Mohaddis-318-Feb2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

المصحف شریف: ایک تاریخی جائزہ (قسط 1)

 

جمع وتدوینِ قرآن کے اَدوار
گذشتہ تصریحات سے یہ واضح ہوچکا ہے کہ قرآنِ کریم کو تین مرتبہ جمع کیا گیا:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں
حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں
حضرت عثمان بن عفانؓ کے دور میں
لیکن ان تینوں اَدوار میں جمع قرآن کی نوعیت میں واضح فرق ہے۔ ذیل میں ہم فرق کی اس نوعیت کو واضح کریں گے :

عہد ِنبویؐ میں تدوین قرآن
عہد ِنبویؐ میں کتابت ِقرآن کی صورت یہ تھی کہ جب قرآنِ کریم کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاتب ِوحی کو یہ ہدایت فرماتے کہ اسے فلاں سورت میں فلاں فلاں آیت کے بعد لکھا جائے ، لیکن قرآنِ کریم کی یہ کتابت پتھر کی سلوں اور جانوروں کی ہڈیوں وغیرہ پر متفرق پارچوں کی شکل میں تھی، جیسا کہ اس کی وضاحت گذشتہ صفحات میں گزر چکی ہے۔اگرچہ دورِ نبویؐ میں قرآنِ کریم کی حفاظت کا دارومدار حفظ پر تھا، لیکن اس کے باوجود اسے تحریر میں لانا اس لئے ضروری سمجھا گیا کہ اس کے ایک ایک لفظ کی حفاظت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہ رہ جائے ۔نیز قرآنِ کریم صحابہ کرام ؓکے لئے ایک مقدس متاع کی حیثیت رکھتا تھا، لہٰذا اُنہوں نے انفرادی حیثیت سے بھی بطور ِیادگار اسے ضبط ِتحریر میں لانے کا اہتمام کیا، جیسا کہ عموماً نادر اور نایاب اشیا کی حفاظت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

حضرت ابوبکرؓکے دور میں تدوین قرآن
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ حکومت میں تدوین قرآن کی صورت یہ تھی کہ اسے مختلف پارچوں سے نقل کرکے ایک جگہ (کاغذ) پریکجا کیا گیا۔یہ نسخہ بہت سے صحیفوں پر مشتمل تھا (سورتیں مرتب نہیں تھیں )۔ اورہر سورت الگ الگ صحیفے میں لکھی گئی تھی۔اور صرف وہی کچھ لکھا گیا جس کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہوا تھا۔ (اور وہ آیات اور حروف نکال دیے گئے جن کی تلاوت منسوخ ہو چکی تھی۔)
دورِ صدیقی میں قرآنِ کریم کے منتشر حصوں کو یکجا کرنے کا مقصد قرآن مجید کی حفاظت کو یقینی بنانا تھا، کیونکہ خدشہ تھا کہ کہیں حاملین قرآن اور حفاظ صحابہؓ کی وفات سے قرآنِ مجید کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوجائے۔(نیز قرآنِ مجید کا ایک ایسا نسخہ تیار ہو جائے جس پر تمام اُمت کا اتفاق ہو ۔)

حضرت عثمان ؓ کے دور میں تدوین قرآن
دورِ عثمانی ؓمیں تدوینِ قرآن کی صورت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر ؓ کے تیار کردہ صحیفوں سے نقل کر کے (تمام سورتوں کو ترتیب کے ساتھ ایک مصحف میں لکھا گیا اور پھر اس نئے مرتب مصحف سے مزید) مصاحف تیار کئے گئے اوراُنہیں مختلف بلا دِ اسلامیہ میں بھیج دیا گیا۔

ان مصاحف کی تدوین کا مقصد اُمت ِ مسلمہ میں وحدت و یگانگت پیدا کرنا اور اس فتنہ کی سرکوبی تھا جو مسلمانوں کی صفوں میں قراء ات کے اختلاف کی وجہ سے سراُٹھا رہا تھاتاکہ مسلمانوں کو ان ثابت اور متواتر قراء ات پر جمع کیا جا سکے تھا جن پر یہ مصاحف ِعثمانیہ مشتمل تھے،البتہ ان میں وہ وجوہِ قراء ات شامل نہیں تھیں جو آغازِ اسلام میں آسانی کی خاطر نازل ہوئی تھیں پھر عرضۂ اخیرہ میں انہیں منسوخ کردیا گیا تھا۔چنانچہ قاضی ابوبکر باقلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''لم یقصد عثمان قصد أبي بکر في نفس جمع القرآن بین لوحین،وإنما قصد جمْعَهم علی القراء ات الثابتة المعروفة عن النبي ! وإلغاء ما لیس کذلك،وأخذھم بمصحف لا تقدیم فیه ولاتأخیر،ولا تأویل أثبت مع تنزیل ولا منسوخ تلاوته کتب مع مثبت رسمه ومفروض قراء ته، وحفظه خشیة دخول الفساد والشبهأة علی من یأتي بعدہ۔''
''حضرت عثمان ؓ کا مقصد حضرت ابوبکرؓ کی طرح صرف قرآن کریم کو دو گتوں کے درمیان جمع کرنا نہیں تھا،بلکہ مسلمانوں کو ان تمام قراء ات پر جمع کرنا تھاجو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور معروف تھیں ۔ اور مقصد ایسی تمام قراء ات کو خارج کرنا تھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور معروف نہیں تھیں ۔ ایک ایسا مصحف اُمت کے لئے پیش کرنا تھاجس میں کوئی کمی بیشی، نہ تقدیم و تاخیر اور نہ کوئی ایسی قراء ت یا آ یت شامل ہونے پائے جس کی تلاوت منسوخ ہو چکی تھی۔ اور اس انداز سے لکھا جائے کہ اس کے رسم الخط میں تمام قراء ات محفوظ ہو جائیں ۔تاکہ بعد میں کسی خرابی یا شبہات کے راہ پانے کا امکان ختم ہو جائے ۔1

مصاحف کی تعداد، حالت، مختلف علاقوں کی طرف بھیجنے کی کیفیت پرمسلم علما کے مختلف موقف
مصاحف کی تعداد
حضرت عثمانؓ نے جو مصاحف تیار کروا کر مختلف علاقوں میں بھیجے تھے، اُن کی تعداد کے متعلق علما کے متعدد اقوا ل ہیں ۔ جن میں صحیح ترین اور قرین قیاس قول یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے چھ مصاحف تیار کروائے تھے: بصری مصحف، کوفی مصحف، شامی مصحف، مکی مصحف، ایک مدنی مصحف جو عام اہل مدینہ کے لئے تھا اور دوسرا مدنی مصحف جو حضرت عثمان ؓ نے اپنے پاس رکھا تھا جو 'مصحف ِامام 'کے نام سے موسوم ہے۔
اس نام کی وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے سب سے پہلے یہی مصحف تیارکروایا تھا اور پھر اسی کو سامنے رکھ کر مصاحف کی مزید نقلیں تیار کی گئیں ۔ اس اعتبار سے مصاحف عثمانیہ میں سے ہر مصحف کوبھی 'مصحف ِامام' کہا جاسکتا ہے کہ جہاں وہ مصحف بھیجا گیا، وہاں کے لوگوں نے اس کی اقتدا کی تھی۔

مصاحف ِعثمانیہ کی حالت
گذشتہ صفحات میں ان خصوصیات اور امتیازات کا تذکرہ کیا گیا تھا، جن پر یہ مصاحف عثمانیہ مشتمل تھے۔ اب زیر نظر سطورمیں یہ بتایا جائے گا کہ مصاحف ِعثمانیہ کس حالت میں تھے؟کیا ان میں ساتوں حروف جمع تھے جن پر قرآن کریم نازل ہوا تھا یا ان کی تدوین صرف ایک حرف پر ہوئی تھی اور باقی کو حذف کردیا گیا تھا؟

یہ وہ سوال ہے جس کے متعلق علما کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے :
پہلا موقف:مصاحف ِعثمانیہؓ میں سات حروف میں سے صرف قبیلہ قریش کا ایک حرف باقی رکھا گیا اور باقی چھ حروف ختم کر دیئے گئے تھے۔یہ لوگ اپنے موقف کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ (اصل میں قرآنِ کریم حرف ِقریش پر نازل کیا گیا تھا اور باقی) چھ حرف ابتداے اسلام میں اُمت کی آسانی اور ان سے مشقت دور کرنے کے لئے نازل کئے گئے تھے، کیونکہ آغازِ اسلام میں ہی تمام عرب قبائل (جن کے لہجات باہم مختلف تھے) کو ایک ایسی لغت کا پابند کردینا جس کی ان کی زبانیں عادی نہیں تھیں ، ان کے لئے کافی دقت اور مشقت کا باعث بن سکتا تھا۔بعد میں (جب تمام قبائلِ عرب،لغت ِقریش سے مانوس ہوگئے تو ) ان لغات اور حروف کی ضرورت باقی نہ رہی ۔چنانچہ جب حضرت عثمانؓ نے دیکھا کہ سات حروف اُمت ِمسلمہ کے درمیان افتراق و انتشار کا باعث بن رہے ہیں تو اُنہوں نے مصاحف میں کتابت شدہ ان حروف اور لغات میں سے صرف ایک لغت پر اکتفا کرنے کا حکم دیا کیونکہ قرآنِ کریم اصل میں اسی لغت پر نازل ہوا تھا۔ اورباقی حروف ابتداے اسلام میں آسانی کے پیش نظر نازل ہوئے تھے۔ لہٰذا اُنہوں نے جمع قرآن پر مامور کمیٹی کو یہ ہدایت کردی :
إذا اختلفتم أنتم وزید بن ثابت في شيء من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فإنما نَـزَل بلسانھم2
''جب قرآن کے کسی حصے میں تمہارا زیدبن ثابت سے اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان میں لکھنا، کیونکہ یہ ان کی زبان میں نازل ہوا ہے۔''

دوسرا موقف:جمہور علماے سلف و خلف کا ہے جو کہتے ہیں کہ مصاحف ِعثمانیہ سات حروف کی ان تمام جزئیات پر مشتمل تھے جن کا رسم عثمانی متحمل ہوسکتا تھا اور ان میں وہ تمام قراء ات موجود تھیں جو عرضۂ اخیرہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبرائیل ؑ کے ساتھ آخری دَورِ قرآن) میں باقی رکھی گئی تھیں ۔کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ مصاحف ِعثمانیہ کا رسم نقطوں اور اِعراب سے خالی تھا تاکہ ان میں ساتوں حروف سما سکیں ۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر ہر مصحف میں ساتوں حروف کی تمام تر جز ئیات جمع تھیں ، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مصحف حروف ِسبعہ کی ان تمام جزئیات پر مشتمل تھا جو اس کے رسم میں سما سکتی تھیں ۔ باقی رہیں حروف سبعہ کی وہ جزئیات جو ایک رسم کے تحت نہ آسکیں ، اُنہیں ان چھ مصاحف میں تقسیم کردیا گیا تھا۔مثلاً {وَوَصّٰی} کی قراء ت مدنی اور شامی مصحف میں موجود نہیں ہے، لیکن باقی چاروں مصاحف میں موجود ہے۔ اسی طرح سورئہ توبہ کے آخر میں {تَجْرِي مِنْ تَحْتِھَا} صرف مکی مصحف میں موجود ہے، باقی میں {تَجْرِیْ تَحْتَھَا}ہے۔ اسی طرح کچھ اور قراء ات بھی ہیں جو ایک رسم میں سما نہ سکنے کی وجہ سے بعض مصاحف ِعثمانی میں موجود ہیں ، بعض میں نہیں ہیں ۔ جبکہ{فَتَبَیَّنُوْا} {ھَیْتَ لَکَ} اور{اُفٍّ} جیسے الفاظ کا رسم چونکہ تمام قراء ات متواترہ کا متحمل ہے، لہٰذا اُنہیں لفظوں اور اعراب سے خالی رکھ کر تمام مصاحف میں جگہ دی گئی۔

اس پوری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ مجموعی طور پرتمام مصاحف ِعثمانیہ کو پیش نظر رکھیں تو آپ اُنہیں سبعہ احرف پر مشتمل پائیں گے اوریہی وہ صحیح مذہب ہے جس پر دل مطمئن ہوتا اور نظر ٹھہرتی ہے اور جس کی پشت پر قوی دلائل موجود ہیں ۔

ذیل میں ہم ان دلائل کا تذکرہ کریں گے :
مصاحف ِعثمانیہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے صحیفوں کو سامنے رکھ کرتیارکئے گئے تھے اور علما کا اس بات پر اِجماع ہے کہ صدیقی صحیفوں میں سبعہ اَحرف کی وہ تمام جزئیات موجود تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت تھیں اور ان میں صرف وہی قراء ات اورآیات درج تھیں جو عرضۂ اخیرہ کے وقت باقی رکھی گئی تھیں اور ان کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی تھی اور یہی صدیقی صحیفے ہی درحقیقت مصاحف ِعثمانیہ کی بنیاد اور مصدر تھے جن کو سامنے رکھ کر مصحف ِعثمانیہ کو مدوّن کیا گیا تھا۔

اس کے برعکس کسی ایک صحیح یا ضعیف روایت سے بھی ثابت نہیں ہے کہ حضرت عثمانؓ نے کاتبینِ قرآن کو یہ حکم دیا ہو کہ وہ صرف ایک حرف پر اکتفا کریں اور باقی چھ حروف کو ترک کردیں ۔

کوئی بھی مسلمان جو صحابہ کرامؓ کے دین میں رسوخ اور کتاب اللہ کے ساتھ ان کی والہانہ محبت اور قرآنِ کریم کو دنیوی و اُخروی سعادتوں کا محور سمجھنے کے عقیدہ سے واقف ہے، کبھی یہ تصور نہیں کرسکتاکہ اس وقت موجود ۱۲ ہزار سے زائد صحابہ کرامؓ نے حضرت عثمان ؓ کی اِن 'حروف' کے ختم کرنے پر تائید کی ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں ۔ دورِ عثمانؓ میں جمع قرآن کے محرکات جو کچھ بھی تھے، لیکن اُمت ِمسلمہ کو متحد کرنے اور اُنہیں اختلاف سے بچانے کے لئے حضرت عثمان قرآنِ کریم میں سے کوئی چیز حذف نہیں کرسکتے تھے اور نہ ہی اُنہوں نے کی۔بلکہ اس صورتِ حال میں اُنہیں یہی کرنا چاہئے تھا کہ حروفِ سبعہ میں سے جو کچھ عرضۂ اخیرہ کے مطابق تواتر سے ثابت ہے ،اس کے لحاظ سے قرآنِ کریم کو لکھنے کا حکم دیتے۔ اور اُمت کو اس تواتر پر قائم رکھتے اور اُ نہیں بتاتے کہ ان کے علاوہ دیگر قراء ات شاذ ہیں جو شروع میں آسانی کی خاطر نازل ہوئی تھیں اور عرضۂ اخیرہ کے وقت اُنہیں منسوخ کردیا گیا تھا، لہٰذا اب نہ اُن کی قراء ت جائز ہے اور نہ ہی اُنہیں قرآن سمجھنا درست ہے۔ یہی وہ صحیح طریقہ تھا فتنہ کی بیخ کنی، اُمت ِمسلمہ کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے اور نزاع کو ختم کرنے کا اور اسی طریقہ کو ہی حضرت عثمان ؓ نے اختیار کیا تھا اور اسی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓ نے ان کی موافقت اور تائید کی تھی۔

اوّل الذکررائے کے حاملین کا یہ دعویٰ کہ حضرت عثمان ؓ نے کاتبینِ قرآن کو صرف لغت قریش باقی رکھنے اور دیگر لغات کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا، اگر صحیح ہوتا تو اس کا لازمی تقاضا تھا کہ قرآنِ کریم قریش کے سوا دیگر لغات سے خالی ہوتا، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ قرآنِ کریم میں لغت ِقریش کے سوا دیگر لغات کے بھی بے شمار کلمات موجود ہیں ۔ قرآنِ کریم میں ان کلمات کا وجود اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ مصاحف ِعثمانیہ میں صرف لغت ِقریش پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ حروفِ سبعہ کی وہ تمام جزئیات اُن میں موجود ہیں جو تواتر سے ثابت اور عرضۂ اخیرہ کے وقت برقرار رکھی گئی تھیں ۔

ذیل میں دیگر قبائل عرب کی لغات کے بعض کلمات کا بطورِ مثال تذکرہ کیا جاتاہے:
ابوعبید سے روایت ہے کہ حسن بصری رحمة اللہ علیہ نے ہم سے کہا کہ ہمیں {اَلْاَرَائكِ} کامعنی معلوم نہیں تھا ،یہاں تک کہ یمن کے ایک آدمی سے ہماری ملاقات ہوئی، اُس نے ہمیں بتایا کہ ہمارے ہاں الأريكة کا لفظ مسہری کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

فرمانِ الٰہی{كَلَّا لَا وَزَرَ‌ ﴿١١...سورة القیامہ} کے بارے میں امام ضحاک رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ''اس سے مراد یہ ہے کہ پناہ کے لئے اس دن کوئی پہاڑ نہیں ہو گا۔اور یہ یمن کے قبیلہ 'حمیر'کی لغت میں ہے ۔''

اور ابوبکر انباری رحمة اللہ علیہ نے {أَفَلَمْ يَا۟ئسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا} کے متعلق عبداللہ بن عباسؓ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ''اس سے مراد اَفَلَمْ یَعْلَمُوْاہے اور یہ قبیلہ ہوازن کی زبان کا لفظ ہے۔''

اسی طرح {لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَـٰلِكُمْ شَيْـًٔا ۚ} کا معنی لایَنقُصُکم بیان ہوا ہے اور یہ قبیلہ عَبَس کی زبان کا لفظ ہے۔

نیز واضح دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مصاحف ِعثمانیہ کا باہم متعدد مقامات میں اختلاف تھا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا فرمان: وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبْرَ‌ٰ‌هِـۧمُ...﴿١٣٢﴾...سورة البقرة

بعض مصاحف میں تو {وَوَصّٰی}واوین کے ساتھ ہے اور بعض مصاحف میں پہلی اور دوسری واؤ کے درمیان الف کے اضافہ سے { وَاَوْصٰی }ہے۔

اسی طرح وَسَارِ‌عُوٓاإِلَىٰ مَغْفِرَ‌ةٍ مِّن رَّ‌بِّكُمْ...﴿١٣٣﴾...سورة آل عمران

بعض مصاحف میں سین سے پہلے واؤ کے بغیر {سَارِعُوْا} ہے اور بعض میں واؤ کے حرف کے ساتھ {وَسَارِعُوْا}ہے۔

اسی طرح فرمانِ الٰہی وَتَوَكَّلْ عَلَى ٱلْعَزِيزِ ٱلرَّ‌حِيمِ ﴿٢١٧...سورة الشعراء

بعض مصاحف میں واؤ کے ساتھ {وَتَوَکَّلْ} ہے اور بعض مصاحف میں 'ف' کے ساتھ {فَتَوَکَّلْ}ہے۔

اسی طرح اللہ کا فرمان وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ ٱلْأَنفُسُ...﴿٧١﴾...سورة الزخرف

بعض مصاحف میں ہاء کے ساتھ {تَشْتَھِیْہِ} سے اور بعض مصاحف میں بغیر ہاء کے {تَشْتَھِیْ}ہے۔

اور فرمانِ الٰہی وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ ﴿٢٤...سورة الحدید

بعض مصاحف میں ھُوَ کے ساتھ {ھُوَ الْغَنِيُّ}ہے اور بعض میں ھُوَ کے حذف کے ساتھ ہے، اسی طرح کی اور کئی مثالیں بھی موجود ہیں ۔

چنانچہ ثابت ہوا کہ اگر مصاحف ِعثمانیہ ایک ہی لغت یعنی لغت ِقریش میں لکھے گئے ہوتے تو پھر اس اختلاف کی کوئی وجہ سمجھ نہیں آتی۔اس سے یہ حقیقت بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت عثمانؓ نے کسی حرف کو ختم نہیں کیا تھا ۔

اعتراض:یہاں یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حضرت عثمانؓ نے مصحف کو مرتب کرنے والی جماعت کے تینوں قریشی اَراکین سے یہ فرمایا تھا:
''إذا اختلفتم أنتم وزید بن ثابت في شيء من القرآن فاکتبوہ بلسان قریش فإنما نزل بلسانھم'' 3
''جب تمہارا زید بن ثابت ؓسے قرآنِ کریم کے کسی لفظ کے متعلق اختلاف ہوجائے تو اسے قریش کی زبان میں لکھنا، کیونکہ قرآن اُن کی زبان میں نازل ہوا ہے۔''

اور اس فرمان پر عمل بھی ہوا۔ اگرحضرت عثمان ؓنے ساتوں حروف باقی رکھے تھے تو ان کے اس فرمان کا کیا مطلب سمجھا جائے؟
جواب :اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ کے اس فرمان کا یہ مطلب سمجھنا کہ اُنہوں نے چھ حروف کو ختم کر کے صرف حرف ِقریش کو باقی رکھا تھا ، سرا سر غلط ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس ارشاد سے ان کا مطلب یہ تھا کہ قرآنِ کریم کی کتابت کے دوران اگر کہیں رسم الخط کے طریقے میں کوئی اختلاف ہو جائے تو قریش کے رسم الخط کو اختیار کیا جائے۔ تمام روایات کے مجموعی تناظر میں دیکھتے ہوئے یہی بات قرینِ قیاس معلوم ہوتی ہے اور اس سے تمام دلائل کے درمیان جمع و تطبیق کی صورت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ کتابت ِقرآن کے دوران صحابہ کرامؓ کی جماعت کے درمیان صرف ایک اختلاف پیش آیا۔اور وہ اختلاف یہ تھا کہ قرآن کی آیت{أَن يَأْتِيَكُمُ ٱلتَّابُوتُ...﴿٢٤٨﴾...سورة البقرة} میں لفظ التابوت کو کس انداز سے لکھا جائے، آیا لمبی تا کے ساتھ التابوت لکھا جائے یا گول تا کے ساتھ التابوة لکھا جائے۔یہ معاملہ جب حضرت عثمانؓ کے سامنے پیش ہوا تو اُنہوں نے فرمایا : ''اسے التابوت لکھو ، کیونکہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے ۔''

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت عثمان ؓنے جس اختلاف کا ذکر فرمایا تھا، اس سے مراد محض رسم الخط کا اختلاف تھا کہ جملہ قراء ات کے سلسلے میں قریشی رسم الخط کو ترجیح حاصل ہے۔

مصاحف ِعثمانیہ مختلف علاقوں میں کیسے بھیجے گئے؟
قرآنِ کریم کو نقل کرنے کا زیادہ تر انحصارہمیشہ تلقی اور سماع پر رہا ہے کہ خلف نے سلف سے، ثقہ نے ثقہ سے اور امام نے امام سے سن کرآگے بیان کردیا یہاں تک کہ یہ سلسلہ دورِ رسالتؓ تک جا پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عثمانؓ نے مصاحف کی اشاعت اور اُنہیں مختلف علاقوں میں بھیجنے کا پروگرام بنایا تو اُنہوں نے صرف مصاحف بھیجنے پر اکتفا نہیں کیا کہ صرف وہی تنہا مرجع بن کر رہ جائیں بلکہ ہر مصحف کے ساتھ اسے پڑھانے کے لئے حفظ وعدالت میں ثقہ و ماہر ِفن قاری بھی بھیجا جس کی قراء ت غالب طور پر اُس مصحف کے مطابق تھی۔ چنانچہ حضرت عثمان ؓنے زید بن ثابت ؓکو مدنی مصحف پڑھانے کا حکم دیا ۔ عبداللہ بن سائب کو مکی مصحف کے ساتھ بھیجا۔ مغیرہ بن شہابؓ کو شامی مصحف کے ساتھ بھیجا ، ابوعبدالرحمن سلمی کو کوفی مصحف کے ساتھ بھیجا اور عامر بن عبدالقیسؓ کو بصری مصحف کے ساتھ روانہ کیا۔

اس کے بعد تابعین رحمة اللہ علیہ نے صحابہ کرامؓ سے سن کر قرآنِ کریم کو اگلی نسل تک منتقل کیا۔ ہر علاقے کے تابعین نے اپنے مصحف کے مطابق قراء ت کی، جیسا کہ اُنہوں نے صحابہ کرامؓ سے سنی تھی ۔ ایسے ہی صحابہ کرام ؓ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن کر قرآنِ کریم کو حاصل کیا تھا۔ صحابہ ؓو تابعین رحمة اللہ علیہ کے بعد ایک جماعت نے اپنے آپ کو قرآنِ کریم کی تعلیم کے لئے وقف کرلیا یہاں تک کہ وہ فن قراء ت کے امام بن گئے اور اس فن میں ان کی اقتدا اور ان سے اخذ ِعلم کیا جانے لگا۔اور ہر امام کے اہل علاقہ اس بات پر متفق ہو گئے کہ صرف اِنہی ائمہ سے قراء ت لی جائے گی اور ان کی روایت پر اعتماد کیاجائے گا۔ اور یہیں سے قراء ت کا یہ علم ہمیشہ کے لئے ان ائمہ فن کی طرف منسوب کیا جانے لگا۔اور تمام اُمت اس بات پر متفق ہو گئی کہ جو کچھ ان مصاحف میں ہے، وہ قرآن ہے اور ان کے علاوہ کسی بھی طرح کی کمی بیشی اور تقدیم و تاخیر کا قرآن سے کوئی تعلق نہیں ،کیونکہ اس کا قرآن ہونا اُمت کے نزدیک تواتر سے ثابت نہیں ہے۔اور یہ حقیقت ہے کہ پوری اُمت کسی غلط بات پر متفق نہیں ہوسکتی!

ان مصاحف کے متعلق مسلمانوں کا موقف
حضرت عثمان ؓ نے جب عرضۂ اخیرہ کے مطابق قرآنِ کریم کے مصاحف تیار کرنے کا فیصلہ کیا تو تمام صحابہ کرامؓ نے ان کے موقف کی حمایت کی اور ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے انفرادی صحیفے اور مصاحف نذرِ آتش کر دیئے اور مصاحف ِعثمانیہ پر متفق ہوگئے۔ شروع میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو یہ اعتراض تھا کہ جمع قرآن کے سلسلہ میں زید بن ثابتؓ کو مجھ پر ترجیح کیوں دی گئی ہے؟لیکن بعد میں جب ان پر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ زید بن ثابت ؓہی اپنی بعض ممتاز خصوصیات کی وجہ سے اس کام کے لئے زیادہ موزوں تھے، تو اُنہوں نے اپنے موقف سے رجوع اور حضرت عثمان ؓ کے اس کارنامے کا اعتراف کرلیا۔ اور بالآخر صحابہ کرام ؓ کا اس معاملہ پر اجماع ہوگیا۔ چنانچہ ابن ابی داؤد نے حضرت علی ؓ سے صحیح سند سے بیان کیا ہے کہ اُنہوں نے فرمایا:
لاتقولوا في عثمان إلا خیرا، فواﷲ ما فعل الذي فعل في المصاحف إلا عن ملأ منا، قال : ما تقولون في هذہ القراء ة ؟ فقد بلغني أن بعضهم یقول: إن قراء تي خیر من قراء تك، وهذا یکاد یکون کفرًا، قلنا: فما ترٰی؟ قال: أرٰی أن نجمع الناس علی مصحف واحد فلا تکون فرقة ولا اختلاف، قلنا: فنعم ما رأیت4
''حضرت عثمانؓ کے متعلق سواے بھلائی کی بات کے، کچھ نہ کہو۔ اللہ کی قسم !اُنہوں نے جو کچھ کیا، ہمارے مشورے سے کیا۔ اُنہوں نے ہم سے پوچھا تھا: ان قراء ات کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟ کیونکہ مجھے اطلاعات مل رہی ہیں کہ کچھ لوگ ایک دوسرے سے کہہ رہے ہیں کہ میری قراء ت تمہاری قراء ت سے زیادہ بہتر ہے، حالانکہ یہ بات کفر تک پہنچا سکتی ہے۔ ہم نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے؟ فرمایا: میری رائے یہ ہے کہ ہم سب لوگوں کو ایک مصحف پر جمع کر دیں تاکہ پھر کوئی افتراق اور اختلاف نہ ہو ۔ہم نے کہا :آپکی رائے بہت شاندار ہے۔''

نیز حضرت علی ؓنے فرمایاتھا:
لو کنت الوالي وقت عثمان لفعلتُ في المصاحف مثل الذي فعل عثمان5
''اگر حضرت عثمانؓ کی جگہ پر میں حکمران ہوتا تو میں بھی وہی کچھ کرتا جو حضرت عثمانؓ نے کیا ہے۔''

اور جن علاقوں میں یہ مصاحف بھیجے گئے تھے، وہاں کے باشندوں نے ان مصاحف کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور ان مصاحف کو ان کے ہاں اعلیٰ مقام اور مقدس حیثیت حاصل ہوگئی، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان مصاحف کی تدوین کسی فردِ واحد کی کارروائی نہیں ہے، بلکہ ان کی پشت پر تمام اصحابِ رسولؐ کا اِجماع موجود ہے، جنہیں دربارِ رسالتؐ سے مدح و توصیف کا وہ پروانہ عطا ہوا ہے جس کے وہ واقعی مستحق تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شان میں فرمایا تھا :
علیکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدین المھدیـین تمسَّکوا بها وعضوا علیھا بالنواجذ6
''میری اور ہدایت یافتہ خلفاے راشدین کی سنت کو تھام کر رکھنا، اور داڑھوں کی پوری قوت سے اس پر اپنی گرفت مضبوط رکھنا۔''
اور فرمایا :

أصحابي کالنجوم بأیھم اقتدیتھم اھتدیتم
''میرے صحابہؓ آسمان کے درخشندہ ستاروں کی مانند ہیں ۔ ان میں سے جس کی بھی اقتدا کرو گے ، راہ یاب ہوجاؤ گے۔''7
اور فرمایا:

اقتدوا بالذین من بعدي أبي بکر وعمر
''میرے بعد ابو بکر صدیق ؓاور عمر فاروق ؓکی اقتدا کرنا۔'' 8
چنانچہ اُمت نےاس شاندارموقف کوحرزِجان بنایا،اسےدل وجان سےقبول کرلیااور یہی ان کا تنہا ماخذ و مصدرتھا،جہاں سے وہ اپنے فیصلےکرواتےتھے۔

دور ِ صحابہ ؓکے مشہور مصاحف
صحابہ کرام ؓ کے دور میں مصاحف ِعثمانیہ کے علاوہ کئی اور مصاحف بھی مشہور ہوئے، لیکن اُنہیں وہ مقام حاصل نہ ہوسکا جو مصاحف ِعثمانیہ کو حاصل ہوا، کیونکہ مصاحف ِعثمانیہ کیسب مشمولات اور قراء ات کے پیچھے تمام صحابہ ؓ کا اجماع اور اتفاقِ رائے موجود تھا۔ لہٰذا تمام بلادِ اسلامیہ میں صرف مصاحف ِعثمانیہ کو ہی قبول عام حاصل ہوسکا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ دیگر تمام مصاحف انفرادی نوعیت کے تھے جنہیں بعض صحابہ کرامؓ نے اپنے طور پر تحریر کیا تھا۔ ان میں عرضۂ اَخیرہ کے ساتھ مطابقت کا لحاظ بھی نہیں رکھا گیا تھا۔ ان میں شاذ قراء ات، منسوخ آیات اور قرآنی الفاظ کے ساتھ صحابہ ؓکے تفسیری اَقوال بھی شامل تھے جس کی وجہ سے لازماً یہ مصاحف، مصاحف ِعثمانیہ سے مختلف تھے۔بعض میں اضافہ جات تھے تو بعض میں کمی اور ان کی ترتیب بھی مصاحف ِعثمانیہ سے مختلف تھی۔ ان وجوہات کی بنا پر خود صحابہ کرام ؓنے ہی اپنے اجماع سے مصاحف ِعثمانیہ کے سوا دیگر تمام مصاحف کی قرآنی حیثیت کو کالعدم قرار دے دیا۔
بطورِ نمونہ ان مصاحف میں سے بعض مثالوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے

مصحف ِعمر بن خطابؓ
اس میں سورۂ فاتحہ کی آیت نمبر۷یوں تحریر تھی:
سراط من أنعمت علیھم  غیر المغضوب علیھم وغیر الضالین

سورة آلِ عمران کی پہلی آیت اس طرح لکھی ہوئی تھی:
آلم اﷲ لا إله إلا ھو الحي القیام

اور سورۂ مدثر کی آیات 40، 41 اور 42اس طرح تحریر تھیں :
في جنات یتساء لون ٭ یا فلان ٭ ما سلك في سقر

مصحف ِ علی بن ابی طالبؓ
اس میں سورة البقرہ کی آیت نمبر 285 کا ابتدائی حصہ اس طرح تھا:
آمن الرسول بما أنزل إلیه من ربه وآمن المؤمنون

مصحف ِعائشہ اُمّ المؤمنینؓ
اس میں سورة البقرة کی آیت238 یوں تھی:
حافظوا علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر
اور ایک روایت میں واؤ کے بغیر صرف صلاة العصر ہے۔
اور سورة احزاب کی آیت 56 کا ابتدائی حصہ اس طرح تھا :
إن اﷲ و ملائکته یصلون علی النبي ٭ والذین یصلون في الصفوف الأولیٰ

مصحف ِحضرت حفصہ اُمّ المؤمنینؓ
اس میں بھی سورة البقرة کی آیت238 وصلاة العصر کے اضافہ کے ساتھ یوں تھی:
حافظ علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر

مصحف حضرت اُمّ سلمہ اُمّ المؤمنینؓ
ان کا مصحف بھی حضرت حفصہ ؓ کے مصحف کے مطابق تھا۔

مصحف ِعبداللہ بن زبیرؓ
اس میں سورة البقرة کی آیت 198 کا ابتدائی حصہ اس طرح تھا :
لیس علیکم جناح أن تبتغوا فضلا من ربکم في مواسم الحج
اور سورة المائدة کی آیت 52 کا آخری حصہ یوں تھا:
فیصبح الفساق علی ما أسروا في أنفسهم نٰدمین
اور سورة آلِ عمران کی آیت 104یوں تھی:
ولتکن منکم أمة یدعون إلی الخیر و یأمرون بالمعروف و ینهون عن المنکر ویستعینون باﷲ علی ما أصابھم

مصحف اُبی بن کعبؓ
اس میں سورة البقرة کی آیت {فَلَا جُنَاحَ عَلَيهِ أنْ يَطَوَّفَ بِهِمَا} یوں تحریر تھی:فلا جناح علیہ ألا یطوف بھما
نیز اس میں {لِلَّذِينَ يُؤلُوْنَ مِنْ نِّسَائِهِمْ} کی بجائے للذین یقسمون من نساء ھم تھا۔
اس میں سورة النساء کی آیت 24 {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِه مِنْهُنَّ} کے بعد إلی أجل مسمی کا اضافہ بھی تھا ۔
اور سورة المائدة کی آیت 89 میں {فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أيَامٍ} کے بعد متـتابعات کے الفاظ بھی موجود تھے۔

مصحف ِ عبداللہ بن عباسؓ
اس میں بھی سورة البقرة کی آیت158{فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ} یوں تحریر تھی: فلا جناح علیه اَلا یطوف بھما
اور سورة البقرة کی آیت198{لَيسَ عَلَيكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ} کے بعدفي مواسم الحج کے الفاظ بھی موجود تھے۔
اور سورة آل عمران کی آیت 175{إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيطَانُ يُخَوِّفُ اَوْلِيَاء هُ}کی بجائے إنما ذلکم الشیطان یخو فکم أولیاء ہ لکھا ہوا تھا۔
اور سورة البقرة کی آیت 196 {وَ اَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ هِ}کی بجائے یوں تھا : وأقیموا الحج والعمرة للبیت
اور سورہ آلِ عمران کی آیت 159 میں { وَشَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ}کی بجائے وشاورهم في بعض الأمرلکھا ہوا تھا ۔
اور سورة البقرة کی آیت 227میں {وَإِنْ عَزَمُوْا الطَّلَاقَ} کی بجائے وإن عزموا السراح لکھا ہوا تھا ۔
اور اس میں سورة الحج کی آیت 52میں {وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلاَنَبِي} کے بعد ولا محدث کے الفاظ بھی رقم تھے۔
سورة الاعراف کی آیت 187 {كَاَنَّكَ حَفِي عَنْهَا}یوں لکھی ہوئی تھی:کانك حفي بھا
اورسورة آلِ عمران کی آیت 7 {وَمَا يَعْلَمُ تَأوِيلَه إلَّا الله وَالرَّاسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ آمَنَّا بِه}یوں لکھی ہوئی تھی: وما یعلم تأویله إلا اﷲ ویقول الراسخون في العلم آمنا به
اور سورة البقرة کی آیت 137یوں لکھی ہوئی تھی: فإن آمنوا بما آمنتم به فقد اھتدوا
اور سورة البقرة کی آیت238 وصلاة العصر کے اضافہ کے ساتھ یوں تھی:
حافظ علی الصلوات والصلاة الوسطی وصلاة العصر
اور سورة النساء کی آیت 24 {فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِه مِنْهُنَّ}کے بعد إلی أجل مسمی کا اضافہ بھی تھا ۔
سورة النساء کی آیت 160{فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَيهِمْ طَيبَاتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ}میں {اُحِلَّتْ لَھُمْ } کی بجائے کانت لہم کے الفاظ تھے۔
اور سورة النصر کی پہلی آیت یوں لکھی ہوئی تھی: إذا جاء فتح اﷲ والنصر

مصحف ِعبداللہ بن مسعودؓ
اس میں سورة البقرہ کی آیت {اِهبِطُوْا مِصْرًا}کو اهبطوا مصربغیر ألف لکھا ہوا تھا ۔
اور{وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيتِ وَإِسْمَاعِيلُ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا} میں {يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا}کی بجائے یقولان ربنا لکھا ہوا تھا۔
اور سورة آلِ عمران میں {اَلْحَي الْقَيُوْمُ}کی جگہ الحی القیام اور{وَمَا يَعْلَمُ تَأوِيلَه إِلَّا الله}کی جگہ إن حقیقة تأویله إلا عند اللہ اور{نَادَتْه الْمَلَائِكَةُ} (آلِ عمران 39 )کی جگہ ناداہ الملائکة یا زکریا إن اللہ
اور {يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ } کی بجائے یا مریم اقنتي لربك وارکعي واسجدي مع الساجدین اور {وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إنَّ الله يُبَشِّرُكِ}کی بجائے إذ قالت الملائکة إن اللہ لیبشرك لکھا ہوا تھا ۔
سورةالنساء میں {إِنَّ اﷲَ لَايَظْلِمُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ } کی جگہ مثقال نملة کے الفاظ تھے ۔
اور سورة المائدة میں {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ} کی جگہ إن تعذبهم فعبادك کے الفاظ تھے ۔
اور سورة الانعام میں {كَالَّذِي اسْتَهوَتْه الشَّيطَانُ}کی بجائے کالذي استهواہ الشیطان کے الفاظ تھے۔ اور{لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَكُمْ} کے بجائے لقد تقطع ما بینکم کے الفاظ تھے۔
اورسورة الاعراف میں {قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا اَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَتَرْحَمْنَا} کی جگہ قالوا ربنا اَلا تغفرلنا و ترحمنا کے الفاظ تھے۔
اور سورة الانفال میں ولا یحسب الذین کفروا سبقوا
اور سورة التوبہ میں قل أذن خیر ورحمة لکم
اور سورة یونس میں حتی إذا کنتم في الفلك وجرین بکم
اور سورة ہود میں وأتاني رحمة من عندہ وعمیت علیکم اور فأسر بأهلك بقطع من اللیل إلا امرأتك کے الفاظ تھے۔
اور سورة الرعد میں وسیعلم الکفرون لمن عقبی الدار کے الفاظ تھے۔
اور سورة النحل میں الذین توفهم الملائکة کے الفاظ تھے۔
اور سورة الاسراء میں سبحت له الأرض وسبحت له السموات کے الفاظ تھے۔
اور سورة الکہف میں لکن هو اﷲ ربي کے الفاظ تھے۔
اور سورة مریم میں ذلك عیسی بن مریم قال الحق الذي فیه یمترون اور وتکاد السموات لتـــتــصدع منه کے الفاظ تھے۔
اور سورة طہ میں قد نجیتکم کے الفاظ تھے۔
اور سورة الحج میں أذن للذین قاتلوا بأنهم ظلموا کے الفاظ تھے۔
اور سورة النور میں انزلنٰها وفرضنٰها لکم کے الفاظ تھے۔
اور سورة الفرقان میں هوالذي أرسل الریاح مبشرات کے الفاظ تھے۔
اور سورة الشعراء میں واتبعوهم مسرقین کے الفاظ تھے۔
اور سورة النمل میں فیمکث غیر بعید کے الفاظ تھے۔
اور سورة القصص میں وعمیت علیهم الأنباء کے الفاظ تھے۔
اور سورة السجدة میں فلا تعلم نفس ما یخفي لهم کے الفاظ تھے۔
اور سورة سبا میں یقذف بالحق وهوعلام الغیوب کے الفاظ تھے۔
اور سورة یس میں في شغل فکهین اور علی الأرائك متکئین اور وسلاما قولا من رب الرحیم کے الفاظ تھے۔
اور سورة الزخرف میں ما شهد خلقهم اور وإنه علیم للساعة کے الفاظ تھے۔
اور سورة الحجرات میں لتعارفوا وخیارکم عند اللہ أتقاکم کے الفاظ تھے۔
اور سورة القمر میں خاشعة أبصارهم کے الفاظ تھے۔
اور سورة نوح میں ولایغوثا ویعوقا دونوں الفاظ تنوین کے ساتھ تھے۔


حوالہ جات
1. الإتقان في علوم القرآن:1؍69
2. صحیح بخاری : 3506
3. صحیح بخاری: 3504
4. فتح الباری:9؍18
5. تفسیر قرطبی: 1؍54
6. سنن ابو داؤد :4607
7. تلخیص الحبیر: 2594 ضعیف
8. سنن ترمذی:3662 صحیح