Mohaddis-331-Jul,Aug2009

میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

ایک موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بعد میں آنے والے مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایک عجیب اور منفرد انداز سے وحی ہوئی کہ ایک نوجوان، خوبرو، گبھرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ِاقدس میں حاضر ہوتا ہے۔ آپ ؐسے چند سوالات کرتا ہے، آپؐ ان کے جواب ارشاد فرماتے ہیں تو وہ سائل ہوتے ہوئے ان کی تصدیق کرتاہے۔صحابہؓ کو اس کے سوالات اور پھر جوابات کی تصدیق و توثیق سے بڑا اچنبا ہوا۔ پھر اس کے چلے جانے بلکہ غائب ہوجانے کے بعد آپ علیہ الصلوٰة والسلام نے ان حضرات کو بتایا کہ یہ آنے والا جبرائیل علیہ السلام تھا، اور تمہیں 'تمہارا دین' سکھانے آیاتھا۔

یہ سوال و جواب اس قدر اہم اور عظیم الشان ہیں کہ ایک انسان اور بالخصوص مسلمان کے عقیدہ و عمل، دین و دنیا اور ظاہر و باطن کے تمام اُمور کو محیط اور شامل ہیں ۔

علماے حدیث اس حدیث کو 'حدیث جبریل ؑ' کے نام سے معنون کرتے ہیں ۔ کئی ائمہ و علماء نے اس کی شروحات کی ہیں ۔ بالخصوص حافظ ابن رجب رحمة اللہ علیہ نے اپنی ایک نادرِ روزگار ربانی تالیف جامع العلوم والحکم في شرح خمسین حدیثًا من جوامع الکلم میں دوسرے نمبر کی حدیث میں اس کی جامع شرح فرمائی ہے۔ میں نے اس میں سے اپنے لئے، اپنی اولاد و اَحفاد اور مخلص عزیزوں کے لیے 'اِحسان' اور ضمناً خشوع فی الصلوٰة والاذکار کے موضوع سے متعلق چند صفحات کامطالعہ رواں دواں اُردو میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ جو عزیز عربی سے براہِ راست استفادہ نہیں کرسکتے، وہ بھی اس 'آبِ حیات' سے کچھ جرعات لے لیں ۔ جس میں یقینا دلوں کا نور، روح کا سرور اور سینوں کا اِنشراح ہے۔ ان سے زندگی کی کٹھنایاں یقینا آسان ہوسکتی ہیں اور اس حقیقت سے انکار نہیں کہ ابنِ آدم کی روحیں ہمیشہ سے بے چین، پیاسی اور مشتاق رہی ہیں کہ کاش کہیں سے کوئی جانفزا جھونکا آئے تاکہ اس کثافت بھری دنیا میں کوئی سکھ کا سانس لے سکیں ، کوئی اطمینان و سکون ملے، سُوکھے ہونٹوں کو تراوت اور نظروں کو طراوت ملے۔

اللہ ربّ العٰلمین، ارحم الراحمین نے اپنے بندوں کی جملہ مادی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان کی حقیقی ضرورت و طلب یعنی قلبی و روحانی تسکین کے اسباب سے بھی اُنہیں خالی اور محروم نہیں چھوڑا ہے۔ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی تعلیمات نے ہر دور میں آدم زاد کی یہ فطری ضرورت پوری فرمائی ہے اوربالخصوص رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ِباسعادت کے بعد تو اس نعمت کا اتمام و اکمال ہوچکا کہ {أَلَا بِذِكْرِ‌ ٱللَّهِ تَطْمَئِنُّ ٱلْقُلُوبُ ...﴿٢٨﴾...سورة الرعد}''خبردار! اللہ ہی کے ذکر میں دلوں کا اطمینان و سکون ہے۔'' مگر ایک بڑی تعدادہے جو اس کے اعلانِ عام اور منادی کے باوجود اس طرف کان نہیں دھرتی اور اپنی طبعی اور روحانی بھوک پیاس کو کثافتوں سے مٹانے کی ناکام کوشش میں ہے۔

'جامع العلوم والحکم' ساری کتاب ہی 'آبِ حیات' ہے۔ میں نے احسان واخلاص فی العبادت سے متعلق یہ چند صفحات اپنے قارئین کے نذر کئے ہیں اور نیت یہ ہے کہ کاش ہماری زندگیوں میں بالعموم اور عبادات و اذکار میں بالخصوص اللہ کی طرف توجہ، اور اس کی طرف خاص دھیان حاصل ہو، اور زبان سے ادا ہونے والے کلمات اور جوارح سے صادر ہونے والی حرکات کی حقیقت ذہن میں مستحضر رہے تاکہ یہ اعمال فی الواقع 'عبادت' بنیں ، محض عادت نہ رہ جائیں اور اللہ کے حضور درجاتِ عالیہ کاشرف پائیں اور ان انعامات و اکرامات سے بہرہ ور ہوں جن کاوعدہ اس منعمِ حقیقی نے فرمایا ہے۔

اگر عبادت اور اذکار و تسبیحات میں محض رٹے رٹائے الفاظ دہرا دیئے جائیں اور جسم چند حرکات کرکے فارغ ہوجائے اور قلب و روح کو ان کی حقیقت کاعلم ہی نہ ہو تو اس ساری کارگزاری اور ایک منتر کے عمل میں بظاہر کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔بے توجہ اور بے روح عبادت کا معاملہ اس رحمن و رحیم کے حضور ہے، چاہے تو قبول فرما لے اور عین ممکن ہے کہ ردّ بھی کردے۔(1) واﷲ المستعان

یہ ظاہری افعال اوربے سمجھے کی تسبیحات اس بات کی تو یقینا دلیل ہوتی ہیں کہ ان کا قائل و فاعل (اگر وہ فی الواقع منافق نہ ہو تو) بنیادی طور پر نعمت ِاسلام و ایمان سے بہرہ ور ضرور ہے مگر عبادت کی حقیقت اور روح سے محروم ہے۔جسے حاصل کرنے کے لیے ہرعالم و عامی کو بہرطور بہت زیادہ محنت، کوشش اورمجاہدہ کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ نفس امارہ کا ٹٹو اس جادۂ حق و استقامت پرچلنے سے بالعموم انکاری ہوتا ہے یاچلتے چلتے بڑی جلدی بھٹک جاتاہے {إِنَّ ٱلنَّفْسَ لَأَمَّارَ‌ةٌۢ بِٱلسُّوٓءِ...﴿٥٣﴾...سورہ یوسف}اور نماز میں وسوسہ ڈالنے والا شیطان خِنزب اسے معمولی سے اشارے سے دوسری راہ پر لگا دے تو یہ بے تکلف اسی کے پیچھے دوڑنے لگتا ہے۔ ولاحول ولا قوة إلا باﷲ۔

حافظ شیرازی لکھتے ہیں :
آقائے ما نگہدار آبروے گدائے خویش
کہ از جوے دیگراں پُر نکند پیالہ را 2
راقم کے یہ غیر مرتب سے متواضع حروف اگر اصحابِ منبر و محراب یا صاحبانِ درس و تدریس کی نظروں میں کچھ وقعت پائیں تو گزارش کروں گا کہ قرآنِ کریم کے درس، حدیث ِنبویؐ کے سبق اور اپنے خطبہ و درس میں مقام احسان اور خشوع فی الصلوٰة و الاذکار وغیرہ کو اپنا خاص موضوع بنائیں ۔ یقینا یہ عظیم، اہم اور کرنے کا کام ہے۔ وباﷲ التوفیق

حدیث جبرئیل علیہ السلام کا متن
عن عمر بن الخطاب قال بینما نحن [جلوس] عند رسول اﷲ ﷺ ذات یوم إذ طلع علینا رجل شدید بیاض الثیاب، شدید سواد الشعر، لا یُری علیه أثر السفر، ولا یعرفه منا أحد، حتی جلس إلی النبي ﷺ فأسند رکبتیه إلیٰ رکبتیه ووضع کفیه علی فخذیه، وقال: یا محمد! أخبرني عن الإسلام۔ فقال رسول اﷲ ﷺ: الإسلام : أن تشھد أن لا إله إلا اﷲ وأن محمدًا رسول اﷲ، وتقیم الصلاة وتؤتي الزکاة وتصوم رمضان وتحج البیت إن استطعت إلیه سبیلا۔ قال: صدقت،
قال: فعجبنا له یسأله ویصدقه
قال: فأخبرني عن الإیمان؟ قال: أن تؤمن باﷲ وملائکته وکتبه ورسله والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ قال: صدقت۔
قال: فأخبرني عن الإحسان؟ قال: أن تعبد اﷲ کأنك تراہ فإن لم تکن تراہ فإنه یراك۔ قال: صدقت۔
قال: فأخبرني عن الساعة؟ قال: ما المسؤول عنھا بأعلم من السائل۔
قال: فأخبرني عن أماراتھا، قال: أن تلد الأمَة ربَّتھا وَأن تَرٰی الحفاة العراة العالة رعاء الشاء یتطاولون في النبیان
ثم انطلق فلبث ملیا ثم قال: یا عمر! أتدري من السائل؟ قلت: اﷲ ورسوله أعلم۔ قال: ھذا جبریل أتاکم یعلمَکم دینکمi

''سیدنا عمر بن خطابؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار اتفاق سے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک آدمی ہمارے سامنے آیا۔ انتہائی سفید کپڑے اوربال بڑے ہی سیاہ تھے۔ اس پر سفر کی علامات بھی نہ تھیں ، اور نہ ہی ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا۔حتیٰ کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں کے ساتھ ملا لئے، اور اپنی ہتھیلیاں آپ علیہ السلام کے گھٹنوں پر (یا اپنے گھٹنوں ) پر رکھ لیں ، اور کہنے لگا :
اے محمدؐ! مجھے اسلام کے متعلق فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس بات کی شہادت (گواہی) دے کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں ، اورمحمدؐ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ نماز قائم کر، زکوٰة دے، رمضان کے روزے رکھ اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت ہو تو اس کا حج کر۔ اس نے کہا:آپؐ نے سچ فرمایا۔ عمرؓ کہتے ہیں کہ ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ خود ہی سوال کرتا اور پھر اس کی تصدیق بھی کرتا ہے۔
پھر اس نے کہا: مجھے ایمان کے متعلق بتائیے؟ آپؐ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اپنے دل کی گہرائی سے اللہ کو مانے، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور رسولوں کو مانے، آخرت کے دن اور تقدیر کے بھلے بُرے ہونے پر یقین رکھے۔ اس نے کہا: آپؐ نے سچ فرمایا۔
اس نے کہا:مجھے'احسان' کے متعلق فرمائیے؟ تو آپؐ نے فرمایا: تو اللہ کی عبادت اس طرح سے کر گویا کہ تو اُسے دیکھ رہا ہے، اگر یہ کیفیت نہ ہوسکے تو یہ ہو کہ وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس نے کہا: آپؐ نے سچ فرمایا۔
اس نے کہا: مجھے قیامت کے متعلق بتائیے؟ فرمایا: مسئول (جس سے تم پوچھ رہے ہو) اس کے متعلق خود سائل (پوچھنے والے)سے کچھ زیادہ نہیں جانتا۔
تو اس نے کہا: مجھے اس کی علامت بیان فرمائیں ؟ آپؐ نے فرمایا کہ تو دیکھے گا کہ لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی اور تو دیکھے گا کہ پاؤں سے ننگے، جسم سے ننگے، تنگ دست، بکریوں کے چرواہے اونچی اونچی عمارات بنانے لگیں گے۔پھر وہ چلا گیا۔
اورمیں کچھ وقت ٹھہرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے عمرؓ! جانتے ہو، یہ سائل کون تھا؟ میں نے عرض کیا:اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں ۔
فرمایا: یہ جبرئیل علیہ السلام تھے، جوتمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ ''

'احسان'
'احسان'(3) کا قرآن کریم میں کئی مقامات پر ذکر آیا ہے۔ کہیں 'ایمان' کے ساتھ ملاکر، کہیں 'اسلام' کے ساتھ اور کہیں 'تقویٰ' اور 'عمل صالح' کے ساتھ، مثلاً :
لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓاإِذَا مَا ٱتَّقَوا وَّءَامَنُواوَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ثُمَّ ٱتَّقَوا وَّءَامَنُواثُمَّ ٱتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا  وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُحْسِنِينَ ...﴿٩٣﴾...سورة المائدہ
''ایسے لوگوں پر جو ایمان رکھتے اور نیک کام کرتے ہوں اس بارے میں کوئی گناہ نہیں ، جس کو اُنہوں نے کھایا (پیا) جبکہ وہ تقویٰ رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اورنیک کام کرتے ہوں ، پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اورایمان رکھتے ہوں پھر پرہیزکرتے ہوں اور (درجہ احسان میں ) خوب نیک عمل کرتے ہوں تو اللہ ایسے نیکو کاروں (محسنین) سے محبت رکھتا ہے۔''

إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ‌ مَنْ أَحْسَنَ عَمَلًا ...﴿٣٠﴾...سورہ الکہف
''یقینا جو لوگ ایمان لائیں اورنیک عمل کریں تو ہم کسی نیک عمل کرنے والے (محسن )کا ثواب ضائع نہیں کرتے۔''

٭ اسلام سے ملاکر فرمایا: بَلَىٰ مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُۥ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَهُۥٓ أَجْرُ‌هُۥ عِندَ رَ‌بِّهِۦ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ...﴿١١٢﴾...سورة البقرة
''سنو! جو بھی اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دے اور وہ (محسن ہو) اخلاص سے عمل کرے، تو بیشک اس کا رب اسے پوراپورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہوگا اورنہ غم اور اداسی''

وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُۥٓ إِلَى ٱللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ ٱسْتَمْسَكَ بِٱلْعُرْ‌وَةِ ٱلْوُثْقَىٰ ۗ...﴿٢٢﴾...سورہ لقمان
''جو شخص اپنے چہرے کو اللہ کی طرف متوجہ کردے اور وہ ہو بھی نیکو کار (محسن ) تو یقینا اس نے ایک مضبوط کڑا تھام لیا۔''

 تقویٰ کے ساتھ ملا کر یوں ارشاد فرمایا ہے :

لِّلَّذِينَ أَحْسَنُواٱلْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ ۖ...﴿٢٦﴾...سورة یونس
''جن لوگوں نے (درجہ احسان میں ) نیکی کی تو ان کے لیے خوبی ہے اور مزید برآں بھی۔''

صحیح مسلم میں اس'مزید' کی یہ وضاحت آئی ہے کہ اس سے مراد جنت میں ''اللہ عزوجل کے چہرۂ انور کا دیدار'' ہے۔

جو اِن محسنین کے عمل احسان کے ساتھ مناسبت کی وجہ سے ہوگا کیونکہ ان کے اعمال درجہ احسان تک اسی وجہ سے بلند ہوئے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے ربّ کی عبادت ایسے حضورِ قلبی اور اپنے ربّ کے مراقبہ کی کیفیت میں کرتے تھے گویاوہ اسے اپنے دل سے دیکھ رہے ہوتے تھے تو اس کی جزا ان کے لیے یہ ہوئی کہ وہ آخرت میں اپنے اللہ کو اپنی آنکھوں سے عیاناً دیکھیں گے۔

جبکہ ان کے برعکس کفار کے متعلق یہ بتایاگیا ہے کہ

إِنَّهُمْ عَن رَّ‌بِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ...﴿١٥﴾...سورة المطففین
''یہ کفار... اس دن اپنے ربّ سے اوٹ میں رکھے جائیں گے''

اور یہ ان کے اس حال کابدلہ ہوگا جو وہ دنیا میں کرتے رہے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کے زنگ کی تہیں جمتی رہیں اور اُنہیں اس حال تک پہنچا دیا کہ اُنہیں اللہ کی معرفت اور اس کے مراقبہ کا کبھی کوئی خیال نہ آتاتھا تو آخرت میں اللہ عزوجل کے دیدار کی نعمت اور اِعزاز سے محروم ہوگئے۔

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمانِ مبارک جس میں آپؐ نے احسان کی یہ تفسیر و توضیح فرمائی ہے کہ أن تعبد اﷲ کأنک تراہ ''تو اپنے اللہ کی عبادت ایسے اور اس کیفیت میں کر گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے۔'' اس کیفیت کے طاری ہونے کا حاصل اورنتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ عزوجل کے سامنے حاضر پاتا ہے، گویا اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔چنانچہ اس سے بندے میں اللہ کی خشیت، خوف، ہیبت اور تعظیم کے جذبات میں اضافہ ہوتا ہے جیسے کہ حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہےأن تخشٰی اﷲ کأنك تراہ
''تو اللہ سے اس طرح ڈر گویاکہ تو اسے دیکھ رہا ہو۔''

ان تعلیمات کا لازمی تقاضا اور مطالبہ یہ ہے کہ بندہ اپنے اللہ کی عبادت میں خلوص کی انتہا کے اس مقام تک پہنچنے کی کوشش کرے اور عبادت کے اکمال و اتمام اور تحسین میں اپنی تمام توانائیاں صرف کردے۔

نبی علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنے کئی صحابہ کو اس بات کی وصیت فرمائی تھی جیسے کہ ابراہیم الہجری ابوالاحوص سے اور وہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ:
''أوصاني خلیلي ! أن أخشی اﷲ کأني أراہ فإن لم أکن أراہ فإنه یراني'' 4
''مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ میں اللہ سے ڈروں گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں ، اگر میں یہ (کیفیت طاری) نہ کرسکوں تو یہ ہو کہ وہ مجھے دیکھ رہا ہے۔''

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا بیان ہے کہ:
''أخذ رسول اﷲ! ببعض جسدي فقال: اعبداﷲ کأنك تراہ''
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے جسم کاایک حصہ دبایا (یا پکڑا) اور فرمایا اللہ کی عبادت ایسے کیاکرو گویا کہ اسے دیکھ رہے ہو۔''

اور سنن نسائی میں جناب زید بن ارقم سے مرفوعاً وموقوفاً دونوں طرح آیا ہے، فرمایا:
''کن کأنك تری اﷲ فإن لم تکن تراہ فإنه یراك'' 5
''ایسے رہا کرو گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو، اگر یہ کیفیت نہ ہوسکے تو یہ خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔''

طبرانی میں حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ:
''أن رجلاً قال یا رسول اﷲ! حدثني بحدیث واجعله موجزاً فقال: صل صلاة مودّع''
''ایک آدمی نے عرض کیا:اے اللہ کے رسولؐ! مجھے کوئی تلقین فرمائیں اور چاہئے کہ مختصر ہو۔ فرمایا: نماز ایسے پڑھا کرو گویا یہ تمہاری آخری الوداعی نماز ہے۔''

جناب حارثہؓ کی مشہور روایت ہے، جو متصل ومرفوع اسانید سے مروی ہے مگر مرسل زیادہ صحیح ہے:
''أن النبي! قال له یا حارثة کیف أصحبت؟ قال: أصبحت مؤمناً حقاً، قال: انظر ماتقول، فإن لکل قول حقیقةً۔قال:یارسول اﷲ!! عزفت نفسي عن الدنیا فأسهرتُ لیلي و أظمأت نھاري، وکأني أنظر إلیٰ عرش ربي بارزاً، وکأني أنظر أھل الجنة في الجنة کیف یتزاوروں فیھا، وکأني أنظر إلیٰ أھل النار کیف یتعاورون فیھا، قال:أبصرت، فالزم، عبد نوّر اﷲ الإیمان في قلبه''
''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے حارثہ کس حال میں تو نے صبح کی ہے؟ انہوں نے کہا: حضرت! مومن حق ہوتے ہوئے میں نے صبح کی ہے! آپؐ نے فرمایا: سوچ تو کیا کہہ رہے ہو؟ ہربات کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔؟ انہوں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اپنے آپ کو دنیا سے بے رغبت کرلیا ہے، راتوں کو جاگتا ہوں ، دن میں اپنے آپ کو پیاسا رکھتا ہوں ، ایسے محسوس کرتا ہوں جیسے اپنے رب کے عرش کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں ۔ گویا اہل جنت کو دیکھ رہاہوں کہ کیسے کیسے ایک دوسرے کی زیارت کو جارہے ہیں اور اہل نار کو دیکھتا ہوں کہ کیسے کیسے بھگت رہے ہیں ۔ تو آپؐ نے فرمایا: تو نے بصیرت حاصل کرلی ہے۔ تو اب اسے لازم پکڑے رہنا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا بندہ ہے کہ اللہ نے اس کے دل کو ایمان سے منور کردیا ہے۔''

''اللہ سے حیا کرنا''
حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو وصیت فرمائی اورکہا:
''استحی من اﷲ استحیاء ك من رجلین من صالحي عشیرتك لایفار قانك''
''اللہ سے ایسے حیا کرو جیسے تم اپنے قوم قبیلے کے دو صالح بندوں سے حیا کرتے ہو، جو تم سے جدا نہیں ہوتے۔''

اسی طرح ایک مرسل روایت میں ہے:

''استحي من ربك''

''اپنے رب کا حیا کیا کرو''

حضرت معاذؓ کو جب یمن کی طرف بھیجا گیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک وصیت یہ بھی فرمائی تھی:
''استحي من اﷲ کما تستحي من رجل ذاھیبة من أھلك''
''اپنے رب سے اسی طرح حیاکرو جیسا کہ تم اپنے اہل کے کسی باہیبت آدمی سے حیاکرتے ہو''

ایک بار کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت کیا کہ کیا آدمی جب اکیلا ہو تو بے لباس اور عریاں ہوجائے؟ تو آپ ؐنے فرمایا: ''اﷲ احق أن یستحیامنہ'' ''اگر سامنے اور کوئی آدمی نہ بھی ہو تو ... اللہ اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس سے حیا کیا جائے'' (یعنی اکیلے میں بھی آدمی کو لایعنی طور پر بے لباس عریاں نہیں ہوناچاہئے)

صحابی رسول حضرت ابوالدردا نے ایک آدمی کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:
''اعبداﷲ کأنك تراہ''

''اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو''

ایک بار حضرت عبداللہ بن عمرؓ طواف میں تھے، اور عروہ بن زبیرؓ بھی ... کہ اس دوران عروہ نے جناب عبداللہ ؓ سے ان کی صاحبزادی کے متعلق نکاح کی بات کرنا چاہی تو حضرت عبداللہؓ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ مدینہ منورہ واپس پہنچے تو دوران طواف میں جواب نہ دینے پر معذرت کی، اورکہا کہ بھئی! اس وقت جب تم نے بات کی تھی، ہم طواف کررہے تھے، اور اس دوران میں تو ہم اپنے اللہ کو اپنے سامنے خیال کرتے ہیں ! ii

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے:
فإن لم تکن تراہ فإنه یراك
''اگر تم پہلے والی کیفیت حاصل نہ کرسکو تو یہ ضرور ہو کہ خیال کرو کہ وہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے''

یہ جملہ گویا پہلے کی علّت اور سبب ہے۔ بندے کو جب حکم دیاگیا کہ وہ اپنے اللہ کو اپنے تصور میں لائے، کہ دوران عبادت میں وہ اسے دیکھ رہا ہے، او وہ اپنے بندے کے بہت زیادہ قریب ہے، اتنا قریب کہ بندہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ کیفیت نہ بن سکے تو اسے اپنے اس ایمان سے مدد لینی چاہئے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، وہ اس کے ظاہراور باطن سے آگاہ ہے اور اس کی کوئی حالت اور کیفیت اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ بندہ جب یہ مقام و مرتبہ حاصل کرلے گا تو اس طرح اس کے لیے پہلے مقام کا وصول بہت آسان ہوجائے گا کہ اس پر یہ کیفیت اور بصیرت طاری رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے بے انتہا قریب ہے، اس کی معیت میں ہے یا کم از کم اسے دیکھ رہا ہے۔

اور کہا جاتاہے کہ جس شخص کے لیے اس کیفیت میں عبادت کرنا مشکل ہو تو اسے یہ دوسری کیفیت ضرور ہی طاری کرنی چاہئے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے، اسے جھانک رہا ہے تو اسے اس سے حیا کرنی چاہئے کہ اس سے کوئی خلاف ادب بات یا فعل صادر ہو۔

عارفین کے کچھ اقوال:
بعض عارفین کا قول ہے: اس بات سے ڈرو کہ کہیں اللہ تمہیں حقارت سے نہ دیکھتا ہو۔
بعض نے کہا: اللہ سے ڈرو اور خیال کرو کہ وہ تم پر کس قدر عظیم قدرت رکھتا ہے۔
بعض نے کہا: عارف تو وہ ہے جو اللہ کے لیے عمل کرے اور اس تصور سے کرے گویاوہ اسے دیکھتا ہے اور جو اس کیفیت سے عبادت کرے کہ ''اللہ اسے دیکھ رہا ہے'' تو وہ ''مخلص'' ہوتا ہے۔

اور اس قول میں مذکورہ بالا دونوں مراتب و مقامات کا اشارہ ہے۔ یہ دوسرا مرتبہ، مقام اخلاص ہے اور اس کا لازمی تقاضا ہے کہ بندہ عبادت میں ادھر ادھر نہ جھانکے، صرف اس کی رضا کو پیش نظر رکھے اور پہلا مقام، مقام مشاہدہ ہے یعنی بندہ اپنے دل میں یہ تصور جمائے اور اس طرح کے حضور قلب سے عبادت کرے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مشاہدہ میں ہے۔ اس طرح اس کا دل ایمان سے منّور اور اس کی بصیرت مقام عرفان تک پہنچ جائے گی۔ حتیٰ کہ غیب عیان بن جائے گا اور یہی وہ مقام احسان ہے جس کا حدیث جبریل میں بیان ہوا ہے۔

اور ان مقامات کے اصحاب اپنے اپنے درجات بصیرت کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں ۔

اور علماء کی ایک جماعت نے آیت کریمہ وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ فِى ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضِ ۚ...﴿٢٧﴾...سورة الروم ''اس کی بہترین اور اعلیٰ صفت ہے، آسمانوں میں اور زمین میں بھی''... میں ''مثل اعلیٰ'' کی یہی تفسیرکی ہے جس کا اوپر بیان ہوا ہے۔

اس طرح سورہ النور آیت 35 میں {ٱللَّهُ نُورُ‌ ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَٱلْأَرْ‌ضِ ۚ مَثَلُ نُورِ‌هِۦ كَمِشْكَو‌ٰةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ...} کی تفسیرمیں یہی بیان کرتے ہیں کہ ''اللہ کے نور کی مثال جو مؤمن کے دل میں ہوتا ہے۔ مثل ایک طاق کے ہے، جس میں چراغ ہو اور چراغ شیتے کی قندیل میں ہو اور شیشہ مثل چمکتے ہوئے روشن ستارے کے ہو... الخ''

حضرت ابی بن کعبؓ وغیرہ صحابہ سلف امت سے اس کی یہی تفسیر وارد ہے۔

اور احادیث میں ایک حدیث یہ بھی ہے کہ
أفضل الإیمان أن تعلم أن اﷲ معك حیث کنت
سب سے افضل ایمان یہ ہے کہ تمہیں علم ویقین ہوکہ تم جہاں کہیں بھی ہوئے اللہ تمہارے ساتھ ہے

طبرانی میں حضرت ابوامامہؓ سے یہ روایت آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة في ظل اﷲ یوم القیامة یوم لاظل إلّا ظله رجل حیث توجه علم أن اﷲ معه (الحدیث)
''تین قسم کے آدمی قیامت کے دن اللہ کے سائے میں ہوں گے جس دن اللہ کے سائے کے علاوہ کہیں کسی کا کوئی سایہ نہ ہوگا ان میں ایک وہ ہوگا جو جہاں کہیں بھی جائے اسے یقین ہو کہ اللہ اس کے ساتھ ہے۔''

اللہ تعالیٰ کی معیّت کا بیان
قرآن مجید میں اس کا متعدد مقامات میں اس کا ذکر ہے، فرمایا:
{وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ...﴿٤﴾...سورة الحدید} ''وہ تمہارے ساتھ ہوتاہے، تم جہاں کہیں بھی ہو''
{وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِ‌يبٌ ۖ...﴿١٨٦﴾...سورہ البقرة} ''جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو انہیں بتائیں کہ میں قریب ہوں ۔''

اور فرمایا:
أَلَمْ تَرَ‌ أَنَّ ٱللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَـٰوَ‌ٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْ‌ضِ ۖ مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَـٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَ‌ابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ أَدْنَىٰ مِن ذَ‌ٰلِكَ وَلَآ أَكْثَرَ‌ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا..﴿٧﴾....سورة المجادلہ
''تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے، اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم کی اورنہ زیادہ کی مگر وہ ان کے ساتھ ہی ہوتاہے جہاں بھی وہ ہوں ۔''

اور فرمایا:
وَمَا تَكُونُ فِى شَأْنٍ وَمَا تَتْلُوامِنْهُ مِن قُرْ‌ءَانٍ وَلَا تَعْمَلُونَ مِنْ عَمَلٍ إِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُودًا إِذْ تُفِيضُونَ فِيهِ ۚ...﴿٦١﴾..۔سورة یونس
''اور آپ کس حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ، ہم کو سب کی خبر رہتی ہے، جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو۔''

اور فرمایا:
وَنَحْنُ أَقْرَ‌بُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ ٱلْوَرِ‌يدِ ...﴿١٦﴾...
''اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ''

اور فرمایا:
يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱلنَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ ٱللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ...﴿١٠٨﴾...سورة النساء
''یہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں (لیکن) اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے''

اَحادیث طیبہ جن میں اللہ کی معیّت کا ذکر ہے
اوراحادیث طیبہ صحیحہ میں بھی اس بات کا ذکر موجود ہے کہ بندے کو چاہئے کہ عبادات میں بالخصوص اللہ تعالیٰ کے اس قرب کو اپنے دل ودماغ میں حاضر رکھے، مثلاً :
''إن أحدکم إذا قام یصلّي فإنما یناجي ربّه''
''تم میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کررہا ہوتا ہے۔''

یا اس طرح بھی آتا ہے:

''ربّه بینه وبین القبلة''

''نماز کے وقت اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔''

یا یہ الفاظ آئے ہیں :

''إن اﷲ قبل وجھه إذا صلّی''

''جب بندہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتا ہے۔''

ایک روایت کے لفظ اس طرح ہیں :
إن اﷲ ینصب وجھه لوجه عبدہ في صلاة مالم یلتفت  6
''اللہ تعالیٰ نماز کے دوران میں اپنا چہرہ بندے کے چہرے کی طرف کرلیتا ہے۔ جب تک کہ وہ التفات نہ کرے۔''

ایک بار صحابہ کرامؓ سے تکبیر پکارنے میں آوازیں کچھ بلند ہوگئیں ، تو آپ علیہ السلام نے انہیں تفہیم فرمائی کہ:
إنکم لا تدعون أحتم ولاغائبا إنکم تدعون سمیعاً قریباً
''تم لوگ کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکارتے ہو بلکہ اس ذات کو پکارتے ہو، جو خوب سننے والا قریب ہے۔''

اور ایک روایت میں آیا ہے کہ:
وھو أقرب إلیٰ أحدکم من عنق راحلته
''وہ تو تم سے تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے''

اور ایک روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :
ھو أقرب إلی أحدکم من حبل الورید
''وہ تو تم سے تمہاری رگِ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔''

اسی طرح ایک حدیث قدسی یہ ہے:
أنا مع عبدي إذا ذکرني و تحرکت بي شفتاہ
''میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا اورمیرے ذکر کے ساتھ اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں ۔''

اور فرمایا:
أنا مع ظن عبدي بي وأنا معه حیث یذکرني فإن ذکرني في نفسه ذکرته في نفسي، وإن ذکرني في مسلأ ذکرته في ملأ أخیر منه، وإن تقرب مني شبرا تقربت منه ذراعاً وإن تقرب مني ذراعاً تقربت منه باعا وإن أتاني یمشي أتیته ھرولةً
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
''میں اپنے بندے کے میرے متعلق گمان کے مطابق ہوتا ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جہاں بھی وہ مجھے یاد کرے، اگر وہ مجھے اپنے جی میں یاد کرے تو میں اسے اپنے جی میں یادکرتا ہوں ، اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے اس کی جماعت سے بہترجماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میری طرف ایک بالشت قریب ہو تو میں ایک ہاتھ برابر اس کی طرف قریب ہوجاتا ہوں ۔ اگر وہ میری طرف ایک ہاتھ قریب ہو توایک باع برابر اس سے قریب ہوجاتا ہوں (دونوں بازوں کے پھیلاؤ کو باع کہتے ہیں ) اگر وہ میری طرف چل کے آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کے آتا ہوں ۔

تو اگر کوئی ان نصوص سے اللہ تعالیٰ کے بارے میں حلول یا اتحاد وغیرہ کے مفہوم سمجھتا اور کشید کرتا ہے تو یہ اس کا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے متعلق سوء فہم اور جہالت ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولؐ ان معانی و مفاہیم سے بری ہیں ۔ پاک ہے وہ ذات جس کے مثل کوئی نہیں اور وہ خوب سننے والا دیکھنے والا ہے۔''

بعض عارفین کے اقوال:
جناب ابوبکر مزنی رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں : ''اے ابن آدم! تیرے جیسا کون ہے؟ تیرے، تیرے محراب اور بحر (اُنس و معرفت) میں کوئی رکاوٹ نہیں ، تم جب چاہو اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوسکتے ہو، اور تمہارے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان بھی نہیں ہوتا۔


اور جب کوئی ذکر و عبادت میں حضور و استحضار کا یہ مقام حاصل کرلیتا ہے تو وہ اللہ کا انیس بن جاتا ہے اور پھر لازمی طور پر دیگر مخلوقات سے اسے وحشت سی ہونے لگتی ہے ۔

ثور بن یزید رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں کہ:'' میں نے کسی کتاب میں پڑھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:اے جماعت حواریین! اللہ کے ساتھ بہت زیادہ اور لوگوں کے ساتھ بہت کم باتیں کیا کرو۔ انہوں نے کہا: ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ بیت زیادہ کلام کیسے کریں ؟فرمایا: اس کے ساتھ مناجات کے لیے خلوت اختیار کرو، اور خلوت میں اس سے دعائیں کیا کرو۔''iii

اسی طرح جناب رباح رحمة اللہ علیہ سے روایت کیا کہ:'' ایک آدمی ہر دن رات میں ہزار رکعتیں پڑھتا تھا (7)حتیٰ کہ وہ کھڑا ہونے سے معذورہوگیا تو بیٹھ کر پڑھا کرتا تھا۔ وہ جب عصر کی نماز پڑھ لیتا تھا تو اپنے گھنٹوں کو اپنے بازوں میں لے کر احتباء کی صورت میں بیٹھ جاتا اور قبلہ کی طرف منہ کرلیتا اورکہتا تھا: مجھے اس مخلوق پر تعجب ہے وہ کس طرح اور کیونکر تیرے علاوہ کسی اور سے دل لگائے ہوئے ہیں ۔ مجھے اس مخلوق پر تعجب ہے کہ ان کے دل کیونکر تیرے علاوہ کسی دوسرے کے ذکر کے ساتھ مانوس ہیں ؟''

ابواسامہؓ کہتے ہیں کہ: '' میں جناب محمد بن نضر حارثی رحمة اللہ علیہ کے ہاں گیا تو میں نے انہیں محسوس کیا کہ وہ کچھ منقبض سے ان کی طبیعت میں گھٹن سی ہے۔ میں نے کہا:شاید آپ کوناگوار لگتا ہے کہ آپ کے پاس آیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔(8)میں نے کہا: تو کیا آپ کو اس طرح اکیلے بیٹھے رہنے سے وحشت اور گھبراہٹ نہیں ہوتی؟ انہوں نے کہا: مجھے گھبراہٹ کیوں ہونے لگی؟ جب کہ وہ (اللہ تعالیٰ) فرماتاہے: میں ہم مجلس ہوتا ہوں اس کا جو مجھے یاد کرے''۔

جناب مالک بن مغفل رحمة اللہ علیہ اپنے گھر میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے کہا گیا:''کیا آپ کو (اپنے اکیلے بیٹھے رہنے سے) گھبراہٹ نہیں ہوتی؟ تو انہوں نے کہا:کیابھلا کوئی اللہ کی معیت میں بھی گھبرا سکتا ہے''۔؟
جناب حبیب ابومحمد رحمة اللہ علیہ اپنے گھر میں اکیلے ہی بیٹھے ہوتے تھے اور کہا کرتے تھے: ''(اے اللہ!) جس کی آنکھ تیری معیت میں ٹھنڈی نہیں ہوتی، اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوں ۔ جسے تجھ سے انس نہیں ملتا اسے کہیں کوئی اُنس نہ ملے''۔
جناب غزوان رحمة اللہ علیہ کہا کرتے تھے: ''میں اپنے دل کی راحت اُس کی مجالست اور صحبت میں پاتا ہوں جس کے ہاں میری حاجات ہیں ''۔
مسلم بن یسار رحمة اللہ علیہ کا قول ہے: ''لذت کے متوالوں کو اللہ تعالیٰ سے مناجات کے لیے خلوت سے بڑھ کر اور کہیں کوئی لذت نہیں ''۔
مسلم بن عابد رحمة اللہ علیہ کا قول ہے کہ : ''اگر جماعت (کے اہتمام کی پابندی) نہ ہوتی ہو میں اپنے دروازے سے کبھی باہر نہ نکلتا حتیٰ مجھے موت آجاتی۔''

اللہ کے مطیع بندوں کے لیے اس دنیا میں اپنے آقا کے ساتھ مناجات کے لیے خلوت سے بڑھ کر اور کوئی چیز لذیذ و شیریں نہیں ہوتی۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ان کے سینوں میں میں آخرت کے ثواب اور اللہ تعالیٰ کے دیدار سے بڑھ کر بھی کوئی چیز ہوگی۔ پھر ان پر غشی طاری ہوگئی۔

جناب ابراہیم بن ادھم رحمة اللہ علیہ کا بیان ہے کہ:
''أعلیٰ الدرجات أتنقطع إلیٰ ربك وتستأنس إلیه بقلبك و عقلك و جمیع جوارحك حتی لا ترجو إلاّ ربك ولا تخاف إلاّ ذنبك و ترسخ محبته في قلبك حتی لا تؤثر علیھا شیئا فإذا کنت کذلك لم تنل في برکنت أو بحر أو في سھل أو في جبل و کان شوقك إلیٰ لقاء الحبیب شوق الظمآن إلی الماء البارد وشوق الجائع إلی الطعام الطیب، ویکون ذکر اﷲ عندك أعلیٰ من العسل و أعلیٰ من الماء العذب الصافي عند العطشان في الیوم الصائف''
''سب سے عظیم درجہ اور مقام تو یہ ہے کہ تم(مخلوقات سے) کٹ (9)کر اللہ کے ہو رہو اور اپنے عقل و شعور اور تمام اعضاء و جوارح کے ساتھ اللہ کے انیس بنو حتیٰ کہ تمہاری ساری کی ساری امیدیں اللہ ہی سے وابستہ ہوجائیں ۔ اور اپنے قصوروں اور گناہوں سے ڈرتے رہو۔ اللہ کی محبت کو اپنے دل میں اس طرح سے جماؤ حتیٰ کہ کسی اور شے کو اس پر ترجیح حاصل نہ رہے۔ اگر تم اس طرح کے ہوگئے تو پھر خواہ جنگل میں ہوئے یا سمندر میں کسی میدان میں ہوئے یاپہاڑ پر۔ تو پھر تمہارا شوق اپنے حبیب حقیقی (جل جلالہ) کی ملاقات کے لیے ایسے ہوگا جیسے کسی پیاسے سے کو ٹھنڈے میٹھے پانی کی طلب ہوتی ہے، کسی بھوکے کوبہترین لذیذ کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔ اللہ کا ذکر تمہارے لیے شہد سے بڑھ کر شیریں اور ٹھنڈے میٹھے صاف پانی کی خواہش سے بڑھ کر ہوجائے گا جو کسی تپتے دن میں ہوسکتی ہے۔''

جناب فضیل رحمة اللہ علیہ کاقول ہے: ''مبارک ہے وہ شخص جو لوگوں کے جمگھٹوں سے گھبرا کر اللہ کا جلیس (و انیس) بن گیا۔''

ابوسلیمان رحمة اللہ علیہ کہتے ہیں : '' میں کبھی بھی اللہ تعالیٰ کو بھول نہیں سکتا ہوں ۔''

جناب معروف کرخی رحمة اللہ علیہ نے ایک آدمی سے کہا: ''اللہ تعالیٰ پرتمہارا توکل اور اعتماد ایسا اور اس قدر ہو کہ وہ تمہارا جلیس و انیس بن جائے اور پھر تم اپنی جمیع حاجات اسی کو سنوا سکو۔''

ذوالنون مصری رحمة اللہ علیہ سے منقول ہے کہ: ''اہل محبت کی علامت یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کہیں اور سے اُنس نہیں ملتا اور اس کی معیت سے انہیں کوئی گھبراہٹ نہیں ہوتی (یعنی لوگوں کے نہ ملنے سے انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوتی)''
اور فرمایا:
''جب اللہ کی محبت دل میں جاگزیں ہوجاتی ہے تو اس بندے کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُنس ہوجاتاہے۔ پھر اللہ کی ذات اہل معرفت کے سینوں میں سب سے عظیم ہوجاتی ہے اور یہ بھی سب سے کٹ کراس سے محبت کرنے لگتے ہیں ۔''

الغرض علماء و زہاد کے اس طرح کے اقوال بے شمار ہیں ، جن کااحاطہ تطویل کا باعث ہوگاجو ذکر ہوا اس میں بڑی کفایت ہے ان بیانات کی روشنی میں اس حدیث (حدیث جبریل ؑ) کی عظمت شان کا پتاچلتا ہے، کہ یہ حدیث تمام علوم ومعارف کی جامع ہے اور ہرطرح کے علوم و حکیم اس کی طرف راجع ہیں اور اُمت کے عظیم علماء و بزرگان کے علمی جواہرات جو وہ پیش کرتے ہیں اس حدیث سے باہرنہیں ہوتے جبکہ فقہاء کرام کاموضوع بحث عبادات کا ظاہر ہوتاہے جو یقیناً اسلام کے بنیادی خصائل میں سے ہے، اس کے بعد وہ اموال اور عصمتوں اور خونوں کے حقوق کی بحث کرتے ہیں جو سبھی بلا شبہ علوم اسلامیہ کا عظیم حصہ ہیں ۔ مگر ان حضرات سے اسلام کی معنویات یعنی آداب و اخلاق کاایک بڑا حصہ رہ بھی جاتا ہے، جس کے متعلق یہ حضرات بہت کم بحث کرتے ہیں حتیٰ کہ شہادت توحید و رسالت کے معانی کی گہرائی میں بھی نہیں جاتے حالانکہ یہی بات اسلام کا اصل اصیل ہے اور دیگر حضرات جو ادیان کے اصول و مبادی پر بحث کرتے ہیں وہ شہادت توحید ورسالت، اللہ تعالیٰ (کی ذات وصفات اور اسماء حسنیٰ)کتب منزلہ، یوم آخرت اور تقدیر (اور ان کے حقائق پر) تفصیل سے بحث کرتے ہیں ، ان ہی کے متعلق علوم و معارف بیان کرتے ہیں ۔مقام احسان اور قلبی احساسات (امور باطنیہ) کی تفصیلات واضح کرتے ہیں جو یقیناً ایمان کاموضوع ہے (10)جیسے کہ خشیت الٰہی، محبت الٰہی، توکل علی اللہ، اللہ فیصلوں یعنی تقدیر پررضا اور صبر وغیرہ کے موضوعات ہیں۔

الغرض یہ حدیث جبریل علیہ السلام ان تمام اسلامی و شرعی علوم و معارف کی جامع ہے جن پرکہ مختلف طبقات کے علماء (اپنے اپنے انداز میں ) گفتگو کرتے ہیں ، ان سب کا مرجع و محور یہی حدیث مبارک ہے۔


حوالہ جات
1. ملاحظہ ہو، سنن ابوداؤد، الصلاة، باب المحافظة علی الصلوات، حدیث 525
عن عبادة بن الصامت قال أشھد أني سمعت رسول اﷲ ! یقول: خمس صلوات افترضھن اﷲ تعالیٰ من أحسن وضو ء ھن وصلاھن لوقتھن وأتم رکوعھن وخشوعھن کان له علی اﷲ عھد، أن یغفرله...ومن لم یفعل فلیس له علی اﷲ عھد إن شاء غفرله و إن شاء عذبه۔
حضرت عبادہ بن صابتؓ کہتے ہیں کہ ''میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، فرمایا کہ: پانچ نمازیں ہیں جواللہ نے فرض کی ہیں ، جو شخص ان کا وضو عمدہ بنائے، انہیں بروقت اداکرے، ان کے رکوع اور ''خشوع'' کامل رکھے تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کاعہد اور وعدہ ہے کہ وہ اسے بخش دے گا اور جو یہ نہ کرے تو اس کے لیے اللہ کا کوئی وعدہ نہیں ہے۔ چاہے تو بخش دے اور چاہے تو عذاب دے۔
(اللھم استرعوراتنا و آمین روعاتنا... آمین)
2. اے ہمارے آقا جل جلالہ'! اپنے در کے اس گدا، سائل اور فقیر کی عزت و آبرو کی حفاظت فرمانا۔ یہ منگتا دوسروں کے ندیوں نالوں سے اپنے دست دعا کے پیالے کو بھرلینے کا کسی طور پر روا دار نہیں ۔
3. سلف اُمت اور تاریخ اسلام کے ابتدائی دورمیں للّٰہیت اور اخلاص کا حقیقی اور صحیح نام ''زید و احسان'' رہاہے۔ امام ابن المبارک اور احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ وغیرہ کی تالیفات میں ''کتاب الزهد'' نام کی کتابیں معروف اورمتداول ہیں ۔ بعد میں اس عمل میں کچھ تحریف ہوئی اور بہت زیادہ ہوئی اور عجمیت نے بھی اس میں دراندازی کی تو اس کا نام تصّوف اور طریقت ٹھہرا اور اسے شریعت کا حریف اور اس کے بالمقابل لاکھڑا کیا گیا اور بدعات کے سیلاب نے اس چشمۂ صافی کو اس قدر گدلایا کہ اب اسے یہاں ہی پناہ ملتی ہے۔ ورنہ مخلص اہل نظر جانتے ہیں کہ دنیا سے بے رغبتی اور عبادات میں احسان شریعت کاایک انتہائی اہم مقام و مرتبہ ہے اور اس حقیقت میں کوئی خفا نہیں کہ دل کی دنیاپرقابو پانا ایک مستقل علم اور عمل ہے، جو بہت زیادہ محنت اورمجاہدہ چاہتا ہے اورجس طرح دیگر علوم محض کتاب سے حاصل نہیں ہوسکتے ان کے لیے مخلص اور محنت معلّم کی ضرورت ہوتی ہے تو یقیناً اس شعبہ کے لیے بھی ربانی و حقانی رہبر و رہنما کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ (سعیدی)
4. راقم عرض کرتاہے کہ ''اللہ سے ڈرنے'' کی آیات و احادیث میں ''ڈر اور خوف'' سے مراد وہ قلبی و روحانی کیفیت ہوتی ہے جس میں الفت ، محبت، ہیبت، جلال، تعظیم اور قُرب کے جذبات ہوتے ہیں ۔ بندہ گھبراتا ہے کہ کہیں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہوگئی ہو یا ہونہ جائے اور ساتھ ہی اس کی قربت و محبت اور انعام و اکرام کا بھی یقینی رکھتا ہے۔جیسے کہ ایک سعادت مند بیٹے کو اپنے باپ سے تعلق ہوتا ہے۔ وﷲ المثل الاعلیٰ اور اللہ تعالیٰ کا مقام تو بے انتہاء اعلیٰ و ارفع ہے۔
5. اس ارشاد میں یہ تلقین عام ہی فرمائی گئی ہے۔ خواہ عبادت میں ہو یا نہ ہو۔
6. اور التفات یعنی نظروں سے ادھر ادھر جھانکنا اوریہ کام دل بھی کرتا ہے کہ ادھر ادھر بھٹکتا رہتا ہے اور یہ نظروں سے زیادہ سخت اور پریشان کن ہوتا ہے۔ (سعیدی)
7. اس طرح کے جملے بہت سے صوفیاء و زاہدین کے متعلق تواتر کے ساتھ لکھنے پڑھنے میں آتے ہیں ۔اس ہزارکعت کی ادائیگی مسنون انداز میں بہت ہی بعید معلوم ہوتی ہے کہ چوبیس گھنٹوں کے منت وہی بنائے جائیں تو ایک ہزار چار سو چالیس (1440) بنتے ہیں ۔ پھر عبادت کے لیے مکروہ و ممنوع اوقات نکال لیے جائیں تو ایک منٹ میں ایک رکعت بڑے تعجب کی بات ہے۔الّا یہ کہ یہ تاویل کرلی جائے کہ ان جملوں میں تعداد مراد ہی نہیں ہوتی محض کثرت کے معنی میں یہ عدد بول دیا گیا ہے۔ واﷲ أعلم بالصواب۔
اور حق اور حقیقت یہ ہے جو للّٰہیت، خشوع و خضوع اور راحت و سکون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ میں ہے، اور کہیں نہیں ہوسکتا۔ والحمدﷲ علی ذلك (سعیدی)
8. بعض لوگ علماء و صالحین کے پاس محض تبرک کے طور پر جابیٹھتے اور ان کے علمی و عملی مشاغل میں جارح بنتے ہیں اور پھر وہ بے مقصد طور پر مجلس کو طول بھی دیتے ہیں ۔ شاید اسی قسم کے لوگوں سے انقباض کا ذکر ہوا ہے۔واﷲ اعلم (سعیدی)
9. اللہ تعالیٰ کے ذکر کا یہ مفہوم نہیں سمجھنا چاہئے کہ آدمی بس کسی زاویہ میں معتکف ہوکر بیٹھ رہے اورمعاشرتی حقوق و فرائض (شرعی) سے غافل ہورہے بلکہ علماء ربانی نے اس کی یہ وضاحت فرمائی ہے کہ گھر بار کے جمیع حقوق و فرائض اور کسب رزق وغیرہ کی تمام تر نگ ودو جو شرعی تقاضوں اور دینی آداب کے ساتھ ہو ''اللہ کے ذکر'' میں شمار ہوتی ہے۔
اور مخلوقات سے کٹنے کامفہوم بھی یہی ہے لوگوں کے ساتھ روابط اورمجلس آرائی کسی عظیم تر پاکیزہ اورمفید مقاصد و مطالب کے تحت ہی ہو۔ (سعیدی)
10. اوربعض لوگ اس موضوع کو غلط طور پر''صوفیت'' سے مطعون کرنے لگتے ہیں ۔کہاں بدعی صوفیت اورکہاں شرعاً مطلوب ''احسان'' (سعیدی)
 i.صحیح مسلم ،صحیح بخاری : کتاب الإیمان، باب سوال جبریل النبي ﷺ عن الإیمان: حدیث 50
 ii. بحوالہ ابونعیم وغیرہ
 iii. بحوالہ ابونعیم وغیرہ