Mohaddis-317-Jan2008

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ظہورِ اسلام کے وقت اور اس کے بعد فن تحریر
نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ناخواندہ اور اَن پڑھ قوم میں مبعوث ہوئے جو من حیث القوم حساب وکتاب کی صلاحیت سے بے بہرہ اور رسم الخط و فن تحریر سے ناآشنا تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے کچھ عرصہ پہلے پورے جزیرۂ عرب میں تھوڑی سی تعداد؛ قبیلہ قریش کے دس بارہ افراد اور اہل مدینہ کے آس پاس بسنے والے یہودیوں کی ایک محدود تعداد خط و کتابت سے واقف تھی۔ ان میں سے حضرت ابوبکرؓ، عمرؓ بن خطاب، علیؓ بن ابی طالب، عثمانؓ بن عفان، طلحہؓ بن عبیداللہ، ابوسفیانؓ بن حرب، معاویہؓ بن ابوسفیانؓ، اُباب بن سعیدؓ اور علا بن یزید حضرمی مکہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ مدینہ منورہ میں عمرو بن سعیدؓ، اُبی بن کعبؓ، زید بن ثابتؓ، منذر بن عمروؓ اور ایک یہودی تھا جو بچوں کو فن تحریر سکھایا کرتے تھے۔

جزیرۂ عرب کے کونہ کونہ میں کتابت کا انحصار اِن چند گنے چنے افراد پر تھا۔ پوری قوم عرب میں تعلیم کو اس قدر کمیابی کی بنیاد پر بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس لحاظ سے ایک اَن پڑھ قوم تھی جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتی تھی۔ چنانچہ اسلام نے اپنے آغاز میں ہی ان پر اُمیت کی مہر تصدیق ثبت کردی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
هُوَ ٱلَّذِى بَعَثَ فِى ٱلْأُمِّيِّـۧنَ رَ‌سُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ءَايَـٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَـٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَـٰلٍ مُّبِينٍ ﴿٢...سورة الجمعہ
''وہی ہے جس نے امیوں کے اندر ایک رسول خود انہی میں سے اٹھایا،جو انہیں اس کی آیات سناتا ہے،ان کی زندگی سنوارتا ہے، اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔''

مؤرخین کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ کتابت اور رسم الخط میں قریشیوں کا اُستاد حرب بن اُمیہ بن عبد ِشمس ہے جو صحابی ٔرسول ابوسفیانؓ کا والد تھا۔ وہ تجارت کی غرض سے اکثر مختلف علاقوں کا سفر کرتا رہتا تھا۔ وہاں سے اس نے کتابت اور رسم الخط کا یہ فن سیکھا اور پھر قریشیوں کو سکھایا تو سب سے پہلے اس کے ہاتھ سے مکہ میں رسم الخط کا آغاز ہوا۔ البتہ مؤرخین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ حرب بن اُمیہ نے یہ فن کس سے سیکھا تھا؟ ایک روایت یہ ہے کہ اس نے عبداللہ بن جدعان سے سیکھا تھا اور ایک روایت یہ ہے کہ بشر بن عبدالملک سے یہ فن حاصل کیا تھا۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ امام دانی اپنی سند کے ساتھ زیاد بن اَنعم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ میں نے عبداللہ بن عباسؓ سے پوچھا:
اے گرویانِ قریش! کیا آپ دورِ جاہلیت میں بھی یہ عربی رسم الخط لکھا کرتے تھے؟
اُنہوں نے کہا: ہاں ۔ میں نے پوچھا: تمہیں یہ کتابت کس نے سکھائی تھی؟ فرمایا: حرب بن اُمیہ نے ۔ میں نے کہا: حرب بن اُمیہ نے کس سے سیکھی؟ فرمایا: عبداللہ بن جدعان سے۔ میں نے کہا: عبداللہ بن جدعان کو یہ فن کس نے سکھایا؟ فرمایا: اہل اَنبار نے۔ میں نے کہا: اہل اَنبار کو کس نے سکھایا تھا؟ فرمایا: یمن کے خاندان کِندة کا ایک شخص ان کے پاس اچانک آیا تھا۔ میں نے کہا: اس آنے والے کو کس نے سکھایا تھا۔ فرمایا: خلجان بن موہم نے جو اللہ کے نبی حضرت ہود علیہ السلام پر اللہ عزوجل کی طرف سے نازل ہونے والی وحی لکھا کرتا تھا۔

کلبی نے عوانہ کے حوالہ سے بیان کیاہے کہ مرامر بن مرہّ، اسلم بن سدرہ اور عامر بن جدرہ نے سب سے پہلے ہمارے اس رسم الخط میں تحریر کا آغاز کیا تھا، اور یہ سب لوگ عرب کے قبیلہ طَے سے تعلق رکھتے تھے اور اُنہوں نے حضرت ہود علیہ السلام کے کاتب ِوحی سے یہ فن سیکھا تھا۔ پھر اُنہوں نے اہل انبار کو یہ فن سکھایا اور ان کے توسط سے کتابت کا یہ فن عراق، حیرہ وغیرہ کے علاقوں میں پھیل گیا۔ وہاں صاحب ِدومة الجندل اُکیدر بن عبدالملک کے بھائی بشر بن عبدالملک نے کتابت سیکھی اور چونکہ حرب بن اُمیہ کا بلادِ عراق میں بغرضِ تجارت ان کے پاس آنا جانا تھا، لہٰذا حرب نے اُن سے کتابت کا فن سیکھا اور پھر قریشیوں کو اس کی تعلیم دی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ بشر نے حرب کے ساتھ مکہ کا سفر کیا اور وہیں مکہ میں ہی ابوسفیان کی بہن صہبا بنت ِحرب سے شادی کرلی ۔وہاں اہل مکہ کی ایک جماعت نے ان سے کتابت کا یہ فن سیکھا۔ پھر ظہورِ اسلام سے قبل تک قبیلۂ قریش میں اس فن کے جاننے والوں میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔

آپ نے ملاحظہ کیا کہ پہلی روایت کی رو سے عبداللہ بن جدعان حرب بن اُمیہ کے استاد قرار پاتے ہیں جبکہ دوسری روایت بشر بن عبدالملک کو حرب کا اُستاد بتاتی ہے۔

قطع نظر ا س سے کہ اس سلسلہ میں حرب بن اُمیہ کا استاد کون تھا، لیکن اتنی بات ظاہر ہے کہ جزیرۂ عرب میں ہجرتِ نبویؐ تک کتابت کے فن سے بہت تھوڑے افرادآشنا تھے ۔ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپؐ نے فن کتابت کی طرف بطورِ خاص توجہ دی، اسے سیکھنے کی ترغیب دلائی اور اس کی تعلیم کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ جب جنگ ِبدر میں قریش کو شکست ِفاش ہوئی اور ان کے 70 سردار قیدی بنالئے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قید سے رہائی کے لئے مالی فدیہ عائد کردیا اور جو لوگ یہ فدیہ اَدا نہیں کرسکتے تھے ، ان میں سے کتابت کا فن جاننے والوں پر یہ شرط عائد کی گئی کہ اُنہیں اس وقت تک آزاد نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ ہر شخص مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا نہیں سکھا دیتا۔ اور اس کے ساتھ ہی مدینہ منورہ میں کتابت اور تعلیم و تعلّم کے میدان سج گئے پھر جوں جوں فتوحات کاسلسلہ بڑھا اور اسلام کا دائرہ وسیع ہوا ،اسی طرح کتابت اور تعلیم و تعلّم کایہ سلسلہ بھی وسعت پذیر ہوتا رہا۔ اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ دورِ رسالتؐ میں ہی وحی لکھنے پر مقرر صحابہ کرامؓ کی تعداد چالیس ہو چکی تھی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلم حکمرانوں نے تمام بلادِ اسلامیہ میں کتابت اور تعلیم کی اشاعت میں کا رہائے نمایاں انجام دیئے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اسلام اور ذرائع ووسائل علم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اُنہیں ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا اور اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو انسانیت کو ترقی کے اَوجِ کمال پر فائز کرنے کے لئے تمام علمی اور عملی کاوشیں بروئے کار لاتا ہے۔

مؤرخین نے لکھا ہے کہ حرب بن اُمیہ نے جو رسم الخط سیکھا اور قریشیوں کو سکھایا تھا، وہ انباری حیری رسم الخط تھا جو حجاز میں منتقل ہونے کے بعد حجازی رسم الخط کے نام سے موسوم ہوا اور اس وقت کاتبینِ عرب کے ہاں یہی رسم الخط متداول اور رائج تھا۔ اسی رسم الخط میں وہ اپنے خطوط اور اشعار وغیرہ لکھا کرتے تھے۔ جب اسلام دنیا کے نقشہ پر ظاہر ہوا تو اس نے کتابت وحی کے لئے اسی رسم الخط کو اختیار کیا۔حضرت ابوبکر ؓکے صحیفے اور اس کے بعد مصاحف ِعثمانیہ اسی رسم الخط میں تحریر کئے گئے تھے۔ اور یہی رسم الخط ایک عرصہ لوگوں کے درمیان مسلسل متداول رہا جس میں وہ مصاحف اور احادیث کی کتابت کیا کرتے تھے۔

پھر جب فتوحاتِ اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہوا، بہت سے نئے شہر آباد ہو گئے تو اسی دوران کوفہ سے فن خطاطی کے ماہرین کی ایک جماعت مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ہوئی جہاں اُنہیں عربی رسم الخط کو خوبصورت اور عمدہ بنانے کا کام سونپ دیا گیا ۔اس کے بعد ایک وقت آیا کہ اہل کوفہ کا یہ خط اپنی طرز و صورت میں خط ِحجازی سے بازی لے گیا۔ اسی وقت سے اس خط ِحجازی کو خط کوفی سے موسوم کردیا گیا۔ اس کے بعد مصاحف اور احادیث اسی خط میں لکھے جانے لگے۔

مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ یہ خط ماہرین ِفن کے ہاتھوں ترقی کی منزلیں طے کرتا رہا۔ حتی کہ قطبہ محرر، ضحاک بن عجلان اور اسحق بن حماد جیسے فن خطاطی کے ماہرین نے اس خط کے حسن کو کمال تک پہنچا دیا۔ قطبہ نے خط ِکوفی اور حجازی کو ملا کر ایک نیا خط تخلیق کیا۔ اس وقت جو خط رائج ہے، اس کی اساس یہی خط ہے۔

پھر عباسی دورِ حکومت میں دیگر فنی علوم کے ساتھ ساتھ عربی خط میں بھی ارتقا ہوا۔ عباسیوں کے سنہری دورِ حکومت کے ایک نامور وزیر ابوعلی محمد بن مقلہ نے اپنی بے پناہ ذہانت اور کمالِ مہارت سے قطبہ کے کام کو بامِ عروج تک پہنچا دیا۔ عربی کتابت کو خط ِکوفی سے موجودہ شکل میں لا نے کے لئے اس نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں کو صرف کیا۔ اس نے عربی کتابت کی بے شمار شکلیں اور ایک ایک شکل کی کئی کئی صورتیں اورفروعات ایجاد کیں ۔

اس کے بعد جوابن بواب علی بن ہلال بغدادی نے ابن مقلہ کے منہج پر اس کام کو آگے بڑھایا۔ ابن مقلہ کے طریقۂ خطاطی کو اختیار کرتے ہوئے اس میں تہذیب و تنقیح کی، اس کے قواعد کو مکمل کیا۔ اس میں مزید نکھار اور حسن پیدا کیا اور اسے انتہائی کمال تک پہنچا دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ہر علاقہ میں علما اور خطاطوں نے خطاطی اور اِملا کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا، اس میں حسن اور تنوع پیدا کرنے کے لئے تکالیف اُٹھائیں ، اسے پروان چڑھانے اور خوبصورت بنانے کے لئے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کی یہاں تک کہ یہ فن یکسانیت اور خوبصورتی اور صفائی میں اپنی انتہا تک پہنچ گیا۔

رسول اللہﷺ کے دور میں کتابت ِقرآن اور اسے لکھنے والے مشہور صحابہؓ
یہ حکمت ِ الٰہی کا تقاضا تھا کہ اس نے دیگر آسمانی کتب کی طرح قرآنِ کریم کو ایک ہی دفعہ نازل نہیں کیا بلکہ حالات کے مطابق اسے تھوڑا تھوڑا نازل کیا جاتا رہا، کیونکہ اسی میں عظیم حکمتیں اور بے شمار مصلحتیں کارفرما تھیں ۔ ان میں سے چند حسب ذیل ہیں :
ان میں سے ایک حکمت یہ تھی کہ قرآنِ کریم ان حالات کے مطابق نازل ہورہا تھا جو عہد ِنبوت میں پیش آتے رہے ، جو بھی معاملہ پیش آتا اس کے متعلق آیاتِ قرآنی کا نزول ہوتا اور اس کے متعلق اللہ کا حکم واضح کردیا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلمانوں اور غیر مسلموں کی طرف سے جو سوالات کئے جاتے،ان کے مطابق جواب کے طور پر آیاتِ قرآنی نازل کردی جاتی تھیں ۔ اسلام دشمن عناصر کے دلوں میں جو شکوک وشبہات پیدا ہوتے ،ان کے جواب کے لئے قطعی دلائل پر مبنی آیاتِ قرآنیہ نازل ہوتیں اور مسلمانوں کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے عقائد، شرائع واحکام اور فضائل کے متعلق آیاتِ قرآنی کا نزول ہوتا تھا۔
اس کی ایک حکمت یہ بھی تھی کہ قرآنِ مجیدکا چیلنج اور اعجاز زیادہ بلیغ اور نمایاں انداز میں دنیا کے سامنے آجائے۔
اُمت کی دینی اور اخلاقی تربیت ایک ترتیب اور تدریج کے ساتھ اس طرح کی جائے کہ وہ اللہ کی زمین پر خلافت کا منصب سنبھالنے کے لئے تیار ہوسکے۔
قرآنِ کریم کو حفظ کرنے، اسے سمجھنے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنے میں آسانی رہے۔
اور ایک اہم حکمت یہ تھی کہ نزاعات اور کفار کی طرف سے زبردست مخالفت کے موقعوں پر قرآنِ مجید کا نزول آپ کے لئے تسلی اور سہارے کا باعث بن جائے اور رنج و اَلم کی وہ کیفیت رفع ہوجائے جو قوم کے راہِ راست سے دوری کے سبب آپؐ کو لاحق ہوتی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری قوت اور اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے آپ کو دعوت دین کے لئے تیار کرلیں ۔یہ وہ مصلحتیں تھیں جن کی وجہ سے قرآنِ کریم کو 23 سال کے عرصہ میں تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا۔

قرآنِ کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا ،آپؐ خود بھی اسے حفظ کرتے اور لوگوں تک اسے پہنچاتے اور کاتبینِ وحی کو اسے تحریر میں لانے کا حکم دیتے اور ساتھ یہ رہنمائی کرتے کہ اس سورہ کو پہلے سے تحریر شدہ حصہ کی فلاں سورة کے ساتھ رکھ دو اور اس آیت کو فلاں سورہ میں رکھ دو۔ صحابہ کرام ؓ کا حال یہ تھا کہ بعض تو قرآنِ کریم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سن کر حفظ کرلیتے اور بعض حفظ کے ساتھ ساتھ اسے لکھ بھی لیتے۔ چنانچہ کسی کے پاس ایک سورہ، کسی کے پاس پانچ دس سورتیں ، کسی کے پاس زیادہ اور کسی کے پاس تھوڑا اور بعض نے مکمل قرآن کریم لکھ کر یا حفظ کرکے اپنے پاس محفوظ کرلیا تھا۔

کاغذ کی کم یابی کی وجہ سے صحابہ کرامؓ قرآنِ کریم کو کھجور کے چوڑے پتوں ، باریک پتھروں ، کاغذ اور چمڑے کے ٹکڑوں ، حیوانات کے شانے کی چوڑی ہڈیوں اور پسلی کی ہڈیوں پر لکھتے تھے۔ وہ صحابہ کرام جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قرآنِ کریم کے سامنے بیٹھ کر قرآن کریم کو لکھا ، ان میں حضرت ابوبکر ؓصدیق، عمرؓ بن خطاب، عثمانؓ بن عفان، علیؓ بن ابی طالب، معاویہؓ بن ابن سفیانؓ، ابانؓ بن سعید، خالدؓ بن ولید، اُبیؓ بن کعب، زیدؓ بن ثابت، ثابتؓ بن قیس اور دیگر متعدد جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین شامل ہیں ۔

اور دورِ نبوت ابھی اختتام پذیر نہیں ہوا تھا کہ قرآنِ کریم مکمل طور پر لکھا ہوا موجود تھا ، البتہ سورتوں کی موجودہ ترتیب کے ساتھ ایک جگہ پر باقاعدہ مصحف کی شکل میں لکھا ہوا موجود نہیں تھا۔ اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُنہیں قرآنِ کریم باقاعدہ مصحف کی شکل میں لکھنے کا حکم بھی نہیں دیاتھا، کیونکہ صحابہ کرام ؓ قرآنِ کریم کو حفظ کرنے پر اپنی توجہ صرف کررہے تھے۔ نیزدورِ نبوت میں قرآنِ کریم کے بعض مقامات پر اضافہ اور بعض آیات کے منسوخ ہونے کا امکان بھی اس امر سے مانع تھاکہ اسے باقاعدہ مصحف میں مرتب انداز سے مدوّن کردیا جاتا۔

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سانحۂ ارتحال کے بعد جب نزولِ قرآن کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور اس میں حذف و اضافہ کا امکان بھی باقی نہ رہا تو اللہ نے خلفاے راشدین کے دل میں قرآنِ کریم کو ایک مقام پر مصحف کی شکل میں جمع کرنے کی بات ڈال دی تاکہ اس اُمت سے قرآن کی حفاظت کا کیا ہوا سچا وعدہ پورا ہوسکے۔ چنانچہ اس مبارک کام کا آغاز حضرت عمرؓ اوردیگر صحابہؓ کی باہم مشاورت سے حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھوں ہواجس کی تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی جارہی ہے۔

دورِ رسالت ؐمیں قرآن مجید کی حفاظت کے لئے کتابت اور حفظ کے ساتھ ساتھ مزید اہتمام یہ بھی تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر سال ماہِ رمضان میں جبریلِ امین کے ساتھ قرآنِ کریم کا دور کرتے یعنی اُن سے سنتے اور اُنہیں سناتے تھے اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر آخرت اختیار کیا، اس سال دو دفعہ قرآن کریم کا دور کیا۔ چنانچہ سنن ابن ماجہ میں حضرت فاطمہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں یہ بات کہی کہ جبریل امین میرے ساتھ ہر سال ایک مرتبہ قرآن کا دور کرتے تھے، لیکن اس سال مجھ سے دو دفعہ دور کیا ہے،لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے۔1

الغرض قرآنِ کریم دورِ نبویؐ میں مکمل طور پر لکھا ہوا موجود تھا، لیکن وہ سورتوں کی ترتیب کے ساتھ باقاعدہ مصحف کی شکل میں نہیں بلکہ کھجور کی چھال اور ہڈیوں وغیرہ پر بکھرا ہوا تھا اور اس کے ساتھ صحابہ کرام ؓ کے سینوں میں بھی محفوظ تھا۔ بعض صحابہ ؓ وہ تھے جنہیں ہمہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ میسر ہونے کی وجہ سے مکمل قرآن مجید یاد تھا مثلاً خلفاے اربعہ اور دیگر متعدد صحابہ کرام جبکہبعض وہ تھے جنہیں قرآنِ مجید کا اکثر حصہ یاد تھا اور بعض کو قرآن کا کچھ حصہ یاد تھا۔

حضرت ابوبکر ؓ کے دور میں جمع قرآن اور اس کے اسباب
عربی زبان میں 'جمع القرآن' کالفظ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے:
  1. زبانی حفظ کے معنی میں
  2. کتابت اور تدوین کے معنی میں
اور حقیقت یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مذکورہ دونوں معنوں میں حفاظت ِقرآن کا انتظام ہوا۔ جہاں تک پہلے معنی کا تعلق ہے تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کو اپنے سینہ میں محفوظ کیا اور قرآنِ کریم آپؐ کے صفحاتِ قلب پر نقش تھا۔ نیز آپ کے دور میں متعدد صحابہؓ قرآنِ کریم کے حافظ تھے ۔ مہاجرین صحابہ کرام میں خلفاے اربعہ، طلحہ، سعد، حذیفہ بن یمان، سالم مولیٰ ابی حذیفہ، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس، عمرو بن العاص، ان کے بیٹے عبداللہ، معاویہ، ابن زبیر، عبداللہ بن سائب، حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت حفصہ، حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو مکمل قرآنِ کریم حفظ تھا۔ اور انصاری صحابہ ؓ میں اُبی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابودردائ، مجمع ابن حارثہ، انس بن مالک رضی اللہ عنہم اور دیگر متعدد صحابہ کرام ؓ حافظ قرآن تھے۔

جہاں تک دوسرے معنی میں حفاظت ِقرآن کا تعلق ہے تو اس کا اہتمام بھی دورِ نبویؐ میں بخوبی ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگرانی میں اور آپؐ کے سامنے مکمل قرآنِ کریم لکھا گیا،اگرچہ پتھروں ، کاغذ اور چمڑے کے ٹکڑوں پر ہی سہی، لیکن یہ بات حتمی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا تھا کہ قرآنِ کریم اکثر صحابہ کے سینوں میں محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف اشیا پر تحریری شکل میں بھی موجود تھا۔

جب حضرت ابوبکرؓنے __جو سب سے بڑھ کر منصب ِخلافت کے مستحق تھے __ تمام صحابہؓ کی بیعت کے ساتھ مسند ِخلافت پر قدم رکھا تو ایک بہت بڑے واقعہ نے اُنہیں قرآنِ کریم کو مصحف کی شکل میں جمع کرنے پر آمادہ کیا کیونکہ اس واقعہ سے یہ خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ قرآنِ کریم کہیں ضائع نہ ہوجائے۔ واقعہ یہ ہوا کہ مسیلمہ کذاب اور دیگر مرتدینِ اسلام سے مسلمانوں کی جنگ چھڑ چکی تھی اور یہ ایک بہت بڑی جنگ تھی۔ ایک طرف مرتدین تھے اور ان کے مقابلے میں تمام اُمت مسلمہ برسرپیکارتھی۔تاریخ میں اس لڑائی کو 'جنگ ِیمامہ' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جس میں صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑی تعداد شہید ہوگئی۔ جب یہ خبر مدینہ منورہ پہنچی تو حضرت عمرؓبن خطاب سخت غمناکی کے عالم میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس تشریف لائے اور اُنہیں معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ اگر قراء صحابہ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو خطرہ ہے کہ قرآنِ کریم کا کوئی حصہ ضائع نہ ہوجائے۔ لہٰذا اُنہوں نے قرآنِ کریم کو مدوّن کرنے کی تجویز پیش کی۔

حضرت ابوبکرؓ صدیق کو پہلے تو اس کام میں تردّد ہوا کہ یہ ایک نیا کام تھا جو دور ِنبوت میں نہیں ہوا تھا اور حضرت ابوبکر ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے شدید حریص ہونے کے ناطے آپؐ کی سنت میں سرمو اِنحراف نہیں کرسکتے تھے،لیکن حضرت عمرؓ سے طویل مذاکرات کے بعد، وہ ان کی رائے کے قائل ہوگئے۔ جمع قرآن کی مصلحت ان کے سامنے واضح ہوگئی اور وہ جان گئے کہ حفاظت ِقرآن کے لئے قرآنِ کریم کو جمع کرنے کا یہ اقدام انتہائی ضروری ہے، لہٰذا اُنہوں نے حضرت عمرؓ کی رائے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کرلیا اور دیگر اہم معاملات کی طرح اس عظیم معاملہ سے بھی وہ نہایت کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہوئے۔

چنانچہ اس کام کے لئے صحابہ کی باہم مشاورت سے حضرت زید بن ثابتؓ کا انتخاب ہوا ۔ بڑی عمر کے قدیم الاسلام اور جلیل القدر صحابہ کی موجودگی کے باوجود حضرت ابوبکر صدیقؓ نے حضرت زید بن ثابت کو اس لئے ترجیح دی کہ وہ ان مشہور صحابہ میں سے تھے جو قرآنِ کریم کے پختہ حافظ، ماہر قاری، اس کے حروف کے شناور اور اعراب القرآن و لغات القرآن کے جید عالم تھے اور وہ ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھنے پر مامور رہے۔ نیز وہ جبریل ؑ امین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور ِقرآنی میں بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ وہ نہایت عقل مند اور ذہین ، زہدو ورع کے پیکر، مجسمۂ دین و عدالت، قرآن کے امین اور اپنے دین و اخلاق کے حوالے سے بے عیب تھے۔ اس طرح ان میں بیک وقت ایسی خوبیاں اور خصوصیات جمع ہوگئیں تھیں جو بعض کبار صحابہ میں بھی یکجا نہیں تھیں ۔یہ وجہ تھی جس کی بنیاد پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس عظیم کام کے لئے ان کا انتخاب کیا۔

جب وہ حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اُنہوں نے جمع قرآن کا یہ منصوبہ ان کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ میں نے اس عظیم کام کی انجام دہی کے لئے آپ کا نام تجویز کیا ہے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کو اس میں تردّد ہوا لیکن بالآخر وہ حضرت ابوبکر ؓو عمرؓ کے ساتھ بحث و تمحیص کے بعد دونوں بزرگوں کی رائے اور اس کی اہمیت کے قائل ہوگئے اور پھر اُنہوں نے اس مقدس کام کا آغاز کردیا۔

اُنہوں نے جس جس صحابی کے پاس قرآن کریم کا کوئی مجموعہ موجود تھا، اسے حاصل کیا۔ کھجور کی چھال، پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کریم کو مدوّن کرنا شروع کیا اور صرف اُنہی مجموعوں کو پیش نظر رکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھے گئے تھے۔ وہ خود بھی حافظ ِ قرآن تھے لیکن اس کے باوجود اُنہوں نے کتابت ِقرآن کو اس لئے پیش نظر رکھا تاکہ ضبط اور حفاظت ِقرآن میں کوئی کسر باقی نہ رہ جائے اور اس طرح اُنہوں نے قرآنِ مجید کو صحیفوں میں مدوّن کردیا۔

اس دور کی پوری تفصیل صحیح بخاری میں موجود ہے اور حضرت زید بن ثابتؓ ہی اس حدیث کے راوی ہیں کہ جنگ ِیمامہ میں متعدد صحابہ ؓکی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مجھے بلایا۔ حضرت عمر فاروقؓ بھی ان کے پاس تشریف فرما تھے۔ ابوبکرؓ نے بات شروع کی کہ عمرؓ میرے پاس آئے ہیں اور کہا ہے کہ جنگ ِیمامہ میں بے شمارقرا صحابہ کرام شہید کردیے گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ اگر مختلف علاقوں میں قراء صحابہ اسی طرح شہید ہوتے رہے تو قرآنِ کریم کا اکثر حصہ ضائع ہوجائے گا، لہٰذا آپ قرآنِ کریم کو جمع کرنے کا حکم صادر کریں ۔ میں نے عمرؓ سے کہا: ہم وہ کام کیسے کرسکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام نہیں دیا۔ عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم!یہ کام انتہائی بہتر ہے۔ وہ مسلسل مجھ سے تبادلۂ خیال کرتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے میرا سینہ اس کام کے لئے کھول دیاہے۔ اب اس سلسلہ میں میری بھی وہی رائے ہے جو عمرؓ کی ہے۔ پھر مجھے مخاطب کرتے ہوئے حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:
''تم ایک ذہین نوجوان ہو، تم میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو قابل اعتراض ہو نیز تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھتے رہے ہو، لہٰذا قرآن کریم کو جمع کرو اور اسے مدوّن کردو۔ ''

اللہ کی قسم! اگر وہ مجھے کہتے کہ اس پہاڑ کو اُٹھا کر وہاں منتقل کردو تو یہ میرے لئے اتنا گراں بار نہیں تھا جتنا قرآنِ کریم کو مدوّن کرنا۔ چنانچہ میں نے کہا: آپؓ وہ کام کیسے کرسکتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا: اللہ کی قسم !اسی کام میں بہتری اور مصلحت ہے۔ حضرت ابوبکرؓ مسلسل مجھ سے تبادلۂ خیال کرتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے حضرت ابوبکرؓ و عمر ؓکی طرح میرا سینہ بھی کھول دیا، لہٰذا میں نے قرآنِ کریم کو تلاش کیا اور اسے کھجور کی چھال، پتھروں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کردیا۔

سورۂ توبہ کی آخری دو آیات {لَقَدْ جَآءَكُمْ رَ‌سُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِ‌يصٌ عَلَيْكُم بِٱلْمُؤْمِنِينَ رَ‌ءُوفٌ رَّ‌حِيمٌ ﴿١٢٨﴾ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِىَ ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَ‌بُّ ٱلْعَرْ‌شِ ٱلْعَظِيمِ ﴿١٢٩...سورة التوبہ} (بطورِ شہادت مجھے کسی کے پاس لکھی ہوئی مل نہیں رہی تھیں جو ) بالآخر حضرت ابوخزیمہ انصاریؓ کے پاس مل گئیں (اوراس طرح یہ مصحف مکمل ہوگیا) جو حضرت ابوبکرؓ کی وفات تک ان کے پاس رہا۔ پھر حضرت عمرؓ کے پاس اور پھر حضرت حفصہ بنت ِعمرؓ کے پاس رہا۔ 2

صحیح بخاری کی یہ حدیث اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ مصحف کی شکل میں قرآنِ کریم پہلی دفعہ حضرت ابوبکرؓ کے دور میں جمع ہوا جو اس سے پہلے کھجور کی چھال اور پتھروں اور کتابت کے لئے رائج دیگر چیزوں پرلکھا ہوا موجود تھا اور اس کے ساتھ صحابہ کرام کے سینوں میں بھی محفوظ تھا اور اس کام کے لئے حضرت ابوبکرؓ صدیق نے زیدؓ بن ثابت کو اس لئے متعین کیا کہ وہ اپنی جامع صفات کی وجہ سے اس کے لئے دیگر صحابہؓ کی نسبت زیادہ موزوں تھے۔

حضرت زید بن ثابت نے جمع قرآن کے سلسلہ میں دو مصادر پر اعتماد کیا:
  1. جو قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مختلف چیزوں پر لکھا ہوا موجود تھااور
  2. جو حفاظ کرام کے سینوں میں محفوظ تھا


حضرت زیدؓ بن ثابت کا طریقہ یہ تھا کہ وہ لکھی ہوئی کوئی آیت اس وقت تک قبول نہ کرتے تھے جب تک کہ حتمی توثیق نہ کرلیتے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی اور عرضۂ اَخیرہ کے وقت اسے ثابت رکھا گیا تھا اور ا س کی تلاوت منسوخ نہیں کی گئی۔ نیز اس وقت تک کوئی چیز قبول نہ کرتے جب تک دو صحابی گواہی نہ دے دیتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی۔

اس کی دلیل وہ روایت ہے جو امام ابن ابی داؤد نے یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب کے حوالہ سے بیان کی ہے کہ حضرت عمرؓ تشریف لائے اور فرمایا:جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآنِ کریم کا کوئی حصہ حاصل کیاہے، وہ اسے لے آئے۔ اور صحابہ کرامؓنے مختلف چیزوں پر لکھے ہوئے اپنے اپنے صحیفے تیار کررکھے تھے اور وہ اُنہیں اس وقت تک قبول نہیں کرتے تھے جب تک کہ دو شخص ان کے بارے میں گواہی نہ دے دیتے۔3

امام سخاوی فرماتے ہیں : مراد یہ ہے کہ یہ گواہی بھی لی جاتی تھی کہ لکھی ہوئی یہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی گئی تھی۔ نیز حضرت زید ؓ نے تنہا حفظ پر ہی اعتماد نہیں کیا، اس کی دلیل یہ ہے کہ سورئہ براء ة کی آخری آیات باوجودیکہ حضرت زید کو حفظ تھیں اور ان کے علاوہ متعدد صحابہ کو بھی حفظ تھیں ، لیکن اس وقت اُنہیں درج نہیں کیا جب تک کہ حضرت خزیمہؓ کے پاس بھی لکھی شہادت نہیں مل گئی اور حفظ کے ساتھ کتابت کو ملحوظ رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ زیادہ زیادہ توثیق اور احتیاط کا اہتمام ہوسکے۔

کتابت ِ قرآن کے سلسلہ میں حضرت زیدؓ نے یہ اہتمام بھی کیا کہ اس کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہو۔ عرضۂ اخیرہ کے وقت اسے باقی رکھا گیا ہو اور اس کی تلاوت منسوخ نہ ہوئی ہو۔ وہ اخبار آحاد سے ثابت نہ ہو اور نہ ہی وہ قرآنِ کریم کی کوئی شرح اور تاویل ہو اور اس کی سورتیں اور آیات دونوں مرتب ہوں ۔ اور اسے آیات اور سورتوں دونوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کردیا جائے۔ چنانچہ اس لائحہ عمل کے مطابق حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی زیر نگرانی حفاظ کے سینوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھے گئے صحائف سے قرآنِ کریم کی جمع وتدوین پایۂ تکمیل کو پہنچی۔ دورِ صدیق میں قرآنِ کریم کی یہ جمع و تدوین حضرت ابوبکر صدیقؓ کا بہت بڑا کارنامہ ہے جس کی وجہ سے قرآنِ کریم کو بکھرنے اور ضائع ہونے سے بچانے کا سامان کیا گیا۔ ان کے اس کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے حضرت علی ؓ نے فرمایا تھا:
أعظم الناس في المصاحف أجرا أبوبکر۔ رحمة اﷲ علی أبي بکر ھو أول من جمع کتاب اﷲ تعالیٰ4
''مصاحف کے ضمن میں سب سے بڑھ کر اَجرو ثواب کے مستحق حضرت ابوبکرؓ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ابوبکر پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے کہ اُنہوں نے کتاب اللہ کو جمع کرنے کااہتمام کیا۔''

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس کام کا اگر گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت صاف واضح ہوجاتی ہے کہ ان کا یہ کام بدعت یاخلافِ اسلام ہرگز نہیں تھا، بلکہ شریعت ِمطہرہ کے ان اُصولوں کے مطابق تھا جو کتابت ِ قرآن کے سلسلہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضع فرما دیئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی کو لکھنے کے لئے کاتبین کی ایک جماعت کو مقرر کرنا اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ ابوبکرؓ کا کام عین سنت کے مطابق تھا۔چنانچہ ابوعبداللہ المحاسبی فرماتے ہیں :
کتابة القرآن لیست محدثة5
''قرآنِ کریم کی کتابت قطعاً بدعت نہیں ہے۔ ''

بلکہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کو لکھنے کا حکم دیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل قرآن مجید لکھا ہوا موجود تھا، لیکن چونکہ وہ مختلف چیزوں پربکھرا ہوا تھا لہٰذا ابوبکر صدیقؓ نے اس بکھرے ہوئے مواد کو اسی ترتیب سے ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا۔

قرآنِ مجید کے یہ صحیفے خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیقؓ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس رہے۔ ان کی وفات کے بعد خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے پاس منتقل کردیے گئے اور پھر ان کے دورِ خلافت میں اُنہیں کے پاس رہے۔ والدکی وفات کے بعد حضرت حفصہؓ کے پاس رہے۔ جب مروان مدینہ منورہ کا گورنر مقرر ہوا تو اُنہوں نے یہ صحیفے حضرت حفصہ سے طلب کئے لیکن اُنہوں نے دینے سے انکار کردیا۔ جب حضرت حفصہؓ کی وفات ہوگئی تو مروان ان کے جنازہ میں شریک ہوئے اور ان کے بھائی عبداللہ سے وہ صحیفے منگوائے اور اُنہیں نذرِ آتش کروا دیا اور کہا:
إنما فعلت ھذا لأن ... فخشیت أن طال بالناس زمان أن یرتاب في شأن ھذہ الصحف مرتاب6
''میں نے یہ کام اس خدشہ کے پیش نظر انجام دیا کہ ایک عرصہ گزرنے کے بعد کہیں کوئی شخص ان صحیفوں کے متعلق شک و شبہ کا شکارنہ ہو۔''

یاد رہے کہ مروان بن حکم نے یہ کام اس وقت انجام دیا تھا جب حضرت عثمانؓ کے حکم سے مصاحف ِعثمانیہ مدون ہوکر مختلف علاقوں کو روانہ کردیئے گئے تھے اور حضرتؓ عثمان نے مصاحف کے علاوہ دیگر تمام صحیفوں اور مصاحف کو نذرِ آتش کروا دیا تھا جس کی تفصیل آئندہ سطور میں آرہی ہے۔

حضرت عثمان ؓکے عہد میں جمع قرآن اور اس کے اسباب
وہ صحیفے جو حضرت زید بن ثابتؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے حکم سے مدوّن کئے تھے، حضرت عثمانؓ کی خلافت کے آغاز سے ہی حضرت حفصہؓ کے پاس تھے۔ پھر جب حضرت عثمانؓ کے دور میں فتوحاتِ اسلامیہ کا دائرہ وسیع ہوا اور مسلمان عرب سے نکل کر دور دراز علاقوں میں پھیل گئے تو مملکت اسلامیہ میں شامل ہر علاقہ کے لوگوں نے اپنے علاقہ کے مشہور قاری سے اس کی قراء ت کے مطابق قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ چنانچہ اہل شام اُبی بن کعب کی قراء ت پڑھتے تھے۔ اہل کوفہ عبداللہ بن مسعود کی قراء ت پڑھتے تھے اور دیگر لوگ حضرت ابوموسیٰ اشعری کی قراء ت کے مطابق پڑھتے تھے اور وجوہِ قراء ات میں ان کے درمیان اختلاف تھا۔ وجوہِ قراء ات میں اس اختلاف کی بنیاد یقینا یہی تھی کہ قرآنِ کریم کو اللہ کی طرف سے سات حروف پر نازل کیاگیا تھا جیساکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ 7

چنانچہ جب مختلف علاقوں کے لوگ کسی مجلس یا دشمنوں کے خلاف جہاد کے موقع پر جمع ہوتے اور قرائات کا یہ اختلاف سنتے تو اُنہیں سخت تعجب ہوتا۔ حتیٰ کہ اس کی وجہ سے لوگوں میں قراء تِ قرآنیہ کے متعلق باہم اختلاف اور جھگڑے شروع ہوگئے۔ ہر فریق اپنی قراء ت کو برحق اور دوسرے کی قراء ت کو غلط قرار دینے لگا۔ بعض فخریہ انداز میں اپنی قراء ت کو دوسرے کی قراء ت سے بہتر قرار دیتے۔ پھر مقابلہ میں وہ بھی یہی رویہ اختیار کرتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ اختلاف اس حد تک بڑھ گیا کہ اُنہوں نے ایک دوسرے کو گنہگار کہنا شروع کردیا۔

اس اختلاف کی شدت کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جاسکتا ہے جو حضرت عثمانؓ کے عہد کے دوسرے یا تیسرے سال 25ہجری کوپیش آیا تھا۔ اور یہی واقعہ مصاحف کی تدوین کا باعث ہوا۔ واقعہ یہ ہوا کہ اہل عراق اور اہل شام آرمینیا اور آذربائیجان کے محاذ پر جہاد کے لئے جمع ہوئے۔ اہل علاقہ کے لشکر میں حضرت حذیفہؓ بن یمان بھی اس محاذ پر شریک ِجہاد تھے۔ وہاں اُنہوں نے دیکھا کہ مسلمان قراء توں کے بارے میں سخت اختلاف کررہے ہیں اور یہ بھی سنا کہ ہر فریق دوسرے کو ان وجوہِ قراء ات میں اختلاف کی وجہ سے گناہگار قرار دیتا اور اسے تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔

حضرت حذیفہؓ نے اس معاملہ کو انتہائی سنگین سمجھا اور بھاگم بھاگ حضرت عثمان ؓ کے پاس پہنچے اور اُنہیں اس صورتِ حال سے آگاہ کیا اور عرض کی: (أدرک الناس قبل أن یختلفوا في کتابھم کما اختلف الیھود والنصارٰی) ''امیرالمومنین! پہلے اس سے کہ یہ اُمت یہود و نصاری کی طرح اختلاف کا شکار ہو، اس کا علاج کرلیجئے۔''

حضرت عثمان ؓ نے اپنی دور اندیشی اور بے پناہ ذہانت سے یہ بھانپ لیا کہ یہ اختلاف ایک بہت بڑے شر کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور اگر حکمت اور دانش مندی سے اس کا علاج نہ کیا گیا تو اس کے نہایت خطرناک نتائج مرتب ہوں گے۔ چنانچہ اُنہوں نے اس سنگین صورت حال سے اُمت کو بچانے کے لئے جلیل القدر صحابہ کرام کو جمع کیا اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے ان سے مشورہ طلب کیا۔

کافی غوروخوض کے بعد تمام صحابہ کرامؓ اس بات پرمتفق ہوگئے کہ سبعة أحرف کی رعایت کرتے ہوئے کچھ مصاحف تیار کئے جائیں اور ہر علاقہ کی طرف ایک مصحف کا نسخہ روانہ کردیا جائے تاکہ وہ اختلاف اور جھگڑے کے وقت اس کی طرف رجوع کرسکیں اور ان مصاحف کے علاوہ باقی تمام صحیفے جلا دیئے جائیں ۔ یہی وہ قابل اعتماد صورت تھی جس سے مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد پیدا کیا اور اختلاف کو جڑ سے اکھیڑا جاسکتا تھا۔ چنانچہ حضرت عثمان ؓ نے صحابہ کرام ؓ کے اس متفقہ فیصلہ کے نفاذ پر کام شروع کردیا ۔ اس اہم مہم کوانجام دینے کے لئے درج ذیل جلیل القدر حفاظ صحابہ کرامؓ کا انتخاب عمل میں آیا

زید بن ثابتؓ: ان کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جمع قرآن کے لئے منتخب کیا تھا، کیونکہ وہ مذکورہ بالا صفات کی بنا پر اس کام کے لئے انتہائی موزوں شخصیت تھے۔

عبداللہ بن زبیرؓ،سعید بن العاصؓ اورعبدالرحمن بن الحارث بن ہشامؓ یہ تینوں صحابہ قریشی تھے۔

حضرت عثمان ؓ نے حضرت حفصہؓ کے پاس پیغام بھیجاکہ آپ کے پاس جو صحیفے ہیں وہ ہمیں بھیج دیں ۔ حضرت حفصہؓ نے وہ صحیفے جمع قرآن کے لئے نامزد کمیٹی کے پاس بھیج دیئے۔ کمیٹی نے ان صحیفوں کو مدنظر رکھ کر مصاحف تیار کئے۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ مصاحف کی تیاری پر ۱۲ صحابہ کو مامور کیا گیا تھا جن میں اُبی بن کعب بھی شامل تھے۔

کتابت ِمصحف کے سلسلہ میں حضرت عثمان ؓ کا دستور
واضح رہے کہ مصاحف کو نقل کرنے کا یہ سارا کام خود امیرالمؤمنین حضرت عثمانؓ اور مہاجرین و اَنصار کبار صحابہ کرامؓ کی سرپرستی اور نگرانی میں ہورہا تھا اور شدتِ اہتمام کا یہ عالم تھا کہ قرآنِ کریم کا ایک حرف بھی اس وقت تک لکھا نہیں کیا جاتا تھا جب تک اسے تمام صحابہ کرام پر پیش کرکے تصدیق نہیں کروالی جاتی تھی کہ یہ واقعی قرآن ہے، اس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی اور اسے عرضۂ اَخیرہ میں برقرار رکھا گیا ہے۔

چنانچہ ایسی کوئی چیز رقم نہیں کی گئی جس کی تلاوت منسوخ ہوگئی ہو اور عرضۂ اَخیرہ کے وقت اسے باقی نہ رکھا گیاہو اور نہ ہی کسی ایسی چیز کو قرآنِ کریم میں جگہ دی گئی جو خبر واحد سے ثابت ہو یعنی اس کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت نہ ہوسکا ہو۔ مثال کے طور پر وہ توضیحی اَقوال جو بعض صحابہ کرامؓ نے اپنے ذاتیمصاحف میں کسی آیت یا کسی لفظ کی تشریح یا ناسخ و منسوخ کی وضاحت کے سلسلہ میں درج کرلئے تھے اُنہیں قرآن سے خارج رکھا گیا۔

حضرت عثمان ؓ نے متعدد مصاحف رقم کروائے تھے ، جن کی تفصیل ہم آئندہ سطور میں پیش کریں گے۔ اس سے ان کا مقصد یہ تھا کہ تمام بلادِاسلامیہ میں تمام صحابہ کرام کامجمع ومتفق علیہ مصحف روانہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ ان مصاحف کے رسم میں حذف و اثبات، اور حک واضافہ کے اعتبار سے کسی قدر فرق بھی تھا۔ بعض میں ایک حرف یا لفظ زائد تو بعض میں کم تھا۔ اس فرق کی وجہ یہ تھی کہ ان ساتوں حروف کا احاطہ ہوسکے جن پر قرآنِ کریم نازل ہوا تھا اور اسی غرض کے لئے ان مصاحف کو اِعراب اور نقطوں سے خالی رکھا گیا تھا۔ وہ کلمات جو ایک سے زائد قرائات پر مشتمل تھے اور اُنہیں نقطوں اور اعراب سے خالی رکھنے سے ان میں تمام قرائات سما سکتی تھیں ، ایسے کلمات کو تمام مصاحف میں ایک ہی رسم پر لکھا گیا۔

مثال کے طور پر {فَتَبَیَّنُوْا} اور {نُنْشِزُھَا} اور {ھَیْتَ لَکَ} اور {أفٍّ} وغیرہ۔باقی رہے وہ کلمات جو ایک سے زائد قراء ات پر مشتمل تھے، لیکن اُنہیں نقطوں اور اعراب سے خالی رکھنے کے باوجود بھی ان کا رسم زیادہ قراء توں کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا تو ایسے کلمات کو ایک رسم پر لکھنے کی بجائے بعض مصاحف میں ایک رسم سے اور بعض مصاحف میں دوسری قراء ات کے مطابق الگ رسم کے ساتھ لکھ دیا گیا۔

مثلاً سورئہ بقرہ کی آیت {وَوَصَّىٰ بِهَآ إِبْرَ‌ٰ‌هِـۧمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَـٰبَنِىَّ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰ لَكُمُ ٱلدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ ﴿١٣٢...سورة البقرة} کو بعض مصاحف میں ص سے پہلے دو واؤں کے ساتھ اور بعض میں ایک واؤ کے ساتھ لکھا گیا ہے اور دو واؤں کے درمیان الف موجود نہیں ہے جبکہ بعض مصاحف میں دو واؤ کے درمیان الف موجود ہے یعنی وَ اَوْصٰی

اسی طرح سورۂ آلِ عمران میں {وَسَارِ‌عُوٓا إِلَىٰ مَغْفِرَ‌ةٍ مِّن رَّ‌بِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْ‌ضُهَا ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتُ وَٱلْأَرْ‌ضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٣...سورة آل عمران} بعض مصاحف میں سین سے پہلے واؤ موجود اور بعض میں محذوف ہے۔

اور {تَجْرِ‌ى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ‌...﴿٧٢...سورة التوبہ} میں مکی مصحف میں تحتھا سے پہلے مِنْ کا اضافہ ہے اور باقی مصاحف میں مِنْ حذف ہے ۔

واضح ہوا کہ جمع قرآن پر مامور کمیٹی نے اس نوع کے کلمات کو ایک ہی مصحف میں اکٹھا دو رسموں کے ساتھ نہیں لکھا کیونکہ اس میں یہ خدشہ پیداہوسکتا تھا کہ شاید یہ لفظ ایک ہی قراء ت میں دو دفعہ نازل ہوا ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی لفظ کی دو قرآء تیں ہیں ۔ یہ لفظ بغیر تکرار کے دو وجوہ میں نازل ہوا ہے۔ اور نہ ہی اُنہوں نے ایسے کلمات کو اس طرح دو رسموں کے ساتھ لکھا کہ ایک کو اصل متن میں رکھتے اور دوسرے کو حاشیہ میں رکھتے۔ کیونکہ اس سے یہ وہم پیدا ہوسکتا تھا کہ شائد حاشیہ میں اصل متن کی تصحیح کی گئی ہے۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین نے کتابت ِمصاحف میں یہ طرزِ عملکیوں اختیار کیا؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے قرآنِ کریم ان تمام وجوہِ قراء ات اور حروف کے ساتھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیا جن پر وہ نازل ہوا تھا چنانچہ قرآنِ کریم کی ان تمام وجوہ کا احاطہ کرنے کے لئے یہی منہج اور طریقہ سب سے زیادہ موزوں تھا۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اُنہوں نے بعض قرائات کو حذف کردیا تھا کیونکہ تمام قراء ات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں ۔

اس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ قراء کے جس اختلاف نے حضرت حذیفہؓ اور عثمانؓ کو پریشان کیا اور جوبالآخر کتابت ِقرآن کا باعث ہوا، وہ اختلاف سبعہ اَحرف اور قراء ات کے سلسلہ میں ہی تھا جو صحابہ کرام نے عرضۂ اَخیرہ سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی تھیں پھر بعض وجوہِ قراء ات عرضۂ اخیرہ کے وقت منسوخ ہوگئیں لیکن عرضۂ اخیرہ کے وقت حاضر نہ ہونے کی وجہ سے بعض قراء کو اس نسخ کا پتہ نہ چل سکا جس کی وجہ سے نزاع پیدا ہوا۔ اگر حضرت عثمانؓ کا تمام لوگوں کو ایک حرف پر جمع کرنا اور باقی حروفِ قرآنیہ کو ختم کرنا مقصود ہوتا تو مصاحف میں حذف و اثبات کا فرق کبھی واقع نہ ہوتا۔ الغرض اس طریقہ پر مصاحف کی کتابت اس حقیقت کی واضح دلیل ہے کہ حضرت عثمان ؓ لوگوں کو منسوخ اور شاذ قراء ات چھوڑ کر متواتر قراء ات پر جمع کرنا چاہتے تھے۔

ï مزید برآں حضرت عثما نؓ نے کتابت ِمصاحف کے سلسلہ میں یہ طریقۂ کار بھی اختیار کیا کہ اُنہوں نے اس کام پر مامور تین قریشی صحابہ کو یہ تاکید کی کہ اگر کسی لفظ کی کتابت میں تمہارا زیدؓ بن ثابت سے اختلاف ہوجائے تو اس لفظ کو لغت ِقریش کے مطابق لکھنا، کیونکہ یہ انہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ لہٰذا ایسے ہی ہوا اور یہ بات ثابت ہے کہ لفظ تابوت کے متعلق ان کا اختلاف ہوا۔ حضرت زید کا خیال تھا کہ اسے ہاء کے ساتھ التابوہ لکھا جائے اور قریشی صحابہ کا خیال تھا کہ اسے تاے مفتوحہ کے ساتھ لکھا جائے۔ اُنہوں نے یہ معاملہ حضرت عثمان ؓ کے ہاں پیش کیا تو اُنہوں نے حکم دیا کہ اسے تائے مفتوحہ کے ساتھ لکھا جائے کیونکہ لغت ِقریش میں یہ اسی طرح ہے۔

ان صدیقی صحیفوں کو مصاحف میں نقل کرنے کے بعد حضرت عثمان ؓ نے یہ صحیفے حضرت حفصہؓ کو واپس لوٹا دیے اور جو مصاحف اُنہوں نے تیار کئے تھے، ان میں سے ایک ایک مصحف مملکت ِاسلامیہ کے ہر علاقہ میں روانہ کردیا اور شرانگیزی اور فتنہ کے دروازہ کو بند کرنے، نزاع کے استیصال اور تمام اُمت ِ مسلمہ کے لئے ان مصاحف کو مرجع اساسی بنانے کے لئے ان کے علاوہ تمام صحیفوں یا مصاحف کو نذرِ آتش کروا دیا۔

صحیح بخاری میں اس کی تفصیل ان الفاظ میں مروی ہے کہ حضرت حذیفہؓ حضرت عثمان ؓ کے پاس آئے اور اس وقت وہ آرمینیا اور آذربائیجان کے محاذ پر جہاد میں مشغول تھے۔ وہ قراء ت کے متعلق لوگوں کے اختلاف کی وجہ سے خاصے پریشان تھے۔ اُنہوں نے مدینہ پہنچ کر حضرت عثمان ؓ سے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! اس اُمت کو بچائیے پہلے اس سے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح کتاب اللہ کے متعلق اختلاف کا شکار ہوجائے۔ حضرت عثمان ؓ نے حضرت حذیفہؓ کو پیغام بھیجا کہ ہمیں وہ صحیفے بھیج دو ۔ ہم اُنہیں نقل کرنے کے بعد آپ کو واپس لوٹا دیں گے۔ حضرت حفصہؓ نے وہ صحیفے حضرت عثمان ؓ کے پاس بھیج دیئے۔ آپؓ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعد بن العاص اور عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کو ان صحیفوں کو کئی مصاحف میں نقل کرنے پر مامور کیا اور حضرت عثمان ؓ نے کمیٹی کے قریشی صحابہ کو مخاطب کرکے فرمایا:
''اگر قرآنِ کریم کے کسی حصہ میں تمہارا اور حضرت زید کا اختلاف ہوجائے (کہ کون سا لفظ کس طرح لکھا جائے؟) تو اسے قریش کی زبان کے مطابق لکھنا کیونکہ قرآن کریم اُنہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے۔''

ان صحیفوں سے مصاحف نقل کرنے کے بعد حضرت عثمان ؓ نے وہ صحیفے حضرت حفصہؓ کو واپس لوٹا دیئے اور نقل کردہ مصاحف میں سے ہر علاقہ میں ایک مصحف روانہ کردیا اور ان کے علاوہ باقی تمام صحیفوں اور مصاحف کو نذرِ آتش کروا دیا۔''

ابو قلابہ سے روایت ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے تمام اہل علاقہ کو یہ لکھ بھیجا کہ تمہارے پاس جو کچھ تمہارے مصحف کے خلاف ہے، اس کو تلف کردو لیکن اکثر روایات میں یہ ذکرہے کہ آپؓ نے اُنہیں جلانے کاحکم دیا تھا۔

بعض فاضل محققین نے ذکر کیا ہے کہ حضرت عثمان ؓ نے دیگر صحیفوں کے ساتھ حضرت حفصہؓ کے صحیفوں کو جلانے کا حکم نہیں دیا تھا، اس لئے کہ یہ صحیفے ہی درحقیقت اصل بنیاد اور مصدر تھے جن کو مدنظر رکھ کر مصاحف نقل کئے گئے تھے اور ان صحیفوں پر تمام صحابہ کا اجماع تھا۔ اور ان صحیفوں اور عثمانی مصحف میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ جہاں تک دیگر صحیفوں کا معاملہ تھا تو وہ چونکہ عثمانی مصاحف سے قدرے مختلف تھے جس کی وجہ سے اختلاف کا خدشہ تھا لہٰذا ان کو تلف کروانا عین حکمت و مصلحت کا تقاضا تھا۔ (جاری ہے)


حوالہ جات
1. رقم:1621
2. رقم:4679،4986
3. المصاحف :1؍37
4. فتح الباری: 1/20
5. البرہان: 1؍238
6. المصاحف لابن ابی داود: 1/48
7. صحیح بخاری: 2419، دیکھئے 'محدث' میں شائع شدہ مضمون ج 23؍عدد 4

 


 

مضمون کی دیگر اقساط
المصحف شریف : ایک تاریخی جائزہ (قسط 2)

المصحف شریف : ایک تاریخی جائزہ (قسط 3)

المصحف شریف : ایک تاریخی جائزہ (قسط 4)