میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

تصویر کا لغوی مفہوم
تصویر کا معنی ہے: صَنعُ الصورة یعنی تصویر بنانا
صورة الشيء کا معنی ہوتا ہے: ھیئته الخاصَّة التي یتمیَّز بھا عن غیرہ ''اس کی مخصوص ہیئت وشکل جس کے ذریعے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہوجائے۔'' اسی لیے اللہ تعالیٰ کو مُصوِّر کہا گیا ہے، کیونکہ ا س نے تمام موجودات کو ان کے اختلاف وکثرت کے باوجود مخصوص شکل اور الگ ہیئت عنایت فرمائی ہے۔1

أقرب الموارد میں ہے :
صوَّر تصویرًا جَعَل له صورة وشکلًا ونقشه ورسمه۔الصُّورة بالضم: الشکل وَکُلّ ما یصور مشبھًا بخلق اﷲ من ذوات الروح وغیرھا (1؍ 469)
''اس کی صورت اور شکل بنائی، اس کے خدوخال بنائے، اس کی منظر کشی کی اورتصویر بنائی۔ ''صاد پرضمہ کے ساتھ لفظ صورہ، ذی روح اور غیر ذی روح کی اللہ کی تخلیق کی مشابہت میں تصویر بنانا۔''

تاج العروس میں ہے :
الصُّورة ما ینتقش به الإنسان ویتمیز بھا عن غیرہ 2
''انسان کے خدوخال بنانا، جس سے اسکو پہچانا جا سکے اور وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہو سکے۔ ''

مُفردات القرآن از امام راغب رحمة اللہ علیہ میں ہے کہ کسی عینی یا مادی چیز کے ظاہری نشان اور خدوخال جس سے اسے پہچانا جاسکے اور دوسری چیز وں سے اسکا امتیاز ہو سکے۔3

القاموس الوحید میں ہے :
صورالشيء أو الشخص 4
''تصویر بنانا یا نقشہ کھینچنا ، منظر کشی کرنا، فوٹو کھینچنا''

التصویر: انسان کا فوٹو ، تصویر ، کسی بھی جان دار یا غیر جاندار کی تصویر جو قلم وغیرہ سے کا غذ یا دیوار وغیرہ پر بنائی گئی ہو یا کیمرے سے لی گئی ہو۔
التصویر الشمسي: کیمرے سے لیا ہوا فوٹو ، عکسی تصویر
التصویر الفوتوغرا في: عکسی تصویر ، فوٹو
الموسوعة الفقھیة الکویتیة میں ہے :
التصویر: صنع الصورة التي هي تمثال الشيء أي: ما یماثل الشيء ویحکي هئیته التي هو علیھا سواء أکانت الصورة مجسمة أو غیر مجسمة أو کما یعبر بعض الفقھاء: ذات ظل أو غیر ذات ظل 5
''شکل وصورت بنانا جو چیز کی تمثیل ہے یعنی شے جیسی ہے، اس کی اصل ہیئت کی حکایت وعکس ہے۔ چاہے صورت کی پیکر اور جسد ہو یا پیکر وجسم نہ ہو اور بعض فقہا کے بقول اس کا سایہ ہو یانہ ہو۔ ''

صورت کا اطلاق محض چہرہ پر بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث ہے:
نهی النبي ﷺ أن تُضرب الصورة 6
''نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ پر مارنے سے منع فرمایا۔''

تصویر کا حکم
امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
قال أصحابنا وغیرھم من العلماء: صورة الحیوان حرام شدید التحریم وھو من الکبائر لأنه متوعد علیه بھذا الوعید الشدید المذکور في الأحادیث وسواء صنعه بما یمتھن أو بغیرہ فصُنعته حرام بکل حال لأن فیه مضاھاة لخلق اﷲ تعالیٰ وسواء ما کان في ثوبٍ أو بساط أو درهم أو دینار أو فلس أو إناء أوحائط وغیرھا۔ ۔ ۔لا فرق في هذا کله بین ما له ظل أو ما لا ظل له۔ ۔ ۔ جماھیر العلماء من الصحابة والتابعین ومن بعدھم وھو مذهب الثوري ومالك وأبي حنیفة وغیرھم7
''شوافع اور دوسرے علما کے نزدیک جاندار کی تصویر انتہائی سخت حرام ہے اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ احادیث میں اس پر شدید ترین دھمکی دی گئی ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ تصویر ایسی چیز پر بنائی کہ اس کی توہین کی جاتی ہے یا کسی اور چیز پر تصویر بنانا، ہر حالت میں حرام ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی تخلیق کے ساتھ مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر کپڑے پر ہو یا بچھونے پر، درہم ودینار یا پیسے پر ہو یا برتن اور دیوار پر یا کسی اور چیز پر۔ اس مںن بھی کوئی فرق نہیں کہ تصویر کا سایہ ہو یا سایہ نہ ہو۔ صحابہ تابعین اور بعد کے علما کی اکثریت کا یہی قول ہے اور امام ثوری رحمة اللہ علیہ ،امام مالک رحمة اللہ علیہ ،امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ اور دوسرے فقہا کا بھی یہی موقف ہے۔ ''

ائمہ ثلاثہ (امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ ،امام شافعی رحمة اللہ علیہ اورامام احمد رحمة اللہ علیہ ) کے نزدیک ہر قسم کی تصویر، چاہے اس کا سایہ ہو یا نہ ہو، حرام ہے۔ اور مالکیہ کے ہاں اختلاف ہے جیسا کہ علامہ دردیر رحمة اللہ علیہ الشرح الصغیر علی مختصر الخلیل میں لکھتے ہیں :
الحاصل أن تصاویر الحیوانات تحرم إجماعًا إن کانت کاملة، لھا ظل مما یطیل استمرارہ، بخلاف ناقص عضو لا یعیش به لو کان حیوانًا وبخلاف ما له ظل له کنقش ورق أو جدار۔ وفیما لا یطیل استمرارہ خلاف، والصحیح حرمته 8
''خلاصہ یہ ہے کہ جاندار وں کی تصاویر بالاتفاق حرام ہیں ۔ جب وہ کامل ہوں اور سایہ دار ہوں جو طویل عرصہ تک رہتی ہیں ۔ البتہ اگر ان کا ایسا عضو موجود نہ ہو جس کے سبب جاندار زندہ نہ رہ سکتا ہو تواس میں اختلاف ہے۔ اسی طرح جس تصویر کا سایہ نہ ہو،جب وہ کاغذ یا دیوار پر منقش ہو یا ایسی چیز پر بنی ہو جو تادیر نہیں رہتی تو اس میں اختلاف ہے ۔ صحیح بات یہی ہے کہ وہ بھی حرام ہے۔ ''

غیرسایہ دار کی تصویر
وہ حضرات جو غیر سایہ دار کی تصویر کو جائز سمجھتے ہیں ، ان کا مقصود یہ ہے کہ مجسمہ چونکہ سایہ دار ہوتا ہے ، اس لئے وہ تو حرام ہے، البتہ جو تصویر کاغذ یہ کپڑے پر منقوش ہو، مجسمہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسی تصویر جائز ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ رقم في الثوب (کپڑے پرنقش) کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ لیکن رقم في الثوب کو تصویر قرار دینا درست نہیں ہے، کیونکہ اس سے مراد غیر جاندار کی تصویر ہے۔کپڑے پر بھی تصویر حرام ہے کے بعض دلائل یہ ہیں :

حضرت عائشہ ؓ صدیقہ فرماتی ہیں :
قدم رسول اﷲ ﷺ من سفر وقد سترتُ بقرام لي علی سهوة لي فیها تماثیل فلما رآہ رسول اﷲ ﷺ ھتکه 9
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے اور میں نے ایک باریک باتصویر پردہ سے طاقچہ کو ڈھانپا ہو اتھا۔ آپ نے اس کو پھاڑ ڈالا۔''

دوسری حدیث ہے :
''میں نے تصاویر والا گدا خریدا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دروازہ پر کھڑے ہوگئے اور اندر داخل نہ ہوئے۔ میں نے عرض کیا کہ مجھ سے کیا گناہ سرزد ہوگیا، میں اللہ تعالیٰ سے معافی کی طلب گار ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماھذہ النمرقة؟ یہ گدا کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا :یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لیے ہے۔آپؐ نے فرمایا:
(إن أصحاب ھذہ الصور یعذبون یوم القیامة) 10
قیامت کے دن ان تصویرسازوں کو عذاب پہنچایا جائے گا۔ ''

اس کے تحت حافظ ابن حجر فتح الباری میں لکھتے ہیں :
یُستفاد منه أنه لا فرق في تحریم التصویر بین أن تکون الصورة لھا ظل أوْلا ولا بین أن تکون مدھونة أومنقوشة أومنقورة أومنسوجة 11
''اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تصویر کے حرام ہونے میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا سایہ ہے یا نہیں ؛ وہ رنگ سے بنی ہے، منقش ہے یا کھودی گئی یا بُنی گئی ہے۔ ''

دوسری جگہ لکھتے ہیں :
یؤید التعمیم فیما له ظل وفیما لا ظل له ما أخر جه أحمد من حدیث علي أن النبي ﷺ قال: أیکم ینطلق إلی المدینة فلا یدع بھا وثنا إلا کسرہ ولا صورة إلا لطخھا أي طمسھا 12
''ہر قسم کی تصویر حرام ہے، چاہے اس کا سایہ ہو یا نہ ہو،اس کی دلیل مسند احمد میں حضرت علی ؓ کی حدیث ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون مدینہ جائے گا تاکہ اسے جو وَثن (بت مجسمہ) ملے، اسے توڑدے اور ہر تصویر کو مٹادے۔''

اور اس کی تائید حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں ایک گھر میں داخل ہوئے تو ایک مصور کو دیوار پر تصویر بناتے دیکھا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی:

(ومن أظلم ممَّن ذھب یخلق کخلقي) 13
''اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو میری تخلیق کی مشابہت اختیار کرتا ہے۔ ''

اس کی توضیح میں امام ابن بطال مالکی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
فھم أبو هریرة أن تصویر یتناول ما له ظل وما لیس له ظل فلھٰذا أنکر ما ینقش في الحیطان 14
''حضرت ابوہریرہ ؓ نے تصویر کا اطلاق سایہ اور غیر سایہ ہر دو تصاویرپر کیا ہے۔ اسی لیے دیوار پر نقش بنانے پر اعتراض کیا۔''

کیمرے یا ویڈیو کی تصویر
کیا تصویر کااطلاق صرف اُس پر ہوتا ہے جو ہاتھ سے بنائی جائے؟ بعض علما کانظریہ ہے کہ تصویر شمسییعنی فوٹوگرافی عکس اور فوٹو ہے اور یہ ہاتھ سے بنی ہوئی وہ تصویر نہیں ہے جو حرام ہے۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے ،کیونکہ تصویر عام ہے چاہے وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہو یا کیمرہ سے، ہر دو کو تصویرہی کہتے ہیں ، جیسا کہ آغاز میں علماے لغت کی تصریحات سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ جس طرح ہاتھ ایک آلہ اور ذریعہ ہے جس سے تصویر بنائی جاتی ہے، ایسے ہی کیمرہ بھی آلہ اور ذریعہ ہے جس سے تصویرکھینچی جاتی ہے اور کیمرہ کا استعمال بھی ہاتھ ہی کے ذریعہ ہوتا ہے۔ ہاتھ کے ذریعے کیمرہ میں فلم ڈالی جاتی اور ہاتھ ہی سے اس فلم کے نوک پلک سنوارے جاتے ہیں ۔ اور اس کو صاف شفاف بنایا جاتا ہے ، حتیٰ کہ جس کی تصویر لینا ہوتی ہے، اس کی طرف کیمرہ کا رخ بھی ہاتھ کے ذریعہ ہی درست کیا جاتا ہے۔

شیخ مصطفی حمامی اپنی کتاب النھضة الإصلاحیة میں لکھتے ہیں :
''جو حضرات یہ کہتے ہیں کہ کیمرہ کے ذریعے بنائی گئی تصویر میں ہاتھ کا دخل نہیں ، اس لیے وہ حرام نہیں ہے، ان کی مثال ایسے شخص کی ہے جو چیر پھاڑ کرنے والا شیر چھوڑ دیتا ہے اور وہ کسی کو قتل کر دیتا ہے یا بجلی کا کرنٹ کھول دیتا ہے جس سے ہر چیز تباہ ہوجاتی ہے یا کھانے میں زہر کی آمیزش کر دیتا ہے جسے کھانے والا مر جاتا ہے۔ جب اس سے پوچھا جاتا ہے کہ تو نے اسے قتل کیا ہے ؟ تو وہ جواب دیتا ہے: نہیں میں نے تو اسے قتل نہیں کیا بلکہ شیر، بجلی اور زہر نے اسے مارا ہے۔''15

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں :
(من صوَّر صورة في الدنیا کلِّف یوم القیامة أن ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ) 16
''جس شخص نے دنیا میں تصویر بنائی، اس کو قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے اور وہ روح پھونک نہیں سکے گا۔ ''

اورحضرت عبداللہ بن عمرؓ کی روایت ہے :
(إن الذین یصنعون هذہ الصور یعذبون یوم القیامة یقال لهم: أحیُوا ما خلقتم)17
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جولوگ یہ تصویریں بناتے ہیں ، اُنہیں قیامت کے دن عذاب پہنچایا جائے گا اور اُنہیں کہاجائے گا جو کچھ تم نے بنایا ہے، اسے زندہ کرو۔''

ان احادیث میں سے پہلی حدیث میں لفظ صورة نکرہ ہے جو عموم پر دلالت کرتاہے اور اس کا اطلاق ہرقسم کی تصویر پر ہوتا ہے ، چاہے وہ کپڑوں پر نقش ہو یا کاغذپر، اس کا مستقل جسم ہو یاجسم نہ ہو؛ وہ ہاتھ سے بنائی گئی ہو یا کیمرہ سے،ہر شکل کو لغت کی رو سے تصویر ہی کہتے ہیں جیسا کہ لغوی بحث میں گزرچکا ہے اورحضرت ابن عمرؓکی حدیث میں یَصْنَعُوْنَ کا لفظ آیا ہے اور یہ بھی عام ہے ، جس میں کسی آلہ یا ذریعہ کی تخصیص نہیں ہے کہ وہ ہاتھ سے بنی ہے یا کیمرہ سے یا کسی اور آلہ سے۔

ٹی وی اور ویڈیو کی تصویر
بعض علماء کا موقف ہے کہ ٹی وی اور ویڈیو کی تصویر 'حرام تصویر' نہیں ہے ، بلکہ وہ تو محض سایہ یا عکس ہے، جس طرح شیشہ میں انسان کا عکس آجاتاہے یا پانی پر اس کا عکس پڑتا ہے، یا دھوپ میں اس کا سایہ نظر آتاہے۔ یہ بھی قیاس مع الفارق ہے، کیونکہ:
آئینے،پانی یا دھوپ میں عکس بننے میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ قدرتی طور پربن جاتاہے،بنایا نہیں جاتاجبکہ ٹی وی اور ویڈیو کی صورت میں خود بنایا جاتا ہے، خودبخودنہیں بنتا، اس لیے ٹی وی ، کیمرہ کی تصویر انسان کی تخلیق ہے۔

مزید برآں یہ عکس عارضی اور فانی ہوتا ہے جب تک انسان آئینے یا پانی کے سامنے ہے اور دھوپ میں چل رہا ہے تو یہ عکس قائم رہے گا اور جوں ہی انسان اس کے سامنے نہیں رہے گا، عکس خود ختم ہوجائے گا اور اس کانشان بھی باقی نہیں رہے گاجبکہ ٹی وی اور ویڈیو وغیرہ میں اس کا عکس محفوظ کرلیا جاتاہے اور اس کے محفوظ کرنے کے لیے آلہ اور ہاتھ دونوں استعمال ہوتے ہیں اور یہ عکس طویل عرصہ کے لیے محفوظ ہوجاتاہے، نقش برآب نہیں ہوتا۔

ان قدرتی اشیاء میں عکس اظہارِ شخصیت اور رہنمائی کے لیے نہیں ، شخصی اور ذاتی حیثیت سے ہے جو خوددیکھتاہے، دکھاتانہیں ہے ۔جبکہ آلات فوٹوگرافی کے ذریعے بے شمار لوگوں کے فوٹو بیک وقت بنائے جاتے اور ان کی رونمائی ہوتی ہے یعنی دوسروں کو دکھائے جاتے ہیں ۔ فلم اور سی ڈیز کے ذریعے ان کولوگوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور جب چاہیں آلات کے ذریعے اس کو دیکھ سکتے ہیں اور لوگوں پراثرات ونتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ آج کل ٹی وی چینلز کی کارستانیاں اپنے رنگ دکھا رہی ہیں جو لوگوں میں اشتعال پیدا کرکے تباہی کا باعث بن رہی ہیں ۔

آئینہ میں ہر انسان مردہو یاعورت، جوان ہو یا بوڑھا اپنا چہر ہ دیکھ سکتا ہے اور عورتیں میک اَپ کر کے بن سنور کر اپنا چہرہ دیکھتی ہیں اور اس پر کوئی پابندی نہیں ،کیونکہ اس سے دوسروں کے جذبا ت نہیں بھڑکتے۔ اگر ٹی وی اور ویڈیو کی تصویر، تصویر نہیں ہے تو کیا عورتوں کی ویڈیو تیار کرنا درست نہیں ہوگااور ان کا ٹی وی کے سامنے ننگے سر،ننگے منہ میک اپ کر کے آنا جائز نہیں ہوگا؟کیا اس پر پابندی عاید کرنا ممکن ہوگا اور باتصویر رسالوں میں ا ن کے جو فتنہ ساماں پوز شائع ہوں گے، ان پر قدغن عاید کرنا آسان ہوگا؟ان آلات کے ذریعے جو بے حیائی اور بے شرمی پر مبنی مناظر عام ہورہے ہیں اور عریانی اور فحاشی نے وبا کی صورت اختیار کرلی ہے، اس کے سامنے بند باندھنا کیا جوئے شیر بہانے کے مترادف نہیں ہوگا۔

تبلیغ دین کی ضرورت کے لئے تصویر سازی
یہاں عموماً ایک فقہی اُصول اور ضابطہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات مجبوری اور اضطرار سے ناجائز چیز مباح ہوجاتی ہے۔لیکن اس پر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ ضرورت اور مجبوری کا دائرہ کیا ہے، اس کی تعیین یا تحدید ہوسکتی ہے یا نہیں ؟ اگر یہ عام ہے تو ہمارے ملک کی تباہی کا باعث بھی تو عدالت کا نظریۂ ضرورت ہی بنا ہے ۔ اس پر تمام حضرات کیوں معترض ہیں اور اس کے دفن کرنے پر کیوں زور دیا جارہاہے ۔

اگر تبلیغ دین اور مصالح کے تحت تصویر کو جائز قرار دیاجائے گا تو کیا دوسروں کو تصویر سے روکا جاسکے گا؟ اور کیا دین کی تبلیغ اور اشاعت کے لیے تصویر اور فوٹو کا ہونا ضروری ہے یا مجبوری؟ کیا تصویر کے بغیر یہ کام نہیں ہوسکتا ؟ اس کا نتیجہ تو یہ ہوگا کہ آپ کھڑے ہونے کی اجازت دیں ، ''لیٹنے کی جگہ ہم خود بنا لیں گے۔'' دین کے لیے دین کے مخالف اور متصادم ذرائع سے کام لینا کیا دینی طور پر درست ہوگا ؟

فی زمانہ اپنی اپنی سوچ اور نظریے کے مطابق جماعة الدعوة اور تبلیغی جماعت بغیر تصویر کے وسیع پیمانے پر دعوتِ دین کا کام کررہے ہں اور آج تصویر کے سوا بھی اس قدر ذرائع ابلاغ پیدا ہوچکے ہیں جن کا کوئی شمار نہیں ، آخر ان سب سے کیوں کام نہیں لیا جاتا اور ان کے ذریعے دین کیوں نہیں پھیلایا جاتا۔ سب سے بڑا اور مؤثر ذریعہ اپنا عمل اور سیرت وکردار ہے ہم ا س سے اس قدر کیوں غافل ہوچکے ہیں جو دعوتِ دین اور اشاعت ِدین کا نبویؐ اورمنصوص ذریعہ ہے اور مؤثر ترین بھی ہے ۔


حوالہ جات
1. النهایة از ابن اثیر:3؍58،59 اور لسان العرب:4؍473
2. ( 2؍ 342 )
3. مترجم:ص 950
4. (ص 950 )
5. (22؍ 92،93)
6. صحیح بخاری: 5541
7. شرح صحیح مسلم: 2؍ 199 پاکستانی نسخہ ؛ عمدة القاری: 10؍ 309
8. الصاوي علی الشرح الصغیر:ج 2؍ ص 501 بحوالہ تکملة فتح الملهم: ج 4؍ ص 159
9. صحیح بخاری:5954
10. صحیح بخاری:5957
11. (10؍ 390)
12. فتح الباری: 10؍ ص384
13. صحیح بخاری:5953
14. فتح الباری: 10؍386
15. ص 565
16. صحیح بخاری :5963، صحیح مسلم: 2110
17. صحیح بخاری :5951