زندگی میں بعض یادیں صفحۂ قرطاس پر لاتے ہوئے بڑی مشکل پیش آتی ہے، ایسی ہی کیفیت اس وقت میرے دل و دماغ پر بھی طاری ہے ذہن اور جسم تھکے ہوئے اور اعصاب شل ہیں۔ اُستاذِ محترم شیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم صاحب کی محبت و شفقت اور خلوص ہمارے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ تھا۔آپ کو مرحوم لکھتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں۔ آنکھیں پرنم، خیالات منتشر اور بے چینی و پریشانی کے لمحات میں چند صفحات لکھنے کی جستجو کررہا ہوں۔ آپ کا تذکرہ آپ کے صاحب ِعلم و فضل نامور تلامذہ اور ملک کی مایہ ناز ادبی، علمی شخصیات کی زبانی جاری رہے گا،کیونکہ سلف صالحین نے ایک عالم حقیقی کے جو اَوصاف بیان کیے ہیں وہ مولانا میں بدرجہ اتم موجود تھے۔مثال کے طورپر عبد اللہ بن مبارک رحمة اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ علما کی کوئی نشانی ہے؟

تواُنہوں نے جواب دیا کہ ''عالم وہ ہے جو اپنے علم پر عمل کرے اور اپنے علم اور عمل کو تھوڑا سمجھے دوسروں کے علم میں رغبت کرے اور حق جس کی طرف سے بھی اس کے پاس آتاہو، اسے قبول کرے اور جہاںسے بھی اسے علم ملے اسے حاصل کرے۔''

اسی طرح حضرت فضل بن عیاض رحمة اللہ علیہ نے فقیہ کے بارے میں فرمایا:
''إنما الفقیه الذي أنطقته الخشیة وأسکتة الخشیة،إن قال قال بکتاب اﷲ والسنة وإن سکت سکت بالکتاب والسنة، وإن اشتبه علیه وقف عندہ ورَدّ إلی عالمه'' 1
''یقینا فقیہ وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کا خوف گویائی پر آمادہ کرے اور اللہ تعالیٰ کا خوف ہی خاموش کردے۔ اگر وہ بات کرے تو قرآن و سنت کی بات کرے اور اگر خاموش رہے تو قرآن وسنت پر خاموش ہو۔ اگر اس کو کسی مسئلہ میں اشتباہ ہوتو بحث و تمحیص سے رُک جائے اور اسے دوسرے عالم کی طرف لوٹا دے۔''

مذکورہ بالا اوصاف سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے شیخ کو بھی نوازا تھا۔ آپ بیک وقت مدرّس، محقق ،مؤرخ،دانشور ، مبصرونقاد ، جامع المعقول والمنقول اور قادرالکلام متکلم بھی تھے۔ اب آئیے ان کے ابتدائی حالات کی طرف۔ان معلومات کا مصدر وماخذ وہ مواد ہے جو دورانِ تعلیم مختلف مواقع پر راقم خود ان سے پوچھ کر گاہے بگاہے اپنے پاس محفوظ کرتارہاہے ۔

مختصر خاندانی حالات اور ابتدائی تعلیم
یکم جنوری1940ء کو ہمارے اُستاذ نے منڈی عثمان والا ضلع قصور میں جماعت اہلحدیث کے بے باک خطیب و مناظراور سیمابی شخصیت کے مالک، اَحرار کے سر گرم رکن مولانا عبدالرحیم کو ٹلوی بن حاجی قمر دین کے گھرانے میں جنم لیا۔ مولانا عبدالرحیم نے جامعہ محمدیہ لکھوکے ضلع فیروز پور بھارت میں زیر تعلیم رہ کر دینی تعلیم کی تکمیل کی ۔ جب پہلی مرتبہ1929ء میں مولانا محمد علی لکھوی مدینہ منورہ ہجرت کرکے جانے لگے تو مولانا عبدالرحیم بھی ان کے ساتھ ہی تھے۔ اُنہوں نے وہیں مسجدِنبویؐ میں روضة من ریاض الجنة میں صحیحین (صحیح بخاری ، صحیح مسلم) پڑھیں۔فراغت کے بعدمراجعت ہوئی اور منڈی عثما ن والا (روڈے)میں اقامت گزیں ہوگئے اور وہاں کی مرکزی مسجد میں امامت و خطابت اور تدریس کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔ بعد ازاں کھڈیاں خاص اور پتوکی میں بھی دعوت و تبلیغ کا عرصہ دراز تک فریضہ سرانجام دیا، وہیں ان کی وفات ہوئی۔

مولانا عبدالحلیم نے ابتدائی دینی تعلیم اور ناظرہ قرآن وغیرہ تو گھر میں والد ِگرامی سے پڑھا۔ مڈل تک عثمان والا میں زیر تعلیم رہے۔پھر1953ء میں کھڈیاں خاص سے میٹرک کا امتحان اعلیٰ نمبروں میں پاس کیا ۔مرحوم نہایت ذہین وفطین تھے اور ذہانت کی وجہ سے سکول کے تمام اساتذہ ان سے بڑی محبت کرتے۔ آپ کے اساتذہ نے آپ کے والد ِگرامی کو مشورہ دیا کہ آپ کو آگے پڑھنے دیا جائے،مگر آپ کے والد ِ گرامی آپ کو صرف شریعت ِاسلامیہ کی تعلیم کے لیے وقف کرنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے آپ کی ہرطرح نگرانی کی،اخلاق و عادات اور تعلیم کے بارے میں ذراسی سستی اور غفلت بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔

تحصیل علم و تکمیل
محض تیرہ برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ کے والد ِ گرامی نے اُنہیں کالج میں داخل کروانے کی بجائے مدرسہ محمدیہ حفظ القرآن والحدیث(میرمحمد، قصور) میں حضرت حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمدی حفظہ اللہ کی سرپرستی میں داخل کروادیا۔ ایک سال یہیں ترجمة القرآن و دیگر ابتدائی صرف و نحو وغیرہ کی کتب پڑھیں، پھر جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں 1955ء میں داخلہ لے لیا۔ دوسری کلاس کا امتحان ادھر ہی پاس کیااور1956ء میں مدرسہ تقویة الاسلام غزنویہ، لاہورمیں داخلہ لیا اور اپنی باقی دینی تعلیم وہاں مکمل کی۔ دورانِ تعلیم1958ء میں فاضل عربی کا امتحان لاہور بورڈ میں تیسری پوزیشن کے ساتھ پاس کیا۔ یاد رہے کہ اس سال فاضل عربی کے امتحان میں تقریباً 216لڑکوں میں سے صرف ۱۶ لڑکے پاس ہوئے تھے۔ 1959ء میں مدرسہ تقویة الاسلام کے مہتمم، بر صغیر پاک و ہند کے نامور سیاست و مذہبی رہنما سید محمد دائود غزنوی رحمة اللہ علیہ کے دست ِمبارک سے سند ِ فراغت حاصل کی۔ بخاری شریف کی دوبارہ تعلیم کی غرض سے1960ء میں پھر جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں داخلہ لیا اور شرعی تعلیم سے رسمی طور پر فارغ ہوئے۔

اَساتذہ کرام
آپکے اساتذہ میں حافظ محمد یحییٰ عزیز میر محمد ی، مولانا عبدالرشید مجاہد آبادی، مولانا حافظ عبدالرشید گوہڑوی، مولانا شریف اللہ خان سواتی، مولانا محمد خان، حافظ محمد اسحق حسینوی، حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی اور عظیم محدث حافظ محمد (اعظم)گوندلوی رحمة اللہ علیہ جیسی نامور شخصیات شامل ہیں۔

رفقاے درس
مدرسہ تقویة الاسلام(غزنویہ) لاہور اور جامعہ محمد یہ اوکاڑہ میں درسِ بخاری میں آپ کے رفقا میں مولانا محمد رفیق ججھ کلاں والے حال گوجرانوالہ، مولاناماسٹر محمد شریف(ججھ کلاں)اوکاڑہ، مولانا محمد بن عبداللہ شجاع آبادی،مولانا حافظ محمد اسمٰعیل اسد حافظ آبادی ، مولانا محمد اسحق قادر آبادی، مولانا محمد بشیر سیالکوٹی ،حافظ محمد رحمة اللہ علیہ بن مولانا محی الدین لکھوی رحمة اللہ علیہ ، قاری محمد رفیق اوکاڑوی وغیرہ شامل ہیں۔

امامت و خطابت اور تدریسی سرگرمیاں
جامعہ محمدیہ اوکاڑہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد شام کوٹ ضلع قصور کی مرکزی مسجد غربی اہلحدیث میں بطورِ خطیب و مدرس اپنی ذمہ داری کا آغاز کیا ۔پھر1965ء میں شام کوٹ نو میں الگ مسجد ِفردوس اہلحدیث کا سنگ ِ بنیاد رکھا۔ اس میں1965ء تک قرآن وسنت کی تعلیم اور عوام الناس کو وعظ و تذکیرکرتے رہے۔ 1972ء میں جامعہ محمدیہ اوکاڑہ میں فاضل عربی کی تیاری کروانے کے لیے آپ کو مہتمم مدرسہ مولانا معین الدین لکھوی حفظہ اللہ نے اپنے ادارے میں خصوصی مدرّس مقرر کیا۔جامعہ کے طلبہ پر آپ اس قدر محنت کرتے کہ فاضل عربی کے سالانہ امتحان میں طلبہ عموماً سوفیصد نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے ۔یہ محنت تاحال جاری تھی۔ شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ امجد چھتوی حفظہ اللہ کی جامعہ محمد یہ اوکاڑہ سے علیحدگی کے بعد آپ کو 1980ء میں بخاری شریف کی تدریس کی ذمہ داری بھی دے دی گئی جو تادمِ واپسیں آپ نے نباہی ۔اسی طرح خواتین کے مدرسہ تعلیم الصالحات، محلہ دارالسلام اوکاڑہ میں ایک عرصہ تک پڑھاتے رہے۔ بالآخراپنی بیماری کی وجہ سے۵؍جولائی1999ء کو پڑھانے کا سلسلہ ترک کردیا۔ تقریباً گزشتہ تین سالوں سے فجر کی نماز کے بعد گھر میں کچھ نوجوا ن طلبہ جن میں عبد ا لغفور عاصم اور محمد عثمان غنی قابل ذکر ہیں، بخاری شریف پڑھنے کی غرض سے ہرروز آتے، جن کا بخاری شریف کا سبق کتاب الدعا اور مدرسہ میں طلبا کا سبق کتاب الصلوٰ ة پر تھا کہ آخری وقت آگیا۔خطابت کے میدان میں آپ نے 1977ء تا1997ء تقریباً بیس برس دارالحدیث محمدیہ عام خاص باغ ملتان میں خطبہ جمعة المبارک پڑھایا اور مرکزی جامع مسجد فریدیہ اہلحدیث قصور میں1996ء تا1999ء تک خطابت کی ذمہ داری اَدا فرمائی ۔

رشتہ ازدواج اور اولاد
مولانا عبدالرحیم کوٹلوی اپنے نورِچشم مولانا عبدالحلیم کے لیے رشتے کی تلاش کی غرض سے شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی رحمة اللہ علیہ سے ملنے اوکاڑہ میں آئے اور پوچھا کہ آپ نے صاحبزادی کی کسی جگہ نسبت وغیرہ تو نہیں کی ۔ مولانا فرمانے لگے: نہیں آپ نے کہا کہ آپ مجھے کسی گھر کا پتہ دیں گے، بہتر ہے کہ آپ ہی مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ میرے بیٹے عبدالحلیم کے لیے عنایت کردیں جسے مولانا صاحب نے منظور کیا، لہٰذا مولانا عبد الحلیم1961ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔ آپ کی اولاد میں حافظ عبدالوحید (امریکہ)، ڈاکٹر عبدالکبیر محسن (راولپنڈی )، عبدالباسط ،محمد عمران ، عبدالحی عابد اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

دورانِ امامت و خطابت قصہ تعویذ
تعویذ فروشی سے آپ پرہیز کرتے تھے۔دورانِ تعلیم ایک واقعہ ہمیں اُستاد محترم نے بتایا کہ جب میں شام کوٹ میں رہائش پذیر تھا کہ ایک دن ایک نمازی آکر کہنے لگا کہ ہماری بھینس دودھ نہیں دے رہی، کوئی تعویذ وغیرہ بنادیں۔ آپ نے انکار کیا، لیکن اس نے اصرار جاری رکھا۔فرمانے لگے کہ میںنے ایک کا غذ کے اوپر لکھ کریہ جملہ دیا کہ بھینس دودھ دے دو۔ شام کو آدمی بالٹی میں دودھ لے کر آگیا اور کہنے لگا: آپ تعویذ بنا کر نہیں دے رہے تھے ۔ اب جو تعویذ آپ نے لکھ کردیا، اس خوشی میں دودھ لے آیا ہوں۔

اُستاد ِ محترم فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں دوکام ایسے ہیں جن کو اپنانے سے کاروبار خوب فروغ پاتاہے، اس کے لیے محنت اور جدوجہد کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک زمین پر (مٹی کی ڈھیری) پر جھنڈا لگا کر بیٹھنے سے اور دوسرا تعویذ فروشی سے ۔

علم میں غرور سے اجتناب
مولانا مرحوم ایک بلند پایہ عالم، محقق اور ادیب تھے۔مگراس کے باوجود ان کے مزاج میں غایت درجہ سادگی تھی۔ آپ نے اپنے نام کے ساتھ زندگی بھر مولانا یا شیخ الحدیث کا اضافہ نہیں کیا،نہ کبھی گفتگو میں علمی رعب ڈالتے بلکہ دلائل و براہین کے حوالے سے سمجھاتے ۔

تحمل ،حلم اور بردباری
تواضع و انکساری ، متانت و سنجیدگی اور تحمل و بردباری یہ تمام اوصافِ حسنہ حضرت صاحب میں کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھے۔تحمل ،بردباری اور حلم اتنا تھا کہ بڑے سے بڑا مخالف آدمی آجاتا اور آپ سے بات کرتا تو آپ تحمل اور حوصلے سے اس کی بات سنتے اور جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا تو پھر آپ اس کو مطمئن کرتے ۔ شدید ترین اختلاف میں بھی آپ نرم سے نرم الفاظ اختیار کرتے اور راہِ اعتدال پر قائم رہنے کی پوری کوشش فرماتے۔ ذاتیات کی سطح تک کبھی نہیں اُترتے تھے۔ آپ نے ہمیشہ اِدفع بالتي هي أحسن کا اُسوہ اختیارکیا۔

بحیثیت ِمعلم و مدرس
آپ کا اندازِ تدریس آپ ہی کا خاصہ ہے۔ جو بات بھی کرتے دلیل کے ساتھ کرتے۔ آپ کے درس میں اخلاص حد درجہ تھا، یہی وجہ تھی کہ جو بات بھی آپ کے منہ سے نکلتی، فوری طورپر طلبہ کے ذہن نشین ہوجاتی ۔ اگر کوئی عام آدمی چند منٹو ں کے لیے آپ کے درس میں شریک ہوتاتو بہت کچھ اپنے ساتھ لے جاتا۔ احادیث ِنبویہؐ کے سلسلے میں آپ کا طریقۂ تدریس یہ ہوتاکہ پہلے سارے باب کی عبارت پڑھتے یا کسی سے پڑھواتے، پھر باب سے متعلقہ مسائل ایسے انداز میں بیان کرتے کہ تشنگی دورہو جاتی۔ آخر میں مشکل الفاظ کی وضاحت فرماتے۔ اختلافی مسائل میں آپ کا طریقہ یہ ہو تاکہ پہلے ائمہ کی رائے اور ان کے دلائل تفصیل کے ساتھ بیان کرتے، پھر ترجیح کے دلائل بیان فرماتے تھے۔ درس کے دوران شاگردوں پر پوری توجہ ہوتی، طلبہ جتنے مرضی سوالات کرتے، آپ نے کبھی ان کو منع یا ڈانٹا نہیں تھا۔

طلبہ اور جامعہ کے اساتذہ سے برتاؤ
وہ اپنے طلبہ سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ طلبہ اُن پر اس حد تک اعتماد کرتے تھے کہ اپنے والدین کی مرضی کے خلاف چلنے پر آمادہ ہوجاتے مگر استادِ محترم کی نصیحتوں پر عمل کرنے کو اپنے لیے فرضِ عین سمجھتے تھے، لیکن ان کی گفتگو اس قدر سحر انگیز ہوتی کہ بغاوت پر آمادہ طلبہ کوبھی چند منٹوں میں ٹھنڈا کردیتی۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو کبھی بڑا نہیں سمجھا بلکہ اساتذہ کرام کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم رکھتے، اسی طرح جامعہ کے دیگر ملازمین سے بھی ان کا رویہ مثالی تھا۔

عمل کے میدان میں
تقویٰ اور پرہیز گاری کے اَثرات آپ کے چہرے سے ظاہر ہوتے تھے۔ آپ کے چہرے پر ایک قسم کی نورانیت تھی، گویا آپ اس حدیث کا مصداق تھے کہ إذا رأوا ذکروا اﷲ 2

آپ نماز بڑی عاجزی سے پڑھتے، آپ کو دیکھنے سے لذت نصیب ہوتی، آپ کے پاس بیٹھنے سے دل کو سکون ملتا ۔ ایک بار میں نے دورانِ تعلیم اُن سے پوچھا: اُستاد محترم !مدرسہ کے حوالے سے کوئی نصیحت فرمائیے۔کہنے لگے کہ چھوٹے بچوں کو کبھی اپنے پاس نہ بٹھانا اور نہ خود ان میں جاکر بیٹھنا، نہ ہی کسی لڑکے کو اُدھار دینا۔

اسلاف کی رائے کا احترام
ایک بات جو میں نے ذاتی طور پر ان کے علمی رویے کے بارے خصوصی محسوس کی وہ یہ تھی کہ ان کا اسلاف سے تعلق بڑا گہرا تھا، لہٰذا ان کی رائے کا بڑا اِحترام رکھتے۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ مولانا نے اپنے استدلال کی تائید کے لیے سلف صالحین یا کسی بزرگ کا حوالہ نہ دیا ہو۔ وہ صفحہ اور سطر بھی بتاتے کہ فلاں کتاب میں فلا ں مسئلہ درج ہے۔ ان کا حافظہ علما ے اسلاف کی یاد دلاتاتھا۔ ایسے لوگ خا ل خال ہی ہوتے ہیں ۔گویا راسخون فی العلم کی عملی تصویر تھے بالخصوص اسلاف کے نیک اعمال کو اپنانے کی نصیحت فرماتے ۔

حصولِ علم کا ذوق
مولانا مرحوم کی تصانیف کا جن لوگوں نے مطالعہ کیا ہے، ان کو یہ معلوم ہوگا کہ آپ کتنے بڑے محقق تھے ؟ وہ جس طرح دینی مسائل میں تحقیق کرتے تھے، اسی طرح سیاسی معاملات اور دوسرے مسائل میں بھی آپ کے تبصرے حقیقت پر مبنی ہوتے ۔ ان کا تبصرہ سننے والوں کی آنکھیں کھول دیتاتھا۔ تفسیر، تاویل آیات، روایت و درایت اور فقہی مسائل کے ساتھ معاشرتی حالات پر ان کے جوابات مدلل ہوتے، روزنامہ نوائے وقت ان کا پسندیدہ اخبار تھا۔ہمیشہ ہفتہ روزہ 'تکبیر' کراچی سمیت جماعتی رسائل و جرائد کا باقاعدہ مطالعہ رکھتے تھے۔

فروعی مسائل میں اعتدال
مولانا صاحب ہمیشہ فروعی اختلافات میں اعتدال کا راستہ نکال لیتے تھے کبھی کسی پر طعن و تشنیع نہیں کی اور نہ کسی کے بارے میں غلط زبان استعمال کی۔ عالمانہ انداز میں کسی پر تنقید کرتے تھے مگر اشتعال سے ہمیشہ دور رہتے۔ ان کے نصائح بھی ایسی خصوصیات کا مرقع ہواکرتے۔ فروعی مسائل میں ان کا کہنا تھا کہ دین کے کسی حکم اور دین کے کسی امام کو اپنے اصل مقام سے نہ بڑھائو اور نہ گھٹائو، مگر افسوس ہے کہ آج تفریق و تخریب اور فرقہ وارانہ تعصب کی وجہ سے کچھ لوگوں نے قولاً نہیں تو عملاً آئمہ دین اور فقہاء و مجتہدین کو أرباب من دون اﷲ کا درجہ دے رکھا ہے بلکہ بعض لوگوں نے اپنے آپ کومجتہد ِمستقل سمجھ کر اسلاف سے بے نیازی کا طریقہ اختیار کر لیاہے۔

ایک سبق آموز واقعہ ؛ ڈاڑھی بے قصور
دورانِ تعلیم اُنہوں نے ایک بارچک نمبر36،ضلع فیصل آباد، ستیانہ کے ایک نوجوان کا واقعہ سنایاجس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ ایک نوجوان نے علما کی وعظ و نصیحت کے نتیجے میں یاخود مطالعہ کرکے اپنے چہرے کو سنت ِ رسول سے مزین کیا۔ جب بھی اس سے کوئی دنیاوی معاملے میں چھوٹی موٹی کوتاہی سرزد ہوتی تو اسے اہلِ خانہ اور رشتہ دار ڈاڑھی کا طعنہ دیتے کہ ڈاڑھی رکھ کر تو اس طرح کرتاہے جسے سن کر اسے بہت تکلیف ہوتی۔جس طرح آج معاشرے میں ڈاڑھی کا مذاق اور ڈاڑھی والے شخص کو معمولی سمجھ کر ہر اعتراض اس کی ذاتی غلطی کی بجائے ڈاڑھی کا طعنہ دے کر بیان کیا جاتاہے۔ اس نوجوان نے بھی دل برداشتہ ہو کر اپنی ڈاڑھی منڈوادی یعنی سنت ِنبویؐ کو شہید کرواکر گھر میں آکر کہنے لگا کہ اب تو مجھے تم ڈاڑھی کا طعنہ نہ دیا کرو گے؟

مہمان نوازی
مہمانوں کی خدمت اور عزت افزائی آپ کی زندگی کا معمول تھا۔ذاتی مہمان ہویا جامعہ کا،ہر ایک سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور فرمایا کرتے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ یہ لوگ دور دراز سے محبتیں اور عقیدت لے کر ہمارے پاس آتے ہیں۔ ان کا اکرام بہت ضروری ہے کیونکہ مہمان نوازی سنت ِ انبیا ہے ۔خصوصاً حضرت ابراہیم ؑ بڑے مہمان نواز تھے۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ''جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کا اِکرام کرے۔ اکرام سے مراد مرغن غذائیں، ذائقے دار کھانے اور باتکلف اَنواع و اقسام کے پھل نہیں بلکہ جو کچھ آسانی سے یاجو گھر میں موجود ہو مثلاً چنے کی دال وغیرہ، وہی مہمان کے سامنے دسترخوان کی رونق بنادی جائے۔حقیقت یہ ہے کہ آج اس بات کا بھی علما میں فقدان ہے۔

پانچ وتر کی ادائیگی
ہر ماہ رمضان المبارک کو جامعہ محمدیہ اوکاڑہ کے لیے چندے کی غرض سے آپ ہمارے ہاں مرکزی جامع مسجد محمدی اہلحدیث کوٹ رادھاکشن میں تشریف لاتے۔ آج سے کوئی دس سال قبل کا واقعہ ہے کہ آپ کو امام مسجد نے نمازِ وتر کی امامت کے لیے کہا۔ عام طورپر ہمارے نمازی حضرات ایک وتر پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور ماہ رمضان المبارک میں باجماعت وتر تین ہی ادا ہوتے ہیں ۔ آپ نے تین کی بجائے پانچ وتر پڑھائے جس سے نمازیوں اور خواتین میں کافی بے چینی محسوس کی گئی کچھ حضرات توکہہ رہے تھے کہ آپ نے پانچ کیوں پڑھائے؟ بعض کہہ رہے تھے کہ آپ بھول گئے اور بعض نے تین ہی ادا کرلیے۔مسجد میں ایک عجیب ماحول تھا۔میں نے اور بعض نمازیوں نے جب دریافت کیا کہ آپ نے پانچ وترپڑھانے تھے تو پہلے بتادیتے۔ فرمانے لگے کہ ہوسکتا ہے کوئی کثرت رکعات کی وجہ سے جماعت سے پڑھتا یا نہ پڑھتا۔ چنانچہ میں نے سوچاکہ آج انہیں پانچ وتر پڑھادو ں تاکہ یاد رکھیں کہ پانچ وتر پڑھنے بھی سنت ِرسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

تراجم اور تصانیف
امام الہند حضر ت مولانا ابوالکلام آزاد رحمة اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ تصنیف، تدریس اور تقریر کی خوبیاں اور اَوصاف کا بیک وقت کسی ایک شخص میں جمع ہونا نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ کوئی مصنف ہے تو مدرّس نہیں ، بہترین مدرّس ہے تو مقرر نہیں اور اگر میدانِ خطابت کا شہسوار ہے تو تصنیف کے میدان میں نہیں چل سکتا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تینوں اَوصافِ بالا سے نوازا تھا۔ آپ کی چند اہم تصانیف حسب ِذیل ہیں:
میلادِ مروّجہ کی شرعی حیثیت:طالب ِ علمی کے آخری دور میں آپ نے ایک رسالہ لکھا جسے مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان نے کئی سال تک شائع کرکے ملک بھر میں مفت تقسیم کیا۔
فضائل علم و علما:حافظ ابنِ قیم رحمة اللہ علیہ کی کتاب 'مفتاح دارالسعادہ ' کا اُردو ترجمہ کیا۔ (مطبوعہ)
ترجمہ الکامل للمبرد : فاضل عربی کے نصاب سے باب الخوارج تبدیل کرکے غالباً ۱۹۷۴ء میں الکامل للمبرد کے ابواب ضرب الامثال کے کچھ حصہ جات داخل نصاب کیے گئے۔ اس وقت اصل کتاب کا حصول بھی مشکل تھا، اس دور میں آپ نے اصل کتاب کا ترجمہ مع اصل عبارت تحریر کیا جو تاحال نصاب میں شامل ہے۔
اسلامی آداب:جس میں روز مرہ کے معمولاتِ زندگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا۔ (مطبوعہ)


مشکوٰة المصابیح ازخطیب بغدادی عمری (متوفی 736ھ) کا ترجمہ مولانا عبدالحلیم علوی فاضل عربی کے نام سے کیا جو تاحال مکتبہ رحمانیہ، اُردو بازار لاہورسے شائع ہورہا ہے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد عطاء اللہ حنیف رحمة اللہ علیہ کی سرپرستی میں علماے اہلحدیث کے حالاتِ زندگی پر کافی محنت کی اور ایک ضخیم کتاب تیار ہوگئی تھی، لیکن شائع نہ ہو سکی ۔

إعجاز القرآن از علامہ نعیم حمصی 1962ء میں مصر سے طبع ہوئی جس میں ہر صدی میں اعجاز القرآن پر لکھنے والوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا تھا۔یہ اپنے موضوع پر ایک جامع کتاب تھی، شیخ الحدیث مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمة اللہ علیہ کے توجہ دلوانے پر اس کا ترجمہ کیا جو تقریباً چھ ماہ تک مسلسل ماہنامہ' پیامِ حق' کراچی میں قسط وار شائع ہوا۔ اگرچہ مستقل طورپر یہ کتاب شائع نہیں ہوسکی۔

توفیق الباری شرح صحیح بخاری:کتاب کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ میں نے1400ھ میں بخاری شریف کا درس دینا شروع کیا تھا۔ تحدیث ِنعمت کے طورپر عرض ہے کہ ان سطور کی ترقیم تک پچیسواں دور اختتام پذیر ہواہے۔ جبکہ طالبات کے ایک مدرسہ میں بھی متواتردس بارہ مرتبہ صحیح بخاری پڑھائی ہے۔ غرض مجموعی طور پر پینتیس، چھتیس بار بخاری شریف ختم کرنے کی اللہ پاک نے سعادت نصیب فرمائی ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بندہ ناچیز سے پہلے علم کے اساطین بخاری شریف کا درس دیا کرتے تھے۔ بندہ علم وعمل کے اعتبار سے کسی طور خود کو اس کا اہل نہیں پاتا اور پھر دورانِ تعلیم اور بعد از تعلیم بخاری شریف پڑھانے والوں کے تذکرے مجھ جیسے علم و عمل سے تہی دامن انسان کو اپنی کوتاہ قامتی کا مزید احساس دلاتے۔

ایک ایسے جامعہ میں جس کا شاندارماضی اور تابناک حال ہو،میںخود کو بہت کوتاہ خیال کرتاتھا اور ناکامی کا اندیشہ عزم کو متزلزل کئے دیتے تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آخر کار اس مشکل فرض کو نبھانے کی توفیق مرحمت فرمائی۔ ایک سرسری اندازہ کے مطابق مجھ سے سات ، آٹھ صد طلبہ اور تین صد کے قریب طالبات نے بخاری شریف پڑھی ہے۔ ان میں ہر طرح کے طلبا شامل رہے ہیں ۔ذہین سے ذہین تر بھی اورایسے بھی جو بلوغ المرام سے لے کر بخاری شریف تک احادیث ِ مبارکہ کی صرف سماعت ہی کرتے رہے ہیں۔ جو کبھی بھول کر بھی نہ قراء تِ حدیث کرتے اور نہ ہی اُستاد صاحب کے کسی سوال کا جواب دینے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔

ہمارے ایک استاد صاحب ایسے نا لائق طالب علموں کو 'ہیولیٰ' کہا کرتے تھے۔ہیولیٰ ایسی گوندھی ہوئی مٹی کو کہتے ہیں جس سے کمہار برتن تیارکرتا ہے، کبھی اس سے پیالہ بنا رہاہے تو کبھی لوٹا تیارکررہا ہے اور وہ ہیولیٰ اس کے ہاتھوں لاچار و بے بس ہر شکل اختیار کرنے پر مجبور ہوتاہے۔ بحمداللہ میں نے اپنے طلبا کے اعتراضات کا کبھی برانہیں منایا بلکہ ہمیشہ ان کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ہمارے ایک استاد صاحب فرمایا کرتے تھے کہ آج جبکہ میں تمہیں پڑھارہا ہوں تو تمہارا شاگرد ہوں اور کل جب تمہارا سبق سنوں گا، تمہارا اُستاد ہوں گا۔اس وقت ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی ۔ تدریس کے دوران اس جملے کی معنویت کا پتہ چلا کہ استاد کا کام سبق کے معاملہ میں اپنے شاگرد کو مطمئن کرنا ہے۔خواہ پندرہ یا بیس بار اپنا سبق پوچھے اور اُستاد ہرطرح کے شکوک و شبہات کو دور کرتا ہے تاکہ اگراگلے دن جب اُستاد سبق سنے تو وہ یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے سمجھ ہی نہیں آئی تھی یا آپ نے یہ باتیں تو بتلائی ہی نہ تھیں۔

طالب ِ علم کو طلب ِعلم میں کوئی شرمندگی یا حیا نہیں کرنا چاہیے کہ میں نے اگر یہ بات پوچھی تو میرے ساتھی اور ہم درس میرا مذاق اُڑائیں گے کہ ایسی آسان بات کا بھی اس کو پتہ نہیں ہے۔ اسی لیے امام بخاری رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علم کے بارہ میں حیا اور شرم کرنے والا طالب ِعلم یا تکبر کی وجہ سے علم کی بات استاد سے نہ پوچھنے والا علم حاصل نہیں کرسکتا :
أخي لا تنــال العلم إلا بِستَّــة سأنبئك عن تفصیلھا ببیان
ذکاء وحرص واجتھاد و صحة وصحبة أستاذ وطول زمان
''میرے بھائی! چھ چیزوں کے بغیر تو علم حاصل نہیں کرسکتا۔ جس کی تفصیل میں تمہیں بیان کرتا ہوں۔وہ ذہانت، علم سے شغف، محنت اور درستگی علم،طویل مدت او راستاد کی رفاقت ہیں۔''

اسی لیے کہا جاتاہے السائل کالأعمیذہن میں جو صحیح یا غلط بات کھٹکے، استاد صاحب سے اس کی وضاحت کروالینی چاہیے۔میں اپنے طلبہ کی اس سلسلہ میں ہمیشہ حوصلہ افزائی کرتاہوں کہ جہاں کوئی شبہ پڑتا ہے تو وہ پوچھ لو یا اس کا جواب پوچھ لو۔ پھر دونوںہی بتلانے پڑتے ہیں ۔کیونکہ مطالعہ نہ کرنا ایک وبا کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ جب ہم پڑھاکرتے تھے تو عموماً اس وقت مدارس میں صحیح علم کی جستجو اور حاصل کرنے کا جذبہ پایا جاتا تھا، لیکن اب طلبہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد سند ِ فراغت حاصل کرلی جائے ۔المیہ یہ ہے کہ کبھی ہمارے درسِ نظامی میں ساٹھ علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے جن کی تفصیل میں امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے رسالہ لکھا اور اپنے زمانہ کے علوم متعارف کروائے جبکہ تعلیم کا دورانیہ پندرہ بیس سال ہوا کرتاتھا اور اب تو ہمارے تعلیمی مدارس بڑے فخر سے بڑی اشتہار بازی کے ساتھ طلبہ کی توجہ مبذول کرواتے ہیں کہ دوسال میں درسِ نظامی پڑھانے کی گارنٹی دے رہے ہیں۔

ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے۔ رمضان1426ھ میں اللہ تعالیٰ نے ذہن میں ڈالا کہ چند مشہور اور مستند شروح کے تما م مباحث کو اُردو کے قالب میں ڈھالا جائے۔ خدا کی حکمت تھی کہ یہ خیال اس وقت نہ آیا جب جذبے جوان اور ہمتیں بیدار تھیں۔ اب پینسٹھ برس کی عمر اور پچھلے چودہ برس سے دل کی بیماری میں مبتلا ہوں تو اب وہ محنت نہ ہو سکتی ہے۔ کئی دن کے سوچ بچار کے بعد نگاہِ انتخاب اپنے بیٹے ڈاکٹر حافظ عبدالکریم محسن فاضل وفاق المدارس پر پڑی ۔

ڈاکٹر صاحب اِنہی دنوںملنے کے لیے اوکاڑہ آئے تو اپنا منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا پہلے تو بہت پس و پیش کرتے رہے کہ میرا میدان ہی مختلف ہے ۔یہ کام تو کسی شیخ الحدیث کا ہے، لیکن میں متواتر ان کی حوصلہ افزائی کرتارہا ۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے وہ اس عظیم کام کے لیے تیار ہوئے۔

میرا اپنے بیٹے عبد الکبیر کے بارے میں بچپن سے یہ مشاہدہ ہے کہ کبھی خیر کی دعوت کو مسترد نہیں کیا۔ میری ہدایات اور مشورے ان کے شامل حال رہے ہیں اور نظر ثانی کاکام نہایت جانفشانی سے انجام دیا ہے ۔ الحمداللہ میں مطمئن ہو ں کہ جس طرح میری خواہش تھی اسی طرح کام ہوا ہے۔ ان کی صلاحیتوں سے مجھے یہی اُمید تھی ۔ الحمد للہ

عمر کے اس آخری حصہ میں سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ خود یہ کام کرتا، لیکن اب یہ اطمینان ہے کہ خود نہیں تو اپنے جسم کے ایک حصہ ہی نے کیا ہے۔بہرحال میں نے ابتدا کردی ہے، اب کہاں تک کام پہنچتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔

ملکی تحریکوںمیں کردار
وطنِ عزیز میں اب تک تحریک ِختم نبوت ، تحریک ِنظامِ مصطفی اور تحریک ِ تحفظ ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سمیت جتنی بھی دینی تحریکیں شروع ہوئی ہیں، آپ نے دورانِ طالب علمی سے لے کر تادم آخریں عملاً درس وتدریس اور خطبہ جمعہ میں اپنے طلبہ اور سامعین کی اس سلسلہ میں بھر پور رہنمائی کی۔

زندہ دلی اور ہنس مکھ
ان کے ساتھ واجبی تعلق والے لوگوں کے لیے وہ ایک سنجیدہ اور کم ہنسنے والے فرد تھے، جبکہ حقیقت میں وہ نہایت زندہ دل اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک تھے۔ ان کے قریبی دوست جناب حافظ احمد شاکر مدیر 'الاعتصام' لاہور، مولانا عبدالرحمن گوہڑوی، مولانا محمد اسحق قادر آبادی، قاری عبدالرئو ف فیصل آبادی،بھائی محمد حنیف،حکیم عبدالواحدیزدانی وغیرہ جانتے ہیں کہ وہ نہایت زندہ دل اورہنسنے ہنسانے والے شخص تھے۔ جب موڈ میں ہوتے یا مجلس ایسی رنگت اختیار کرلیتی تو وہ اپنے اور دیگر علما اور دوستوں کے بے شماردلچسپ واقعات سناتے ۔

کیمیا گری و طب میں دلچسپی
معاشرے میں ہر طرح کے انسان آباد ہیں مگر ان میں سونا تیار کروانے والوں کی اپنی الگ دنیا ہے کیونکہ سونا تیار ہوتے ہوتے ایک آنچ کی کسر ہر بار رہ جاتی ہے۔استادِ محترم کا بھی ایسے لوگوں سے کافی لگائو اور اس میں دلچسپی تھی۔مگر کس حد تک بقول مولانا احمد شاکر اپنی رقم سے کبھی تجربہ نہیں کیا بلکہ اس فن کے شوقین لوگوں کے ساتھ شامل ہوکر تجربہ کرتے تھے۔خود اُنہوں نے اپنی جیب سے اس سلسلے میں رقم خرچ نہیں کی تھی البتہ طبی حوالے سے بھی رہنمائی کرتے رہتے تھے۔

تلامذہ
آپ کے زیر سایہ تربیت اور علم حاصل کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جو اس وقت پاکستان بھر کے مختلف اضلاع کے سکولوں، کالجوں ،یونیورسٹیوں ،مساجد و مدارس اور دیگر ممالک میں قرآن و سنت کی اشاعت وترویج میں مصروف کار ہیں ۔ان میں سے چند ایک کے اسماے گرامی حسب ِ ذیل ہیں۔

قاری محمد خالد مجاہد آف پتوکی قصور، ڈاکٹر حافظ عبدالکبیر محسن راولپنڈی، حافظ عبدالواحد اعوان امریکہ، مولانا محمد اشرف غوری پاک آرمی، مولانا محمد رمضان شاکر شام کوٹ قصور، شیخ الحدیث مولانا زید احمد فاضل مدینہ یونیورسٹی، حافظ حسن محمود کمیر پوری پتوکی قصور،قاری سیف اللہ عابد ڈھولہ خطیب خانیوال،حافظ محمد ادریس ضیاء وہاڑی،ڈاکٹر عبدالغفور راشد لاہور،حافظ محمد اعظم بن رجب گلگت،مفتی مولانا محمد یوسف قصوری کراچی،مولانا سید شفیق الرحمن چشتی جھنگ،قاری اظہار احمد جامعہ عزیزیہ ساہیوال ، مولانا محمد عباس طور جھوک دادو فیصل آباد،مولانا محمد حامد لکھوی دیپالپور اوکاڑہ،مولانا عبدالودود زاہد خطیب بھوئے آصل قصور، مولاناعبدالمجید صوبہ بدخشاں افغانستان،حافظ سیف اللہ کمیر پوری سرگودھا،قاری عبدالرزاق طاہر الہ آبادی، مولانا قاری عبداللہ طیب وہاڑی اور راقم الحروف حکیم محمد یحییٰ عزیز ڈاہروی ودیگر شامل ہیں۔

حملہ قلب اور بیماری کا شدید حملہ
پہلی بار آپ کو 1992ء میں دل کا دورہ پڑا، تقریباً چھ ماہ صاحب ِفراش رہے۔ اس کے بعد 13/جون1999ء کو بیماری کا شدید حملہ ہوا اوردو دن بے ہوش رہے۔ اس کے بعد ان کو علاج معالجہ کے لیے الشفاء ہسپتال اسلام آباد اور سی ایم ایچ راولپنڈی لے جایا گیا۔فرمایا کرتے تھے کہ دوائیاں کھاتے ہوئے تیرہ سال گزر گئے۔اُردو محاورہ کے مطابق یہ بڑے دل گردہ کی بات ہے،دل مریض ہو چکا اور گردے متاثر ہوگئے ہیں اور اب مجموعہ امراض بن چکا ہوں۔ مولانا ظفراللہ لکھوی صاحب ناظم دفتر جامعہ محمدیہ اوکاڑہ نے جنازے کے موقعہ پر بتایا کہ ان کے صاحبزادے حافظ عبدالوحید علاج معالجہ کے سلسلے میں ان دنوں اُنہیں امریکہ اپنے پاس منگوانے کی تیاری میں مصروف تھے۔

آخری ملاقات اور وفات
28؍اکتوبر2007ء کو آپ کے صاحبزادے محمد عمران کے دعوتِ ولیمہ کے موقع پر آپ کے ہاں اوکاڑہ میں حاضر خدمت ہوا۔آپ کے پاس کچھ لمحات بیٹھنے کا موقعہ ملا تو آپ کے ساتھ بعض اُمورپر تبادلہ خیال بھی ہوا۔آپ سے اجازت لے کر واپس کوٹ رادھاکشن آگیا۔ اس کے بعد آپ نے میرے ساتھ دو بار فون پرگفتگو فرمائی ۔آپ کے بھتیجے قاری عبدالباقی بن مولانا عبدالحکیم پتوکی نے7؍دسمبر2007ء کو صبح دس بجے فون پر اطلاع دی کہ تایا جی شیخ الحدیث مولانا عبدالحلیم آج صبح انتقال کر گئے ہیں۔إنا للہ و إنا إلیه راجعون

زندگی کے آخری لمحات اور نمازِ جنازہ
7؍دسمبر کو صبح تہجد کے وقت طبیعت اچانک زیادہ خراب ہوگئی ۔آپ کو فوری ڈسٹرکٹ ہسپتال اوکاڑہ کی ایمرجنسی میں ڈاکٹر زعیم الدین لکھوی کے پاس لے جایا گیا۔آپ کے ساتھی محمد عمران اور عبدالحئی عابد نے بتایا کہ راستے میں ہمیں کہہ رہے تھے کہ پڑھو اور خود بھی گھر سے ہسپتال تک زبان سے پڑھتے رہے اور ان کی زبان پر مختلف کلمات کا ورد جاری تھا ۔ڈاکٹر صاحب چیک کررہے تھے۔آپ نے صاحبزادگان سے پانی طلب کیا کچھ پیا اور مسکرائے۔ اس کے بعد دو چار ہچکیاں لیں اور روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ إنا للہ و إنا إلیه راجعون

آپ کی نمازِ جنازہ اوکاڑہ کی مرکزی جناز گا ہ میں عصر کے بعد ادا کی گئی اور امامت کے فرائض حافظ محمد مسعود عالم بن مولانا محمد یحییٰ شرقپوری نے انجام دیے۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُستاذ ی المکرم کی دینی، علمی اور تدریسی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے اور ان کو جنت الفردوس میں مقام دے۔ان کی اولاد اور تلامذہ کو صبر کی توفیق دے اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!

بہت ہوئے دنیا میں شام و سحر پیدا
مگر صدیوں میں ہوتاہے کوئی دیدہ وَر پیدا

 


حوالہ جات
1. طبقات الحنابلة:1؍231
2. مصنف ابن ابی شیبہ:93