میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آج کل ملک کے دینی حلقوں میں مزعومہ 'اسلامی بنکاری' پر بحث جاری ہے کہ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے اور اسلامی حوالے سے یہ بنکاری درست ہے یا نہیں ؟ اس ضمن میں سب سے پہلے تویہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ 'اسلامی بنکاری' ہے کیا؟ کہ اس کے بعد ہی اس کی شرعی حیثیت کا تعین کیا جا سکے گا۔

مغرب کی تہذیب آج کل دنیا میں غالب ہے۔ مغرب کا معاشی نظام، جو بنیادی طور پر سود پر مبنی ہے، نظامِ سرمایہ داری (Capitalism) کہلاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والی مشینوں کی ایجاد، وسیع پیمانے پر اشیاے تجارت کی پیداوار،ذرائع نقل وحمل اور رابطوں کی تیز رفتاری نے مغرب میں صنعتکاری یا انڈسٹریلائیزیشن (Industrialization) کو جنم دیا جس سے تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی، تو لوگوں کی بچتوں کو ایک جگہ جمع کرنے، اس جمع شدہ رقم کو کاروبار میں لگانے کے لئے بطورِ قرض مہیا کرنے، خرید و فروخت میں بڑی رقوم کی ادائیگی کرنے، رقم کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے... جیسے کاموں کے لئے بنک وجود میں آئے جن کے یورپ میں بانی اور کرتا دھرتا یہودی تھے جو صدیوں سے اپنے سرمائے کو سود پر دینے کا کاروبار کر رہے تھے۔ اُنہوں نے ہی اپنے کام کو مزید وسعت دے کر بنک قائم کر لئے۔

بیسویں صدی کے وسط میں جب مغربی استعمار کو مجبوراً کچھ مسلم ممالک کو آزادی دینا پڑی اورکچھ آزاد (؟)مسلم ممالک وجود میں آئے تو مسلمانوں کا واسطہ بالفعل بنکنگ کے نظام سے پڑا۔ لیکنیہ دیکھ کر کہ یہ سارا نظام سود پر مبنی ہے اور اسلام مسلمانوں کو سود لینے دینے سے منع کرتا ہے، بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا یہ نظام سود کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا؟ یوں 'اسلامی بنکنگ' کے بارے میں سوچ کی ابتدا ہوئی۔ برصغیر میں 'اسلامی معاشیات' کے حوالے سے جو ماہرین اور سکالرز سرگرم تھے (جیسے ہندوستان کے ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی، پاکستان کے پروفیسر خورشید احمد اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانی سکالر عمر چھاپرا وغیرہ) اُنہوں نے اس تصور کی حمایت کی کہ موجودہ سودی بنکوں کے نظام میں اگر اسلامی حوالے سے کچھ تبدیلیاں کر دی جائیں تو یہ بنکنگ اسلامی اور جائز ہو جائے گی۔ بعض مسلمان عرب سرمایہ داروں نے اس پر عمل کی ٹھانی، پھر بوجوہ مغرب نے اس منصوبے کی حمایت اور سرپرستی شروع کر دی نتیجتاً دھڑا دھڑ 'اسلامی بنک' کھلنے لگے بلکہ اب تو عام بنکوں نے بھی 'اسلامی کائونٹر' کھول کر اس کاروبار بلکہ 'کارِخیر'میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے۔

علماے کرام کی اکثریت اس نظام کے سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے اس کی مخالف تھی (اگرچہ بطور استثنیٰ کوئی اِکا دُکا عالم بنکوں کے سود کو'ربا' ماننے میں تردّد کا اظہار کرتا تھا) لیکن پاکستان کے مشہور عالم دین اور دارالعلوم کو رنگی کے سربراہ مولانا مفتی محمد شفیع رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے ... جو اس سے پہلے پاکستان کی سپریم کورٹ میں جاگیرداری کو اسلام کے مطابق قرار دینے کا فیصلہ سنا کر شہرت حاصل کر چکے تھے... مذکورہ 'اسلامی بنکنگ' کو شرعی اور اسلامی قرار دے کر اس کی حمایت اور سرپرستی شروع کر دی۔ ان کے اس رویے پر علماے کرام میں دبے لفظوں میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں ، لیکن بالآخر اگست 2008ء میں ملک بھر کے سرکردہ (دیوبندی) علماء اور دینی مدارس کے مفتی صاحبان نے کراچی میں جمع ہو کر مشترکہ فتوے کے ذریعے بالاتفاق 'اسلامی بنکنگ' کے اس نظام کو غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دے دیا۔ 1

ان کے فتوے کی بنیاد یہ ہے کہ سودی نظام کی اساس پر قائم بنکوں نے اپنے نظام کو 'اسلامی' اور 'مطابق شریعت' بنانے کے لئے جو ذرائع (Tools) اور طریقے (Products) اختیار کئے ہیں ، وہ اسلامی حوالے سے ناکافی اور غیر مؤثر ہیں ، اور ان بنکوں کا نظام اپنی اصل کے مطابق سودی ہی ہے، لہٰذا غیر شرعی اور ناقابل قبول ہے۔ ہمیں اس فتویٰ سے سو فیصد اتفاق ہے اور ہم اس کی مکمل حمایت کرتے ہیں لیکن اس مضمون میں ہماری ترکیز اس نکتہ پر نہیں ہے بلکہ ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مزعومہ 'اسلامی بنکنگ' کی بنیادی فکر اور اپروچ ہی غلط ہے کیونکہ

  1. اسلام اور مغربی تہذیب کی فکری بنیادیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں ۔ لہٰذا
  2.  مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اپنے اہداف اور طریق کارمیں اسلام کے معاشی نظام سے متصادم ہے۔ اور
  3. چونکہ دو باہم متضاد عناصرمیں تلفیق ممکن نہیں اور نہ ہی اُنہیں ایک دوسرے میں مدغم کیا جا سکتا ہے لہٰذامغرب کے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کے کسی جزو میں اسلام کے معاشی نظام کے کسی ایک جزو کا پیوند نہیں لگ سکتا اور نہ اسے یہ پیوندلگا کر 'اسلامی' بنایا جا سکتا ہے۔
  4. یہودیوں کے سودی نظام کو حیلے بہانے سے غیر سودی اور اسلامی قرار دینا اجتہاد اور تجدید نہیں ، تجدد اور بدعت ہے اور مغرب کے غیر اسلامی فکر و عمل کو مشرف بہ اسلام کرنا ہے بلکہ یہ اسلام کو مغربی فکر و عمل کے مطابق ڈھالنا ہے؛ لہٰذا یہ مردود اور ناقابل قبول ہے۔
  5.  مزعومہ 'اسلامی بنکنگ' کا یہ نظام اس لئے کامیابی سے چل رہا ہے کہ مغرب کے یہودی اور ان کے حواری حکمران اس مزعومہ 'اسلامی بنکنگ' کی حمایت اور سرپرستی کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کی اربوں کھربوں کی دولت کا وہ حصہ، جو وہ بنکوں میں ان کے غیر اسلامی ہونے کی بنا پر نہیں رکھتے تھے ، گردش میں آ جائے اور دوسرے لفظوں میں ان کے تصرف میں آ جائے۔

لہٰذا ان اسباب کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 'اسلامی بنکنگ' کی بنیادی اپروچ ہی فکری اور نظری حوالے سے غلط اور خلافِ اسلام ہے اور ناقابل قبول ہے۔سطورِ ذیل میں ہم انہی مذکورہ بالا پانچ نکات پر ذرا تفصیلی گفتگو کریں گے :

 

اسلام اور مغربی تہذیب کے بنیادی افکار ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد ہیں
مغربی تہذیب جن افکار و نظریات پر کھڑی ہے ان میں سے اہم یہ ہیں : 2
ہیومنزم(Humanism):کائنات میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے۔ وہ آزاد اور خود مختار ہے، کہ زندگی کے بارے میں جو فیصلہ چاہے کرے اور یہ طے کرے کہ اسے زندگی کن اُصولوں کے مطابق گزارناہے۔ وہ 'اللہ' جیسی کسی بالاتر ہستی کا 'عبد' نہیں ہے جس کے احکام کی اطاعت اس پر لازم ہو بلکہ وہ خود مختار اور مختارِ کل ہے اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی ، حق و باطل، خیر و شر، جائز و ناجائز اور حلال و حرام کے بارے میں جو چاہے فیصلے کر سکتا ہے۔

سیکولرزم(Secularism):بالفرض اگر کسی کو خدا کو ماننا بھی ہے تو وہ اپنی ذاتی زندگی میں (انفرادی حیثیت سے) اسے مان سکتا ہے لیکن اس خدا کو انسانوں کے اجتماعی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ مطلب یہ کہ سول سوسائٹی اور ریاست کے معاشی، معاشرتی، قانونی، تعلیمی، سماجی... ڈھانچے اور نظام میں اللہ کو دخل دینے کا کوئی حق نہیں بلکہ انسان آزاد ہے کہ ان معاملات میں اپنی مرضی اور اپنی عقل سے جو فیصلے چاہے کرے۔

کیپٹل ازم(Capitalism): سرمایہ دارانہ نظام کا لب ِلباب یہ ہے کہ انسان کی ساری کوششوں کا محور دنیا اور اس کی دولت ہونی چاہئے۔ دوسرے لفظوں میں سرمایہ دارانہ ذہنیت کا حاصل ہے: حب ِدنیا اور حب ِمال۔ مطلب یہ کہ انسان کی ساری تگ و دو اس غرض سے ہونی چاہئے کہ اسے دنیا میں زیادہ سے زیادہ آسائشیں اور سہولتیں ملیں ۔ اس کا مطمحِ زندگی یہ ہو کہ بنک بیلنس بڑھے، کار ہو، کوٹھی ہو اور معیارِ زندگی بلند سے بلندتر ہو۔ حب دنیا اور حب مال کی اس دوڑ کا لازمی نتیجہ ہے: آخرت سے اِغماض اور اس کی عدمِ اہمیت اور عدمِ ترجیح۔

ایمپریسزم(Empiricism): ایمپریسزم کا مطلب یہ ہے کہ علم حقیقی کا منبع صرف عقل و حواس ہیں ۔ یعنی حق صرف وہ ہے جو عقلی معیار پر پورا اُترے اور مشاہدے اور تجربے میں آ سکے۔ جو اِن معیارات پر پورا نہ اُترے وہ علم نہیں ، اس کے حق اور حتمی طور پر صحیح ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں بلکہ ایسے نظریات عموماً غیر سائنٹفک اور تو ہمات پر مبنی ہوتے ہیں ۔

مغرب میں اس کے علاوہ بھی بہت سے ازم ہیں جیسے لبرلزم، یوٹیلی ٹیرنزم (Utilitarianism)، ری ڈکشنزم (Reductionism) ... وغیرہ لیکن جن چار اہم تصورات کا ہم نے سطورِ بالا میں ذکر کیا ہے، اگر ہم صرف انہی کو سامنے رکھیں تو مغرب کا جو ورلڈ وِیو (تصورِ انسان، تصورِ اِلہ اور تصورِ کائنات) سامنے آتا ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے تصورِ انسان کی رو سے انسان خود اپنی مرضی کا مالک ہے، خود مختارہے اورکسی کا عبد نہیں ہے۔ اس کا تصور اِلہ یہ ہے کہ کوئی بالاترہستی ایسی نہیں جس کی اطاعت اس پر لازم ہو۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنا خدا خود ہے (ہیومنزم)۔ اور اگر کوئی خدا ہے بھی تو اسے انسان کے اجتماعی معاملات میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں ۔ گویا یہ انسانوں کی مرضی اور اختیارہے کہ وہ خدا کے دائرئہ کار کا تعین کریں (سیکولرزم)۔ کیپٹل ازم کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے اور ہماری ساری تگ و دو کا محور یہی زندگی ہونی چاہیے گویا عملاً آخرت کی نفی۔ اسی طرح ایمپریسنرم کا حاصل ہے: وحی کی سیادت کا انکار اور عقل و حواس ہی کو منبع علم و حقائق سمجھنا۔

اس مختصر تجزیے سے واضح ہے کہ مغرب کا ورلڈ ویو اسلام کے ورلڈ ویو کے برعکس ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ انسان عبد ہے اور ایک اللہ ہی معبود اور مطاع ہے جب کہ ہیومنزم اور سیکولرزم کی رو سے اللہ کی بجائے خود انسان مختارِ کل اور مختارِ مطلق ہے۔ کیپٹل ازم کی رو سے دنیا ہی سب کچھ ہے۔ جب کہ اسلام کی رو سے آخرت ہی سب کچھ ہے اور اسے دنیا پر ترجیح حاصل ہے۔ ایمپریسنرم کی رو سے صرف عقل و حواس ہی منبعِ علم ہیں جب کہ اسلام کی رو سے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی وحی (قرآن حکیم) ہی حقیقی اور حتمی علم ہے۔

ان اُمور سے واضح ہوتاہے کہ مغرب کے وہ افکار و نظریات جن پر اس کی تہذیب کی عمارت کھڑی ہے، صریحاً خلافِ اسلام ہیں بلکہ اسلامی عقائد سے متصادم ہیں ۔ اسلام نام ہے اللہ کی غیر مشروط اطاعت کا اور مغرب کے مذکورہ بالا افکار کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی غیر مشروط اطاعت کا انکار۔ یہی کفر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا انکار اور انسان کا اپنی مرضی پر اصرار۔ گویا یہ کہنا محض ایک حقیقت کا اظہار ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ مغرب کی فکری بنیادیں کفر و اِلحاد پر مبنی ہیں ۔

مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام اسلامی نظام معیشت سے متصادم ہے
اہل مغرب نے الٰہی ہدایت کا انکاراور اپنی عقل و نفس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنا اجتماعی نظام اور اجتماعی ادارے خود وضع کئے ہیں ۔ بحیثیت ِمسلمان ہم سمجھتے ہیں کہ ان فاسد افکار و عقائد کی بنیاد پر اِداروں اور تمد ن کی جو عمارت کھڑی ہو گی، وہ بھی لازماً فساد فی الارض پر منتج ہو گی۔ سطورِ ذیل میں ہم مغرب کے اختیار کردہ معاشی نظام کے اہم اُصولوں کا ذکر کریں گے۔3 اور یہ بتائیں گے کہ وہ اسلام کے پیش کردہ معاشی اصولوں کے بالکل متضاد ہیں :
 معیشت کی بنیاد سرمایہ داری ہے: نظامِ معیشت میں بنیادی حیثیت سرمایہ کو حاصل ہے۔ اس سے یہ اُصول بھی مستنبط ہوا کہ محض سرمائے کے استعمال سے افزائشِ دولت جائز ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے 'سود' کہا جاتا ہے یعنی محنت کو شامل کئے بغیرمحض پیسے سے مزید پیسے کمانا ۔ یہی چیز غریبوں کے استحصال کا سبب بنتی اور ارتکازِ دولت کو جنم دیتی ہے جس سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔

اس کے ردّ عمل میں کمیونزم کا نظام اُبھرا جس نے سرمائے کی برتری کو ردّ کرتے ہوئے انسانی محنت کو معیشت میں بنیادی حیثیت دی اور دوسری انتہا تک چلا گیا۔ ان دونوں کے مقابلے میں اسلام نے اپنے نظامِ معیشت میں انسان اور اس کی اخلاقی اور روحانی زندگی کو بنیادی اہمیت دی اور سرمائے اور محنت دونوں کے لئے ایک متوازن کردار تجویز کیا۔ اس نے ایک طرف سود کی نفی کی تو دوسری طرف محنت کو بھی اس کا جائز مقام دیا۔4 یوں اسلام نے ایک معتدل اور متوازن معاشی فکر دی اور مسلمانوں نے اپنے ہزار سالہ دورِ اقتدار میں اپنے معاشی نظریے کو قابل عمل اور انسان کی معاشی ترقی میں اس کا ممدو معاون ہونا عملاً ثابت کر کے دکھا دیا۔

لامحدود حقِ ملکیت: نظامِ سرمایہ داری میں فرد کو لامحدود حقِ ملکیت حاصل ہے۔ یہ چیز بسا اوقات استحصال کا سبب بنتی ہے اور معاشرے کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہے۔ مغرب میں کارپوریٹ ملکیت کے تصور نے اس کو مزید گھمبیر بنا دیا ہے۔اس کے رد عمل میں کمیونزم نے فرد سے حق ملکیت کلی طور پر چھین لیا اور یہ حق ریاست کو دے کر فرد کو اس کا غلام بنا دیا۔ اسلام ان دونوں انتہائوں کے مقابلے میں ایک معتدل اور متوازن راہ اختیار کرتا ہے۔ اس نے فرد کو حق ملکیت دیا لیکن کسب ِرزق پر اخلاقی پابندیاں عائد کر کے اسے لامحدود نہیں رہنے دیا۔ اسی طرح اس نے اجتماعی مفاد کے مقابلے میں فرد کے حق ملکیت پر قد غن لگا دی اور دوسری طرف اس نے ریاست کی آمریت کے مقابلے میں فرد کی آزادی کی حمایت کی۔ 5

کسب ِوسائل اور صَرفِ وسائل پر اخلاقی قیود کی نفی:مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام چونکہ نظامِ معیشت میں کسی منزل من اللہ دین کی سیادت کو نہیں مانتا لہٰذا وہ ان اخلاقی پابندیوں کو بھی ردّ کر دیتا ہے جو اللہ اور اس کا رسول عائد کرتے ہیں مثلاً حلال و حرام کی پابندی یا باطل طریقوں سے مال کمانے پر پابندی۔ چنانچہ مغرب میں جوئے کی آمدنی جائز ہے، اور ناچ گانے کی آمدنی اور شراب فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدنی بھی قانونی اور جائز ہے۔

اسی طرح مغرب کا معاشی نظام، صَرفِ وسائل پر بھی کوئی اخلاقی پابندی عائد نہیں کرتا مثلاً وہاں ایک شخص شادی کئے بغیر کسی گرل فرینڈ کے ساتھ ازدواجی زندگی گزار سکتا اور اس پر لاکھوں روپے خرچ کر سکتا ہے اورایسا کرنا جائز اور قانونی ہے۔ اسی طرح شراب نوشی، جوئے، زنا، لواطت وغیرہ پرخرچ کرنا جائز اور قانونی ہے۔ اسی طرح گورنمنٹ کا ٹیکس دینے کے بعد ہر طرح کا اِسراف بھی جائز ہے۔

حاصلات میں فرق: اسلام کے معاشی نظام میں فرد ایک پاکیزہ اور مطمئن زندگی گزار سکتا ہے۔ اسلام کی رو سے ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور انسان کو دنیا میں جو وسائل ملتے ہیں ، وہ اللہ کی توفیق کا نتیجہ ہوتے ہیں ، نہ کہ اس کے زورِبازو کا۔ 6 لہٰذا انسان کی حیثیت ایک امین کی سی ہوتی ہے اور بحیثیت ِعبد کسب ِدولت اور صَرفِ دولت میں وہ اللہ کے احکام کی تعمیل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ یعنی وہ صرف حلال اور پاکیزہ ذرائع سے مال کماتا ہے اور صرف ان مدات میں اسے خرچ کرتا ہے جن کی اسے اللہ اجازت دیتا ہے۔ اسلام انسان کو معاشی جدوجہد کے ساتھ قناعت اور توکل کا درس بھی دیتا ہے اور یوں اسے حرص، ہوس اور حسد سے بچاتا ہے۔ اسلام جنہیں وسائل رزق دیتا ہے، اُنہیں اسے غریبوں ، یتیموں ، بیوائوں ، مسکینوں اور خیر کے دوسرے کاموں پر خرچ کرنے پر اُکساتا ہے۔ مالِ تجارت، زیورات، معادن، زراعت اور لائیو سٹاک میں سے کچھ حصہ لازمی طور پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے (زکوٰۃ)7 بلکہ آخرت میں اللہ کی خوشنودی اور غریبوں کی مدد کے لئے اپنی ضرورت سے زائد سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔8اسلام کی ان تعلیمات سے معاشرے میں انصاف اور عدلِ اجتماعی کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور ایک جنت نظیر معاشرہ وجود میں آتا ہے جو حرص، ہوس، حسد، فراڈ، رشوت اور بددیانتی سے پاک ہوتا ہے، لوگ ایک دوسرے کی ضرورتوں کو پورا کرتے ہیں ، معاشرے میں اخوت اور بھائی چارہ بڑھتا ہے اور قناعت، توکل اور اطمینانِ قلب کی کیفیت میسر آتی ہے ۔9

اس کے مقابلے میں مغرب میں چونکہ ہیومنزم اور سیکولرزم جیسے نظریات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کاصحیح تصور گہنا گیا ہے اور آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ترجیح کا تصور غالب آگیا ہے لہٰذا دنیا اور دولت کی محبت وہاں بنیادی قدر کی حیثیت اختیار کر گئی ہے دین و اخلاق کا پہلوغالب نہ ہونے کی وجہ سے حرص، ہوس، حسدہرقیمت پر اور جلد سے جلد امیر ہونے کی خواہش نے اَفراد کو دنیاوی اُمور میں مسابقت اور ہر قیمت پر معیارِ زندگی بلند کرنے کی دوڑ میں شامل کر دیا ہے، اسی بنا پر وہاں سے صبر، توکل، قناعت اور اطمینانِ قلب رخصت ہو گیا ہے،نتیجتاً انسان معاشی حیوان بن کر رہ گیا ہے جسے صرف اپنے معاشی مفاد سے غرض ہے۔ اس چیز نے وہاں ذہنی اضطراب اور ذہنی دبائو کی شکل اختیار کر لی ہے، نفسیاتی امراض کی کثرت ہے اور لوگ زندگی سے منہ موڑ کر خود کشیاں کرنے لگے ہیں ۔

اگرچہ مغرب میں معاشی جبر اور ظلم و ستم کا وہ ماحول اب موجود نہیں رہا جو اُنیسویں صدی تک وہاں موجود تھا اور جس کے رد عمل میں کمیونزم جیسا انتہا پسندانہ معاشی نظام ابھرا لیکن سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیاں اب بھی اپنی جگہ موجود ہیں جن کی وجہ سے مغرب کے چند صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں سرمائے کا ارتکاز ہو گیا ہے اور دوسری قومیں وسائل سے محروم ہیں جو بجا طور پر یہ سمجھتی ہیں کہ ان ترقی یافتہ ممالک کی خوشحالی ماضی میں ان کے معاشی وسائل کے استحصال کانتیجہ ہے۔اس عدمِ مساوات نے کشمکش اور احتجاج کو جنم دیاہے اور G-8 اور G-2(کا اجلاس جہاں بھی ہوتا ہے، خود مغرب کے فہیم عناصر اس کی مخالفت اور اس کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں ۔یوں مغرب کے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کی ناانصافی اظہر من الشمس ہے،باقی افراد کے اخلاق و کردار پر اس نے جو تباہ کن اثرات ثبت کئے ہیں ، وہ اس پر مستزادہیں ،پوسٹ ماڈرنسٹ فلا سفر اور ماہرین معیشت اس پر سخت تنقیدیں کر رہے ہیں۔ 10

اِس مختصر تجزیے اور تقابلی مطالعے سے واضح ہے کہ مغرب کا معاشی نظام اپنے اُصولوں اور نتائج کی رو سے اسلام کے معاشی نظام سے متصادم اور متضاد ہے۔

مغرب کے معاشی نظام میں اسلام کا پیوند نہیں لگ سکتا
جب یہ ثابت ہو گیا کہ اسلام اور مغربی تہذیب کا ورلڈویو ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد ہے اور ان باہم متضاد اُصولوں کی وجہ سے جو اجتماعی ادارے وجود میں آتے ہیں ، خصوصاً معاشی نظام، وہ بھی اپنے مقاصد اور طریق کار کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں تو اس کا لازمی اور منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ان میں نہ تو تطبیق وتلفیق ممکن ہے اور نہ ان دونوں کو ایک دوسرے میں ضم کیا جا سکتا ہے۔ یہ دو الگ جسم ہیں جن کی کیمسٹری ایک دوسرے سے الگ ہے لہٰذا ان میں باہم انسجام و انضمام ممکن ہی نہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دو افراد کا بلڈ گروپ اگر ایک نہ ہو تو ایک کا گردہ دوسرے کو نہیں لگ سکتا۔ بلکہ آپریشن کر کے اگر ایک کا گردہ دوسرے کے جسم میں لگا بھی دیا جائے تو دوسرے فرد کا جسم اسے قبول نہیں کرتا اور وہ گردہ صحیح کام نہیں کرتاکیونکہ دونوں کا بلڈ گروپ مختلف ہوتا ہے۔

بعینہٖ مغرب کا ایک معاشی نظام ہے جو ایسے اُصولوں پر قائم ہے جو اپنی کنہ میں غیر اسلامی اور خلافِ اسلام ہیں ، لہٰذا اس معاشی نظام کے ایک جزو یعنی بنکنگ میں ، جو سود اور سرمایہ دارانہ نظام کے دیگر 'غلط' اُصولوں کے تحت کام کر رہا ہے، اس میں سرمایہ دارانہ نظام کے مخالف و متضاد کسی اسلامی اُصول کا پیوند کیسے لگایا جا سکتا ہے؟ اور اگر لگا بھی دیا جائے تو وہ صحیح کام کیسے کر سکتا ہے اور اچھے نتائج کیسے دے سکتا ہے؟ یہ چیز عقلاً محال اور منطقی طور پر ناقابل فہم ہے جیسے کہ بلڈ گروپ کے اختلاف اور انتقالِ گردہ کی مذکورہ بالا مثال سے واضح ہے۔

اسلام کا معاشی نظام اور مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام دو مختلف پیراڈائم ہیں لہٰذا ایک پیراڈائم کی ایک چیز لے کر دوسرے پیراڈائم کے کسی خانے میں کیسے فِٹ کی جا سکتی ہے؟ اور اگر کوئی ایسا کرے بھی تو اس طرح کا نظام قابل عمل کیسے ہو سکتا ہے اور اچھے نتائج کیسے دے سکتا ہے؟ خلاصہ یہ کہ مغرب کے سرمایہ دارانہ نظام کے تحت قائم کردہ بنکنگ کے نظام کو اسلامی سانچے میں ڈھالا جاہی نہیں سکتا۔ یہ اجتماعِ ضدین ہے، جو عقلاً محال اور منطقی طور پر ناقابل عمل ہے۔

یہ اجتہاد نہیں ، تجدّد ہے جو ناقابل قبول ہے
اسلام میں اجتہاد کا تصور کیا ہے اور کیا بنکوں کے نظام کو اسلام کے مطابق بنانے کی کوشش کرنا اجتہادی عمل ہے؟ اسلام میں اجتہاد کا تصور یہ ہے کہ نصوص چونکہ محدود ہیں اور انسانی مسائل و مشکلات لامحدود ہیں لہٰذا اگر کسی معاملے میں نصوص میں واضح شرعی حکم موجود نہ ہو تو نصوص کی روشنی میں ، ان پر قیاس کرتے ہوئے اور ان کی روح اور مقاصد شریعت کو سامنے رکھتے ہوئے اس معاملے میں حکم شرعی دریافت کرنے کی کوشش کی جائے۔ 11

معاملات میں چونکہ شارع کا اُسلوب یہ ہے __ جو سراسر حکمت پر مبنی ہے __ کہ اس نے ان کا تفصیلی ڈھانچہ فراہم نہیں کیا بلکہ پالیسی اُصول دینے پر اکتفاکیا ہے لہٰذا پالیسی اُصولوں کی حامل نصوص اور شریعت کے مقاصد ِعامہ کو سامنے رکھتے ہوئے معاملات سے متعلق اداروں کے تفصیلی ڈھانچے تیار کرنا بلاشبہ ایک اجتہادی کام ہے۔ چنانچہ معاشی نظام سے متعلق پالیسی اُصولوں پر مبنی نصوص اور شریعت کے مقاصد ِعمومی کو سامنے رکھتے ہوئے تفصیلی معاشی نظام کی تشکیل بلاشبہ کارِاجتہادہے اور اُمت کے جلیل القدر فقہا اور مجتہدین یہ کام ماضی میں بھی کرتے رہے ہیں اور بلا شبہ آج بھی اس کی ضرورت ہے۔

لیکن جو لوگ اجتہاد کے اس عمل سے واقف ہیں (یعنی اہل علم وتفقّہ) وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس اجتہاد کے لئے محض قرآن و سنت، عربی زبان اور اسلام کے معاشی اُمور میں مہارت کافی نہیں بلکہ جن امور میں اور جن حالات میں اجتہاد کرنا ہو[فقہ الواقع]، ان سے گہری واقفیت بھی ضروری ہے ۔ بلکہ کوئی مجتہد اس وقت تک اجتہاد کا حق ادا کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ ان حالات کا گہرا ادراک نہ رکھتا ہو جن میں اسے اجتہاد کرنا ہے۔ اس لئے اُصولِ فقہ میں مجتہدکی شرائط اور اہلیت کے حوالے سے یہ ایک مسلمہ اور متفقہ اُصول ہے کہ مجتہد حالاتِ حاضرہ سے اور جس معاملے میں وہ اجتہاد کرنے جا رہا ہے، اس کے متعلق حالات و عصری کوائف سے بخوبی واقف ہو۔ 12

لہٰذا اگر کوئی عالم دین آج اسلام کے معاشی نظام کی فروعات اور اس کی عصری تطبیقات پراجتہادی نقطہ نظر سے کام کرنا چاہتا ہے تو وہ یہ کام اس وقت تک صحیح رخ میں نہیں کر سکتا جب تک وہ عصری حوالے سے مندرجہ ذیل حقائق سے باخبر نہ ہو:
مسلمان اس وقت زوال پذیر ہیں اور ان کی تہذیب مغلوب ہو چکی ہے۔

اہل مغرب کی ایک ایسی تہذیب اس وقت دنیا میں غالب ہے جس کی بنیادیں کفر والحاد پر کھڑی ہیں اور ان ملحدانہ بنیادوں پر اُنہوں نے جو معاشی نظام تشکیل دیا ہے، وہ بھی غیر اسلامی اور خلافِ اسلام اُصولوں پر مبنی ہے جیسے سود، قمار، استحصال، باطل طریقوں سے مال کمانا اور ناجائز مدات میں خرچ کرنا وغیرہ۔

اہل مغرب یہود و نصاریٰ ہیں اور قرآن و سنت کی واضح نصوص موجود ہیں کہ وہ اسلام و مسلمان دشمن اور ان کے بدخواہ ہیں ۔13

ہر وہ مسلمان، جس کی عقل سلامت ہے اور جو بصارت و بصیرت سے محروم نہیں ہے، یہ دیکھ سکتا ہے کہ مغربی تہذیب کی علمبردار اقوام اور ممالک، اِسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں ۔ اُنہوں نے اسلام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے روبہ زوال ملت ِاسلامیہ کے خلاف سازشیں کیں ، اُنہیں گرایا، ان کے علاقوں پر قبضہ کیا، ان کو غلام بنایا، ان کے معاشی وسائل لوٹے، ان کے اجتماعی ادارے تباہ کئے اور ان کی جگہ اپنی فکر و تہذیب کے مطابق اجتماعی ادارے از سر نو تشکیل دیئے۔ اُنہوں نے مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی بھر پور جدوجہد کی اور اس میں ناکامی پر انہوں نے مسلمانوں کے نظامِ تعلیم و تربیت کو بدل ڈالا تاکہ وہ مسلمانوں کے دل و دماغ فتح کر سکیں ، اُنہیں اسلام سے دورکر سکیں اور اسلام کی بجائے اپنی فکر و تہذیب کا شائق بنا سکیں تاکہ مسلمان ہمیشہ ان کے غلام اور برائے نام مسلمان رہیں ۔

اُن کے اِن تمام اسلام اور مسلم کش اقدامات کے باوجود اُمت ِمسلمہ نے غیرت و حمیت کا ثبوت دیا اور ان کی مزاحمت جاری رکھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو آپس میں لڑا کر (پہلی اور دوسری جنگ ِعظیم میں ) کمزور کیا اور یہ استعماری گروہ مسلمان ممالک کو کچھ آزادی دینے پر مجبور ہوئے لیکن ان کے خبث ِباطن کا سلسلہ جاری رہا۔ اُنہوں نے نوزائدہ مسلم ممالک میں اقتدار ان سیاستدانوں کو منتقل کیا جو اس کی فکر و تہذیب کے رسیا تھے اور اس کے اداروں کے تربیت یافتہ تھے ۔ پھر اُنہیں مسلمان ملکوں کے اسلامی عناصر سے لڑایا، عوام سے اُنہیں دور رکھا اور اُنہیں اپنا گماشتہ بنا کر اپنی اسلام مخالف پالیسیاں مسلمان ممالک میں ان کے ذریعے جاری اور نافذ کروائیں ۔ اُنہوں نے ان حکمرانوں کو اسلام کے مطابق اجتماعی ادارے تشکیل نہ کرنے دیے بلکہ ہر قسم کا دبائو ڈال کر مجبور کیا کہ وہ دورِ غلامی کے مغربی تہذیب کے مطابق بنے ہوئے اجتماعی اداروں کا تسلسل باقی رکھیں اور اُنہیں ہی چلنے دیں ، خصوصاً اُنہوں نے نظام تعلیم و تربیت کو اسلامی تقاضوں کے مطابق نہ بدلنے دیا تاکہ صحیح نقطہ نظر اور کردار کے حامل مسلمان پیدا ہی نہ ہو سکیں ۔ اسی منہج پر چلتے ہوئے مغربی قوتوں نے مسلم ممالک میں اسلامی تقاضوں کے مطابق معاشی نظام نہ بننے دیا تاکہ مسلمان معاشرے اقتصادی لحاظ سے مضبوط نہ ہو سکیں چنانچہ اُنہوں نے سودی بنک کھلے رکھے، قمار کی معیشت جاری رکھی، 'ترقی' کے نام پر اُنہوں نے ان گماشتہ حکمرانوں کو سودی قرضوں کی ترغیب دی، اُنہیں اَللّے تللے کر کے اِن رقوم کو برباد کرنے دیا اور یوں مسلم ممالک کو سودی قرضوں میں جکڑ کر اُنہیں معاشی طور پر تباہ و برباد کر دیا۔ اور آج اُمت ِمحمدیہ کی اکثریت بھوک اور افلاس کے عذاب میں مبتلا ہے۔

اہل مغرب کی ان ساری کوششوں کے باوجود مسلمان قوم مکمل طور پر ان کے قبضے میں نہ آئی جس کے دوبڑے مظہر ہیں :
ایک تویہ کہ مغرب کی ان ساری سازشوں کے علیٰ الرغم پاکستان نے ایٹم بم بنا لیا، ملائیشیا معاشی طور پر مضبوط ہو گیا، عراق عسکری طور پر مستحکم ہو گیا، ایران اور افغانستان میں اسلامی عناصر برسراقتدار آ گئے... چنانچہ مغرب اور اس کا سرخیل امریکہ اس صورت حال کو برداشت نہ کر سکا اور اس نے مسلمانوں کو تباہ کرنے کے لئے نئی صلیبی جنگوں کا آغاز کر دیا۔ پہلے عراق کو تباہ و برباد کیا، اس کے بعد پاکستان میں اپنی مرضی کی گماشتہ فوجی حکومت بنوا کر اور اس کی مدد سے افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اب وہ پاکستان پر حملے کر رہا ہے اور ایران کی باری آ یا چاہتی ہے۔

دوسرے، مغرب اور ان کے مقامی آلہ کار حکمرانوں کی سازشوں کی وجہ سے بیشتر مسلم ممالک میں اسلامی عناصر برسر اقتدار تو نہ آ سکے تاہم اُنہوں نے منظم ہو کر اورسیاسی جماعتیں اور ادارے بنا کر حکمرانوں پر دبائو جاری رکھا کہ وہ مسلم ریاست کا نظام اسلامی اُصولوں کے مطابق چلائیں خصوصاً معاشی نظام کو سود سے پاک کریں ، زکوٰۃ و عشر کے لئے ادارے بنائیں ، تقسیم دولت کا نظام درست کریں ، خود انحصاری کی طرف آئیں اور اسلامی معیشت کے دوسرے اُصولوں کو نافذ کریں ۔ اسلامی عناصر کے دبائو پر مسلمان حکمران مجبور ہو کر بعض اوقات تھوڑی بہت اور برائے نام سرگرمی ان معاملات میں دکھاتے ہیں لیکن چونکہ ان میں سے اکثریت کی نیت ٹھیک نہیں ہوتی اور وہ اسلام کے معاشی نظام پر عمل کرنے میں مخلص نہیں ہوتے بلکہ مغربی تہذیب سے مرعوب ہونے کی وجہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ ترقی کا مغربی ماڈل ہی درست اور قابل عمل ہے۔ اور نہ ہی مغربی آقا اُنہیں کسی سنجیدہ اسلامی تبدیلی کی اجازت دیتے ہیں چنانچہ وہ معمولی، سطحی اور برائے نام قسم کے اقدامات کرتے ہیں جس سے نام تو اسلام کا آ جائے اور بھولے بھالے عوام اور مولوی خوش ہو جائیں کہ اسلام نافذ ہو گیا ہے لیکن عملاً سنجیدہ اور مؤثر اقدامات نہیں کئے جاتے۔

پاکستان ہی کی مثال لیجئے کہ بنکوں کے سودی کھاتوں کو 'نفع نقصان کھاتوں ' کا نام دے دیا گیا۔ اجارہ اور مضاربہ جیسی اسلامی اصطلاحات استعمال کی جانے لگیں اور تسمیات کے ساتھ ظاہری ڈھانچے میں معمولی تبدیلی کر دی گئی لیکن سودی نظام اپنے تفصیلی ڈھانچے، مقاصد اور طریق کار کے ساتھ، جیسا کہ اہل مغرب نے اسے اپنے نظریات کے مطابق بنایا تھا اصلاً باقی رہا جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ بنک جو اپنے آپ کو 'اسلامی' کہتے ہیں وہ اس شرحِ سود سے جو عام سودی کمرشل بنک دیتے ہیں ، بہت زیادہ نیچے یا اوپر نہیں جاتے بلکہ اسی شرح سود کے قریب رہتے ہیں اور معمولی کمی بیشی کے ساتھ ان کا طریق کار وہی ہے جو کمرشل سودی بنکوں کا ہے، جیسا کہ علماے کرام نے اپنے متفقہ فتویٰ میں کہا ہے۔

اس وضاحت کے بعد اب سوال یہ ہے کہ کیا مغرب کے ہیومنزم، سیکولرزم اور کیپٹل ازم جیسے نظریات (جن کا خلافِ اسلام ہونا اوپر بدلائل ثابت کیا جا چکا ہے) پر مبنی سودی اور ملحدانہ معاشی نظام کے پورے ڈھانچے کو علی حالہٖ باقی رکھتے ہوئے اس کے ایک اہم جزو (بنکنگ) میں محض تسمیات کو تبدیل کرنے اور بعض سطحی قسم کی، برائے نام اور غیر مؤثر جزوی و فروعی تبدیلیوں کے ساتھ اسے 'اسلامی' بنانے کا عمل 'اجتہاد' کہلا سکتا ہے؟ اگر کوئی اسے اجتہاد سمجھتا ہے تو اسے یہ حق ہے کہ وہ ایسا سمجھے لیکن جس پس منظر کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے اس میں ہماری طالب علمانہ رائے میں اس کے ڈانڈے تجدد سے جا ملتے ہیں ۔

اگر کوئی مسلمان حاکم آج علماء و سکالرز اور ماہرین سے کہے کہ وہ ملک میں اسلام کا معاشی نظام نافذ کرنا چاہتا ہے، وہ اسے ایک مکمل تفصیلی ڈھانچہ بنا کر دیں تو یہ بلاشبہ اجتہاد ہے۔ اسی طرح اگر کوئی مسلم حکمران یہ کہے کہ موجودہ معاشی نظام غیر اسلامی ہے، اس سارے کو بدل کر اسلام کے مطابق کر دو تو یہ بھی اجتہاد ہے۔ یا اگر کوئی مسلمان عالم یا سکالر اپنے طور پر یا کچھ لوگ باہم مل کر اسلام کے معاشی نظام کا ایک تفصیلی ڈھانچہ تجویز کرتے ہیں ،خواہ کوئی حاکم اس پر عمل کرے یا نہ کرے، تو بلاشبہ یہ بھی اجتہادی کاوش ہے۔ لیکن اسلام اور مسلم دشمنوں کے بنائے ہوئے اور کفر و الحاد پر مبنی ایک مکمل معاشی نظام کو ایک مسلمان ملک میں نافذ اور جاری رکھنے کو تسلیم کرنا اور اس کے ایک جزو کا محض نام تبدیل کرکے اور اس میں چند سطحی، غیر مؤثر اور معمولی برائے نام ظاہری تبدیلیاں کرکے، جن سے نہ اس کا مزاج بدلے اور نہ مقاصد اور طریق کار اسے اسلامی قرار دینا، یہ اجتہاد نہیں تجدد ہے۔ اجتہاد کی تعریف اور توضیح اوپر گزر چکی۔ تجدد یہ ہے کہ کوئی چیز واضح طور پر غیر اسلامی ہو اور اسے بہ تکلف اسلامی بنانے کی کوشش کی جائے۔ مغرب کا ہیومنزم، سیکولرزم اور کیپٹل ازم واضح طور پر غیر اسلامی ہیں ، اُنہیں ان کے فریم ورک (مقاصد، ڈھانچے اور طریق کار) میں باقی رکھتے ہوئے ان کے کسی ایک جزو کو محض نام تبدیل کر کے اور معمولی لیپا پوتی سے اسے اسلام کا لباس پہنانا اور اسے اسلام کے مطابق قرار دینا یہ اجتہاد نہیں ، تجدد ہے ۔ یہ مغربیت کو تبدیل کر کے اسے مطابق اسلام بنانا نہیں بلکہ مغربیت کو اسلام کا لباس پہنانا اور اسلام کو مغربیت کے مطابق ڈھالنا ہے۔

یہ بھی واضح رہے کہ تجدد کو ردّ کرنا شرعی تقاضا ہے کیونکہ یہ اِحداث فی الدین اور بدعت کی مثل ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ (من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رَدّ) 14(جس نے ہمارے دین میں کوئی نئی بات نکالی،جو اس میں سے نہ ہو، وہ ناقابل قبول ہے) اور یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا فرمان ہے کہ (کل محدثة بدعة وکل بدعة ضلالة) (دین میں ہر نیا اضافہ بدعت ہے اور ہربدعت گمراہی ہے) اور(کل ضلالة في النار)15 (اور ہر گمراہی کا نتیجہ دوزخ ہے) لہٰذاوہ لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں وہ اِحداث في الدین اور بدعت سے پرہیز کرتے ہیں اور تجدد کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔

"اسلامی بنکنگ" کا نظام کیوں کامیاب ہے؟
ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال اُبھرے کہ اگر 'اسلامی بنکنگ' غیر اسلامی اور غلط ہے اورمغرب کے سرمایہ دارانہ نظام اور اسلامی نظام کا یہ ملاپ انمل اور بے جوڑ ہے تو پھر یہ تجربہ کامیاب کیوں جا رہا ہے؟ فلاپ کیوں نہیں ہو گیا؟

اس حوالے سے یہ ذہن میں رہے کہ فکری لحاظ سے مغرب سے مرعوب، اسلام اور مغرب میں تلفیق و مصالحت کے علمبردار بعض مسلم معاشی ماہرین نے جب موجوہ بنکنگ کے نظام کے اسلامی نظام ہونے کا فتویٰ دے دیا تو اس کا عملی آغاز سعودی عرب کے حکمران خاندان کے ایک فرد نے کیا۔ یہ تجربہ کامیاب رہا اور اب دھڑا دھڑ 'اسلامی بنک' کھل رہے ہیں اور کامیاب کاروبار کر رہے ہیں ۔

ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ بنک سچ مچ اسلامی ہوتے اور مغرب کے سودی اور سرمایہ دارانہ نظام کو چیلنج کرنے والے ہوتے یا اس کا بہتر متبادل بن سکنے کی صلاحیت کے حامل ہوتے تو طاقتور مغرب ان کو ایک لمحہ نہ برداشت کرتا اور ان کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیتا۔ اس کے برعکس وہ ان کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کرتا ہے۔ ہم جب 1990ء میں امریکہ گئے تو واشنگٹن میں یہ سن کر حیران ہوئے تھے کہ ورلڈ بنک میں 'اسلامی بنکنگ' پر ایک تحقیقی سیل کام کر رہا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امیر مسلمان ملکوں اور حکمرانوں کا سارا سرمایہ مغرب (امریکہ و یورپ) کے بنکوں میں پڑا تھا اور ساری دنیا جانتی ہے کہ مغرب کا بنکنگ کا نظام یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ یوں مسلمانوں کے سرمایہ کا بڑا حصہ تو پہلے سے یہودیوں کے قبضے میں تھا اور وہ اسے حسب ِمنشا اور حسب ِپلاننگ اپنے مخصوص مقاصد (جلب ِاقتدار، افزائش اثر و رسوخ اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں اور جنگ) کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ اس سے بڑھ کر مسلمانوں کی بے حمیتی اور بے عقلی کیا ہو سکتی ہے؟ لیکن مسلمانوں کے متوسط طبقے کے افراد کی بچتیں ان کی پہنچ سے باہر تھیں ، کیونکہ وہ یہودیوں کے قائم کردہ کمرشل بنکوں کو سودی کہہ کر رد کر دیتے تھے اور اپنی بچتیں گھر میں رکھتے تھے یا اس سے معمولی تجارت کرتے تھے لیکن سودی بنکنگ میں ملوث نہیں ہوتے تھے۔ دنیا کے دیگر حصوں میں تو عوام کی بچتیں ان کے بنکوں میں آ ہی رہی تھیں ۔ قربان جائیے، صہیونیوں کی اس فطانت پر کہ ان کے وضع کردہ بنکنگ کے نظام کے ذریعے ساری دنیا کے عوام کی بچتیں اور سرمایہ ان کی جیب میں چلا آتا ہے، جسے وہ حسب ِمنشا استعمال کرتے ہیں ۔ لہٰذا صیہونی منصوبہ سازوں نے نام نہاد اسلامی بنکوں کا ڈول ڈالا تاکہ مسلمانوں کا یہ اربوں کھربوں کا سرمایہ بنکوں میں آ جائے اور بالفظ دیگران کے پاس آ جائے کیونکہ دنیا کا سارا بنکنگ نظام (بشمول ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف) تو ان کا اپنا وضع کردہ ہے اور ان کے کنٹرول میں ہے۔ چنانچہ ان کی یہ حکمت ِعملی کامیاب رہی اور سادہ لوح (یا مغرب سے مرعوب اور لالچی) مسلمان دانشور، ماہرین معیشت، سرمایہ کار و بنکار اس جال میں پھنس گئے اور صہیونیوں کی منصوبہ بندی کا شکار ہو گئے۔

چنانچہ آج کل اس 'اسلامی بنکاری' کے ذریعے متوسط طبقے کے مسلمانوں کا وہ سرمایہ بھی کافی حد تک گردش میں آ گیا ہے جو پہلے بنکوں کی گرفت سے باہر تھا۔ مطلب یہ کہ ان نام نہاد 'اسلامی' بنکوں کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ مغرب کا بنکوں کا نظام اور اس کے پیچھے بیٹھا یہودی ساہوکار یہ چاہتا ہے کہ یہ نظام کامیاب ہو اور مسلمانوں کے متوسط طبقے کی بچتوں اور کاروبار کا سارا سرمایہ ان کی تجوری میں آتا رہے جو کہ اب آنا شروع ہو گیا ہے۔ لہٰذا یہ نام نہاد اسلامی بنک کامیاب جا رہے ہیں ۔ اگر یہ بنک سچ مچ اسلامی ہوتے اور مغرب کے سودی معاشی نظام کے لئے چیلنج ہوتے تو مغرب اُنہیں دنوں میں فیل کر دیتا اور ان کا سارا کاروبار ٹھپ ہو جاتا، لیکن چونکہ اس میں مغرب کے بنکنگ نظام کا اور ان کے پیچھے بیٹھے یہودیوں کا فائدہ ہے لہٰذا وہ اسلامی بنکوں کو ناکام نہیں ہونے دیتے بلکہ اُنہیں کامیاب بناتے ہیں تاکہ مسلمانوں کا بچھا کھچا سرمایہ بھی اس طریقے سے ان کے پاس پہنچتا رہے۔ یہ ہے حقیقت 'اسلامی' بنکوں کی اور ان کی کامیابی کی!!


.........٭.........


قارئین کرام! ہم نے موجودہ 'اسلامی بنکنگ' کی حقیقت اور شرعی حیثیت کو واضح کرنے کے لئے جو پانچ مقدمات قائم کئے تھے، ہم نے سطورِ بالا میں 'الحمد للہ' اُنہیں ثابت کر دیا ہے یعنی یہ کہ:
اوّلاً:مغربی تہذیب جن بنیادوں پر کھڑی ہے یعنی ہیومنزم اور سیکولرزم، وہ خلافِ اسلام ہیں ۔
ثانیاً:ان ملحدانہ فکری بنیادوں پر تشکیل پانے والا مغرب کا سرمایہ دارانہ معاشی نظام بھی خلافِ اسلام ہے۔
ثالثاً:مغرب کے ملحدانہ سرمایہ دارانہ نظام کے کسی ایک جزو میں اسلام کا پیوند لگا کر اسے اسلامی نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ یہ دو متضاد پیراڈائم سے تعلق رکھتے ہیں ۔
رابعاً:یہ کہ مغرب کے ملحدانہ سرمایہ دارانہ نظام کے کسی ایک جزو میں تسمیات کی تبدیلی یا معمولی، غیر مؤثر، برائے نام اورسطحی تبدیلی سے اسے ـ'اسلامی' بنانے کا عمل اجتہاد نہیں تجدد ہے اور احداث فی الدین اور بدعت ہونے کی وجہ سے قابل ردّ ہے۔
خامساً:یہ نظام اس لئے کامیاب جا رہا ہے کہ یہودی اور اہل مغرب اپنے مالی مفاد کے لئے اسے کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ۔

اس وضاحت کے بعد اس 'اسلامی بنکنگ' کی شرعی حیثیت واضح ہو جاتی ہے کہ یہ محض کفر کی ملمع کاری کر کے اسے مطابق اسلام ثابت کرنے کی مصنوعی اور بھونڈی کوشش ہے اور یہ آبِ حیات نہیں ، محض سراب ہے۔

پس چہ باید کرد
ممکن ہے کسی قاری کے ذہن میں یہ سوال اب بھی باقی ہو کہ اگر موجودہ کمرشل سودی بنکوں کا نظام غیر اسلامی ہے تو اسے اسلامی کیسے بنایا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسے اسلامی نہیں بنایا جا سکتا، لہٰذا اسے اسلامی بنانے کی کوشش ہی فضول ہے۔ 16

جیسا کہ ہم نے تفصیل سے ذکر کیا کہ مغربی تہذیب کی فکری بنیادیں اسلام سے مختلف ہیں لہٰذا ان کا معاشی نظام بھی اسلام سے مختلف ہے۔ وہ ایک الگ دنیا ہے، الگ نظام ہے، اسے چھوڑیئے۔ ہماری اپنی ایک فکرہے، اپنی ایک تہذیب ہے، ہمارا اپنا ایک معاشی نظام ہے، ہمیں اپنی فکر اور اپنی ضرورت کے مطابق اپنے ادارے خود بنانے چاہئیں ۔ اجتہاد سے کام لینا چاہئے، تحقیق کرنی چاہئے۔ مغرب کو بھول جائیے، اسے رد کر دیجئے، اس کی نقالی چھوڑئیے۔ اپنی عقل استعمال کیجئے۔

ہم نے ایک ہزار سال تک دنیا پر حکومت کی ہے تو میرٹ پر کی ہے۔ زمانہ بڑی سخت کسوٹی ہے، یہ کھوٹا سکہ چلنے نہیں دیتا۔ ہمارا معاشی نظام کل اگر اپنے عہد کی معاشی ضروریات پوری کرتا تھا تو آج کیوں نہیں کر سکتا؟ ہم یہ نہیں کہتے کہ ماضی کے معاشی نظام کو بعینہٖ آج نافذ کر دیا جائے۔ وہ یقینا آج نہیں چل سکے گا کیونکہ حالات بدل گئے ہیں ۔ لیکن اگر ہم اپنی عقل استعمال کریں ، اجتہاد کریں ، تحقیق کریں تو جس طرح کل ہم نے کل کے تقاضوں کے مطابق ایک تفصیلی معاشی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا اور وہ قابل عمل ثابت ہوا اور زمانے کے گرم و سرد پر پورا اُترا۔ اسی طرح ہمیں چاہئے کہ اپنی آج کی ضرورتوں کے مطابق آج ایک نیا ڈھانچہ تشکیل دیں ، وہ بھی ان شاء اللہ کام کرے گا۔ البتہ اس کام کے لئے دو باتوں کی ضرورت ہے:
ایک:یہ کہ مغربی فکرو تہذیب کو شعوری طور پر ردّ کر دیا جائے، اس کی نقالی کی روش چھوڑ دی جائے اور اپنے تصورات اور اداروں کو مغربی فکرو کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کی جائے۔
دوسرے:فکری حریت اور تخلیقی وحقیقی تحقیق (اوریجنل ریسرچ) اپنے پیراڈائم کے اندر رہتے ہوئے۔ یہ لائحہ عمل علماء اور سکالرز کے لئے ہے۔ اگر وہ یہ کریں گے تو نئے تصورات تخلیق کرنے اور ان کے مطابق نئے ادارے تجویز کرنے میں وہ یقینا کامیاب ہو جائیں گے۔ جہاں تک اس پر عمل درآمد اور نئے اسلامی معاشی نظام کے قیام کا تعلق ہے تو اس کے لئے ایسے مسلم حکمرانوں کی ضرورت ہے جو مغرب کے ذہنی غلام نہ ہوں اور اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہوں ۔ یہ کام عوام، دعوت و اصلاح کا کام کرنے والے اداروں ، تحریکوں اور دینی سیاسی جماعتوں کے کرنے کا ہے۔ ہمیں تسلیم ہے کہ یہ دونوں کام آسان نہیں لیکن زندگی __ بااُصول اور باوقار زندگی __ بچوں کا کھیل اور سہل کوشوں کا حلوہ کب ہوتی ہے؟ یہ تو شیر صفت مردوں ہی کا شیوہ ہوتی ہے جو اپنی محنت شاقہ سے پہاڑوں کا جگر چیر کر دودھ کی نہریں نکال سکتے ہوں اور اُمت کو اس وقت ایسے ہی مردانِ کار کی ضرورت ہے۔


 حوالہ جات

1. روزنامہ 'جنگ' لاہور، 29 اگست2009ء ... مکمل متن کے لئے دیکھیں،ماہنامہ محدث: جلد41، عددد 4 شمارہ مارچ اپریل 2009ء
2. Kevin O' Donnell, A History of Ideas, Lion Publishing Plc, Oxford UK, 2003 Kenneth Long, Philosophy - The Power of Ideas, Mayfield Publishing Co. California, 1999.
3. James Fulucher, Capitalism, Oxford University Press Karachi, 2004.
4. M. Fahim Khan, Essays in Islamic Economics, Islamic Foundation Leicester, UK
5. مولانا محمد حافظ و مولانا سید محبوب الحسن، سرمایہ دارانہ نظام - ایک تنقیدی جائزہ، کراچی2006ء
 Don Peretz & Others, Islam - Legacy of the Past, Challenge of the Future, North River Press, New York, 1984.
6. سورئہ سبا39,القصص:78
7. النور:56
8. البقرة:219
9. بجا طور پر سوال کیا جا سکتا ہے کہ ایسا اسلامی معاشی نظام ہے کہاں؟ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے (اور ہم خود ہی اس کے ذمہ دار ہیں) کہ اسلام کا مذکورہ بالا نظام معیشت اس وقت کسی اسلامی ملک میں مکمل طور پر نافذ نہیں ہے کہ ہم اسے بطورِ نمونہ اہل دنیا کو دکھا سکیں کہ یہ ہے اسلام کا معاشی نظام۔ لیکن چونکہ ماضی میں یہ ماڈل اپنی بہار دکھا چکا ہے، اس لئے اسلامی نظام معیشت کے ماڈل کا قابل عمل اور نتیجہ خیزہوناشک و شبہ سے بالاتر ہے۔
10. یہاں یہ سوال پیدا ہونا بالکل فطری ہے کہ اگر سرمایہ دارانہ نظام غیر فطری اور غیر عادلانہ بنیادوں پر قائم ہے تو آج وہ کامیاب کیوں ہے اور اسلام کا نظام عادلانہ اور فطری ہونے کے باوجود مسلمان مفلس ولاچار کیوں ہیں؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اہل مغرب کی معاشی حالت مسلمان ممالک کے مقابلے میں اس لئے بہتر ہے کہ اپنے نظریۂ حیات سے وابستگی کی وجہ سے ان میں محنت، اتحاد، منصوبہ بندی، پابندی قانون اور اسباب دنیا سے استفادے کی بر ترصلاحیت موجود ہے جبکہ مسلمان اپنے نظریۂ حیات سے عدم وابستگی کی وجہ سے ان صلاحیتوں سے محروم ہیں اور دوسری باتوں میں پیچھے رہنے کے علاوہ معاشی طور پر بھی پس ماندہ ہیں۔
11.إرشاد الفحول إلی تحقیق الحق من علم الأصول از محمد بن علی الشوکانی،ص350
12.الوجیز في أصول الفقه ازالدکتور عبدالکریم زیدان،ص 405
13. البقرة:120، المائدة :51
14.صحیح مسلم ، کتاب الأقضیة،باب نقض أحکام الباطل
15.صحیح ابن خزیمة،جماع أبواب الأذان والخطبة،باب صفة خطبة النبي:1433
16. فاضل مقالہ نگار کی مخلصانہ نگارشات کے اعتراف کے بعد، جہاں تک بنکنگ کو اسلامی بنانے کی بات ہے تو اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی حالیہ ترقی اور مال وزر کی پیچیدہ اور متعدد سہولیات سے مزین ترسیلات کے اس دور میں ایک ایسے مالیاتی ادارے کی شدید ضرورت ہے جہاں لوگ اپنی رقوم کو جمع ومحفوظ کرنے اور دنیا بھر میں صرف و ترسیل کی سہولت سے فائدہ اُٹھائیں۔ ادارئہ بنک میں اس حد تک تو کوئی خاص خرابی نہیں ہے لیکن اس جمع وترسیل کے ساتھ سود ،جوا، غرر اور انشورنش وغیرہ جیسے لازمی کاروبار ضرور قابل گرفت ہیں۔ اس لحاظ سے اگر کوئی بنک غیراسلامی سرگرمیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے اور محض رقوم کی حفاظت وترسیل کی سہولیات کی جائزفیس لے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن رقوم جمع کروانے والے لوگ اس سے مطمئن نہیں ہوتے بلکہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ جمع شدہ رقم پر ان کو اضافہ بھی حاصل ہو، یہاں سے خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اگر کوئی بنک جمع شدہ رقم سے باقاعدہ کاروبار شروع کرکے اس سے حاصل ہونے والا فائدہ اپنے کھاتہ داروں میں شرعی اُصولوں کے مطابق تقسیم کرے، تو اس میں اُصولاً کوئی شرعی قباحت نہیں، البتہ فی زمانہ دنیا بھر میں ایک آدھ امکانی استثنا کے علاوہ اس نوعیت کا کوئی حقیقی اسلامی بنک موجود نہیں، اگر کوئی بنک یہ دعویٰ بھی کرتا ہے تو امرواقعہ میں سودی آلائشیں اور حیلہ سازیوں کی وجہ سے ان کا کاروبار مشکوک ہے۔ بنک دراصل محض روپے کی روپے کے ساتھ اس طرح کے کاروبار میں دلچسپی رکھتے ہیں جن میں ان کے لئے باقاعدہ کاروبار کی زحمت نہ ہو اور وہ کسی نقصان سے بھی محفوظ رہیں اور یہی خرابی کی اصل جڑ ہے ۔ نیز دنیا بھر میں معاصر سودی بنکاری یا عالمی اقتصادی نظام اُنہیں اس گناہ میں شریک کرنے کا بنیادی سبب بنتے ہیں۔ اس لحاظ سے ڈاکٹر صاحب موصوف کا تبصرہ مروّجہ اسلامی بنکاری پر بالکل درست ہے تاہم اسلامی بنکنگ اُصولاً ناممکن نہیں ہے لیکن اس کی نوعیت وماہیت مروّجہ بنکنگ سے مختلف ہے۔ زیادہ محتاط طریقہ یہ ہوگا کہ اس کو بنکاری کے بجائے کوئی اور نام دیا جائے تاکہ بنکاری کے 3 صد سالہ تاریخی لوازمات سے بھی وہ ادارہ پاک رہ سکے۔ باقی تفصیلات کسی مستقل مضمون میں، ان شاء اللہ (ڈاکٹر حسن مدنی)