چند برس قبل جب عالمی میڈیا میں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سنگین خدشات اُبھارے جاتے، 2012ء میں پاکستان کے خاکم بدہن صفحۂ ہستی سے مٹ جانے یا تقسیم ہوجانے یا 2015ء میں امریکہ کے سرکاری نقشہ میں پاکستان کا نام ونشان غائب ہونے کی باتیں کی جاتیں تو یہ اَفواہیں دشمن کی خواہشات اور یک طرفہ پروپیگنڈا کے سوا کچھ نہ دکھائی دیتیں لیکن گذشتہ ایک برس سے وطن عزیز کی بدترین کیفیت اور ہر طرف سے مسائل و مشکلات میں گھری صورتحال کو دیکھ کر واقعتا اس عظیم عطیہ خداوندی کے بارے میں ذہن میں کئی شکوک وشبہات اور اندیشے گہرے ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط میں اسلام کے نام پر ایک مملکت کا وجود کسی عظیم معجزہ اور خصوصی عنایت ِالٰہی کا اظہار ہے لیکن اس ملک کے ساتھ غیروں کی سازشیں تو رنگ نہ لاسکیں ، البتہ اس ملک کے باسیوں کی بدعملیوں اور کوتاہیوں نے اسے ممالک کی صف میں ایک شرمناک مقام ضرور دلا دیا ہے۔


ہرطرف سے سنگین مسائل میں گھرے وطن کواس کے حکمران کسی المیہ سے نجات دلانے کی خواہش کی بجائے مزید سے مزید تر مصائب ومشکلات میں اُلجھاتے ہی نظر آتے ہیں۔ گذشتہ برس کے انہی دنوں میں لال مسجد میں چہار سو موت کی خاموشی پھیلا دینے والے 'آپریشن سائلنس ' سے لے کر' آپریشن صراطِ مستقیم' تک کتنی ہی رسوائیاں حکمرانوں کے دامن پر موجود ہیں۔صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں ایک عظیم مملکت کس طرح 'پاکستان' سے 'مسائلستان' کا روپ دھارتی ہے، اس کا طائرانہ نظارہ بھی چشم کشا اور عبرت آموز ہے۔


مسائل میں گھرے عوام او ربنیادی سہولیات کے لئے سسکتے بلکتے لوگوں کی داد رسی کے لئے کوئی اِقدام کرنے کی حکومت کو کوئی فکر نہیں۔ بد اَمنی، مہنگائی، بجلی، بے روزگاری اور دین بیزاری جیسی بدترین صورتحال سے نمٹنے کا حکومت کے پاس کوئی وقت نہیں اور محض ۱۰۰ دن گزرنے اور موروثی مسائل کا کہہ کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا لی جاتی ہے، لیکن اگر ملک کے معصوم عوام 'مسلمانوں' پر قیامت ڈھانے کا کوئی مسئلہ ہو یا اسلام کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام پیش نظر ہو تو اس میں حکومت کی جراء تیں اور دلچسپیاں دیدنی ہوتی ہیں۔ حکمرانوں کا یہی رویہ اس ملک کے لئے پہلے بھی سنگین آزمائش بنا رہا ہے اور اب بھی اسے مزید ناکامیوں سے دوچار کرنے کا سبب ٹھہرے گا۔ کاش! ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور ربّ ِکریم کو ناراض کرکے اپنی ناکامی ونامرادی کو خود ہی دعوت نہ دیں۔


پاکستان میں دوبرس قبل جس طرح حدود قوانین میں تبدیلی کے لئے مجنونانہ میڈیا مہم بروے کار لائی گئی تھی، اور اس کے نتیجے میں ایسا ظالمانہ قانون ملک میں نافذ کردیا گیا تھا جو ملک کے اسلامی تشخص پر آج بھی کلنک کا ایک ٹیکہ ہے، اسی طرح گذشتہ ایک ماہ سے پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے مغربی دبائو اور پروپیگنڈے سے متاثر ہوکرسزاے موت کے خاتمے کی بھی کوشش شروع کررکھی ہے اور وفاقی کابینہ نے اس سزا کو ختم کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ایوانِ صدر میں مسودہ بھیج دیا ہے۔
یہ قانون جہاں پاکستان میں نافذ موت کی 26 سزائوں میں تبدیلی کا موجب ٹھہرے گا، وہاں اس کے ذریعے پاکستان میں نافذ العمل قصاص ودیت کے اسلامی قوانین میں بھی غیر شرعی تبدیلی واقع ہو گی۔مزید براں توہین رسالت کا قانون بھی عملاً غیرمؤثر ہو کر رہ جائے گا، جس کے خاتمے کے لئے مغرب عرصۂ دراز سے پاکستان پر دبائو ڈال رہا ہے۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی سرگرم رکن اور موجودہ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمن نے حدود اللہ میں ترمیم کو بھی اپنا 'سنہرا کارنامہ' قرار دیا تھا اور موجودہ رسوا کن تبدیلی کے سلسلے میں بھی اسی کابینہ کا نام لیا جارہاہے۔ اللہ کے قانون سے کھیلنا اور اس پر اِترانا اللہ کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے اور مسلمانی کا دعویٰ کرنیوالے نامعلوم یہ جرات کہاں سے حاصل کرلیتے ہیں کہ دل میںکسی ملال وپریشانی کے بجائے اپنے سیاہ کارناموں پر فخر بھی کرنا شروع کردیں۔
'سزائے موت کا خاتمہ' انسانی حقوق کی مغربی تنظیموں کا پرانا مطالبہ اور اس گھسے پٹے تصور کی بازگشت ہے کہ '' تہذیب وتمدن کے موجودہ دور میں ایسی سزائیں وحشیانہ ، ظالمانہ اور انسانی عزو شرف کے منافی ہیں۔ ایک انسان مر گیا لیکن اس کے بدلے ایک جیتے جاگتے انسان کو جینے کے حق سے محروم کردینا انسانیت کی توہین ہے۔اس موقف کے علم برداروں کی یہ جدوجہدہے کہ دنیا بھر کے دساتیر سے سزاے موت کے قانون کو نکال کر اسے منسوخ وکالعدم کردیا جائے تاکہ معاشرے میں متحارب فریقوں کے انتقامی جذبات کو ٹھنڈا کرکے امن وآشتی اور مصالحت ومفاہمت کا ماحول پیدا کرنے میں مدد مل سکے۔''
'سزائے موت کے خاتمے' کے پس پردہ مغرب کے 'خود ساختہ انسانی حقوق' کی تنظیمیں، یورپی یونین کے ممالک اور خود اقوامِ متحدہ ہے جس کی جنرل اسمبلی کی ایک قرار داد کہ سزاے موت کو دنیا بھر سے ختم ہونا چاہئے،پر گذشتہ سال رکن ممالک کی اکثریت نے دستخط کئے تھے۔ کئی سالوں سے مختلف ممالک میں اس سزا کے خاتمے کے لئے مغربی ادارے کانفرنسیں اور سیمینارز منعقد کرا رہے ہیں اور گذشتہ برس ۱۰؍اکتوبر۲۰۰۷ء کو اقوامِ متحدہ کی طرف سے عالمی سطح پر سزاے موت کے خاتمے کے دن کے طورپر بھی منایا گیا ہے۔
جماعت ِاسلامی کے نائب امیر سید منور حسن نے سزاے موت کی تبدیلی پر اپنے ایک مذمتی بیان میں یہ قرار دیا ہے کہ''اس سزا کے خاتمے سے دراصل توہین رسالت جیسے سنگین جرم کی سزا کو معطل کیا جانا مقصود ہے۔ اور حکمران طبقہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کرکے مغربی آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے۔''1
قانونِ سزاے موت کے سلسلے میں عملی صورتحال یہ ہے کہ فی الوقت دنیا کے 90 ممالک میں موت کی سزا ختم کی جاچکی ہے جبکہ ۶۶ کے قریب ممالک میں تاحال یہ سزا برقرار ہے جن میں امریکہ اور چین سرفہرست ہیں۔ عراقی حکومت نے بھی سزاے موت کو تبدیل کردیا تھا لیکن طرفہ تماشا دیکھئے کہ صدام حسین کی پھانسی سے چند روز قبل سزاے موت کے قانون کا دوبارہ اِجرا کیا گیا اور بعد میں پھر اس کو معطل کردیا گیا۔


اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' کے مطابق ''گذشتہ سالچین میں سزاے موت کے سب سے زیادہ یعنی 8 ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔ اور اس وقت پانچ ممالک میں سب سے زیادہ مجرم سزاے موت کے قانون کا نشانہ بن رہے ہیں، جن کے نام بالترتیب یہ ہیں: چین، ایران، سعودی عرب ، پاکستان اور امریکہ''
پاکستان میں گذشتہ سال 126؍ اَفراد کو سزاے موت دی گئی اوراس وقت ملک کی مختلف جیلوں میں ۷ ہزار کے لگ بھگ قیدی کال کوٹھری میں سزاے موت کے منتظر ہیں۔ پاکستان میں عاصمہ جہانگیر کا'انسانی حقوق کمیشن ' اپنے مغربی آقائوں کی سرپرستی میں کئی سالوں سے موت کی سزا کے خاتمے کی تحریک چلا رہا ہے۔ اس قانون میں موجودہ تبدیلی کا فوری محرک بھارت کے ایک قیدی کشمیر سنگھ کی سزاے موت معاف کرنے کی اپیل ہے جو صدر کی خدمت میں پیش کی گئی ہے۔ سزاے موت کے قانون میں موجودہ تبدیلی کو ملک میں اسی حقوق کمیشن نے سراہا ہے، جبکہ دیگر قانونی، سیاسی، معاشرتی اور اسلامی حلقے اس خلافِ شریعت تبدیلی پر سراپا احتجاج ہیں۔
انسانی حقوق کمیشن نے موت کی سزا کے سلسلے میں ایک رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ
''توہین رسالت واحد ایسا قانون ہے جس کی لازمی سزا موت ہے، علاوہ ازیں ملک میں 'قانونِ قصاص ودیت' کی بنا پر بھی سزاے موت کے واقعات میں کافی تیزی آئی ہے۔ کمیشن نے عدالت ِعظمیٰ پر بھی یہ الزام عائد کیا ہے کہ ۲۰۰۳ء میں سپریم کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں جرم قتل کی سزا میں سزاے موت کی تلقین کرکے اس کو مزید رواج دیا ہے۔''

سیاسی صورتحال
اس سے قبل 2000ء میں 18 سال سے کم عمر مجرموں کی سزاے موت کو ممنوع قرار دیا گیا تھا جس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل زیر سماعت ہے، البتہ سزاے موت کو عمرقید میں تبدیل کرنے کی تازہ تبدیلی کا محرک وزارتِ داخلہ کی ایک سفارش ہے، جسے مشرف کے دورِ آمریت میں اہم عہدوں پر کام کرنے والے سیکرٹری سید کمال شاہ کے دستخطوں سے وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو بھیجا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وزارتِ عظمی کے بعد اہم ترین وزارتِداخلہ کا قلم دان بھی تاحال پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ کے کسی رکن کو سونپنے کی بجائے صدر مشرف کے بااعتماد ساتھی رحمن ملک کے ہی سپرد ہے جو مشیر کے منصب سے ہی اس وزارت کے تما م معاملات چلا رہے ہیں۔ پرویز مشرف رحمن ملک کی کارکردگی سے انتہائی مطمئن ہیں اور ان کا اس اہم ذمہ داری کو ادا کرنا پرویز مشرف کی پیپلز پارٹی سے اسی مفاہمت کا نتیجہ ہے جس کا خمیازہ متعدد سیاسی معاملات میں قوم بھگت رہی ہے۔


وزارتِ داخلہ کی یہ سمری وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی گئی جہاں سے قانونی مشاورت کے لئے اسے وزارتِ قانون میں بھیج دیا گیا۔ وزارتِ قانون نے اس تبدیلی کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے قانونی ڈھانچے، عدالت ِعظمیٰ کے فیصلوں اوراسلامی شریعت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نظرانداز کردینے کی ہدایت کی لیکن وزارتِ قانون کے مشورہ کو قبول کرنے کی بجائے وفاقی کابینہ نے 21؍جون کو بے نظیر بھٹو کے یومِ ولادت کے موقع پر قوم کو خوش خبری دینے کے بہانے سزاے موت کے قانون میں ہی تبدیلی کردی جس کے نتیجے میں ملک بھر میں موجود ۷ ہزار کے قریب سزاے موت پانے والے مجرموں کی سزا عمر قید میں تبدیل ہو گئی اور اس مسودہ کو دستخط کے لئے ایوانِ صدر بھیج دیا گیا۔
یاد رہے کہ وفاقی کابینہ کے ترجمان سے اس سلسلے میں جب رابطہ کیا گیا تو اُنہوں نے کہا کہ بدھ ۳؍جولائی کو کابینہ کے کراچی اجلاس میں سزاے موت کی تبدیلی کا مسئلہ زیر بحث ہی نہیں آیا اور کابینہ نے ا س سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا، جب کہ وزیر اعظم سیکرٹریٹ نے اس مسئلہ کو وفاقی کابینہ کے فیصلہ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ 2
وفاقی کابینہ کے ترجمان کے اس بیان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ سزاے موت کے قانون میں حالیہ تبدیلی کابینہ کو اعتماد میں لینے کی بجائے درحقیقت پرویز مشرف کے اشاروں پر ہو رہی ہے کیونکہ اس کے دیگر کردار مثلاً سید کمال شاہ اور رحمن ملک اُنہی کے گرد ہی گھومتے ہیں، اور مشرف اپنے مغربی سرپرستوں کوخوش کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کی حکومت کو بھی استعمال کررہے ہیں، البتہ وزیر اعظم سیدیوسف رضا گیلانی کی زبان سے ۲۱؍ جون کے موقعہ پر یہ اعلان کرنے کی بنا پر پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت اس کی ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتی۔


ایک طرح ایوانِ صدر اور حکومت کی تو یہ صورتحال ہے، ان حالات میں عدالتی نظام اور دستوری تقاضوں کو برقرار رکھنے کے لئے عدالت ِعظمیٰ کو ازخود حرکت میں آنا پڑا اورمؤرخہ 6؍جولائی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر نے اس اہم قانون میں پارلیمنٹ سے بالا ہی بالا تبدیلی کی خبر پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو مؤرخہ 14؍جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم صادر کردیا ہے۔ فاضل عدلیہ کے یہی ایسے رویے ہیں جن کی بنا پر ایوانِ صدر کو ان کا کردار محدودکرنے اور از خود نوٹس لینے کے اختیارات کے خاتمے وغیرہ کی قانونی ترامیم کئے بنا کوئی چارہ نہیں رہتا...!!

قانونی جائزہ
سزاے موت کے قانون میں تبدیلی کے پس منظر، مقصدوہدف اور تازہ ترین صورتحال کے ایک مختصر جائزے کے بعداس مسئلہ کی قانونی صورتحال ملاحظہ ہو :
پاکستان کا مقصد ِوجود ہی اسلام کو زندگی کے ہر میدان میں نافذ کرنا تھا، وگرنہ عبادات اور ذاتی زندگی کی حد تک تو مسلمان متحدہ ہندوستان میں بھی اسلام پر عمل کیا کرتے تھے اور آج بھی کررہے ہیں۔ پاکستان کا بنیادی مقصد انفرادی اور اجتماعی زندگی کو اسلامی احکامات کی روشنی میں بسر کرنا ہے۔ اسی بنا پر آزادی کے فوری بعد انڈیا نے تو اپنے آپ کو ایک سیکولر ملک قرار دیا، جبکہ پاکستان میں ذاتِ الٰہی کو اقتدارِ اعلیٰ کا سرچشمہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں دستورِ پاکستان کے آرٹیکل ۲ میں اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا اور ۲ ؍اے میں کتاب وسنت کو پاکستانی آئین کی بنیاد بنایا گیا۔
دستورِ پاکستان1973ء کی شق نمبر 227؍ اے میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ
''تمام موجودہ قوانین کو اسلام کے احکام... جیسے کہ وہ قرآنِ حکیم اورسنت ِرسول میں بیان ہوئے ہیں...کے مطابق بنایا جائے گا۔ دستور میں جس طرح اسلام کے احکام کا حوالہ دیا گیا ہے، ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو اسلام سے متصادم ہو۔''

قرآن وسنت کی برتری کو اس طرح بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ تمام اہم قومی عہدیداروں سے ان کے حلف نامے میں اسلام کے تحفظ کا وعدہ لیا گیا جس کا پاکستان کا ہرصدر، وزیر اعظم، وفاقی وزرا، سپیکر، ڈپٹی سپیکر، چیئرمین سینٹ، صوبائی گورنرز او رجملہ اراکین ِاسمبلی وسینٹ اپنے عہدہ کے آغاز میں اقرار کرتے ہیں۔ دستور کے شیڈول 3 میں اس حلف کے الفاظ ہیں کہ
''میں حلف اُٹھاتا ہوں کہ میں اسلامی نظریہ کے تحفظ کی ضرور بھرپور جدوجہد کروں گا جو کہ قیامِ پاکستان کی بنیاد ہے۔''
مزید برآں آرٹیکل ۱۹ میں آزادیٔ اظہار کے بنیادی حق کو بھی عظمت ِ اسلام کے تابع قرار دیا گیا ہے، ایسے ہی سپریم کو رٹ کے بعض فیصلوں مثلاً ظہیر الدین کیس 1993ء وغیرہ میں کتاب وسنت کو بالاتر قانون قرار دیتے ہوئے تمام انسانی حقوق کو بھی اسلامی حدود وتصورات کے تابع رکھاگیا ہے۔ آئین کے انہی اسلامی تقاضوں کے پیش نظر پاکستان میں وفاقی شرعی عدالت، اسلامی نظریاتی کونسل اور متعدد اسلامی قوانین مثلاً حدود قوانین، قانونِ توہین رسالت اور قانونِ قصاص ودیت وغیرہ کو اسلام کی بنا پر مدوّن کرکے ملکی قانون کا حصہ بنایا گیا ہے۔
اسلام کے حوالے سے ان مذکورہ بالا آئینی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے سزاے موت کے خاتمے کی موجودہ ترمیم کو اگر دیکھا جائے تو یہ ترمیم سراسر خلافِ اسلام نظر آتی ہے، کیونکہ اسلام میں نصف درجن سے زائد جرائم پر موت کی سزا موجود ہے اور خود یہ سزائیں دربارِ نبویؐ سے صادر ہوئی ہیں جیسا کہ اس کی مستند تفصیلات ایکمستقل مضمون میں پیش کر دی گئی ہیں۔ چنانچہ اس بنیاد پر اُصولی طورپر ہی یہ ترمیم خلافِ اسلام ہونے کے ناطے قابل استرداد ہے!
جہاں تک پاکستان میں رائج قوانین کی بات ہے تو اس کی رو سے بھی مختلف جرائم پر موت کی سزا رکھی گئی ہے اور ایسے جرائم کی تعداد 26 کے لگ بھگ ہے مثلاً بغاوت، آئین توڑنا، اور منشیات استعمال کرنا وغیرہ۔ علاوہ ازیں جو اسلامی قوانین ملک میں نافذ ہیں ، ان کے اعتبار سے بھی دیکھا جائے تو مندرجہ ذیل تین اسلامی قوانین میں موت کی سزا مقرر کی گئی ہے:
1۔ قانون توہین رسالت 3
2۔ قانون قصاص ودیت 4
3۔ حدود قوانین میں سزاے رجم5
مندرجہ بالا اعتبارات سے دیکھاجائے تو موجودہ ترمیم کئی پہلوؤں سے ناقابل قبول اور ملک کے بنیادی قانونی ڈھانچے سے متصادم ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وزارتِ داخلہ کا موجودہ اقدام اور وفاقی کابینہ کا مبینہ طور پر اسے ایوانِ صدر بھیجنا کیا اس قانون میں ترمیم کے لئے اُصولی طورپر کافی ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں واضح رہنا چاہئے کہ صدر کو آئین کا آرٹیکل نمبر 45 یہ حق دیتا ہے کہ وہ کسی بھی عدالت، ٹربیونل یا اتھارٹی کی طرف سے کسی فرد کی سزا میں تبدیلی کرسکیں جبکہ ایسا کرنا عوامی مفاد میں ہو۔ صدر کا یہ اختیار اُن 23 جرائم کی سزائوں کی حد تک توکسی معینہ مجرم کے لئے معتبر قرار دیا جاسکتا ہے،البتہ جہاں تک اسلامی قوانین مثلاً حدود، قصاص او رتوہین رسالتؐ کے قوانین کا تعلق ہے تو ان میں معافی کا یہ حق قانونی طورپر صدر کو بھی حاصل نہیں او را س کی وجہ یہ ہے کہ یہ سزائیں اللہ تعالیٰ کی طے کردہ ہیں، جن میں تبدیلی کا اختیار سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی نہیں ہے، کجا یہ کہ ان کا کوئی ادنیٰ اُمتی ان سزائوں میں ترمیم یا تخفیف کرسکے۔ اس سلسلے میں بنو مخزوم کی ایک چور عورت کا واقعہ ذہن میں رہنا چاہئے جس کے بارے میں حضرت اسامہ معافی کی درخواست لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے او رآپ نے اس عورت کو معاف کرنے کی بجائے یہ تاریخ ساز جملہ ارشاد فرمایا تھا کہ
أتشفع في حد من حدود اﷲ۔ لو أن فاطمة بنت محمد سرقت لقطع محمد یدها 6
''کیا تم حدود اللہ کے بارے میں سفارش کرتے ہوـ؟ اگر (میری بیٹی) فاطمہ بنت ِمحمدؐ بھی چوری کرتی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتے۔''


مندرجہ بالا تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر موصوف بالفرض اس قانون کی منظوری پر دستخط ثبت کربھی دیں، تب بھی ان اسلامی سزائوں میں ترمیم نہیں ہوسکتی کیونکہ انہیں اس کا اختیارقانونی طور پر سرے سے حاصل ہی نہیں جیسا کہ قانونِ حد زنا 1979ء کی دفعہ 20 کی شق 5 اُنہیں اس کا اختیارنہ ہونے کے بارے میں بالکل واضح ہے۔
یہی سوال سپریم کورٹ کے سامنے 1992ء میں اُٹھایا گیا تو فاضل عدالت نے یہ قرار دیا کہ صدر کو حدود اور قصاص کی سزائوں میں معافی کا کوئی اختیار نہیں، صدر کو یہ اختیار صرف اس وقت ہے جب موت کی سزا بطورِ تعزیر دی گئی ہو اور متعلقہ مجرم کے لئے اس سزا کا ختم کرنا عوامی مفاد میں ہو۔7

مندرجہ بالا قانونی توجیہ اور مقدمے کا حوالہ وفاقی وزارتِ قانون کے اس جواب سے ماخوذ ہے جو وفاقی کابینہ کی خدمت میں بھیجا گیا تھااور اس مراسلہ کی تفصیلات سے روزنامہ جنگ نے مؤرخہ ۶؍ جولائی کے اِداریے میں پردہ اُٹھایا ہے۔


اس تفصیل سے پتہ چلتا ہے کہ موت کی سزا کا خاتمہ مغربی قوتوں کے دبائو اور انسانی حقوق کے مغربی تصور کا نتیجہ ہے جس میں اسلام کے تصورِ جرم اور احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے مجرم سے نرم سلوک کرکے معاشرے میں بھائی چارہ پیدا کرنے کی فرضی کوشش بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ یہ ترمیم مشرف کے کارندوں کے ذریعے عمل میں لائی جارہی ہے جس میں وزیر اعظم غالباً اسی سیاسی مفاہمت کی بنا پر شریک ہیں جو پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے مابین پروان چڑھ رہی ہے۔
حالیہ مجوزہ ترمیم سے جہاں ملک کے قانونی ڈھانچے کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے، وہاں اس ترمیم میں دراصل رہے سہے اسلامی قوانین کو غیرمؤثر کرنے کی کوشش بھی کارفرما ہے۔ قانونی پہلو سے اس ترمیم کے غیر مقبول ہونے کی بنیاد بھی آخرکار اللہ کے دیے ہوئے قوانین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین مبارکہ ہی ہیں جس کی تفصیل مستقل مضمون میں پیش کی گئی ہے۔ حکومت ِوقت کو اپنی ذمہ داری نبھانے، عوام کو ریلیف دینے یا ملک کو مشکلات سے نکالنے کے کسی ٹھوس اقدام کی توفیق ہے اور نہ ہی فرصت، لیکن اسلام اورمسلمانوں کے خلاف کسی اقدام کے لئے اس پریشانی وآزمائش کے دور میں بھی حکومت پرویز مشرف کی قیادت میں یکسو ہے۔ مسلمانانِ پاکستان کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں عدالت ِعظمیٰ کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے اپنا مکمل احتجاج ریکارڈ کرائیں تاکہ حدود قوانین کی طرح ملک میں رہے سہے اسلامی قوانین بھی غیر مؤثر ہو کر نہ رہ جائیں۔ دینی جماعتوں او رتحریکوں کو یہ مسئلہ بھی اپنے ترجیحی ایجنڈے میں شامل کرنا چاہئے کہ یہ ان کے مقصد ِ وجود کا بنیادی تقاضا ہے اور ان کی بنیادی اور منصبی ذمہ داری بھی!

 


حوالہ جات
1. روزنامہ جنگ: 5؍جولائی 2008ء
2. جنگ: 6؍جولائی
3. مجموعہ تعزیرات پاکستان: دفعہ 295 سی
4. مجموعہ تعزیرات پاکستان: دفعہ302 ب
5. (قانونِ حد زنا1979ء : دفعہ 5 ب
6. صحیح بخاری:رقم 6788
7. سکینہ بی بی بنام وفاق پاکستان ،پی ایل ڈی 1992ء، لاہور99