ڈاونلوڈ

آن لائن مطالعہ

آن لائن مطالعہ
  • دسمبر
2009
مصطفیٰ راسخ
۶؍اکتوبر ۲۰۰۷ء کو جنرل پرویز مشرف کا جاری کردہ نام نہاد 'قومی مفاہمتی آرڈیننس' NRO ملکی حلقوں کی گرما گرم بحث کا موضوع ہے۔ اس سے قبل ۳؍نومبر ۲۰۰۷ء کو اعلیٰ عدلیہ کے ۵۵ کے قریب جج حضرات کو فارغ کرکے جنرل مشرف نے جس نئی عدلیہ کو متعین کیا تھا، عدالتی حلقوں میں گذشتہ چند ماہ سے ان جج حضرات سے باز پرس بھی کی جارہی ہے
  • دسمبر
2009
زاہدہ شبنم
عورت کو بحیثیت ِماں جن فرائض کی بجاآوری میں نہایت مشقت اور تندہی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے، ان میں سے ولادت کے بعد سب سے اہم 'عرصۂ رضاعت' ہے۔جب بچہ صرف دودھ پر گزارا کر رہا ہوتا ہے ، نہ تو وہ کھانا جانتا ہے اور نہ ہی اس کا کمزور نظامِ انہضام ٹھوس غذاؤں کو ہضم کر سکتا ہے، لہٰذا اسے گہری حکمتوں اور رحمتوں کے ساتھ صرف دودھ پینے کی فطری معرفت دی گئی۔
  • دسمبر
2009
محمود الحسن عارف
اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ اور دستور ہے کہ وہ قوموں کو خوابِ غفلت سے جگانے اور خلافت سے متعلق اپنے فرائض و واجبات انجام دینے سے متعلق ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرنے کے لیے اُنہیں طرح طرح کی زمینی اور آسمانی آزمائشوں سے دوچار کرتا ہے تاکہ اس کے بندے خوابِ غفلت سے جاگیں اور اپنی حقیقت اور اصلیت کو جان سکیں۔
  • دسمبر
2009
محمد زبیر
بعض عرب علما کا کہنا ہے کہ عرب 'حاکمیت' کے لفظ سے ناآشنا تھے یہاں تک کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی نے اس لفظ کو استعمال کیا اور ان سے سید قطب شہید کے ذریعے یہ لفظ عربی زبان میں وارد ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ 'توحید ِحاکمیت' ایک جدید اصطلاح ہے جو سید قطب شہید کے دعوتی و فکری لٹریچر کے ذریعے عام ہوئی ہے۔
  • دسمبر
2009
اشفاق سجاد سلفی
صحافت وخطابت کے عظیم شہسوار، مایہ ناز مدبر وحکیم، ملت ِاسلامیہ ہند کے مخلص قائد اور بے باک وباعزم مردِ میداں ، جامعہ سلفیہ بنارس کے رئیس، اُستاذ الاساتذہ علامہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری رحمہ اللہ ہزاروں سوگواروں کو چھوڑ کر اپنے مولاے حقیقی سے جا ملے۔ إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون! ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۰۹ء بروز جمعرات بوقت ۵ بجے صبح آپ کی وفات کی خبر سنتے ہی ہند و بیرونِ ہند مںح شدید رنج وغم کی لہر دوڑ گئی۔
  • دسمبر
2009
شفیق کوکب
محمدزکریاالزکی 'علم منقولات' یعنی فن محدثین اورجدید سائنس مارچ؍اپریل 12-28
زاہدہ شبنم، پروفیسر وحی بصورتِ خواب؛مقاصداورحکمتیں مارچ؍اپریل 29-42
عبداللہ دامانوی، ڈاکٹر سلام ومصافحہ کے اَحکام ومسائل نومبر 9-30
  • دسمبر
2009
قاری محمد طاہر
لیجئے نوشتہ تقدیر پھر غالب آیا۔ ایک کتاب شناس اور کتاب دوست دنیا سے رخصت ہوا۔ وہی جس کا نام 'عبدالجبار شاکر' تھا۔ جو واقعی جبار کا بندہ اور جبار کی مشیت پر شاکر رہنے والا اور رضیتُ باﷲ ربًّا و بالإسلام دینًاکا آئینہ دار تھا۔ اسم بامسمّٰی ... اس کی صفت شاکر تھی۔ آج کون ہے جس کی زبان پر مالی عسرت کا گلہ اور مہنگائی کی بات نہ ہو لیکن عبدالجبار شاکر کے شناسا سب شاہد ہیں کہ اس کے لب اس بارے میں گنگ تھے۔