میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

اگر عوام الناس سے پوچھاجائے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل کس طریقے سے ممکن ہے ؟ تو سب کا ایک ہی جواب ہوگا: ''صحیح تعلیم کے ذریعے''... یقیناتعلیم بنی نوع انسان کی ترقی، صلاح وفلاح اور کامیابی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے مگر یہ تعلیم صحیح ہونی چاہئے۔ اورتعلیم کا صحیح رُخ ہمیں صرف اور صرف وحیِ الٰہی کے ذریعے سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی تھی۔ اس میں پڑھنے کا ہی حکم دیا گیا تھا مگر ساتھ ہی تعلیم کی صحیح جہت بھی واضح کردی گئی تھی۔ سورئہ علق میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ٱقْرَ‌أْ بِٱسْمِ رَ‌بِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ ﴿١﴾ خَلَقَ ٱلْإِنسَـٰنَ مِنْ عَلَقٍ ﴿٢﴾ ٱقْرَ‌أْ وَرَ‌بُّكَ ٱلْأَكْرَ‌مُ ﴿٣﴾ ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ ﴿٤﴾ عَلَّمَ ٱلْإِنسَـٰنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ ﴿٥﴾ كَلَّآ إِنَّ ٱلْإِنسَـٰنَ لَيَطْغَىٰٓ ﴿٦﴾ أَن رَّ‌ءَاهُ ٱسْتَغْنَىٰٓ ﴿٧﴾ إِنَّ إِلَىٰ رَ‌بِّكَ ٱلرُّ‌جْعَىٰٓ ﴿٨...سورۃ العلق
''پڑھو! (اے نبیؐ) اپنے ربّ کے نام سے جس نے پیدا کیا، جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔ پڑھو! اور تمہارا ربّ بہت کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہ جانتا تھا۔ ہرگز نہیں ، انسان تو سرکشی کرتا ہے اس بنا پر کہ وہ اپنے آپکوبے نیاز سمجھتا ہے حالانکہ اس نے پلٹنا تو یقینا تمہارے ربّ ہی کی طرف ہے۔''

ان آیات میں 'مسلم حنیف' یعنی یکسو مسلمان کے لئے نصابِ تعلیم بتایا گیا ہے کہ وہ ایسی تعلیم حاصل کرے گا جو اس کا تعلق ربّ سے جوڑے کیونکہ :

  • ربّ ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
  • اس کو ربّ نے ایک معمولی چیزیعنی خون کے لوتھڑے سے بنایاہے۔
  • وہ ربّ انسان پر بڑا فضل و کرم کرنے والا ہے۔
  • یہ اس کے فضل و کرم کا ہی نتیجہ ہے کہ اس نے انسان کو قلم کے ذریعے تعلیم دی۔
  • اس ربّ نے انسان کو وہ سب کچھ سکھایا جو انسان نہیں جانتا تھا۔ اس نے وحی کے ذریعے انسان کو خیروشر، حرام و حلال، جائز و ناجائز وغیرہ کی پہچان کی تعلیم دے کر اس کی آخرت اور عاقبت کی تیاری کے لئے دنیا کے وسیع تر میدان میں بھیج دیا۔ اب جو شخص اپنی عملی زندگی میں کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لئے لازمی ہے کہ ربّ ِکریم کی دی ہوئی تعلیم پر برضا و رغبت عمل پیرا ہو۔
  • مگر انسان تو بڑا سرکش ہے۔ وہ وحی الٰہی کے ذریعے دی گئی تعلیم کی قدر نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ کو اس سے بے نیاز سمجھتا ہے۔
  • اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آخرت کی زندگی پر ایمان نہیں ۔ اگر ایمان ہے بھی تو اتنا کمزور کہ آخرت کو سنوارنے کی کوئی فکر نہیں ۔

مندرجہ بالا نکات دراصل وہ حقائق ہیں جو ربّ العالمین نے خود بیان فرمائے ہیں ۔ وہ انسان کا خالق ہے۔ اس کی فطرت کی کمزرویوں اور خامیوں سے آگاہ ہے۔ وہ ازراہِ فضل وکرم انسان کواپنی زندگی کامیاب و کامران بنانے کے لئے درست رہنمائی دے رہا ہے۔اسی بات کو پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا:
(خیرکم من تعلَّم القرآن وعلَّمه) 1
''یعنی تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو خود قرآن پاک سیکھے پھر دوسروں کو اس کی تعلیم دے۔''

(من یّرد اﷲ به خیرًا یفقِّھه في الدین) 2
''جس شخص سے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سوجھ بوجھ عطا فرما دیتا ہے۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور ارشاد گرامی ہے:
(وإن الأنبیاء لم یورثوا دینارًا ولا درهمًا، وإنما ورثوا العلم فمن أخذ به فقد أخذ حظا وافرًا) 3
''یعنی انبیاے کرام نے درہم و دینار کا ورثہ نہیں چھوڑا۔ بلکہ اُنہوں نے تو علم دینی کی وراثت چھوڑی ہے۔ تو جس شخص نے اس علم دین کو حاصل کرلیا اس نے گویا (دنیا و آخرت) کا وافر حصہ پالیا۔''

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:
(العُلماء ورثة الأنبیاء)4
''علما ہی انبیا کے ورثہ کے مالک ہیں ۔''

آج کل 'علم' کے فضائل و مناقب پر بڑی بیان بازی ہوتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج ہمارے جدت پسند مغربی تعلیم یافتہ طبقے ان کو مغربی علوم پر منطبق کردیتے ہیں یعنی سائنس، ریاضی، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی وغیرہ کی تعلیم پر۔ پھر وہ دلیل لاتے ہیں کہ خود نبی کریم ؐکا ارشاد ہے کہ ''علم کا حاصل کرنا ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔'' اور خود قرآن نے ہی تو سب سے پہلے اقرأ کا حکم دیا ہے۔ آہ کتنا بڑا ڈاکہ... کہ اسلام کی زرّیں اور سنہری تعلیم کوغائب کرکے اسے مغربی علوم کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا گیا۔

اتنا بڑا شب خون... یہ تاریخ کی سنگین ترین دہشت گردی ہے، جس سے مسلمان مغالطٰہ کھا گئے۔ وہ لٹ گئے، برسرراہ وہ تباہ و برباد ہوگئے۔ متاعِ کارواں ان کے ہاتھوں سے جاتا رہا مگر المیہ در المیہ یہ ہے کہ ''کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا'' ان کو پتہ ہی نہ چل سکا کہ ان کے ساتھ کتنی بڑی واردات ہوچکی ہے۔ تاریخ کی سب سے بڑی علمی خیانت کہ مسلمانوں کا علمی ورثہ اہل مغرب اپنی لائبریریوں میں لے گئے اور پھر اس ورثہ کو مغربی 'سکالرز' کے نام منسوب کردیا اور مسلمان، مغربی تعلیم یافتہ مسلمان یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ بھئی علم ہے تو اہل مغرب کے پاس۔ عروج ہے تو انہی کے پاس اور ترقی کرنی ہے تو انہی کے نصابِ تعلیم کو پڑھ کر ترقی ہوسکتی ہے۔ انہی کے نقشِ قدم پر چل کر ہوسکتی ہے۔ انہی کو مائی باپ بناکر، ان کی غیر مشروط وفاداری کرکے ہی ترقی ہوسکتی ہے۔ ان کے ملحدانہ، سیکولر اور خدا بیزار تعلیم ہی کے ذریعے ہم آگے بڑھ سکتے ہیں ۔

اس سارے جاں گداز قصے کی تفصیل یہ ہے کہ مسلمانوں کا ماضی بہت درخشاں اور تابندہ رہا ہے۔ وہ علم و ادب اور صنعت و حرفت کے آسمان پر مہر تاباں بن کر چمکے اور بارہ سو سال تک اہلِ دنیا کو فیض پہنچاتے رہے۔ جب مغربی قوتوں نے طویل تاریک دور (Dark ages) گزارنے کے بعد انگڑائی لی تو مکروفریب کے ذریعے دنیا پر بالادستی قائم کرنے کی فکر میں لگ گئے۔ چنانچہ دو رِجدید کی استعماری قوتیں دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے کی غرض سے ابتدا ہی سے اس بات کے لئے کوشاں رہیں کہ مسلمانوں کے دل و دماغ سے ان کے 'منبعِ علم و عرفان' یعنی قرآن کو کھرچنا ضروری ہے تاکہ وہ مکمل طور پر ہمارے تابع فرماں بن سکیں ۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جب تک مسلمان اپنے قرآن کے مفہوم و منشا سے واقف رہیں گے اور اس کے اَحکام سے آگاہ رہیں گے، اس وقت تک اسلامی روح ان کے اندر سے نہیں نکل سکتی اور وہ ہماری بالادستی کے راستے میں رکاوٹ بنے رہیں گے۔

دوسری بات جو اس سے اہم ہے کہ کتاب و سنت کے علوم سے آگاہ، پیغمبروں کے وارث 'علمائ' اسلامی معاشرے میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ وہی اسلامی حکومت میں قاضی ومشیر ہوتے اور فقہ واجتہاد، فتاویٰ وغیرہ کی شکل میں مرتب و مدوّن کرتے ہیں ۔ ان کا معاشرہ میں اتنا وزن ہے کہ وہ بادشاہ اور حکمران کو برسرعام خلافِ اسلام کام سے روک دیتے ہیں اور مسلمان حکمرانوں کو ان کے سامنے مجالِ انکار نہیں ۔یہ علما حکمرانوں کو اجتماعی معاملات میں اللہ و رسولؐ کے احکام سے روگردانی نہیں کرنے دیتے۔

یہی وجہ ہے کہ ہراستعماری قوت نے اپنے اپنے زیر اقتدار مسلم علاقہ میں اہتمام کیا کہ معاشرہ میں ان علما کی تحقیر ہو، عوام میں ان کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور لوگوں کو ان سے بدظن کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی شعائر کی تضحیک کی جائے، ترقی اور ملازمت کو مغربی علوم کے ساتھ وابستہ کردیا جائے۔ ان کے لئے دینی مدارس کسی نہ کسی بہانے سے ختم کردیئے جائیں اور وہاں کے فارغ التحصیل لوگ بھوکے اور مارے مارے پھریں ۔ اس طرح مسلمانوں کے دل کتاب و سنت کی تعلیم سے پھیر کر جدید سیکولر علوم کی طرف مائل کئے جاسکیں گے تاکہ وہ ہمارے صحیح غلام بن سکیں اور ہمارے مقاصد میں ہمارے ہم نوا بن جائیں ۔ چنانچہ زیرنگیں مسلم علاقوں میں وسیع پروپیگنڈا کیا گیا کہ اصل علم جو آج کے دور جدید کا ساتھ دے سکتا ہے وہ 'سائنس اور ٹیکنالوجی' کا علم ہے۔ یہ آرٹس کے علوم تو بیکارِ محض ہیں ، کیونکہ آج کے دور میں ان سے روزی روٹی کا بندوبست نہیں ہوسکتا۔ ملازمت تو صرف سکول کالج کے فارغ التحصیل کو ملے گی۔ دینی علوم سے وابستہ رہنے کو پسماندگی اور زوال کا سبب اور معاشرتی و عمرانی علوم کو فرسودہ اور بیکار روایات قرار دیا گیا کہ یہ دینی علوم کے ماہرین اور عربی و فارسی پڑھنے والے مولوی تو جاہل ہیں ۔ یہ دو ٹکے کے مولوی دنیا کے معاملات کیا جانیں ، یہ صرف لوٹے، مُصلّے اور مسجد تک ہی محدود ہیں ۔ یہ صرف نمازیں ، جنازے اور نکاح پڑھاتے رہیں ۔ ان کامعاشرے میں بس اتنا ہی کردار ہے۔ دنیا کے معاملات کو سمجھنا ان کے بس کا روگ ہی نہیں ۔

مدارس سے فارغ التحصیل لوگوں کے مشاہرے اتنے قلیل کردیئے گئے کہ آج بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اندر مؤذن، خطیب اور دینی مدرسے کے اُستاد کی تنخواہ چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے، یعنی انتہائی کم درجے کے ملازمین سے بھی کم۔

اگر کوئی شخص ادیب فاضل، منشی فاضل یا عربی فاضل کرلے تو یقینا اس کی قابلیت ایم اے (اُردو، فارسی یاعربی) سے کم نہیں بلکہ ان سے زیادہ ہی ہوتی ہے مگر بُرا ہو اس تعصب کا کہ ہمارے ہاں رائج مغربی نظام تعلیم کے مطابق جب تک یونیورسٹی سے بی اے (انگریزی) اور ایک مزید مضمون کا امتحان نہیں دیاجاتا یا یونیورسٹی سے ایم اے کا امتحان پاس نہں کیاجاتا، اس کااجتماعی کیڈر میں مرتبہ ایم اے والوں سے کہیں کم ہوتا ہے۔ ایم اے والا تو گریڈ۱۷ میں کام کرسکتا ہے مگر اَلسنہ شرقیہ کا امتحان پاس کرنے والا دورانِ ملازمت گریڈ ۱۴ سے آگے نہیں بڑھ سکتا جبکہ درسِ نظامی والے کو باقاعدہ میٹرک، ایف اے، بی اے ، ایم اے سب کچھ امتحان دینے پڑیں گے، وگرنہ وہ صرف کسی مسجد مدرسہ میں تین چار ہزار کا مشاہرہ پانے کا حق دار ہے۔

یہ آج کی بات نہیں ،پاکستان کو بنے ساٹھ سال گزر چکے ہیں مگر دینی علوم کے حاملین اسی طرح نانِ جویں کے محتاج ہیں ۔ وہی لارڈ میکالے والا سسٹم ہی چل رہا ہے اور کسی بھی صاحب اختیار کو اس طرف توجہ دینے کی توفیق نہیں ہوئی۔ پاکستان میں بننے والی قومی تعلیمی پالیسیوں میں کسی نے اس تضاد کو ختم کرنے کی سفارش نہیں کی۔

اس پر طرہ یہ کہ گذشتہ چند سالوں کی لگاتار مہم جوئی کے بعد مسلم معاشرے میں علما اور مدارس کے کردار کے بارے میں ایسے ایسے شبہات اور سوالات پیدا کردیے گئے ہیں ، جس سے ان کے لئے معاشرے میں مؤثر کام کرنا مزید ناممکن ہوکر رہ گیا ہے، سب کو معلوم ہے کہ وزیرستان اور شمالی سرحدی علاقہ میں کس کے مفادات کی جنگ کس کے کہنے پر لڑی جارہی تھی، لیکن اس میں بلاوجہ علماء او راسلامی شعائر کو بدنام کیا جارہا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی غور طلب ہے کہ اگر موجودہ حکومت عدل و قانون سے وابستہ سینئر افراد کی تضحیک شعاری کا رویہ اپناتی ہے، تو ان کے لئے وکلاء کی ایک فوج ظفر موج میدان میں احتجاج اور جلسے جلوس کرنے کے لئے موجود ہے اور دنیا بھر کا نظام بھی ان عدالتی مناصب کے تحفظ کے لئے نہ صرف ان کو ایوارڈز سے نواز رہا ہے بلکہ اس سلسلے میں حکومت کے اقدامات کو ناقدانہ نظر سے دیکھتا ہے۔ جبکہ دینی علم اور اس سے وابستہ علما کے کردار پر اگر اپنے مذموم مقاصد کے تحت کیچڑ اچھالا جاتا ہے ، عوام میں ان کے کردار پر سوالیہ نشان قائم کیا جاتا ہے تو ان علما کرام کے پاس اس عزت ومنصب کے سوا اور ہے ہی کیا۔ مالی منفعت اور دنیاوی جاہ کو پہلے ہی یہ لوگ قربان کرکے اس میدان میں آگے بڑھتے ہیں ، الا ماشاء اللہ...پھر اس متاثر شدہ کردار کو دوبارہ قائم کرنے کے لئے نہ تو میدان میں کوئی تحریک موجود ہے بلکہ عالمی ادارے تو پہلے ہی یہ چاہتے ہیں کہ دین اور اہل دین سے مسلمانوں کا رشتہ کمزور سے کمزور تر ہوجائے ، تو دین اور اس سے وابستہ افراد کے مقام وکردار کو ٹھیس پہنچنا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے جس کا کوئی مداوا ممکن نہیں ۔

افسوس تو اس بات کا ہے کہ مغربی ممالک اپنے آپ کو سیکولر کہنے کے باوجود اپنے پادریوں کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ ان کو 'فادر' کہہ کر پکارا جاتا ہے، ان کو گرانقدر مشاہرے دیے جاتے ہیں ۔ خود عیسائیت کی تبلیغ کے لئے بے شمار فنڈ وقف کئے جاتے ہیں جبکہ مسلمان خود اپنے علما کا، جو انبیا کے وارث ہیں ، اس طرح مذاق اڑاتے ہیں : ہائے بیچارے مولوی!

اس سے بڑھ کر ظلم یہ ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (International Islamic University Islamabad)کے اعلیٰ تدریسی معیار کے باوجود پنجاب یونیورسٹی اس کی سند کوہی تسلیم نہیں کرتی ، ایک ہی ملک کی دو سرکاری یونیورسٹیوں کی سندات میں اس قدر تفاوت صرف اسی بنیاد پر ہے کہ ایک یونیورسٹی علوم اسلامیہ کے نام پر قائم کی گئی ہے اور دوسری کو انگریز سامراج نے سیکولر علوم کو پروان چڑھانے کے لئے قائم کیا تھا، اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلامی یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کے امتحان دینا پڑتے ہیں ۔

واضح ہو کہ علما کے لئے لفظ 'مولانا' احترام کے طور پر بولا جاتاہے، یعنی ہمارے سردار، دوست، قابل احترام۔ اسی طرح لفظ 'ملّا' بھی بڑا قابل احترام لفظ ہے۔ جس سے مراد ہے 'علم سے بھرا ہوا' مثلاً ملّا جامی، ملّا علی قاری، ملّا نظام الدین وغیرہ۔ مگر اب ان کو 'دو ٹکے کے مولوی' ، 'ہائے بیچارہ مولوی' کہہ کر مذاق اڑایا جاتا ہے۔ خود مسلمان اپنے علماے کرام کو ذلیل وخوار کرنے میں اہل مغرب سے کسی طرح بھی کم نہیں ہیں ۔

علماے کرام اور سیاست
مسلمانوں کااصل علم تو وہی ہے جو کتاب و سنت پر مبنی ہے۔ چنانچہ برصغیر میں رائج درسِ نظامی دو سو سال تک مسلمانوں کی ہر قسم کی ضرورت کو پورا کرتا رہا۔ اس درسِ نظامی کا مرکز و محور قرآن و سنت تھے۔ وہ لوگوں کو ہر قسم کے مردانِ کار مہیا کرتا تھا۔ جن میں سیاستدان، جج، سپہ سالار، فوجی، استاد، انجینئر، طبیب شامل تھے، غرضیکہ ان کی ہر نوع کی علمی ضرورت پوری کرتا تھا مگر انگریزوں کی آمد کے ساتھ ہی مسلمانوں کو سیاست سے غیر مؤثر کردیا گیا کیونکہ 1857ء کی جنگ ِآزادی کے موقع پر علما نے بہت اہم اور بنیادی کردار ادا کیا تھا اور اس کے بعد بھی ہم دیکھتے ہیں کہ نظریۂ پاکستان کو مقبول بنانے اور تحریک ِپاکستان کو کامیاب بنانے میں علماے کرام کا کرداربڑا اہم تھا۔ وہ اُمورِ سیاست چلانے میں کسی سے کم نہیں رہے۔ مگر بُرا ہو اس سیکولر تعصب کا کہ پاکستانی سیاست سے ان دیندار علما کو دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں دینی اسناد کو شروع سے ہی متنازعہ قرار دیا گیاتھا۔ مگر بڑا ظلم تو اس وقت ہوا جب پرویزمشرف حکومت نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب لڑنے کے لئے بی اے کی ڈگری لازمی قرار دے دی اور جن علما کے پاس یہ ڈگری نہیں تھی، ان کو نااہل، ناخواندہ اور جاہلِ محض قرار دے دیا گیا۔ یہ سب کچھ دینی قوتوں کی کامیابی کو مسدود کرنے کیلئے کیا گیا۔

موجودہ الیکشن کمیشن نے واضح کردیا کہ الیکشن 2008ء میں دینی مدارس کی اسناد کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ لاہور ہائی کورٹ کے الیکشن ٹربیونل کے دو جج جسٹس محمد مزمل خاں اور جسٹس سردار محمد اسلم نے واضح کیا کہ ''گزشتہ الیکشن 2002ء میں دینی اسناد کو تسلیم کرلیا گیا تھا مگر یہ اسی الیکشن کے ساتھ مخصوص تھا۔ اب صرف ایسے اُمیدوار انتخاب لڑنے کے اہل ہوں گے جنہوں نے دینی اسناد کے ساتھ بی اے میں انگریزی کا اور ساتھ ایک مزید مضمون کا سرکاری امتحان بھی پاس کیا ہو۔'' (رپورٹ روزنامہ 'پاکستان' مؤرخہ ۱۳؍ دسمبر ۲۰۰۷ئ) یاد رہے کہ یہ فیصلہ سنانے والے دونوں ججوں کے ناموں میں لفظ 'محمد' موجود ہے اور یہ جج اس اسم مبارک کی یہ عزت افزائی کررہے ہیں ۔

دینی علوم کو آج عوام نے بھی اپنی زندگی سے خارج کردیا ہے۔ علما کومیڈیا سے بھی دیس نکالا مل چکا ہے۔ بچے سکول، اکیڈمیوں ، ٹی وی، کمپیوٹر اور موبائل وغیرہ میں اتنے مصروف ہوچکے ہیں کہ پورے دن میں صرف آدھ گھنٹہ بھی اُنہیں قرآن ناظرہ تک پڑھنے کا وقت نہیں ملتا۔ اب گھروں میں قرآن پاک بہ آواز بلند پڑھنے کا رواج نہیں رہا۔ نہ وہ ماں باپ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنتے ہیں ، نہ خود ان کے پاس قرآن پڑھنے کا وقت ہوتا ہے۔ خود والدین اُن کو اتنا سخت ٹائم ٹیبل دے دیتے ہیں کہ اس کے اندر بچے کے لئے قرآنِ پاک پڑھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا :


گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے تیرا
کہاں سے آئے صداے لا إله إلا اللہ

ہمارا میڈیا اور علما
ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، رسائل یا تو سیاسی بیانات سے بھرے ہوتے ہیں یا پھر سپورٹس اور شوبز کی خبریں بڑی تفصیل سے دیتے ہیں ۔ کسی عالم کی سوانح عمری، ان کے کارنامے اخبارات، رسائل اور میڈیا میں جگہ حاصل نہیں کرسکتے۔ ان میں علما کا کہیں ذکر ِخیر نہیں ہوتا۔ کہیں ذکر آبھی جائے تو وہ منفی انداز کا ہوتا ہے مثلاً سانحہ لال مسجد کے معاملے میں حکومت کی اپنی کیا کیادھاندلیاں تھیں ؟ اس کو میڈیا نے بہت کم اجاگر کیا۔ مگر غازی عبدالرشید اور مولانا عبدالعزیز کو مسلسل میڈیا ٹرائل میں رکھا گیا۔ سانحہ کے واقع ہونے سے پہلے سات ماہ تک حکومت اور لال مسجد کی انتظامیہ میں مسلسل کشیدگی رہی اور سب نے لال مسجد کی انتظامیہ کو مطعون کیا۔ کسی نے حکومت کی یہ کوتاہی اُجاگر نہ کی کہ مشرف حکومت بیرونی دباؤ پر اسلام آباد، دارالخلافہ کی سات مساجد (ایک، دو، نہیں بلکہ پوری سات) مسمار کرچکی ہے اور اب وہ آٹھویں مسجد یعنی لال مسجد کو بھی گرانا چاہتی ہے۔ تو لال مسجد کی انتظامیہ نے حکومت کی اس غلطی پر احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ان ساتوں مساجد کی تعمیر کرے،کہ مسجد تو اللہ کا گھر ہے اور مسجد کو توڑ کر اس جگہ کو کسی اور مصرف میں لانا شرعاً جائز نہیں ہے۔ پھر مولانا عبدالعزیز کے ساتھ خود حکومتی لوگوں کے رابطے اور خود ان کو کس طرح برقع میں باہر بلا کر ان کی میڈیا کے ذریعے توہین کی گئی۔

اس طرح علما کی تضحیک کا سلسلہ ہمارے معاشرے میں مسلسل جاری رہتا ہے۔ فلمیں ، ڈرامے اور کہانیاں سب ایک ہی پیغام دیتے ہیں کہ دین اسلام کا نام نہ لو، وگرنہ تم دنیا بھر میں نکو بن جاؤگے۔ فلم 'خدا کے لئے' اس کی تازہ ترین مثال ہے جس میں شعائر ِاسلام کا مذاق اُڑایا گیا، دین اسلام کو بدنام کیا گیا۔ خصوصاً موسیقی کو 'حضرت داؤد علیہ السلام کا معجزہ' اور 'سنت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم 'ثابت کرنے کی مضحکہ خیز کوشش کی گئی ہے۔

حیرت ہے کہ کوئی شخص خوش الحانی سے قرآن پاک پڑھے تو اُسے کوئی سننے کو تیار نہیں مگر وہی شخص گانا شروع کردے تو اس کو ٹی وی، ریڈیو والے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور پھر وہ چند دنوں میں اتنا ممتاز'موسیقار' بن جاتا ہے کہ بقولِ بعض ''ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔'' عورت ہو تو وہ 'نورجہاں ' کے لقب سے نوازی جاتی ہے۔ کوئی یہاں ہدایت کار ہے تو کوئی رنگ و نور کی دنیا کو آبادکررہا ہے۔ غور کیجئے لفظ 'ہدایتکار' اور'نور' کے الفاظ پر کہ ان کی اصل کیا ہے اور یہ کس طرح غلط استعمال ہورہے ہیں ؟ اسی طرح اعتدال پسند اور روشن دین 'اسلام' کو دہشت گردی اور تاریک خیالی کہا جارہا ہے جبکہ اپنی خود ساختہ لغو باتوں کو اسلام کے نام پر چسپاں کرکے 'روشن خیال اعتدال پسندی' گردانا جارہا ہے۔

ایک سٹیج پر ایک جید عالم ہو اور ساتھ ایک موسیقار ہو تو لوگ گویے اور بھانڈ کی طرف متوجہ ہوں گے اور عالم دین وہاں تنہا کھڑا رہ جائے گا۔ دیانتدار صحافی، نامور قانون دان، حاملانِ دین متین، ان کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے جبکہ ان ناچوں اور گویوں اور کھلاڑیوں کے ٹی وی، ریڈیو، رسائل و اخبارات میں لمبے لمبے تذکرے اور تبصرے موجود ہوتے ہیں ۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس گلوکار کا گفتار وکردار لوگوں کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے یا یہ برائی کو حاصل فطری اور فوری کشش کا نتیجہ ہے۔

نامی گرامی علماء فوت ہوتے ہیں تو اخبار میں صرف دو سطری خبر لگ جاتی ہے۔ کوئی کھلاڑی یا ناچنے والی فوت ہو تو سارے اخبارات کئی کئی دنوں تک اس کے نام کے ایڈیشن نکالتے رہتے ہیں اور ٹی وی ان کے 'ذکر ِخیر' کے لئے کئی دنوں تک وقف ہوجاتا ہے۔اب ہماری قوم یعنی مسلمان اپنا یہ رجحان واضح کررہے ہیں کہ یہ موسیقار ہی وہ لوگ ہیں جن سے اللہ کلام کرتا ہے۔ ان کے گلے میں رام بولتا ہے۔ نورِالٰہی انہی کے ذریعے سے دنیا میں پھیل رہا ہے۔ باقی رہے انبیا کرام و علماے کرام تو وہ ماضی کی داستانیں تھیں ۔ اب وہ گزر گئے، آج کی رنگ و نور کی دنیا میں ان کا کیا کام۔ فاعتبروا یا أولي الأبصار!
افسوس! ہم میر کارواں تھے اب گردِ کارواں بن کر رہ گئے ہیں ۔ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آلاتِ موسیقی توڑنے کے لئے بھیجا گیا تھا، اُمت اسی موسیقی کو 'روح کی غذا' قرار دے رہی ہے۔

موجودہ نصابات
ہمارے بچپن میں جب بچے کو پڑھایا جاتا تو 'الف' سے اللہ کے ساتھ تعلیم کا آغازہوتا۔ ابتدائی قاعدہ حمد، نعت اور اصلاحی اخلاقی کہانیوں پرمشتمل ہوتا۔ درمیان میں ایک دور آیا تو الف سے اَمرود، انار، آم وغیرہ پڑھائے جانے لگے (کہ بچے کی توجہ ابتدا سے کھانے پینے کی طرف ہی مائل رہے) اور آج کا دور آیا ہے کہ بچے کی تعلیم کا آغاز 'الف 'سے امریکہ اور 'ب' سے بش ہونے لگا ہے اور نصاب میں بش (امریکہ کا صدر) کی تعریف پرمشتمل ایک انگریزی نظم بھی شامل کردی گئی ہے۔ پہلے صوفی تبسمؒ اور علامہ اقبالؒ کی خوبصورت نظمیں بچوں کو پڑھائی جاتی تھیں ۔ اب بے مغز انگریزی Songs ان کو رٹائے جاتے ہیں ۔


پہلے ابتدائی قاعدے کے جملے ہوتے تھے: ''بچے نے سچ بولا۔''، ''ماں کاکہنا مانو۔'' اب سکھایا جاتاہے: ''ماں گارہی ہے، بچی ڈانس کررہی ہے۔''پہلے بتایا جاتا تھا: ''پانی اللہ کی بڑی نعمت ہے، خود بھی استعمال کرو اور دوسروں کو بھی استعمال کرنے دو۔'' اب بتایا جاتا ہے کہ ورلڈ بینک کو جب تک منظور نہیں ، ہم اپنے دریاؤں پرڈیم نہیں بنا سکتے۔ اپنے عوام کو بجلی، گیس مہیا نہیں کرسکتے۔ امریکی دباؤ پر اسلامی نظریات اور ملّی تشخص کو اُجاگر کرنے والے مواد کو ہمارے تدریسی نصاب سے نکالا جارہا ہے۔ موجودہ نصابات میں سے خلفاے راشدین اور مسلم مشاہیر کے ناموں اور کارناموں کو حذف کردیا گیا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں ہندومسلم مشترکہ نصابات امریکی سرکردگی میں تیار کئے جارہے ہیں تاکہ راجہ داہر جیسا لٹیرا ہمارا 'قومی ہیرو' قرار پائے اور غزنوی، غوری ، بابر جیسے لوگوں کوبیرونی حملہ آور اور ڈاکو لٹیرے قرا ردیا جائے۔ع آہ جاتی ہے فلک پر، رحم لانے کے لئے!

امریکہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں زبردست مداخلت کررہا ہے۔ وہ پاکستان میں ہمارے تعلیمی نظام کو تلپٹ کرنے کے لئے آٹھ دس قسم کے پروگرام متعارف کروا رہا ہے۔مثلاً:
انٹرنیشنل وزیٹرلیڈر شپ پروگرام (ہرمیدان کے دانشوروں کو امریکہ کا تین ہفتہ کا دورہ کروانا)
کالج امپرومنٹ پروگرام (یعنی کالج طلبہ کے لئے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایک سال کا وظیفہ دینا)
یوتھ ایکسچینج اینڈ سٹڈی پروگرام (سکول کے طلبہ و طالبات کو امریکہ میں ایک سال کی تعلیم دلانے کے لئے وظیفہ دینا وغیرہ

اور اس قسم کے بیسیوں پروگرام مقامی طور پر بھی اس نے شروع کئے ہیں ۔ مقصد سب کا ایک ہے کہ یہ لوگ اپنے دین، تہذیب اور اقدار کوبھول کر انگریزی تہذیب اور روایات و اقدار کو اختیار کرلیں اور امریکی رنگ میں رنگے جائیں ۔ ہمارے اپنے اربابِ بست و کشاد بھی پاکستان کے تعلیمی نظام کو ناقص اور دہشت گردی پر مبنی قرار دے رہے ہیں جبکہ آغاز خان تعلیمی بورڈ اور آکسفورڈ کی وکالت میں رطب اللسان ہیں ۔

اب عصری تعلیمی اداروں کا حال سنئے: لاہور میں کم و بیش تین چوتھائی ادارے تو انگلش میڈیم ہیں ۔ دین پسندطبقہ بھی نادانوں کی طرح اَو لیول اور اے لیول کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ گویا دنیا میں اس کے علاوہ اور کوئی پڑھنے کے قابل چیز رہ ہی نہیں گئی۔ جتنے ادارے اہل درد غیروں کے عزائم کو بے نقاب کرنے کے لئے کھولتے ہیں ، پتہ چلتا ہے کہ چند سالوں بعد وہ بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں ۔ حیرت ہے کہ خود برطانیہ میں اب اولیول اور اے لیول کا رواج ختم ہوتا جارہا ہے اور وہاں اب مذہبی ادارے تیزی سے ان کی جگہ لے رہے ہیں ۔ رہ گئے یہودی تو ان کے ہاں مذہبی تعلیم ابتدا ہی سے لازم ہے۔ جبکہ ہمارے یہاں یہ عالم ہے کہ کنیرڈ کالج کی عیسائی پرنسپل مس فیلبوس ابھی ہماری نگران وزیرتعلیم رہ کر گئی ہے اور ایف سی کالج اس وقت اسلام دشمن کاروائیوں کا بہت بڑا اڈہ بنا ہوا ہے۔ اس طرح پاکستان میں تعلیم اور نصابات کا تقریباً مکمل نظم و نسق غیروں کے ہاتھ میں ہے۔
تو پھر کہاں سے آئے صداے لاإله إلااللہ؟

میڈیا کے زیر اثر معاشرہ بھی مغربی روایات بڑی تیزی سے اپنا رہا ہے۔ اوپر سے حکومت تیزی سے ایسے اقدامات کررہی ہے کہ معاشرے سے دینی اثرات کو زائل کرسکے۔ مثلاً باجوڑ کے مدرسے کو تباہ کرنا، جامعہ حفصہ کی چار ہزار طالبات کو فاسفورس بھٹی میں جلا کربھسم کردیا گیا اسی طرح بے شمار حافظ ِقرآن طلبہ و طالبات اور دینی معلّمات کے کس طرح چیتھڑے اُڑا دیئے گئے۔ قرآن، کتب حدیث اور دینی کتب کے اوراق کی بہت زیادہ بے ادبی کی گئی کہ ان کے منتشر اوراق اب تک ندی نالوں میں رُل رہے ہیں ۔

حدود قوانین اور تحفظ ِنسواں ایکٹ
قرآن و سنت پر مبنی حدود قوانین مجریہ 1979ء جن کو ملکی و غیر ملکی جید علماء کرام نے پندرہ ماہ کی طویل محنت ِشاقہ کے بعد مرتب کیا تھا، کو ہمارا بے دین سیکولر طبقہ قبول نہ کرسکا۔ بالآخر 2006ء میں حکومت نے پارلیمنٹ میں شب خون مارکر اس کی جگہ نام نہاد 'تحفظ ِنسواں ایکٹ' منظور کروا لیا جس کے بعد تعلیمی اداروں میں باقاعدہ ڈانس اور موسیقی کی کلاسیں شروع کردی گئیں ۔ پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ نے مزاحمت کی تو 'الحمرا آرٹس کونسل' میں یہ کلاسیں جاری کردی گئیں ۔ ان کو'پرفارمنگ آرٹس ' کا نام دے کر باقاعدہ ایک اکیڈمی بھی قائم کی گئی۔ کراچی میں اس کا نام ہے'نیشنل پرفارمنگ آرٹس اکیڈمی' جس میں تین تین سال کے ڈپلومہ کورس موسیقی اور تھیٹر میں الگ الگ کروائے جارہے ہیں ، خود پرویز مشرف اس کے صدر ہیں ۔ ان اقدامات سے روزنامہ 'نوائے وقت' کے مطابق پوش علاقوں میں مساج سنٹروں کے نام پر فحاشی کے اڈّے کھل چکے ہیں جن میں تین سے پانچ ہزار روپے تک فی گھنٹہ وصول کئے جاتے ہیں اور فلمیں بنا کر بلیک میل کرنے کے واقعات بھی ہوچکے ہیں ۔ گاہکوں کے لئے شراب اور جنسی ادویات کا بھی اہتمام ہوتا ہے۔ شہریوں کا شدید احتجاج اور کارروائی کا مطالبہ!5
مگر سزا کون دے؟ تحفظ ِنسواں ایکٹ تو خود ان فحاشیوں کو تحفظ دے رہا ہے۔ جب کارواں کے دل سے احساسِ زیاں ہی ختم ہوجائے تو پھر یہی نتائج برآمد ہوں گے!!

دینی علوم اور دنیاوی علوم کا تقابل
دینی علوم تو مسلمانوں کو مقصد ِحیات سکھاتے ہیں ۔ رضاے الٰہی کے حصول کے لئے بنی نوع انسان کی خدمت کرنا سکھاتے ہیں جبکہ دنیاوی علوم ذریعہ حیات ہیں ۔ جب تک دنیاوی علوم دینی علوم کے تابع رہیں تو وہ دعوتِ دین کے لئے ایک بہت بڑی قوت ثابت ہوتے ہیں ۔ اس طرح یہ دونوں علوم مل کر مسلمانوں کے لئے دنیا و آخرت دونوں کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بن جاتے ہیں جبکہ 'وحی کی روشنی سے محروم علم و تدبر' حسن اخلاق، آدمیت اور احترام آدمیت کا سبق نہیں دے سکتا۔ بلکہ وہ بنی نوع انسان کے حق میں بہت خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ مادیت پرستی، لذت پرستی، خود غرضی اور ذاتی منافع کے حصول کا سبق دیتا ہے۔ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے لاکھوں اپنے جیسے انسانوں کو تہ تیغ بھی کرنا پڑے تو کوئی بات نہیں بلکہ 'ہل من مزید'کی صدا بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔ عملاً آج تمام غیر مسلم قوتیں وحی الٰہی کی روشنی سے محرومی کی بنا پر امریکہ کی سرکردگی میں مسلمانوں کی لاشوں کے مینار تعمیر کرنے میں کوشاں ہیں ۔ تاکہ وہ مسلمانوں کو اپنا وفادار غلام بناسکیں اور مسلمان وحی الٰہی کی روشنی ہوتے ہوئے بھی غیروں کی نقالی کررہے ہیں ، اس لئے وہ زبوں و خوار ہورہے ہیں ۔ وہ بسنت، ویلنٹائن ڈے ، میراتھن ریس اور دیگر ہندوانہ و مغربی تقریبات منانے میں مشغول ہیں ۔

علمی نکتہ نظر سے تقابل
اگر خالص علمی نکتہ نظر سے علومِ دینیہ اور دنیاوی علوم کا تقابل کیا جائے تو دینی علوم فائق نظر آئیں گے، ان میں گہرائی اور گیرائی ہے جبکہ دنیاوی علوم میں کھوکھلا پن اور سطحی پن واضح ہے:
قرآن پاک حفظ کرنا بڑا مشکل ہے خصوصاً اس لئے کہ زیر، زبر اعراب وغیر ہ کی کوئی غلطی نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں ایم اے کرنا آسان ہے۔ انجینئرنگ اور ڈاکٹری میں انسان سمجھ کر اُصول و قواعد کو یاد کرلیتا ہے اور پھراپنے الفاظ میں لکھ لیتا ہے۔ مگر قرآنِ کریم میں ایک نقطہ کی کم بیشی کی بھی اجازت نہیں ، من و عن اسی طرح یاد کرنا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حافظ قرآن کا حافظہ اللہ کے فضل و کرم اور قرآن کی برکت سے اتنا قوی ہوجاتا ہے کہ وہ عموماً عصری تعلیم میں ہر سطح پر دوسرے طالب علموں میں ممتاز رہتا ہے۔ علومِ دینیہ کے ماہر علوم عصریہ میں کبھی کورے نہیں رہے۔ امام رازی، امام غزالی، امام ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہم کی علمی گہرائی وگیرائی سے کس کو مجالِ انکار ہے۔ آج ابوالکلام آزاد، سید قطب شہید، ابوالحسن علی ندوی، ڈاکٹرحمید اللہ رحمہم اللہ وغیرہ میں سے کس کے علم سے آپ انکار کرسکتے ہیں جن کی کتابیں آج دنیا کی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوکر دنیا کی اہم یونیورسٹیوں میں پڑھائی جارہی ہیں ۔ علومِ دینیہ حاصل کرنے والے عام طلبہ بھی اُردو زبان خوشخطی، تحریر، تقریر وغیرہ میں عصری علوم حاصل کرنے والوں سے ممتاز ہوتے ہیں ۔ جس کی ایک نمایاں مثال ۲۰۰۴ء میں ہونے والے حکومتی طلبہ کنونشن میں جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے ایک طالب علم کی جنر ل پرویز مشرف کے سامنے کنونشن ہال میں انگریزی اور عربی میں تقریر تھی جس سے متاثر ہوکر صدر پرویز مشرف نے کہا ''میں چاہتا ہوں کہ مدارس ایسے ہی طلبہ پیدا کریں ۔''

اسی طرح ۲۰۰۴ء میں فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اسلام آباد کے میٹرک کے امتحانات میں پہلی ۱۴؍ پوزیشنیں 'ادارہ علومِ اسلامی، اسلام آباد' کے طلبہ نے حاصل کرکے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ مگر بُرا ہو مدارس کے خلاف تعصب آلود رویہ کا، اس اہم کامیابی کے حصول پرنہ تو مدرسے پر کوئی ڈاکومینٹری فلم بنی۔ نہ کسی حکومتی ادارے نے خبر نشر کی۔ نہ ہی صحافیوں نے اس حیرت انگیز کارنامہ پراس درسگاہ کا رُخ کیا۔6

اس مضمون کے مصنف ابوالغوث آگے چل کر لکھتے ہیں :
''اگر آپ باریک بینی سے جائزہ لیں تو ملک کے تمام مدارس کے طلبہ نے عصری علوم میں بہت سی پوزیشنیں لی ہیں ۔ مثلاً مدرسہ احیاء العلوم بہاولپور کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس مدرسہ کا آرٹس گروپ، بہاولپور بورڈ سے میٹرک سے گولڈ میڈل حاصل کرچکا ہے۔ اس مرتبہ بھی دس طالب علم امتحان میں شامل ہوئے۔ ۱۰۰ فیصد نتائج کے ساتھ اے گریڈ میں کامیابی حاصل کی۔ کیونکہ ان طلبہ کے نزدیک 'علم برائے علم وعمل' کا حصول ہوتا ہے۔ وہ علم کو عبادت اور رضاے الٰہی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ عصری علوم حاصل کرنے والے ڈگری برائے نوکری کے قائل ہوتے ہیں ۔ ہاں وہ زبان بگاڑ کر، منہ سکیڑ کر، تفاخرانہ اندا زمیں انگریزی ضرور بول سکتے ہیں ، بس یہی ان کی اہلیت ہے۔ سکول و کالج کے طلبہ مٹکنے اور تھرکنے میں مدارس کے طلبہ سے آگے ہوسکتے ہیں مگر علمی لحاظ سے وہ ان بوریا نشینوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔'' 7

یہ کوئی آج کی بات نہیں جب انگریز برصغیر میں آئے تھے تو اس وقت انہی مدارس کی بدولت ملک کی ۸۴ فیصد آبادی خواندہ تھی اور تمام ملک میں مدارس کا جال بچھا تھا۔ مسلمان، ہندو اورسکھ سب ان مدارس سے فیضاب ہورہے تھے۔ تعلیم سب کے لئے اور مفت تھی نیز درسی کتب اور ضروری مصارف بھی ان کو انہی مدارس میں مہیا کئے جاتے۔ خود حکومت اور ملک بھر کے مخیر حضرات پڑھ کر نکلنے کے بعد ملک کے انتظامی اُمور سنبھالتے۔ سیاستدان بنتے، سپہ سالار بنتے، قاضی، انجینئر ، جج، حکیم اور جلیل القدر استاد بنتے۔ ان مدارس کی کیفیت کے بارے میں جنرل سٹیمن کا یہ اعتراف تاریخ کا ریکارڈ ہے۔ وہ شاندار الفاظ میں ان مدارس کو اس طرح خراجِ تحسین پیش کرتا ہے۔ وہ اُنیسویں صدی کے آغاز کا تعلیمی نقشہ پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے:
''دنیا میں شاید ایسی قومیں بہت کم ہوں گی جس میں ہندوستانی مسلمانوں سے زیادہ تعلیم کا رواج ہو، ہر وہ شخص جسے تیس روپے ماہوار کی ملازمت حاصل ہے ، عام طور پر اپنے بیٹے کو، کسی وزیراعلیٰ کے بیٹے کے برابر تعلیم دلواتا ہے، جو کچھ ہمارے لڑکے یونانی اور لاطینی زبانوں کی مدد سے سیکھتے ہیں یہاں ان کے نوجوان وہی باتیں عربی اور فارسی کی مدد سے سیکھ لیتے ہیں ۔ سات سالہ مطالعہ نصاب کے بعد یہاں کا نوجوان علم کی ان شاخوں ، گرائمر، بلاغت، منطق وغیرہ سے قریب قریب اتناہی واقف ہوجاتا ہے جتنا کہ آکسفورڈ کا کوئی تعلیم یافتہ نوجوان۔ یہ بھی سقراط، ارسطو، افلاطون، بقراط، جالینوس اور بوعلی سینا کے متعلق بڑی روانی سے گفتگو کرسکتا ہے۔''8

اسی طرح ولیم ہنٹر(Villiam Hunter)اپنی کتاب'ہمارے ہندوستانی مسلمان' میں صفحہ ۱۴۵ پر لکھتا ہے :
''یہ حقیقت ہے کہ جب ملک ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان ایک ارفع اور اعلیٰ قوم تھے۔ دل و دماغ اور دست و بازو میں ہی اعلیٰ نہ تھے بلکہ سیاسی تنظیم اور عملی سیاست میں بھی برتر تھے۔''9

حالیہ دور میں بھی وقتاً فوقتاً امریکی ٹیمیں بھی کچھ مدارس کا تحقیق تجزیہ کرتی رہتی ہیں اور اس کے بعد وہ یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ یہ صرف تعلیم کے ہی ادارے ہیں جہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سائنس، انگریزی، ریاضی، کمپیوٹر جیسے جدید علوم بھی پڑھائے جاتے ہیں ۔
جبکہ انگریزی نظام تعلیم نے ہمیں کوئی علمی شخصیت اور کوئی محب ِوطن لیڈر نہیں دیا۔ چند ایک لوگ مثلاً سید امیر علی، علامہ اقبال، مولانا جوہر، بانی پاکستان محمد علی جناح کے سوا باقی سب اسی مرعوب زدہ ذہن کے ساتھ انگریزی کا حلیہ بگاڑتے نظر آتے ہیں ۔ اُردو اُنہیں آتی نہیں اور ہر وقت اپنے دین اور اپنے ملک کی خرابیاں اور کوتاہیاں گنوانے میں ہی مصروف رہتے ہیں ۔ آخر کار دیارِ غیر میں ہی جا لیتے ہیں ۔

آج بلا شبہ مدارس کی تعلیم میں کچھ نقائص بھی ہیں جن کو مدارس کے منتظم خود بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان نقائص کو دور کرنے میں وہ کوشاں بھی ہیں ۔ بہت سے مدارس انگریزی ، سائنس اور کمپیوٹر کی تعلیم اپنے مدارس کے نصاب میں شامل کرچکے ہیں اور وہ اپنے طلبہ کو ساتھ ساتھ میٹرک، ایف اے اور بی اے کے امتحان بھی دلاتے رہتے ہیں ۔ مگر جو مغرب کا پروپیگنڈا ہے کہ مدارس دہشت گرد پیدا کرتے ہیں ، یہ صرف تعصب ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دینی مدارس اپنے طلبہ میں دین اسلام سے اور اسلامی اقدار سے محبت سکھاتے ہیں ۔ وہ ان کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانبردار بناتے ہیں ۔

اللہ کے سوا کسی کے سامنے دبنے اور جھکنے سے روکتے ہیں ۔ وہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ان کو سینہ سپر ہونے کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اپنا دفاع کرنا تو سب کا حق ہے۔ دنیا کی ہر قوم، ہر ملک حتیٰ کہ جانور حیوان سبھی اپنا دفاع کرتے ہیں ۔ مگر غیر مسلم قوتیں مسلم دشمنی میں متحد ہوکر نعرہ لگاتی ہیں کہ ہمارے مطیع فرماں بن کر رہو، وگرنہ پتھر کے زمانے میں دھکیل دیئے جاؤ گے۔ اصل میں یہ کمزوری دینی مدارس کی نہیں خود مسلمان حکمرانوں کی کمزوری ہے کہ وہ نظامِ کفر کے آگے اپنے اقتدار کی خاطر ڈھیر ہوچکے ہیں مگر سارا الزام دینی مدارس پرعائد کیا جارہا ہے۔ کیونکہ پچھلے پچاس برسوں سے صرف مسلمانوں کے اسلامی مدارس میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی ادارے اور چرچ ویران ہورہے ہیں ۔

شاعر اکبر الہ آبادی اپنے مخصوص اندا زمیں لکھتے ہیں :
تعلیم جو دی جاتی ہے ہمیں وہ کیا ہے، فقط بازاری ہے
جو عقل سکھائی جاتی ہے وہ کیا ہے' فقط سرکاری ہے
اک علم تو ہے بت بننے کا، اک علم ہے حق پرمٹنے کا
اس علم کی سب دیتے ہیں سنو، اس علم میں ماہر کون کرے؟10


اور علامہ اقبال نے کہا :


ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا اِلحاد بھی ساتھ


اور


کرسکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو


اور


شکایت ہے یا ربّ مجھے خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا


سیدابوالاعلیٰ مودودی نے مغربی علوم کا پوری طرح مطالعہ کیا۔ ان علوم کا تجزیہ کیا، اس کے صالح اجزا دریافت کئے اور پھر ایک جامع اسلامی فکر، جدید تعلیم یافتہ افراد کے سامنے پیش کرنے کی اچھی کوشش کی۔ وہ مغربی علوم کے مطالعے کے بارے میں فرماتے ہیں :
''جاہلیت کے زمانہ میں ، میں نے بہت کچھ پڑھا ہے۔ قدیم و جدید فلسفہ، سائنس، معاشیات، سیاسیات پربھی خاصی لائبریری دماغ میں اُتار چکا ہوں مگر جب آنکھ کھول کر قرآن کو پڑھا تو بخدا یوں محسوس ہوا کہ جو پڑھا تھا ، سب ہیچ تھا، علم کی جڑ تو اب ہاتھ آئی ہے۔''11

دینی مدارس کے خلاف حکومتی جبر
پاکستانی حکومت نے تمام غیر ملکی مسلمانوں کو جو دینداری اور تقویٰ میں بے مثال تھے، دہشت گرد قرار دے کر وطنِ عزیز سے باہر نکال دیا۔ اس کے ساتھ ہی دینی علوم کے طلبہ کو بھی دیس نکالا دے دیا گیا۔ ملک بھر کے مدارس سے تمام غیر ملکی طلبہ اور اساتذہ نکال دیئے گئے۔ حد تو یہ ہے کہ عالمی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد بھی سُونی ہوگئی کیونکہ وہاں سے بھی اکثر غیرملکی جید اساتذہ اور شاگردوں کو ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا گیا۔ اوربھارت نے فوراً ہمارے ملک سے نکالے گئے طلبہ کو اپنے ہاں مدارس میں داخلہ دینے کی پیشکش کردی۔

افسوس! اسلام کے نام پربنائے گئے ملک میں اسلام کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آنے والے مہمان طلبہ و اساتذہ کے ساتھ یہ سلوک! اور دوسری طرف سیکولر کہلانے والے بھارت ان تمام ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی تعلقات کو مضبوط کرنے کی خاطر ان کو اپنے ہاں داخلہ دینے کی پیشکش کردی جبکہ پاکستانی حکومت دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی خاطر جہاد کرتے کرتے اپنے ہی ملک کے بیشتر حصوں میں ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے۔ پاکستانی فوج جس کا شعار، ایمان، تقویٰ اور جہاد ہوا کرتا تھا، اب سوات اور قبائلی علاقوں میں اپنے نیک صالح بھائی بندوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ قصور ان کا صرف یہ ہے کہ امریکہ، بھارت اوراسرائیل ان کو انتہا پسند اور دہشت گرد کہہ کر ان کے خلاف ایکش لینے کی تلقین کررہے ہیں ۔

ہماری تعلیم کا حشر
آج کل ہم امریکہ کی زبردست تعلیمی و تہذیبی یلغار کی زد میں ہیں ۔ پاکستان کے مردِ مجاہد ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کی توہین و رسوائی کہ اس نے پاکستان کو ایٹمی اسلحہ کیوں بنا کردیا؟ ، امریکہ کی زیرنگرانی بننے والا آغاخاں تعلیمی بورڈ وغیرہ؛ یہ سب چیزیں تعلیم کے میدان میں ہماری بے بسی کو ثابت کرتی ہیں ۔ ڈاکٹرعبدالقدیر صاحب کا معاملہ دیکھ کر کون سائنس کے میدان میں آگے بڑھے گا۔ رہ گیا آغاخاں تعلیمی بورڈ تو اس کا کام صرف ہماری دینی بنیادوں کو مسمار کرنا اور ہند وپاک کا مشترکہ نصاب تیار کرنا ہے تاکہ ہم ہندوؤں کے ماتحت بن کر جینا سیکھ جائیں ۔ اس غرض کے لئے کہیں کنونشن منعقد کرکے افکارِ اقبال سے روشن خیالی کشید کی جارہی ہے اور کہیں راجہ راہر کی 1335 ویں برسی منائی جارہی ہے۔ بڑی عزت و احترام سے یہ برسی مناتے ہوئے جسقم (جئے سندھ) کے راہنماؤں نے کہا کہ دس رمضان سندھ کی غلامی اور راجہ داہر کی شہادت کا دن ہے۔ برسی کی تقریب میں لاڑکانہ کے سیاسی لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔'' 12

یہ ہے دن دیہاڑے ڈاکہ کہ راجہ داہر شہید ہے جبکہ فاتح سندھ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کردیا گیا۔یہ غلط تعلیم تو اب پاکستان کے وجود کو ہی چیلنج کررہی ہے کہ پاکستان بنانے کی آخر ضرورت ہی کیا تھی؟ دوسری طرف حال یہ ہے کہ ''برطانیہ کے پیٹن کالج کے نصاب میں اسلامی تعلیمات شامل کردی گئی ہیں ۔ اس کا مقصد اسلام کو بہتر طور پر سمجھنا ہے۔''

اسی طرح چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ بشپ آر کنٹربری ڈاکٹر روون ولیمز نے کہا ہے کہ ''برطانیہ میں اسلامی شریعت کے قانون کو اپنائے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ یہ لازمی ہے اس سے معاشرے میں معاشرتی ہم آہنگی قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ اسلامی شرعی قوانین جمہوری اقدار کے منافی نہیں ہیں ۔''13

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ ڈاکٹر ولیمز کا کہنا یہ ہے کہ جس طرح برطانیہ میں یہودیوں کے مسائل کے لئے الگ عدالتیں قائم ہیں ، اسی طرح مسلمانوں کو بھی اپنے مسائل اپنے شرعی قوانین کے تحت حل کرنے کا اختیار ہونا چاہئے۔ کیونکہ یہ قوانین ہماری جمہوری اقدار کے منافی نہیں ہیں ۔'' جبکہ مسلمان حکمران خود غیروں کے دباؤ پراسلامی قوانین کو وحشیانہ اور فرسودہ قرار دے رہے ہی۔ فیا للعجب !

حقیقت یہ ہے کہ ہر چیز اپنے نظریہ کی بنیاد پر قائم رہ سکتی ہے، جس چیز کا نظریہ ختم ہوجائے وہ اپنی موت آپ مرجاتی ہے۔ مثلاخوشبو اُڑ جائے تو پھول بے معنی ہے۔ روح نکل جائے تو جسم بے کار ڈھانچہ ہے، نقشہ ختم ہوجائے توتعمیر بے معنی اور محض تکلف ہے۔ مفہوم نکل جائے تو عبارت محض منتشر الفاظ کا گورکھ دھندہ ہے۔ اگر سورج بے حرارت اور چاند بے نور ہوجائے تو کائنات قیامت کا منظر پیش کرنے لگتی ہے۔ بعینہٖ زندگی اور نظریۂ زندگی کا معاملہ ہے۔ اسی طرح پاکستان اور نظریۂ پاکستان کا معاملہ ہے۔ دونوں آپس میں اس قدر لازم و ملزوم ہیں کہ جدا نہیں کئے جاسکتے۔ گویا پاکستان اور نظریۂ پاکستان اس طرح آپس میں جڑے ہوئے ہیں کہ نظریۂ پاکستان کی پاسداری اور حفاظت ہی پاکستان اور اہل پاکستان کو تحفظ، بقا اور استحکام دے سکتی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ

آئین پاکستان کی دفعہ ۳۱ کی رُو سے ریاست اپنا فرض پورا کرے اور بچوں کو قرآن و سنت کی روشنی میں ایسی تعلیم دے کہ وہ بڑے ہوکر مملکت ِخداداد کے نہ صرف مفید شہری بنیں بلکہ وہ مکمل مسلمان بھی ہوں تاکہ دل جمعی سے ملّی اور ملکی تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں ۔
دستورِ پاکستان کی دفعہ نمبر ۳۷ کی رو سے ثانوی تعلیم کی حد تک بچوں کو مفت تعلیم دے، اورساتھ ان کو تمام تعلیمی سہولتیں بھی مہیا کرے۔
نظامِ تعلیم کو پاکستان کے بنیادی نظریہ کے مطابق ڈھالا جائے اور اسے قومی و ملّی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
نصابِ تعلیم کو سیکولر بنانے کی سازش ختم کی جائے اور تمام نصابی کتب کو اسلامی اور نظریہ پاکستان کے مطابق ڈھالا جائے۔
پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم، یکساں نصابِ تعلیم اور یکساں ذریعہ تعلیم نافذ کیا جائے۔
عربی زبان کی تدریس کو لازمی کیا جائے۔ اسلامی تاریخ، بی اے کی لازمی اسلامیات اور لازمی مطالعہ پاکستان کو برقرار رکھا جائے۔
اُستاد کے احترام و وقار کو بحال کیا جائے اوراسے معقول مشاہرہ دیا جائے۔
آبادی کے تناسب سے خواتین کی جامعات میں اضافہ کیا جائے اور وطن عزیز میں مخلوط تعلیم کا سلسلہ بند کیا جائے۔ خواتین کے لئے حجاب اوڑھنا لازمی قرار دیا جائے۔
طلبہ و طالبات کی یونیفارم کو شرعی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔

حرفِ آخر
ہر اسلامی حکومت کا شریعت کی طرف سے یہ فر ض بنتا ہے کہ وہ اپنے ہاں ''دعوت واِرشاد'' کا محکمہ قائم کرے یعنی امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے اور اسلام کا پیغام پوری دنیا تک پہنچائے۔ اسلامی حکومتوں کی اس کوتاہی کو یہ دینی مدارس پورا کررہے ہیں ۔ یہ علماء اور دینی مدارس کے لوگ قوم سے کسی گرانٹ کے طالب بھی نہیں ہیں ۔ یہ اپنے بل بوتے پر روکھی سوکھی کھا کر دین اسلام کی اشاعت اور فروغ خیر کے مبارک مشن میں مصروف ہیں ۔ ان کو اس حال میں (اگر ان کے ساتھ تعاون نہیں کرسکتے تو) کام کرنے دیں اور ان کے کام میں کوئی مداخلت نہ کریں ۔ اگر خدانخواستہ یہ مدارس ختم ہوگئے یا حکومت کے حسب ِ منشا اپنے نصابات میں ردّوبدل کرنے لگے تو پھر وہ بھی مغرب سے مرعوب ہوکر اپنا کردار کھو بیٹھیں گے۔ پھر نہی عن المنکر کافریضہ ادا کرنے والا اور فی سبیل اللہ جہا دکرنے والا کوئی نہ بچے گا۔ ایسی شکل میں اللہ کا ایسا عام عذاب آئے گا جس میں ہر نیک و بد بہتا ہوگا، نہ سرداریاں بچیں گی، نہ صدارتیں اور نہ یہ بادشاہیاں ۔ مال و دولت بچے گا اورنہ ہی جانیں !
تو اس عبرتناک انجام سے بہتر نہیں کہ ہم ہوش کے ناخن لیں ۔ اپنے دین اسلام کی طرف صدقِ دل سے رجوع کریں ۔ مغربی حکمرانوں کی فانی چمک دمک کو چھوڑ کر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع فرمان بن کر دنیاو آخرت کی صلاح و فلاح حاصل کرلیں ۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق دے!


حوالہ جات
1. صحیح بخاری: 5037
2. صحیح بخاری: 71
3. سنن ترمذی:2682
4. سنن ابو داود: 3641
5. روزنامہ نوائے وقت:یکم فروری 2008ء
6. ہفت روزہ 'ایشیا' ۲۱؍ جولائی 2004ء صفحہ 50
7. ایضاً
8. "ہندوپاکستان میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت" از پروفیسر سید محمد سلیم: صفحہ 118،119
9. حوالہ مندرجہ بالا، صفحہ 117
10. کلیاتِ اکبر
11. 'میری محسن کتابیں ' ازمولانا عمران خان، مطبوعہ معارف پریس اعظم گڑھ، 1946ء' بحوالہ مغربی زبانوں کے ماہر علماء از پروفیسر سید محمد سلیم، صفحہ 127
12. ماہنامہ "چمن بتول" : شمارہ نومبر 2006
13. رپورٹ روزنامہ نوائے وقت، مورخہ 8 فروری 2008ء