اہل مغرب نے آئینِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر آسمانی ضابطۂ حیات کو عوام کی اکثریت کا تابع بنادیا جبکہ مشرق نے اہلِ مغرب کی غلامی کو ترقی کازینہ سمجھ کر قبول کرلیا اور اسلاف کی سیاست سے روگردانی کرلی۔ علامہ محمد اقبال رحمة اللہ علیہ نے مشرق و مغرب کا موازنہ کرتے ہوئے اظہار خیال کیا:


یہاں مرض کا سبب ہے غلامی و تقلید
وہاں مرض کا سبب ہے نظامِ جمہوری



جمہوریت کے لغوی معنی
جمہوریت یا ڈیموکریسی ظہورِ قدسی سے قبل یونان میں رائج رہا۔ 'ڈیموکریسی' یونانی الفاظ ڈیماس (Demos) اور کریشا (Karatos) کا مرکب ہے۔ ڈیماس کا مطلب عوام اور کریشا کا طاقت ہے۔ ڈیموکریسی کا مطلب ہوا 'عوام کی طاقت'۔ گویا حکومت کے ہر مسئلہ میں عوام کی اکثریت کی رائے کا غلبہ ہو۔

جمہوریت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
قدیم دور میں یونان پربادشاہ جبر و استبداد سے حکومت کررہے تھے۔ بادشاہ کی زبان قانون کا دوسرا نام تھی۔ اس کے حکم عدولی کی جرات کسی کو نہ تھی۔ یونان کے مفکرین کو ترکیب سوجھی کہ جب صحت، موت و حیات، نفع و نقصان، بارش و قحط اور فتح و شکست کے الگ الگ خدا ہیں ، مالک ِحقیقی نظامِ کائنات چلانے کے لیے دوسرے خداؤں کو اختیارات تفویض کرسکتا ہے اور وہ ان کے معاملات میں دخل نہیں دیتا، تو یونان کا بادشاہ خدا سے زیادہ طاقتور اور بڑا تو نہیں ہوسکتا کہ اکیلا ہی تمام اختیارات کا سرچشمہ بناہواہے۔ عوام نے بادشاہ پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اختیارات کی تقسیم ہونی چاہئے۔ اس طرح جمہوریت کے نظام کی ابتدا شرک سے ہوئی لیکن ارسطو کے بقول
''جمہوری حکومت انبوہِ گروہی اور جاہلوں کی حکومت ہے جس میں لاقانونیت اور افراتفری کا دور دورہ ہوتا ہے۔ہر شخص اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ ارسطو کے نزدیک یہ بدترین نظام حکومت ہے۔''1

اسلام کو پیوندکاری کی ضرورت نہیں
خودساختہ نظام ہائے حکومت زندگی کے کسی ایک شعبہ کی اصلاح پر زور دیتے ہیں لیکن اُن میں دوسرے شعبوں کی اصلاح و بہتری کا تصور سرے سے موجود نہیں ہوتا جبکہ اسلام خالق کائنات کا ایسا جامع نظام حیات ہے جو عبادات سے لے کر معاملات تک، ملکی اُمور سے لے کر بین الاقوامی اُمور طے کرنے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔

علم سیاسیات کی کوئی کتاب اُٹھاکر دیکھ لیں ، دیگر نظاموں کی جو ایک آدھ خوبی بیان کی جاتی ہے، اس کے بعد اس نظام کی خامیوں کا تذکرہ ضرور ملے گا۔اسلام اللہ ذوالجلال کا نازل کردہ نظام ہے جس میں دیگر نظاموں کی تمام خوبیاں تو بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں اورکسی خامی کا تصور ناممکن ہے۔ اس لیے اسلامی نظام کے ساتھ جدید، فلاحی، ترقی پسند، سوشلسٹ اور جمہوریہ کی پیوندکاری کرنے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ کسی ایک قدر کے مشترک ہونے کی بنا پر خود ساختہ نظام کو اسلامی نہیں کہہ سکتے۔

آج سے چودہ سو سال قبل ربّ کائنات کی طرف سے جواحکامات امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئے، وہ ہمارے لیے آج بھی تروتازہ ہیں جن پر عمل پیرا ہونا ہم باعث ِاعزاز سمجھتے ہیں ۔ اسی لیے غیر ہمیں بنیادپرست اورقدامت پسند کہتے ہیں ۔اس کے باوجود اسلام جدت و ترقی پسند مذہب بھی ہے، اس لیے کہ قیامت تک پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے کتاب وسنت کی روشنی میں اہل حل و عقد کے لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا ہے۔

اسلام کا فلاحی نظام ایساہے جو بلاامتیاز رنگ و نسل اور مذہب و ملت سب کی معاشی و رفاہی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔اسلام باہمی اخوت و مودّت کا درس دیتا ہے۔ پڑوسی کے حقوق، فطرانہ، قربانی اور زکوٰة کا اجتماعی نظام اس کا بین ثبوت ہے۔ چنانچہ اشتراک و تعاون کی قدر کو مشترک بنا کرسوشلزم سے پہلے 'اسلامی' نتھی کرنا غلط ہے کیونکہ سوشلزم یہودی النسل مارکس کے ذہن کی اختراع ہے۔ سوشلزم میں مذہب کا تصور بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ اس نظام میں انسانی عزت، جان و مال کی کوئی قدروقیمت نہیں ۔ حتیٰ کہ زر اور زمین کی طرح زن (عورت) بھی ریاستی افرادکی مشترکہ ملکیت تصور کی جاتی ہے۔

سوشلزم میں 'انسانی سرچشمہ رزق' کا نظریہ تو کارفرما ہے مگر وہ فرد کی ذاتی ملکیت کو استحصال سمجھتا ہے اور ریاست کا مفاد ہی مرکز و محور ہے۔ گویا سیاسی و معاشی قوت سرکاری جماعت میں مرکوز ہوکر رہ گئی اورفرد حکومت کے مقابلے میں بے بس ہوکر رہ گیا۔ عملی طور پر لینن، ٹرانسکی اور سٹالن یہودی النسل نے مل کر براہِ راست مارچ ۱۹۱۷ء میں روس پر قبضہ کرلیا۔

دوسری طرف اسلام دین و دنیا کی فوز و فلاح کا نام ہے۔ حق ملکیت کی اجازت دیتاہے لیکن ذخیرہ اندوزی کی ممانعت کرتاہے۔ اسلام صاحب ِثروت لوگوں کو صدقہ خیرات، عشر زکوٰة کی ادائیگی کا حکم دیتاہے تاکہ اپاہج، معذور، یتیم اور عیال دار لوگوں کو روزہ مرہ زندگی کی ضروریات کے لیے کسی قسم کی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس لیے اسلام ارتکازِ دولت کی بجائے گردشِ دولت کا نظام ہے۔جہادِ افغانستان کی برکت سے سوشلسٹ ممالک میں یہ نظام دم توڑ گیا۔اس لیے اس موضوع پر اب مزید بحث کرنے کی ضرورت نہیں ۔

اسلام میں باہمی اُمور طے کرنے کے لیے مشورہ کا حکم ہے۔اس کو بنیادبنا کر اسلامی دنیا کے بعض مفکرین نے جمہوریت کو اسلام کی روح کہناشروع کردیا اور اسلامی جمہوریت کی اصطلاح عام ہوگئی۔ اس بنا پر اصلاحی نقطہ نظر سے اپنا موقف پیش کرتاہوں کہ حکومت ِالٰہیہ کے خدوخال کیا ہیں اور جمہوریت کے جرثومہ سے نیشنلزم، سیکولر ازم اور کیپٹل ازم کے وبائی امراض کس طرح پھوٹتے ہیں ۔

ڈیمو کریسی کی تعریف
ابراہم لنکن نے ڈیموکریسی کی جو تعریف کی ہے، وہ سیاسی حلقہ میں معروف ہے:
A System of Government of the peoples, for the peoples by the peoples.
''عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے۔''


گویا اس تعریف کی رو سے سیاسی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ۔ عوام حق رائے دہی کے ذریعے سیاسی و قانونی اختیارات ارکانِ پارلیمنٹ کومنتقل کرتے ہیں اور جمہوری حکومت کا مقصد عوام کی خدمت ہوتاہے۔

حالاتِ حاضرہ پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ جمہوری نظام میں عوام ووٹوں کے ذریعے پارلیمنٹ کے ارکان کو منتخب کرنے کے بعد قانون سازی میں بے اختیار ہوجاتی ہے۔ حکو متی اُمور سے متعلق عوام کا عمل دخل متعین عرصہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے۔ انتخابی اُمیدوار عوامی حمایت اورووٹ بنک میں اضافہ کے لیے الیکشن مہم پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں ۔یہی ارکان ایوانِ بالا اور قائد ِایوان کے انتخاب کے موقع پر رفاہی کاموں کی آڑ میں کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں ،اس لیے ہمیں ایک کالم نگار کی اس تعریف سے اتفاق کرنا پڑتا ہے۔

Governments off the people, far the people, buy the people.


"عوام کی حکومت" یا "اللہ کی حکومت "
اگر آپ اس تعریف عوام کی حکومت، عوام کے لئے، عوام کے ذریعے کا اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیں تو یہ نظریہ عقیدۂ توحید کے منافی ہے۔

حاکمیت ربّ ِذوالجلال کی: جمہوری حکومت میں حاکمیت کا سرچشمہ عوام ہے جبکہ حقیقت حال اس کے برعکس ہے۔ سارے جہان کے عوام مل کر مکھی بھی تخلیق نہیں کرسکتے، کجا یہ تو قرآن کی زبان میں مکھی چھین کر لے جائے تو واپس نہیں لا سکتے۔خشک سالی کی وجہ سے فصلیں تباہ و برباد ہورہی ہوں تو عوام مل جل کرقدرتی بارش کا بندوبست نہیں کرسکتے۔

کیا عوام چاہتے ہیں ؟ کہ آسمانی بجلی، سیلاب اور زلزلہ سے گاؤں بستیاں تباہ و برباد ہوجائیں اور آناً فاناً ہزاروں جانیں لقمۂ اجل بن جائیں ۔ قطعاً نہیں چاہتے لیکن دنیابھر کے سائنس دان حکمران مل کر بھی ان کا تدارک نہیں کرسکتے۔

عوامی حکومت کا دم بھرنے والو!جب عوام اپنے نفع و نقصان کے لیے نظام قدرت میں دخل نہیں دے سکتے تو وہ کائنات کا نظام چلانے کے لیے ضابطے کیسے مرتب کرسکتے ہیں ۔ یقینا حاکمیت کا سرچشمہ ربّ ذوالجلال ہے جس کی بادشاہی ارض وسماوات پر چھائی ہوئی ہے جس کا حکم سب کے حکموں پر غالب ہے۔ فرعون کے آرڈر پر اُس کے چیلے بنی اسرائیل کے نومولود بچوں کو قتل کرتے رہے کہ موسیٰ پیدانہ ہو۔ لیکن ربّ ذوالجلال والاکرام نے نہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو پیدا کیا بلکہ فرعون کے گھر پال کر اپنا حکم غالب کردیا۔ اس لئے اللہ کی دھرتی اور اللہ کی مخلوقات پر اللہ کا نظام اور قانون چلنا ہی عین انصاف ہے۔ قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:

إِنِ ٱلْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ ۚ...﴿٤٠﴾...سورة یوسف

''اللہ کے سوا کسی کاحکم نہیں (چلتا)۔''

یقینااللہ کے حکم کے بغیردرخت کا پتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا تو عوام کی حکومت کادعویٰ کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔

"عوام کے ذریعے" یا "قرآن و سنت کے ذریعے"
جمہوری حکومت میں عوام کثرت رائے کی بنیاد پر جس طرح چاہیں ، آئینی و قانونی ضابطے بنائیں یا پہلے سے طے شدہ اُمور کو بحث طلب بناکر ردّوبدل کریں ۔ حلال کو حرام قرار دیں یا حرام کو حلال جس طرح ڈنمارک وغیرہ میں عورتوں کی جگہ لڑکوں سے نکاح کرنے کاقانون پاس ہوا اور کوئی روک ٹوک نہیں ۔ قانونی طور پر وہ بااختیار ہیں ۔

اسلامی جمہوری ملک میں کوئی سود کی کمائی سے عیش و عشرت کی زندگی گزاررہاہو۔ شراب پی کرکلب میں ڈانس کرکے اپنا غم غلط کرنے کی کوشش کررہا ہو، کوئی غیراللہ کے نام پر ذبح کئے ہوئے حلال جانور یا خنزیر کا گوشت کھارہا ہو، خواہ کوئی آوارہ فحش فلمیں دیکھ کر شیطانی قہقہے مار رہا ہو۔ جب تک اس ملک کی پارلیمنٹ کثرتِ رائے سے اُن کو قانونی طور پر جرم قرار نہیں دیتی اُس وقت تک ایسے مذموم اُمور قانون کی نظروں میں جرم نہیں بن سکتے۔

قرآنِ حکیم اسلامی حکومت کا دستور ہے جس میں خالق کائنات نے بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے سُود مند اشیا کو حلال اور ضرر رساں چیزوں کو حرام کردیاہے۔ اللہ نے ہی اپنی مخلوق کو صراطِ مستقیم پر گامزن ہونے اور طاغوتی راستوں سے بچانے کے لیے خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کرکے احسانِ عظیم فرمایا۔ حامل قرآن سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ملت ِاسلامیہ کے لیے قانون ہے۔ جس میں ترمیم کرنے کا اختیار کسی کونہیں جبکہ اسلامی جمہوری ملک میں قرآن و سنت کے اٹل قانون کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری لینی پڑتی ہے۔

معاشرہ میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لیے قاتل سے قصاص لینے، چور کے ہاتھ کاٹنے اور زانی کوسنگسار کرنے کا حکم ہے۔ لیکن جمہوری ملک میں جب تک پارلیمنٹ کثرتِ رائے کی بنیاد پر ان قوانین کو منظور نہیں کرتی، اس وقت یہ حدود و قیود اسلامی جمہوری ملک میں لاگو نہیں ہوسکتیں ۔ چنانچہ ایسی حکومت جو اللہ کے نازل کردہ احکام کو نافذ نہیں کرتی وہ حکومت خود کو اسلامی حکومت کہلوانے کی حق دار نہیں بلکہ قرآن میں واضح طور پر ارشاد ہے:
وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَـٰفِرُ‌ونَ ...﴿٤٤﴾...سورة المائدہ
''جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی کافر ہیں ۔''

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلظَّـٰلِمُونَ ...﴿٤٥﴾...سورة المائدہ

"جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی ظالم ہیں۔"

وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَـٰسِقُونَ ...﴿٤٧﴾...سورة المائدہ
"جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں ، وہی فاسق ہیں۔"


اگر مجلس شوریٰ کاآپس میں یا امیرکے ساتھ کسی قانون کے نفاذ کے طریقۂ کار میں اختلاف پیدا ہوجائے تو قرآن نے ایسے موقع پر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پلٹ جانے کا حکم دیا ہے :

فَإِن تَنَـٰزَعْتُمْ فِى شَىْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى ٱللَّهِ وَٱلرَّ‌سُولِ...﴿٥٩﴾...سورة النساء
جس طرح خلفاے راشدینؓ اپنے دورِ خلافت میں اس اُصول پرعمل کرتے رہے۔ امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بعض عرب قبائل مرتد ہونے لگے۔کچھ قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا۔ ان نازک حالات میں حضرت ابوبکرؓ نے شوریٰ سے جیش اسامہؓ کی روانگی کے متعلق مشورہ کیا۔ شوریٰ فوری طور پر لشکر کی روانگی کے خلاف تھی لیکن حضرت ابوبکر ؓنے دوٹوک الفاظ میں فیصلہ دیا:
''اُس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابوبکرؓ کی جان ہے، اگرمجھے یہ یقین ہو کہ درندے آکر مجھے اُٹھا لے جائیں گے تو بھی میں اسامہؓ کا لشکرضرور بھیجوں گا جیساکہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور اگر ان آبادیوں میں میرے سوا کوئی شخص بھی باقی نہ رہے تو بھی میں یہ لشکر ضرور روانہ کروں گا۔''2

حضرت ابوبکرؓ نے فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مقدم سمجھ کر لشکر روانہ کیا جو فتح یاب ہوکر واپس آیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرصدیق ؓنے مہاجرین و انصار کو جمع کرکے مانعینِ زکوٰة کے بارے مشورہ کیا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا:
''اے خلیفہ رسول! میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت عرب سے نماز ادا کرنے ہی کو غنیمت سمجھیں اور زکوٰة چھوڑنے پر مؤاخذہ نہ کریں ۔ یہ لوگ ابھی ابھی اسلام میں داخل ہوئے ہیں ۔ آہستہ آہستہ تمام اسلامی فرائض و احکام تسلیم کرکے سچے مسلمان بن جائیں گے۔ اللہ اسلام کو قوت دے دے گا تو ہم ان کے مقابلے پر قادر ہوجائیں گے، لیکن اس وقت تو مہاجرین و انصار میں تمام عرب و عجم کے مقابلے کی سکت نہیں ۔''

حضرت عمرؓ کی رائے سن کر حضرت عثمانؓ اور حضرت علی ؓ اور تمام مہاجرین و انصار اس رائے کے حق میں یک زبان ہوگئے۔ تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا:
''اللہ کی قسم! میں اس شخص سے ضرور لڑوں گا جو نماز اور زکوٰة میں فرق کرے گا۔ اس لیے کہ زکوٰة مال کا حق ہے (جیسے نماز جسم کا) اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ مجھے ایک بکری کابچہ بھی نہ دیں گے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں اس کی ادائیگی پر ان سے ضرور لڑوں گا۔'' 3

حضرت عمرؓ نے کہا:اللہ کی قسم! اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابوبکرؓ کے دل میں جو لڑائی کا ارادہ ہوا ہے، یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالاہے اور میں پہچان گیا کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے حق ہے۔چنانچہ حضرت ابوبکرؓ مانعین زکوٰة کے خلاف جہادکا عزمِ مصمم کرکے نکل کھڑے ہوئے تو حضرت علیؓ نے آگے بڑھ کر گھوڑے کی باگ تھام لی اور فرمایا: اے خلیفہ رسول! آج میں آپ سے وہی بات کہتا ہوں جو آپ نے غزوئہ اُحد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہی تھی :
''اپنی تلوار کو میان میں کیجئے اور ہمیں اپنی ہستی سے محروم نہ کیجئے۔ اللہ کی قسم! اگر آپ کے قتل کی مصیبت ہم پر پڑ گئی تو پھر آپ کے بعد اسلام کا نظام کبھی درست نہ ہوگا۔''4

ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ صحابہ کرامؓ کی کثرتِ رائے کی بجائے قرآن و سنت کی دلیل معیارِ حق ہے ۔موجودہ جمہوری دور کی کثرتِ رائے کو کیا اتھارٹی حاصل ہے کہ آئی ایم ایف کے معاہدوں کا بہانہ بنا کر سود کو حرام قرار دینے میں مہلت طلب کریں ۔ زانی کوسنگسار کرنے کے لیے اسلامی معاشرہ کی بحالی کابہانہ بنائیں ، اور چور کے ہاتھ کاٹنے کے لیے معاشرہ میں غربت کا رونا روئیں ۔اگر 'عوام کے ذریعے' سے یہ اخذ کیا جائے کہ عوام نے ووٹ دے کر اُسے منتخب کیا، تب اُسے اقتدار کی کرسی ملی تو یہ نظریہ باطل ہے۔کیونکہ اسلام میں اقتدار کا سرچشمہ ربّ ذوالجلال ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے:
(اے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم !) کہہ اے میرے اللہ، سارے ملک کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہ بنا دے اور جس سے چاہے بادشاہت چھین لے اور تو جس کو چاہے عزت دے اور تو جس کو چاہے ذلت دے۔ ساری بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے،بے شک تو سب کچھ کرسکتا ہے۔'' (آلِ عمران:26)

جمہوری نظام میں اقتدار کی خاطر دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں ۔ تائیدی سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس کا طواف کرنا پڑتا ہے جبکہ اسلام میں اقتدار کی طلب حرام ہے۔ تاریخ میں بے شمار مثالیں موجودہیں کہ قادرِ مطلق اس کو حکومت دے دے جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو۔جب منافقت کی سزا دینے پر آئے تو وہی قدیر قہار بن کر اُسے رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دے۔ ایسے موقع پر فوج ظفر موج بھی عاجز ہوجائے ، بھاری مینڈیٹ بھی کچھ کام نہ آئے، بے شک اللہ ہر کام پر قادر ہے!!

عوام کے لیے یا امن و انصاف کے لئے؟
جمہوری حکومت کی سب سے بڑی خوبی یہ بیان کی جاتی ہے کہ وہ عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل رہتی ہے۔ عوامی فلاح و بہبود کی خاطر ہرگاؤں میں تعلیمی ادارے اور صحت کے مرکز قائم کرتی ہے۔ آمدورفت کے لیے سڑکوں ، شاہراہوں کاانتظام کرتی ہے۔ پینے کے لیے پانی اور نکاسی کے لیے نالیوں کا بندوبست کرتی ہے۔ جس کی پبلک لیول پرتشہیر کی جاتی ہے تاکہ عوام راضی ہوجائیں اور آئندہ الیکشن میں ووٹ دے کر اُسے کامیاب کریں ۔ اسلام میں اس طرح ریاکاری کی خدمت ہلاکت کا موجب بنتی ہے۔

خلافت ِاسلامیہ میں ربّ کی رضا پیش نظر رکھ کر خدمت کافریضہ سر انجام دیا جاتا ہے۔ جب لوگ سو جاتے ہیں تو خلیفہ وقت حضرت عمر فاروقؓ اُٹھ کر پہرہ دیتے ہیں ۔کسی کی آہ و زاری سنتے ہیں تو اُن کی خدمت کے لیے اپنی پیٹھ پر نان و نفقہ کابوجھ اٹھا کر مالک حقیقی کو راضی کرتے ہیں ۔جمہوری حکومت عوام کی ظاہری خدمت کرکے پھولے نہیں سماتی جبکہ خدمت اسلامیہ فرد کی روحانی خدمت کے لیے تعلیم و تزکیہ پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہے تاکہ وہ معاشرہ کا مفید رکن بن کر دنیا و آخرت کی زندگی سنوار لے۔

صحیح جمہوری حکومت میں خدمت کا تصور بنی نوع انسان تک محدود ہے جبکہ خلافت اسلامیہ میں انسانی خدمت تو اس کا ادنیٰ جزو ہے۔ اسلامی حکومت کا مقصد اوّلین عدل و انصاف کا قیام ہے جس کا دائرہ کار وسیع ہے۔اسلام ہمیں درند، چرند، پرند، جن و انس، حیوانات اور حشرات الارض سے بھی عدل و انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے۔جانوروں پر اُن کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہ لادو۔جانوروں کو آپس میں لڑناحرام ہے۔ لید اور ہڈی کے ساتھ استنجا نہ کرو کیونکہ ہڈی تمہارے بھائی جنوں کا توشہ ہے۔5

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔'' 6

محدثین فرماتے ہیں :سوراخوں میں پیشاب کرنے سے اس لیے منع فرمایا کہ کہیں سانپ ، بچھو وغیرہ سے پیشاب کرتے وقت ایذا نہ پہنچے یا کسی جانور کو پیشاب سے تکلیف ہوگی۔

حضرت عمرفاروقؓ کاقول خلافت اِسلامیہ کے عدل و انصاف کامنہ بولتا ثبوت ہے:
''اگر دجلہ کے کنارے بھوک کی شدت سے کتا مرگیا تو قیامت کے دن اُس کی جواب طلبی مجھ سے ہوگی۔''7

دوسری طرف دیکھیں تو جمہوری ملک ہالینڈ میں قانونی طور پر لا علاج مریضوں کو ڈاکٹروں کے ذریعے موت کی نیند سلانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ اور ایوانِ زیریں کے بعد سینیٹ نے بھی اذیتیں سہنے والے مریضوں کو مارنے کا بل منظور کرلیا۔''8

کیا یہ عوام کی خدمت ہے یاانسانیت کی ہلاکت !
چنانچہ جمہوری نظام کی تعریف:''عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے، عوام کے لئے۔'' کا ہر پہلو اسلام سے متصادم ہے۔لنکن کی جمہوریت کی تعریف کے مدمقابل خلافت ِاسلامیہ کی جامع تعریف پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں :
A Government of the Allah, for the Piece and Justice by the Quran and Sunnah.
''اللہ کی حکومت ...امن و انصاف کے لیے... قرآن و سنت کے ذریعے''

جمہوری الیکشن کے دوران نمائندگان کے لیے اہلیت و قابلیت کی شرائط دفن ہوجاتی ہیں ۔ سرمایہ دار و جاگیردار طبقہ دھن دھونس دھاندلی کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں ۔برسراقتدار جماعت کے نمائندے اپنے علاقے کے سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے ہیں ۔ مقامی سطح سے لے کر مرکزی سطح تک تمام محکمے ان کے زیرسایہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ اپنی پارٹی مضبوط کرنے کے لیے اپنے ووٹروں کا ہر جائزو ناجائز کام ان سے لیتے ہیں ۔ حکم عدولی کی صورت میں معطل یا تبادلے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

عدالتوں میں خود ساختہ قانون نافذ ہے۔ جہاں مقدمے کی سماعت اور حتمی فیصلے تک طویل عرصہ گزر جاتا ہے۔مظلوم عدالتوں کا چکر لگا کر تھک جاتاہے۔ بعض وکیل حق کی نشاندہی ہوجانے کے باوجود جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے عدل و انصاف کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں ۔ مظلوم جب عدالتی کارروائیوں سے مایوس ہوجاتا ہے تو وہ اپنی برسراقتدار پارٹی کے دور میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر مخالفین سے انتقام لیتاہے۔ اگر مدعی و مدعاعلیہ ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں تو سیاسی لیڈر صلح کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ بالفرض مظلوم مخالف سیاسی جماعت سے وابستہ ہو تو سیاسی دباؤڈال کر ظالم کو قانون کی نظروں میں بے گناہ ثابت کراکر دم لیتے ہیں ۔گویا جمہوری نظام عدل و انصاف کی راہ میں آہنی دیوار ہے۔

جبکہ اسلامی نظام حکومت میں امیرغریب، مسلم و غیر مسلم کاامتیاز نہیں برتا جاتا۔یہودی اورنومسلم کامقدمہ عدالت ِنبویؐ میں پیش ہواتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دلائل سن کر یہودی کے حق میں فیصلہ کیا جس سے متاثر ہوکر وہ مسلمان ہوگیا۔

خلیفہ وقت حضرت علی حیدرکرار ؓنے یہودی کے خلاف زرہ کی چوری کامقدمہ عدالت میں پیش کیا۔ قاضی شریح ؓنے مقدمہ اس بناپر خارج کردیاکہ ایک گواہ حضرت حسنؓ خلیفہ وقت کابیٹا تھا اوردوسرا گواہ قنبرؓ آپ کاغلام تھا۔ یہودی نظامِ عدل سے متاثر ہوکر مسلمان ہوگیا اور چوری کے جرم کا اقرار کرکے حضرت علیؓ کی صداقت کااعتراف بھی کرلیا۔

نظامِ خلافت ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کاساتھ دینے کا حکم دیتا ہے۔ آج کے جمہوری دور میں اس قسم کے عدالتی نظام کاتصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

بندوں کو گناکرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے
جمہوری نظام میں حق بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہر شہری کے ووٹ کی قدروقیمت یکساں ہے۔ اس نظام کے تحت جھوٹا اور سچا، فاسق اور مؤمن، بنیا اور نابینا، بے نماز اور متقی، جاہل اور شیخ الحدیث، اَن پڑھ اور پی ایچ ڈی، چور ڈاکو، زانی، قاتل اور عدلیہ کے جج کی رائے کی اہمیت برابر ہے۔ جمہوری نظام میں رائے کو پرکھنے کی بجائے رائے کو شمارکیا جاتا ہے جس کو عقل سلیم بھی تسلیم کرنے سے عاجز ہے۔ علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے اس نکتہ کو یوں بیان فرمایا:

جمہوریت ایک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے


اسلام میں مساوات کا یہ تو اُصول موجود ہے کہ اسلام میں داخل ہوکر رنگ ونسل، دولت، عہدہ، زمین اور جائیداد کے امتیاز ختم ہوجاتے ہیں اورسب ایک ہی صف میں کھڑے ہوکرإِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پڑھتے ہیں ۔اسلامی حکومت میں کسی مسلمان کو کسی یہودی، عیسائی یا ہندو کی عزت، جان و مال سے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتیـ۔ اگر جرم کرے گا تو اس کو اسی طرح سزا ملے گی جس طرح کسی غیرمسلم کو مسلمان پر ظلم کرنے کی سزا موجود ہے۔تاہم فہم و فراست کے لحاظ سے سب کے مساوی ہونے کا قائل نہیں ۔ قرآنِ حکیم میں واضح ارشاد ہے:

قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَٱلَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ...﴿٩﴾...سورة الزمر
''یعنی کہہ دیجئے کیا عالم اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں ۔''
قُلْ هَلْ يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ‌ ۚ...﴿٥٠﴾...سورة الانعام
''کیا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوسکتے ہیں ۔''
هَلْ يَسْتَوِى هُوَ وَمَن يَأْمُرُ‌ بِٱلْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَ‌ٰ‌طٍ مُّسْتَقِيمٍ ...﴿٧٦﴾...سورة النحل
''کیاوہ(جو انصاف کا حکم نہیں دیتا اور سیدھے راستہ پرنہیں چلتا) اور وہ جو انصاف کا حکم دیتاہے اور سیدھے راستہ پر چلے، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ۔''

ہرگز برابر نہیں ہوسکتے تو اُن کی رائے کو یکساں اہمیت کیسے حاصل ہوسکتی ہے!!

خفیہ بالغ رائے دہی سے منافقت کے جراثیم جنم لیتے ہیں
قرونِ اولیٰ کے دور میں خفیہ بالغ رائے دہی کا تصور تک نہ تھا۔ تاریخ اسلام کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کہ اہل حل و عقد کے مشورہ سے نامزدگی ہوتی۔ بعدازاں مسجد میں بیعت ِعام ہوتی جس میں سب حصہ لیتے۔خلفاے راشدین کا تقرر اس کا بین ثبوت ہے۔ اگر کسی نے خلیفہ کی نامزدگی پر اختلاف کیا تو اس نے علانیہ بیعت کرنے سے انکار کردیا۔

خفیہ بالغ رائے دہی سے اُمت ِمسلمہ میں منافقت کے جراثیم جنم لیتے ہیں ۔ وہ بزدل ہوکر باطل سے سمجھوتہ کرنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ الیکشن کے دوران انتخابی حلقہ میں کئی امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوتا ہے۔ ہر اُمیدوار حمایت کے لیے ووٹروں کے دروازے پردستک دیتا ہے۔ علاقے میں نمائشی خدمات کا تذکرہ کرتا ہے اور جلسوں میں عوامی مطالبہ پرسماجی و رفاہی اداروں کے اجرا کے وعدے کرتا ہے۔ جب کامیاب ہوتا ہے تو اپنے بلندبانگ دعوؤں کو فراموش کردیتا ہے۔

دوسری جانب عموماً ووٹر بھی خفیہ بالغ رائے دہی کے تحت اخلاق یجرائم کا ارتکاب کرتاہے۔ہراُمیدوار سے وہ ووٹ دینے کا وعدہ کرتاہے ۔ کہیں تو اسے برادری، رشتہ داری کی مجبوری ہوتی ہے اور کہیں اُسے سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیروں کاخوف لاحق ہوتا ہے کہ کہیں اُس کی جان و مال کے دشمن نہ بن جائیں یا اُسے زمین سے بے دخلی کا پروانہ نہ تھما دیں ۔ اس طرح ایک ووٹر ایک اُمیدوار کو ووٹ دے کر دوسرے اُمیدواروں سے وعدہ خلافی کرتا ہے۔ خفیہ رائے دہی سے فائدہ اُٹھا کر دوسرے امیدواروں کے سامنے جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔

انتخابی حلقوں میں جو اُمیدوار سامنے آتے ہیں ، وہ عموماً تقویٰ، اہلیت کے اعتبار سے اپنے حلقے کی امارت کے حق دار نہیں ہوتے تو ووٹر ان نااہل امیدواروں میں سے کسی ایک کو ووٹ دے کر منافق کی تیسری علامت امانت میں خیانت کا ارتکاب کرتا ہے۔

جبکہ بیعت عام (Show Hand) سے مسلمانوں میں اسلاف کے جوہر صدق، ایفائے عہد اور امانت کے علاوہ حق کی خاطر باطل سے ٹکرانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اسی جذبہ جہاد کو یہود نے خفیہ بالغ رائے دہی سے مدہم کرنے کی کوشش کی ہے۔

جمہوری چمپئن اعتراض کرتے ہیں کہ ووٹنگ کے بغیر انتخابات مکمل نہیں ہوتے اور ملکی اُمور طے نہیں پاسکتے، یہ سراسر پراپیگنڈہ مہم ہے۔اسلامی حکومت کے ارکانِ شوریٰ باہمی مشورہ سے پیش آمدہ مسائل حل کرتے ہیں ۔ چونکہ مشورہ مقدس امانت، شہادت ہے جس کی اہلیت کے لیے ایمان، تقویٰ کا معیار موجود ہے کہ وہ امین، اہل ذکر (عالم باعمل) اور تحقیق کرنے والا ہو:

''شوریٰ کا مطلب رائے کو پختہ کرنا ہوتاہے۔ شہد کی مکھیاں جوشہد بناتی ہیں ، اس عمل کو عربی میں شوریٰ کہتے ہیں ۔ جس طرح وہ مختلف پھلوں اور پھولوں سے رس لے کرشہد تیارکرتی ہیں اسی طرح مسلمان اہل شوریٰ بیٹھ کرمختلف تجاویز دیں گے۔ وہ تمام تجاویز پختہ ہوتی چلی جائیں گی،چونکہ ہرشخص کے دل میں ملت کا درد ہوگا، وہ خلوص سے اختلاف بھی کرے گا اور اتفاق بھی بالآخر مسئلہ حل کرہی لیا جائے گا۔''

خلفاے راشدین کے تقرر کے واقعات کی تاریخ پرنظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ ان میں سے کسی کا تقرر عام بالغ رائے دہی کی بنیاد پرنہیں ہوا۔ حضرت ابوبکرؓ کے تقرر میں صرف وہی حضرات شریک ہوئے جو سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود تھے، پورے ملک کے بالغ افراد تو کجا مدینہ منورہ کے بالغ افراد بھی اس رائے میں شریک نہ تھے۔ دوسرے دن مسجد ِنبوی میں بیعت عام کرکے مسلمانوں نے اطاعت کا اظہار کیا۔مزید تفصیل کے لئے اسی موضوع پر میرا مضمون محدث کے شمارئہ جون ۲۰۰۹ء میں ملاحظہ کیجئے۔

اکثریت کا دعویٰ فراڈ ہے!
جمہوریت میں اکثریت حکومت کرتی ہے۔ یہ دعویٰ ایک فراڈ ہے۔ آپ اپنے انتخابی حلقہ کے کل ووٹ اور امیدواروں میں سے جیتنے والے امیدوار کے حاصل کردہ ووٹوں کا تناسب مدنظر رکھیں تو آپ پر حقیقت واضح ہوجائے گی کہ ارکان اسمبلی کو آبادی کی اقلیت منتخب کرتی ہے۔

بظاہرعوام کی حکومت اور آزادی کا ڈھونگ ہے، عملی طور پر لاکھوں کی تعداد میں عوام کو پارلیمنٹ کے مخصوص افراد کی رائے کا پابند بنا دیا جاتاہے۔ پھر پارلیمنٹ میں سے چند افراد کابینہ میں شامل ہوکر پورے ملک پر حکومت کرتے ہیں ۔

شاہی دربار میں عسکری قوت کے بل بوتے پر ریاستی امرا بھی درباری مراتب حاصل کرتے تھے۔ اس کے باوجود علمی و فنی صلاحیت کی بنیاد پر علما و ماہرین کو شاہی دربار میں عزت و مرتبہ حاصل ہوجاتا تھا۔ جن سے بادشاہ اُن کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھ کر مشورہ کرکے اُمور سلطنت سرانجام دیتے تھے۔لیکن موجودہ دور کے جمہوری نظام میں قوت، سرمایہ اور جاگیر کے بل بوتے پر سرمایہ دار اور جاگیردار ہی منتخب ہوتے ہیں ۔ علماء ، دانشور اور فنی ماہرین جمہوری کھیل سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں ۔اور جو حصہ لیتے ہیں اُن میں سے اکثر عوامی مذہب کے عوامی علماء بن کررہ جاتے ہیں ۔

تقویٰ و صلاحیت معروف شے ہے!
روز مرہ زندگی کا مشاہدہ ہے کہ حکومت کے کسی محکمہ میں خالی آسامی ہو تو تعیناتی کے لیے اُمیدواروں کے مابین الیکشن نہیں کرائے جاتے بلکہ اُن کی تعلیمی قابلیت و پیشہ وارانہ مہارت دیکھ کر بھرتی کیا جاتاہے۔ ڈاکٹر کی آسامی پُر کرنے کے لیے صرف ایم بی بی ایس ڈگری ہولڈر سے انٹرویولیاجاتاہے۔ جبکہ ایل ایل بی کی ڈگری کی بنیاد پر درخواست دینے والے امیدوار کی درخواست داخل دفتر ہوجاتی ہے۔ سفر و حضر میں امام مقرر کرنا ہو تو نہ کوئی اپنا نام پیش کرتا ہے، نہ ہی حاضرین کے مابین ووٹنگ ہوتی ہے بلکہ اہلیت کو معیار بناکر کسی ایک کو ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ پنچایتی مقدمہ میں قسم صفائی کے لیے کچھ ناموں کوردّ کرکے چند ناموں پرمدعی اور مدعا علیہ کسی طرح اتفاق کرلیتے ہیں ، اس لیے کہ اُن کی دیانت، صداقت اور زہد تقویٰ معاشرہ میں معروف ہوتا ہے۔

ملک کے دیگر شعبوں میں تعیناتی کے لیے تعلیمی و پیشہ وارانہ صلاحیت مدنظر رکھ کر اہل افراد کو تعینات کیا جاتاہے۔ جنہوں نے صرف طے شدہ قانونی ضابطوں پرعمل درآمد کرنا ہوتا ہے لیکن وہ ادارہ جس کے ذمہ قرآن و سنت کے ضابطوں کو لاگو کرنے کے لیے حالاتِ حاضرہ کے تحت طریقہ کار وضع کرنا ہے۔ اس ادارہ کے اراکین کے لیے دینی و دنیوی تعلیم اور فنی صلاحیت کا کوئی معیار ملحوظ نہیں رکھا جاتا بلکہ اس کے انتخاب کے لیے کثرتِ رائے پر عمل کیا جاتاہے، یہ عجب تماشا ہے۔ جبکہ مجلس شوریٰ اسلامی تعلیم و تزکیہ کے علاوہ فنی و اقتصادی ماہرین پر مشتمل تشکیل دی جاسکتی ہے کیونکہ زندگی کے ہر شعبہ میں کچھ لوگ اپنے تقویٰ و صلاحیت کے لحاظ سے معروف ہوتے ہیں ۔


حوالہ جات
1. "نظری سیاست" ازشاہ فرید الحق
2. طبری: جلد۳؍ ص220 بحوالہ خلافت و جمہوریت
3. صحیح بخاری:1400، صحیح مسلم:20
4. کنز جلد3؍ صفحہ 143 بحوالہ خلافت و جمہوریت
5. جامع ترمذی:18
6. سنن نسائی:36، قال الألباني رحمة اللہ علیه :ضعیف
7. تاریخ اسلامی کا سنہرا دور از ایم ڈی فاروق،ص496
8. نوائے وقت:13؍اپریل2001ء