Mohaddis-322-Jul2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

یہ امر کسی سے مخفی نہیں ہے کہ ہمارے ملک، برصغیر پاک وہند کے پورے علاقے کی دینی درسگاہوں بلکہ سرکاری سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھی، قرآنِ کریم کی تعلیم وتدریس کا جو طریقہ عرصۂ دراز سے رائج چلا آ رہا ہے، وہ 'ترجمہ قرآنِ کریم' کے نام سے معروف ہے۔ یہ بچوں کی ابتدائی تعلیم کے مرحلے میں تین چار سال تک جاری رہتا ہے۔ اور اس کی تدریس یوں ہوتی ہے کہ درس کے آغاز پر ایک طالبعلم مقررہ آیات تلاوت کرتا ہے، پھر معلم ان آیاتِ کریمہ کا اپنی مقامی زبان اُردو، پشتو یا سندھی وغیرہ میں ترجمہ سکھاتا ہے۔ وہ ان کا ترجمہ کرتے ہوئے ان میں مذکور مشکل الفاظ اور تراکیب کی حسب ِضرورت تشریح بھی کرتا جاتا ہے۔ طلبہ اور طالبات اس ترجمہ اور تشریح کو نہایت توجہ اور انہماک سے سنتے ہوئے یاد کرلیتے ہیں ۔ کچھ مدرّسین اور شیوخ خصوصاً تفسیر قرآن کے مرحلے میں قرآنی مطالب کی تفسیر کو اِملا بھی کرادیتے ہیں ۔ بلا شبہ قرآنِ کریم کی تعلیم وتدریس اور تفسیر کے اس منہج سے زیر تعلیم طلبہ کو مندرجہ ذیل تعلیمی اور دینی فوائد حاصل ہوتے ہیں کہ
وہ قرآنِ کریم کے لفظی اور بامحاورہ معنی سیکھ لیتے ہیں ۔
وہ قرآنِ کریم کے الفاظ اور تراکیب کو سمجھنے لگتے ہیں اور کسی حد تک ان کی لغوی، صرفی اور نحوی تشریح سے آگاہ ہوجاتے ہیں ۔
وہ قرآنِ حکیم کا ترجمہ اور تشریح نیز تفسیر پڑھ کر اس کے متن کے براہِ راست فہم ومطالعہ کی اہلیت حاصل کرلیتے ہیں ، اور قرآنی احکام وارشادات سے استفادہ کے اہل ہوجاتے ہیں ۔
چنانچہ ان متعدد فوائد کی بنا پر 'ترجمہ قرآن حکیم' کا یہ مضمون ہماری تمام چھوٹی اور بڑی درسگاہوں میں جاری وساری ہے اور اس کی افادیت پر تمام علماء اور مدرّسین کا اتفاق ہے۔

تنقیدی نظر
میں اس امر سے اتفاق کرتا ہوں کہ ترجمہ قرآنِ کریم کی تدریس سے مذکورہ بالا فوائد حاصل ہوتے ہیں ، اور اس مضمون کے مروّجہ طریقۂ تدریس کی اِتنی افادیت مسلّمہ امر ہے۔ لیکن قرآنِ کریم کی تعلیم وتدریس کے یہ فوائد خود ناکافی اور محدود ہیں اور یہ اس کی تعلیم وتدریس کے کئی دیگر بنیادی تعلیمی مقاصد کا اِحاطہ نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ طریقۂ تدریس عالمی سطح پر مسلّمہ تعلیمی معیار پر پورا نہیں اُترتا اور بچوں کی اچھی تعلیم وتربیت کے کم از کم لازمی تقاضوں کی تکمیل نہیں کرتا۔ چنانچہ انہی اسباب کی بنا پر ہمارے نونہالوں کی تعلیم وتربیت کے کئی اہم اور بنیادی گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں ۔ اور مملکت ِپاکستان میں ہماری دینی اور تعلیمی ضروریات کی تکمیل کے لئے جس سطح کے ماہر معلّمین، اساتذہ، علما اور اسکالرز کی ضرورت ہے، ان کی تعلیم وتربیت میں بھی یہی ناقص طریقۂ تدریس نافذ وغالب ہے، اس لئے بہتر نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ اس طریقۂ تدریس کے فوائد کے مقابلے میں نقصانات زیادہ ہیں ۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں زیر تعلیم بچوں کو قرآنِ کریم کی آیاتِ کریمہ کا صرف مقامی زبان میں ترجمہ کرنے پر لگا کر قرآن کی آسان عربی زبان اور اَدب کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور اُنہیں اس کو لکھنے یا بولنے کی کوئی تربیت نہیں دی جاتی۔ بلکہ اُنہیں ایسی تربیت یا مشق سے کئی سال تک مسلسل لا تعلق رکھتے ہوئے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اتنا جامد کردیا جاتا ہے کہ اس کے بعد وہ عربی زبان وادب میں اچھی صلاحیت یا بلند مقام کا سوچ بھی نہیں سکتے، اور وہ اس کے بارے میں ہمیشہ کے لئے مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
اس لئے تعلیم قرآن کریم کے مروّجہ طریقۂ تدریس کی فوری اِصلاح کرتے ہوئے اسے اپنے قومی اور ملی مقاصد اور تعلیم وتربیت کے جدید تقاضوں کے مطابق ترقی دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ میں دینی مدارس کے اساتذہ، مہتمم حضرات اور تعلیمی وفاقوں کے ذمہ دار بلند مرتبہ علماے کرام اور شیوخ سے درخواست کرتا ہوں کہ میری ان گزارشات پر توجہ فرمائیں ۔
إِنْ أُرِ‌يدُ إِلَّا ٱلْإِصْلَـٰحَ مَا ٱسْتَطَعْتُ ۚ وَمَا تَوْفِيقِىٓ إِلَّا بِٱللَّهِ!
ہمارے دینی تعلیمی نظام کا اہم ترین مضمون تعلیم قرآنِ کریم ہے اور زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو اس کی بہتر تعلیم وتفہیم کی خاطر اُنہیں عربی زبان وادب اور حدیث و فقہ نیز اُصول کے کئی علوم وفنون کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس لیے ایک ایسی جماعت جسے ہم مستقبل میں اُمت کی تعلیمی اور فکری قیادت کے لیے تیار کر رہے ہیں اور وہ عنقریب معلم، ادیب، مفتی وخطیب اور محدث ومفسر کی عظیم ذمہ داریوں کو سنبھالیں گے،اس کو کتاب اللہ اور فرقانِ حمید کی تعلیم وتدریس کا طریقہ اور منہج ایسا جامع، منظم اور مثالی ہونا چاہیے جو اُنہیں قرآنی الفاظ اور عبارتوں کا ترجمہ سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کی عمدہ فکری، لسانی اور ادبی تربیت ومہارت کی اَساس بن سکے۔

صرف لفظی ترجمہ رٹنے کا متعدی مرض
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تعلیم قرآنِ کریم کا یہ عظیم ترین مضمون، اس کی عبارت کا صرف لفظی اور زبانی ترجمہ رٹنے اور رٹانے تک محدود چلا آ رہا ہے اور تین چار سال تک اسی نہج پر چلتا رہتا ہے، اور ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا جاتا کہ اس مضمون کے دوسرے سال یا اگلے سالوں میں اس کے تعلیمی مقاصد یا تدریسی نہج میں مزید ترقی کرتے ہوئے اس میں مزید تعلیمی مقاصد کا اضافہ کردیا جائے۔ نتیجتاً معلّمین اور طلبہ وطالبات سب کی نظریں اسی لفظی ترجمہ کو پڑھنے، پڑھانے اور یاد کرنے تک مرکوز اور محدود رہتی ہیں ۔ رہا قرآنِ کریم کا اصل عربی متن تو وہ ان سب کی نظروں سے اس قدر اوجھل رہتا ہے کہ اس پورے عرصے میں اُنہیں اس کی عبارتوں ، استعمالات اور الفاظ کے فہم ومطالعہ پر کوئی بحث یا مشق نہیں کرائی جاتی۔ اس لیے وہ قرآنِ کریم کے نہایت آسان عربی استعمالات اور محاوروں سے بھی ناواقف رہتے ہیں اور مشہور قرآنی افعال کے مادوں اور ان کے صلات تک کو نہیں سمجھتے۔
ہماری اسلامی درسگاہوں میں تعلیم قرآن ایسے بنیادی اور اہم اسلامی مضمون کا یہ جمود نسل در نسل چلا آرہا ہے اور اس نے ہمارے لاکھوں ذہین اور محنتی نوجوانوں کی تعلیم وتربیت پر کئی منفی اثرات ڈالے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ نمایاں نقصان یہ ہے کہ ان لاکھوں نوجوانوں کو کتابِ حکیم کی عربی زبان وادب کے فہم ومطالعہ سے اس حد تک محروم رکھا جاتا ہے کہ اس کی تدریس تین چار سال کا طویل عرصہ جاری رہنے کے باوجود معلّمین یا طلبہ کو اس پر عربی زبان میں چند صفحات لکھنے یا بولنے کی مشق نہیں کرائی جاتی۔ آپ کو شاید دنیا کے کسی ترقی یافتہ تعلیمی نظام میں کسی کتاب یا کورس کا محض لفظی ترجمہ رٹانے کے اس جمود کی ایسی کوئی مثال نہ ملے جو ہماری درسگاہوں میں سالوں تک جاری رہتا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ جمود عرصہ دراز سے چلا آرہا ہے۔
یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ عام لوگ جو کسی مستند تعلیمی درسگاہ میں نہ پڑھتے ہوں ، وہ اگر اپنی کاروباری مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر صرف ترجمہ قرآن کریم پڑھیں تو یہ ان کے لیے بہت کام کی بات ہے، کہ وہ اس طرح قرآن کریم کے الفاظ کا لفظی ترجمہ یاد کرکے اللہ تعالیٰ کے احکام اور ارشادات سے آگاہ ہورہے ہیں ۔ لیکن جس گروہ نے اپنی عمروں کا بہترین وقت کسب وتعلّم کے لئے وقف کیا ہوا ہے اور وہ اسلامی تعلیم اور عربی زبان کے تمام بنیادی علوم وفنون کو سالہا سال پڑھیں گے اور مستقبل میں بلند علمی مناصب پر فائز ہوں گے، کیا وہ بھی ان عام لوگوں کی طرح سالوں قرآن کریم کا صرف لفظی ترجمہ ہی رٹتے رہیں ؟
ایسی صورتحال میں یہ لازمی اور مفید ہوگا کہ جب ان میں مناسب صلاحیت کے ساتھ ساتھ وقت کی گنجائش بھی ہوتی ہے تو اُنہیں اس کتابِ حکیم کا مقامی زبان میں ترجمہ کرنے کے علاوہ اس کی آسان اور مبارک عربی لغت، محاوروں اور استعمالات پرمفید معلومات بھی فراہم کی جائیں اور پھر ان معلومات کو ان کے ذہنوں میں راسخ کرنے اور ان کے عملی استعمالات کی تربیت دینے کی غرض سے ان سے متنوع مشقیں حل کرائی جائیں ۔

ہم تعلیم قرآن اور عربی زبان کے اچھے معلم کیوں تیار نہ کرسکے؟
ہماری عظیم درسگاہوں میں کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس جس سادہ اور ناقص طریقے پر چلی آ رہی ہے اسکے مضر اثرات کی وسعت کا جائزہ لینے کے لئے ان پہلوئوں پر غور کرنا مفید ہوگا:
ہمارے طلبہ اور طالبات اپنی نوعمری میں پوری لگن اور شوق سے اپنا تعلیمی سفر شروع کرتے ہیں ، اس لئے یہ ان کی عمدہ تعلیم، بہتر تربیت اور تخلیقی صلاحیتوں کی اچھی نشو ونما کا سنہری موقعہ ہوتا ہے، اور اُنہیں عربی زبان کو لکھنے اور بولنے کا ابتدائی سلیقہ اور تربیت دینے کا بھی یہی فطری وقت ہوتا ہے، لیکن چونکہ ہماری درسگاہوں میں مروجہ طریقۂ تدریس کا زیادہ زور عربی عبارتوں کا لفظی ترجہ رٹنے اور صرف ونحو کی گردانوں اور قواعد کو استعمالات کے بغیر یاد کرنے پر ہی رہتا ہے، اس لئے ہمارے نہایت ذہین اور محنتی بچے بھی عربی ایسی آسان زبان کو لکھنے اور بولنے کی مشق نہںر کرتے۔ اور وہ قدرتی طور پر اس پہلو میں جمود کا شکار ہوتے ہیں جو آگے جا کر عملی زندگی میں ان کے لئے طرح طرح کی مشکلات کا باعث بنتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس وقت جو طریقۂ تدریس ہمارے ہاں رائج ہے، اس میں طالبعلم سورئہ فاتحہ سے لے کر سورئہ ناس تک پڑھتے ہوئے عربی میں چند صفحات بھی لکھنے کی مشق نہیں کرتا۔
پھر اس ایک مضمون کے طریقۂ تدریس کی پسماندگی صرف اس ایک مضمون تک محدود نہیں ہے، بلکہ اکثر معلّمین تعلیم وتدریس کے فن سے نا آشنا ہوتے ہیں اور مدارس کی انتظامیہ بھی اُنہیں فن تعلیم میں تربیت اور تدریب کے مواقع فراہم نہیں کرتی، اس لئے وہ اس پرانے طریقۂ تدریس کو آسان اور چلتا ہوا سکہ خیال کرتے ہوئے اپنائے چلے جاتے ہیں ۔ چنانچہ اس وقت ہماری درسگاہوں میں اکثر مضامین کی تدریس اسی لفظی اور زبانی ترجمہ اور تشریح تک محدود رہتی ہے اور یہ طرزِ تدریس سالِ اوّل سے لے کر الشهادة العالیة اورالشهادة العالمیة تک بلکہ اس سے بھی آگے تخصص کی اقسام (تخصص فی التفسیر، تخصص فی الحدیث، تخصص فی الفقہ، تخصص فی الافتاء وغیرہ) اور یونیورسٹی کے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے کورس میں بھی جاری رہتا ہے۔ یوں کاہلی اور جمود کا یہ متعدی مرض نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔
ہمارے عربی مدارس اور اسلامی درسگاہوں میں رائج اس ناقص اور مضر طریقۂ تدریس کا ایک وسیع اور قومی سطح کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ یہ درسگاہیں آج تک سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں اور کالجوں میں عربی زبان وادب اور اسلامی علوم کی معیاری تدریس کے لئے اچھے معلّمین اور اساتذہ تیار نہیں کرسکیں ، کیونکہ جن معلّمین نے خود ایسے ماحول میں تعلیم پائی ہوتی ہے، وہ عملی زندگی میں تدریس کے جدید اور ترقی یافتہ انداز اپنانے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ یہ مسلّمہ قاعدہ ہے: فاقد الشيء لا یُعطیہ (جو شخص خود کسی خوبی سے محروم ہو، وہ اسے دوسروں کو نہیں دے سکتا)۔ انہی اسباب کی بنا پر ہم قیام پاکستان کے بعد آج تک ماہر معلّمین اور اساتذہ کی تیاری کے اس خلا کو پر نہیں کرسکے۔

اپنا مختصر تعارف
چونکہ زیر بحث مسئلہ ملک بھر کے اسلامی مدارس کے نظامِ تعلیم سے متعلق ہونے کی وجہ سے نہایت اہم ہے اور عمیق غور وفکر کا متقاضی ہے، اس لئے میں اس موقع پر محترم علماء اور اساتذہ کی اطلاع اور اطمینان کے لئے اپنا مختصر تعارف عرض کرنا مفید خیال کرتا ہوں ۔
میں یہ گذارشات بتوفیقہ سبحانہ وتعالیٰ تعلیم وتربیت کے میدان میں اپنے طویل تجربات اور غور وفکر کی روشنی میں ان عظیم اسلامی درسگاہوں کو بہتر علمی وتعلیمی ترقی دینے کی غرض سے پیش کر رہا ہوں ۔ میں خود متعدد اسلامی درسگاہوں کا بانی ہوں ، اور دن رات ان کے بہتر اور ترقی یافتہ نصاب کی ترتیب وتصنیف میں مشغول رہتا ہوں ۔ ماضی میں ملت کے جن اکابر علماء اور مفکرین سے میرا کسی طرح کا تعلق رہا ہے، میں ان کی قیمتی آرا سے استفادہ کرتے ہوئے ہی اسلامی علوم اور عربی زبان کی خدمت کر رہا ہوں ۔ ان میں اوّلاً میرے اساتذہ مولانا عبدالغفار حسن، مولانا حافظ محمدمحدث گوندلوی، مولانا معاذ الرحمن، مولانا عبد اللہ امرتسری، مولانا مفتی سیاح الدین کاکاخیل اور مولانا مفتی ابوالبرکات مدراسی ہیں ۔ ان کے علاوہ مولانا عبدالرحیم اشرف، مولانا مفتی محمد شفیع (ان کی جو تقریر اب 'وحدتِ اُمت' کے عنوان سے چھپتی ہے، اسے اُنہوں نے پہلی بار مولانا عبدالرحیم اشرف کی درخواست پر ہمارے ادارے جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ میں بیان فرمایا تھا، پھر راقم نے اسے کیسٹ سے قرطاس پر منتقل کیا تھا)، مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانا محمد حنیف ندوی، مولانا ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، مولانا خلیل احمد حامدی، مولانا عطاء اللہ حنیف نیز مولانا ابوالحسن علی ندوی، مولانا منظور احمد نعمانی، اور مُعلِّم الانشاء کے مؤلف مولانا عبدالماجد ندوی اور اسی طرح اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ کے وائس چانسلر اور سعودی عرب کے مفتی اکبر شیخ عبدالعزیز بن باز، الطریقة الجدیدة کے مؤلف ڈاکٹر احمد امین مصری کے اسماے گرامی شامل ہیں ۔
رحمهم اﷲ جمیعًا وغفر لهم ورفع درجاتهم!
میں 1973ء کے آخر میں اسلامی یونیورسٹی مدینہ منورہ میں اعلیٰ تربیتی کورس کے لئے گیا تو میرے ہمراہ محترم ڈاکٹر شیرعلی اور مولانا محمود اشرف بھی تھے۔ میں اس سے پہلے ہی پاکستان میں عربی زبان اور دیگر اسلامی علوم کی جدید نہج پر تدریس کر رہا تھا۔ مولانا عبدالرحیم اشرف کی سرپرستی میں سات آٹھ سال جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ میں بہت عمدہ تجربات ہوئے اور یہیں سے نصابی کتابوں کی تصنیف شروع کی۔ بعدازاں چند ماہ محتر ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تنظیم اسلامی اور جامعہ اشرفیہ میں عربی زبان کی تدریس کرتا رہا۔ وہاں کے بزرگوں مولانا عبیداللہ، مولانا عبدالرحمن اشرفی اور مولانا حافظ فضل الرحیم سب کا اعتماد اور تعاون حاصل رہا۔
اسلامی یونیورسٹی، مدینہ منورہ میں اپنے قیام کے دوران مولانا ابوالحسن علی ندوی رحمة اللہ علیہ سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی تو ان سے دار العلوم ندوة العلماء کے اس وقت کے نصابِ تعلیم اور برصغیر پاک وہند میں عربی زبان وادب کی اشاعت پر تبادلہ خیال ہوتا۔ وہ اکثر میری سوچ اور جذبہ عمل کی حوصلہ افزائی فرماتے۔ ایک بار اُنہوں نے حرمِ مکی میں مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
''بشیر صاحب! مملکت ِپاکستان میں عربی زبان کے ایک سپاہی کی ضرورت ہے اور وہ آپ ہی ہوسکتے ہیں ۔ لہٰذا سفارت خانے کی ملازمت کو چھوڑ کر پاکستان جائیے۔''
میں پہلے ہی اسی نظریے کو لے کر عالم عرب میں عربی زبان وادب کی ترقی کا مشاہدہ اور مطالعہ کرنے کی غرض سے سعودی عرب گیا تھا۔ مزید کسی ڈگری یا ملازمت کا حصول میرا مقصد نہ تھا۔ اس سے قبل ان کی تصنیف 'پا جا سراغِ زندگی' پڑھ چکا تھا اور اس سے متاثر تھا، اس لئے ان کی اس رائے سے میرے پرانے تصور کو تقویت ملی۔ چنانچہ میں نے جدہ کے پاکستانی سفارتخانے میں ملازمت کے دنوں میں اقرأ الجزء الاوّل کا مسودہ تیار کر لیا تھا اور الجزء الثانی کی ترتیب جاری تھی۔
آخر میں اپنے مہربان دوست اور تعلیم عربی کے عالمی ماہر جناب ڈاکٹر ف عبد الرحیم مؤلف کتاب دروس اللغة العربیة (تین حصے) کا تذکرہ ضروری سمجھتا ہوں کہ جن کے ساتھ سعودی عرب میں اپنے قیام کے دوران اور کئی تعلیمی کانفرنسوں میں تبادلہ خیال کا موقع ملا اور ان کے تجربات سے استفادہ کیا۔پس چہ باید کرد؟
اسلامی مدارس کے ابتدائی سالوں میں جو طلبہ اور طالبات عربی زبان اور اسلامی تعلیم کے مختلف علوم وفنون پڑھتے ہیں ، اُنہیں کتاب اللہ کی تعلیم وتدریس جدید تعلیمی نظریات اور تجربات کے مطابق اور عالمی سطح پر مسلّمہ اور معیاری طریقۂ تدریس کے مطابق کی جائے جس کا خاکہ ذیل میں دیا جا رہا ہے... واﷲ الموفق والمستعان !
اوّلاً:اس مضمون کا موجودہ عنوان 'ترجمہ قرآنِ کریم' بدل کر اسے تعلیم القرآن الکریم یا تدریس القرآن الکریم کا نام دیا جائے۔
ثانیاً:ان طلبہ اور طالبات کے لئے تدریس القرآن الکریم کے ہر سبق میں درج ذیل تین اجزا یا حصے ہوں گے:
1۔ شرح الکلمات

2۔ ترجمة الآیات وشرحها

3۔ المناقشة

1۔ شرح الکلمات:

معلم ہر سبق کے شروع میں اس کی مقررہ آیاتِ کریمہ کے الفاظ اورتراکیب کی لغوی تشریح کو تختۂ سیاہ پر لکھے تاکہ بچے اسے اپنی کاپیوں میں درج کریں ۔
اس جز کے تیس (30) نمبر ہوں گے۔

2۔ ترجمة الآیات وشرحہا:

بعد ازاں معلم ان آیاتِ کریمہ کا مقامی زبان میں ترجمہ کرے گا اور بچوں کے معیار کے مطابق ان کی تشریح کرے گا۔ اس ترجمہ کے پچیس (25) نمبر اور تشریح کے پندرہ (15) نمبر ہوں گے۔ یوں اس جز کے کل چالیس (40) نمبر ہوں گے۔

3۔ المُناقـشـة:

آخر میں معلم ان آیاتِ کریمہ کے جملوں اور مضمون پر زیر تعلیم بچوں کے معیار کے مطابق آسان عربی زبان میں سوالات تختہ سیاہ پر لکھے گا اور بچے ان سوالات کے عربی میں جواب دینے کی زبانی مشق کریں گے اور بعد میں ان سوالات اور ان کے جوابات کو اپنی کاپیوں میں لکھیں گے۔ اس جز کے تیس (30) نمبر ہوں گے۔

مجوزہ تبدیلیاں
ملکی درسگاہوں میں کتاب اللہ کی ایسی معیاری اور جامع تدریس کے لئے ہمیں اس کے موجودہ طریقۂ تدریس میں درج ذیل دو بڑی تبدیلیاں کرنا ہوں گی:
قرآنِ کریم کے الفاظ کی لغوی تشریح کو بہتر اور منظم اُسلوب میں پڑھایا جائے: اس وقت ترجمہ قرآنِ کریم پڑھاتے ہوئے اکثر معلّمین قرآنی الفاظ کی جو تشریح کرتے ہیں ، وہ بہت کم اور سرسری ہوتی ہے، اور وہ بھی اکثر زبانی بتا دی جاتی ہے اور بچوں کو املا نہیں کرائی جاتی، اِلا ما شاء اﷲ۔ اس لئے اس سے زیر تعلیم بچوں کے ذہنوں میں لغوی معلومات کو راسخ کرنے میں چنداں مدد نہیں ملتی۔ یہ سلسلہ بہرحال کم سن بچوں کی تعلیم و تربیت میں بہت مفید ہے۔ اس لئے اسے زیادہ مؤثر اور منظم صورت دینے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے دو باتوں کو واضح اور متعین کرلیا جائے۔
1۔ان مطلوبہ لغوی معلومات کا دائرہ متعین کرلیا جائے۔
2۔ پھر اُنہیں جماعت کے طلبہ کو پیش کرنے کا طریق کار واضح کردیا جائے۔
3۔ مطلوبہ لغوی معلومات
4۔ شروع میں صرف مشہور اور کثیر الاستعمال عربی افعال کا ماضی، مضارع، مصدر اور معنی بتائے جائںد ۔
5۔ اگر آیت ِکریمہ میں اسم مفرد استعمال ہوا ہے تو اس کا معنی اور جمع بتائی جائے، اور جمع کی صورت میں اس کا معنی اور مفرد بتایا جائے، وغیرہ۔جبکہ دو تین پارے پڑھنے کے بعد ان میں درج ذیل معلومات کا اضافہ کر لیا جائے:
6۔ مشہور افعال کے صلات یعنی ان حروفِ جر کا بتایا جائے جو ان افعال کو متعدی بنانے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، مثلاً قال کے بعد لِ کا استعمال مثلاً وَإِذْ قَالَ رَ‌بُّكَ لِلْمَلَـٰٓئِكَةِ...﴿٣٠﴾...سورة البقرة
7۔ قرآنِ کریم میں مستعمل متضاد کلمات نیز مترادف کلمات بتائے جائیں ۔
8۔ اس مرحلے پر نسبتاً مشکل افعال اور اسماء کی تشریح بھی کی جائے۔
9۔ لغت ِقرآن، صرف ونحو نیز علم بلاغت کی آسان اور عام فہم دیگر ایسی معلومات جنہیں معلم بچوں کے معیار کے مطابق مناسب تصور کرے، بھی لکھوائی جائیں ۔1

طریق کار
ان لغوی معلومات کو بچوں کو اس طریقے پر پڑھایا جائے:
1۔ معلم سبق پڑھانے سے قبل مقررہ آیات کے منتخب الفاظ کی تشریح تیار کرکے لائے۔
2۔ اور وہ اسے درس کے شروع میں بچوں کے سامنے تختۂ سیاہ پر لکھے۔
3۔ اور بچے اسے آواز سے پڑھتے ہوئے یاد کریں اور اپنی کاپیوں میں لکھیں ۔
4۔ اور معلم اس امر کا اہتمام کرے کہ تمام بچے ان معلومات کو اپنی اپنی کاپیوں میں لکھیں ۔
 عربی زبان کے استعمالات اور سوال وجواب کی مؤثر تربیت دی جائے:قرآنِ کریم کی عربی زبان نہایت آسان اور سلیس ہے۔ اس کے الفاظ سہل اور عام فہم ہیں اور زیادہ تر چھوٹی چھوٹی ترکیبات، مختصر جملے اور میٹھے میٹھے بول ہیں ۔ پھر اہل زبان کے ہاں انتہائی معروف ومشہور محاورے اور استعمالات، اور اُسلوبِ بیان اس قدر عام فہم کہ اوسط درجے کا قاری اسے بخوبی سمجھ لے۔ اس کی اس خوبی کو خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بیان فرمایا ہے وَإِنَّهُۥ لَتَنزِيلُ رَ‌بِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ﴿١٩٢﴾ نَزَلَ بِهِ ٱلرُّ‌وحُ ٱلْأَمِينُ ﴿١٩٣﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ ٱلْمُنذِرِ‌ينَ ﴿١٩٤﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِىٍّ مُّبِينٍ ...﴿١٩٥﴾...سورة الشعراء
نیز فرمایا وَهَـٰذَا لِسَانٌ عَرَ‌بِىٌّ مُّبِينٌ ﴿١٠٣﴾...سورة النحل

میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ ہم عجمی مسلمان ہیں اور ہماری مادری اور قومی زبان عربی نہیں ہے۔ اس لئے ہمارے بچے قرآنِ کریم کی عبارت کو براہِ راست عربی میں نہیں سمجھ سکتے۔ لیکن ہم اپنی اس کمزوری کے اِزالے کی خاطر اپنے زیر تعلیم بچوں کو قرآنِ کریم کے ابتدائی فہم کے لئے (1)اس کے الفاظ، ترکیبوں ، اور مشہور محاوروں اور استعمالات کی مناسب تشریح اور معنی یاد کراتے ہیں ۔ نیز (2) اُنہیں اس کی آیاتِ کریمہ کا پورا ترجمہ پڑھاتے ہیں ۔ تو اب ان کے لئے کتاب اللہ کے ابتدائی فہم ومطالعہ کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ پھر (3) اس حقیقت کو مدنظر رکھیں کہ وہ ایک دینی درسگاہ کے طلبہ اور طالبات ہیں اور ابتدائی عربی زبان (نثر ونظم) کے کئی اسباق نیز علم صرف، علم نحو اور دوسرے کئی ایسے مضامین پڑھ رہے ہیں جو عربی زبان کے فہم اور استعمال میں معاون اور خادم ہیں ۔ اس لئے اب وہ قرآنِ کریم کے اسباق میں ابتدائی سطح کی آسان عربی زبان میں سوال وجواب اور دیگر ایسی مشقوں کو حل کرنے کی اچھی قدرت رکھتے ہیں ، جو ان کی مزید علمی اور لسانی ترقی میں معاون بنیں گی۔
اس لئے اس مرحلے پر معلم قرآنِ مجید کی آیاتِ کریمہ کے مضمون اور جملوں پر آسان عربی میں سوالات تیار کرے اور اُنہیں تختہ سیاہ پر لکھے۔ بچے اُنہیں سمجھیں اور پھر عربی میں ان کے جوابات بولیں ۔ جہاں ضرورت ہو تومعلم ان کی مدد کرے۔ بعد میں بچے سوال وجواب کی ایسی مشقوں کو اپنی کاپیوں میں لکھیں گے اور معلم ان کی تصحیح کرے گا۔
جبکہ اس کورس کے تیسرے اور چوتھے سال میں طلبہ سبق کی مقررہ آیات کا عربی زبان میں مختصر خلاصہ بھی پیش کیا کریں گے۔

سورئہ فاتحہ کی تدریس کی مثال
اب میں اپنی معروضات کو مزید واضح کرنے کے لئے اس مجوزہ تدریسی خاکے کے مطابق سورئہ فاتحہ کی تدریس کی مثال پیش کرتا ہوں :
شرح الکلمات: معلم سبق کے شروع میں سورئہ فاتحہ کے الفاظ کی درج ذیل تشریح کو تختۂ سیاہ پر لکھے گا جسے طلبہ مناسب آواز سے پڑھتے ہوئے اپنی کاپیوں میں لکھیں گے۔
أَعُوْذُ میں پناہ مانگتا ہوں عَاذَ یَعُوْذُ عَوْذًا وَّعِیَاذًا پناہ مانگنا
بِاﷲِ اللہ کی مِنْ سے الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ راندہ ہوا شیطان
بِـسْمِ نام سے (اصل میں بـاِسم تھا)
الرَّحْمٰنِ بہت زیادہ رحم کرنیوالا الذي یرحم کل شيء
الرَّحِیْمِ سدا رحم کرنے والا الذي یرحم دائمًا وأبدا
اَلْحَمْدُ سب تعریفیں حَمِد یَحْمَد حَمْدًا تعریف کرنا
رَبِّ پروردگار جمع أرباب الْعَالَمِیْنَ جہانوں مفرد عالَم
یَوْمِ دن جمع أیـّام الدِّیْنِ بدله إِیَّاکَ صرف تیری ہی
نَعْبُدُ ہم عبادت کرتے ہیں عَبَد یعبُد عبادة عبادت کرنا
نَسْتَعِیْنُ ہم مدد مانگتے ہیں استعان یستعین استعانة مدد مانگنا
اِہْدِنَا آپ ہماری رہنمائی کریں هَدٰی یَهدِي هُدًی رہنمائی کرنا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ سیدھی راہ وهو سبیل الأنبیاء والمرسلین
أَنْعَمْتَ عَلَیْهِمْ جن پر تو نے انعام کیا أنْعَمَ یُنْعِمُ إنْعَامًا انعام کرنا
غَیْرِ وہ لوگ نہیں الْمَغْضُوْبِ عَلَیْهِمْ جن پر غضب ہوا
الضَّالِّیْنَ گمراہ لوگ آمِیْن قبول فرما
ترجمة الآیات:پھر معلم جماعت کو اپنی مقامی زبان میں ترجمہ پڑھائے گا اور زیر تعلیم بچوں کے معیار کے مطابق اس کی تشریح کرے گا۔
المناقشة :
التمرین الأول: اب تیسرے مرحلے پر معلم تختۂ سیاہ پر سورہ فاتحہ کے بارے میں عربی میں درج ذیل سوالات لکھے گا جنہیں طلبہ مناسب آواز سے پڑھتے ہوئے اپنی کاپیوں میں درج کریں گے :

  1.  لمن الحمد؟ (الحمد ﷲ)
  2.  من ربُّ العالمین؟
  3. من رب الإنسان؟
  4.  من ربّ الحیوان؟
  5. من رب السَّمٰوات؟
  6. من رب الأرض؟
  7. ۔ من الرحمٰن؟
  8. من الذي یرحم کل شيئ؟
  9.  من الرحیم؟ 10
  10. من الذي یرحم دائمًا وأبدًا؟
  11. من نعبد؟
  12. من نستعین؟
  13. من یهدینا الصراط المستقیم؟
  14.   من یجیب دعائنا؟

سوالات کی تحریر سے فراغت کے بعد معلم جماعت کو ان کے عربی میں جواب دینے کی مشق کرائے گا اور حسب ِضرورت ان کی مدد بھی کرے گا۔ بعد میں بچے سوال وجواب کی اس مشق کو اپنی کاپیوں میں حل کرکے لائیں گے جنہیں معلم چیک کرکے ضروری تصحیح کرے گا۔
التمرین الثاني: اب معلم طلبہ سے کہے کہ وہ اپنی کاپیوں میں الحمد ﷲ کی طرح کے عربی میں دس جملے لکھیں ، مثلاً

  1.  الحمد ﷲ
  2.  التحیات ﷲ
  3.  الشکر ﷲ
  4.  الأرض ﷲ وغیرہ


معلم کے لئے مزید مشق:

اگر معلم چاہے اور وقت کی گنجائش موجود ہو تو طلبہ کو کہے کہ وہ اوپر کی مشق میں اپنے تمام عربی جملوں کے ترتیب وار سوالات بنائیں اور ان کے سامنے جوابات لکھیں ، مثلاً

  1.  لِمَن الحمد؟
  2.  لمن التحیات؟ وغیرہ

خلاصہ: آپ دیکھ رہے ہیں کہ الحمد للّٰہ ان آسان مشقوں کو حل کرتے ہوئے بچے قرآنی عربی زبان کے پچاس ساٹھ جملے بآسانی لکھ اور بول رہے ہیں ۔

بحث کے نتائج
اس وقت اسلامی مدارس میں تعلیم قرآن کریم کا مروّجہ طریقۂ تدریس (ترجمہ قرآنِ کریم) اس کی تعلیم وتدریس کے صرف چالیس فیصد(40) مقاصد کو پورا کر رہا ہے جبکہ ساٹھ فیصد (60) مقاصد کو نظرانداز کرتا ہے، اس بنا پر ہمارے طلبہ اور طالبات کی تعلیم و تربیت کے کئی اہم گوشے تشنہ رہ جاتے ہیں ۔
قرآنِ کریم کی عربی زبان اور اُسلوبِ بیان نہایت آسان اور پرکشش ہونے کے باوجود ہمارا طریقۂ تدریس اور معلّمین زیر تعلیم بچوں کو ان کے عملی استعمال اور لکھنے بولنے کی تربیت نہیں دیتے جس کے نتیجے میں وہ اپنی نوعمری میں اس نقص سے برا اثر لیتے ہوئے جمود کا شکار ہوجاتے ہیں ۔
اپنے طلبہ اور طالبات کی بہتر اور معیاری تعلیم وتربیت کے لئے اس ناقص طریقۂ تدریس کی فوری اصلاح کرتے ہوئے اسے جدید تعلیمی تجربات اور تحقیق کے مطابق از سر نو ترتیب دینا ضروری ہے۔
اگر ہم اپنی درسگاہوں کے اس طریقۂ تدریس کی مناسب اصلاح اور ترقی کا اہتمام کرلیں تو ان کے طلبہ اور طالبات کی علمی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ان درسگاہوں کا مقام اور وقار بڑھے گا۔
اور ان کے فضلا کے لئے اندرون وبیرون ملک مختلف میدانوں میں کام اور ترقی کے وسیع اور اچھے مواقع میسر ہوں گے، اور وہ چھ یا آٹھ سالہ تعلیمی کورس مکمل کرنے کے بعد نہیں ، بلکہ صرف تین سالہ کورس کرنے کے بعد بھی عربی زبان اور اسلامیات کے اچھے معلم ثابت ہوں گے، نیز وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے عرب دنیا کی کسی یونیورسٹی میں داخلے کے اہل ہوں گے، إن شاء اﷲ تعالیٰ وهو المُوَفِّق والمُستعان !

تقاضے اور ضروریات
کما لا یخفٰی علی السادة العلماء والمدرّسین قرآنِ کریم کی تعلیم وتدریس کو ترقی دینے کی اس تجویز پر اگر صدقِ دل اور محنت سے عمل کیا گیا تو یہ ان شاء اﷲ تعالیٰ ہماری عظیم اسلامی درسگاہوں کے نصابِ تعلیم، طریقۂ تدریس اور مجموعی ماحول میں ایک مثبت اور تعمیری انقلاب کا ذریعہ بنے گی، اور ان کے اسلامی اور ملی کردار اور عظمت میں اضافہ ہوگا۔ اس لئے محترم علماء اور مدرسین کو کتاب اللہ اور دوسرے علومِ شرعیہ کی تدریس میں موجود اس دیرینہ نقص کا فوری اِزالہ کرتے ہوئے اپنے طلبہ اور طالبات کی زیادہ معیاری تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اس اصلاحی مہم میں ایسے حضرات کو مؤثر کردا ادا کرنا چاہئے جو ان عظیم اسلامی درسگاہوں کے ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں ، خصوصاً وہ حضرات جنہوں نے الجامعة الإسلامیة العالمیة اسلام آباد، الجامعة الإسلامیة مدینہ منورہ اور مکہ، ریاض یا قاہرہ وغیرہ کی دوسری یونیورسٹیوں اور اداروں سے کسب ِفیض کیا ہے۔
البتہ اس تجویز کے مناسب اور مؤثر نفاذ کے لئے دو چیزوں کی فوری ضرورت ہوگی:
قرآنِ کریم کی ایسی تدریس میں معلّمین اور طلبہ وطالبات کی رہنمائی اور مددکے لئے مناسب دلیل یا مرشد المُعلم (teacher's guide) کی تیاری۔ الحمد للّٰہ معہد اللغة العربیة میں اس کی تیاری اور تصنیف پر چند سالوں سے کام جاری ہے۔
قرآنِ کریم کی اس نہج پر تعلیم وتدریس کی رہنمائی کیلئے معلّمین اور معلّمات کو کم از کم دو ہفتے کی تعلیمی تربیت دی جائے۔ یہ عملی تربیت وفاق کی سطح پر بھی دی جاسکتی ہے۔
وفاق المدارس السلفیہ نے گذشتہ ماہ (26؍ اپریل تا یکم مئی 2008ء)فیصل آباد میں 150 معلّمین اور معلّمات کی تربیت کا پہلا کورس مکمل کراتے ہوئے اس میدان میں پہل کردی ہے۔ ان عظیم مقاصد کی تکمیل کے لئے ایسے تربیتی کورسز کے انعقاد سے ہماری درسگاہوں کی بہتر تعمیر و ترقی کے راستے کھلیں گے اور ان کے فضلا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر زیادہ پذیرائی حاصل ہوگی۔ ان کورسز کے انعقاد کیلئے موجودہ حکومت اور جامعة الدُّوَل العربیة (عرب لیگ) سے مناسب مالی اور فنی امداد بھی لی جاسکتی ہے... ان شاء اﷲ تعالیٰ


حوالہ جات
1. مزید راہنمائی اور نمونے کے لئے دیکھئے: دلیل قصص النّبیین، جز اوّل، دوم اور سوم