لیجئے نوشتہ تقدیر پھر غالب آیا۔ ایک کتاب شناس اور کتاب دوست دنیا سے رخصت ہوا۔ وہی جس کا نام 'عبدالجبار شاکر' تھا۔ جو واقعی جبار کا بندہ اور جبار کی مشیت پر شاکر رہنے والا اور رضیتُ باﷲ ربًّا و بالإسلام دینًاکا آئینہ دار تھا۔ اسم بامسمّٰی ... اس کی صفت شاکر تھی۔ آج کون ہے جس کی زبان پر مالی عسرت کا گلہ اور مہنگائی کی بات نہ ہو لیکن عبدالجبار شاکر کے شناسا سب شاہد ہیں کہ اس کے لب اس بارے میں گنگ تھے۔ کبھی مالی شکوہ شکایت کی بات نہ کی، اگر کسی نے خود بات کی تو طرح دے گئے۔

میں نے ان کی جوانی بھی دیکھی اور بڑھاپا بھی۔ لیکن دونوں حالتوں میں ان کو جوان نہیں بلکہ نوجوان پایا۔ اس لیے میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ وہ جوانی ہی میں چلے گئے۔ بالوں کی سفیدی بڑھاپے کی علامت ہے لیکن ضروری نہیں کہ بال سفید ہو جائیں تو بڑھاپا آ ہی جائے۔ اُنہوں نے خود کو کبھی بوڑھا نہ سمجھا، نہ ہی دیکھنے والوں نے ان کو بوڑھا پایا۔مقصد کی لگن، ہدف کا حصول ان کی زندگی کا اُصول تھا :


تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ ج
اوداں پیہم رواں ہر دم جواں ہے زندگی


میرا وہ دوست تھا، آج کا نہیں تقریباً نصف صدی قبل کا۔ شناسائی ۱۹۶۷ء میں ہوئی، جب میں نے اور اس نے اورینٹل کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ ہمیں قیام کے لیے وولنر ہاسٹل کا ایک ہی کمرہ الاٹ ہوا۔ ہم دونوں اورینٹل کالج کے طالب علم تھے لیکن وہ اُردو میں تھا، میں عربی میں ۔ پہلی ملاقات میں دل نے کہا: کٹھ ملا ّ ہے، اتنی لمبی داڑھی، لیکن اس نے جس اپنائیت سے گفتگو کی،دل نے خیال جھٹک دیا۔ فکری ہم آہنگی نے فاصلے اور بھی کم کر دیئے۔ اس کے بعد قربتیں بڑھتی ہی رہیں اور من تو شدم تو من شدی کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ حتیٰ کہ اس کا وقت اَجل آن پہنچا۔

ان کو کتابوں سے محبت نہیں تھی بلکہ عشق تھا اور اس عشق نے جنون کی صورت اختیار کر لی تھی۔ ایسا جنون جس میں انسان پتھر کھا کر بھی لذت لیتا ہے اور اگر کوئی پتھر نہ مارے تو بدمزہ ہوتا ہے :

میرے جنوں کا تیرے شہر میں گزارا نہیں
مجھے تو ایک بھی پتھر کسی نے مارا نہیں


کتابوں کا جنوں اُنہیں اس وادی میں لے گیا جہاں ہر طرف سے پتھر ہی برستے ہیں ۔ اس کے دوست بھی کہتے: شاکر اتنی کتابیں کیا کرو گے، پاگل ہو گئے ہو۔ اس بات کے جواب میں ان کے پاس بس ایک زوردار قہقہہ ہوتا تھا۔ جسے سنتے ہی مخاطب کی پیشانی عرق آلود ہوتی اور زبان خاموش ہو جاتی۔

ان کے ایک مداح نے کتاب لکھی، جس میں ان کے بارے میں کچھ چبھتی باتیں لکھیں ۔ شاکر نے گلہ تو کیا جواب دینا بھی پسند نہ کیا۔ وہ راضی برضاے الٰہی رہا کرتا۔ بس ایک ہی شوق تھا، اچھی سے اچھی کتاب ذاتی کتب خانہ کی زینت بنے۔ اس ذوق کی تسکین کے لیے مالی وسائل پانی کی طرح بہانے سے بھی دریغ نہ کرتا۔

............٭ ............


کتابوں کا شوق ان کو زمانۂ طالب علمی ہی سے پیدا ہو چکا تھا۔ گھر سے پیسے تو ان کو بھی ہماری طرح تھوڑے ہی ملتے تھے لیکن وہ اپنے بیشتر پیسے کتابوں کے خریدنے پر خرچ کرتے تھے۔ اَنار کلی چوک میں فٹ پاتھ پر رکھی کتابیں ان کی منتظر رہتی تھیں ۔ کتاب کے معاملے میں ان کی نگاہیں ہمیشہ عقابی ہوتیں ۔ بازار چلتے ہوئے بھی ان کی نگاہ فٹ پاتھ پر بکھری کتابوں پر ہوتی تھی اور چلتے چلتے ایک دم کسی طرف لپکتے۔ پتہ چلتا کہ کتاب پر نظر پڑ گئی۔ بس خرید لائے اور ایسی خوشی کا اظہار کرتے کہ اس خوشی کے اظہار کا صحیح بیان ممکن نہیں ۔

ان کی کتابوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ ہر ملنے والے کو اپنی کتابوں کی تعداد سے مطلع کرتے اور ایسے خوش ہوتے جس طرح بچہ کھلونا لے کر خوش ہوتا ہے۔ فارسی کا مقولہ ہے: کسب ِکمال کن عزیز جہاں شوی۔

عبدالجبار شاکر ابھی سرکاری ملازمت سے ریٹائر نہ ہوئے تھے کہ اُنہیں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی سے ایک خط موصول ہوا کہ آپ ریٹائرمنٹ کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد تشریف لے آئیں اور یہاں اپنی صلاحیتوں سے یونیورسٹی میں رنگ بھریں ۔ اس خط کا تذکرہ عبدالجبار شاکر مرحوم نے سب سے پہلے مجھ سے کیا اور فرمانے لگے : میں بھائی سے مشورہ کرنا چاہتا ہوں ۔ وہ ہمیشہ مجھے طالب علمی زمانہ سے تعلق کے پیش نظر طاہر بھائی کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا: بظاہر توا س میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ آپ اپنے گھریلو حالات دیکھ کر قبولیت کا فیصلہ کر لیں ۔ فرمانے لگے: میرے ہمراہ گھر چلیں ، وہاں مزید مشورہ کرتے ہیں ۔ میں نے حامی بھر لی اور ہم ان کے گھر چلے گئے۔ یہ گھر ملتان روڈ پر منصورہ کے بالمقابل واقع ہے۔

ان کے کتابی ذہن کا تو میں ہاسٹل کے مشترکہ قیام کے زمانہ ہی سے قائل تھا لیکن ان کے گھر آکر اس حوالہ سے مزید اضافہ ہوا۔ یہ گھر تقریباً چودہ مرلہ جگہ پر محیط ہے جو تین چار منزلہ ہے۔ اور ہر منزل پر چاروں طرف الماریاں ہیں جن میں کتابیں بلکہ کتابیں ہی کتابیں رکھی ہیں ۔ دیواروں کے درمیان فرش پر بھی الماریاں قطاروں میں کھڑی تھیں ۔ ان الماریوں میں بھی کتابیں ہی تھیں ۔ اُنہوں نے اپنے ذوق کے مطابق ترتیب کچھ اس طرح قائم کی کہ اوپر کی منزل ساری قرآن، تفاسیر اور متعلقاتِ قرآن کتابوں کے لیے۔ دوسری منزل حدیث اور متعلقاتِ حدیث کی کتب کے لیے، تیسری منزل میں فقہی کتب اور چوتھی منزل ادبی کتابوں کے لیے مخصوص تھی۔ وہ مجھے چاروں منزلوں میں لے گئے اور بڑی محبت سے اپنی کتب دکھاتے رہے۔ خوش ہوتے رہے اور خوش کرتے رہے۔

میں نے پوچھا: رہائش کس منزل میں ہے؟ فرمایا: ان چاروں منزلوں ہی میں ہے۔ کام کرتے کرتے جہاں نیند آجاتی ہے، سو جاتا ہوں ۔ میں نے بیڈ روم، ڈرائنگ روم، گیسٹ روم وغیرہ کے جھنجھٹ نہیں پالے۔ میں نے پوچھا ، اہل خانہ کہاں ہیں ؟ فرمایا ، شیخوپورہ میں ہیں ۔ میں نے پوچھا: کب واپس آئیں گے؟ بولے: وہ تو مستقل وہیں رہتے ہیں ۔ کیونکہ میں مکان اور مکین شفٹ کرنے کا قائل نہیں ہوں ، اس میں بڑی اُلجھن ہوتی ہے۔ میں بیوی بچوں کو لاہور لایا ہی نہیں ۔ وہ تو آبائی گھر ہی میں رہتے ہیں ۔ میں نے بے تکلفی سے کہا: بھلے آدمی لوگ گھر اہل خانہ کے لیے تعمیر کرتے ہیں ، تم نے اگر اہل خانہ کو شیخوپورہ ہی میں چھوڑنا تھا تو گھر کس کے لیے تعمیر کیا۔ وہ فرمانے لگے: میں نے گھر کتابوں کے لیے تعمیر کیا ہے۔

ایک سادہ سا پلنگ ، اس پر چادر بچھی تھی، اس پر مجھے لیٹنے اور آرام کرنے کا حکم دیا۔ میں تعمیل حکم میں لیٹ گیا۔ عبدالجبار شاکر خود ایک مصلیٰ بچھا کر فرش پر لیٹے۔ کچھ باتیں ہوتی رہیں ، کچھ زمانۂ طالب علمی کے وقت ہوسٹل میں مقیم ساتھیوں کا تذکرہ آیا، کچھ سیاست ِدوراں کی باتیں بھی ہوئیں ۔ لیکن ہر بات کی تان کسی نہ کسی حوالے سے کتاب اور مطالعہ کتاب، یا کسی کتاب پر گفتگو سے شروع ہوئی اور اسی موضوع پر ختم ہوئی۔

انہی باتوں کے دوران انہوں نے ایک دلچسپ قصہ بھی سنایا۔ کہنے لگے: شیخوپورہ میں کسی وجہ سے مکان تبدیل کرنا تھا۔ میں نے اپنی ساری کتب کو گتے کے ڈبوں میں پیک کیااور رسیوں سے باندھا۔ ایک ریڑھی والے کو بلایا، اس سے پیسے طے کئے۔ ریڑھی والے نے سامان منتقل کرنا شروع کیا۔ وہ دو تین چکر لگا چکا، ہر چکر میں کتابوں کے بنڈل، وہ کتب سے بھرے ہوئے گتے کے بنڈل اٹھاتا رہا۔ چوتھے چکر میں حیرت سے پوچھنے لگا، مولانا! آپ کے گھر میں کچھ گھریلو سامان، کوئی برتن وغیرہ بھی ہے یا آپ نے ساری ردّی ہی جمع کر رکھی ہے۔ اس واقعہ سے ہم دونوں نے خوب لذت لی۔

جواب آں غزل کے طور پر میں نے بھی اپنا واقعہ بتایا۔ ہمارے گھر ایک بوڑھی خاتون عرصہ سے کام کرتی تھیں ۔ بہت خاموش طبع، کسی محلے دار نے اس خاتون سے ایک روز پوچھا، یہ قاری صاحب کیا کرتے ہیں ۔ بولی: میں تو گھر میں کام کرتی ہوں ۔ میری عادت نہیں کہ میں کسی کے گھریلو معاملات میں دخل دوں ۔ یہ اچھی بات نہیں ، میں تو خاموشی سے آتی ہوں ، کام کرتی ہوں ، چلی جاتی ہوں ۔ لیکن میرا اندازہ ہے کہ ان کا ردّی کا کاروبار ہے۔ ایک پورا کمرہ ردی سے بھرا پڑا ہے۔ اُنہوں نے واقعہ سنا اور لذت لیتے رہے۔

ایک مرتبہ میں نے ان سے کہا: شاکر! تمہاری بیوی تو تم سے بہت نالاں رہتی ہو گی۔ سارے پیسے کتابوں پر ہی خرچ کر دیتے ہو۔ بولے ، طاہر بھائی! شاید تمہاری بات درست ہو لیکن میں شاکر ہوں تو میری بیوی مجھ سے زیادہ شاکرہ ہے، کتابوں کی قدردان ہے۔ اس نے میرے ذوق کی تسکین کے لیے اپنا زیور بیچ کر رقم میرے ہاتھ میں دی اور کہا: اپنی مرضی کی کتب خرید لیں اور لائبریری کی زینت بنا دیں ، مجھے خوشی ہوگی۔

وہ ایک مرتبہ مجھے ملنے فیصل آباد آئے۔ میں نے خوشی کا اظہار کیا، بٹھایا، باتیں ہوئیں ۔ باتوں کے ساتھ ساتھ الماری میں رکھی کتابوں کو دیکھتے رہے بلکہ کتابوں کو کھولتے رہے۔ ان سے کھیلتے رہے۔ کھیلنے کا لفظ محض مترادفات یا لفظی تصنع کے لیے نہیں ، اظہارِ حقیقت کے طور پر ہے۔کتاب دیکھتے ہی پہلے ان کا چہرہ کھلتا ہے۔ پھر وہ کتاب کھولتے اور پھر اس سے کھیلتے تھے۔ کھیلنے کا لفظ یہاں بھی لفظی تصنع نہیں بلکہ کتاب کو دیکھ کر ان کی ظاہری کیفیت اور چہرہ پر پھیلتی بشاشت کے حوالے سے ہے۔ ان کے چہرے پر بکھرتی خوشی بالکل ایسی ہی ہوتی جس طرح بچے ہر نئے کھلونے کو دیکھ کر خوشی محسوس کرتے ہیں ۔ رخصت ہونے لگے تو فرمائش کی کہ اس ذخیرہ کتاب سے بس ایک اپنی پسند کی کتاب کا ہدیہ چاہتا ہوں ۔ اس سوال میں اتنی اپنائیت تھی کہ میں انکار نہ کرسکا۔ اگلے روز اس واقعہ کا ذکر ایک مشترک دوست سے کیا۔ کہنے لگے: عبدالجبار شاکر کی سب سے بڑی کمزوری کتاب ہے۔ کتاب دیکھ کر مچل جاتا ہے۔ اس معاملہ میں ضد کی حد تک حریص ہے، لیے بغیر نہیں چھوڑتا۔

'بیت الحکمت' کے نام سے ان کی قائم کردہ لائبریری ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ ان کی زندگی میں بھی تحقیقی کام کرنے والے طلباء و اساتذہ یہاں سے علمی فیض حاصل کیا کرتے تھے۔ کتابوں کے سمندر میں غواصی کرکے علمی موتی تلاش کرتے اور اپنی تحقیق کے ذریعے ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کیا کرتے تھے۔ بلکہ بڑے بڑے قلمکار، کالم نگار بجا طور پر یہ کہتے کہ جو کتاب کہیں سے نہ ملے وہ عبدالجبار شاکر کے بیت الحکمت سے ضرور مل جاتی ہے۔

............٭ ............


عبدالجبار شاکر شعور و بلوغ کے آغاز ہی سے تحریکی ذہن کے حامل تھے۔ غالباً یہ ذہن اُنہیں ورثہ میں ملا تھا، جس کی آبیاری پاکستان میں موجود مختلف دینی تحریکات نے کی۔ زمانہ طالب علمی میں وہ جماعت ِاسلامی کے امیر سید ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے متاثر تھے، بلکہ خاصے متاثر تھے۔ اگرچہ وہ باقاعدہ اس تحریک کا حصہ تو نہ بنے لیکن فکری اعتبار سے وہ فکر ِ مودودی کے بہت بہت قریب تھے۔ نجی گفتگو میں مولانا مودودی کا حوالہ دیتے، جس میں عقیدت مندی غالب ہوتی تھی اور مولانا کی کتب بھی جمع کرتے تھے اور دوسروں کو پڑھنے کی ترغیب بھی دیا کرتے تھے۔

یہ تحریکی ذہن ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ تاریخ میں گزری ان شخصیات سے خاصے متاثر تھے جن کا حوالہ تبلیغی اور تحریکی رہا ہے۔ مثلاً سید جمال الدین افغانی، حسن البنا، سید قطب، شاہ ولی اﷲ، شاہ عبدالقادر وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ شادی کے بعد جو اَثمار ہائے لذیذہ اولاد کی شکل میں اﷲ نے اُنہیں عطا فرمائے ان کے نام بھی اُنہوں نے انہی عظیم شخصیات کے نام پر ہی رکھے۔ بڑے بیٹے کا نام جمال الدین افغانی، چھوٹے کا نام رفیع الدین۔ جب کوئی ان سے بیٹوں کے نام پوچھتا تو بڑی محبت سے نسبت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کرتے تھے۔ ان بڑی شخصیات کا نام بتاتے ہوئے ان کے چہرہ پر ایک محبت و عقیدت کی کیفیت کے آثار نمایاں ہوا کرتے تھے۔

وہ محرک اور متحرک زندگی کے قائل تھے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنا ان کے لیے پاپ سے کم نہ تھا۔ سست روی ان کا مذہب نہ تھی۔ کچھ نہ کچھ کرنا، کرتے رہنا اور دوسروں کو کچھ نہ کچھ کرنے کی ترغیب دینا، زندگی بھر معمول رہا۔ تیز چلتے، دوسروں کو تیز روی اختیار کرنے کی ترغیب دیتے۔ ایسے افراد کا شمار شاید مشکل ہو جو ان کی تحریک سے قلمکار بنے اور نام کمایا، زندگی کی یہی روش اُنہوں نے اپنی اولاد میں بھی منتقل کی۔ آپ کو اِنہی لوگوں سے پیار تھا جو تاریخ میں متحرک رہے اور متحرک زندگی گزار کر رخصت ہوئے۔

شگفتگی ان کی طبیعت کا حصہ تھی۔ جس سے ملتے مسکراتے ملتے۔ دیکھتے ہی کھل جاتے اور کھل کر باتیں کرتے۔ خود بھی مسکراتے، دوسرے کو بھی کسی نہ کسی حوالہ سے مسکرانے پر مجبور کرتے۔ مخاطب خواہ کتنا ہی سنجیدہ مزاج ہو، ایسی بات کرتے کہ سننے والے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی۔ ان کا یہ عمل رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تعمیل میں ہوتا تھا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''دوسرے سے مسکراتے چہرہ سے ملنا بھی نیکی ہے۔''1

وہ پیدائشی اہل حدیث تھے: پوری لمبی داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنتے۔ کبھی ننگے سر نہ رہتے۔ زمانۂ طالب علمی میں بھی شلوار ٹخنوں سے اوپر رہی۔ سر کا حلق کروایا اور چہرہ کو داڑھی سے مزین کیا۔

ستر کی دہائی میں کالجوں یونیورسٹیوں میں انگریزی لباس کا چلن تھا۔ مشرقی لباس پہننے والے کو دیگر طلبا اچھوت سمجھتے یا وہ خود ہی کو اچھوت خیال کرتے۔ عبدالجبار شاکر کو ہم نے ہمیشہ مشرقی لباس ہی میں دیکھا۔ وہ میرے روم میٹ تھے۔ ایک برس ہم ایک ہی کمرے میں رہے۔ اُنہوں نے کبھی پتلون نہ پہنی لیکن اس کے باوجود مجھے پتلون پہنے دیکھتے تو ناصحانہ انداز میں مسکراتے۔ ہمیشہ تعریف کی، یہ حکمت سے بھرپور مبلّغانہ طریقہ تھا جس میں ٱدْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَ‌بِّكَ بِٱلْحِكْمَةِ...﴿١٢٥...سورة النحل} کا پہلو کار فرما تھا۔ اپنے لباس اور اپنی ظاہری ہیئت پر میں نے ان کو کبھی احساسِ کمتری کا شکار نہ پایا۔

اہل حدیث ہونے کے ناتے وہ جہر اور رفع یدین کے قائل تھے۔ صرف نماز ہی میں نہیں بلکہ سٹیج پر تقریر کے دوران بھی خوب جہر سے کام لیتے اور رفع یدین بھی کرتے تھے۔ یہ عادت باہم گفتگو میں بھی غالب رہتی۔ ان کی اس عادت کی وجہ سے مخالف بہت جلد قائل ہوجاتا۔ پکے وہابی تھے ، البتہ مزاج میں سختی اور کھردرے پن کا نام نہ تھا۔

دوستوں کے ساتھ انتہائی شفیق، محبت کا مورد، سخت سے سخت بات بھی اس انداز میں کہہ گزرتے جیسے شوگر کوٹڈ گولی۔ مخاطب کو احساس ہی نہ ہوتا ، لیکن اہل حدیث مسلک پر پختہ کار ہونے کے باوجود دوسروں کی بات توجہ سے سنتے۔ اپنی سے ہٹتے نہ تھے لیکن ہر ایک کی سنتے۔ اچھی مانتے، غلط کا دلیل سے توڑ لانے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تعلقات بریلوی، دیوبندی اور شیعہ مسلک کے لوگوں کے ساتھ بھی تھے۔ اس معاملے میں ان کا عمل قرآنی تعلیم {وَتَعَاوَنُوا عَلَى ٱلْبِرِّ‌ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ...﴿٢...سورة المائدہ}کا آئینہ دار تھا۔ وہ مخاطب کی بات میں وزن دیکھتے تو تقویٰ کی کسوٹی پر پرکھتے اور جذبۂ بر کے تحت تعاون میں قطعاً گریز نہ کرتے تھے۔

ایک روز دوستوں میں دورانِ گفتگو مسلکی بحث چل نکلی۔ بریلوی مکتب فکر کی بعض باتیں زیر تبصرہ تھیں ۔ کچھ اس مسلک کے ساتھی بھی تھے۔ وہ دفاعی کوشش کرتے رہے لیکن لاجواب ہوئے۔ عبدالجبار شاکر بولے: طاہر بھائی! چھوڑیئے ، آپ عقل کی باتیں کرتے ہیں ۔ عشق و محبت کی باتوں میں عقل پیچھے رہ جاتی ہے۔ عقل عشق کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ عشق سر پھوڑ لیتا ہے، عقل تکتی اور غور کرتی رہتی ہے۔

بلا کے مقرر تھے۔کالجوں یونیورسٹیوں میں منعقد ہونے والے ہر مباحثہ میں شریک ہوتے اور ہمیشہ میلہ لوٹ کر ہی واپس لوٹتے۔ تالیوں کی گونج میں سٹیج پر آتے اور تالیوں کی گونج ہی میں سٹیج سے اُترتے تھے۔ لیکن پہلی تالیاں تقریر اور ان کے انداز پر نہیں بلکہ ان کی ظاہری ہیئت کو دیکھ کر بجائی جاتی تھیں ۔ جن میں طنز ، ہائو ہو اور شور و غوغا ہوتا تھا۔ لیکن جب وہ زبان کھولتے، موضوع پر گفتگو کرتے تو پورے مجمع پرسناٹا طاری ہو جاتا۔ جادوکی کیفیت محسوس ہوتی۔ آخر میں یہ جملہ ضرور کہتے: جنابِ صدر! میں انہی دلائل و براہین کی روشنی میں آج کی قرارداد کی مخالفت ؍ موافقت کرتا ہوں اور سٹیج چھوڑتے۔ اس وقت بھی تالیاں بجتیں لیکن یہ تالیاں سٹیج پر آنے کی تالیوں سے مختلف ہوتیں ۔ ان میں تحسین و تعریف کا غلبہ ہوتاتھا۔ کسی مباحثے میں کسی بھی بڑے سے بڑے مقرر طالب ِعلم کی عبدالجبار شاکر کے سامنے دال نہ گلتی۔

یہ شروع شروع کی بات ہے: میں نے پوچھا، شاکر صاحب! آپ کو جب کسی مباحثے میں سٹیج پر بلایا جاتا ہے تو آپ کے تاثرات کیا ہوتے ہیں ۔ سٹیج کے خوف سے اعصاب پر کچھ اثر ہوتا ہے یا نہیں ؟ بولے، سٹیج نام کی چیز میرے لیے اعصاب شکن نہیں ۔ سٹیج کا خوف ان کے لیے کبھی پریشان کن نہیں ہوا۔ ایک روز باتوں ہی باتوں میں خود ہی کہنے لگے : جب میرا نام تقریر کے لیے پکارا جاتا ہے اور میں اُٹھ کر سٹیج پر جاتا ہوں تو طلبا میری ظاہری حالت، قمیص، شلوار، ٹوپی اور داڑھی کو دیکھ کر خوب ہنستے اور آوازے بلند کرتے ہیں ، سیٹیاں بجاتے ہیں ۔ اسی ہائو ہو مںہ میری تقریر شروع ہوتی ہے۔ لیکن چند ہی لمحوں بعد تمام ہنسنے والے سنجیدہ بلکہ انتہائی سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور مباحثہ کا فیصلہ میرے حق میں ہو جاتا ہے۔

زمانہ طالب ِعلمی عجیب بھی ہوتا ہے اور غریب بھی۔ خصوصاً یونیورسٹی سطح کا دور تو زندگی کے لیے عجائب و غرائب میں اور بھی اضافہ کرتا ہے۔ کیونکہ اس میں شباب و عناب کی رنگینیاں ہوتی ہی ہیں اور ہوسٹل کی زندگی اس کو دوآتشہ کرنے میں ممد و معاون بنتی ہے۔ ایسے عالم میں بعض طالب علم شباب کے ساتھ عناب کے رسیا ہونے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ قانون کے شباب تو کسی قانون کی پروا بھی نہیں کرتے اور بہت سی حدود پھلانگ جاتے ہیں ۔ کیونکہ اُنہیں کسی عتاب کی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ قانون کو اپنا غلام اور عدالت کو باندی خیال کرتے ہیں ۔

وولنر ہال کے ساتھ ہی لاء کالج کا ہاسٹل بھی ہے۔ وہاں مذکور اَمثلہ کی فراوانی ہوتی ہے۔ مشرقی علوم کے بعض طلبا بھی بہک جاتے ہیں لیکن بہت کم۔ عبدالجبار شاکر بھی وولنرہاسٹل کے باسی اور لاء کالج ہاسٹل کے قریبی تھے۔ ان میں شباب اور جمال بھی تھا اور سخن وری کا کمال بھی۔ لیکن ان کے ہاں شباب کے ساتھ عناب نہیں ، بلکہ 'اناب الیٰ اﷲ' کی کیفیت تھی۔ ان کی راتیں بھی جاگتی تھیں لیکن رجوع الی الرحمن کے ساتھ ... ان کے نینوں میں بھی مستی ہوتی تھی لیکن دعاے نیم شبی کی... ان کی آنکھیں بھی اشکبار ہوتیں لیکن کسی فراق میں نہیں بلکہ عتاب الٰہی اور خشیت و تقویٰ کی کیفیت سے ... وہ بھی راتوں کو لاہور کی سڑکوں پر گھومتے تھے لیکن آوارہ نہیں بلکہ دینی لٹریچر کو تقسیم کرتے ہوئے۔

وہ خود تحریکی ذہن کے مالک تھے۔ اس لیے اُنہیں تاریخ میں انہی شخصیات سے رغبت تھی جنہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین اعلائے کلمتہ اﷲ قرار دے لیا تھا۔ وہ کلمتہ اﷲ کو بلند کرتے ہوئے دنیا میں زندہ رہے اور اس کام کو کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان کا نصب العین ہی یہ تھاکہ اعلائے کلمتہ اﷲ کرتے کرتے مرنا ہے اور یہی کام مرتے مرتے کرنا ہے۔ اس حوالے سے زندہ شخصیات میں وہ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سے متاثر تھے۔ ان کے اقوال کو گفتگو میں بیان کرتے۔اس قلبی موانست کے باوجود وہ وسیع المشرب تھے۔ اہل حدیث ہونے کے ساتھ ساتھ بریلوی اور دیوبندی اکابر کا انتہائی احترام سے نام لیتے۔ اگر کسی شخصیت کے تذکرہ میں سیاسی وابستگی کے حوالے سے ذمّ کا پہلو سامنے آتا تو انتہائی ادب سے اس انداز میں ذکرکرتے کہ مخاطب ڈھیر بھی ہوتا اور زخم کا اندازہ بھی نہ ہو پاتا۔ وار کا احساس کچھ وقت گزرنے کے بعد ہی ہوتا۔ لیکن اس وقت تک چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اس وقت تک مخاطب جواب دینے کی صلاحیت ہی سے عاری ہوتا۔

ان کا تعلق شیخوپورہ سے تھا اور اہل حدیث گھرانہ کے فرد تھے۔ یہاں کے اہل حدیث حضرات ابلاغ کے لیے ٹھیٹھ پنجابی کو ذریعہ بنایا کرتے حتیٰ کہ سٹیج پر بھی پنجابی ہی بولتے ہیں ۔ اگر کبھی اُنہیں تکلّفاً اُردو میں گفتگو کرنی پڑ جائے تو زبان لڑکھڑاتی اور سننے والے کو کذب کا گمان ہونے لگتا ہے لیکن عبدالجبار شاکر کے ہاں یہ کیفیت نہ تھی۔ اُردو زبان اس شستہ انداز میں روانی سے بولتے کہ سننے والے کو اہل زبان ہونے کا گمان گزرتا۔ ان کی تقریر میں الفاظ کی ندرت بھی ہوتی اور اندازِ بیان میں شہد کی سی شیرینی پائی جاتی تھی کہ سننے والا مسحور ہو جاتا۔ کان لذتِ کلام سے اس درجہ مسحور ہوتے کہ سننے والا اپنی کم اور ان کی زیادہ سننے پر مجبور ہوجاتا۔ بلکہ ان کی ہی سنتے رہنے کو ترجیح دیتا تھا۔

شاعر مشرق حضرت علامہ اقبال سے منسوب 'مرکزیہ مجلس اقبال'کا قیام تقریباً پون صدی قبل ہی عمل میں آگیا تھا۔ تشکیل پاکستان کے بعد ہر سال یوم اقبال کی تقریب پابندی سے منعقد ہوتی ہے جس میں اہل فکر و اہل دانش اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ۔ اقبال پسند جوش و جذبے سے اس تقریب میں شریک ہوتے ہیں ۔ شعلہ بار خطیب، آتش فشاں مقرر اور ہفت روزہ چٹان کے ایڈیٹر جناب آغا شورش کاشمیری مرحوم عمر بھر مرکزیہ مجلس اقبال کے سیکرٹری رہے۔ تقریب میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ہمیشہ وہی ادا کیا کرتے تھے۔ ان کی شخصیت جادو اثر رکھتی تھی۔ الفاظ کا چناؤ اور اندازِ خطاب دلکش نہیں بلکہ مسحور کن ہوتا تھا۔ اپنی جولانی طبع سے پوری تقریب میں رنگ بھر دیتے تھے۔ موقع و محل کے مطابق اشعار کا انتخاب پیش کرنے کا انداز تقریب کی رونق کو دوبالا کردیتا۔ وہ اپنی تقریر سے انسانوں کے بپھرے طوفان کو جامد کرنے اور جامد لوگوں کا جمود توڑ کر بپھرے ہوئے طوفان میں تبدیل کر دینے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ حاضرین دم بخود ہو کر آغا شورش کی باتیں سنا کرتے تھے۔

ان کے انتقال کے بعد مرکزیہ مجلس اقبال کی تقاریب میں وہ رنگ نہ رہا۔ چند برس یہ تشنگی رہی۔ ہر شخص آغا صاحب کو یاد کیا کرتا تھا۔ چند برس اسی طرح گزر گئے، جانے انتخاب کس کا تھا۔ تاہم نقابت کی ذمہ داری عبدالجبار شاکر کے سپرد ہوئی۔ اُنہوں نے کوثر و تسنیم میں دھلی، دبستانِ دہلی اور دبستانِ لکھنؤ کی مجموعی شستہ اور سریلی اُردو سے حاضرین کو دنگ کر دیا۔ عبدالجبار نے صحیح معنوں میں آغا شورش کی یاد تازہ کی اور نقابت میں آغا جی کی نیابت کا حق ادا کر دیا اور مجلس اقبال کی سابقہ رونقیں پھر لوٹ آئیں ۔ عبدالجبار شاکر کے بعد اب اس خلا کو کون پر کرے گا۔ دور و نزدیک فوری طور پر ایسی کوئی شخصیت دکھائی نہیں دیتی۔

عبدالجبار شاکر کی طبیعت میں سادگی کا وہ عالم تھا کہ اسلاف کی یاد تازہ ہو جاتی۔ ہمارے ہاں کئی برس سے پابندی کے ساتھ درسِ قرآن جاری ہے: ہفتہ میں صرف ایک بار جمعہ کی شب مغرب سے عشاء کی نماز تک۔ علمی زوال کا عالم کہ یہ ذمہ داری میرے سپرد ہے۔ ایک پارے کے اختتام پر کسی اہل علم کو دعوت دی جاتی ہے جو اپنے وعظ سے مستفیض فرماتے ہیں ۔ ایک مرتبہ عبدالجبار شاکر کو دعوت دی گئی۔ فوراً قبول فرمائی، بروقت تشریف لائے۔ درس دیا اور حاضرین سے خطاب کیا۔ کچھ ادبی دوست ملنے آگئے تو محفل دیر تک جمی۔ علمی، تحقیقی اور تجسس بھری باتیں بھی ہوئیں ، ادبی چٹکلے بھی چلے۔ معروف ادیب و اُستاد ڈاکٹر انور محمود نے ان کی گفتگو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاکر صاحب کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان مںب گویا ہوتے ہیں ۔ ان کی گفتگو سے لذتِ سماعت کا احساس بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔آرام کے لیے غریب خانہ پر انتظام تھا۔ اے سی والے کمرے میں بستر لگایا۔ فرمانے لگے: طاہر بھائی! ایسے تکلّفات میں نے نہیں پالے۔ تمہارے مکان پر چھت ہے نا۔ میں نے عرض کی: شاکر بغیر چھت کے کونسا مکان ہوتا ہے؟ ہنس دیئے، بس تو میں چھت پر سوؤں گا۔ میں نے اے سی والے کمرے میں سونے پر اصرار کیا، انکار ہی آیا۔ میں نے آخری دلیل دی، کہا: چھت پر مچھر کاٹیں گے۔ بولے:حقیر مخلوق ہے،اپنے حصہ کا رزق ہمارے جسم سے لے لیں ، کیا حرج ہے۔ میں لاجواب ہوا، چھت پر لے گیا، چارپائی بچھائی۔ میں نے کہا: رکیے ابھی بستر لاتا ہوں ۔ کہنے لگے: ضرورت ہی نہیں ۔ بولے: وہ شعر نہیں پڑھا ع

وہ ہاتھ سو گیا ہے سرہانے دھرے دھرے


قدرت کی طرف سے سرہانا جسم کا حصہ ہے، اس لیے حاجت ہی نہیں ۔ میں بھاگم بھاگ نیچے آیا، بستر اُٹھایا، اوپر چھت پر پہنچا تو شاکر صاحب سنت کے مطابق دائیں کروٹ سر کے نیچے بازو رکھے گہری نیند سو چکے تھے۔ میں نے بے آرام کرنا مناسب نہ سمجھا۔

عبدالجبار شاکر سے میری ٹیلی فون پر گفتگو ان کے انتقال سے ہفتہ عشرہ قبل ہوئی۔ وہ مجھے میری کتاب 'تذکارِ قرائ' کی طباعت کی اطلاع کے ساتھ مبارکباد دے رہے تھے۔ مذکورہ کتاب ان کے بیٹے رفیع الدین نے شائع کی تھی جو' نشریات' کے نام سے ایک طباعتی ادارہ چلا رہے ہیں ۔ فرمانے لگے: کتاب چھپ چکی ہے، صرف جلد بندی کے مراحل باقی ہیں ۔ ایک ہفتہ کے دوران اس مرحلے کی تکمیل بھی ہو جائے گی۔

عبدالجبار شاکر کا ایک وصف یہ تھا کہ وہ علمی کام کرنے کی تحریک ضرور دیتے تھے۔ فرمانے لگے: آئندہ کس موضوع پر کام کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نے عرض کی: ارادہ نہیں بلکہ بہت سا کام مکمل ہے۔ مجودِ اوّل و اعظم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ان مساعی اور فرمودات نیز آپؐ کا اندازِ تلاوت اور آپ کی تلاوت کے سحر پر کافی کچھ لکھ چکا ہوں ، تھوڑا کام باقی ہے۔ سنتے ہی انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور کہا: یہ موضوع تمہارا ہی ہو سکتا تھا۔ یقینا موضوع کا حق اَدا ہوگا۔ پھر فرمانے لگے، طاہر جلد تکمیل کیجئے۔ بھائی کی اس کتاب پر مقدمہ میں خود لکھوں گا اور نشریات ہی شائع کرے گا اور سیرت کے صدارتی ایوارڈ کے لیے کتاب پیش کی جائے گی۔ لیکن ایک احتیاط ضرور ملحوظ رکھئے: آیات و احادیث کی صحت بہت ضروری ہے۔ کتاب خواہ کتنی ہی اچھی ہو، ہمارے بعض کرم فرما اس حوالے سے کتاب مسترد کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں نے عرض کی، مقدور بھر کوشش کروں گا۔ یہ میرے ساتھ ان کی آخری گفتگو تھی۔ 'تذکارِ قرائ' طبع ہو کر پہنچی تو دو روز بعد ہی اخبار میں خبر تھی ، عبدالجبار شاکر چل بسے۔ دل گرفتہ ہوا، کاش ''جیتا کچھ دن اور۔'' میری خوشی کو دوبالا کرتا، کتاب کی تقریب شناسائی میں شریک ہوتا۔ اپنی مسجع و مقفیٰ گفتگو سے 'تذکارِ قرائ' کو مزید اُجالتا۔ لیکن قرآن کا فیصلہ اٹل و حتمی:
وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِ‌هِۦ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٢١...سورة یوسف
''لوگ اس حقیقت سے کتنے بے بہرہ ہیں کہ اﷲ ہی کا فیصلہ ہمیشہ غالب آکر رہتا ہے۔''

............٭ ............


لوگ گھر بیوی بچوں کے لیے بناتے ہیں ۔ اُنہوں نے گھر بیوی بچوں کے لیے نہیں بلکہ کتابوں کو جمع کرنے کے لیے بنایا۔ وہ کتابیں جمع نہیں کرتے بلکہ کتابوں کو پالتے تھے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ایک انسان اپنی اولاد کی پرورش کرتا ہے۔ ان کا کتب خانہ اَن گنت کتابوں کا مجموعہ ہے۔ اسے اُنہوں نے بیت الحکمة کا نام دیا۔ یہ بیت الحکمة اپنی بعض خصوصیات میں پاکستان کی بڑی سرکاری و غیر سرکاری لائبریریوں کو شرماتا ہے۔

اہل علم جانتے ہیں کہ ہندوستان کے شہر پٹنہ میں ایک بڑی لائبریری ہے جس کا شمار دنیا کی اہم لائبریریوں میں ہوتاہے بلکہ شہر پٹنہ کی وجہ شہرت اسی بڑی لائبریری ہی کی رہین منت ہے۔ جو 'خدا بخش لائبریری پٹنہ' کے نام سے موسوم ہے۔ خدا بخش بھی کتابوں سے محبت کرنے والا عام انسان تھا۔ پیشہ کے اعتبار سے سول جج کے عہدہ پر فائز تھا۔ مہینہ کے بعد حق الخدمت کے طور پر جو تنخواہ ملتی، اس میں سے اپنی گزر اوقات کے پیسے رکھ کر بقیہ کی کتابیں خرید لیتا اور اپنے گھر کی الماریوں میں سجا لیتا تھا۔ بوقت ِانتقال یہی ذخیرہ اس کی وراثت تھا۔ کتابوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ اس کا انتظام و انصرام حکومت ِوقت کو سنبھالنا پڑا۔ اس وقت سے یہ لائبریری حکومت ِہند کی تحویل میں ہے اور اسی عظیم شخصیت خدا بخش کے نام سے موسوم ہے جس میں کتابوں کی تعداد لاکھوں کو چھو رہی ہے۔ دنیا میں طبع ہونے والا کوئی جرنل ایسا نہیں ہے جو اس لائبریری میں موجود نہ ہو۔

عبدالجبار شاکر کی وراثت بھی درہم و دینار نہیں بلکہ وہ عظیم لائبریری ہے جو اس نے اہل علم اور اہل پاکستان اور اپنی اولاد کے لیے ورثہ میں چھوڑی ہے۔ یقینا ان کی صلبی اولاد اس ذخیرہ کی شرعاً وارث ہے۔ احتیاط کا تقاضا ہے کہ عبدالجبار شاکر کا یہ عظیم علمی ورثہ ایسے شکاریوں کے ہتھے نہ چڑھے جو کتابوں کو سیروں اور منوں میں تولتے ہیں اور مال کھرا کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ ہم نے بڑے بڑے اہل علم کی کتابوں کو فٹ پاتھ پر فروخت ہوتے دیکھا ہے اور بعض عظیم لکھاریوں کی کتابیں ردّی کے بیوپاریوں کے ہاں دیکھی ہیں ۔ جو پھر پنساریوں کے ہتھے چڑھیں اور اُنہوں نے ان کے لفافے بنائے اور ان میں ٹڈی مار پوڈر اور چوہے مار گولیاں باندھنے سے بھی گریز نہ کیا۔ عبدالجبار شاکر کی لائبریری ایک خزانہ ہے جس کا پہرہ دینا ضروری ہے۔ اگر اس پہرہ کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا تو یقینا یہ علمی ورثہ مرحوم کی طرف سے صدقہ جاریہ ہوگا جو قیامت تک ان کے حسنات میں اضافہ کرتا رہے گا۔

عبدالجبار شاکر انتہائی امین تھے۔ کسی کے الفاظ تک کو امانت خیال کرتے۔ ایک ملاقات میں تذکرۂ عالم اسلام کی حالت ِزار پر چل نکلا۔ اس وقت پاکستان کے صدر جناب رفیق تارڑ تھے۔ ان سے عبدالجبار شاکر کی گاڑھی چھنتی تھی۔ جانے یہ محاورہ کس طرح اُردو والوں میں چل نکلا۔ حالانکہ مشاہدہ یہ ہے کہ جو گاڑھی ہو، وہ تو چھنتی ہی نہیں لیکن ہمیں اس سے کیا غرض، یہ اُردو والوں کا کام ہے، وہ جانیں ۔ بہرحال عبدالجبار شاکر کے ساتھ رفیق تارڑ کی دوستی گاڑھی تھی، اتنی گاڑھی کہ چھنتی ہی نہ تھی۔ میں نے عرض کیا: قبلہ سارا یورپ مسلمانوں کو دہشت گرد کہتا ہے اور اپنی زبان میں وہ ہمارے لیے Terrorist کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ دیکھئے جب سے جناب رفیق تارڑ صدر بنے ہیں ، اس وقت سے سارا یورپ ان کو رفیق Terrer کہتا ہے۔ میری بات سن کر عبدالجبار شاکر بہت محظوظ ہوئے۔ کافی دیر تک ہنستے رہے ، مجھے داد دیتے رہے۔ پھر کہنے لگے: تارڑ صاحب سے میری ملاقات چار روز بعد طے ہے۔ میں اُنہیں یہ لطیفہ ضرور سناؤں گا۔ یہ کہہ کر معاً بولے کہ آپ ہی کا نام لے کر سناؤں گا۔ مجھے ان کی اس بات پر رشک ہوا۔ جو شخص الفاظ کے حوالے سے بھی اتنا محتاط ہو، اس کے ہاں مادی چیزوں کے بارے میں احتیاط کا عالم کیا ہوگا۔

خاموش نہ بیٹھنے والا، گھر کو منتقل نہ کرنے والا، زندگی کی اس روش کو چھوڑ کر منوں مٹی تلے منتقل ہو چکا ہے۔ کاش زمین کی زبان ہوتی تو میں نوشہرہ ورکاں کی مٹی کے ذرّات سے پوچھتا : تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کئے۔ وہ میرا محبوب تھا، وہ میرا محب تھا۔ میرے محبوبوں کا محب تھا۔ اب وہ محبت ترک کرکے گریباں سی چکا۔ وہ وہاں چلا گیا جہاں سب کو جانا ہے۔ دنیا والے سفر کریں تو لوٹ کر اپنے گھر ضرور آتے ہیں ۔ امیر خسرو نے کہا تھا:

سانجھ پئی چوں دیس


لیکن عبدالجبار شاکر اس سفر پر چلا گیا جہاں سے کوئی مسافر لوٹتا نہیں ۔ لیکن ٹھہریئے ... وہ تو یہ سبق دے گیا ہے کہ میں دنیا میں سفر پر آیا تھا۔ اپنے حصہ کا کام کر چکا، اب اپنے گھر لوٹ کر جارہا ہوں :


آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے !


اے نوشہرہ ورکاں کی خاک! میں تجھ سے مخاطب ہوں اور صرف یہ کہتا ہوں :


اے خاک تیرہ دلبر مارا عزیز دار
ایں نورِ چشم ما است کہ در برگرفتہ ای

حوالہ جات
1. ترمذی:1970