میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آج کی مجلس علمی میں زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ کیا علماے کرام جدید میڈیا (ٹی وی، ویڈیو) کو دعوت و تبلیغ کے لیے زیر استعمال لا سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور تصویر کی شرعی حیثیت کیا ہے؟کیونکہ یہ کام بظاہر تصویر بنائے بغیر ممکن نظر نہیں آتا...!
تصویر کی حرمت کا مسئلہ مُعَلَّل ہے!
تصویر کے شرعی حکم کے بارے میں یہاں بہت سے علماے کرام نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا اور بعض علمانے اس کی حرمت کو منصوص قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس پر تو بات بھی نہیں کرنی چاہیے۔میں اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ بلا حیل وحجت اور بغیر کسی تغیر وتبدل کے نص پر عمل کرنے کی حتیٰ المقدورکوشش کرنابڑی اچھی روش ہے،لیکن یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ یہ رویہ اُسی وقت مستحسن ہے جب نص کا حکم تعبدی ہو یعنی ایک عبادت کی ادائیگی کے سوا اس کی مشروعیت کی کوئی حکمت وعلت سمجھ میں نہ آئے،کیونکہ ایسی صورت میں کسی کا رائے زنی یا قیاس آرائی کرنا جسارت شمار ہو گی، لیکن اگر کسی نص کا حکممُعَلَّل ہو یعنی اس کے مقصد اورعلت کا عقل سے اِدراک ہوسکتا ہو تو پھر اس میں یہ گنجائش ہونی چاہیے کہ کوئی صاحب ِ علم وفضل اجتہاد کر سکے اور نص کی تعلیل وتوجیہ اور مفہوم کے تعین کے بارے میں اپنی رائے پیش کر سکے۔ یاد رہے کہ تصویر کیمسئلہ میں بھی اکثر علمانے حکم کو مُعلَّلقرار دیا ہے۔

شرعی نصوص کی تعلیل وتوجیہ کرنے سے دو میں سے ایک فائدہ ضرور حاصل ہوتا ہے:
آئندہ پیش آمدہ جدیدمسائل کو اِن نصوص پر قیاس کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔
کتاب وسنت کا متبع شخص پورے اطمینان اور شرحِ صدر سے نصوص پر عمل پیرا ہو سکتا ہے۔

حرمت ِتصویر کی ممکنہ علّتیں
میں یہاں ان علتوں اور توجیہات کو بیان کرنا چاہوں گا جنہیں علماے کرام نے تصویر کی حرمت کے لیے ذکر کیا ہے:
بعض علما نے تصویر کی حرمت کی علت یہ بیان کی ہے کہ یہ غیر اللہ کی تعظیم میں غلو اور عبادت یعنی شرک کا ذریعہہے جیسا کہ قومِ نوح نے اپنے صالحین کے ناموں پر ان کی تعظیم واحترام میں مجسّمے بنائے اور پھران کی تعظیم میں غلو کیا حتی کہ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ بعد میں آنے والی نسل ان کی عبادت کرنے لگی۔ جیسا کہ ابن عباسؓ سے مروی حدیث میں اس کی وضاحت موجود ہے:
''عن ابن عباس في: ود وسواع ویغوث ویعوق ونسر قال فلمَّا هلکوا أوحی الشیطان إلی قومهم أن أنصِبوا إلی مجَالِسهم التي کانوا یجلسون إلیها أنصابًا وسمُّوها بأسمائهم ففعلوا فلم تُعبدْ حتی إذاهلك هؤلاء وتنسَّخ العلم عُبِدَت''1
''آپؓ فرماتے ہیں کہ وَدّ،سواع،یغوث،یعوق اور نسرنامی قومِ نوح کے بزرگ جب فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ان بزرگوں کے مجسّمے بنا کر اپنی مجلس گاہوں میں نصب کر لو اور ان کے ناموں پر ان کے نام رکھ لو۔انہوں نے یہ کام تو کر لیا، لیکن ان کی عبادت نہیں ہوتی تھی۔یہاں تک کہ جب یہ لوگ فوت ہو گئے اور علم کا شعور جاتا رہا تو بعد والی نسل ان کی عبادت کرنے لگی ۔''

حرمت ِتصویر کی تعلیل کے بارے میں ابن العربی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہماری شریعت میں تصویر کی وجہ ممانعت مشرکین عرب کی مجسمہ سازی، بت گری اوران کی عبادت گزاری ہے۔ یعنی تصویر کی حرمت سد ِذرائع کے طور پر ہے اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ سد ذرائع حرمت ِتصویر کے لیے علت ِمستنبطہ ہے جب کہ اس کی منصوص علت اللہ کی تخلیق سے مشابہت ہے۔ چنانچہ ابن العربی رحمة اللہ علیہ اپنی تفسیر میں رقم طراز ہیں :
نهی عن الصورة وذکر علة التشبیه بخلق اﷲ۔وفیها زیادة علة: عبادتها من دون اﷲ۔فنبّه علی أن نفس عملها معصیة،فما ظنك بعبادتها؟
''نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر ساز ی سے منع کیا ہے، اوراس کی علت اللہ کی تخلیق سے مشابہت ذکر کی ہے اور اس پر مزید علت یہ ہے کہ تصویر سازی میں اللہ کے ماسوا کی عبادت ہے۔ چنانچہ آپ نے محض تصویر سازی کو ہی معصیت قرار دیا ہے، پھر اس کی عبادت کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا؟''2

اسی موقف کی تائید میں امام نووی رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ(إن أشد الناس عذابًا یوم القیامة المصورون)کی نبویؐ وعیدکا مصداق وہ مصور ہے جو عبادت کے لیے تصویر بناتا ہے۔3

یعنی تصویر کی حرمت کا سبب اس کی عبادت کا اِمکان اور شرک کے ذریعے کو روکنا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ حرمت ِتصویر کی تعلیل میں فرماتے ہیں کہ
''
قومِ نوح کے صالحین کے پیروکاروں نے ان کے فوت ہونے کے بعد ان کی تصویریں اور مجسّمے بنائے،لیکن ان کی عبادت نہیں کیا کرتے تھے۔جب وہ پیروکار فوت ہو گئے تو بعد میں آنے والے لوگ ان نیک ہستیوں کے مجسّموں کی عبادت کرنے لگے اور ان کا وسیلہ دے کر بارش طلب کیا کرتے تھے اور یہی مجسّمیجن کی قومِ نوح نے عبادت کی، بعد میں انںیے عربوں نے اپنا لیا اور ان کی عبادت کرنے لگے ۔یہی وہ علت ہے کہ جس کی بنا پرشارع نے تصویر سازی سے منع کیا ہے،کیونکہ اس عمل نے بہت سی اُمتوں کو شرک ِاصغر یا شرکِ اکبر میں مبتلا کر دیاتھا اور یہی دراصل شرک کا مفسدہ ہے جس کو ختم کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مقبرے میں مطلق طور پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اگرچہ نماز پڑھنے والا اپنی نماز میں اس جگہ سے برکت کے حصول کا ارادہ نہ بھی رکھتا ہو۔ اوراسی طرح آپ نے طلوع شمس،نصف النہار،اور غروب شمس کے اَوقات میں نماز پڑھنے سے سد ذرائع کے طور پر منع فرمایا،کیونکہ ان اوقات میں مشرکین سورج کی عبادت کرتے تھے۔اگرچہ کسی مسلمان کے ذہن میں غیر اللہ کی عبادت کا مقصد کار فرما نہ بھی ہو۔'' 4
سد ذرائع کی توجیہ کی بنا پر بعض علما نے یہ کہا ہے کہ اگر تصویر سازی شرک کا ذریعہ نہ بنے تو اس میں گنجائش ہو گی کیونکہ تصویر کی حرمت کو مطلق رکھنے کی وجہ سے قواعد ِشریعت سے ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے،اور وہ یہ کہ تصویر بنانا ایک گناہ ہے جو شرک،قتل اور زنا سے بہرحال بڑا نہیں ،لیکن اس کے بارے میں احادیث میں وعید بہت شدید قسم کی وارد ہوئی ہے۔چنانچہ ضروری ہے کہ اس جرم کی سزا اتنی سخت اِسی صورت میں ہو سکے گی جب اسے تعظیم اور پرستش کے اِرادے سے بنایا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں ہر اس چیز کو توڑ دیتے تھے جس پر صلیب بنی ہوتی تھی،کیونکہ یہ شرک کا مظہر تھی۔ اسی لیے آپؐ نے حبشہ کے کنیسہ کی تصاویر کا سن کر عیسائیوں کے بارے میں فرمایاتھا کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں بد ترین مخلوق قرار پائیں گے،کیونکہ یہ نیک لوگوں کے فوت ہو جانے کے بعد ان کی قبروں کو عبادت گاہیں بناتے ہیں اور وہاں عبادت کے لیے ان صالحین کی تصاویر رکھتے ہیں ۔ 5


ہماری نظر میں تصویر کا یہ جواز اسی صورت میں نکلتا ہے جب حرمت ِتصویر کا سبب صرف سد الذرائع کو قرار دیا جائے،لیکن اگر اس کی دیگر تعلیلات کو بھی ملحوظ رکھا جائے تو مطلقاً جواز ختم ہو جاتا ہے،کیونکہ ان تعلیلاتمیں سے بعض کافی وزنی ہیں جنہیں نظر انداز کرنا کسی طور پر بھی مناسب نہیں ، جیسا کہ وہ آگے آرہی ہیں ۔

بعض علما کی رائے یہ بھی ہے کہ مشرکین کیونکہ تصاویر اور تماثیل بناتے، بت گھڑتے اور ان کی پرستش کرتے تھے، لہٰذا تصویر سازی میں ان کے فعل سے مشابہت ہے، خواہ مصور کے ذہن میں یہ مقصد اور ارادہ کار فرما نہ بھی ہو یعنی ایک حالت کی دوسری سے محض تشبیہ ہی وجہ ممانعت کافی ہے۔ جیسا کہ ہمیں طلوع اور غروب کے وقت نماز پڑھنے سے روکا گیا ہے تاکہ سورج کے عبادت گزاروں سے مشابہت نہ ہو، جب کہ ضروری نہیں کہ یہ مشابہت نمازپڑھنے والے کے ذہن (i) میں اُس وقت موجود ہو ۔

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے مشرکین کے ساتھ مشابہت کو اصل علت قرار دیا ہے۔فرماتے ہیں :
ویتاأکد المنع بما عُبد من دون اﷲ فإنه یضاهي صورة الأصنام التي هي الأصل في منع التصویر6
اور علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ اُمّ حبیبہؓ اوراُمّ سلمہؓ کی حبشہ میں کنیسہ والی صحیح بخاری میں مروی حدیث: (أولئك قوم إذا مات فیهم العبد الصالح بنوا علی قبرہ مسجدًا وصوّروا فیه تلك الصور أولئك شرار الخلق عند اﷲ عزوجل)(صحیح بخاری:۴۲۶، صحیح مسلم:528)کے تحت فرماتے ہیں کہ'' نیک آدمی کی قبر پر مسجد بنانے والا(یا اسکی تصویر بنانے والا) اہل کتاب کے ساتھ مشابہت کرنے پر اس نبوی وعید کا مصداق ہے اوریہ اس بات کی صریح دلیل ہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ مشابہت کرنا ممنوع ہے۔''7

اورایک دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں کہ'' کفار کے اعمال اس بات کی علامت اور دلیل ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان اعمال سے منع کیا ہے،جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں ، یا یہ ممانعت کے متقاضی علت ہیں ۔''8

بعض علماء کے نزدیک تصویر کی حرمت کی علت 'نحوست' یعنی تصویر والی جگہ میں فرشتوں کا داخل نہ ہوناہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں ارشاد فرمایا ہے کہ''جس گھر میں کتااور تصویر ہو، اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔''9

اس حدیث سے بظاہر یہ علم ہوتاہے کہ تصویر ممنوع ہے اور اس کی وجہ ممانعت فرشتوں کا تصویر والی جگہ میں عدمِ دخول ہے،لیکن بعض علما اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں کہ اس سے حرمت ِتصویر کی تعلیل کرنا کمزور موقف ہے،کیونکہ فرشتوں کا عدمِ دخول تو محض اس کو تعظیم اور احترام سے سجا کر رکھنے کی وجہ سے ہے جو بذاتِ خود ایک قبیح عمل ہے۔چنانچہ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے فتح الباری میں امام قرطبی رحمة اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ فرشتوں کے عدمِ دخول کا سبب تصاویر کی تعظیم میں کفارسے مشابہت ہے۔(10؍391،392)کیونکہ اِہانت کے انداز میں کاٹ کر یا نیچے پامال کر کے استعمال کرنے یا تصویروں والے بچھونے بنانے کی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِجازت دی ہے۔ 10

علاوہ ازیں اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کے ساتھ کتے کا ذکربھی کیا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ اس سے 'تمام کتے' مراد نہیں ہیں ، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتا رکھنے کی خود اجازت دی ہے۔(صحیح بخاری:175) ظاہر ہے کہ جس آدمی کے گھر میں شکاری کتاہو گا، وہ فرشتوں کے دخول کے لیے مانع نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح تمام تصاویر کا حکم ایک جیسا نہیں ہوسکتا،یعنی جس طرح ممنوع کتے رکھنے کی وجہ سے گھر میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے اسی طرح ممنوع انداز میں تصاویر رکھنے کی وجہ سے وہ گھر میں داخل نہیں ہوں گے۔

مزید برآں سنن ابو داؤد کی ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس گھر میں کتا، تصویر یاجنبی شخص ہو۔11

اوراس بات کا کوئی قائل نہیں کہ 'جنبی ہونا' اس بنا پرممنوع ہے کہ جنابت کی حالت میں فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے،کیونکہ فرشتوں کا عدمِ دخول جنبی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ جنابت کی حالت میں رہنے یعنی طہارت نہ حاصل کرنے کی بنا پرہے۔

اگرچہ بعض علما نے اسے علت ماننے سے انکار بھی کیا ہے لیکن اس کا نتیجہ تعلیل کی صورت میں ہی نکلتا ہے جیسا کہ امام نووی رحمة اللہ علیہ نے اکثر علما کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ تصویر والی جگہ میں فرشتوں کے عدمِ دخول کا سبب تصویر سازی کا گناہ ہونا، اللہ کی تخلیق سے مشابہت اور تصویروں کی عبادت کا اِمکان ہے۔ 12

حرمت ِتصویر کی ایک علت علما نے یہ بھی بیان کی ہے کہ اس میں اللہ کی تخلیق سے مشابہت ہے اور بقول ابن العربی یہ منصوص علت ہے، جیساکہ پیچھے ان کی عبارت گزرچکی ہے،کیونکہ اس بارے میں مختلف احادیث میں واضح الفاظ موجود ہیں کہ آپ نے فرمایا: (الذین یضاهون بخلق اﷲ) 13 اور دوسری حدیث میں (ومن أظلم ممن ذهب یخلق خلقا کخلقي)14 اور(أحیوا ما خلقتم)15 اور (من صَوَّر صُورةً کُلَِّف أن ینفخ فیها الروح ولیس بنافخ)16 وغیرہ الفاظ بھی وارد ہیں ، لیکن بعض علما نے اس علت کو مقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ مشابہت تب لازم آتی ہے جب مصور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو چیلنج کرے کہ وہ بھی اس کی تخلیق کی طرح تخلیق کرنے پر قادر ہے۔ایسے مصور کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تصویر میں روح پھونکنے کا مکلف بنا کر اس کا عجز اور بے بسی ظاہر کر دے گا۔

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ (مِمَّن ذهب یخلق) میں ذَهَبَ قصد کے معنی میں ہے۔17

یعنی اس کا معنی یہ ہو گا کہ وہ اللہ کی تخلیق کی طرح تخلیق کرنے کا قصد رکھتا ہو۔ اگر اس سے مطلق مشابہت مراد لی جائے تو اس پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ کھلونے،کٹی ہوئی تصویر،پاؤں کے نیچے پامال ہونے والی تصاویر اورغیر ذی روح جیسے جمادات درختوں ، ستاروں ، سورج اور چاندکی تصویریں بنانے سے مشابہت کیوں لازم نہیں آتی ؟ لیکن یہ شبہ واعتراض درست نہیں ہے کیونکہ احادیث میں وارد الفاظ کا اِطلاق (غیر مقید ہونا) بعض تصاویرکا استثناء اور ذی روح اور غیر ذی روح کی تقسیم اس شبہ کو رفع کر دیتے ہیں ۔

عام حالات میں تصویر سازی کا حکم
علماے کرام کی مذکورہ توجیہات وتعلیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ تکریم وتعظیم،فیض وبرکت، عبادت وپرستش اور قدرتِ الٰہی کو چیلنج کرنے کی غرض سے تصویریں بنانا بالاتفاق حرام ہے۔ اور ان مقاصد کے لیے تصاویر بنانے والا اَحادیث میں مذکورہ سزاؤں کا مستحق ٹھہرے گا،لیکن اگر مصورکے ذہن میں یہ مقاصد نہ ہوں توبعض علما کے نزدیک تصویر سازی کا حکم جواز کا ہو گا۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ حکم کا دارومدار علت کے وجود اور عدمِ وجود پر ہوتاہے، مثال کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب نوشی کے سلسلے میں دس آدمیوں پر لعنت فرمائی ہے۔ جن میں شراب بیچنے اور خریدنے والا بھی شامل ہے ۔(سنن ترمذی:1295)حالانکہ بعض علما کی رائے یہ ہے کہ اس وعید کا مصداق وہ تاجر ہے جو نشہ کی خاطر پینے پلانے کے لیے خرید وفروخت کرتا ہے،لیکن اگر تجارت کا یہ مقصد باقی نہ رہے تو علت کے بدل جانے کی وجہ سے حکم میں بھی تبدیلی واقع ہو جائے گی،مثلاً اگرکوئی تاجر کیمیکل بنانے کے لیے شراب کی تجارت کرتا ہے تو وہ اس لعنت کی وعید کا مصداق نہ ہوگا۔

بالکل اسی طرح تصویر میں بھی بعض استثنائی صورتیں موجود ہیں جہاں حرمت کی تمام علّتیں مفقود ہو جاتی ہیں اور حکم اپنی پہلی حالت پر برقرار نہیں رہتا۔ مثال کے طور پر آپ ؐنے بچوں کے کھلونے بنانے اور رکھنے کی اجازت دی ہے۔(صحیح ابوداؤد:4123) جو بلا شک ذی اَرواح کے مجسّمے اور تماثیل ہوتی ہیں ۔حضرت عائشہ ؓنے اپنے بچپن کے کھلونوں کوبالغ ہونے کے بعد بھی آپؐ کی رحلت تک استعمال کیا ہے۔اسی طرح روندی جانے والی اور کٹی ہوئی تصویر کے استعمال کی اجازت بھی اس لیے ہے کہ اس حالت میں ان کی تعظیم کے بجائے اہانت کا پہلو پایا جاتا ہے ۔

بعض مالکی اور حنبلی علما نے ذی روح کی تصویر کی حرمت میں اس کے مجسم اور سائے دار ہونے کو شرط قرار دیا ہے کیونکہ ایسی تصاویر کی ہی عبادت کیجاتی تھی۔ اور جہاں تک کاغذ، کپڑے اور دیوار پر بنی ہوئی تصویر کا تعلق ہے جس کا جسم اور سایہ نہیں ہوتا تو یہ حرام نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ذی روح کو مجسم، بلند قامت اور سایہ والا پیدا کیا ہے،بچھا ہوا پیدا نہیں کیا۔ لہٰذا اس میں اللہ کی تخلیق سے مشابہت لازم نہیں آتی اور ان کے خیال میں حدیث میں وارد لفظ (إلا رقمًا في ثوب)سے اِسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ موجودہ دور کے بعض علما کا یہ موقف ہے کہ اَخبارات وغیرہ کی تصاویر بھی چونکہ بچھی ہوتی ہیں یعنی مجسم اور سائے دار نہیں ہوتیں اور ٹی وی کی تصاویر بھی غیر مجسم اور عارضی ہوتی ہیں ، گویا ان کے وجود کو شیشے،پانی اور سائے کی تصویر کی طرح بقا حاصل نہیں ہوتی لہٰذا ایسی تصاویر بنانے میں کوئی حرج نہیں ۔

مذکورہ بالادلائل وتوجیہات کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی روح کی تصویرکو عام حالات میں جائز قرار دینے والوں کے دلائل اور تعلیل و توجیہ کمزور ہیں ، کیونکہ حرمت ِتصویر کی تخلیق الٰہی سے مطلق مشابہت ایک منصوص، مضبوط اور دائمی علت ہے۔ چاہے تصویر بنانے والا قدرتِ الٰہی کو چیلنج کرنے کا اِرادہ رکھتا ہو یااس کے ذہن میں یہ مقصد کار فرما نہ ہو ، ایسے ہی تصویر شرک کا ذریعہ بنتی ہو یا اس میں شرک کا کوئی خدشہ نہ ہو اور اس کے ساتھ مشرکین کے فعل سے مجرد مشابہت کی علت کو بھی شامل کر لیا جائے تو عام حالات میں ذی روح کی تصویر کی گنجائش بالکل ختم ہو جاتی ہے،کیونکہ اللہ کی تخلیق سے مشابہت کی نصوص مطلق وارد ہوئی ہیں یعنی ان میں قدرتِ الٰہی کو چیلنج کرنے اور نہ کرنے والے کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا اور اسی طرح ان میں مجسم ؍سایہ داریا غیر مجسم ؍ غیرسایہ دار کا فرق کرنے کے بجائے ذی روح اور غیرذی روح کا فرق کیا گیا ہے۔ جیسا کہ چوتھی تعلیل کے ضمن میں احادیث گذر چکی ہیں اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں بھی مجسم اور غیر مجسم کے فرق کی نفی ہوتی ہے،کیونکہ آپؓ فرماتی ہیں کہ میرے پاس تصو یروں والے پردے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں دیکھاتوآپؐ کا غصے سے رنگ تبدیل ہو گیا اور آپؐ نے انہیں پھاڑ دیا۔


حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ اللہ کے ساتھ مضاہات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
(یضاهون خلق اﷲ) أي یشبّهون ما یصنعونه بما یصنعه اﷲ
''یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:(یضاہون خلق اﷲ) سے مراد یہ ہے کہ خود بنا کر گویا وہ اللہ کی بنائی ہوئی خلقت کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں ۔''18
معلوم ہوا کہ کسی او رخارجی وجہ کے بغیر بھی محض تصویر بنانا ہی وجہ حرمت کافی ہے۔ جیسا کہ اوپر ابن العربی کا قول بھی گذر چکا ہے۔

سعودی عرب کی دائمی فتویٰ کونسل نے بھی اپنے فتویٰ میں قرار دیا ہے:
ولما فیه من التشبّه باﷲ في خلقه الأحیاء ولأنه وسیلة للفتنة وذریعة للشرك في کثیر من الأحوال 19
''کتاب وسنت کی نصوص میں حرمت ِتصویر پر شدید وعید کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اللہ کی ذی روح مخلوق کی تخلیق میں اللہ سے مشابہت پائی جاتی ہے او راس بنا پر بھی کہ اکثر مواقع پر تصویر فتنہ کا وسیلہ اور شرک کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔''

علاوہ ازیں اس میں مشرکین کے فعل سے مشابہت کو شامل کرنے کا سبب یہ ہے کہ بعض مقامات پر شارع نے صرف کفار سے مشابہت کی وجہ سے بھی بعض چیزوں کو حرام قراردیا ہے جیسا کہ مسلمانوں کو محض یہود کی مشابہت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے وقت لفظ راعِنا کہنے سے منع کردیا حالانکہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ لفظ کہتے وقت قطعاًآپؐ کی توہین مراد نہ تھی۔ علامہ ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کا دوسری مشابہت کی تعلیل کے ضمن میں مذکورہ کلام بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔

ہماری نظر میں تصویر کی حرمت واضح ہے، اور اس سلسلے میں مختلف قسم کے شبہات کوکوئی وزن نہیں دینا چاہئے، اگر ان میں بظاہر کوئی معقولیت بھی نظر آئے تب بھی تصویر کے عدم جواز کا قائل ہونا ہی احکامِ شرعیہ کی بجا آوری میں محتاط رویہ ہے جس کا بہرحال پاس اور لحاظ رہنا چاہیے کیونکہ حرام سے بچنے کے لیے تومباح چیز کو ترک کردینا بہتر اور اولیٰ ہوتاہے چہ جائیکہ مباح کام کرنے کے لیے حرام کا ارتکاب کیا جائے۔اس کے بارے میں علما کے ہاں ایک قاعدہ بھی معروف ہے:

إذا اجتمع الحلال والحرام غلب الحرام
''جب حلال وحرام کے دلائل آپس میں ایک دوسرے سے معارض ہوں تو حرام کے دلائل کو ترجیح دی جائے گی۔''

ایسے ہی اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی ہے:
(دَع ما یَریبك إلی مالا یریبك)20
''یعنی شک اور تردّد والی چیز کو چھوڑ کر غیر مشکوک چیز کو اختیارکرو۔''

اور حضرت عثمان کے اثر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے ، آپ سے سوال کیا گیا کہ دو سگی بہنوں کو نکاح میں ایک وقت میں رکھنا حرام ہے۔آیا دو بہنیں لونڈی کی حیثیت سے ایک آدمی کی ملکیت میں رہ سکتی ہیں ؟ تو آپؓ نے جواب دیا کہ ایک آیت نے اُنہیں حلال قرار دیا ہے اور ایک آیت نے حرام ،اور مجھے اُنہیں حرام قرار دینا زیادہ پسند ہے۔ 21

خاص حالات میں میڈیا کے استعمال اورتصویر سازی کا حکم
تاہم خاص حالات میں تصویر سازی کی گنجائش موجود رہے گی۔ یاد رہے کہ اس گنجائش کا مقصد لوگوں کے لیے عریانی، فحاشی کا دروازہ کھولنا نہیں ہے جیسا کہ بعض علما اسے دلیل بنا کر بوقت ِضرورت بھی گنجائش کا دروازہ حتمی طور پر بند کر دیتے ہیں ،کیونکہ اگر تصویر کا مقصد عریانی، فحاشی یا دیگر منکرات کا فروغ ہو تو یہ عمل حرام اور گناہِ کبیرہ شمار ہو گا اور اس کی کوئی بھی صاحب ِعلم اِجازت نہیں دے سکتا۔

اس گنجائش سے ہماری مراداعلیٰ مقاصد کے حصول یعنی بڑے ضرر اور فساد سے بچنے یا کسی بڑے فائدے کے حصول کے لیے ایک چھوٹے نقصان اور خرابی کو قاعدہ (یُختار أخفّ الضررین)کے مطابق صرف برداشت اور گوارا کرنا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حالات کے تقاضے کے مطابق تبلیغ کا بہتراور مؤثر طریقہ سمجھتے ہوئے میلے پر جاناگوارا کیا تھا۔ (صحیح بخاری:773) اس طرح آپؐ نے مسجد میں دیہاتی کے پیشاب کے ضرر کو برداشت کیا تھا۔ (صحیح مسلم:221) تاکہ اس کے جسم ،کپڑوں اور مسجد کی زیادہ جگہ ناپاک ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ اسے طبی نقصان سے بھی بچایا جاسکے۔

ایسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی قریش مکہ کی کڑی شرطیں قبول کر کے تمام مسلمانوں کو عمومی طور پر اور مکہ میں رہنے والے مسلمانوں کو خصوصی طور پر بڑے ضرر سے محفوظ رکھا۔اور حضرت علی ؓ نے حاطب بن ابی بلتعہ کا قریشِ مکہ کے نامخط لے جانے والی عورت کو خط حوالے نہ کرنے کی صورت میں برہنہ کرنے کی دھمکی دے دی تھی۔(صحیح بخاری:۳۰۰۷) تاکہ مسلمانوں کو بڑے اور اجتماعی نقصان سے بچایا جا سکے۔

شریعت کے اسی تصور کی بنا پر علماے کرام فریضہ دعوت وتبلیغ اورامر بالمعروف اور نہی عن المنکرکو ادا کرنے کی غرض سے ایسی مجلس،محفل یامیلہ اور دعوت میں جانے کی اجازت دیتے ہیں جہاں منکرات وفواحش کا وجود یقینی ہوتا ہے اور ایسے چند مسلمانوں کے قتل کرنے کی اجازت بھی دیتے ہیں جنہیں حملہ آور دشمن ڈھال بنا کر مسلمانوں کا اجتماعی اور بڑا نقصان کرنا چاہتا ہو۔ لہٰذا علماء کو چاہیے کہ وہ موجودہ دور کے مؤثر ذرائع ابلاغ، اخبارات اور ٹی وی پروگراموں میں شرکت کریں تا کہ کفر واِلحاد، عریانی فحاشی اور مغربی تہذیب کے مقابلہ میں عوام الناس کی صحیح دینی رہنمائی کر سکیں ، یہ ایک بہت بڑی تبلیغی ذمہ داری کی ادائیگی ہو گی۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اگر علماے کرام صرف تصویر سے بچنے کے لیے اپنی قوم کو لادین عناصرکے رحم وکرم پر چھوڑ دیتے،یا اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں اور پروپیگنڈے کے اِزالہ سے چشم پوشی کرتے ہیں ،یا مغربی فکر وتہذیب کے طوفانِ بلا خیز کا سد ِباب نہیں کرتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑا قومی اور ملی نقصان ہے۔

اس نقصان کی تلافی یا اس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہمیڈیا کا استعمال ہی ہے کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو میڈیا کے پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر علما ،مساجد اور مدارس سے خاطر خواہ متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے تبلیغی واِصلاحی مخصوص پروگراموں میں شرکت کرتے ہیں بلکہ اپنی دینی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی میڈیا پر انحصار کرتے ہیں ۔ لہٰذا ہمیں سدذرائع کے اُصول کو اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ فتح الذرائع کے اُصول کوبھی اپنانا ہو گا۔یعنی جس طرح ہم ان وسائل کو حرام قرار دیتے ہیں جن کا نتیجہ بڑے فساد اور خرابی کی صورت میں نکلتا ہے خواہ فی نفسہٖ وہ وسائل جائز ہوں ، جیسا کہ شراب اور نشہ آور چیزوں کی تجارت کی مثال ہے۔کیونکہ تجارت فی نفسہٖ ایک مباح عمل ہے ،لیکن نشہ آور اشیا کی خرید وفروخت میں فساد غالب ہونے کی وجہ سے یہ حرام ہے اور بعض علما کے نزدیک حرمت ِتصویر کا سبب بھی سد الذریعہ ہے۔یعنی تصویر سازی کو شرک کا ذریعہ ہونے کی بنا پر حرام کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ابن العربی رحمة اللہ علیہ اور ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ نے اس کی صراحت کی، بالکل اسی طرح ان وسائل کا استعمال کرنا بھی ضروری ہو گا جن کے نتیجے میں فساد کم اور مصلحت ومنفعت غالب ہو۔ خواہ فی ذاتہ وہ وسائل جائز ہوں یا ناجائز۔ امام قرافی رحمة اللہ علیہ اپنی کتاب 'الفروق' میں رقم طراز ہیں :
اعلم أن الذریعة کما یجب سدّها یجب فتحها وتکرہ وتندب وتباح
'' یہ بات جان لیجئے کہ جس طرح کسی ذریعہ کو (خرابی کی طرف لے جانے کی وجہ سے)بند کرنا ضروری ہوتا ہے،اسی طرح (منفعت کی طرف لے جانے کی وجہ سے)اسے کھولنا کبھی واجب، کبھی مکروہ،کبھی مستحب اور کبھی مباح ہوتا ہے۔'' 22

اس کی چند ایک مثالیں یہ ہیں :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زیدؓ کو سریانی زبان سیکھنے کا حکم دیا تھا۔(ترمذی:2715)جو ضرورت کے تحت دین کی اشاعت کے لیے نئے وسائل اختیار کرنے کی ترغیب ہے، لیکن اگر کسی ذریعہ کے بغیر مقصد کا مکمل حصول ناممکن ہو تو اسے اختیار کرنا واجب ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی زبان کے سیکھنے کے بغیردعوت کے فریضے کی ادائیگی مشکل ہو رہی ہو تو اس زبان کو سیکھنا واجب قرار پائے گا۔اسی طرح ہی ٹی وی وغیرہ کی حیثیت ایک ذریعہ کی ہے، اگر اس کے بغیردین کی حفاظت اور تبلیغ واشاعت کا کام مؤثر طریقے سے سرانجام نہ پارہا ہو تو اس کا استعمال بھی ضروری ہو جائے گا۔خواہ حالات ابھی اضطراری کیفیت تک نہ پہنچے ہوں ۔

بعض علماے کرام تصویر سازی کی گنجائش کو صرف اضطراری حالت کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں اور اس کی مثال حج کی ادائیگی اور شناختی کارڈ کے لیے تصویر بنوانااور عورت کا غیر محرم ڈاکٹر سے علاج کروانا وغیرہ پیش کرتے ہیں ،لیکن ٹی وی وغیرہ کے پروگراموں میں تبلیغ کے لیے شرکت کو ضرورت نہیں سمجھتے،کیونکہ اس کے متبادل اور طریقے موجود ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دین کی دعوت وتبلیغ کے لیے حرام کے ارتکاب کا اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا۔ اگر الیکٹرانک میڈیا پر تبلیغ کی ا جازت دیں تو اسے' اضطرار' کا نام دیتے ہیں حالانکہ صورت حال یہ ہے کہ جو وہ اضطرار کی مثالیں پیش کرتے ہیں توحقیقت میں ان میں اضطرار ثابت کرنا بہت مشکل ہے،کیونکہ عورت کا غیر محرم مرد سے علاج کروانا اس وقت اضطرار بنتا ہے جب حتی المقدور کوشش کے باوجود کوئی ڈاکٹر عورت نہ مل سکے۔ اسی طرح حج کے لیے تصویر بنوانا بھی اضطرار نہیں بنتا،کیونکہ جیسے دین کی حفاظت اور تبلیغ کے لیے ...جو کل دین ہے، بالخصوص ایسے حالات میں جب میڈیا کے ذریعے مسلمانوں پر فکری جنگ مسلط کر دی گئی ہو... حرام کے اِرتکاب کا اللہ نے ہمیں مکلف نہیں بنایا، ایسے ہی حج کی ادائیگی جو کہ ایک جزوی دینی مصلحت ہے، اس کے لیے حرام کے ارتکاب کے مکلف ہم کیونکرہو سکتے ہیں ۔

میری رائے میں فریضۂ حج اضطرار کے بجائے ایک دینی منفعت کا حصول ہے اور حج کے لیے سفرایک جائز ذریعہ ہے جو حج کی ادائیگی کے لیے اختیار کرنا واجب ہو گا اور سفرحج کے لیے تصویر بنوانابھی ایک ذریعہ ہے جو فی ذاتہ ناجائز ہے، لیکن اسے اختیار کرنا بھی ضروری ہو گا،کیونکہ حج کی ادائیگی میں دینی مصلحت غالب ہے اور اس کے لیے تصویر وغیرہ بنوانے میں فساد مغلوب ہے۔
طہارت کے بغیرنمازادا کرناحرام اور ایک مفسدہ (خرابی)ہے،لیکن مستحاضہ عورت اور تسلسلِ بول کے مریض کواس فساد کے باوجود نماز پڑھنے کا حکم ہے۔(توضأي لکل صلوة) کیونکہ نماز کی ادائیگی کی مصلحت اور فائدہ عدمِ طہارت کے فساد پر غالب ہے۔
جان بچانے کے لیے کلمہ کفر کہنا جائز ہے، حالانکہ یہ فساد ہے لیکن اس کا جواز اس بنا پر ہے کیونکہ ایمان پر دل مطمئن ہونے کی وجہ سے جان کی حفاظت کی منفعت کلمہ کفر کہنے کے فساد پر غالب ہے۔
اجنبی عورت کو فساد غالب ہونے کی وجہ سے عام حالات میں دیکھنا حرام ہے، لیکن نکاح کی نیت سے مصلحت غالب ہونے کی وجہ سے اسے دیکھنا جائز قرار دیا گیا ہے۔
کفار کو مال دینا حرام اور ایک مفسدہ ہے ،لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ خندق کے موقعہ پربنو غطفان کو مدینہ کی ایک تہائی کھجوریں دینے پر تیار ہو گئے تھے تا کہ مسلمانوں کو نقصان سے محفوظ رکھ کر اُنہیں فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اسی بنا پر علما نے مسلمان قیدیوں کی رہائی کے لیے کفار کو مال دینا، یا کسی شخص کا اپنا حق وصول کرنے یا خود کو ظلم سے بچانے کے لیے بطورِ رشوت مال دینا جائز قراردیا ہے، حالانکہ عام حالات میں رشوت دینا یا کفار کو مال دینا حرام ہے۔

اسی طرح اکثر علما نے حرمت ِتصویر سے بچوں کے کھلونوں کے استثنا کی توجیہ ان کی منفعت بیان کی ہے۔امام نووی رحمة اللہ علیہ اور حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے اکثر علما(مالکیہ،شافعیہ اور حنابلہ)کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ6کی صحیح بخاری میں مروی حدیث نے تصویر کی حرمت سے بچوں کے کھلونوں کو مستثنیٰ کر دیا ہے خواہ وہ کھلونے انسانی شکل پر بنے ہوئے ہوں یا کسی حیوان کی شکل میں ہوں ،مجسم ہوں یا غیر مجسم۔ اس استثنا اور رخصت کا سبب بچیوں کو اولاد کی پرورش کی تربیت دینا ہے۔

اور حلیمی نے اپنی کتاب المنہاج في شعب الإیمان میں یہاں تک کہا ہے:
''کھلونوں میں بچیوں کے ساتھ بچے بھی شامل ہوتے ہیں اور بعض کھلونے انسانی صورت کے علاوہ حیوانوں کی صورت پر بھی بنائے جاتے ہیں ، لہٰذا تربیت ِاولاد کی ٹریننگ کے علاوہ بچوں کی اچھی نشوونما کی غرض سے اُنہیں خوش رکھنا بھی ایک مصلحت ہے،جبکہ حرمت کا سبب یعنی کھلونوں کا ذی روح کی تماثیل اور مجسّمے ہونا موجود ہے۔'' 23
لیکن اس کے باوجودکھلونوں کی تصاویر کا جواز اس لیے ہے کہ تصویر کے فساد پر بچوں کی مصلحت غالب ہے۔علامہ ناصر الدین البانی رحمة اللہ علیہ کی رائے سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔

لہٰذا علماے کرام کو اسلام کے پیغامِ حق کو دنیا کے اَطراف واکناف تک پہنچانے اور اسلام اور مسلمانوں کی حفاظت اوردفاع کے لیے بڑی منفعت کے حصول یا بڑے نقصان سے بچاؤ کے لیے تصویر بنوانے کا ضرر اس کی حرمت کے باوجودگوارا اور برداشت کرنا ہوگا۔جیسا کہ کسی مریض کا علاج کرتے وقت اسے دائمی تکلیف یا جسم کے دوسرے اعضا کو بیماری کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اس کا بیمار عضو کاٹ کر چھوٹا نقصان گوارا کیا جاتا ہے۔

امام احمد رحمة اللہ علیہ نے اپنی کتاب الزہد میں فرماتے ہیں کہ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم سے چند ایک لوگوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں ،لیکن اس عمل پر رضا مند ہونے کی وجہ سے عذاب میں سارے شریک تھے۔(1؍678،679)اسی طرح تصویر سازی کے بارے میں وعید کا مصداق مصورکے ساتھ وہ شخص بھی ہو گا جو خود کو تصویر کے لیے خوشی سے پیش کرتا ہے،لیکن اگر کوئی صاحب ِعلم اپنی دینی ذمہ داری کی ادائیگی میں میڈیا کا استعمال کرتا ہے اور تصویر بنوانے پر رضا مند نہ ہو تو وہ مصور کے ساتھ اس جرم میں شریک نہ ہو گا۔

سعودی عرب کی دائمی فتویٰ کونسل نے بھی اپنے فتوی میں قرار دیا ہے کہ ٹی وی پر گانے، موسیقی اور تصویر جیسی منکرات حرام ہیں ،لیکن اسلامی لیکچر،تجارتی اور سیاسی خبریں جن کی شریعت میں ممانعت وارد نہیں جائز ہیں ، لیکن جب ان کی شرخیر پر غالب آ جائے تو حکم غالب پر لگے گا۔ 24


البتہ یاد رہے کہ مصلحت اور ضرر کے تعین کا انحصار کسی عام آدمی کی پسندیا ناپسند پر نہیں ہو گا۔بلکہ اس کے بارے میں شریعت کے متخصص علما کی رائے ہی معتبر اورحتمی ہو گی۔

اس تمام گفتگو کا لب ِلباب یہ ہے کہ حالات کے تقاضوں کے مطابق ہمیں اپنے آپ کو تیار کرناچاہیے جیسے جنگ میں توپ کا مقابلہ تلوار سے، جنگی جہاز کا مقابلہ کلاشنکوف سے یا میزائل اور ایٹم بم کا مقابلہ توپوں سے نہیں کیا جاسکتا، بالکل اسی طرح دین کی حفاظت اورتبلیغ و اشاعت کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنا ہو گا اور فکری سرحدوں پر دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں جدید ہتھیاروں سے لیس ہونا پڑے گا ورنہ لادینیت، غیر اسلامی تہذیب کی یلغاراور اسلام دشمن پروپیگنڈے کی تاثیر سے نئی نسل کو بچانا مشکل ہو جائے گا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دین کو سمجھنے اور اس کی صحیح تعبیر کرنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔


حوالہ جات
1. صحیح بخاری،کتاب التفسیر:4920
2. تفسیر احکام القرآن: 4؍1600
3. شرح مسلم از نووی:14؍91
4. اقتضاء الصراط المستقیم:2؍193
5. صحیح بخاری:434
6. فتح الباری:10؍395
7. اقتضاء الصراط المستقیم:1؍ 335
8. ایضاً :1؍332
9. صحیح مسلم:2106
10. صحیح بخاری:5954
11. ابوداؤد:4152
12. شرح مسلم للنووی:14؍84
13. صحیح بخاری: 5954
14. صحیح مسلم:2111
15. صحیح بخاری: 5951
16. صحیح مسلم:1671
17. فتح الباری:10؍386
18. فتح الباری:10؍387
19. فتاوی اللجنة الدائمة: 1؍661
20. سنن ترمذی:2518
21. موطا مالک:2؍538
22. (2؍60)
23. (3؍97)
24. فتاوی اللجنة الدائمة:1؍674

 


 

i. جیسا کہ علامہ ابن تیمیہ کے فرمان کا ترجمہ پیچھے گزر چکا ہے: وأکثر الناس قد لا یعلمون أن طلوعہا وغروبہا بین قرن شیطان ولا أن الکفار یسجدون لہا ثم نہ ۖ نہٰی عن الصلوة ف ہذا الوقت حسمًا لمادة المشابہة بکل طریق ( اقتضاء الصراط المستقیم :2181)