میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ان دنوں اہانت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم پر دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، اور عالم کفر اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر یہ 'حق' چھیننے پر تلا بیٹھا ہے کہ وہ دنیا کی مقدس ومتبرک ترین شخصیت کی من مانی توہین کی اجازت حاصل کرے۔ اس مسئلہ کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں دورِ نبویؐ میں توہین رسالت کرنے والوں کے واقعات درج ہیں کہ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے گستاخان کے ساتھ خود کیا سلوک روا رکھا؟ یہ احادیث جہاں ایک مسلمان کے ایمان وایقان کو تازہ کرتی ہیں، وہاں اسلام کے اہانت انبیا پر غیر متزلزل موقف کی بھی عکاس ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اپنے نبی کے حقوق پورے کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(مَنْ سَبَّ نَبِیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ) 1
''جس نے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی دی، اسے کوڑے مارے جائیں گے۔''2

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''اگر اس حدیث کی صحت ثابت ہوجائے تو یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کریم کو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے گا، نیز یہ کہ قتل اس کے لئے حد ِشرعی ہے۔''

اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرامؓ کے فرامین حسب ِذیل ہیں:
حضرت ابو بکرؓ کا فرمان ہے :
لا واﷲ ما کانت لِبَشر بعد محمد ﷺ 3
''اپنی توہین کرنیوالے کو قتل کروا دینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی کے لئے روا نہیں ہے۔''

حضرت عمرؓکے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا:
من سبَّ اﷲَ أو سبَّ أحدا من الأنبیاء فاقتلوہ 4
''جس نے اللہ کویا انبیاے کرام ؑ میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کردیا جائے۔''

حضرت علیؓ نے حکم دیاکہ ''جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔'' 5

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا فرمان ہے :
أَیُّمَا مُسْلِمٍ سَبَّ اﷲَ وَرَسُولَهُ أَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَاءِ فَقَدْ کَذَبَ بِرَسُولِ اﷲِ ﷺ وَهِیَ رِدَّةٌ یُسْتَتَابُ فَإِنْ رَجَعَ وَإِلاَّ قُتِلَ وَأَیُّمَا مُعَاهِدٍ عَانَدَ فَسَبَّ اﷲ َأَوْ سَبَّ أَحَدًا مِنَ الأَنْبِیَاءِ أَوْ جَهَرَ بِه فَقَدْ نَقَضَ الْعَهدَ فَاقْتُلُوہُ 6
''جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور ا س سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کرلے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لئے اسے قتل کردو۔''

اسی حوالے سے دورِ نبویؐ کے واقعات اور ان پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ردّ عمل ملاحظہ فرمائیں:
واقعہ کعب بن اشرف
عَنْ  جابر يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من لكعب بن الأشرف فإنه قد آذى الله ورسوله فقال محمد بن مسلمة يا رسول الله أتحب أن أقتله قال نعم قال ائذن لي فلأقل قال قل فأتاه فقال له وذكر ما بينهما وقال إن هذا الرجل قد أراد صدقة وقد عنانا فلما سمعه قال وأيضا والله لتملنه قال إنا قد اتبعناه الآن ونكره أن ندعه حتى ننظر إلى أي شيء يصير أمره قال وقد أردت أن تسلفني سلفا قال فما ترهنني قال ما تريد قال ترهنني نساءكم قال أنت أجمل العرب أنرهنك نساءنا قال له ترهنوني أولادكم قال يسب ابن أحدنا فيقال رهن في وسقين من تمر ولكن نرهنك اللأمة يعني السلاح قال فنعم وواعده أن يأتيه بالحارث وأبي عبس بن جبر وعباد بن بشر قال فجاءوا فدعوه ليلا فنزل إليهم قال سفيان قال غير عمرو قالت له امرأته إني لأسمع صوتا كأنه صوت دم قال إنما هذا محمد بن مسلمة ورضيعه وأبو نائلة إن الكريم لو دعي إلى طعنة ليلا لأجاب قال محمد إني إذا جاء فسوف أمد يدي إلى رأسه فإذا استمكنت منه فدونكم قال فلما نزل نزل وهو متوشح فقالوا نجد منك ريح الطيب قال نعم تحتي فلانة هي أعطر نساء العرب قال فتأذن لي أن أشم منه قال نعم فشم فتناول فشم ثم قال أتأذن لي أن أعود قال فاستمكن من رأسه ثم قال دونكم قال فقتلوه 7
''حضرت جابرؓکا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپؐ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کردوں؟ آپ ؐ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجئے میں اس سے کچھ بات کروں (یعنی میں ا س سے مصلحت کے مطابق باتیں کروں، جن سے آپؐ کی برائی تو ہوگی، لیکن اس سے وہ میرااعتبار کرلے گا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہہ! (جو مصلحت ہو)۔ وہ کعب کے پاس آئے، اس سے باتیںکیں، اپنا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ بیان کیا اور کہا کہ اس شخص (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے صدقہ لینے کا ارادہ کیا ہے اور ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ جب کعب نے یہ سنا توکہنے لگا: بخدا ابھی تم کو اور تکلیف ہوگی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اب تو ہم نے اس کی اتباع کرلی ہے اور اس کو اس وقت تک چھوڑنا بُرا معلوم ہوتا ہے، جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لیں۔ محمد بن مسلمہ ؓنے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایک وسق یا دووسق قرض دے دو۔ کعب نے کہا: تم کیا چیز گروی رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے پوچھا: توکیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ ؓنے کہا: تم تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں کیونکر تیرے پاس گروی رکھ دیں؟ کعب نے کہا: اچھا! اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ محمد نے کہا:ہمارے بیٹے کو لوگ طعنہ دیں گے کہ کھجور کے ایک وسق کے لئے گروی رکھا گیا تھا۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے۔ کعب نے کہا: ٹھیک ہے! پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں حارث (بن اوس)، ابوعبس بن حبیب اور عباد بن بشر کو لے کر آؤں گا۔ یہ آئے اور رات کو اسے بلایا۔ جب وہ ان کی طرف جانے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس آواز سے خون ٹپک رہا ہو۔کعب نے کہا واہ! یہ تو محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اور باہمت مرد کا کام یہ ہے کہ اگر رات کو بھی اسے لڑائی کے لئے بلایا جائے تو چلا آئے۔ محمد (بن مسلمہ)نے (اپنے ساتھیوں سے)کہا کہ جب کعب آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا اور جب وہ میری گرفت میں آجائے تو تم اپنا کام کرجانا۔ پھر کعب خوشبو لگائے ہوئے آیا تو اُنہوں نے کہا: تم سے کتنی عمدہ خوشبو آرہی ہے۔ کعب نے کہا: ہاں! میرے ہاں فلاں عورت ہے جو عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے۔ محمدبن مسلمہ نے کہا اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھ لوں۔ کعب نے کہا: ہاں اجازت ہے ! محمد نے اس کا سرسونگھا، پھر پکڑا پھر سونگھا پھر کہا: اگر اجازت دو تو دوبارہ سونگھ لوں ؟ اور اسے اچھی طرح تھام لیا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: اس کا کام تمام کردو! اُنہوںنے اسے قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ ''

نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا
عَنِ ابْن عَباس أن أعمى كانت له أم ولد تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه ، فينهاها فلا تنتهي ويزجرها فلا تتزجر ، قال فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع في النبي صلى الله عليه وسلم وتشتمه ، فأخذ المغول - سيف قصير - فوضعه في بطنها ، واتكأ عليها ، فقتلها ، فوقع بين رجليها طفل ، فلطخت ما هناك بالدم ، فلما أصبح ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم ، فجمع الناس فقال : أنشد الله رجلا فعل ما فعل لي عليه حق إلا قام ، فقام الأعمى يتخطى رقاب الناس وهو يتزلزل ، حتى قعد بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم ، فقال : يا رسول الله ! أنا صاحبها ، كانت تشتمك وتقع فيك ، فأنهاها فلا تنتهي ، وأزجرها فلا تنزجر ، ولي منها ابنان مثل اللؤلؤتين ، وكانت بي رفيقة ، فلما كانت البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك ، فأخذت المغول ، فوضعته في بطنها ، واتكأت عليها حتى قتلتها . فقال النبي صلى الله عليه وسلم : ألا اشهدوا أن دمها هدر )
''حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک نابینا شخص تھا، اس کی ایک (امّ ولد) لونڈی تھی جس سے اس کے دو بچے تھے، وہ اکثر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا بھلا کہتی۔ نابینا اسے ڈانٹتا لیکن وہ نہ مانتی، منع کرتا تو وہ باز نہ آتی۔ ایک رات اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے بُرا بھلا کہا، وہ شخص کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں نے خنجر اٹھایا اور ا س کے پیٹ میں دھنسا دیا، وہ مرگئی۔ صبح جب وہ مردہ پائی گئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں اسے خدا کی قسم دیتا ہوں جس پر میرا حق ہے (کہ وہ میری اطاعت کرے) جس نے یہ کام کیا ہے وہ اٹھ کھڑا ہو، یہ سن کر وہ نابینا گرتا پڑتا آگے بڑھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا کام ہے، یہ عورت میری لونڈی تھی اور مجھ پر بہت مہربان اور میری رفیق تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیرے جیسے بچے ہیں، لیکن وہ اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہتی تھی، میں منع کرتا تو نہ مانتی، جھڑکتا تو بھی نہ سنتی، آخر گزشتہ رات اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کیا اور آپؐ کی گستاخی کی، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں مارا، یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب لوگو گواہ رہو، اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔'' 8

عمیر بن اُمیہ کا اپنی گستاخ بہن کو قتل کرنا
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَنَّهُ كَانَ لَهُ أُخْتٌ ، وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آذَتْهُ ، وَشَتَمَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَتْ مُشْرِكَةً ، فَاشْتَمَلَ لَهَا يَوْمًا بِالسَّيْفِ ، ثُمَّ أَتَاهَا فَوَضَعَهُ عَلَيْهَا فَقَتَلَهَا ، فَقَامَ بَنُوهَا فَصَاحُوا ، وَقَالُوا : قَدْ عَلِمْنَا مَنْ قَتَلَهَا ، فَتَقْتُلُ أُمَّنَا ، وَهَؤُلاءِ قَوْمٌ لَهُمْ آبَاءُ وَأُمَّهَاتٌ مُشْرِكُونَ ، فَلَمَّا خَافَ عُمَيْرٌ أَنْ يَقْتُلُوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ذَهَبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " أَقَتَلْتَ أُخْتَكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " وَلِمَ ؟ " قَالَ : لأَنَّهَا كَانَتْ تُؤْذِينِي فِيكَ ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَنِيهَا فَسَأَلَهُمْ ، فَسَمُّوا غَيْرَ قَاتِلِهَا ، فَأَخْبَرَهُمْ بِي وَأَهْدَرَ دَمَهَا
''حضرت عمیر بن اُمیہؓ کی ایک بہن تھی۔ جب یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے کے لئے نکلتے تو یہ اُنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اذیت دیتی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتی، وہ مشرک تھی۔ ایک دن عمیر نے اس کے لئے تلوار لپیٹ کرساتھ اٹھا لی اور اس کے پاس آئے اور اس سے قتل کردیا۔ اس عورت کے بیٹے کھڑے ہوگئے اور چیخنے لگے اور کہنے لگے: ہمیں معلوم ہے، اسے کس نے قتل کیا؟ یہ کیسے ہوا کہ ہماری ماں قتل کردی گئی جبکہ ان لوگوں کے ماں باپ بھی مشرک ہیں؟ جب عمیرؓ کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ کہیں اس کے قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو قتل نہ کردیں تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سارے معاملے کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اپنی بہن کو قتل کردیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تو نے اسے کیوں قتل کیا ہے؟ عمیرؓنے جواب دیا: وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف دیتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیج کر، ان سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کسی اور کا نام لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحیح قاتل کے بارے میں بتایا اور اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا۔''9

بنو خطمہ کی گستاخ عورت کا قتل
 عن عبد الله بن الحارث ، عن أبيه أن عصماء بنت مروان من بني أمية بن زيد كانت تحت يزيد بن زيد بن حصن الخطمي وكانت تؤذي النبي صلى الله عليه وسلم وتعيب الإسلام وتحرض على النبي صلى الله عليه وسلم وقالت شعرا :


فباست بني مالك والنبيت   وعوف وباست بني الخزرج
أطعتم أتاوي من غيركم   فلا من مراد ولا مذحج
ترجونه بعد قتل الرءوس   كما يرتجى مرق المنضج

قال عمير بن عدي بن خرشة بن أمية الخطمي حين بلغه قولها وتحريضها : اللهم إن لك علي نذرا لئن رددت رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المدينة لأقتلنها - ورسول الله صلى الله عليه وسلم يومئذ ببدر - فلما رجع رسول الله صلى الله عليه وسلم من بدر جاءها عمير بن عدي في جوف الليل حتى دخل عليها في بيتها ، وحولها نفر من ولدها نيام منهم من ترضعه في صدرها ; فجسها بيده فوجد الصبي ترضعه فنحاه عنها ، ثم وضع سيفه على صدرها حتى أنفذه من ظهرها ، ثم خرج حتى صلى الصبح مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة . فلما انصرف النبي صلى الله عليه وسلم نظر إلى عمير فقال أقتلت بنت مروان ؟ قال نعم بأبي أنت يا رسول الله وخشي عمير أن يكون افتات على النبي صلى الله عليه وسلم بقتلها ، فقال هل علي في ذلك شيء يا رسول الله ؟ قال لا ينتطح فيها عنزان فإن أول ما سمعت هذه الكلمة من النبي صلى الله عليه وسلم . قال عمير فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى من حوله فقال إذا أحببتم أن تنظروا إلى رجل نصر الله ورسوله بالغيب فانظروا إلى عمير بن عدي . فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه انظروا إلى هذا الأعمى الذي تشدد في طاعة الله . فقال لا تقل الأعمى ، ولكنه البصير فلما رجع عمير من عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد بنيها في جماعة يدفنونها ، فأقبلوا إليه حين رأوه مقبلا من المدينة ، فقالوا : يا عمير أنت قتلتها ؟ فقال نعم فكيدوني جميعا ثم لا تنظرون فوالذي نفسي بيده لو قلتم بأجمعكم ما قالت لضربتكم بسيفي هذا حتى أموت أو أقتلكم فيومئذ ظهر الإسلام - ص 174 - في بني خطمة وكان منهم رجال يستخفون بالإسلام خوفا من قومهم .
''حضرت عبداللہ بن حارث بن فضل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عصما بنت ِمروان جو بنو اُمیہ بن زید خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور یزید بن زید بن حصین خطمی کی بیوی تھی۔یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچاتی، اسلام پر عیب جوئی کرتی اور لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اُبھارتی تھی اور اکثر یہ اشعار پڑھا کرتی تھی: ''بنو مالک، نبیب اور عوف کی سرین اور بنو خزرج کی سرین کی تم پیروی کرتے ہو۔کیا وہ تمہیں دوسرے سے پناہ دیتی ہے، جبکہ نہ اس سے مراد پوری ہوتی ہے اور نہ بچہ جنم لیتاہے۔تم سروں کے کٹنے کے بعد اس سے ایسے ہی امید کرتے ہو جیسے گو شت بھننے کے لئے لگائی گئی سلاخ سے شوربے کی اُمید کی جائے۔''
عمیر بن عدی خطمی کہتے ہیں: جب اس عورت کے یہ اشعار اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ترغیب مجھ تک پہنچی تو میں نے نذر مان لی کہ اے اللہ! اگر تو نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو ضرور قتل کروں گا۔ اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر میں تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے تو عمیر بن عدیؓ رات کی تاریکی میں اس کے گھر میں داخل ہوگئے۔ اس وقت اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے جن میں سے ایک کو وہ اپنا دودھ پلا رہی تھی۔ جب اس نے اپنے ہاتھ سے چھوکر دیکھا تواس کو لگا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچہ اس سے علیحدہ کیا اور اپنی تلوار اس کے سینے پر رکھی اور اس کے پیٹ کے پار اُتار دی۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے اور عمیر کی طرف دیکھا تو فرمایا: کیا تو نے مروان کی بیٹی کو قتل کردیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ عمیر کو ڈر محسوس ہواکہ کہیں اس کے قتل کی وجہ سے اللہ کے رسولؐ ناراض نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیںہے؟ آپؐ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں۔ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ محاورہ پہلی مرتبہ سنا تھا۔ عمیر کہتے ہیں! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر تم کسی ایسے آدمی کو دیکھنا پسند کرو جس نے غیب میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کی ہے تو عمیرؓ بن عدی کو دیکھ لو۔ عمر بن خطاب ؓنے کہا کہ اس نابینے کی طرف دیکھو جو کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں چلتا ہے، آپؐ نے فرمایا: اسے نابینا مت کہو یہ تو بینا ہے۔ عمیرؓ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس لوٹے تو اپنے بیٹوں کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر اسے دفن کرتے ہوئے پایا، جب ان لوگوں نے انہیں مدینہ کی جانب سے آتے ہوئے دیکھا تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے عمیرؓ! کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ عمیرؓ نے جواب دیا: ہاں! چاہو تو تم سب میرے خلاف تدبیر کرلو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم سب بھی وہی بات کہو جو اس نے کہی تھی تو میں تم سب کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا یا خود مرجاؤں گا۔ یہی وہ دن تھا کہ بنو خطمہ قبیلے میں اسلام غالب ہوا ورنہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی قوم کے ڈر سے اسلام کو حقیر سمجھتے تھے۔'' 10

عبد اللہ بن خطل اور عبد اللہ بن ابی سرح کا واقعہ
یہ شخص پہلے مسلمان ہوگیا تھا، آپ نے اسے عاملِ زکوٰة بنا کر بھیجا تو صدقات وصول کرنے کے بعد راستے میں اپنے غلام سے ناراض ہوکر اسے قتل کردیا اور خود مرتد ہوگیا۔ صدقات کے اونٹ ساتھ لے گیا اور جاکر مشرکین مکہ سے مل گیا۔ یہ نبی کریمؐ کی شان میں ہجوگوئی کیا کرتااور اپنی دو لونڈیوں کو کہتا کہ ان اشعار کو گا کر لوگوں کو سناؤ۔ قرتنی اور قریبہ اس کی لونڈیوں کے نام تھے۔ جن میں سے ایک ماری گئی اور دوسری نے امان کی درخواست کی جسے امان دے دی گئی۔ 11

جب مکہ مکرمہ فتح ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار اشخاص اور دو عورتوں کے ماسوا سب کو امان دے دی۔ مُصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقْتُلُوهُمْ ، وَإِنْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِى جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِى السَّرْحِ .فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ خَطَلٍ ، فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا ، وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ ، فَقَتَلَهُ ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، فَأَدْرَكَهُ النَّاسُ فِى السُّوقِ ، فَقَتَلُوهُ . وَأَمَّا عِكْرِمَةُ ، فَرَكِبَ الْبَحْرَ ، فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ . فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ : أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لاَ تُغْنِى عَنْكُمْ شَيْئًا هَا هُنَا . فَقَالَ عِكْرِمَةُ : واللهِ لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِى مِنَ الْبَحْرِ إِلاَّ الإِخْلاَصُ لاَ يُنَجِّينِى فِى الْبَرِّ غَيْرُهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَىَّ عَهْدًا ، إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِى مِمَّا أَنَا فِيهِ ، أَنْ آتِىَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم، حَتَّى أَضَعَ يَدِى فِى يَدِهِ ، فَلأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا ، فَجَاءَ فَأَسْلَمَ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِى السَّرْحِ ، فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ ، جَاءَ بِهِ ، حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِىِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، بَايِعْ عَبْدَ اللهِ . قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلاَثًا ، كُلَّ ذَلِكَ يَأْبَى ، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلاَثٍ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ ، يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِى كَفَفْتُ يَدِى عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَه ؟ فَقَالُوا : وَمَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِى نَفْسِكَ ، هَلاَّ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ . قَالَ : إِنَّهُ لاَ يَنْبَغِى لِنَبِىٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ أَعْيُنٍ . 12
''ان افراد کو جہاں بھی پائو حتیٰ کہ کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے بھی ملیں تو ان کو قتل کردو:عکرمہ، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح۔ چنانچہ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر نے عبد اللہ بن خطل کو (بیت اللہ کے پردوں پر لٹکا) پالیاتو سعید نے زیادہ جوان ہونے کی وجہ سے عمار پر سبقت کرکے اسے قتل کردیا... جبکہ عبد اللہ بن سرح نے حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لے لی۔ پھر جب نبی کریمؐ نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو حضرت عثمان نے عبداللہ کو وہاں پیش کردیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفارش کی کہ اس سے بیعت فرما لیجئے۔ آپ نے تین بارسر اُٹھا کر عبد اللہ بن سرح کو دیکھا لیکن اس کا اسلام قبول نہ کیا، آخرکار تیسری باراس سے بیعت کرلی۔ پھر اپنے صحابہ سے گویا ہوئے : کیا تم میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں تھا کہ جب میں عبد اللہ کی بیعت قبول کرنے سے انکار کررہا تھا تو وہ عبد اللہ کو قتل کردیتا؟ صحابہ ؓنے جواب دیا: ہمیں کیسے اس بات کا پتہ چلتا (کہ اس کو قتل کردیا جائے) ؟ آپ ہمیں آنکھ سے ہی اشارہ فرمادیتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ کسی نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ آنکھوں سے اشارے کرے۔''
فتح الباری میں عبد اللہ بن ابی سرح کا جرم ارتداد ذکر کیا گیا ہے۔(12؍95) جبکہ بعض دیگر کتب ِسیرت میں اس کو توہین رسالت کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔

بعض دیگر واقعات
عن البراء بن عازب قال بعث رسول اﷲ إلی أبي رافع الیهودي رجالا من الأنصار فأمّر علیهم عبد اﷲ بن عتیك وکان أبو رافع یؤذي رسول اﷲ ویعین علیه 13
'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کوقتل کرنے کے لئے چند انصار کا انتخاب فرمایاجن پر عبد اللہ بن عتیکؓ کو امیر مقرر کیا گیا۔ اور یہ ابو رافع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔''14

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقِین: أَنَّ امْرَأَةً سَبَّتِ النَّبِیَّ ﷺ فَقَتَلَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ 15
''حضرت عروہ بن محمد بلقین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو برُا بھلا کہا توحضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کردیا۔''

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بِلْقِیْن أَو قَالَ أُلْفِیَنَّ: أَنَّ امْرَأةً کَانَتْ تَسُبُّ النَّبِيَّ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ مَنْ یَکْفِیْنِيْ عَدُوِّيْ؟ فَخَرَجَ إِلَیْهَا خُالِدُ بْنُ الْوَلِیْدُ فَقَتَلَهَا 16
'' ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، تو آپ نے فرمایا: میرے اس دشمن سے کون میرا بدلہ لے گا۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ گئے اور جاکر اس کو قتل کردیا۔''

عَنْ عَلِیٍّ أَنَّ یَهُودِیَّةً کَانَتْ تَشْتُمُ النَّبِيَّ وَتَقَعُ فِیهِ فَخَنَقَهَا رَجُلٌ حَتَّی مَاتَتْ فَأَبْطَلَ النَّبِیُّ دَمَهَا17
''حضرت علی ؓسے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دیتی تھی اور آپؐ کی شان میںگستاخی کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کردیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خون کو رائیگاں قرا ردے دیا۔'' (یعنی خون کا قصاص نہیں لیا)"

عن عِکْرِمَةَ مَولَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَبِیَّ ﷺ سَبَّهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِکِینَ فَقَالَ: مَنْ یَکْفِینِي عَدُوِّي؟ فَقَالَ الزُّبَیرُ: أَنَا۔ فَبَارَزَہُ الزُّبَیرُ۔ فَقَتَلَهُ فَأَعْطَاہُ النَّبِيُّ ﷺ سَلَبَهُ18
''حضرت عکرمہ جو ابن عباسؓ کے غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مشرک نے گالی دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے دشمن سے میرا بدلہ کون لے گا؟ حضرت زبیرؓ نے کہا: میں! حضرت زبیرؓ نے اس مشرک کو للکارا اور اسے قتل کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرک کا مال غنیمت اُنہیں عطا کردیا۔''

اس کے علاوہ بھی چند واقعات علماے سیر نے درج کئے ہیں مثلاً
حویرث بن نقیدکی ہجو طرازی:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس کا خون جائز قرار دیا تو حضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کردیا۔19
بنو عمرو بن عوف کے شخص ابو عفک کا قتل:یہ 120 سالہ بوڑھا شخص مدینہ منورہ آکر لوگوں کو آپؐ کی عداوت پربھڑکایا کرتا، بالخصوص غزوئہ بد ر کے بعد اس نے صحابہؓ اور حضورؐ کی شان میں ہجویہ قصیدہ کہا چنانچہ سالم بن عمیر نے اسے قتل کردیا۔ 20
انس بن زنیم دیلی نے معاہد ہونے کے باوجود آپ کی ہجو گوئی کی، چنانچہ خزاعہ قبیلہ کے ایک نوجوان نے اس پر حملہ کرکے اس کے سر پر لکڑی کی چوٹ ماری۔لیکن اس نے اپنے گناہ کی معافی، اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں مدح گوئی کی اور معافی کا طالب ہوا۔ رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا خون پہلے رائیگاں قرار دینے کے باوجود اُسے معاف کردیا۔ 21
ایک نصرانی شخص کے بارے میں ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی تھیں جس پر اس کو قتل کردیا گیا تھا۔ 22
سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ؓ اور زبیرؓ سے فرمایا: جاؤ اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کردو۔ 23
قاضی عیاض رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الشفاء میں ابن قانع سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے والد کو آپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا، اس لئے میں نے اسے قتل کردیا۔ تو آپ نے اس سے بازپرس نہیں فرمائی۔24

رسول اللہ ﷺپر جھوٹ باندھنے یا آپ کو جھٹلانے والے کی سزا
اسلام کی رو سے جہاں ذاتِ نبویؐ کو غیرمعمولی عصمت وتقدس حاصل ہے، وہاں فرمانِ نبوی کی حیثیت بھی انتہائی قابل احترام ہے اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ نبی کریمﷺ کے ذمہ کسی قول کا بھی الزام عائد کرتا پھرے۔ ایسی کوتاہی پر جہاں زبانِ رسالت سے جہنم کی وعید صادر ہوئی ہے، وہاں دنیا میں بھی یہ امر سنگین سزا کا مستوجب ہے۔ حتی کہ زیر نظر واقعہ میں تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو قتل تک کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
عَنْ سعید بن جبیر قَالَ: جَاء رَجُلٌ إِلَی قَرْیَةٍ مِنَ قُرَی الأَنْصَارِ فَقَالَ:إِنَّ رَسُولَ اﷲِ ﷺ أَرْسَلَنِی إِلَیکُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ تُزَوِّجُونِي فُلاَنَةَ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَهلِهَا: جَائَنَا هَذَا بِشَيء مَانَعْرِفُهُ مِنْ رَسُولِ اﷲِ ﷺ أنْزِلُوا الرَّجُلَ وَأَکْرِمُوہُ حَتَّی آِتیکُمْ بِخَبَرِ ذَلِك فَأَتَی النَبِيﷺ فَذَکَرَ ذَلِك لَهُ فَأَرْسَلَ النَّبِیُّ ﷺ عَلِیًّا وَالزُّبَیرَ فَقَالَ: إِذْهَبَا فَإِنْ أَدْرَکْتُمَاہُ فَاقْتُلاَہُ وَلاَ أَرَاکُمَا تُدْرِکَانِهِ قَالَ: فَذَهَبَا فَوَجَدَاہُ قَدْ لَدَغَتْه حَیَّةٌ فَقَتَلَتْهُ فَرَجَعَا إِلَی النَّبِیِّ ﷺ فَأَخْبَرَاہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ﷺ: مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ فَلْیَتَبَوَأ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ25
''حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی تھا، وہ انصار کی ایک بستی کی طرف آیا اور کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری طر ف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم فلاں عورت کی مجھ سے شادی کروا د و۔ اس عورت کے خاندان کے ایک آدمی نے کہا کہ یہ ہمارے پاس ایسی خبر لایا ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس آدمی کو عزت سے بٹھاؤ، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے کوئی اطلاع نہ لے آؤں۔ چنانچہ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، اگر تم اسے پاؤ تو قتل کردینا، میرا نہیں خیال کہ تم اُسے پالو گے۔ وہ دونوں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اسے ایک سانپ نے ڈس کر ہلاک کر دیا ہے۔ اُنہوں نے واپس آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مجھ سے غلط بات منسوب کرتا ہے، اسے چاہئے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔''

ایسے ہی جو مسلمان شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے، تو اس کو قتل کردینے کا تذکرہ بھی زیر نظر حدیث میں ملتا ہے۔ راقم کے پیش نظر یہاں ان واقعات کی تفصیلی بحث پیش نظر نہیں، اس لئے یہ واقعہ بلا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے :
عَنْ مکحول قَالَ: کَانَ بَیْنَ رَجُلٍ مِّنَ الْمُنَافِقِینَ وَرَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ مُنَازَعَةٌ فِی شَيء فَأَتَیَا رَسُولَ اﷲِ ﷺ فَقَضَی عَلَی الْمُنَافِقِ فَانْطَلَقَا إِلَی أَبِی بَکْرٍ فَقَالَ: مَاکُنْتُ لأَقْضِي بَینَ مَنْ یَرْغَبُ عَنْ قَضَاء رَسُولِ اﷲِ ﷺ فَانْطَلَقَا إِلَی عُمَرَ فَقَصَّا عَلَیْه فَقَالَ عُمَرُ: لاَتَعْجَلاَ حَتَّی أَخْرُجَ إِلَیْکُمَا فَدَخَلَ فَاشْتَمَلَ عَلَی السَّیفِ وَخَرَجَ فَقَتَلَ الْمُنَافِقَ ثُمَّ قَالَ هکَذَا أَقْضِي بَینَ مَنْ لَمْ یَرْضَ بِقَضَاء رَسُولِ اﷲِ ﷺ فَأَنْزَلَ اﷲُ {فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ...﴿٦٥﴾...سورة النساء} فَسُمِّیَ الْفَارُوقُ26
''حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی مسلمان اور منافق کے درمیان، کسی بات پر جھگڑا ہوگیا، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کے خلاف فیصلہ فرما دیا۔ پھر وہ دونوں حضرت ابوبکرؓ کی طرف چلے گئے، انہوں نے کہا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو نہیں مانتا، میں اس کے درمیان فیصلہ نہیںکرسکتا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور ان سے سارا واقعہ بیان کیا۔ عمرؓ نے کہا: میرے واپس آنے تک تم یہیں ٹھہرنا، حضرت عمرؓ گھر سے تلوار سونت کرآئے اور منافق کو قتل کردیا اور کہا: جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لئے میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کردی۔ {فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ...﴿٦٥﴾...سورة النساء} اسی وجہ سے حضرت عمرؓ کا لقب 'فاروق' پڑ گیا۔ ''

یہی واقعہ ایک اور حدیث میں یوں بھی بیان ہوا ہے کہ
عن أبي الأسود قَالَ: اِخْتَصَمَ رَجُلاَنِ إِلَی رَسُولِ اﷲِ ﷺ فَقَضَی بَیْنَهُمَا فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَیْهِ رُدَّنَا إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَتَیَا إِلَیْهِ فَقَالَ الرَّجلُف: قَضَی لِي رَسُولُ اﷲِ ﷺ عَلَی هَذَا،فَقَالَ رُدِّنَا إِلَی عُمَرَ فَقَالَ:أَکَذَلِکَ؟قَالَ نَعَمْ۔فَقَالَ عُمَرُ: مَکَانَکُمَا حَتَّی أَخْرُجَ إِلَیْکُمَا فَأَقْضِي بَیْنَکُمَا فَخَرَجَ إِلَیْهِمَا مُشْتَمِلًا عَلَی سَیْفِهِ فَضَرَبَ الَّذِي قَالَ: رُدِّنَا إِلَی عُمَرَ،فَقَتَلَهُ فَأَنْزَلَ اﷲُ {فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ...﴿٦٥﴾...سورة النساء}27
''حضرت ابو اسود بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک جھگڑا لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہا کہ عمرؓ کے پاس چلتے ہیں۔ جب وہ دونوں حضرت عمرؓ کے پاس آئے تو دوسرے آدمی (جس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا تھا) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے خلاف میرے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے، لیکن اس نے کہا: عمرؓ کے پاس چلئے۔ حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا: کیا ایسے ہی ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! حضرت عمرؓ نے کہا: تم دونوں یہیں ٹھہرو، میں ابھی آکر تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔ حضرت عمرؓ تلوار سونت کر آئے اور جس نے کہا تھا کہ عمرؓ کے پاس چلو، اسے قتل کردیا۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: {فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ...﴿٦٥﴾...سورة النساء} ''تیرے ربّ کی قسم! یہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے، جب تک تجھے اپنے جھگڑوں میں قاضی تسلیم نہ کرلیں۔''

 ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیرمیں (3؍994) اور دیگر اہل علم نے اس حدیث کو ابن لہیعہ کے طریق سے روایت کیا ہے لیکن یہ طریق ضعیف ہے۔ البتہ ابو مغیرہ اور شعیب بن شعیب کے طرق سے بھی یہ روایت مروی ہے۔ لہٰذا حافظ ابن کثیر نے ان شواہد کی بنا پر اس روایت کو قوی شمار کیا ہے۔ 28

حوالہ جات
1. الصارم المسلول، ص 92
2. احکام اہل الذمہ لابن قیم 1؍275
3. سنن ابوداؤد: 4363'صحیح،( مختصراً)
4. الصارم المسلول: ص419
5. مصنف عبد الرزاق: ج5؍ص 308
6. زاد المعاد 5؍60
7. صحیح مسلم1801،بخاری 4037
8. صحیح سنن نسائی: 3794، سنن ابو داود: 4361 'صحیح
9. مجمع الزوائد 6؍260 ،رواتہ ثقات
10. المغازي للواقدي 1؍64،173؛ الصارم المسلول علی شاتم الرسول94، 95، مجمع الزوائد : 6؍460
11. الصارم المسلول: 132، زرقانی شرح موطا: 2؍ 315، 314، المغازی: 2؍ 860، 859
12. سنن نسائی:4072،بخاری: 1846
13. صحیح بخاری: 4039
14. مزید تفصیل دیکھیں: فتح الباری: 7؍342، 343، تاریخ طبری: 3؍6
15. السنن الکبریٰ از امام بیہقی 8؍203
16. مصنف عبد الرزاق: 9705، المحلی از ابن حزم: 11؍413، الشفائ: 2؍951
17. السنن الکبریٰ از امام بیہقی 7؍60، سنن ابو داود: 4362'ضعیف
18. مصنف عبد الرزاق 5؍237، 307، رقم9477
19. المغازی از واقدی: 2؍857
20. الصارم المسلول: ص 104
21. المغازی: 2؍791، الصارم المسلول: ص 106
22. مصنف عبد الرزاق: ج5؍ص307
23. ایضاً:ج5؍ص 308
24. الشفاء: 2؍489
25. دلائل النبوة از بیہقی 6؍284... البتہ اس حدیث کا آخری حصہ صحیح بلکہ متواتر ہے ، اس حدیث کی سند میں عطاء بن سائب ہے جس کی قبل از اختلاط علما نے توثیق کی ہے۔ سیر اعلام النبلاء 6؍110)
26. تفسیر درمنثور: 2؍181، تفسیر ابن کثیر:1؍789
27. لباب النقول 1؍90؛ درمنثور2؍180
28. مسند الفاروق: 2؍876، بحوالہ أقضیة الخلفاء الراشدین: 2؍ 1188