے روحانی میراث حضرت فاطمہؓ کے ذریعے، حضرت علیؓ اور ان کے جانشینوں کے سپرد کردی تھی۔ ان کا عقیدہ ہے کہ رسولؐ اللہ کی ہدایت کے مطابق حضرت علیؓ پہلے خلیفہ راشد اور امام المومنین تھے... اِثنا عشریہ یا ۱۲والے (twelevers) اہلِ تشیع کا ایک اہم فرقہ ہیں، جو ۱۲؍ اماموں کی جانشینی اور روحانی قیادت پر ایمان رکھتے ہیں۔ رسولِ کریمؐ اور حضرت فاطمہؓ کے ساتھ ان ۱۲؍اماموں کو شامل کرکے اُنہیں ۱۴معصومین کہا جاتا ہے۔''2
اس پیراگراف میں موجود معلومات کیا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ بچوں میں فرقہ وارانہ تقسیم کے ساتھ ہی ساتھ، خود خلفاے راشدینؓ کے بارے میں شک کا بیج بونا تعلیمی ضرورت کے اعتبار سے کس حد تک درست ہے۔ پیراگراف کے الفاظ خود ہی نازک اُمور کی نشان دہی کرتے ہیں، اور اس مضمون میں اُنہیں کھول کر بیان کرنا شاید مناسب نہیں ہے۔
اسی درسی کتاب کے اگلے صفحے پر درج ہے: ''آخرکار 12 ہزار جوانوں پر مشتمل فوج نے کوچ کیا۔ امام حسنؓ نے کندی قبیلے کے سردار کی قیادت میں 4 ہزار مردوں کی مہم 'انبہ' بھیجی، لیکن امیرمعاویہؓ نے اس کو گورنری کے وعدے کی رشوت دے کر (bribed) ہم نوا بنا لیا۔ جب امام حسنؓ نے یہ خبر سنی تو اُنہوں نے بنومراد سے 4 ہزار جوانوں کا فوجی دستہ روانہ کیا، لیکن امیرمعاویہؓ نے اس کو بھی ساتھ ملا لیا۔''3
ذہن میں رکھا جائے کہ حضرت امیرمعاویہؓ نہ صرف صحابی ہیں بلکہ کاتب ِ وحی بھی ہیں۔ ان کے سیاسی اقدامات یا سیاسی حکمت ِعملی کیا تھی؟ ان کی کمزوریاںاور ما بعد اثرات کیا تھے؟ یہ چیزیں بڑی کلاسوں میں زیربحث آئیں تو طالب ِعلم کے سامنے دیگر اُفق بھی نمایاں ہوسکتے ہیں مگریہاں اس عمر کے بچے کے سامنے صحابہ کرامؓ کے درمیان (نعوذ باللہ) رشوت ستانی یا دھوکا دہی کے واقعات کو اس طرزِبیان کے ساتھ پیش کرنا، فکری انتشار یا مخصوص نقطۂ نظر کی ترویج کے سوا کچھ مفید نہیں ہوسکتا۔ یہی وہ نازک موڑ ہیں جہاں ملک کا پُرسکون ماحول بے جا بحثوں اور فرقہ واریت کے فیتے کو آگ دکھانے کی نذر ہوتا ہے۔ اعلیٰ طبقاتی اور 'شان دار تعلیمی اداروں'میں ان اَسباق کا آخر مطلب کیا ہے؟

باب سوم میں: حضرت علیؓ، امام حسنؓ، امام حسین ؓ، امام زین العابدین رحمة اللہ علیہ ، امام محمد باقر رحمة اللہ علیہ ،امام جعفر صادق رحمة اللہ علیہ ، امام موسیٰ کاظم، امام علی رضا، امام محمد تقی، امام محمدنقی اور امام حسن عسکری پر تعارفی نوٹ دینے کے بعد ۱۲ویں امام کی حیثیت سے امام محمد مہدی پر دو پیراگرافوں میں جو تفصیلات پیش کی گئی ہیں، ان کے مضمرات بھی اپنی دلیل آپ ہیں۔ چونکہ ان تفصیلات کا تعلق ایک مکتب ِفکر کے عقیدے سے ہے، اس لیے ذیل کی عبارت کو صرف دو سوالات کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے :
''امام محمد مہدی ۲۵۵ ہجری کو عراق میں پیدا ہوئے۔ 'محمد' اصل، جب کہ مہدی ان کا خاندانی نام تھا۔ ان کی والدہ رومی شہنشاہ کی پوتی تھیں۔ شیعہ کے نزدیک مہدی کے نام کا حصہ 'منتظر'، 'حجة' اور 'قائم' بھی ہے۔ ان کی پیدایش کی خبر خفیہ رکھی گئی اور وہ اپنے والد کی رحلت تک ان کی نگہداشت میں رہے۔ اُنہیں عام لوگوں کی نظروں سے بھی پوشیدہ رکھا گیا، اور اُنہیں ان کے والد کے چند ساتھیوں کے سوا کسی نے نہ دیکھا۔ والد کی رحلت کے وقت وہ پانچ برس کے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد محمد مہدی 'امام' بن گئے اور ساتھ ہی نظروں سے اوجھل (occultation) ہوکر غیابت میں چلے گئے۔ غیابت کے اس زمانے میں وہ اپنے نائبوں (deputies) کے ذریعے رہنمائی کرتے رہے اور محض خاص حالات میں ظاہر ہوتے رہے۔ ۳۲۹ ہجری کے بعد سے ان کی جانب سے رہنمائی موصول نہیں ہوئی۔ یہ عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کی نظروں سے پردے میں چلے گئے ہیں اور اس وقت تک پردے ہی میں رہیںگے جب تک کہ اللہ چاہے۔ وہ اس وقت دنیا میں ظاہر ہوں گے، جب یہ دنیا ناانصافی اور گناہ سے بھر جائے گی۔ وہ اسلام کی دعوت دیں گے، دجال سے لڑیں گے، اسے قتل کریں گے اور اللہ کا حکم اس زمین پر نافذ کردیں گے۔ وہ پوری دنیا پر حکمرانی کریں گے اور عدل قائم کریں گے اور ناانصافی کا خاتمہ کردیں گے۔''4
۱۳برس کے بچے کے ذہن میں یہ پیراگراف بہت سے سوال اُٹھاتا ہے، جنھیں زیربحث لانے کے بجاے اصل مقدمہ یہ ہے کہ وہ مسلمان جو اس عقیدے کو اپنا جزوِ ایمان نہیں سمجھتے، ان کے لیے ایک طرف 'امامت' بطورِ عقیدہ قبول ہے، مگر دوسری جانب یہ سوال تو اُٹھے گا کہ امامت نے پہلے چار سو سال تو اُمت کی رہنمائی کی، مگر بعد کے ایک ہزار میں رہنمائی و دست گیری کا وہ ادارہ کیوں معطل ہوگیا؟ اس ادھیڑبُن میں وہ استاد جس کی طبیعت اس تفصیل کو منطقی سطح پر ماننے سے انکار کرتی ہے، (لازماً طلبہ اور اساتذہ کی بڑی تعداد تو انہی خیالات کے حاملین پر مشتمل ہوگی) جب وہ دونوں مل کر کلاس روم میں بحث، مناظرے اور سوال و جواب کے گرداب میں پھنسیں گے تو خود سوچ لیجیے، اس میں اسلامیات کا یہ مضمون کہاں گم ہوجائے گا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا روشن خیال مشرف نامہ کس بارگاہ میں سرخرو ہوگا؟
آگے چل کر ایک بار پھر حضرت امیرمعاویہؓ کی شخصیت کے بارے میں ایک غلط تاثر پیش کیا گیا ہے:
''حضرت عمرؓ نے اپنی خلافت کے دوران میں، امیرمعاویہؓ کو شام کا گورنر بنا دیا اور حضرت عثمانؓ نے ان کی گورنری کو برقرار رکھا۔ حضرت علیؓ نے اپنی خلافت کے زمانے میں اُنہیں منصب سے معزول کرنا چاہا، مگر معاویہؓ ان کی مخالفت پر اُتر آئے اور ان کے خلاف جنگ ِ جمل اور صفین لڑی۔''5

اس بیان کو بھی بچوں کی ذہنی سطح کے پس منظر میں پرکھا جائے تو ان کے سامنے سوالات کا ایک پہاڑ آن کھڑا ہوتا ہے۔ جواب دیا جائے تو بہت سے نازک اُمور زیربحث آتے ہیں، جن سے کم از کم میٹرک کے استادوں کا حکمت سے عہدہ برآ ہونا اور اس سطح کے بچوں کو مطمئن کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے، تو پھر ہم آہنگی کا وہ افلاطونی نظریہ کہاں گیا...؟
کتاب کے صفحہ 140، 141 پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محترم چچا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہٗ کے والد ِگرامی جناب ابوطالب کا تذکرہ ہے، تاہم اس میں ان کے قبولِ اسلام نہ کرنے کا ذکر نہیں۔ احادیث میں درج ہے کہ ان کے آخری وقت میں رسولِ کریمؐ نے اصرار کر کے فرمایا کہ کلمہ پڑھ لیں مگر اُنہوں نے نہ پڑھا۔ ممکن ہے کہ کتاب کی مصنفہ نے اس لیے یہ واقعہ یا یہ صورتِ حال درج کرنا مناسب نہ سمجھی ہو کہ اس عمر کے بچوں کے سامنے یہ سوال کھڑا کرنا مناسب نہیں۔ خوب، مگر یہ احتیاط دیگر تاریخی روایات یا مناقشوں میں کیوں روا نہیں رکھی گئی۔
کتاب کے چھٹے حصے کے پہلے باب (ص 163 تا 177) میں بھی متعدد مسائل چھیڑے اور پھر نیم پخت انداز سے چھوڑ دیے گئے ہیں۔ اس درجے میں بچے کے سامنے حدیث اور اس کی تدوین کے معاملات کو بیان کیا گیا ہے۔ حدیث کی اہمیت اور سند کی صحت کے لیے جملہ احتیاطوں اور اسماء الرجال کے بے مثال پہلو کو پیش کرنے کے بجاے چلتے چلتے بہت سی چیزوں کو بے ربط انداز میں بیان کردیا گیا ہے، حالانکہ یہ تمام چیزیں سخت فنی نوعیت کی ہیں جو بہتر اور متوازن اُسلوب کا تقاضا کرتی ہیں۔ یہاں پر بالخصوص ایک اور نکتے کی جانب توجہ دلانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ صفحہ۱۷۳ میں شیعہ تدوین حدیث کا ذکر کرکے ایک بار پھر اسلامی اور ملّی ہم آہنگی پر ضرب لگائی گئی ہے۔

ایک طرف صحیح، حَسن، ضعیف اور وضعی احادیث (ص 165، 166) کا مسئلہ پیش کرکے بتایا گیاہے کہ سب سے پہلے امام مالک رحمة اللہ علیہ (96 ھ) نے، پھر امام احمد رحمة اللہ علیہ بن حنبل (164 ھ) اور ان کے بعد امام بخاری رحمة اللہ علیہ (194ھ)، امام مسلم رحمة اللہ علیہ (202ھ) اور ان کے بعد ابودائود، امام ترمذی، امام نسائی، ابن ما جہ رحمہم اللہ وغیرہ نے لاکھوں احادیث میں سے چند ہزار احادیث مرتب کیں۔ ان میں کہیں فاضل محدث کی تاریخ پیدایش، کہیں تاریخ وفات اور کہیں ایسی کچھ بھی معلومات درج نہیں ہیں۔ کیا کوئی نصابی کتاب ایسی تساہل پسندی کی متحمل ہوسکتی ہے؟ دوسرا یہ کہ لاکھوں احادیث کے استرداد کا کوئی موزوں جواز بھی بچوں کے سامنے پیش نہیں کیا جاسکا۔ یہ چیز بچے کے ذہن میں شک کا کانٹا بوسکتی ہے۔ پھر جیساکہ عرض کیا جا چکا ہے کہ صفحہ ۱۷۳ پر شیعہ تدوین حدیث کانکتہ اُٹھا کر بہت سے سوالات کی آنچ کو تیز تر کردیا گیا ہے۔ شیعہ احادیث کے تین مجموعوں یعنی اُصولِ کافی، من لایحضرہ الفقیہاور تہذیب الأحکام کے نام پیش کیے گئے ہیں اور ان کے مرتبین کی تاریخ ِانتقال بالترتیب 328، 381، 460 ہجری ہے۔ گویا کہ سُنّی احادیث اور شیعہ روایات کی تدوین کا یہ زمانی فرق بذاتِ خود ایک سوال پیدا کرتاہے۔
خلفاے راشدینؓ کے لیے مخصوص ساتویں باب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خدمات پر ایک بڑا مؤثر سبق شامل اشاعت (ص 178تا191) ہے، اور ان کی خلافت کے انتخاب کے موقع پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ رسولِ کریمؐ کے انتہائی بااعتماد قریبی ساتھی اور سب سے بلند مرتبہ انسان تھے، اس لیے پہلے خلیفہ کے طور پر منتخب ہوئے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایک بچہ جو اسی کتاب کے صفحہ ۱۱۱ پر یہ پڑھ کر آیا ہے کہ امامت و قیادت تورسولؐ اللہ نے حضرت علیؓ اور اہلِ بیت کو تفویض کردی تھی، بھلا وہ ۶۰ صفحے آگے مذکورہ بالا بیان پڑھ کر کیا سوچے گا؟ یہی نا کہ رسولؐ اللہ کی مرضی اور احکام سے بغاوت یا ایک وقت میں دو طرح کی بالکل متحارب ہدایت؟

نصاب میں ایسی شترگربگی مستقبل کے سیاہ سفید پر قبضے کی تیاری کے لیے مصروف طالب علموں کو کیا سبق دے گی...!!
حضرت عثمانؓ کے انتخاب کے معاملے (ص 205) میں بتایا گیا ہے کہ''حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ کے حق میں ووٹ دیا اور بیعت کی۔'' اس بیان پر پھر صفحہ ۱۱۱ والا سوال کیا سبق دے گا؟ آگے صفحہ ۲۱۲ پر درج ہے کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد جلیل القدر صحابہؓ نے حضرت علیؓ کو خلیفہ بننے کی دعوت قبول کرنے کے لیے کہا، مگر حضرت علیؓ نے خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ (اگرچہ بعد میں حضرت علیؓ نے مسلمانوں کے شدید اصرار پر یہ ذمہ داری قبول فرما لی) لیکن یہاں بھی ایک مرتبہ پھر صفحہ ۱۱۱ والی بات سامنے آتی ہے کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو نیابت و قیادت کا حکم دے دیا تھاتو اُنہوں نے مسلسل انکار کیوں کیا؟ اس چیز کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ وہ رسول کریمؐ کی مرضی اور منشا کو پورا نہ کرتے، مگر طالب ِعلم کے سامنے تو یہ معاملہ غور طلب ہوگا کہ حضرت فاطمہؓ کے ذریعے دیے جانے والے حکم سے انکار کیا جا رہا ہے۔
صفحہ 213 پر جنگ ِ جمل اور صفحہ 214 پر جنگ ِ صفین کی تفصیلات درج ہیں۔ یہ تفصیلات مسئلے کا سیاسی پہلو لیے ہوئے ہیں۔ ایسے معاملات بڑے نازک اُمور کی نقاب کشائی کا تقاضا کرتے ہیں۔ دونوں جانب جلیل القدر صحابہؓ ہیں، ایک جانب حضرت علیؓ ہیں اور دوسری جانب اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ۔ جب بات تشنہ، معاملہ اَدھورا اور بحث نامکمل صورت میں ۱۴سال کے بچے کے سامنے رکھی جائے گی تو خود سوچ لیجیے کہ کون سی خلیج گہری ہوگی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تاریخ کے درست زاویۂ نظر اور منصفانہ بحث و تمحیص کے معاملات پر تو ہم اس تجزیے میں بات ہی نہیں کررہے۔ یاد رہے کہ یہ نصاب مشرف خیالی کے اس ایجنڈے کی تائید میں پیش کیا جا رہا ہے کہ ہمیں عقیدے اور تاریخ سے کچھ غرض نہیں، ہم تو طالب علموں کو زندگی کے معاملات میں اسلام کے احکام اور قوانین سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
کتاب مجموعی طور پر آسان، عام فہم اور مؤثر اُسلوبِ بیان میں پیش کی گئی ہے، جس کے لیے مصنفہ ستائش کی مستحق ہیں، لیکن اُنہوں نے کون سی نصابی اسکیم پیش نظر رکھی، یہ معلوم نہیں ہورہا۔ وہ طالب علم کے سامنے اسلام کی کیا تصویر اور کون سا پیغام پیش کرنا چاہتی ہیں؟ طالب ِعلم، اُستاد اور والدین، تینوں اس سے بے خبر ہیں اور پریشان بھی؟ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے بلند بانگ دعوے کو کس طرح نصابی عمل میں ڈھال رہی ہیں، اس چیز کا کوئی آغاز اور انجام موجود نہیں ہے۔ کیا نصاب تیار کرانے والوں کا ہدف یہ تو نہیں ہے کہ اسلامیات کی ایسی کتاب فرقہ واریت کو پروان چڑھانے کے جرم میں کچھ اس طرح متنازع بن جائے کہ سرے سے اسلامیات کی تدریس کو، جی سی ای یا 'او لیول'، 'اے لیول' سے خارج کرنے کا رستہ کھل جائے، اور اس کے بجاے 'آفاقی اخلاقیات' جیسا نام نہاد مضمون، بطورِ متبادل لانے کا جواز مل جائے۔ ہمارے اس خدشے کی ٹھوس بنیادیں موجودہیں۔ دشمن ان معاملات میں 'علاج بالمثل' کا راستہ اختیار کرتا اور مقصد اپنا حاصل کرتا ہے۔ پاکستان میں جب بھی انگریزی کی عظمت کی دھاک بٹھانا مقصود ہوتی ہے تو اہل حل و عقد صوبائی زبانوں کی ترویج کا شوشا اُٹھاتے اور انھیں اُردو سے لڑانے کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور پھر خود ہی فیصلہ سنا دیتے ہیں، کہ اچھا ان میں جھگڑا ہے، اس لیے مناسب یہی ہے کہ انگریزی کا سکّہ چلایا جائے۔
اس کتاب کے مندرجات کی پیش کاری میں بہ ظاہر شیعہ اہل علم کا کوئی حصہ نہیں ہے، لیکن وہ ان نادان ماہرین تعلیم کے ذریعے بے جا طور ایسی بحث میں اُلجھیں گے۔ اس تجزیے میں کتاب کے ان دیگر معاملات کو پیش نہیں کیا جا رہا کہ جن کا تعلق جہاد، ختمِ نبوتؐ اور دیگر اُمور سے ہے۔ کیا ہمارے حکمران اس چہیتے نظامِ تعلیم میں کسی درجے کا کوئی کردار ادا کرنے میں بے بس ہیں؟ اگر وہ بے بس ہیں تو پھر 'جی سی ای' نظام کو پاکستان کے بہترین دماغوں، پاکستان کے مستقبل اور کوالٹی کی تعلیم حاصل کرنے والے شہریوں کی اولادوں کو افتراق، انتشار، فرقہ وارانہ بحثوں میں اُلجھانے کا اختیار کس نے دیا ہے؟ کیا یہ ریاست در ریاست نہیں ہے کہ جس پر حکومت ِ پاکستان یا ریاست ِ پاکستان کو کوئی قدرتِ کلام نہیں ہے اور کوئی قوتِ نافذہ تک حاصل نہیں ہے؟
صرف اسی ایک بات سے مسئلے کی نزاکت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے کم و بیش ہر بڑے شہر اور ہربڑے قصبے میں 'او؍ اے لیول' کے اسکول قائم ہیں اور امتحان کے نام پر ہزاروں روپے، جو آخرکار قومی سطح پر اربوں میں ڈھل کر برطانیہ عظمیٰ کی چوکھٹ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن گذشتہ پانچ برسوں کے دوران ہم نے سینٹ اور قومی اسمبلی کے فلور پر اس نظام کے تحت امتحان دینے والے بچوں کی رجسٹرڈ تعداد دریافت کرنے کے لیے سوال بھیجے اور یہ بھی پوچھا کہ رجسٹریشن اور امتحان کے لیے سال بہ سال کتنی فیس بیرونِ ملک روانہ کی جاتی ہے، مگر ان دونوں سوالوں کا جواب وزارتِ تعلیم، وزارتِ خزانہ، وزارتِ داخلہ وغیرہ کسی نے بھی نہیں دیا۔ ان سبھی وزارتوں نے ایک سطری جواب میں ٹرخا دیا: ''اعداد وشمار نہیں۔'' یا پھر یہ کہ ''یہ سوال ہم سے متعلق نہیں۔''
حیرت کی بات ہے کہ اکثر حکمرانوں کے بچے انہی اداروں میں پڑھتے ہیں، مگر وہ ان کے بارے میں معلومات مہیا کرنے سے قاصر ہیں۔ ان کے برعکس مسجد مکتب کا ذکر آجائے تو داخلہ، خارجہ، اوقاف اور تعلیم کی وزارتوں کے ایوان دہل جاتے ہیں اور ایجنسیاں مل کر دس دس فہرستیں تیار کرلیتی ہیں، لیکن دوسری جانب ایک غیرملکی امتحانی نظام من مانی کرنے، من پسند فیس جمع کرنے، من بھاتے نصاب پڑھانے کے لیے آزاد، خودمختار اور طاقت کی علامت ہے، اور کالے انگریزوں کے لیے سٹیٹس سمبل ہے __مگر اس کے متعلقین و متاثرین کے بارے میں ریاست کے پاس چند سطروں کی معلومات بھی موجود نہیں ہیں۔


حوالہ جات
1. ص 33
2. ص 111
3. ص 112
4. ص 118
5. ص 131