Mohaddis-333-Dec2009

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

بعض عرب علما کا کہنا ہے کہ عرب 'حاکمیت' کے لفظ سے ناآشنا تھے یہاں تک کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس لفظ کو استعمال کیا اور ان سے سید قطب شہید کے ذریعے یہ لفظ عربی زبان میں وارد ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 'توحید ِحاکمیت' ایک جدید اصطلاح ہے جو سید قطب شہید کے دعوتی و فکری لٹریچر کے ذریعے عام ہوئی ہے۔ سلف صالحین نے جب قرآن وسنت میں غور کیا تو یہ بات سامنے آئی کہ قرآن وسنت میں تین طرح کی توحید کا بیان ہے
  1. توحید ِربوبیت
  2. توحید اُلوہیت یا توحید ِ عبادت
  3. توحید ِ اسماء و صفات
توحید ِربوبیت سے مراد اللہ تعالیٰ کواس کے افعال میں یکتا قرار دینامثلاً اللہ تعالیٰ ہی پیداکرتا ہے، وہی رزق دیتا ہے، وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، وہی اسی کائنات کی تدبیر کر رہا ہے وغیرہ۔
اور توحید ِاُلوہیت سے مراد صرف اللہ ہی کی ذات کو عبادت کے لیے خاص کرنایعنی اللہ کی محبت، اس کے خوف،اس سے اُمید، اس کی اطاعت وغیرہ کے جذبات کے ساتھ اس کی عبادت کرنا، نذر و نیاز، سجدہ، رکوع، طواف اور دعا وغیرہ جیسی عبادات میں کسی کو بھی اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا۔ جبکہ توحید اسماء و صفات سے مراد قرآن و سنت میں جن اسماء و صفات کا اثبات ہے، ان کا اثبات کرنااور جن عیوب و نقائص سے اللہ کی ذات کو پاک قرار دیا گیا ہے ان سے پاک قرار دینا ہے۔
 
مغرب میں سماجی علوم و فنون کی ترقی سے عالم اسلام بھی بہت حد تک متاثر ہوا۔ یورپ میں جب باقاعدہ قانون و آئین سازی کی تاریخ کا آغاز ہوا تو مسلمان ممالک نے بھی اس مسئلے میں ان کی تقلید کی ۔عصر حاضر میں تقریباً تمام مسلمان ممالک میں انگریزی یعنی برطانوی یا فرانسیسی یا امریکی قوانین وغیرہ جزوی طور پر نافذ ہیں ۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی آخری خلافت، سلطنت ِعثمانیہ میں بھی سواے مدنی قانون یعنی مجلَّة الأحکام العدلیة کے بقیہ تمام قوانین مثلاً فوجداری قانون، قانونِ تجارت، قانون اَراضی وغیرہ فرانسیسی و یورپین قوانین سے ماخوذ تھے اور انہی کے مطابق عدالتوں میں فیصلے ہوتے تھے۔ پس تقریباً تمام مسلمان ممالک میں نہ تو سو فی صد غیر شرعی و مغربی قوانین نافذ ہیں اور نہ ہی مکمل اسلامی و شرعی قوانین، بلکہ یورپی اور اسلامی قوانین کا ایک ملغوبہ ہے جو اکثر و بیشتر مسلمان ممالک میں نافذ العمل ہے۔
 
1924ء میں خلافت ِعثمانیہ کے سقوط کے بعد مسلمان اُمت میں خلافت کی بحالی کے لیے اسلامی تحریکوں کا آغاز ہوا۔ ان تحریکوں نے اپنے موقف میں زورپیدا کرنے کے لیے 'توحید حاکمیت' کی اصطلاح استعمال کی تا کہ عوام الناس کو یہ باور کرایا جا سکے کہ غیر اللہ کے قوانین کا نفاذ شرک ہے، لہٰذااُ نہیں یورپین و مغربی قوانین کے نفاذ کے خلاف اور اسلامی قوانین کی بحالی کے لیے اپنا تن من دھن لگا دیناچاہیے۔شروع میں تو یہ اصطلاح توحید کی باقی اقسام کی طرح ایک قسم کے طور پر بیان ہوتی رہی لیکن آہستہ آہستہ اس کے استعمال میں یہ غلو پیدا ہوا کہ بعض مفکرین نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ لا إلہ إلا اﷲ کا معنی لاحاکم إلا اﷲ ہے اور انسان کی تخلیق کا مقصدروے ارضی پر اللہ کی حاکمیت قائم کرنا ہے، نہ کہ اس کی عبادت کرنا۔یہاں تک بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض سلفی مفکرین کے نزدیک بھی سلف کی بیان کردہ توحید اُلوہیت، توحید ِربوبیت اور توحید اسماء و صفات پس منظر میں چلی گئیں اور اُنہیں اسلام و کفر کا معیار صرف توحید ِحاکمیت ہی میں نظر آنے لگا۔
 
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حاکم صرف اللہ ہی کی ذات ہے۔اور یہ کوئی نئی بحث نہیں ہے بلکہ اُصولِ فقہ کی قدیم و جدیدکتابوں میں حکم کی اَبحاث کے ذیل میں 'حاکم' کے عنوان کے تحت اس موضوع پر مفصل مباحث موجود ہیں ۔ علاوہ ازیں عقائد کی کتب میں بھی یہ بات مختلف عنوانات کے تحت موجود ہے کہ غیر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرناکفر، ظلم اور فسق ہے۔ اَصل سوال اللہ کے حاکم ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف کا نہیں ہے بلکہ سوال درحقیقت یہ ہے کہ سلف صالحین نے توحید کی جو تین اقسام بیان کی تھیں کیا وہ توحید ِ حاکمیت کو بھی شامل تھیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو سلف صالحین کا تصورِ توحید ناقص تھا اور اگرہیں تو ایک نئی اصطلاح وضع کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ ذیل میں ہم اس موضوع پر اہل سنت کے علماء کے اَقوال کی روشنی میں بحث کر رہے ہیں :
پہلا موقف: توحید ِحاکمیت کی اصطلاح استعمال کرنے کے بارے میں سلفی علما کے تین موقف ہیں ۔ بعض علما کا کہنا یہ ہے کہ اس اصطلاح کا استعمال جائز ہے کیونکہ ''لا مشاحة في الإصطلاح''۔ ایسے علماء کی تعداد بہت ہی کم ہے جن میں نمایاں نام شیخ عبد الرحمن بن عبدالخالق یوسف کا ہے جنہوں نے اپنی کتاب'الصراط' میں توحید ِحاکمیت کی اصطلاح استعمال کی ہے۔
دوسرا موقف: دوسرا موقف سلفی علماء کی ایک معتد بہ جماعت کا ہے کہ توحید کی تین ہی اقسام ہیں : توحید حاکمیت بھی در اصل توحید اُلوہیت یا توحید ِربوبیت ہی کا ایک پہلو ہے۔ لہٰذا نئی اصطلاح وضع کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سلف کی اصطلاحات جامع مانع ہیں اور انہی پر اکتفا کر نا چاہیے۔
٭ سابقہ مفتی اعظم سعودی عرب شیخ بن باز فرماتے ہیں :
''لیست أقسام التوحید أربعة وإنما ھي ثلاثة کما قال أھل العلم وتوحید الحاکمیة داخل في توحید العبادة ۔ فمن توحید العبادة الحکم بما شرع اﷲ، والصلاة والصیام والزکاة والحج والحکم بالشرع کل ھذا داخل في توحید العبادة''
''توحید کی اقسام چار نہیں ہیں بلکہ تین ہی ہیں جیسا کہ اہل علم کا کہنا ہے۔ توحید ِحاکمیت دراصل توحید ِعبادت(اُلوہیت) میں داخل ہے۔ پس توحید ِعبادت(اُلوہیت) میں یہ بھی شامل ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے کیے جائیں ۔ نماز، روزہ، حج، زکوة اور اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے کرنا یہ توحید ِعبادت میں داخل ہے۔''
شیخ عبد اللہ بن الغنیمان اور شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ الراجحی نے بھی یہی موقف بیان کیا ہے: دیکھئے
تیسرا موقف: یہ موقف بھی سلفی علما کی ایک بڑی جماعت کا ہے۔ اس موقف کے مطابق توحید ِحاکمیت کی اصطلاح وضع کرنا ہی بدعت اور گمراہی ہے لہٰذا اس سے اجتناب لازم ہے۔ یہ موقف شیخ صالح العثیمین ، علامہ البانی اور شیخ صالح الفوزان وغیرہ کا ہے۔
٭ شیخ صالح العثیمین سے جب توحید کی چوتھی مزعومہ قسم: توحید ِحاکمیت کے بارے سوال ہوا تو اُنہوں نے جواب دیا:
''السؤال: ما تقول عفا اﷲ عنك في من أضاف للتوحید قسمًا رابعًا سمّاہ توحید الحاکمیة؟ الجواب: نقول: إنہ ضالّ وجاھل، لأن توحید الحاکمیة ھو توحید اﷲ عزَّ وجل فالحاکم ھو اﷲ فإذا قلت: التوحید ثلاثة أنواع کما قاله العلماء: توحید الربوبیة، فإن توحید الحاکمیة داخل في توحید الربوبیة، لأن توحید الربوبیة ھو توحید الحکم والخلق والتدبیر ﷲ عز وجل وھٰذا قول مُحدَث منکر، وکیف توحید الحاکمیة؟ ما یمکن أن توحد الحاکمیة، المعنٰی أن یکون حاکم الدنیا واحدا؟ أم ماذا؟ فھذا قول مُحدَث مبتدع منکر، یُنکر علی صاحبه ویقال له: إن أردت الحکم فالحکم ﷲ وحدہ، و ھو داخل في توحید الربوبیة، لأن الربّ ھو الخالق المالک المدبّر للأمور کلھا، فھٰذہ بدعة و ضلالة، نعم۔ ''
سوال: آپ اس شخص کے بارے کیا کہتے ہیں جس نے توحید کی چوتھی قسم توحید ِحاکمیت بنا لی ہے۔ جواب:ہم کہتے ہیں :(جو یہ اصطلاح استعمال کرے) وہ گمراہ اور جاہل ہیں ۔ توحید حاکمیت سے مراد اللہ کی توحید ہی ہے۔ پس حاکم صرف اللہ ہی ہے۔ پس اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ توحید کی تین اقسام ہیں : توحید ِربوبیت(توحید اُلوہیت اور توحید ِاَسماء و صفات)۔ توحید حاکمیت ، توحید ِربوبیت کا ہی حصہ ہے کیونکہ توحید ِربوبیت ہی توحید ِحکم، توحید ِخلق اورتوحید تدبیر وغیرہ ہے۔(توحید ِحاکمیت کو علیحدہ قسم بنانا) ایک بدعی اور منکر قول ہے۔ توحید ِحاکمیت کیسے ہوگی؟ یہ ممکن نہیں ہے کہ حاکمیت ایک ہی ہو جائے یعنی ساری دنیا کا حاکم ایک ہی ہو؟ یا پھرتوحید ِحاکمیت سے مراد کیا ہے؟ توحید ِحاکمیت کا قول ایک بدعتی اور منکر کا قول ہے۔ اس قول کے صاحب کا انکار کیا جائے گا اوراس سے کہا جائے گا کہ اگر اس سے تیری مراد حکم ہے تو حکم دینے کا اختیار تو اللہ ہی کی ذات کو ہے اوروہ توحید ِربوبیت میں داخل ہے کیونکہ ربّ سبحانہ و تعالی ہی خالق، مالک اور تمام اُمور کا مدبر ہے۔ پس توحید ِحاکمیت کی علیحدہ قسم بنانا بدعت اور گمراہی ہے۔جی ہاں !''
شیخ صالح العثیمین نے اس بحث کو اُجاگر کیا ہے کہ توحید ِ حاکمیت سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔ توحید ِحاکمیت کا ایک مفہوم تو یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ حاکم اور شارع اللہ ہی کی ذات ہے یعنی حکم دینے کا اختیار صرف اللہ ہی کو ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:( إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۖ...﴿٥٧...سورة الانعام)۔ اِس پہلو سے یہ توحید ِ ربوبیت میں داخل ہے کیونکہ حکم جاری کرنا اللہ کا ایک فعل ہے اور اس کے اس فعل میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ توحید حاکمیت کا ایک دوسرا مفہوم شیخ بن باز نے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد بندے اپنے افعال میں اللہ ہی کو حاکم قرار دیں ۔ اس اعتبار سے یہ توحید ِاُلوہیت میں داخل ہے۔ یہ دونوں پہلو ہی مطلوب ہیں لہٰذا توحید ِحاکمیت ایک پہلو سے توحید ِربوبیت اور دوسرے پہلو سے توحید اُلوہیت میں داخل ہے۔
٭ علامہ البانی کا کہنا یہ ہے کہ بعض افراد نے اپنی سیاسی تعبیرات کو شرعی معنی پہنانے کے لیے توحید ِحاکمیت کی اصطلاح وضع کی ہے۔ علامہ اپنے ایک لیکچر میں فرماتے ہیں :
''الحاکمیة فرع من فروع توحید الألوھیة والذین یدندنون بھذہ الکلمة المحدثة في العصر الحاضر، یتخذون سلاحًا لیس لتعلیم المسلمین التوحید الذي جاء به الأنبیاء والرُّسل کلّھم و إنما سلاحًا سیاسیًّا۔''
''حاکمیت ، توحید ِ اُلوہیت کے فروعات میں سے ایک فرع ہے جو لوگ عصر حاضر میں اس کلمے کو لیے دندناتے پھرتے ہیں ، وہ اس اصطلاح کے ذریعے مسلمانوں کو اس توحید کی تعلیم نہیں دینا چاہتے جسے تمام انبیاء و رسل لے کر آئے بلکہ یہ لوگ اس اصطلاح کو سیاسی اسلحے کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔''
یہ پیرا گراف اس موضوع پر علامہ محمد ناصر الدین البانی کے مفصل کلام کا حصہ ہے جو درج ذیل لیکچر میں سماعت کیا جا سکتا ہے:
٭ شیخ صالح الفوزان کا کہنا ہے کہ توحید ِ حاکمیت میں غلو نے توحید اُلوہیت کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ ایسی جماعتیں یا گروہ بھی وجود میں آ گئے ہیں جو توحید ِاُلوہیت کو نظر انداز کرتے ہوئے توحید ِحاکمیت کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں ، جس کی وجہ سے توحید کے صحیح تصور میں عدمِ توازن پیدا ہو رہا ہے۔ شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
''توحید الحاکمیة ھل ھو من أقسام توحید الربوبیة أم الألوھیة؟ الجواب: توحید الحاکمیة نوعُ فرد من أفراد توحید العبادة، وجَعْلُه من توحید الحاکمیة ھٰذا غالت بعض الجماعات، بعض الجماعات غالوا في توحید الحاکمیة، وبعض الجماعات صیروہ فردا۔توحید الحاکمیة من أنواع توحید العبادة، یجب أن تفرد اﷲ بالدعاء والذبح والنذر والحکم تتحاکم إلیٰ شرعه، لمَاذا تخصص لو یأتي واحد یقول: توحید الدعاء ویجعله توحیدًا، توحید النذر، توحید الطواف، توحید الصلاة، توحید الرکوع، توحید السجود، توحید الحاکمیة کلّھا توحید العبادة داخلة في مسمی توحید العبادة، وحد اﷲ أي : أن توحد اللہ في الرکوع والسجود والذبح والنذر والحاکمیة وغیرھا، ھٰذا الأصح۔ لکن غالي بعض الناس أو الجماعات الذین معرفون الآن فغالوا في توحید الحاکمیة وصاروا لا یتکلمون إلا عن توحید الحاکمیة و یکفرون الحکام، لأنھم لم یحکموا بالشریعة ولکن لا یتکلمون في الشرك، لا یتکلمون في الدعاء لغیر اﷲ ولا في الذبح ولا في النذر مع أن ھٰذا شرك ، القبور عندھم وأمامھم و بین أیدیھم یذبح لھا وینذر لھا و لا یتکلمون ولا یتکلموا إلا في توحید الحاکمیة لمَاذا؟ الحاکمیة فرد من الأفراد أنکر الشرك في الدعاء والذبح والنذر کما أنك تنکر علی الحکام عدم الحکم بما أنزل اﷲ لماذا تخصص؟ فرد من أفراد العبادة۔ نعم''
''سوال: توحید ِحاکمیت، توحید ِربوبیت کی قسم ہے یا توحید اُلوہیت کی؟۔ جواب: توحید ِحاکمیت توحید ِعبادت (اُلوہیت) کے افراد میں سے ایک فرد ہے۔ توحید ِحاکمیت کو ایک مستقل قسم قراردیتے ہوئے بعض جماعتوں نے غلو کیا ہے۔ بعض جماعتوں نے توحید ِحاکمیت میں غلو کیا ہے جبکہ بعض جماعتیں اسے ایک فرد ؍جزو قرار دیتی ہے۔ توحید ِحاکمیت، توحید عبادت(اُلوہیت ) کی ایک قسم ہے۔ یہ بات واجب ہے کہ انسان اپنی دعا، ذبح، نذر اور حکم میں اللہ ہی کی شریعت کی طرف اپنا مقدمہ لے جاتے ہوئے اپنے ان افعال میں توحید کو برقرار رکھے۔(میں کہتا ہوں ) توحید ِحاکمیت ہی کو خاص کیوں کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص یہ کہے: توحید ِدعا اور اس کو توحید کی ایک مستقل قسم قرار دے یا توحید ِ نذر، توحید ِطواف، توحید نماز، توحید ِرکوع، توحید ِسجود(یعنی نذر، طواف، نماز، رکوع اور سجود صرف اللہ ہی کے لیے ہیں تو توحید کی یہ قسمیں بنانے میں بھی کیا حرج ہے؟)۔توحید ِحاکمیت تمام کی تمام توحید عبادت (اُلوہیت) کے مفہوم میں داخل ہے۔ اللہ کی توحید اختیار کرو یعنی رکوع، سجود، ذبح، نذر اور حاکمیت وغیرہ میں ۔ یہ بات صحیح ہے لیکن بعض افراد اور معروف جماعتوں نے توحید ِحاکمیت میں غلو کیا ہے۔ یہ لوگ توحید ِحاکمیت کے علاوہ کچھ بیان ہی نہیں کرتے اور مسلمان حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہیں کیونکہ یہ حکام شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے۔ یہی لوگ غیر اللہ کے لیے دعاکرنے، غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے اور غیر اللہ کے لیے نذر ماننے کے بارے میں فتوے نہیں دیتے حالانکہ یہ بھی شرک ہے اور ان حضرات کے سامنے اوراردگرد قبریں ہیں ، ان کے سامنے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا جاتا ہے اور نذریں مانی جاتی ہیں (لیکن پھر بھی یہ حضرات اس توحید پر توجہ نہیں دیتے)۔ غیر اللہ سے دعا کرنے، ذبح کرنے اور نذر ماننے کے شرک کابھی اسی طرح انکار ہو گا جس طرح حکام کے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرنے کا آپ انکارکرتے ہیں ۔ توحید ِحاکمیت، توحید عبادت کے افراد میں سے ایک فرد ؍جزو ہی ہے۔ جی ہاں !''
''یا فضیلة الشیخ! وفقکم اﷲ ما حکم من یقول : معنٰی لا إله إلا اﷲ ھي: لاحاکمیة إلا اﷲ؟ الشیخ: ما شاء اﷲ! ھٰذا أخذ جزء، جزء قلیل من معنی لا إله إلا اﷲ وترك الأصل الذي ھو التوحید والعبادة ۔ لا إله إلا اﷲ معناھا: لا معبود بحق إلا اﷲ ۔ فھي تنفي الشرك وتثبت التوحید والحاکمیة جزء من معنٰی لا إله إلا اﷲ ولکن الأصل ھو التوحید، الأصل في لا إله إلا اﷲ ھو التوحید {وَمَآ أُمِرُ‌وٓا إِلَّا لِيَعْبُدُوٓاإِلَـٰهًا وَ‌ٰحِدًا ۖ...﴿٣١...سورة التوبہ} {وَمَآ أُمِرُ‌وٓا إِلَّا لِيَعْبُدُوا ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ...﴿٥...سورة البینہ} وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦...سورة الذاریات} لکن ھذہ فتنة ھؤلاء الذین یقولون ھذہ المقالة؛ إما أنھم جھال، یفسرون کلام اﷲ وکلام رسولہ، ھو لیس عندھم علم، إنما ھم أصحاب ثقافة عامة ویسمونھم 'مفکرین' لکن لیس لھم فقه في دین اﷲ، وعدم الفقه في دین اﷲ آفة... علیٰ کل حال ھو تفسیر ناقص جدًا، ولا ینفع حتی لو حکم، لو قامت المحاکم علی تحکیم الشریعة في المخاصمات بین الناس والأعراض والحدود، وترك أمر الشرك والأضرحة قائمًا، فھذا لا ینفع ولا یفید شیئًا ولا یعتبروا مسلمین بذلك حتی یزیلوا الشرك ویھدموا الأوثان، النبي ﷺ بدأ بھدم الأوثان قبل أن یأمر الناس بالصلاة والصیام والزکاة والحج، تعلمون أنه أقام في مکة ثلاثة عشر سنة، یأمر بالتوحید وینھٰی عن الشرك، حتی إذا تمھدت العقیدة وقامت العقیدة ووُجد من المسلمین من یؤازر الرسول ﷺ علی أمر الجھاد، نزلت علیه شرائع الإسلام: الصلاة والصیام والحج وبقیة شرائع الإسلام، البناء لایقوم إلا علی الأساس، لا بدَّ من الأساس أوَّلا ثم البناء ولذلك شھادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمَّدا رسول اﷲ ھي أوّل أرکان الإسلام والنبي ﷺ یقول (فلیکن أوّل ما تدعوھم إلیه: شھادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدًا رسول اﷲ) نعم۔
بعضھم کتب کتاب یقول فیه: إن اﷲ خلق الخلق لیحقوا الحاکمیة في الأرض، ھٰذا مخالف لقوله تعالیٰ: {وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦...سورة الذاریات} یعنی ما راح للآیة ھذہ، بل خلقھم من أجل یحققوا الحاکمیة، یا سبحان اﷲ! اﷲ تعالی یقول {وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦...سورة الذاریات} وأنت تقول لیحققوا الحاکمیة؟ نعم؛ من أین جاء بھٰذا التفسیر؟ وفي الحقیقة ھم مُکفِّرین لا مُفَکِّرین، فانتبه !''
''سوال: شیخ صاحب! اللہ آپ کو توفیق دے، اس شخص کا حکم بیان کریں جو 'لا إله إلا اللہ' کا معنی یہ بیان کرتا ہو کہ اس سے مراد یہ ہے کہ حاکمیت اللہ کے علاوہ کسی کی نہیں ہے؟ جواب: ما شاء اللہ! یہ کلمہ توحید' لا اِلہ الا اللہ' کا ایک جزبلکہ بہت ہی قلیل جزہے۔ اس تفسیر کے ذریعے کلمہ توحید کے اصل مقصود کو چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ ہے توحید اور عبادت۔ 'لا إله إلا اللہ' کا معنی ہے کوئی حقیقی معبود اللہ کے سوا نہیں ہے۔ یہ تصور شرک کی نفی بھی کرتا ہے اور توحید کو ثابت بھی کرتا ہے۔ حاکمیت ' لاإله إلا اللہ' کا ایک جز ہے جبکہ اس کلمے کی اصل توحید ہے۔ 'لا إله إلا اللہ' میں اصل مفہوم توحید کا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور نہیں اُنہیں حکم دیا گیا مگر یہ کہ وہ ایک ہی معبود کی عبادت کریں ۔ اسی طرح ارشاد ہے: اور اُنہیں نہیں حکم دیا گیا مگر اس کا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اس کے لیے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے۔ اسی طرح ارشاد ہے: اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ 'لا إله إلا اللہ' کی حاکمیت کے ذریعے تفسیرکرنا در حقیقت ان لوگوں کا فتنہ ہے جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں ۔ یا تو یہ لوگ جاہل ہیں ، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کی تفسیر کرتے ہیں ، حالانکہ ان کے پاس اس کا علم نہیں ہے۔ یہ لوگ در حقیقت تہذیب و کلچر کے میدان کے لوگ ہیں اور 'مفکرین' کہلاتے ہیں لیکن ان کے پاس اللہ کے دین کی سوجھ بوجھ موجود نہیں ہے۔ جبکہ اللہ کے دین کی سوجھ بوجھ نہ ہونا ایک آفت ہے...بہر حال یہ ایک بہت ہی ناقص تفسیر ہے۔ اگر اللہ کی حاکمیت قائم کر بھی دی جائے تو پھر بھی یہ تفسیر بے فائدہ ہو گی۔ اگر عدالتیں لوگوں کے مابین جھگڑوں ، حدود و عزت کے مسائل میں اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلے کرنے بھی لگ جائیں اور حال یہ ہو کہ معاشرے میں شرک موجود ہو، مزار قائم ہوں تو یہ توحید حاکمیت کوئی فائدہ نہ دے گی اور لوگ اس توحید کی وجہ سے مسلمان نہیں ہو جائیں گے جب تک کہ وہ شرک کی جڑ نہ کاٹ دیں اور بتوں کو گرا دیں ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز، روزہ، حج اور زکوٰة کا حکم دینے سے پہلے اپنی دعوت کا آغاز بتوں کو گرانے سے کیا۔ آپ لوگ جانتے ہیں کہ آپؐ نے تیرہ سال مکہ میں قیام کیا۔ اس دوران آپ توحید کا حکم دیتے تھے اور شرک سے روکتے تھے یہاں تک کہ جب عقیدہ درست و صحیح ہو گیااور مسلمانوں میں جہاد کے حکم پر آپ کی مدد کرنے والے میسر آ گئے تو نماز، روزہ، حج اور بقیہ شریعت نازل ہونا شروع ہوئی۔عمارت اپنی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔ پہلے بنیاد کو پکڑیں پھر عمارت تعمیر کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ ' لا إله إلا اللہ محمد رسول اللہ' کی گواہی دینا اسلام کا پہلا رکن ہے۔
ان میں سے کسی نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں کہا ہے:اللہ نے اپنی مخلوق کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ زمین میں اللہ کی حاکمیت قائم کریں ۔ یہ قول آیت ِمبارکہ {وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦...سورة الذاریات} کے خلاف ہے۔ یعنی اس شخص کو یہ آیت ِمبارکہ راس نہ آئی۔ (اس کا کہنا یہ ہے )بلکہ ان کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ حاکمیت کو ثابت کریں ۔ سبحان اللہ! اللہ تعالی فرماتے ہیں : 'میں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے، اور تم یہ کہتے ہو کہ اس لیے پیدا فرمایا تاکہ اللہ کی حاکمیت ثابت کریں ۔ جی ہاں ! یہ تفسیر کہاں سے لے آئے ہیں ؟۔ درحقیقت یہ لوگ تکفیری ہیں نہ کہ مفکرین۔ ان سے خبردار رہیں !''
٭ شیخ عبد السلام بن برجس آلِ عبد الکریم فرماتے ہیں :
''فمن ثم وضع توحید الحاکمیة قسیمًا لأقسام التوحید المعروفة الثلاثة ھو من الأمور التي أدخلھا بعض من انحرف في مسائل التکفیر في ھٰذا العصر کجماعة الإخوان المسلمین وغیرھم وھو لیس في شيء''
''توحید ِ حاکمیت کو توحید کی تین معروف اقسام کی طرح ایک مستقل قسم ان لوگوں نے قرار دیا ہے جنہوں نے عصر حاضر میں مسئلہ تکفیر میں اہل سنت کے منہج سے انحراف کیا ہے جیسا کہ الإخوان المسلون وغیرہ ہیں ۔ توحید کی اس قسم کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔''
٭ شیخ ابو عبد المعز محمد علی فرکوس الجزائری فرماتے ہیں :
''ھل شرح سید القطب لـ ''لا إله إلا اﷲ'' یعد أفضل شروحات کلمة التوحید؟ الجواب: ۔۔۔فتفسیر سید قطب وأخیه محمد قطب لمعنٰی لا إله إلا اﷲ بالحاکمیة أي لا حاکمَ إلا اﷲ تفسیر قاصر غیر صحیح فکیف یکون الأفضل؟ فھو مخالف لما علیه تفسیر السلف الصالح لمعنی لا إله إلا اﷲ و ھو لا معبود بحق إلا اﷲ و یدل علیه قوله تعالی {ذَ‌ٰلِكَ بِأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ هُوَ ٱلْبَـٰطِلُ وَأَنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ‌ ﴿٦٢...سورة الحج} وقوله تعالیٰ {وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍ رَّ‌سُولًا أَنِ ٱعْبُدُوا ٱللَّهَ وَٱجْتَنِبُوا ٱلطَّـٰغُوتَ ۖ...﴿٣٦...سورة النحل} وقوله تعالی {وَٱعْبُدُوا ٱللَّهَ وَلَا تُشْرِ‌كُوا بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ...﴿٣٦...سورة النساء} وقوله تعالی {وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴿٥٦...سورة الذاریات} وقوله ﷺ (أمرت أن أقاتل الناس حتی یشھدوا أن لا إله إلا اﷲ)''
''سوال: کیا سید قطب شہید کی 'لا إله إلا اللہ' کی تفسیر کلمہ توحید کی افضل ترین شرح ہے؟ جواب: ۔۔۔سید قطب اور ان کے بھائی محمد قطب نے 'لا إله إلا اللہ' کی تفسیر حاکمیت کے ساتھ کی ہے یعنی 'لا الہ الا اللہ' سے مراد ' لا حاکم إلا اللہ' ہے، یہ تفسیر ایک ناقص اور غیر صحیح تفسیر ہے چہ جائیکہ اس کو افضل قرار دیا جائے۔ ان دونوں بھائیوں کی یہ تفسیر اس معنی کے خلاف ہے جو سلف صالحین نے 'لا إله إلا اللہ' کا بیان کیا ہے اور وہ معنی یہ ہے کہ اس سے مراد' لا معبود بحق إلا اللہ' ہے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔
سلف کی اس تفسیر پر درج ذیل آیات اور احادیث شاہد ہیں : ارشادِ باری تعالیٰ ہے:یہ اس وجہ سے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ہی حقیقی معبود ہے اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ معبودانِ باطلہ ہیں اور بلاشہ اللہ تعالی ہی عظیم اور بڑا ہے۔ اسی طرح ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول بھیجا تاکہ تم اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔ اسی طرح ارشادِ ہے: اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ اسی طرح ارشاد ہے: اور نہیں میں نے پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ اسی طرح حدیث ِمبارکہ میں ہے: مجھے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو) یہ حکم دیا گیاہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ 'لا إله اِلا اللہ' کی گواہی دیں ۔''
٭شیخ ربیع اور شیخ ابراہیم الزحیلی نے بھی تقریباًیہی موقف بیان کیا ہے۔
 
خلاصۂ کلام
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ توحید ِحاکمیت کی اصطلاح سلف صالحین کے دور میں نہیں تھی اور یہ جدید دور کی اصطلاح ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس اصطلاح کا استعمال جائز ہے یاغیرصحیح یا بدعت؟ جیسا کہ یہ تینوں موقف سلفی علماء میں پائے جاتے ہیں ۔یہ بات درست ہے کہ نئی اصطلاح وضع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ اس کی ضرورت ہو۔ لیکن بغیر کسی وجہ و ضرورت کے نئی نئی اصطلاحات کا استعمال انتشارِ ذہنی کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا جب توحید حاکمیت ' توحید ِاُلوہیت یا ربوبیت میں شامل ہے اور ان کا ایک جزو ہے تو اس کو علیحدہ بیان کرنے کی بجائے انہی دو اقسام کے ذیل میں بیان کرنا چاہیے جیسا کہ شیخ ابن باز کا موقف ہے۔ پس علیحدہ سے توحید ِحاکمیت کی اصطلاح کا استعمال غیر ضروری اور درست نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص مجرداس کو بطورِ اصطلاح استعمال کر ے تواس پر بدعتی یا گمراہ ہونے کا فتویٰ نہیں لگایا جائے گا۔ شیخ عبد اللہ الغُنیمان فرماتے ہیں :
''وجعله قسم رابعًا لیس له وجه، لأنه داخل في الأقسام الثلاثة، والتقسیم بلا مقتضٰی یکون زیادة کلام لا داعي له، و الأمر سھل فیه علی کل حال، إذ جعل قسمًا مستقلاً فھو مرادف، و لا محذور فیه''
''اور توحید حاکمیت کو چوتھی قسم بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ پہلی تین اقسام میں داخل ہے۔ بغیر ضرورت کے کوئی تقسیم کرنا زیادتی کلام ہے جس کی وجہ یہاں موجود نہیں ہے۔ بہر حال معاملہ آسان ہی ہے۔اگر کسی نے چوتھی قسم بنا بھی لی تو یہ ایک مترادف اصطلاح ہے جس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔''
لیکن اگر کوئی شخص توحید ِحاکمیت کی اصطلاح کو ایسے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے کہ اس سے کئی ایک مزید بدعتی افکار جنم لیتے ہوں یاتوحید کا صحیح تصور مسخ ہو رہا ہو یا توحید کی اقسام کی مساوی اہمیت میں عدمِ توازن پیدا کیا جا رہا ہو یا دین کے کسی شعبے میں اس اصطلاح کے ذریعے غلو پیدا کیا جا رہا ہو تو ایسے حالات میں توحید کے صحیح تصور کی حفاظت کی خاطر بلاشبہ اس اصطلاح کے استعمال سے روکا جائے گااور اس کو استعمال کرنے والوں پر بدعتی یا گمراہ کا فتوی لگانا جائز ہو گاجیسا کہ شیخ صالح العثیمین ،علامہ البانی اور شیخ صالح الفوزان وغیرہ کا موقف ہے۔ سلفی علما کے دو مختلف موقفوں میں ہمیں تطبیق کی یہی صورت نظر آتی ہے۔ واللہ أعلم
توحید ِحاکمیت کی بنیاد پر مسلمان حکمرانوں کی تکفیر کے بارے میں سلفی علما کا موقف اور ان کے اَقوال کی تفصیل کسی مستقل مضمون میں پیش کی جائے گی۔ اِن شاء اللہ