میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

دوستوں نے اب تک جوگفتگو کی ہے، ماشاء اللہ پورے اخلاص اور پوری تیاری سے اُنہوں نے اپنے خیالات کا اظہار فرمایا ہے۔ میں اس اہم مجلس کے انعقاد پر ملی مجلس شرعی کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ۔ اس سلسلے میں میری مختصرگزارشات حسب ِذیل ہیں :
1983ء میں جماعت ِاسلامی میں اس موضوع پر اختلاف ہوا اور 1983ء سے 1991ء تک ہم نے وقتاً فوقتاً اس موضوع پر مباحثے منعقد کیے اورتحقیق کی جس کے نتیجے میں ہماری ایک ٹیم بنی، مولانا محمدجان عباسی اس ٹیم کے سربراہ تھے۔ اس کمیٹی میں میرے علاوہ مرحوم بزرگ مولانا خلیل احمدحامدی، شیخ القران مولانا گوہر رحمن اور مولانا ملک غلام علی جیسے علماے کرام بھی اس کمیٹی میں شامل تھے۔ ہم نے اس مسئلے پر پوری تحقیق کی اور اس کے بعدہماری کمیٹی نے جس فیصلہ کااعلان کیا، اس کو لکھنے کی سعادت بھی میرے حصہ میں آئی، جس پرہم سب دوستوں نے دستخط کیے تھے ۔
 
اپنی بحث وتحقیق میں ہم نے جملہ احادیث، ان کی تخریج اور علما وفقہا کے اقوال کی تحقیق کی۔ اس میں (رقمًا في الثوب)اورگڑیوں کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا، اور ان سب پر ہم نے اچھے طریقے سے بحث کرتے ہوئے غوروفکر کے تمام مراحل طے کئے۔
 
اس سارے تحقیقی عمل میں ہمیں تصویر سازی کے بارے میں ایک روایت بھی ایسی نہیں ملی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویرسازی کی اجازت دی ہو۔ چنانچہ تصویر سازی کی حد تک شریعت کی حرمت بالکل واضح ہے۔ جہاں تک تصویر کے استعمال کا تعلق ہے تو اس کے استعمال کی بعض صورتوں میں ، ان کے سر کاٹ کر استعمال کیاجائے یا پھر تکیے کے طور پر استعمال کیاجائے، اس کی گنجائش کی تفصیلات ہمیں ضرور میسر آئیں ۔ ان ساری صورتوں پر چونکہ ہم بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں ، اس لئے اب میں اس کو دہرانا نہیں چاہتا۔
 
فوٹو گرافی
اپنی بحث اور اس کا ہم نے جو خلاصہ نکالا، وہ سب ایک کتابچے کی شکل میں محفوظ کردیا گیا، اس کتابچے کو ہمارے دوست مولانا گوہررحمن مرحوم نے مرتب کیا تھا جس کے آخر میں تصویر کے مسئلے پرخلاصہ بھی موجود ہے۔ ہم نے اس وقت تک میسر معلومات اور علماے کرام کی تحقیق کی روشنی میں یہ موقف اختیار کیا تھا۔ 1991ء میں ہماری کمیٹی نے جو فیصلے دیے، مجھے اُمید ہے کہ اس مجلس کو آج بھی اس سے اتفاق ہوگا کیونکہ جن حضرات کی میں نے گفتگو سنی ہے، ان کی گفتگو کا حاصل بھی تقریباً یہی نکلتا ہے۔ وہ فیصلے مندرجہ ذیل ہیں :
  • قد ِآدم تصویر کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہے۔کیونکہ چھوٹی تصویر کی جوہم نے اِجازت نکالی، وہ ''الضرورات تبیح المحظورات'' اور دوسرا قاعدہ ''الحاجة تنزل منزلة الضرورة عامًا أو خاصًا'' کے تحت ہے۔ حاجت ِشدیدہ بھی بعض اوقات ضرورت کے درجے کو اختیار کرلیتی ہے۔ توہم نے بھی اس موقع پر سوچا کہ پورٹریٹ کی حاجت ِ شدیدہ نہیں ہے۔ ابھی یہاں بحث چل رہی تھی کہ بڑی بڑی شخصیات کی قدآور تصویریں لگائی جاتی ہیں اور لوگ ان کی تعظیم کرتے ہیں ۔ میری نظر میں ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے ۔
  • تصویری بیج، سینے پر تصویر والے بیج لگانا وغیرہ بھی نہیں ہونے چاہئیں اوراس کی بھی کوئی ضرورت نہیں ۔
  • تصویریں فروخت نہیں کی جائیں گی، اس کی بھی کوئی حاجت نہیں ہے کہ اس کو کاروبار بنایا جائے اور کوئی تصاویر کی فروخت یا دکان کھولے، یہ امر بھی ناجائز ہے۔
  • خواتین کی فوٹویا تصویر نہیں بنائی جائے گی،کیونکہ اس کی بھی حاجت نہیں ہے۔
  • تصویری نمائش نہیں ہو گی۔
اخبارات میں تصاویرپر سکوت
البتہ اخبارات کے اندر جو تصویریں چھپتی ہیں ، جلسے جلوسوں اور اجتماعات کے جو پروگرام اور ان کی تصویریں چھپتی ہیں ، ان کو ہم نے نفی یااثبات ہر دو پہلو کے اعتبار سے نہیں چھیڑا۔ نہ تو ان کی نفی کی اورنہ ہی ان کااثبات کیا، جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی حاجت شدید ہے اور ہم نے یہی سمجھا ہے۔
 
ابھی یہاں ایک دوست نے بات کی تھی کہ پوری دنیا کے اندر اب نیک لوگوں کی تصویریں بھی اَخبارات میں چھپتی ہیں ۔ اور یہ ہماری حاجت بھی ہے کہ یک طرفہ طور پر دین سے وابستہ لوگوں کو ذرائع ابلاغ سے آؤٹ نہیں ہونا چاہیے ۔ہم آؤٹ ہوجائیں ، اخبارات اور رسالوں میں بھی ہمارا کوئی تعارف نہ ہو،ٹی وی میں بھی ہمارا کوئی تعارف نہ ہو، جہاں تک بے دین لوگ ہیں تو ان کو ان ذرائع ابلاغ سے خارج کرنا تو ہمارے اختیار میں نہیں اور وہ موجود رہیں گے۔ لہٰذا ہم نے کہا کہ ہمیں یکطرفہ طور پر آؤٹ نہیں ہوناچاہیے۔ لیکن حکمت کے تحت اخبارات میں اجتماعات وغیرہ کی تصاویر کی اشاعت کے مسئلے کو ہم نے چھیڑا ہی نہیں ۔
 
یہ تو ہوا تصویروں کا مسئلہ! میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہم حاجت ِشدیدہ یاضرورت کی بنیاد پر ایسی اشیا جن کی حاجت نہیں ہے، ان کی ممانعت کردیں اور یہاں سے ممانعت کی ایک قرارداد پاس کردیں تو اس کے بالمقابل تصویر کے جواز کو بھی کھینچ تان کر ثابت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس کی بھی کوئی حاجت نہیں کہ ہم یہاں پر بیٹھ کر اس کے جواز کے دلائل ڈھونڈتے پھریں ۔چونکہ بقدرِضرورت اور بقدرِحاجت تو جو چیز چل رہی ہے، اس پر علماے کرام کا بھی کوئی شدید ردّعمل نہیں ہے۔ یعنی اخبار میں اگر آپ کی تصویر چھپتی ہے تو علما بھی اس پر نکیر نہیں کرتے، کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔اور باقی پورٹریٹ وغیرہ چونکہ ہماری ضرورت نہیں ہے بلکہ اس میں شرعی نقصان بھی ہے جیسا کہ یہاں مختلف اہل علم بیان فرما چکے ہیں ۔
 
ٹی وی پرآنا اور ویڈیو بنوانا؟
جہاں تک ٹی وی کا مسئلہ ہے، اس سلسلے میں بہت پہلے سے ہماری رائے یہی تھی کہ ٹی وی وغیرہ کی مثال اسلحہ اور ذریعہ ووسیلہ کی ہے۔ اس کو نیکی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور بدی کے لیے بھی۔ اس کے بارے میں ہمارا موقف یہ ہونا چاہیے کہ اسے بدی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ فحاشی وعریانی اور بے دینی کی اشاعت کے لیے اس کو استعمال نہ کیا جائے، البتہ نیک کاموں کے استعمال کے لیے اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔
 
وجہ اس کی یہ ہے کہ ٹی وی کی تصویر 'جامدتصویر' نہیں ہے بلکہ یہ پرچھائیں ہیں ۔ اس کی ریل پرتصویر کسی کو نظرنہیں آتی۔ یہی صورتحال ویڈیو کی بھی ہے کہ جس طرح براہِ راست ٹی وی سے حرمین شریفین کو نشر کیا جاتا ہے اور بعض اوقات اس کی ویڈیو وغیرہ بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ ٹی وی اور ویڈیو میں مآل (انجام کار) کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے اور مآل کے لحاظ سے دونوں میں کوئی چیزدیکھنے کو نہ ملے گی، جامد تصویر تو ہے نہیں ، ایسے ہی ریل پربھی تصویر موجود نہیں ہے کہ اس بنا پر اس کو حرام کہا جاسکے ، اس بنا پر ٹی وی اور ویڈیو کا حکم الگ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے کہا اور مولانا رفیع عثمانی صاحب سے بھی ایک بار ہماری بحث ہوئی تو اُنہوں نے کہا کہ اس میں ہمیں تردّد ہے۔ جوتصویر ٹی وی پر براہِ راست نشرہوتی ہے، وہ تو ٹھیک ہے لیکن جو براہِ راست نشر نہیں ہوتی بلکہ اس کی فلم بنائی جاتی ہے تو اس میں ہمیں تردّد ہے۔ تو میں نے کہا کہ اس میں آپ کو کس بنیاد پرتردّد ہے؟ دیکھنے میں تو اس ریل پربھی کوئی تصویر نظر نہیں آتی، نہ ویڈیو فلم میں اور نہ براہِ راست، جہاں تک آپ اس کو نشر کریں گے، اس میں کسی تصویر کا کوئی کام نہیں ۔
 
الغرض میری رائے میں براہِ راست نشر کرنا اُسی طرح ہے جس طرح فلم بنانا۔ فلم بندی کا مآل بھی وہی ہے اور براہِ راست نشر کرنے کا بھی وہی۔ براہِ راست کے تواکثر لوگ قائل ہیں اور جو لوگ براہِ راست کے قائل ہیں تو اُنہیں ویڈیو فلم کا بھی قائل ہونا چاہیے کیونکہ ان میں کوئی فرق نںیں ہے... لہٰذا یہ مسئلہ تو بالکل آسان ہے۔
 
لہٰذا ٹی وی میں علما کو جانا اور پروگراموں میں پیش ہونا چاہیے۔ میں نے اپنی بحث کے موقع پر الحاجة تنزل منزلة الضرورة کی ایک مثال بھی پیش کی تھی۔ البدایہ والنہایہ میں یہ واقعہ ہے کہ جنگ ِ قادسیہ میں جس وقت صحابہ کرامؓ جنگ کو نکلے تو آگے سے ایرانی لشکر ہاتھی لے کر آگیا۔صحابہؓ کے پاس گھوڑے تھے جو ہاتھیوں سے بدکتے اور آگے نہیں جا سکتے تھے۔ اس مشکل کو حل کرنے اور گھوڑوں کو ہاتھیوں سے مانوس کرنے کے لئے ہاتھی کی ایک فرضی مورتی بنائی گئی اور اس کے سامنے گھوڑوں کو لا کر اس سے مانوس کیاگیا۔ جب گھوڑے مانوس ہوگئے تو اس کے بعد جنگ میں بدکنے کی بجائے گھوڑوں نے بڑی اچھی طرح مقابلہ کیا۔نتیجتاً صحابہ کرام کو فتح حاصل ہوئی۔جنگ ِقادسیہ میں ہاتھی کی مورتی بنانا بھی ایک دینی مصلحت ہے، اب مورتی بنانا تو اسلام میں جائز نہیں لیکن مورتی اس وقت اسی ضرورت کے تحت بنائی گئی کہ گھوڑوں کو مانوس کیا جائے تاکہ جنگ میں مقابلہ کرناممکن ہوسکے۔
 
اس وقت اگر ہم یکطرفہ طور پر اپنے آپ کو آؤٹ کرلیں اور بیان ہی نہ کریں ، اس میدان میں ہم جائیں ہی نہ اور دوسرے اس میں من مانی سے جو مرضی دین کی تشریح کرکے حلیہ بگاڑتے رہیں اور ہم ذرائع ابلاغ سے مطلقاً آؤٹ ہوجائیں تو یہ دینی مصلحت کے خلاف ہے۔ اصل چیز تویہ ہے کہ غلبۂ اسلام ہو اور دین کو قائم کرتے ہوئے باطل نظام کو نیست ونابود کیا جائے۔ اصل مقصود تو یہی ہے جس کی خاطر وقتی طور پر اس طرح کی چیز کا ارتکاب کیا جائے یعنی مورتی کو مورتی کی حیثیت سے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے لیے گوارا کیا جائے تو پھراس میں خیر ہے۔یہی میری گفتگو کا خلاصہ اور حاصل ہے۔
 
جس طرح ابھی بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پیروں کی بڑی بڑی تصویریں بنائی جارہی اور ان کی تعظیم کی جارہی ہے تو اگر ہم پورٹریٹ کو منع کردیں گے تو مسئلہ حل ہوجائے گا۔ البتہ ایسا نہیں کیا جاسکتا کہ پیرصاحب کی تصویر تو نہ بنائی جائے، دوسروں کی بے شک بنائی جاتی رہے۔ ایسی تفریق کس بنا پر ہوسکے گی؟ اس کے بجائے یہ موقف زیادہ مناسب ہے کہ کہا جائے:جس کی حاجت نہیں ،اس کی نفی کردی جائے مثلاً عورتوں کی تصویروں کی آپ نفی کردیں ، بیج لگانے کو آپ منع کردیں ،اس طرح جس جس چیز کا آپ ممنوع اور بے فائدہ سمجھتے ہیں ، باقی چیزوں کو آپ مت چھیڑیں ۔ ویسے بھی ہورہی ہیں ، کوئی نکیر بھی نہیں کررہا، پبلک بھی نہیں کررہی، علما بھی نہیں کررہے، علمائے کرام بھی اخبارات میں شامل ہورہے ہیں اور دینی حاجت پوری ہو رہی ہے۔ آپ اگر اس کونہیں چھیڑیں گے اور کرتے جائیں گے تو پھر ٹھیک ہے۔
 
اور جہاں تک آپ نے سوات او روزیرستان وغیرہ کے لوگوں کی مثال دی ہے کہ وہ ہر قسم کی تصویروں اورویڈیوز کو ختم کررہے ہیں ، تو میری رائے میں ان کا بلاتفریق یہ عمل دین کا علم نہ ہونے کی وجہ سیہے، ان کوسمجھانے کی ضرورت ہے کہ یہ ذرائع ابلاغ ہماری ضرورت اور ہماری مصلحت ہیں ، جہاں تک ایسی فلموں کا تعلق ہے جن میں عریانی اور فحاشی ہے تو ان کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے ذریعے سے ختم کرنا چاہیے، نہ کہ ماردھاڑ کے ذریعے۔
 
میری گفتگو کا خلاصہ یہی ہے۔ اب جماعت ِاسلامی کے اندر یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، پہلے تھا، لیکن اب ہم ایک واضح موقف اپنا چکے ہیں ۔