''ذرادائیں بائیں نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم کس طرف جارہے ہیں ؟ بادیٔ النظر میں آپ کو یہ ہرگز معلوم نہیں ہوگا کہ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں ، اس میں اندر ہی اندر ایک مسلسل جنگ چل رہی ہے، لیکن تھوڑا سا ذرا غور کرنے سے آپ جان جائیں گے کہ ایک جنگ جاری ہے اور اس میں ہمیں اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ ہوسکتا ہے ایسا وقت بھی آجائے کہ آپ بے خبر ہوں اور مسجدوں کی تعداد گرجا گھروں سے بھی بڑھ جائے۔''
 
یہ الفاظ ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ گریٹ ولڈرز کے ہیں ۔ گریٹ ولڈرز 1963ء میں پیدا ہوا اس کی پرورش اگرچہ ایک کیتھولک خاندان میں ہوئی، لیکن یہ بذاتِ خود ایک دہریہ شخص ہے ۔ اس نے اپنی لازمی ملٹری سروس 1983ء میں مکمل کی اور اُردن، اسرائیل سرحد پر دو سال کام کیا۔ 1989ء میں گریٹ ولڈرز نے 'پیپلزفور فریڈم اینڈ ڈیموکریسی' میں شمولیت اختیار کرلی۔ جماعت کے اراکین سے اختلاف پیدا ہو جانے کی وجہ سے اس نے اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی الگ جماعت کی بنیاد رکھی جس کا نام اس نے 'پارٹی فورفریڈم' رکھا۔ 1998ء سے یہ مسلسل پارلیمنٹ کا ممبر چلا آرہا ہے۔ نومبر 2006ء کے انتخابات میں اس کی پارٹی نے 150 کے ایوان میں 9 نشستیں حاصل کیں ۔ اسے اور اس کی پارٹی کو اسرائیل نواز جماعت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اسرائیل حکام سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ہالینڈ میں موجود اسرائیلی سفارت خانے میں اس کا اکثر آنا جانا رہتا ہے۔
 
گزشتہ دنوں اس نے مشہورِ زمانہ Fox Newsکو انٹرویو دیا، جس کے بعد دنیا بھر میں اضطراب پھیل گیا اور تب سے اسلامی حلقے بطورِ خاص مضطرب ہیں ۔ گریٹ ورلڈرز کو خصوصی سکیورٹی مہیا کی گئی ہے۔ ہالینڈ کی حکومت نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارت خانوں کو حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیا رکرنے کا حکم دیا ہے۔ خبر ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہالینڈ کے سفارت خانوں کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ دوسری طرف بیک وقت ۱۷ ڈینش اخبارات نے شرانگیزی کا ثبوت دیتے ہوئے توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کرکے مسلمانوں کے زخم ہرے کردیئے ہیں ۔
 
اب آئیے اس انکشاف کی جانب جو اس نے اس انٹرویو کے دوران کیا ہے...
گریٹ ولڈرز نے کہا کہ وہ نامور مستشرقین، پروفیسرز اور قلم کاروں کی ایک ٹیم کے ساتھ ایک فلم پر کام کررہا ہے۔ اس فلم کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یورپ کے رنگ میں رنگے مسلمانوں میں بھی قرآن کی عظمت بہت حد تک زندہ ہے۔ جس کی وجہ سے ہر وہ چیز اور نظریہ تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے جس پر مغربی تہذیب قائم ہے۔ یہ فلم مغربی دنیا کو ایک بہت بڑے خطرے سے آگاہ کرے گی اور وہ خطرہ ہے اسلامائزیشن کا۔ یورپ کو اس وقت اسلامائزیشن کے سونامی کا سامنا ہے۔ ہمیں اس طوفان کو روکنے اور اس کے خلاف بند باندھنے کے لئے متحد ہونا پڑے گا، ورنہ یہ مذہب پورے مغرب کو اپنے بہاؤ میں بہالے جائے گا۔
 
اس انٹرویو میں اس نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں ہماری ثقافت فرسودہ اسلامی ثقافت سے بہت بہتر ہے۔ دنیا میں موجود ۹۹ فیصد عدم برداشت اسلامی عقائد اور قرآن کی وجہ سے ہے۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے چونکہ یہ کافی عرصے سے سخت سکیورٹی میں رہنے پر مجبور ہے، اس لئے اس نے یہ بھی کہاکہ میں جن حالات میں رہنے پر مجبور ہوں ، میں اپنے بدترین دشمن کے لئے بھی ایسا کبھی نہیں چاہوں گا اور اس صورتِ حال کی وجہ سے اسلام کے خلاف میرے نظریے میں مزید شدت آئی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اس فلم کو ہالینڈ کے مقبول نیوز روم پروگرام NOVAمیں نشر کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کی اجازت نہ ملی تو پھر وہ اس فلم کو اس وقت میں چلائے گا جو گورنمنٹ نے اس کی پارٹی کو سرکاری ٹی وی پر عطا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہورِ زمانہ ویب سائٹ Youtube پربھی جاری کرے گا۔
 
کہا جارہا ہے کہ یہ فلم توہین قرآن اور توہین رسالت پر مبنی ہوگی اور اس سے پہلے کی جانے والی تمام قلمی اور فلمی جسارتوں سے بڑھ کر ہوگی۔ ہالینڈ کے میڈیا نے اس سلسلے میں ایک سروے بھی کیا جس کے مطابق ۶۵ فیصد ولندیزی شہری اس بات کے حق میں ہیں کہ اس فلم کو نشر کرنے کی اجازت دی جائے۔
 
گریٹ ولڈرز اس سلسلے کی پہلی کڑی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ہالینڈ میں ہی ایک فلمSubmissionکے نام سے بن چکی ہے جس پر دنیا بھر میں احتجاج ہوا تھا۔ اس فلم کا ڈائریکٹر تھیوگوان تھا اور ریان ہرسی علی نامی صومالی لڑکی نے اس کااسکرپٹ لکھا تھا۔ اس فلم میں ننگی عورتوں کے جسم پر پروجیکٹر کی مدد سے روشنی ڈال کر قرآنی آیات لکھی گئی تھیں ۔ ریان ہرسی علی نے یہ دکھایا کہ یہ وہ آیات ہیں جن میں اسلام اور قرآن نے عورتوں کے حقوق غصب کئے ہیں ، اُنہیں نصف شہری قرار دیا ہے اور اس طرح سے عورت کو کمتر قرار دے کر اس پر ظلم کے دروازے کھول دیئے ہیں ۔
 
اس فلم کے ڈائریکٹر تھیوگوان کو محمدبوعیری نامی ایک شخص نے قتل کیا تھا اور اس کے سینے پر خنجر کے ذریعے ایک پرچہ بھی لٹکا دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ریان ہرسی علی اپنی موت کا انتظار کرے۔ ناموسِ رسالت کے پروانے محمد بوعیری کو گرفتار کرکے عمر قید کی سزا دی گئی جبکہ ریان ہرسی علی کو انتہائی سخت سکیورٹی فراہم کی گئی۔ اس کے بقول حکومت اس کی حفاظت پر اب تک ۳۵لاکھ یورو خرچ کر چکی ہے۔ ریان نے جب اس فلم کا اسکرپٹ لکھا تھا تب وہ بھی پارلیمنٹ کی ممبر تھی۔ ریان صومالی عورت ہے جو کہ ہالینڈ میں سیاسی پناہ گزین کے طور پر آئی تھی اور اب اسے وہاں کی شہریت بھی دے دی گئی ہے۔
 
ہالینڈ کا ایک اور ممبر پارلیمنٹ 'پم فارچوین' بھی اسی ملعون گروہ کا فرد تھا۔ اس نے بھی ہالینڈ میں مسلمانوں کے خلاف گویا ایک تحریک برپا کررکھی تھی۔ وہ ہر فورم پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلتا تھا۔ اس کے بھی اسرائیلی حکام سے بہت گہرے مراسم تھے۔ اسے ہالینڈ میں جانوروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک این جی او کے ممبر گاف نے قتل کردیا تھا۔ بعد میں گاف نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ 'پم' جن خیالات کا پرچار کررہا تھا اس سے ہمارے معاشرے کے ایک کمزور حصے یعنی مسلمانوں کی تذلیل ہوتی ہے اور 'پم' معاشرے کے کمزور حصے کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ ہماری مغربی روایات کے خلاف تھا، اس لئے میں نے اسے قتل کردیا۔ گاف کو عدالت نے 18 سال قید کی سزا سنادی۔
قارئین! ان تمام اسلام دشمنوں میں دو باتیں مشترک ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ سب پارلیمنٹ کے ممبران ہیں اور دوسرا یہ کہ ان سب کے اسرائیل سے گہرے تعلقات ہیں ۔ آخر یہ سب ایسا کیوں کررہے ہیں ؟ کیا یہ سب ایک اتفاق ہے؟ ہرگز نہیں ۔ اس بات کی تہہ تک پہنچنے کے لئے ہمیں ہالینڈ کے بارے میں مزید جاننا ہوگا...
 
ہالینڈ یورپی یونین کے اوّلین اراکین میں سے ہے۔ اس کی سرحدیں جرمنی اور بلجیم سے ملتی ہیں ۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اگرچہ سارا یورپ اسرائیل کے موقف کی حمایت کررہا تھا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں ہالینڈ امریکہ کے بعد پوری دنیا میں وہ واحد ملک تھا جس نے اسرائیل کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مدد بھی۔ ہالینڈ کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب ہے جس میں 10لاکھ مسلمان ہیں ۔ تناسب کے لحاظ سے یورپ کے جس ملک میں سب سے زیادہ مسلمان موجود ہیں وہ ہالینڈ ہی ہے۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے مسلمان فرانس میں سب سے زیادہ ہیں ، لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے ہالینڈ میں مسلمان ہر یورپی ملک سے زیادہ تعداد میں بستے ہیں ۔یہ پوری آبادی کا 6ئ5 فیصد ہیں ۔ تمام تر مخالفت کے باوجود اسلام ہالینڈ میں بھی بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہالینڈ میں عریانی اور فحاشی اپنے عروج پر ہے۔ ملک کی آبادی کا 41 فیصد طبقہ دہریہ نظریات رکھتا ہے جبکہ رومن کیتھولک 31 فیصد اور ڈچ ریفارمر 13 فیصد ہیں اور یہ بھی پروٹسٹنٹ کی ایک قسم ہے جبکہ 7 فیصد پروٹسٹنٹ ہیں ۔ یہاں بہت ساری خواتین بغیر قمیص کے عام ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہیں اور اس کے علاوہ ہم جنس پرستی کی لعنت بھی عام ہے۔ اس ملک میں منشیات استعمال کرنے کی باقاعدہ قانونی اجازت موجود ہے۔یہاں ہیروئن سمیت دیگر ممنوع منشیات 15 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لئے غیر مؤاخذہہے۔اس غیر اخلاقی آزادی کے نتائج کی وجہ سے اس معاشرے سے تنگ آئے ہوئے افراد تیزی سے اسلام کی جانب راغب ہورہے ہیں اور اسلام تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔اوریہی وہ چیز ہے جس نے حکومتی حلقوں کو پریشان کررکھا ہے۔چنانچہ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ اسلام مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اوروقتاً فوقتاً اسلام خلاف بل پیش کرتے رہتے ہیں ۔ برقع پر پابندی کا ایک بل اس وقت بھی پارلیمنٹ میں زیرغور ہے۔
 
ہالینڈ کے چونکہ اسرائیل سے بہت اچھے تعلقات اور مراسم ہیں ، اس لئے یہاں اسلام کی مقبولیت کم کرنے کے لئے اسرائیلی مدد سے تمام سرکردہ سیاست دان اور اراکین پارلیمنٹ مصروفِ عمل ہیں ۔ چنانچہ گریٹ ولڈرز کی فلم کے بارے میں حکومت کا موقف ہے کہ ہالینڈ میں ہر ایک کو اظہار کی آزادی ہے اور اس پر کوئی قدغن لگاناانسانی حقوق کے خلاف ہوگا۔
 
انسانی حقوق کے یہ ٹھیکیدار اپنے ہی ملک کے دس لاکھ باشندوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں پرایک اور قیامت برپا ہونے کو ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ شایدوہ ایسی مذموم حرکتوں سے اسلام کا راستہ روک لیں گے۔ اسی لئے مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانا بنایا جارہا ہے اور فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے اسرائیل نے ہالینڈ کو اپنی مذموم سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا ہے۔
 
خود کو آزاد سمجھنے والے اسرائیل کے یہ ولندیزی غلام بزعم خود اسلام کا راستہ روک رہے ہیں لیکن قدرت نے اسلام کی فطرت میں لچک رکھی ہے۔ یہ اتنا ہی اُبھر رہا ہے جتنا اس کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔پچھلے ہی دنوں افغانستان میں 31 سالہ امریکی فوجی 'والیس نیلسن' نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اندریں حالات ڈنمارک کے اخبارات نے توہین آمیز خاکے شائع کرکے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ اس کا واضح اور بڑا مقصد کسی سے مخفی نہیں !!