مناظر اسلام حافظ عبد القادر روپڑی رحمة اللہ علیہ کے بڑے بھائی حافظ محمد اسماعیل روپڑی رحمة اللہ علیہ ... اللہ اُن پر اپنی کڑوڑہا رحمتیں نازل فرمائے... ماضی قریب کے عظیم دینی رہنما اور بے مثل خطیب ہوگزرے ہیں ۔قیامِ پاکستان کے بعد کے دوعشرے سرزمین وطن کے گوشے گوشے میں آپ نے توحید وسنت کے پیغام کو پہنچانے میں دیوانہ وار صرف کئے بالخصوص لاہور، شیخوپورہ، سرگودھا اور کراچی کی بیسیوں مساجد آپ کی حسناتِ باقیات میں سے ہیں جو آپ کے لئے عظیم توشۂ آخرت ہیں ۔ اسی طرح دورِ حاضر کے متعدد نامور اہل علم نے آپ کی مخلصانہ دعوت وتربیت کے نتیجے میں اس مقدس نبویؐ مشن کے راہی بننے کی سعادت حاصل کی۔آپ کی زیر نظر تحریرقارئین 'محدث' کے لئے ایک نادر و نایاب تحفہ ہے جو 1950ء کے بعد پہلی مرتبہ مکمل صورت میں شائع ہورہی ہے۔ حکیم یحییٰ عزیز ڈاہروی نے اپنے ذاتی ریکارڈ سے اس قدیم تحریر کو ہمارے لئے میسر کیا ہے۔ تاریخ اسلام کے اہم ترین واقعہ پر آپ کی یہ مایہ ناز تحقیق جہاں علم وجستجو کی ایک درخشندہ مثا ل ہے، وہاں ذاتِ نبویؐ اور اہل بیت ِ عظامؓ سے والہانہ محبت کا ایک درد مندانہ اظہار بھی ہے۔یہ تحریر اس اہم ترین واقعہ پر ایک معتدلانہ اور محققانہ موقف کی آئینہ دار ہے!اس تحریر کے مرتب حافظ روپڑی مرحوم، مدیر اعلیٰ 'محدث' کے قریبی رشتہ دار ہونے کے ساتھ خاص مربی بھی تھے۔اس اعتبار سے محدث کی ۴۰ سالہ خدمات میں بھی ان کا ایک حصہ موجود ہے اور ان کی اس تحریر کی اشاعت ہمارے لئے سعادت کادرجہ رکھتی ہے۔ حافظ موصوف کے اکلوتے فرزند حافظ ایوب اسمٰعیل بھی اپنے والد کے مخلصانہ جذبۂ ایمانی کے مصداق ہمیشہ سے ادارئہ محدث اور اس سے وابستہ دیگر اداروں کے خصوصی سرپرستوں اور معاونوں میں شامل ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان علماے دین کی عظیم خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے، اور اِن کے نیک کاموں کو جاری وساری رکھنے کی توفیق اَرزانی فرمائے۔ آمین! (حسن مدنی)



سلام ہو، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آپؐ کی آل پر... کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی آلؓ کے اُسوئہ حسنہ کی اتباع کا فخر حاصل ہے اور وہ جادۂ زندگی کے ہر مرحلہ اور ہر شعبہ میں رسولؐ، آلِ رسولؐ اور صحابہ کرامؓ کے نقشِ قدم پرچلنے میں اپنی کامیابی اور نجات سمجھتے ہیں ۔ دراصل انہی مقدس اور برگزیدہ ہستیوں کے اُسوۂ حسنہ کی متابعت عین ایمان ہے۔ جو لوگ اس راہِ عمل کے تارک ہیں یا اس میں حسب ِمنشا تغیر و تبدل کرتے ہیں ، اُن کا ایمان مشتبہ اور مشکوک ہے، اس لئے اُن کی نجات محال ہے۔

ماہ محرم الحرام سے اسلامی سنہ ہجری شروع ہوتا ہے ۔ واقعۂ کربلا اسی ماہ میں پیش آیا۔ آج ملت ِاسلامیہ کا کارواں 1370ھ (بمطابق1951ء) کے سفرکا آغاز کررہا ہے۔ ربّ العزت دنیاے اسلام کے لئے ہر نیاسال مبارک کرے اور اہلِ اسلام کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم ،آلِ رسولؐ اور صحابۂ رسول رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اُسوۂ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

اَحکام و مسائل محرم الحرام
ماہِ محرم الحرام کے احکام و مسائل جو صحیح احادیث میں مروی ہیں اور جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آلِ رسولؐ، اصحابِؓ رسول اور سلف صالحین رحمة اللہ علیہ کا عمل رہا۔ وہ مختصر طور پر درج ذیل ہیں :
عہد ِجاہلیت میں قریش عاشورا (دسویں محرم) کو بیت اللہ شریف پر نیا غلاف پہناتے تھے اور اس دن کی تعظیم و تکریم میں روزہ رکھتے تھے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ میں نزولِ اِجلال فرمایا تو یہود کو بھی اس دن روزہ رکھتے دیکھا۔ آپؐ نے اُن سے دریافت فرمایا کہ تم اُس دن کیوں روزہ رکھتے ہو؟ اُنہوں نے عرض کیا کہ یہ ہمارا یومِ نجات ہے۔ اس دن اللہ تبارک و تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اُن کے دشمن فرعون سے نجات دلائی اور موسیٰ علیہ السلام نے اُس دن بطورِ شکرانہ روزہ رکھا۔ تورسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام سے موافقت کرنے میں ہم تم سے زیادہ حق رکھتے ہیں ۔ لہٰذا آپؐ نے خود بھی روزہ رکھا اور عام اہل اسلام کوبھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ البتہ جب ماہِ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو آپؐ نے اعلان فرمایا کہ جو شخص چاہے تو عاشورا کے دن کا روزہ رکھے اور چاہے تو نہ رکھے۔ مگر خود آپ کا فعل یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھا کرتے اور ترغیب بھی دلاتے تھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے کہ اُس دن کے روزہ سے ایک سال کے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔نیز فرمایا کہ رمضان کے بعد بہتر روزہ ماہِ محرم کا روزہ ہے۔ بعد میں یہود کی مشابہت سے بچنے کے لئے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمادیا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو محرم کی نویں کا روزہ رکھوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ سال اس دارِفانی سے رحلت فرماگئے۔ لیکن اس ارشاد کی بنا پر صحابہ کرامؓ کا یہی عمل اور فتویٰ رہا۔ 1

یہ ہیں ماہِ محرم اور یومِ عاشورا کے اصل احکام و مسائل جو صحیح روایات میں ہیں ۔ مسلمان کے لئے لازم ہے کہ انہی کو بجا لانے پر اکتفا کرے۔ اس کے علاوہ محرم کے متعلق کئی فرضی ، خود ساختہ اور موضوع روایات بھی ہیں ۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ نے اپنی تصنیف ما ثبت بالسنة میں ایسی بعض موضوع روایات کی نشاندہی کی ہے جن میں سے چند یہ ہیں :

محرم کے بارے میں موضوع روایات
جو شخص یومِ عاشورا کا روزہ رکھے، اسے ساٹھ برس کے روزوں اور قیام اللیل کا ثواب ملے گا۔
جو شخص عاشورا کے دن کا روزہ رکھے گا، اسکو دس ہزار فرشتوں کی عبادت کا ثواب ملے گا۔
جو شخص اس دن کا روزہ رکھے گا، اس کو ہزار شہید کا ثواب ملے گا۔
جس نے عاشورا کے دن ایک بھوکے کو کھانا کھلایا، اس نے گویا اُمت ِمحمدیہ کے تمام فقراء ومساکین کو کھانا کھلایا۔
جس نے اس دن یتیم کے سر پر دست ِشفقت پھیرا، اس کو ہر بال کے عوض جنت میں ایک درجہ ملے گا۔
جس نے عاشورا کے دن ایک گھونٹ پانی پلایا، اس کا درجہ اس شخص کے برابر ہے جس نے تمام عمر ایک لحظہ کے لئے بھی اللہ کی نافرمانی نہیں کی۔
جس شخص نے عاشورا کے دن مساکین کے گھر کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا، وہ قیامت کے دن پلِ صراط پر سے بجلی کی طرح گذر جائے گا۔

یہ روایات وہ ہیں جو اہلِ تشیع نے یومِ شہادتِ حسینؓ (۱۰ محرم ؍عاشورا)کے دن کو مزید مقدس اور اہم باور کرانے کے لیے وضع کیں ۔ امام ابن جوزی رحمة اللہ علیہ نے بھی اپنی کتاب الموضوعات میں اس قسم کی بہت سی روایات نقل کی ہیں ۔اس کے برعکس وضاعین وکذابین نے آل رسولؐ سے تعصب وعناد کے باعث ناصبیّت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عاشورا کے دن کو مسرت وشادمانی کا دن باور کرانے کے لیے بہت ساری روایات گھڑ ڈالیں اور ایسی اکثر روایات حجاج بن یوسف کے زمانہ میں وضع کی گئیں ۔ ان میں سے چندایک مندرجہ ذیل ہیں :
جو شخص عاشورہ کے دن آنکھوں میں سرمہ لگائے گا، اس سال اس کی آنکھیں نہ دکھیں گی۔
جس شخص نے اس دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے اور لباس میں فراخی کی، اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال فراخی کرے گا۔اس قسم کی تمام روایات وضعی ہیں !

شیخ ابن حجر رحمة اللہ علیہ کا فتویٰ
شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمة اللہ علیہ ما ثبت بالسنة میں شیخ ابن حجر رحمة اللہ علیہ مفتی مکہ کے حوالہ سے لکھتے ہیں :
''بعض ائمہ حدیث وفقہ سے اس بارے میں دریافت کیا گیاکہ عاشورا کے دن سرمہ لگانا، غسل کرنا، مہندی لگانا، مختلف قسم کے کھانے پکانا، نئے کپڑے پہننا اور اُس دن خوشی کا اظہار کرنا کیسا ہے؟ سب نے متفقہ طور پر فتویٰ دیا کہ اس بارے میں کوئی صحیح حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یا کوئی روایت صحابہ کرامؓ سے ثابت نہیں ، نہ ائمہ اسلام نے ان چیزوں کو پسند کیا ہے اور نہ مستند کتب حدیث میں اس بارے میں کوئی صحیح یا ضعیف روایت موجود ہے۔''

مروّجہ تعزیہ وغیرہ کی حقیقت اور شرعی حیثیت
اس کے علاوہ محرم کے ابتدائی دس دنوں میں رونا پیٹنا، کپڑے پھاڑنا، بال نوچنا، چھاتی پیٹنا، سربرہنہ پھرنا، غسل چھوڑ دینا، سیاہ کپڑے پہننا، بچوں کو سیاہ اور سبز کپڑے اور مَوْلی پہنانا، شہدا کے نام کی نذر ونیاز دینا، ماتم کی محفلیں قائم کرنا، جنگ نامے پڑھنا، ماتمی جلوس، تعزیہ، مہندی، گھوڑا وغیرہ سب بدعات ہیں جن کا قرآن و حدیث سے کوئی ثبوت نہیں بلکہ صریح اُسوئہ حسنہ کے خلاف ہیں ۔ اُسوئہ حسنہ تو صرف یہی ہے جس کا اوپر ذکر ہوا یعنی نویں اور دسویں محرم کو روزہ رکھا جائے جس سے ایک سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور بس!

ہندوستان میں تعزیہ کب آیا؟
تعزیہ داری وغیرہ رسوم سے آٹھ سو سال تک ہندوستان بالکل پاک رہا۔ 801 ہجری میں تیمور لنگ ترکستان کا بادشاہ جو نسلاً تاتاری اور مذہبا ً شیعہ تھا، اس نے پہلے پہل اس رسم کو ایجاد کیا اور ہندوستان میں پہلا تعزیہ 962ہجری میں ہمایوں بادشاہ کی معرفت آیا۔ اس نے اپنے وزیر بیرم خان کو بھیج کر46 تولہ کا ایک زمردین تعزیہ منگوایا جہاں سے ہندوستان میں اس رسم کی ابتدا ہوتی ہے۔شریعت ِمحمدیہؐ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

اہل بیت کا اُسوئہ حسنہ اور 'محبانِ اہل بیت ' کا طرزِ عمل
اب دیکھنا یہ ہے کہ آغازِ محرم سے جن حرکات و سکنات اور افعال و اعمال کا ارتکاب کیا جاتا ہے؛کیا واقعتا وہ اہل بیت کی محبت کا تقاضا ہے؟ یہ ایک مسلمہ اُصول ہے کہ محبوب کی ہر اَدا پر محبت کرنے والا دل و جان سے شیدا ہوتا ہے اورمحبوب کا قرب حاصل کرنے کے لئے ایسا طریقہ اختیار کرتاہے جو محبوب کے نزدیک اَنسب اور وجہ ِ مسرت ہو۔ اگر اس کے خلاف کرے گا تو محبوب کی ناراضگی اور مفارقت کا موجب ہوگا۔ افسوس اور صد افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان حضرات نے اہل بیت کی محبت میں وہ طریقہ اختیار کیا ہے جس پر اہل بیت اور خود رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہیں اور وہ اپنے اَعمال سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ اہل بیت سے اُن کو محبت نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے اہل بیت ؓ نے ایسے افعال کا نہ تو حکم دیا اور نہ ہی خواہاں تھے،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے تو یہی اخذ ہوتا ہے کہ وہ دین میں خرافات وبدعات کے سخت دشمن تھے، لہٰذا اس بنا پر ایسی خرافات کے مرتکب لوگوں کا محض دعویٰ محبت اُنہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔

حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعہ شہادت میں وہ گراں قدر بصیرتیں موجود ہیں جن سے اُمتِ مرحومہ کے دلوں میں عزم و استقلال، صبرو ثبات، استبداد شکنی، قیامِ خلافت، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی روح پیدا ہوتی ہے اور حضرت حسین ؓ کی قربانی کا مقصد ہی یہ تھاکہ میرے نانا کی اُمت اچھے اوصاف سے متصف ہوجائے مگر لوگوں نے اس عظیم الشان قربانی کا مضحکہ اُڑانا شروع کردیا اور تعزیوں کے جلوسوں کو حضرت حسینؓ کی عظمت کے لئے کافی سمجھ لیا اور ماتم کرنے، بال نوچنے، چھاتی پیٹنے ، بدن زخمی کرنے اور نوحہ اور بین کرنے کو اہل بیت کی محبت کا معیار قرا ردے دیا۔ ع بریں عقل و دانش بباید گریست

نوحہ کے بارے میں دربارِ نبوت کا حکم و عمل
اسلام میں خویش و اقارب اور گذشتہ بزرگوں پر ماتم و بین کرنا اور اس قسم کی حرکات کرنا جو آج اکثر طور پر کی جاتی ہیں ، سخت منع ہے۔چنانچہ سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

أَنَا بَرِيء مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ2
'' جس نے (نوحہ کے لیے) سر کے بال منڈوا دیئے یابلند آواز سے بین کئے یا کپڑے پھاڑے، میں اس سے بیزار ہوں ۔''

نیز فرمایا:
لیس مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الخُدودَ وشقَّ الجُیُوب ودَعا بدعوٰی الجاھلیة3
''جس نے(نوحہ کے لیے) کرتے ہوئے منہ کو پیٹا، کپڑے پھاڑے اور جاہلیت کے بین کئے، وہ ہم سے نہیں ہے۔''

اس کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً یہ اُسوئہ حسنہ پیش کیا کہ اپنے فرزند دل بند ابراہیم ؓ کی وفات پر فرمایا:

العینُ تدمع والقلب یحزُن ولا نقول إلا ما یرضٰی ربنا4
''دل غمگین ہے، آنکھوں سے آنسو جاری ہیں مگر زبان سے وہی لفظ نکلیں گے جن سے ہمارا ربّ راضی ہو۔''

اور اپنی صاحبزادی حضرت زینبؓ کے لڑکے کی وفات کی خبر سن کر اس کو یہ پیغام بھیجا:
إن ﷲ ما أخَذَ وله ما أعطٰی وکل عندہ بأجل مسمّٰی فَلتصبر ولتحتسب
''اللہ کا مال تھا جو اُس نے لے لیا اور جو اُس نے دے رکھا ہے، وہ بھی اسی کا ہے اور ہر ایک کے لئے اس کے پاس ایک مقررہ وقت ہے۔ چنانچہ(بیٹی تو) صبر سے کام لے اور اس پر اللہ سے ثواب کی اُمیدوار رہ۔''5

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی زینبؓ کے فوت ہوجانے پر عورتوں نے رونا شروع کردیا۔ حضرت عمرفاروقؓ ان عورتوں کو اپنے کوڑے سے مارنے لگے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اُن عورتوں کو پیچھے ہٹایا اور فرمایا: اے عمرؓ! ٹھہر جا۔ پھر عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: دیکھو! شیطانی آواز مت نکالو۔ پھر آپؐ نے فرمایا:
إنه مھما کان من العین والقلب فمن اﷲ عزوجل ومن الرحمة وما کان من الید ومن اللسان فمن الشیطان6
''میت کے غم میں جہاں تک دل کے غم اور آنسوؤں کا تعلق ہے، سو یہ تو اللہ کی طرف سے ہے اور انسانی ہمدردی اور رحم کا نتیجہ ہے۔ مگر ہاتھ (سے پیٹنا )اور زبان (سے بین کرنا) یہ سب شیطانی اعمال ہیں ۔''
اور
نهی رسول اﷲ ! عن المراثي 7
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے۔''

دوستو!یہ ہے وہ اُسوئہ حسنہ جس کی اتباع ہر مسلمان کا فرضِ اوّلین ہے اور ایک خاص طبقہ کا سال محرم کے دس ابتدائی دنوں میں نت نئے افعالِ کا ارتکاب سنت ِنبوی کے سراسر خلاف ہے بلکہ حضرت حسینؓ کی قربانی سے استہزا ہے۔ یہ کس قدرمضحکہ خیزی کی بات ہے کہ حضرت حسینؓ تو ملت ِاسلامیہ کے سامنے شجاعت سے ودلیری سے اُسوۂ شہادت پیش کریں اور ہم میں سے کچھ لوگ اس عظیم اُسوۂ شہادت پر سینہ کوبی کریں ۔

ایک مسلمان کا یہ افسوسناک منظر دیکھ کر کلیجہ شق ہوجاتا ہے کہ حضرت حسینؓ ایسے مجاہد و موحد کی عظیم الشان شہادت کی یادگار کو تعزیوں کی صورت میں بازاروں اور گلی کوچوں میں اُٹھائے پھرنا اور پھر ایک فرضی کربلا میں یہ تعزیے پھینک دینا اور پھر سارا سال اُنہیں کوئی نہیں پوچھتا۔

مروّجہ رسوم حضرت حسینؓ کی توہین ہیں
تعزیہ داری، گھوڑا وغیرہ جیسی رسوم کی حقیقت پر غور وخوض کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ حضرت حسین ؓ کی مردانہ وار شہادت کا ان رسوم سے ذرہ بھر بھی تعلق نہیں بلکہ یہ رسوم اس عظیم الشان شہادت کی توہین کے مترادف ہیں ۔

کاش یہ حضرات ان افعال و رسومات کی حقیقت و اصلیت اور نتائج و عواقب پر غور کریں اور حضرت حسین ؓ کی عظیم الشان قربانی کی ان بصیرتوں کے حصول کی کوشش کریں جو مسلمانوں کو ثریٰ سے نکال کر ثریا تک پہنچا سکتی ہیں ۔

اب ہم حضرت حسین ؓ کی شہادت کے اصل واقعات اور آپؓ کی مختصر تاریخ جو صحیح و مستند کتب میں مروی ہیں کو ہدیۂ ناظرین کرتے ہیں تا کہ حب ِحسین میں غلو کے نتیجے میں وضع کی گئی روایات سے مبرا حقائق سامنے لائے جائیں اورفرضی روایات سے بچا جا سکے۔

حضرت حسین ؓ کی سوانح حیات
حضرت حسین ؓ ۴ ہجری میں تولد ہوئے۔ حضرت فاطمتہ الزہراؓ ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک و مقدس گودوں میں پرورش پاکر سنِ شعور کو پہنچے۔ آپؓ سات برس کے تھے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دارِفانی سے عالم جاودانی کی طرف رحلت فرمائی۔ خلافت ِحضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت آپؓ کی عمر آٹھ برس سے زیادہ نہ تھی۔ حضرت صدیقؓ آپ سے بے انتہا محبت کرتے تھے اورحضرت عمرفاروقؓ کو بھی آپ سے بے انتہا اُلفت تھی۔

حضرت عمرؓ نے بدری صحابہ کے لڑکوں کا وظیفہ دو ہزار درہم سالانہ مقرر کیا تھا مگر حضرت حسین ؓ کو پانچ ہزار درہم سالانہ ملتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے زمانۂ خلافت میں آپ پورے شبابپر تھے۔ مفسدین کی شورش کے وقت آپ حضرت عثمانؓ (قصر خلافت) کے محافظ تھے۔ جنگ ِجمل اور جنگ ِصفین میں آپ اپنے والد ماجدؓ کے ساتھ شریک ہوئے۔ جب حضرت حسنؓ (آپ کے برادرِ بزرگوار) نے خلافت سے دست برداری کا ارادہ کیا تو آپ نے اُن کی پرزور مخالفت کی، لیکن فیصلہ کے بعد آپؓ کے ظاہری تعلقات امیرمعاویہؓ سے درست ہوگئے۔ چنانچہ49 ہجری میں آپ جنگ ِقسطنطنیہ میں بھی شامل ہوئے۔ 56ہجری میں امیرمعاویہؓ نے اہل مدینہ سے یزید کی ولی عہدی کے حق میں بیعت لینی چاہی مگر حضرت حسین ؓ وغیرہ اس سے متفق نہ ہوئے۔ اس پر امیرمعاویہؓ کوبھی آئندہ خطرات کا احساس ہوگیا۔ چنانچہ وفات کے وقت امیرمعاویہؓ نے یزید کو وصیت کی کہ اہل عراق حسینؓ کو تمہارے خلاف کھڑا کریں گے مگر تم ان کے حق اور قرابت ِنبویؐ کا احساس کرکے درگزر سے کام لینا۔

امارت ِیزید
رجب ۶۰ ہجری میں حضرت امیرمعاویہؓ کی وفات ہوئی تو یزید کی بیعت کواکثریت نے قبول کرلیا۔ یزید کو سیدنا حسینؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے خطرہ تھا۔ اس کو یقین تھا کہ وہ حجاز اور عراق کے مسلمانوں کو اس کے مقابلہ میں کھڑا کرسکتے ہیں لہٰذا اس نے تخت ِخلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ ہی ولید بن عتبہ (حاکم مدینہ) کو تاکیدی حکم بھیجا کہ حضرت حسین ؓ اور حضرت عبداللہ بن زبیرؓ دونوں سے بیعت لی جائے۔

ولید نے مروان بن حکم کو مشورہ دیا کہ اگر ذرا بھی لیت و لعل کریں تو قتل کردو۔ اگر یہ دونوں اس وقت نکل گئے تو پھر قابو نہ آئیں گے۔ ولید نے سیدنا حسین ؓ کو بلا بھیجا۔ چونکہ حضرت امیرمعاویہؓ کی علالت کی خبریں مدینہ میں مشہور تھیں ، اس لئے سیدنا حسین ؓ اپنی حفاظت کے لئے ایک جماعت کو اپنے ساتھ لیتے گئے جب ملاقات ہوئی تو ولید نے بیعت کا مطالبہ کیا۔ آپؓ نے پہلے تو امیرمعاویہؓ کے انتقال کی تعزیت کی پھر فرمایا کہ میں چھپ کر بیعت نہیں کرسکتا، عام لوگوں کو بلاؤ گے تو میں بھی آجاؤں گا۔ اسی اثنا میں یہ خبر عبداللہ بن زبیرؓ کوبھی پہنچ گئی اور وہ رات ہی رات مکہ کی طرف نکل گئے۔ چونکہ ولید دن بھر اُن کی تلاش میں سرگرداں رہا، اس لئے وہ سیدناحسین ؓ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا۔ اس نے دوسرے دن آپ کو بلایا تو آپ نے ایک دن کی مہلت مانگی، اسی اثنا میں اہل عراق کے پے درپے پیغامات پہنچے کہ آپ خلافت کو قبول کیجئے۔ اسی کشمکش میں محمد بن حنفیہ کے مشورہ سے آپ شعبان ۶۰ ہجری میں مدینہ سے نکل کر مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔

انکارِ بیعت کی وجوہات
خلفاے راشدین خلیفہ کے انتخاب میں بہت محتاط تھے۔ حضرت ابوبکرؓ کے انتخاب میں تو احادیث ِ نبویؐ کے ارشادات و کنایات سے کام لیا گیا اور حضرت عمرؓ کی نسبت بھی قریباً یہی چیز کام آئی۔ بعد میں شوریٰ سے انتخاب ہوتا رہا۔ مگر یزید کی امارت کے متعلق اس اُصول کی پابندی نہ کی گئی۔
مسلمانوں میں یزید سے بہتر صحابہؓ و اہل بیتؓ موجود تھے جنہیں نظر انداز کر دیا گیا تھا۔
یزید ذاتی طور پر خلافت کا اہل نہیں تھا ، فسق وفجور اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب تھا۔
اہل عراق آپؓ کی خلافت کو پسند کرتے تھے۔
ان وجوہات کے باعث سیدناحسین ؓ یزید کی خلافت کے مخالف رہے۔


مسلم بن عقیل ؓ کی شہادت
مکہ مکرمہ پہنچ کر آپؓ نے حضرت مسلم بن عقیل ؓ کو تحقیق حالات کے لئے کوفہ بھیجا اور ایک قاصد بصرہ کی طرف روانہ کیا۔ جاسوسوں نے یہ خبریں اسی وقت یزید کو پہنچائیں ، اُس نے عبیداللہ بن زیاد (حاکم بصرہ) کو تاکیدی حکم بھیجا کہ مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ سے نکال دو، اگر مزاحمت کرے تو اسے قتل کردو۔ بصرہ میں حضرت حسین ؓکا بھیجا ہوا قاصد گرفتار کرکے قتل کردیا گیا۔

مسلم بن عقیل ؓ کو ہانی بن عروہ نے اپنے زنان خانہ میں ٹھہرایا اور یہیں چند روزمیں اٹھارہ ہزار اہل کوفہ نے سیدنا حسین ؓ کی بیعت قبول کرلی۔ ابن زیاد نے ہر چند مسلمؓ کی تلاش کی مگر کچھ سراغ نہ مل سکا۔ آخر کار اس کے غلام معقل نے اس خفیہ انتظام کا سراغ لگا لیا۔ ابن زیاد نے پہلے ہانی بن عروہ کو گرفتار کیا اور اس سے مسلمؓ کا مطالبہ کیا۔ مگر اس نے صاف انکارکردیا کہ میں موت کو قبول کروں گا مگر اپنے مہمان اور پناہ گزیں کو حوالے نہیں کرسکتا۔ اسی دوران میں یہ افواہ اُڑ گئی کہ ہانی کو قتل کردیا گیا۔ اس پرہانی کے قبیلہ کے ہزارہا لوگوں نے قصر خلافت کا محاصرہ کرلیا اور مسلم بن عقیلؓ اپنے اٹھارہ ہزار رفیقوں کے ساتھ حملہ آور ہوگئے۔ اس وقت ابن زیاد کے ساتھ صرف پچاس آدمی موجود تھے، اس نے محل کا دروازہ بند کرلیا اور معززین شہر کو حکم دیا کہ چھتوں پر چڑھ کر لوگوں کو لالچ اور خوف سے منتشر ہونے کی ترغیب دی جائے۔ یہ تدبیر کارگرثابت ہوئی اور مسلمؓ کے رفقا منتشر ہونے لگے۔ شہر کے لوگ آتے تھے اور اپنے عزیزوں کو ہٹا کر لے جاتے تھے یہاں تک کہ مسلم بن عقیلؓ کے ہمراہ صرف تیس آدمی کھڑے رہ گئے۔ آپ اُن رفقا کے ساتھ محلہ کندہ کی طرف ہٹ آئے، یہاں یہ تیس بھی آپؓ سے جدا ہوگئے اور آپ تنہا کھڑے رہ گئے اور ایک عورت کے ہاں پناہ لی۔

ابن زیاد نے سراغ لگانے کے بعد آدمیوں کے ساتھ اس مکان کا محاصرہ کرلیا مگر مسلم بن عقیل ؓ خوفزدہ نہ ہوئے بلکہ اس ہمت سے مردانہ وار مقابلہ کیا کہ سب کو مکان سے باہر کردیا۔ اُنہوں نے پھر حملہ کیا مگر آپ نے پھر اُنہیں دھکیل دیا۔ ایک شخص نے آپؓ کے چہرۂ مبارک پروار کیا جس سے آپ کا اوپر کا ہونٹ کٹ گیا اور دو دانت جھٹکا کھا گئے۔ باقی ۶۹ آدمی مکان کی چھت پر چڑھ کر آگ اور پتھر برسانے لگے اب مسلمؓ گلی میں نکل کر مقابلہ کرنے لگے اور لڑتے لڑتے زخموں سے چور ہوگئے جب قوت نے بالکل جواب دے دیا تو دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ اس وقت محمد بن اشعث نے انہیں پناہ کا وعدہ دے کر گرفتار کرلیا۔

اس کے بعد آپ کو ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا۔ محمد بن اشعث نے کہا کہ میں مسلم کوپناہ دے چکا ہوں ، لیکن ابن زیاد نے اسے تسلیم نہ کیا اور حکم دیا کہ اُنہیں قتل کردیا جائے۔ آپؓ نے ابن زیاد کی اجازت سے عمرو بن سعد کو وصیت کی کہ سیدنا حسین ؓ آرہے ہوں گے، ان کے پاس آدمی بھیج کر اُنہیں راستہ ہی میں واپس کردیا جائے۔ وصیت ہوچکی تو آپ کو محل کی بالائی منزل پر لے جاکر شہید کردیا گیا اور آپ کی لاش اورسر نیچے پھینک دیئے گئے۔ اس طرح حضرت مسلمؓ کی شہادت کی صورت میں حضرت حسین ؓ کا ایک نہایت قوی بازو ٹوٹ گیا۔انا ﷲ وانا الیہ راجعون!

مکہ مکرمہ سے سیدنا حسین ؓ کی روانگی
مسلم بن عقیل ؓ نے پہلا خط جو سیدنا حسینؓ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ تمام شہر آپ کی تشریف آوری کا منتظر ہے، تشریف لے آئیں ۔ آپ یہ خط دیکھتے ہی سفر کے لئے تیار ہوگئے۔ جب دوستوں اور عزیزوں کو علم ہوا تو اُنہوں نے آپ کونہایت شدت سے روکا۔ عمرو بن عبدالرحمن نے کہا کہ کوفہ کے لوگ روپے پیسہ کے غلام ہیں جو لوگ آج آپ کو بلاتے ہیں ، وہی کل آپ سے جنگ کریں گے۔ عبداللہ بن عباسؓ نے خدا کا واسطہ دے کر کہا کہ آپ مکہ سے حرکت نہ کریں عراقی آپ کو یقینا بے یارومددگار چھوڑ دیں گے۔

تدبیر اور تقدیر
حضرت عبداللہ بن عباسؓ پھر دوسرے دن آپ کے پاس آئے اور کہا کہ اے میرے چچیرے بھائی! آپ کے سفر کے بارے میں میرا دل سخت بے قرار ہے۔ آپ صرف اہل کوفہ کو لکھیں کہ تم پہلے شامیوں کو نکال دو، پھر میں کوفہ پہنچ جاؤں گا۔ لیکن حضرت حسین ؓ رضا مند نہ ہوئے۔ عبداللہ بن عباسؓ جب بالکل مایوس ہوگئے تو کہا اگر جاتے ہو تو عورتوں اور بچوں کو اپنے ساتھ نہ لے جاؤ، مجھے خطرہ ہے کہ آپ بھی عثمانؓ کی طرح عورتوں اور بچوں کے سامنے قتل نہ کردیئے جاؤ اور وہ دیکھتے ہی رہ جائیں ، لیکن کارکنانِ قضا و قدر کو کچھ اور ہی منظور تھا، اس لئے حضرت ابنِ عباس ؓکی ساری کوششیں ناکام ثابت ہوئیں ۔

آخر میں ابوبکر بن حارث نے کہا کہ ہم میں حضرت علیؓ سے بڑی شخصیت کس کی ہوگی؟ مگر اہل عراق نے دنیا کے لالچ میں ان کا ساتھ بھی چھوڑ دیا پھر حضرت حسنؓ سے بے وفائی کی۔ ان زندہ تجربات کے بعد آپ اپنے والد ماجد کے دشمنوں سے بھلائی کی کیا توقع رکھتے ہیں ؟ لیکن سیدنا حسینؓ نے اس پر بھی اپنا ارادہ نہ بدلا اور اُنہیں صرف یہی جواب ملا کہ خدا کی مرضی پوری ہوکر رہے گی اور اہل بیت کے ساتھ عراق کی طرف روانہ ہوگئے۔

حالاتِ سفر
اثناے سفر بھی آپ کے بعض احباب نے بذریعہ خطوط عرض کی کہ سفر کے ارادہ کو ترک کردیجئے مگر تقدیر آپ کو کشاں کشاں منزل مقصود یا میدانِ کربلا کی طرف لے جارہی تھی، اس لئے آپ پر کسی کی اپیل یا مشورے کا کوئی اثر نہ ہوا۔ عمروبن سعد کے خط کے جواب میں لکھا کہ
''جو شخص اللہ عزوجل کی طرف بلاتا ہے ۔ عمل صالح کرتا ہے اور اسلام کا معترف ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیونکراختلاف کرسکتا ہے۔ تم نے مجھے امان، بھلائی اور صلہ رحمی کی دعوت دی ہے۔ پس بہترین امان اللہ تعالیٰ کی امان ہے۔ جوشخص دنیا میں خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتا، خدا قیامت کے دن اُسے امن نہیں دے گا۔ اس لئے میں دنیا میں خدا کا خوف چاہتا ہوں تاکہ قیامت کے دن میں اس کی امان کا مستحق ہوجاؤں ۔ اگر خط سے تمہاری نیت میرے ساتھ صلہ رحمی اور بھلائی کی ہے تو خدا تمہیں دنیا و آخرت میں جزاے خیر دے۔''

ادھر اہل بیت ِکرام کا قافلہ منازل طے کررہا تھا۔ ادھر ابن زیاد نے قادسیہ سے لے کر خفان، قطقطانہ اور جبل بَعْلع تک جاسوس اور سوار روانہ کردیئے تاکہ حضرت حسین ؓ کی نقل و حرکت کی جملہ خبریں ملتی رہیں ۔

سیدناحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاجز پہنچ کر قیس بن مسہر کے ہاتھ اہل کوفہ کو اپنی آمد کا خط ارسال کیا، لیکن ابن زیاد کے تمام انتظام مکمل تھے۔ قیس کو قادسیہ میں گرفتار کرلیا گیا اور ابن زیاد نے اسے چھت سے گرا کر شہید کردیا۔

بطن رملہ کے مقام پر عبداللہ بن مطیع سے آپؓ کی ملاقات ہوئی، اس نے صاف طور پر بیان کردیا کہ آپ ہرگز ہرگز کوفہ کا قصدنہ کریں ، آپ وہاں یقینا شہید کردیئے جائیں گے۔ جب ثعلبہ میں پہنچے تو آپؓ کو مسلم بن عقیلؓ اور ہانی بن عروہ کی شہادت کی المناک اطلاع ملی، اس موقعہ سے فائدہ اُٹھا کر بہی خواہوں نے پھر عرض کیا کہ آپ یہیں سے واپس لوٹ جائیں ، لیکن مسلمؓ کے بھائیوں نے پیش قدمی کی رائے دی۔ اس طرح اہل بیت کا قافلہ ایک منزل اور آگے بڑھ گیا۔ زبار پہنچ کر آپ کو اپنے قاصد عبداللہ بن بقطر کے قتل کی اطلاع ملی اور ساتھ ہی مسلم بن عقیلؓ کی وصیت کے مطابق آدمی پہنچے کہ یہاں کا حال بدل چکا ہے۔ اس موقعہ پرسیدناحسین ؓ نے ساتھیوں کو جمع کرکے ایک پُردرد تقریر فرمائی ۔ جس میں آپؓ نے فرمایا:
''ہمارے شیعوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ جو شخص لوٹنا چاہے وہ خوشی سے الگ ہوجائے، ہمیں کوئی شکایت نہیں ۔''

اس پر بے شمار لوگ جو راستہ میں آپ کے ساتھ ہوگئے تھے، الگ ہوگئے اور صرف وہی وفا شعار جاں نثار ساتھ رہے جو مدینہ سے آپؓ کے ساتھ آئے تھے۔ بطن عقبہ پر آپ کو پھر واپسی کی ترغیب دی گئی مگر آپ نے فرمایا: ''خدا کے حکم کے خلاف نہیں کیاجاسکتا۔''

خونیں سال کی ابتدا
جب آپ شراف میں پہنچے تو محرم ۶۱ہجری کا خونیں سال شروع ہوا اور اسی مقام پر حُر بن یزید تمیمی ایک ہزار سواروں کے ساتھ آپؓ کے مقابل آٹھہرا۔ نمازِ ظہر کے وقت آپ نے حُر کے لشکر کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا کہ
''میں تمہاری دعوت اور عہدوپیمان کے مطابق یہاں آیا ہوں ۔ میرے پاس اس مضمون کے تمہارے خطوط اور قاصد آئے کہ ہمارا کوئی امام نہیں ۔ آپ آئیے شائد خدا آپ ہی کے ذریعے ہمیں سیدھے رستہ پر لگا دے۔چنانچہ اب میں آگیا ہوں ، اگر تم لوگ میرے ساتھ پختہ وعدہ کرکے مجھے یقین دلا دو تو میں تمہارے شہر میں چلوں ۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے اور تمہیں ہمارا آنا ناپسند ہو تو میں جہاں سے آیا ہوں ، وہیں لوٹ جاؤں ۔''

نمازِ عصر کے بعد آپ نے پھر اسی مضمون کی تقریر کی تو حُر نے جواب دیا کہ ہمارا خط لکھنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ ہم ابن زیاد کے سپاہی ہیں اور ہمیں یہ حکم ہے کہ ہم آپ کے ساتھ لگے رہیں یہاں تک کہ کوفہ میں آپ کو ابن زیاد کے پاس پہنچا دیں ۔ اس موقع پر سیدنا حسین ؓ نے قافلہ اہل بیت کو واپس لوٹانا چاہا مگر حُر نے راستہ روک لیا۔ آپؓ مدینہ طیبہ کی طرف جانا چاہتے تھے مگر حر چاہتا تھا کہ آپ کو کوفہ لے جایا جائے۔ مزید گفتگو کے بعد حُر نے یہ اجازت دی کہ اگر آپ کوفہ نہیں جانا چاہتے تو آپ ایسا راستہ اختیار کریں جو نہ کوفہ کو جائے اور نہ مدینہ کو۔ اسی دوران میں مَیں ابن زیاد کو لکھتا ہوں اور آپ یزیدکو لکھیں ، ممکن ہے عافیت کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔ اس قرار داد کے بعد آپ ایک ایسے راستے پر روانہ ہوئے جس کی آخری المناک منزل کربلا تھی۔

میدانِ کرب و بلا از واقعۂ شہادت سیدناحسین ؓ
ابن زیاد کی طرف سے حُر کوحکم دیا گیاکہ قافلہ اہل بیت کو ایک ایسے میدان میں گھیر کر لے جاؤ جہاں کوئی قلعہ اور پانی کا چشمہ نہ ہو۔ اس حکم کے بعدحُـرّ نے مزاحمت کی۔ یہ ۲ محرم ۶۱ہجری کا واقعہ ہے کہ قافلۂ اہل بیت اپنے آخری مستقر یعنی نینوا کے میدان کرب و بلا میں خیمہ زن ہوگیا۔ زہیر بن قیسؓ نے کہا: یا ابن رسول اللہؐ! آئندہ جو وقت آئے گا، وہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگا۔ ابھی لڑنا آسان ہے، اس دستہ کے بعد جو فوجیں آئیں گی، ہم اُن کے ساتھ لڑ نہ سکیں گے، لیکن اس مجسمۂ ؓ شرافت و ایثار نے جواب میں فرمایا کہ ''میں اپنی طرف سے لڑائی کی ابتدا نہ کروں گا۔''

۳ محرم ۶۱ہجری کو عمرو بن سعد چار ہزار فوج کے ساتھ آپ کے مقابل آکھڑا ہوا۔ عمروبن سعد نے قرہ بن سعد حنظلی کو ملاقات کے لئے بھیجا تو سیدنا حسینؓ نے فرمایا کہ مجھے تمہارے شہر والوں نے خطوط لکھ کر بلایا ہے، اب اگر میرا آنا تم کو پسند نہ ہو تو میں لوٹ جاتا ہوں ۔

ابن سعد اس جواب سے بہت متاثر ہوا اور تمام واقعہ ابن زیاد کو لکھ کر بھیجا۔ اس نے جواب دیا کہ تم حسینؓ اور اس کے ساتھیوں سے یزید کی بیعت لو۔ اگر وہ بیعت کرلیں تو پھر دیکھا جائے گا۔

اس کے بعد ہی دوسرا حکم یہ پہنچا کہ قافلہ اہل بیت پر پانی بند کردیا جائے۔ اس حکم پر ابن سعد نے پانچ سو سواروں کا ایک دستہ دریاے فرات پر پانی روکنے کے لئے متعین کردیا۔ اس دستہ نے ساتویں محرم سے پانی روک دیا۔ عبداللہ بن ابو حسین شامی نے سیدنا حسینؓ سے مخاطب ہوکر کہا: حسینؓ پانی دیکھتے ہو، کیسا آسمان کے جگر کی طرح جھلک رہا ہے ،لیکن خدا کی قسم تمہیں ایک قطرہ بھی نہیں مل سکتا، تم اسی طرح پیاسے مروگے!جب لشکر ِحسین ؓ پر پیاس کا غلبہ ہوا تو حضرت حسین ؓ کے سوتیلے بھائی حضرت عباس بن علی بیس سواروں اور بیس پیادہ افراد کے ساتھ گئے اور پانچ سو شامیوں کا مقابلہ کرکے پانی کی مشکیں لے آئے۔
رات کے وقت ابن سعد اور سیدنا حسین ؓ کے درمیان بڑی دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ روایت ہے کہ سیدنا حسین ؓ نے تین تجویزیں پیش کیں :
اوّل: یہ کہ یزید کے پاس بھیج دیا جائے۔
دوم : واپس جانے کی اجازت دی جائے۔
سوم: کسی سرحدی مقام پربھیج دیا جائے۔

مگر ابن سعد نے منظور نہ کیا۔ اسی دوران ابن زیاد کا دوسرا حکم پہنچا کہ تم حسین ؓ کے سفارشی بنتے ہو، اُ نہیں ڈھیل دیتے ہو، اگر وہ میرا حکم نہیں مانتے تو حملہ کرکے میدان صاف کردو۔ اگر تم اس کے لئے تیار نہیں ہو تو فوج کی کمان ذی الجوشن کے حوالے کردو۔
اس کے بعد ۹ محرم کو عصر کے وقت اس نے فوج کو تیاری کا حکم دے دیا۔ حضرت حسین ؓ نے فرمایا کہ میں نماز و دعا کے لئے ایک رات کی اجازت چاہتا ہوں ۔
رات کے وقت حضرت حسین ؓ نے اپنے ساتھیوں کو ایک دردناک خطبہ دیا۔ آپؓ نے فرمایا:
''الٰہی! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمارے گھرانے کو نبوت سے مشرف فرمایا اور دین کی سمجھ اور قرآن کا فہم عطا فرمایا۔ لوگو! میں نہیں جانتا کہ آج روے زمین پرمیرے ساتھیوں سے افضل اور بہتر لوگ بھی موجود ہیں یا میرے اہل بیت سے زیادہ ہمدرد و غمگسار کسی کے اہل بیت ہیں ۔ اے لوگو! خدا تمہیں جزاے خیر دے۔ کل میرا اور اُن کا فیصلہ ہوجائے گا۔ غوروفکر کے بعد میری رائے ہے کہ رات کے اندھیرے میں تم سب خاموشی سے نکل جاؤ اور میرے اہل بیت کو ساتھ لے جاؤ۔ میں خوشی سے تمہیں رخصت کرتا ہوں ۔ مجھے کوئی شکایت نہ ہوگی۔ یہ لوگ صرف مجھے چاہتے ہیں اور میری جان لے کر تم سے غافل ہوجائیں گے۔''

حضرت سیدنا حسین ؓ کے ان الفاظ سے اہل بیت فرطِ بے قراری سے تڑپ اُٹھے اور سب نے بالاتفاق آپ سے وفاداری اور جاں نثاری کا عہد کیا۔ جب وفاداروں کی گرم جوشیاں ختم ہوئیں تو نماز کے لئے صفیں آراستہ کی گئیں ۔ سیدنا حسین ؓ اور ان کے رفقا ساری رات نماز، استغفار، تلاوتِ قرآن،دعا و تضرع میں مشغول رہے اور دشمن کے تیغ بکف سوار رات بھر لشکر حسینؓ کے گر چکر لگاتے رہے۔

10 محرم 61 ہجری کوجمعہ کے دن نمازِ فجر کے بعد عمرو بن سعد چار ہزار سواروں کو لے کر نکلا۔ حضرت حسین ؓ نے بھی اپنے اصحاب کی صفیں قائم کیں ۔ لشکر حسینؓ محض گنتی کے سواروں اور چند پیدل افراد پر مشتمل تھا۔

سیدنا حسین ؓ کا دردناک خطبہ
جب دشمن کی فوج نے پیش قدمی کی تو اس مجسمۂ ایثار و قربانی اور صبر واستقامت کے پیکر نے ان کے سامنے بہ آوازِ بلند مندرجہ ذیل خطبہ ارشاد فرمایا:
''لوگو! میرا حسب نسب یاد کرو۔ سوچو! میں کون ہوں ۔ پھراپنے گریبانوں میں نظر ڈالو اور اپنے ضمیر کا محاسبہ کرو۔ کیا تمہارے لئے مجھے قتل کرنا اور میری حرمت کا رشتہ توڑنا جائز ہے؟ کیا میں تمہارے نبیؐ کی لڑکی کا بیٹا، ان کے چچیرے بھائی علی ؓ کا فرزند نہیں ہوں ۔ کیا سید ِشہدا حمزہؓ میرے باپ کے چچا نہیں تھے۔ کیا ذوالجناحین جعفر طیارؓ میرے چچا نہیں ؟ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے اور میرے بھائی کے حق میں یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا:
سیدا شباب أهل الجنة (جوانانِ جنت کے سردار)
اگر میرا بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے، کیونکہ واللہ میں نے ہوش سنبھالنے سے لے کر اب تک جھوٹ نہیں بولا تو بتاؤ کیا تمہیں برہنہ تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا چاہئے؟ کیا یہ بات بھی تمہیں میرا خون بہانے سے نہیں روک سکتی؟ واللہ اس وقت روے زمین پر بجز میرے، کسی نبی کی لڑکی کا بیٹا موجود نہیں ۔ میں تمہارے نبیؐ کا بلا واسطہ نواسہ ہوں ۔ کیا تم مجھے اس لئے ہلاک کرنا چاہتے ہو کہ میں نے کسی کی جان لی ہے؟ کسی کا خون بہایا ہے؟ کسی کا مال چھینا ہے۔ کہو کیا بات ہے... آخر میرا قصور کیا ہے؟''
آپؓ نے بار بار پوچھا مگر کسی نے جواب نہ دیا پھر آپ نے بڑے بڑے کوفیوں کو نام لے کر کر پکارنا شروع کیا: اے شیث بن ربیع! اے حجار بن بجر! اے قیس بن اشعث! اے یزید بن حارث! کیا تم نے مجھے نہیں لکھا تھا کہ پھل پک گئے ، زمین سرسبز ہوگئی، نہریں اُبل پڑیں ۔ اگر آپ آئیں گے تو اپنی جرار فوج کے پاس آئیں گے سو جلد آ جائیے۔
اس پر اُن لوگوں نے انکار کیا تو آپؓ نے چلا کر کہا : واللہ! تم ہی نے لکھا تھا۔ آخر میں آپ نے کہا: اگر مجھے پسند نہیں کرتے تو چھوڑ دو میں یہاں سے واپس چلا جاتا ہوں ۔
قیس بن اشعث نے کہا: آپ اپنے آپ کو اپنے عم زادوں کے حوالے کردیں ۔ اس کے جواب میں آپؓ نے فرمایا: واللہ! میں ذلت کے ساتھ کبھی اپنے آپ کو اُن کے حوالے نہیں کروں گا۔''
جس وقت ابن سعد نے فوج کو حرکت دی تو حُر اُن سے کٹ کر علیحدہ ہونے لگا تو مہاجر بن اوس نے اس سے کہا: مجھے تمہاری حالت مشتبہ معلوم ہوتی ہے۔ حُر نے سنجیدگی سے جواب دیا: خدا کی قسم! میں جنت یا دوزخ کا انتخاب کررہا ہوں ۔ بخدا میں نے جنت منتخب کرلی ہے۔ یہ کہا اور گھوڑے کو ایڑ لگا لشکرحسینؓ میں پہنچ گیا اور نہایت عاجزی اور انکساری سے معافی کا خواستگار ہوا، آپؓ نے اُسے معاف فرما دیا۔

جنگ کی ابتدا
اس واقعہ کے بعد عمرو بن سعد نے کمان اُٹھائی اور لشکر ِحسین ؓ کی طرف یہ کہہ کر تیر پھینکا کہ گواہ رہو، سب سے پہلا تیر میں نے چلایا ہے۔
مختصر سی مبارزت طلبی کے بعد عمرو بن سعد کی فوج لشکر حسین ؓ پر ٹوٹ پڑی۔ ہر طرف جنگ کا میدان گرم ہوگیا اور خون کے فوارے اُبلنے لگے۔ سیدنا حسین ؓ کے شیردل سپاہی جس طرف رخ کرتے، صفوں کو اُلٹ دیتے تھے۔ مگر کثیر تعداد دشمن ذرا سی دیر میں پھر ہجوم کر آتا تھا۔ چند گھنٹوں میں لشکر ِحسین ؓ کے بڑے بڑے نامور بہادر مسلم بن عوسجہ، حُر اور حبیب بن مظاہر شہید ہوگئے۔ جب دشمن کے سپاہی سیدنا حسین ؓ کے قریب پہنچے تو نماز کا وقت قریب تھا۔آپ نے ابوثمامہ سے فرمایا: دشمنوں سے کہو کہ ہمیں نماز کی مہلت دیں ۔ مگر دشمن نے یہ درخواست منظور نہ کی اور لڑائی بدستور جاری رہی۔

اہل بیت کو صبر کی تلقین
سیدنا حسین ؓ کے سب رفقا یکے بعد دیگرے شہید ہوچکے تو بنی ہاشم خاندانِ نبوت کی باری آئی۔ سب سے پہلے علی اکبر ؓ شہید ہوئے۔ حضرت حسین ؓ نے علی اکبرؓ کی لاش اُٹھائی اور خیمہ کے پاس رکھ دی۔ اس کے بعد حضرت حسین ؓ میدانِ جنگ سے قاسم بن حسن ؓ کی لاش اُٹھا کر خیمہ کے پاس لائے اور علی اکبرؓ کی میت کے پہلو میں لٹا دیا۔ اہل بیت کے رونے کی آواز آپ کو سنائی دی تو آپ نے اہل بیت کو مخاطب کرکے فرمایا:
صبرًا یا أهل بیتي صبرًا یا بني عمومي لأریتم ھوانًا بعد ذلك
'' اے اہل بیت! صبر کرو۔ اے میرے چچا کی اولاد! صبر کرو۔ اس کے بعد کوئی تکلیف نہ دیکھو گے۔''
جس وقت عبداللہ بن حسن ؓ نے اپنے چچا سیدنا حسین ؓ پر دشمن کو وار کرتے دیکھا تو اُس پیکر وفا نے لپک کر اپنے ہاتھ پر تلوار کے وار کو روکا، اس کا دایاں بازو شانے سے کٹ کر جدا ہوگیا۔ سیدنا حسین ؓ نے اپنے نوجوان بھتیجے کو چھاتی سے لگایا اور فرمایا:
اصبر علی ما نزل بك واحتسب في ذلك الخیر فإن اﷲ تعالیٰ یُلحقك بآبائك الصّٰلحین
''اے بھتیجے! جو مصیبت اس وقت تم پر آئی ہے، اس پر صبر کرو اور ثواب کے اُمیدوار رہو۔ بہت جلد خدا تجھے تیرے صالح باپ دادا سے ملا دے گا۔''

ایک شیرخوار بچے کی شہادت
اس کے بعد سیدنا حسین ؓ کا صاحبزادہ علی اصغر رحمة اللہ علیہ جب شدتِ پیاس سے تڑپنے لگا تو آپ اس کو گود میں اُٹھا کر لائے اور دشمنوں کو مخاطب کرکے فرمایا:
''تمہیں مجھ سے تو عداوت ہوسکتی ہے، لیکن اس معصوم بچے کے ساتھ تمہیں کیا دشمنی ہے؟ اس کو تو پانی دو کہ شدتِ پیاس سے دم توڑ رہا ہے۔''
اس کے جواب میں دشمن کی طرف سے ایک تیر آیا جو اس بچے کے حلق میں پیوست ہوگیا اور وہ معصوم وہیں جاں بحق ہوگیا۔ حضرت حسین ؓ نے اس قدر ہوشربا سانحہ پر بھی کمالِ صبر وسکون کا مظاہرہ کیا یعنی اس کے خون سے چلو بھر کر آسمان کی طرف پھینکا اور فرمایا:
اللھم ھوِّن علی ما نَزَل به إنه لایکون أھون علیك من قتل ناقةِ صالح
یا اللہ! جومصیبت اس وقت اس پرنازل ہے، اس کو تو آسان کر۔ مجھے اُمید ہے کہ اس معصوم بچے کا خون تیرے نزدیک حضرت صالح کی اونٹنی سے کم نہیں ہوگا۔

نواسہ ٔ ؓ رسولﷺ کا بے مثال صبر و استقلال
جب اہل بیت ایک ایک کرکے شہید ہوئے تو حضرت سید ِشہدا کی باری آئی اور دشمن کی تلواریں نواسۂ رسولؐ کے جسم اطہر پر ٹوٹ پڑیں ۔ آپ نے نہایت صبرو استقامت سے دشمنوں کے حملوں کا مقابلہ کیا۔ بے شمار دشمنوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ تن تنہا ہزاروں کا مقابلہ کررہے تھے۔ شدتِ پیاس سے زبان سوکھ کر کانٹا ہوچکی تھی، تین روز سے پانی کی ایک بوند لبوں تک نہ پہنچی تھی، اوپر سے جھلسا دینے والی دھوپ، نیچے سے تپتی ہوئی ریت، عرب کی گرمی موسم کی سختی اور بادِ سموم کا زور۔ ریت کے ذرّوں کی پرواز جو چنگاریاں بن کر جسم سے لپٹتے تھے۔ حضرت سعد بن وقاصؓ (فاتح ایران) کا بدنہاد بیٹا حکومت کے لالچ سے اندھا ہوکر اَب خاندانِ رسالت کے آخری چراغ حضرت حسین ؓ کی شمع حیات کوبھی بجھانے کیلئے بے تاب نظر آرہا ہے۔ آپؓ کے جسم اطہر میں تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے ۸۰ زخم پڑچکے تھے۔ تمام بدن چھلنی بنا ہوا تھا مگر آپؓ پھر بھی نہایت شجاعت اور ثابت قدمی سے دشمن کا مقابلہ کررہے تھے۔

شمر بن ذی الجوشن حضرت حسین ؓ کی پامردی اور استقامت دیکھ کر بہت حیران و سراسیمہ ہوگیا اور اس نے سیدنا حسین ؓ کی توجہ میدانِ جنگ سے ہٹانے کیلئے یہ چال چلی کہ فوج سے ایک دستہ علیحدہ کرکے اہل بیت کے خیموں کا محاصرہ کرلیا، اس پر آپؓ نے جھلا کر فرمایا:
''اے لوگو شرم کرو! تمہاری لڑائی مجھ سے ہے یا بے کس و بے قصور عورتوں سے ۔کم بختو! کم از کم میری زندگی میں تو اپنے گھوڑوں کی باگیں اِدھر نہ بڑھاؤ۔''

شمر نابکار نے شرمندہ ہوکر خیمہ اہل بیت سے محاصرہ اُٹھا لیا اور حکم دیا کہ آخری ہلہ بول دو۔ آخر پوری کی پوری فوج درندوں کی طرح سیدنا حسین ؓ پرٹوٹ پڑی۔ آپؓ صفوں کو چیرتے ہوئے فرات پر پہنچ گئے اور یہ کہہ کر گھوڑے کو دریا میں ڈال دیا کہ میں بھی پیاسا ہوں اور تو بھی پیاسا ہے ۔ جب تک تو اپنی پیاس نہ بجھائے گا، میں پانی کو ہاتھ نہ لگاؤں گا۔ گھوڑا پانی پی چکا تو آپؓ نے پینے کے لئے پانی چلو میں لیا اور چاہتے تھے کہ اس سے اپنا حلق تر کریں کہ یکایک ایک تیر سامنے سے آکر لب ہائے مبارک میں پیوست ہوگیا۔ آپ نے پانی ہاتھ سے پھینک دیا، تیر کھینچ کر نکالا اور منہ خون سے لبریز ہوگیا۔ آپ خون کی کلیاں کرتے ہوئے باہر نکلے اور فرمایا:
''بارِ الٰہا! تو دیکھ رہا ہے کہ یہ لوگ تیرے رسولؐ کے نواسے پرکیا کیا ظلم کررہے ہیں ۔''

اتنے میں آوازآئی کہ ''حسینؓ دور نکل گئے اور اہل بیت کی بھی خبر نہ رہی۔'' یہ آواز سنتے ہی سرعت سے آپ خیموں کی طرف پلٹے۔ راستہ میں دشمنوں کے پَرے کے پَرے لگے کھڑے تھے۔ آپ اُنہیں چیرتے ہوئے خیموں میں پہنچ گئے۔ حضرت حسین ؓ کو مجروح اور خون میں شرابور دیکھ کر خیموں میں کہرام مچ گیا۔ آپ نے اُنہیں صبر کی تلقین کی اور باہر نکل آئے ایک تیر آپ کی پیشانی پر لگا جس سے سارا چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا۔ چند لمحوں کے بعد ایک تیر سینہ اطہر میں آکر پیوست ہوگیا جس کے کھینچتے ہی ایک خون کا فوارہ جاری ہوگیا۔ آپؓ نے اس خون کو اپنے چہرہ پر مل لیا اور فرمایا کہ اسی حالت میں اپنے جدامجد رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤں گا۔

'جنت کے نوجوانوں کے سردار' کی شہادت
طاقت جواب دے چکی تھی، چاروں طرف سے تلواروں اور نیزوں کی بارش ہورہی تھی۔ آپؓ گھوڑے پر نہ سنبھل سکے ۔ تپتی ہوئی ریت پرگر پڑے۔ دشمن اگر چاہتا تو آپؓ کو اس سے بہت پہلے شہید کردیتا مگر کوئی شخص نبیرۂ رسول کا خون اپنے ذمہ نہیں لینا چاہتا تھا۔ اب شمر بن ذی الجوشن چلایا اور زرعہ ابن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ کے دائیں ہاتھ کو زخمی کیا پھر شانہ پر تلوار ماری۔ آپ ضعف سے لڑکھڑائے تو سنان بن انس نخنی نے آگے بڑھ کر نیزہ مارا اور آپ بے ہوش ہوکر گرپڑے۔

آپ کے لئے جنت الفردوس کے تمام دروازے کھل چکے تھے۔ حورانِ فردوس آپ کو فردوس کے جھونکوں سے جھانک رہی تھیں ۔ حاملانِ عرش آپ کی آمد کے منتظر تھے۔ صالحین، صدیقین اور انبیاے علیہم السلام کی روحیں استقبالِ نواسۂ سرورِ انبیائ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار تھیں ۔ ملاے اعلیٰ میں ایک شور برپا تھا، جنت کی تزئیں و آرائش کی جارہی تھی کہ جوانانِ جنت کا سردار آنے والا ہے۔ آپ نے وفورِ انتشار حواس میں کروٹ بدلی اور آنکھ کھول کر دیکھا تو نمازِ عصر کا وقت تھا۔ فوراً سرسجدے میں جھک گیا اور نمازِ عصر ادا کی۔ اس کے بعد شمر نے حکم دیا کہ سرکاٹ لو۔ مگر اس وقت بھی آپؓ کے چہرہ پررعب و جلال کی یہ کیفیت تھی کہ کسی کو سرکاٹنے کی جراء ت نہ ہوئی۔ شیث بن ربیع آگے بڑھا مگر اس پر بھی ہیبت و رعب طاری ہوگیا، اس کے بعد سنان بن انس آگے بڑھا، اس کی بھی یہی حالت ہوئی۔ آخر شمر دوڑ کر آپ کے سینہ اطہر پر سوار ہوگیا اور جسم اوندھا کرکے سرتن سے جدا کردیا۔ دنیا نے شقاوت، ظلم اور بربریت کے بہت سے مناظر دیکھے ہوں گے، لیکن ایسا خوفناک سانحہ نہ دیکھا اور نہ دیکھے گی۔ إنا ﷲ وإنا إلیه راجعون!

سیدنا حسین ؓکا جسد ِمبارک
ابن زیاد نے عمرو بن سعد کو حکم دیا تھا کہ حسین ؓ کی لاش کو گھوڑوں کے ٹاپوں سے روند ڈالے۔ اب یہ تقدیر بھی حضرت حسین ؓ کے بدنِ مبارک پر پوری ہوئی۔ دس سواروں نے گھوڑے دوڑا کر آپ کے جسم اطہر کو روند ڈالا۔ آہ! یہ وہ جسم مبارک تھا جس کو پیغمبر الٰہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کی پیاری بیٹی فاطمتہ الزہرا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ اُٹھائے اُٹھائے پھرتے۔ یہی وہ جسم تھا، جس کو سرورِکائنات کی پشت ِمبارک اور کندھوں پر سواری کا شرف نصیب ہوا۔ یہی جسم زخموں سے چور، خون میں شرابور، میدانِ کربلا میں گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندا جارہا ہے۔ فاعتبروا یا أولي الأبصار!

اس جنگ میں حضرت حسینؓ کے 72 اور کوفیوں کے 88 آدمی مقتول ہوئے۔ اس شقاوت اور قساوت کے مظاہرے کے بعد کوفیوں نے وحشت اور بربریت کا اس طرح مظاہرہ کیاکہ پروگیانِ عفاف کے خیموں میں گھس کر لوٹ گھسوٹ شروع کردی۔ خواتین کے سروں سے چادریں اُتار لی گئیں ۔ غور کیجئے کہ اس بے کسی کے عالم میں ان نبی زادیوں کے قلوب کا کیا حال ہوگا۔ مگر یہ سب کچھ انہوں نے کمالِ صبر وتشکر سے برداشت کیا۔

شہداے کربلا کے سر نیزوں پر
سلسلۂ حرب و ضرب اور جدال و قتال کے بعد عمرو بن سعد نے اپنی فوج کو آرام کرنے کا حکم دیا۔ کیونکہ مظاہر ِشقاوت سے وہ تھک چکے تھے۔ دوسرے دن مقتول کوفیوں کی لاشیں عمرو بن سعد نے نماز ِجنازہ پڑھ کر دفن کرا دیں مگر شہدا کی لاشیں ویسے ہی چھوڑدیں جنہیں بعد میں قریبی آبادی کے لوگوں نے سپردِ خاک کیا۔ سہ پہر کو عمرو بن سعد نے ۷۲ شہدائے اہل بیت کے کٹے ہوئے سر مختلف قبائل کے سرداروں کو علی قدرِ مراتب دو دو، چار چار اور چھ چھ تقسیم کئے جن کو اُنہوں نے نیزوں پر چڑھا لیا اور بڑے تزک و احتشام کے ساتھ یہ لشکر فتح و ظفر کے شادیانے بجاتا ہوا چھید ہوئے سروں کو آگے آگے لئے ہوئے روانہ ہوا۔ ان سروں کے حلقے میں اہل بیت کی خواتین بھی تھیں جنہیں اونٹوں پر سوار کیا گیاتھا۔

قافلۂ مظلوم کا کوفہ میں ورود اور اہل کوفہ کا ماتم وشیون
12؍ محرم کو یہ قافلہ کوفہ میں پہنچا۔ کوفہ کے لوگ اس جلوس کو دیکھنے کے لئے سڑکوں ، چھتوں اور گلیوں پر جمع ہوگئے اور شہدا کے سروں کو نیزوں پردیکھ کر اس طرح رونا پیٹنا شروع کردیا ۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خطوط بھیج کر خدا کے واسطے دے کر اپنی اطاعت کا یقین دلا کر سیدناحسین ؓکو بلایا اور جب آپ پہنچ گئے تو روپے پیسے کے لالچ میں آکر حضرت حسین ؓ کی بیعت سے منحرف ہوگئے اور ابن زیاد کی فوج میں شامل ہوگئے اور خاندانِ نبوت کا خاتمہ کردیا۔یہ وہی بزدل اور بے وفا کوفی تھیجو خود چین وا طمینان سے اپنے گھروں میں بیٹھے رہے اور ان سے صرف 10 فرسخ کے فاصلہ پر میدانِ کربلا میں چمنِ رسالت اپنے ہی کے فرزندں کے ہاتھوں پامال اور تباہ و برباد ہوا۔
آج جو حضرات ہر سال ماہِ محرم میں ماتم کرتے ہیں ، یہ انہی کوفیوں کے ماتم کی نقل ہے۔ جنہوں نے اپنی شقاوت و ظلم کے خونیں داغ دھونے کے لئے پیٹنا شروع کردیا تھا۔

ابن زیاد کا دربار
ابن زیاد نے اظہارِ مسرت کے طور پر ایک دربار منعقد کیا۔ تمام قیدی سامنے کھڑے کردیے گئے اور سیدنا حسین ؓ کا سر ایک طشت میں رکھ کر اس کے سامنے لایا گیا۔ اس بدبخت نے دندان مبارک پر قمچی مار مار کر کہنا شروع کیا: کیا یہی وہ منہ ہے جس سے تم نے خلافت کا دعویٰ کیا تھا؟ اس وقت حضرت انسؓ سے ضبط نہ ہوسکا، کھڑے ہو کر فرمایا: بے ادب، گستاخ! اپنی قمچی کو ہٹا، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے وہ اُنہیں چومتے اور پیار کرتے تھے۔ حضرت زید بن ارقمؓ نے بھی اِنہیں الفاظ کا اعادہ کیا اور ابن زیاد کو اس حرکت سے ڈانٹا۔
ابن زیاد یہ الفاظ اور ڈانٹ سن کر آگ بگولا ہوگیا اور یہ کہہ کر اسی وقت حضرت انسؓ اور زید بن ارقمؓ کو دربار سے نکلوا دیا کہ ''تمہاری صحابیت اور بڑھاپے پر رحم کرتا ہوں ، ورنہ ابھی مروا ڈالتا۔ وہ یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے کہ تو وہ لعین ہے کہ ''جب تو نے فرزند رسولؐ کو شہید کروا دیا تو ہماری ہستی کیا ہے؟''
اس کے بعد ابن زیاد نے اس کامیابی پر کھڑے ہوکر خدا کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ کا احسان ہے جس نے ہمیں فتح عطا کی اور ہمارے دشمنوں کو تنگی اور مصیبت میں گرفتار کیا۔
حضرت زینبؓ نے فرمایا : خدا کا احسان ہے جس نے ہمیں خاندانِ نبوت میں پیدا کرکے شرف و بزرگی عطا فرمائی۔
ابن زیاد بولاکہ ''دیکھو لو اپنے بھائی کا انجام جس نے اسے خاک میں ملا دیا۔ یہ ہے اس کی قدرتِ جلیلہ۔'' اس کے جواب میں حضرت زین العابدینؓ نے یہ آیت ِکریمہ تلاوت کی
قُل لَّوْ كُنتُمْ فِى بُيُوتِكُمْ لَبَرَ‌زَ ٱلَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ ٱلْقَتْلُ إِلَىٰ مَضَاجِعِهِمْ ۖ...﴿١٥٤﴾...سورة آل عمران
پھر کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارا اور تمہارا معاملہ احکم الحاکمین کے سامنے پیش ہوگا۔
ابن زیاد نے جھلا کر پوچھا: یہ کون ہے؟ جب معلوم ہوا کہ حضرت حسین ؓ کا فرزند ہے تو فوراً حکم دے دیا کہ اسے قتل کردیا جائے۔ پھر بولا: میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ نسلِ حسین سے کوئی اولادِ ذکور باقی نہ رکھی جائے۔
اس حکم پرحضرت زینبؓ تڑپ گئیں اور فرمایا: ''بدبخت ! کیا نسلِ محمدیؐ کو دنیا سے ناپید کرنا چاہتا ہے۔'' اس کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر دعا کی کہ یاالہٰا! تیرے رسول کا سب خاندان ان ظالموں کے ہاتھوں برباد ہوچکا۔ تیرے رسول کا نواسہ انتہائی مصائب اُٹھا کر شہید ہوگیا اور اب یہ شقی تیرے رسول کی نسل ہی قطع کرنے کے درپے ہے۔ فریاد ہے اے بے کسوں کے وارث! فریاد ہے۔ اپنی بندی کی سن اور اپنے رسولؐ کی نسل قائم رکھ!
اس دعا میں کچھ ایسا درد تھا کہ فوراً قبول ہوگئی اور ابن زیاد نے اپنا حکم واپس لے لیا۔

یزید کا دربار
تیسرے روز ابن زیاد نے شمر کی نگرانی میں ایک دستہ فوج کے ساتھ حضرت حسین ؓ کے سرمبارک اور اہل بیت کو یزید کے پاس دمشق بھیج دیا۔
یزید نے میدانِ کربلا کے واقعات سنے تو روپڑا اور کہنے لگا: خدا ابن زیاد پر لعنت کرے۔ خدا کی قسم! اگر میں وہاں ہوتا تو حسین ؓ سے ضرور درگزر کرتا۔ اللہ تعالیٰ حسینؓ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ 8
شام کے وقت یزید نے اہل بیت کو اپنے سرداروں کی مجلس میں بلایا اور مشورہ کیا۔ نعمان بن بشیر نے کہا: ان کیساتھ وہی سلوک کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اس حال میں دیکھ کرکرتے۔
حضرت فاطمہ بنت حسین ؓ نے کہا: اے یزید! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں ہیں ۔ اس نسبت کے ذکر سے یزید اور اسکے درباری متاثر ہوئے اور انکی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو بہہ نکلے۔
اسی اثنا میں واقعات کی خبر یزیدکے حرم سرا میں پہنچی اور یزید کی بیوی ہند بنت عبداللہ منہ پرنقاب ڈال کر باہر آئی اور کہا: امیرالمومنین کیا حسین بن فاطمہؓ بنت ِرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر آیا ہے ؟ یزید نے کہا: ہاں ! تم خوب روؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے اور قریش کے اصیل پر ماتم کرو، بین کرو،ابن زیاد نے بہت جلدی کی کہ اُنہیں قتل کرڈالا۔ خدا اسے بھی قتل کرے!جب اہل بیت کی خواتین یزید کے محل میں پہنچائی گئیں تو خاندانِ معاویہؓ کی خواتین نے اُنہیں دیکھ کر بے اختیار رونا پیٹنا شروع کردیا۔چند روز کے بعد یزید نے اہل بیت کو مدینہ کی طرف رخصت کیا۔ محافظ نے راستہ میں اس مصیبت زدہ قافلہ سے بہت اچھا برتاؤ کیا جب منزلِ مقصود پر پہنچے تو حضرت زینبؓ بنت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ بنت ِحسینؓ نے اپنی چوڑیاں اور کنگن اسے بھیجا اور کہا یہ تمہاری نیکی کا بدلہ ہے ہمارے پاس ا س کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہیں دیں ۔محافظ نے زیور واپس کردیئے اور کہا ۔ واللہ! میرا یہ برتاؤ کسی دنیوی طمع سے نہیں تھا۔ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پاسداری مقصود تھی۔ یہ مظلوم قافلہ جب مدینہ میں پہنچاتو تمام شہر پر افسردگی اور مایوسی چھا گئی ۔ بنی ہاشم کے لوگ زاروقطار رونے لگے مگر بجزصبر و شکر کے کیا چارہ تھا۔ اور سواے انا ﷲ وانا الیہ راجعون کہنے کے اور کیا ہوسکتا تھا؟

ظلم کا انتقام
یزید، ابن زیاد، عمرو بن سعد، شمر اور دیگر ظالموں نے ظلم کا خمیازہ اسی دنیا میں بہت جلد بھگتا۔ یزیدنے دردِ قولنج میں تڑپ تڑپ کر 39 سال کی عمر میں جان دی، اس نے اپنے بیٹے معاویہ کو آخری وقت میں وصیت کے لئے بلایا مگر اس نے خلیفہ بننے سے صاف انکارکردیا۔مختار ثقفی نے قوت پکڑ کر اہل بیت ِرسولؐ کے قاتلوں کو چن چن کر قتل کیا۔ ان ہی میں عمرو بن سعد، شمر اور دیگر ہزارہا اشقیا قتل ہوئے۔ آخر میں ابن زیاد کا سرطشت میں رکھ کر اسی محل میں مختار ثقفی کے سامنے پیش کیا گیا جس میں سیدنا حسین ؓ کا سر ابن زیاد کے سامنے لایا گیا تھا۔مختار ثقفی کے بعد مصعب بن زبیرؓ نے رہے سہے ظالموں کو بھی موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

قتل حسینؓ اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد


برادرانِ اسلام
سیدنا حسین ؓ کی حیاتِ طیبہ پر غور کیجئے کہ اُنہوں نے کس صبرواستقلال،اولوالعزمی اور جوانمردی سے دنیا کے سخت سے سخت مصائب و نوائب کا مقابلہ کیا۔ آخری دم تک حوصلہ نہ چھوڑا۔ قیامِ عدل وانصاف اور حصولِ آزادی کے لئے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے عزیزوں کو خاک و خون میں تڑپتے دیکھا اور آخر خود بھی جامِ شہادت نوش کیا۔ آخر وقت میں بھی نماز کو ادا کیا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہے۔
اے جوانانِ ملت! سیدناحسین رضی اللہ تعالے عنہ کی یہ عظیم الشان شہادت ہمارے لئے ایک دائمی اُسوہ حسنہ ہے۔ وہ اس مظلومیت کے علمبردار ہیں جس سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مرصع ہے۔ جب بھی فرزندانِ اسلام پرظلم و استبداد اور غلامی کا ابر ِ غلیظ مسلط ہوگا۔ حضرت سیدنا حسین ؓ کا اُسوہ حسنہ رہنمائی کرے گا۔
کاش!اہل بیت کی خصوصی محبت کا دم بھرنے والے ماتم اور تعزیہ وغیرہ مشرکانہ بدعات چھوڑ کر حضرت حسین ؓ کی عظیم الشان قربانی کے اصل مقصد پر غور کریں ۔ اللہ تعالیٰ سب کلمہ گو مسلمانوں کو حضرت حسینؓ کے دلیرانہ نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!


حوالہ جات
1. بخاری، مسلم، ابوداؤد ، نسائی
2. صحیح مسلم:104
3. صحیح بخاری:1297
4. صحیح بخاری :1303
5. صحیح بخاری:1284
6. مسنداحمد:1؍237
7. سنن ابن ماجہ:1592
8. ابن جریر کامل، تاریخ کبیر