رمضان اسلامی سال کا نواں قمری مہینہ ہے۔ اس کا تلفظ یوں ہے: رَ مَ ضَ تینوں مفتوح (زبر کے ساتھ) جبکہ الف ساکن ہے یعنی رَمَضَان۔ یہ رمض سے مشتق ہے جو باب ضَرَبَ یَضْرِبُ، نَصَرَ یَنْصُرُ اور سَمِعَ یَسْمَعُ سے مصدر آتاہیـ اس کا معنی شدید گرمی، دھوپ کی شدت سے تپ جانے والی زمین یاپتھر، نیزے کی نوک کو تیز کرنا اور گرمی کی شدت سے کسی کا جلنا وغیرہ آتاہے۔ علامہ راغب رحمة اللہ علیہ اصفہانی فرماتے ہیں :
''یہ رمض سے مشتق ہے جس کے معنی سورج کی سمت تپش کے ہیں ۔اَرْمَضَتْه سخت تپش نے اسے جلا دیا، فَرَمَضَ چنانچہ وہ جھلس گیا۔ اَرْضُ رَمْضَةٍ سخت گرم سرزمین۔ گرمی میں باہر چرنے کی وجہ سے بکریوں کے جگر زخمی ہوگئے۔''1

اسی طرح دیگر کتب ِلغت میں ہے: رمض الشيء کسی چیز کی حرارت سخت ہونا۔ رمض الیوم دن کابہت گرم ہونا۔ رمضت قدمہ گرم زمین سے پاؤں کاجلنا، رمض النعل نیزے کی نوک کو تیز کرنا۔رمض الصائم،پیاس کی شدت سے روزے دار کااندرونی حصہ گرم ہونا؍جلنا۔

کہاوت ہے: کالمستجیرمن الرمضاء بالناراس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے آگ کی پناہ لے۔ یہ کہاوت ایسے شخص کے بارے میں ہے جس میں دوہری خرابیاں پائی جائیں ۔ایک سے بچو تو دوسری اس سے زیادہ خطرناک ہو۔2

سیدنا زید بن ارقمؓ سے مروی ایک حدیث میں آتاہے :
''صلاة الأوّابین حین ترمض الفصال''3
''یعنی نمازِ اوّابین کا (افضل) وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں دھوپ میں گرم ریت پرچلنے سے تپنے لگیں ۔''

یعنی اونٹ کے بچوں کے پاؤں اس درجہ جلنے لگیں کہ وہ چرنا چھوڑ دیں ۔ یہ نمازِ چاشت کا افضل وقت ہے یعنی جب دھوپ کی شدت ہوتی ہے۔

رمضان المبارک کے دیگر اسماء
ماہ رمضان کو دورِ جاہلیت میں ناتق بھی کہا جاتاہے۔ علامہ ازہری کہتے ہیں کہ انجیل وغیرہ کتب میں اسے حطة بھی کہا گیاہے کیونکہ یہ روزے دار کے گناہ گرا دیتا ہے۔4

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی حدیث میں اسے شهر الصبر کہاگیا ہے ۔5

جبکہ ایک دوسرے روایت میں اسے'شهرمبارک' بھی کہا گیا ہے۔ 6

سیدہ عائشہؓ سے مروی ایک حدیث میں اسے'شهر الصوم' کہہ کر یاد کیاگیا ہے۔ 7

سیدنا سلمان فارسی سے فضائل رمضان پر مروی ایک روایت میں اس مہینے کے یہ نام بھی بیان کئے گئے ہیں : شهر عظیم، شهر المواساة 8

ہمارے ہاں اسے ماہِ صیام یعنی روزوں کا مہینوں بھی کہا جاتاہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ابوالخیر طالقانی نے اپنی کتاب 'حظائر القدس' میں رمضان کے ساٹھ نام ذکر کئے ہیں ۔9

تاہم حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے ان ناموں کی تفصیل بیان نہیں کی۔

رمضان کی وجہ تسمیہ
اس میں اختلاف ہے کہ رمضان المبارک کو رمضان کیوں کہاجاتا ہے۔ جیساکہ حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں ''واختلف في تسمیة ھذا الشھر رمضان''10

تاہم ذیل میں ہم چند اقوال بیان کررہے ہیں ۔امید ہے کہ طالبان علم اس سے مستفید ہوسکیں گے۔

اس مہینے میں گرمی کی وجہ سے اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگے تھے اس لیے اسے رمضان کہاگیا۔ 11

اس میں گرمی کی شدت سے پتھر جلنے لگے تھے رمضاء گرم پتھر کو کہتے ہیں ۔لہٰذا اسی مناسبت سے اسے رمضان کہا گیا۔ 12

اس میں روزے داروں کے گناہوں کو جلایاجاتا ہے اس وجہ سے یہ ماہ رمضان ہے۔13

اس سلسلے میں ایک روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وإنما سمي رمضان لأنه یرمض الذنوب 14


ماہ رمضان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔ تاہم روایت موضوع ہے۔ علامہ البانی رحمة اللہ علیہ نے اسے موضوع قرار دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں زیاد بن میمون راوی کذاب ہے۔

یہ دلوں کو گرماتا ہے جس سے دل نصیحت پکڑتے ہیں اور آخرت پر غور وفکر کرتے ہیں جیسے ریت اور پتھر سورج کی حرارت جذب کرلیتے ہیں ۔15

خلیل نحوی کے نزدیک ماہ رمضان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ گناہوں سے جسم کودھو ڈالتا ہے اوردلوں کو پاک صاف کردیتا ہے۔16

ابن مکیت کہتے ہیں کہ اس مہینے میں عرب لوگ اپنے ہتھیاروں کو تیز کیا کرتے تھے تاکہ شوال میں حرمت والے مہینوں سے قبل ان ہتھیاروں کے ذریعے لڑا جاسکے تو اس مہینے میں ہتھیار تیز کرنے کی وجہ سے اسے رمضان کہاجانے لگا(کیونکہ رمض کا معنی تیز کرنا بھی آتا ہے)17

علامہ مجدد الدین فیروز آبادی، علامہ الجوہری، ابن فارس اور ابن درید بیان کرتے ہیں کہ جب قدیم عربوں کی زبان سے ان مہینوں کے نام نقل کئے گئے تو اس وقت جو مہینہ جس موسم میں آیا اس کا اسی مناسبت سے ویسا ہی نام تجویز کیاگیاتو اتفاق سے رمضان کا مہینہ سخت گرمی کے موسم میں آیا اس لیے اس کا نام رمضان رکھ دیاگیا۔18

ماہ رمضان اگرچہ ہمیشہ ایک ہی موسم یعنی گرمیوں میں نہیں آتا بلکہ چند سالوں کے بعد کبھی سردیوں میں بدل جاتا ہے اور کبھی معتدل موسم میں ، لیکن چونکہ اس کا نام سخت گرمیوں کے زمانے میں رکھاگیا تھااس لیے موسم کی تبدیلی کے باوجود اس کا نام رمضان ہی رہا۔

رمضان کو رمضان کہاجائے یاماہ رمضان؟

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ایک روایت میں ہے:
لاتقولوا رمضان فإن رمضان اسم اﷲ ولکن قولوا شھر رمضان 19
''تم رمضان نہ کہو بلاشبہ رمضان اللہ کا نام ہے بلکہ تم ماہ رمضان کہا کرو۔''

اس روایت سے تو یہی معلوم ہورہا ہے کہ رمضان المبارک کو ''رمضان'' بغیر اضافت کے یعنی صرف رمضان کہنا جائز نہیں کیونکہ رمضان اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک اسم ہے۔بعض لوگ اس کے قائل ہیں جیسے اصحاب مالک ہیں تاہم جمہور کے نزدیک اس کااستعمال اِضافت (ماہ رمضان) اور بغیر اضافت (رمضان) کے دونوں طرح جائز ہے۔گو قرآن مجید میں اس کااستعمال صرف اضافت ہی سے ہے تاہم احادیث میں یہ اضافت اور بغیر اضافت کے دونوں طرح آیا ہے۔لہٰذا دونوں طرح جائز ہے۔

علامہ ابن حاجب اور دیگر نحوی کہتے ہیں : لا تضف لفظ شھر بشھر إلا الذي في أوله راء یعنی جن مہینوں کے ناموں کاپہلا حرف'ر' ہے (جیسے رمضان ، ربیع) ان کے سوا کسی اور مہینے کے نام سے پہلی شھر (ماہ) کالفظ ذکر نہیں کیا جاسکتا۔ مگر ابن حاجب کی اس بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ'ر' والے ناموں کے شروع میں شھر(ماہ)کا استعمال ضروری ہے۔20

جہاں تک سیدناابوہریرہؓ سے مروی مذکورہ روایت کا تعلق ہے تو وہ بالاتفاق ضعیف اور موضوع ہے جیسا کہ محدثین نے اس کی وضاحت فرمادی ہے۔چنانچہ امام ابن جوزی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''ھذا حدیث موضوع لا أصل له وأبومعشر اسمه نجیح کان یحییٰ بن سعید یضعفه ولا یحدث عنه ویضحك إذا ذکرہ۔وقال یحییٰ بن معین إسنادہ لیس بشيء، قلت! ولم یذکر أحد في أسماء اﷲ تعالیٰ رمضان ولا یجوز أن یسمی به إجماعا''21
''یہ حدیث موضوع ہے اس کی کوئی اصل نہیں اس روایت کا راوی ابومعشر جس کا نامنجیح ہے۔امام یحییٰ بن سعید نے اسے ضعیف کہاہے انہوں نے اس سے کوئی حدیث بیان نہیں کی بلکہ اس کا ذکر سن کر ہنستے تھے اور یحییٰ بن معین فرماتے ہیں کہ اس روایت کی سند کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ میں (ابن جوزی) کہتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں رمضان کسی ایک نے بھی ذکر نہیں کیا اور اس پر  اجماع ہے کہ (اللہ تعالیٰ کا) یہ نام رکھنا جائز نہیں ۔''

علامہ طاہر پٹنی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ 22

معلوم ہوا کہ یہ روایت موضوع ہے لہٰذا رمضان یا ماہ رمضان کہنادونوں طرح درست ہے۔چنانچہ داؤد راز دہلوی فرماتے ہیں : لفظ رمضان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ادا ہوا اور شہر رمضان خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔ ثابت ہوا کہ دونوں طرح سے اس مہینے کا نام لیاجاسکتا ہے۔23

المبارک : (اَل مُ بَارَک) المبارک شھرمحذوف کی صفت ہے۔یہ لفظ عام طور پر رمضان کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے:'رمضان المبارک'کیونکہ مبارک کا معنی ہے: برکت دیا ہوا، بابرکت، تو رمضان المبارک کامعنی ہوا کہ رمضان بابرکت مہینہ ہے۔

اسے رمضان المبارک کہنے کی اس کے سوا اورکیا وجہ ہوسکتی ہے کہ یہ سارے کا سارا مہینہ ہی برکتوں والاہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے شھر مبارک کہا ہے۔چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أتاکم رمضان،شھر مبارك،فرض اﷲ عزوجل علیکم صیامه،تفتح فیه أبواب السماء وتغلق فیه أبواب الجحیم، وتغل فیه مردة الشیاطین، ﷲ فیه لیلة خیر من ألف شھر من حرم خیرھا فقد حرم24
''تمہارے پاس رمضان کا بابرکت مہینہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پرفرض کئے ہیں ۔ اس میں آسمان کے دروازے کھول دیے اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ۔ سرکش شیاطین بھی جکڑ دیے جاتے ہیں ۔اس ماہ میں ایک ایسی رات بھی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے جو کوئی اس کی خیر و بھلائی سے محروم کردیا گیا تو وہ (ہرخیرسے) محروم کردیاگیا۔''

سحری میں برکت
سیدنا انسؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تَسحَّروا فإن في السحور برکة 25
''سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے۔''

سیدنا عرباض بن ساریہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رمضان میں سحری کے لیے بلایا اورفرمایا:
ھلم إلی الغداء المبارك26
''آؤ، برکت والاکھانا کھالو''

ماہ رمضان میں تمام مسلمان اُنتیس یاتیس دن بلاناغہ سحری کھاتے ہیں ۔اس لحاظ سے رمضان کے پورے مہینے میں مسلسل برکتوں کا نزول ہوتا رہتا ہے۔

افطاری کی کھجور میں برکت
سیدنا سلمان بن عامرؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا أفطر أحدکم فلیفطر علی تمر فإنه برکة فإن لم یجد تمرًا فالماء فإنه طھور27
''جب تم میں سے کوئی (روزہ) افطار کرے تو وہ کھجور سے افطار کرے، کیونکہ وہ باعث ِبرکت ہے۔ اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ باعث ِطہارت ہے۔''

ماہِ رمضان میں مسلسل سحری و افطاری کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور افطار کے وقت کھجور بھی خوب کھائی جاتی ہے۔ لہٰذا پورے مہینے میں صبح و شام مسلسل برکتوں کا نزول ہوتا ہے۔

برکت والی رات
اِرشادِ باری تعالیٰ ہے
حمٓ ﴿١﴾ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿٢﴾ إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةٍ مُّبَـٰرَ‌كَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِ‌ينَ ﴿٣...سورة الدخان
''حم۔ اس وضاحت والی کتاب (قرآن) کی قسم۔ یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں نازل فرمایا، بے شک ہم ڈرانے والے ہیں ۔''

یہاں بابرکت رات سے مراد لیلة القدر ہے جیسا کہ قرآنِ مجید میں دوسرے مقام پر یوں صراحت ہے:
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ‌ ...﴿١﴾...سورة القدر
''بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شب ِقدر میں نازل کیا۔''

ایک مقام پر یوں صراحت فرما دی:
شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْ‌ءَانُ...﴿١٨٥﴾...سورة البقرة
''ماہِ رمضان وہ (مہینہ) ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔''

ان آیات سے پتاچلا کہ قرآن مجید ماہ رمضان ہی کی ایک برکت والی رات یعنی لیلة القدر میں اتارا گیا اور لیلة القدر رمضان المبارک کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے۔

شب ِقدر کے بابرکت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے کہ ایک تو اس میں قرآن کا نزول ہوا۔ دوسرے، اس میں فرشتے اور روح الامین کا نزول ہوتاہے۔تیسرے، اس میں سارے سال میں ہونے والے واقعات کا فیصلہ کیاجاتا ہے۔چوتھے، یہ رات ہزارمہینے سے بھی افضل ہے۔ پانچویں ، یہ رات صبح ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے۔

ثواب میں برکت
رمضان المبارک میں کئے ہوئے نیک اعمال کے ثواب میں بھی بہ نسبت دوسرے مہینوں کے اضافہ اور برکت ہوتی رہتی ہے۔ سیدنا ابن عباس کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون سے پوچھا: تو نے ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کیا؟ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس صرف دو ہی اونٹ تھے۔ ایک پر میرا خاوند اور بیٹا سوار ہوکر حج کرنے چلے گئے جبکہ دوسرا اونٹ ہمارے لیے چھوڑ گئے جس پر ہم پانی لاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا جاء رمضان فاعتمري فإن عمرة فیه تبدل حجة28
''جب رمضان آئے تو عمرہ کرلینا کیونکہ رمضان کاعمرہ (ثواب میں ) حج کے برابر ہے ۔''

نیز سیدنا وہب بن خفش، ابو معقل اور سیدنا جابرؓ سے بھی یہی مروی ہے کہ
''عمرة في رمضان تعدل حجة''29
''رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہے۔''

امام ابن جوزی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :

فیه أن ثواب العمل یزید بزیادة شرف الوقت کما یزید بحضور القلب وبخلوص القصد 30
'' اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح حضور قلب اور اخلاص نیت کی بناپرعمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے اس طرح مبارک وقت کی مناسبت سے بھی عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔''

رمضان المبارک کے فضائل
ماہِ رمضان فضائل کے باب میں بھی اپناثانی نہیں رکھتا۔ کتاب وسنت میں سب مہینوں سے بڑھ کر اسی کے فضائل بیان ہوئے ہیں ۔ قرآنِ مجید میں اسلامی مہینوں میں سے صرف ماہِ رمضان ہی کا نام لے کر ذکر کیاگیاہے۔دنیا میں دیگر مہینوں کی بہ نسبت اسی کے فضائل و مسائل پرمشتمل بیسیوں کتب اب تک منصہ شہود پر آچکی ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ إن شاء اللہ!

 نزولِ قرآن:ماہِ رمضان المبارک کو ایک یہ بھی بے مثل فضیلت حاصل ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا آخری کلام قرآنِ مجیدنازل ہوا۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:
شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْ‌ءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْ‌قَانِ ۚ...﴿١٨٥﴾...سورة البقرة
'' ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کی ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ۔''

رمضان المبارک کی یہی فضیلت کافی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوا جو سب سے اعلیٰ، خوبصورت اور جامع ومانع کلام ہے۔دنیا کے تمام دانشور، ادیب اور فصیح مل کر بھی کلام الٰہی جیسی ایک بھی آیت نہیں بناسکتے۔ یہ کلام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ شرک و بدعت کے اندھیروں میں روشنی کا چراغ ہے۔

گناہوں کی بخشش:سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قام لیلة القدر إیمانا واحتسابا غفر له ماتقدم من ذنبه ومن صام رمضان إیمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه31
''جو کوئی شب ِقدر میں ایمان کے ساتھ اور حصولِ ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں اور جس نے رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رکھے، اس کے بھی اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قام رمضان إیمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه32
''جس نے رمضان میں ایمان کی وجہ سے اور ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔''

سیدنا کعب بن عجرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''(لوگو!) میرے منبر کے پاس حاضر ہوجاؤ، ہم لوگ حاضر ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیرکی پہلی سیڑھی پرچڑھے تو فرمایا:'آمین'، دوسری پر چڑھے تو فرمایا: 'آمین'، جب تیسری پر چڑھے تو فرمایا: 'آمین' پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے آج آپ سے خلافِ معمول 'آمین' سنی ہے، پہلے کبھی اس طرح نہیں سنی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن جبریل علیه الصلاة والسلام عرض لي۔ فقال:بُعدًا لمن أدرك رمضان فلم یغفرله، قلت: آمین، فلما رقیت الثانیة قال: بُعدا لمن ذکرت عندہ فلم یصل علیك قلت: آمین۔ فلما رقیت الثالثة قال: بعد لمن أدرك أبواہ الکبر عندہ أو أحدھما فلم یُدخلا الجنة قلت:آمین33
'' بے شک (جب میں پہلی سیڑھی پر چڑھا) تو حضرت جبریل علیہ الصلوٰة والسلام میرے پاس حاضر ہوکر بدعا کرنے لگے: وہ شخص رحمت ِالٰہیہ سے دور ہوجائے جورمضان کا مہینہ پالے پھر اس کی بخشش نہ ہو۔ میں نے آمین کہا۔ جب میں دوسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے کہا: وہ شخص رحمت ِالٰہیہ سے دور ہو جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاذکر کیاجائے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے، میں نے آمین کہا اور جب تیسری سیڑھی پر چڑھا تو جبریل نے پھر بددعا کی کہ وہ شخص رحمت ِالٰہیہ سے دور ہوجس کے سامنے اس کے ماں اورباپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپا پہنچا اور اُنہوں نے اسے جنت میں داخل نہ کرایا، تو میں نے آمین کہا۔''

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصلوات الخمس والجمعة إلی الجمعة ورمضان إلی رمضان، مکفرات ما بینھن إذا اجتنب الکبائر34
''پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک درمیانی مدت کے گناہوں کو مٹا دینے والے ہیں جب کہ کبیرہ گناہوں سے بچا جائے۔''

معلوم ہواکہ ماہِ رمضان میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت، بخشش اور مغفرت کی موسلا دھار بارش ہوتی ہے جس میں ایمان داروں کو گناہوں کی گندگی اور پلیدی سے پاک صاف ہونے کاایک سنہری موقع فراہم کیا جاتاہے تو جوشخص اس سے فائدہ نہ اُٹھائے بلکہ اپنے نفس کو گناہوں کی نجاستوں میں غرق رکھے وہ انتہائی بدبخت اور بدقسمت ہے کہ اس میں وہ نیک اعمال کرکے اپنی بخشش نہ کرواسکا۔ گویا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا ہے۔

3جہنم سے آزادی: سیدناجابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن ﷲ عزوجل عند کل فطر عتقآء وذلك في کل لیلة 35
''اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت لوگوں کو (جہنم سے)آزاد فرماتا ہے اور یہ(رمضان کی ) ہر رات میں ہوتا ہے۔''

سیدنا ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ﷲ عزوجل عند کل فطر عتقآء 36
''اللہ تعالیٰ ہر افطار کے وقت لوگوں کو (جہنم سے)آزاد فرماتا ہے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذ کانت أوّل لیلة من رمضان صفدت الشیاطین ومردة الجن وغلقت أبواب النار، فلم یفتح منھا باب وفتحت أبواب الجنة،فلم یغلق منھا باب،ونادٰی مناد: یا باغي الخیر أقبل ویا باغي الشر اَقصر وﷲ عتقاء من النار وذلك في کل لیلة 37
''جب رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کوجکڑ دیا جاتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں رہتا اور ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے طلبگار! آگے بڑھ (اور نیکی کر)اے برائی کے طلبگار! (گنا ہ سے) رُک جا۔اور اللہ تعالیٰ جہنم سے لوگوں کو آزاد کرتا ہے۔ (رمضان میں ) ہر رات اسی طرح ہوتا ہے۔''

سبحان اللہ ماہِ رمضان کی شان اور اس کی عظمت کہ ہر شب بے شمار گناہ گاروں کو دوزخ کی آگ سے آزادی ملتی ہے۔ یہ شرف اور اِعزاز بھی صرف اسی مہینے کو حاصل ہے کہ جس کی ہررات گناہ گاروں کے لیے خوشی کا پیغام لے کر شروع ہوتی ہے۔ اللہ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے جنہیں جہنم سے آزاد کردیا گیا ہے۔ تاہم اس کے لیے آئندہ اپنی اصلاح اور گناہوں سے توبہ کرنا ضروری ہے۔

دعاؤں کی قبولیت:سیدنا ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن اﷲ تبارك وتعالیٰ عتقاء في کل یوم ولیلة یعني في رمضان وإن لکل مسلم في کل یوم ولیلة دعوة مستجابة 38
''بے شک اللہ تعالیٰ ماہِ رمضان کے ہردن اور رات میں لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہے اور رمضان کے ہر روز وشب میں ہرمسلمان کے لیے ایک دعا ہے جسے قبولیت سے نوازا جاتا ہے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا تردّ دعوتھم: الصائم حتی یفطر،والإمام العادل،ودعوة المظلوم یرفعھا اﷲ فوق الغمام ویفتح لھا أبواب السماء ویقول الرب: وعزتي لأنصرنك ولو بعد حین 39
''تین بندے ایسے ہیں جن کی دعا ردّ نہیں کی جاتی: روزہ دار حتیٰ کہ وہ روزہ افطار کرلے، عادل حکمران اور مظلوم کی دعا تو اللہ تعالیٰ بادلوں کے اوپر اُٹھاتا ہے اور اس کے لیے آسمان کے دروازے بھی کھول دیے جاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:میری عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا خواہ کچھ دیربعد ہی ہو۔''

سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان للصائم عند فطرہ لدعوة ما تردّ 40
''روزے دار کے لیے افطاری کے وقت ایک ایسی دعا ہوتی ہے جو ردّ نہیں ہوتی۔''

ان احادیث سے معلوم ہواکہ رمضان المبارک کاپورا مہینہ دعاؤں اور التجاؤں کی قبولیت کا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانے ہروقت اور ہر آن کھلے ہوئے ہیں ۔ انسان میں بندگی کا احساس اور مانگنے کا سلیقہ ہو تو مالک ِبے نیاز ہر وقت اپنے بندوں کی دعائیں سنتا اور ان کی مرادیں برلاتا ہے :
جو مانگنے کا سلیقہ ہے، اس طرح مانگو
خدا کے در سے بندے کو کیا نہیں ملتا؟

لیکن شب وروز کے اس نظام میں بعض ایام و شہور ایسے بھی آتے ہیں جن میں رحمت ِالٰہی کادریا جوش میں ٹھاٹھیں مارنے لگ جاتا ہے۔ اس میں اگردل کی لگن کے ساتھ دعا کی جائے تو وہ قبول ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنِّى قَرِ‌يبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ ٱلدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِى وَلْيُؤْمِنُوا بِى لَعَلَّهُمْ يَرْ‌شُدُونَ ...﴿١٨٦﴾...سورة البقرة
''اورجب تجھ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو میں بہت ہی قریب ہوں ۔ہر وقت پکارنے والے کی پکار کو جب کبھی وہ مجھے پکارے، قبول کرتاہوں ۔اس لیے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ میری بات مان لیا کریں اورمجھ پر ایمان رکھیں یہی ان کی بھلائی کا باعث ہے۔''

اللہ تعالیٰ نے اس آیت سے پہلے اور بعد میں رمضان المبارک کے احکام و مسائل بیان کئے، جبکہ درمیان میں یہ دعا کا مسئلہ بیان کرکے ایک تو اس کی فضیلت واضح کردی اور دوسرا اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ ماہ رمضان دعاؤں کی قبولیت کامہینہ ہے۔ واللہ اعلم

رحمت اور جنت کے دروازوں کاکھلنا، جہنم کے دروازوں کابند ہونا اور شیاطین کا پابند سلاسل ہونا: سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دخل رمضان فُتِّحَتْ أبواب الجنة وغُلِّقَتْ أبواب جھنم وسُلْسِلَتِ الشیاطین 41
''جب رمضان آتاہے تو جنت کے دروازے (بڑے اہتمام سے) کھول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے مکمل طور پر بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو پابند ِسلاسل کردیا جاتاہے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا کان رمضان فتحت أبواب الرحمة وغلقت أبواب جهنم وسلسلت الشیاطین 42
''جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے خوب کھول دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے اچھی طرح بند کردیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتاہے۔''

عرفجہ رحمة اللہ علیہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
في رمضان تفتح فیه أبواب السمآء وتغلق فیه أبواب النار، ویصفد فیه کل شیطان مرید و ینادي مناد کل لیلة : یاطالب الخیر ھلم! ویا طالب الشر أمسك 43
''رمضان میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ہرسرکش شیطان پابند ِ سلاسل کردیا جاتا ہے۔ اعلان کرنے والا اعلان کرتا ہے: اے نیکی کے طالب! نیکی کر اور اے بُرائی کے طالب ! بُرائی سے رُک جا۔''

ماہ رمضان میں کرنے والے اعمال
روزہ ماہ رمضان کی ان برکات اور رحمتوں کو حاصل کرنے کے لیے اہل ایمان کو اس مہینے میں جن خصوصی اعمال کا حکم دیاگیاہے، ان میں روزہ سرفہرست ہے۔

1 روزہ
جس طرح رمضان المبارک کے فضائل بے شمار ہیں ، ایسے ہی روزے کے فضائل بھی بہت ہیں جن کی تفصیل سے یہ چند سطور قاصر ہیں ۔ تاہم ذیل میں چند باتیں پیش خدمت ہیں :
ماہِ رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے اُمت ِمحمدیہ(علی صاحبہا الصلوٰة والسلام) پر فرض کئے ہیں ، جیساکہ فرمایا:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ...﴿١٨٣﴾...سورة البقرة
''اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔''

اسی طرح ارشادفرمایا:
شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْ‌ءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْ‌قَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهْرَ‌ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَن كَانَ مَرِ‌يضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ‌ۢ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ‌ ۗ يُرِ‌يدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ‌ وَلَا يُرِ‌يدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ‌ وَلِتُكْمِلُواٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُ‌واٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُ‌ونَ ...﴿١٨٥﴾...سورة البقرة
''ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اُتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ۔ تم میں سے جوشخص اس مہینے کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے۔ ہاں جو بیمار ہو، یا مسافر ہو تو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کاارادہ تمہارے ساتھ آسانی کاہے، سختی کانہیں ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔''

ان آیاتِ بینات سے یہ بات واضح ہوئی کہ ماہِ رمضان کے روزے تمام اہل ایمان پر فرض کئے گئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کے روزے فرض کردیئے ہیں جیساکہ گذشتہ سطور میں سنن نسائی کے حوالے سے حدیث گزر چکی ہے۔

اسی طرح سنن نسائی وغیرہ کی وہ حدیث جس میں ہے کہ ایک اعرابی نے جب آپؐ سے فرائض اسلام کے متعلق پوچھا تو آپ نے رمضان کے روزوں کابھی ذکر فرمایا۔44نیز حدیث ضمام بن ثعلبہ 45کے علاوہ بھی متعدد احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں اور پھر اجماعِ اُمت اس پر مستزاد ہے۔

ماہِ رمضان کے روزے اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ہیں جیسا کہ سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بُني الإسلام علی خمس: شھادة أن لا إله إلا اﷲ وأن محمد رسول اﷲ وإقام الصلاة وإیتاء الزکاة والحج وصوم رمضان 46
''اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا، زکاة ادا کرنا، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔''

سیدنا عمرو بن مرہ جہنیؓ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ قضاعہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں اس بات کی گواہی دوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپؐاللہ کے رسول ہیں ، پانچوں نمازیں پڑھوں ، زکوٰة اداکروں ، رمضان کے روزے رکھوں اور اس کاقیام کروں تو میراشمار کن لوگوں میں ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من الصدیقین والشھداء 47
رمضان المبارک کے روزے تمام روزوں سے افضل ہیں ۔سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أفضل الصیام بعد رمضان شھر اﷲ المحرم 48
''رمضان کے بعد سب مہینوں سے زیادہ فضیلت والے روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں ۔'' باقی سب سے افضل روزے تو ماہ رمضان ہی کے ہیں تاہم رمضان کے بعد سب مہینوں سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم الحرام کے ہیں ۔
ماہِ رمضان کے روزے اہل ایمان کی بخشش اورمغفرت کاذریعہ ہیں جیساکہ گذشتہ سطور میں حدیث گذر چکی ہے۔

قیام

ماہ رمضان میں کئے جانے والے خصوصی اعمال میں سے ایک عمل قیام رمضان بھی ہے، مگر یہ فرض تو نہیں تاہم انتہائی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر مسنون اورمستحب ہے- اس لیے اگر کوئی شخص اس سے غفلت برتے تو وہ بہت بڑے اجر و ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو اس کی بڑی ترغیب دلایا کرتے تھے چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ کابیان ہے کہ
کان رسول اﷲ!یرغب في قیام رمضان من غیر أن یأمرھم فیه بغریمة فیقول: من قام رمضان إیمانا واحتسابا غُفرله ماتقدم من ذنبه49
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے، بغیر اس کے کہ آپ واجبی طور پر اُنہیں حکم دیں ۔ آپؐ فرماتے جو کوئی ایمان کے ساتھ حصولِ ثواب کی نیت سے رمضان کاقیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔''

قیام رمضان کے حوالے سے چند اہم باتیں
قیام رمضان دراصل تہجد ہی کی نماز ہے جسے رمضان میں 'تراویح' کہاجاتا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
والتراویح جمع ترویحة وھي المرة الواحدة من الراحة کتسلیمة من السلام۔ سمیت الصلاة في الجماعة في لیالي رمضان التراویح لأنھم أوّل ماأجمعوا علیھا کانوا یستریحون بین کل تسلیمتین 50
''تراویح ترویحة کی جمع ہے جو راحت سے مشتق ہے یعنی آرام جیسے تسلیمة سلام سے مشتق ہے۔ رمضان کی راتوں میں جماعت سے (نفل)نماز اداکرنے کو تراویح کہاجاتاہے اس لیے کہ شروع میں لوگ ہردوسلام کے بعد کچھ دیر آرام کیاکرتے تھے۔''

یاد رہے کہ نمازِ تراویح کو قیام اللیل اور صلاة اللیل بھی کہاجاتا ہے جب کہ حقیقت میں یہ (قیامِ رمضان،تہجد، صلاة اللیل یا قیام اللیل وغیرہ) سب ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں ۔ تاہم غیر رمضان کی بہ نسبت رمضان المبارک میں اسے اداکرنے کی زیادہ تاکید اورفضیلت بیان کی گئی ہے۔

قیامِ رمضان یانمازِ تراویح کاوقت عشا کی نماز کے بعد سے لے کرفجر کی اذان تک رہتا ہے۔ اس دوران اسے کسی بھی وقت اداکیا جاسکتا ہے۔چنانچہ سیدہ عائشہ ؓ سے مروی ہے:
کان رسول اﷲ! یصلي فیما بین أن یفرغ من صلاة العشاء ــ وھي التي یدعوا الناس العتمة ــ إلی الفجر إحدی عشر رکعة یسلم بین کل رکعتین ویوتر بواحدة51
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ عشاء جسے لوگ عَتَمَة بولتے ہیں اورنمازِ فجر کے درمیان گیارہ رکعات ادا فرماتے۔ ہردورکعت کے بعد سلام پھیرتے اورایک رکعت وتر پڑھتے تھے۔''

وقت کی اسی وسعت اورگنجائش کی وجہ سے نمازِ تراویح کو عشاء کے فوراً بعد بھی پڑھ لیاجاتاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قیامِ رمضان کی فضیلت حاصل کرسکیں ۔ تاہم پھر بھی رات کے آخری حصے میں ادا کرنا زیادہ اجروثواب کا مستوجب ہے۔

سیدنا عبداللہ بن سلامؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
یٰأیھا الناس: أفشوا السلام وأطعموا الطعام وصلوا والناس نیام تدخلون الجنة بسلام 52
''اے لوگو! سلام عام کرو، کھاناکھلایا کرو، رات کو جب لوگ سورہے ہوں تو تم نماز پڑھا کرو، سلامتی کے ساتھ جنت میں چلے جاؤ گے۔''

اسی طرح سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رَحِم اﷲ رجلا قام من اللیل فصلی وأیقظ امرأته فصلت فإن أبت رَشَّ في وجھھا الماء۔ رحم اﷲ امراة قامت من اللیل فصلت وأیقظت زوجھا فصلی فإن أبٰی رشت في وجھه الماء 53
''اللہ تعالیٰ اس مرد پر رحم فرمائے جس نے رات کو اُٹھ کرنماز پڑھی اوراپنی بیوی کو جگایا پھر اس نے بھی نماز پڑھی۔ اگر اس کی بیوی نے جاگنے سے انکار کیاتو اس (مرد) نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر بھی رحم فرمائے جس نے رات کو اُٹھ کر نماز پڑھی اور اپنے خاوند کوجگایا تو اس نے بھی نماز پڑھی۔ اگر خاوند نے اُٹھنے سے انکار کردیاتو عورت نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔''

اسی طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ ''رات کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے انتہائی قریب ہوجاتے ہیں ۔اگر تم اس وقت اللہ کو یاد کرنے والوں میں شامل ہوسکو تو ہوجاؤ۔'' 54

نیز احادیث ِمبارکہ سے پتا چلتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر معمول رات کے آخری حصے میں ہی نماز پڑھنے کا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے اوّل حصے میں سوتے تھے اور آخری حصے میں نماز پڑھتے تھے۔55

یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کااکثر معمول تھا۔ ورنہ آپؐ نے رات کے سبھی حصوں میں نماز ادا کرے اُمت پر آسانی فرمائی ہے، جیسا کہ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات تہجد پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو ہم آپؐکو اس حالت میں دیکھ لیتے تھے اور اگر ہم آپؐکو سویا ہوا دیکھنا چاہتے تو دیکھ لیتے تھے۔ 56

سیدنا عمر بن خطابؓ نے اپنے دورِ خلافت میں جب اس نماز کی جماعت کا باقاعدہ اہتمام فرمایا تو ایک دن لوگوں کو رات کے اوّل حصے میں باجماعت تراویح ادا کرتے ہوئے دیکھ کر فرمایا:
والتي ینامون عنھا أفضل من التي یقومون یرید آخر اللیل وکان الناس یقومون أوّله۔57
''رات کاوہ حصہ جس میں یہ لوگ سوجاتے ہیں اس حصے سے بہتر اور افضل ہے جس میں یہ نماز پڑھتے ہیں ۔ حضرت عمرؓ کی مراد رات کے آخری حصے (کی فضیلت) سے تھی۔کیونکہ لوگ یہ نماز رات کے شروع ہی میں پڑھ لیتے تھے۔''

بہرحال نمازِ تراویح کا عشاء کے فوراً بعد پڑھ لینا جائز جب کہ دیر سے یعنی رات کے آخری حصے میں پڑھنا زیادہ فضیلت کاحامل ہے۔

c نمازِ تراویح باجماعت یا جماعت کے بغیراداکرنادونوں طرح جائز اور درست ہے۔ تاہم باجماعت ادا کرنے میں زیادہ فضیلت ہے۔ سیدنا ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرین درجة58
''باجماعت نماز اکیلے شخص کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔''

اس حدیث کے عموم میں نمازِ تراویح کی جماعت بھی شامل ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نمازِ تراویح کی جماعت کروائی ہے۔

چنانچہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات مسجد میں نمازِتراویح پڑھی لوگوں نے بھی آپؐ کی اقتداء میں پڑھی پھر دوسری رات جب آپؐنے پڑھی تو مقتدی زیادہ ہوگئے پھر تیسری رات بھی ایسے ہوا چوتھی رات جب لوگ (زیادہ) جمع ہوگئے تو آپ گھر سے تشریف ہی نہ لائے۔ جب صبح ہوئی تو نمازِ فجر ادا کرنے کے بعد آپؐ نے فرمایا:
أمابعد: فإنه لم یخفَ عليَّ مکانَکم ولکني خشیت أن تُفرض علیکم فتعجزواعنھا 59
''اما بعد! مجھے تمہارے یہاں جمع ہونے کا علم تھا لیکن مجھے خوف اس بات کا ہوا کہ یہ نماز تم پر فرض نہ کردی جائے اور پھر تم اس کی ادائیگی سے عاجز ہوجاؤ۔''

سنن ابوداؤد کی روایت میں ہے :
وذلك في رمضان

یعنی رمضان کی بات ہے۔60


سیدنا ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ نے ہمارے ساتھ کوئی قیام نہ کیا حتیٰ کہ مہینے میں ایک ہفتہ باقی رہ گیا تو آپ نے ہمیں قیام کروایا حتیٰ کہ تہائی رات ہوگئی۔ جب (آخر سے) چھٹی رات آئی تو آپ نے قیام نہ کرایا۔ جب پانچویں رات آئی تو ہمیں قیام کروایا حتیٰ کہ آدھی رات گزر گئی۔ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کاش ہمیں آپ بقیہ رات بھی اس کا قیام کروا دیتے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الرجل إذا صلی مع الإمام حتیٰ ینصرف حسب له قیام اللیل
''انسان جب امام کے ساتھ (باجماعت) نماز پڑھتا ہے اور اس کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ رہتا ہے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام شمار کیا جاتاہے۔''

جب چوتھی رات آئی تو آپ نے قیام نہ کروایا۔ جب تیسری رات آئی تو آپ نے اپنے اہل خانہ، خواتین اور دوسرے لوگوں کو جمع فرمایا اور ہمیں (اتنا لمبا) قیام کرایا کہ ہمیں فکر لاحق ہوئی کہ کہیں ہماری سحری نہ رہ جائے۔ 61

ان احادیث سے بصراحت واضح ہوگیا کہ نمازِ تراویح باجماعت ادا کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتوں میں مسجد آکر اجتماعی طور پرصحابہ کرامؓ کے ساتھ قیام کرکے ثابت فرما دیا کہ یہ مستحب و مسنون ہے۔بعدازاں اس ڈر سے کہ کہیں یہ نماز باجماعت ادا کرنے کی وجہ سے فرض نہ ہوجائے اور پھر اُمت اس کی ادائیگی سے عاجز ہوکر گناہ گار ہوجائے۔ لہٰذا اسے جماعت سے پڑھانا ترک کردیا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد ِمبارک، سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے عہد ِ خلافت اور سیدنا عمرؓ کے ابتدائی دور میں معاملہ اسی طرح رہا کہ کچھ لوگ باجماعت اور کچھ لوگ انفرادی طور پر اسے ادا کرتے تھے۔ تاآنکہ سیدنا عمرؓ نے تمام لوگوں کو ایک ہی امام کی اقتدا میں مستقل طور پر جمع فرما دیا۔

چنانچہ عبدالرحمن بن عبدالقاری بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا عمرؓ کے ساتھ رمضان کی ایک رات کو مسجد میں گیا۔ سب لوگ متفرق اور منتشر تھے۔ کوئی اکیلا نماز پڑھ رہا تھا اور کچھ لوگ کسی کے پیچھے کھڑے ہوئے (باجماعت پڑھ رہے)تھے۔ اس پر سیدنا عمرؓ نے فرمایا: میراخیال ہے کہ اگر تمام لوگوں کوایک ہی قاری کے پیچھے جمع کردوں تو زیادہ اچھا ہوگا۔ چنانچہ اُنہوں نے یہی ٹھان کر سیدنا اُبی بن کعبؓ کو ان سب کا امام بنا دیا۔ پھر ایک رات آپ نکلے دیکھا کہ لوگ اپنے امام کے پیچھے نماز تراویح (باجماعت) پڑھ رہے ہیں تو سیدنا عمرؓ نے فرمایا: یہ نیا طریقہ بہتر اور مناسب ہے۔ 62

یہاں سے یہ بھی ثابت ہوا کہ سیدنا عمرؓ کے لوگوں کو ایک امام کی اقتدا میں جمع کرنے سے پہلے بھی بعض لوگ نمازِ تراویح باجماعت ادا کیا کرتے تھے اور پھر یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد چونکہ فرضیت والاخطرہ باقی نہ رہا تھا۔ اس لیے صحابہ کرام نے پھر مستقل طور پرایک ہی امام کے پیچھے اسے باجماعت ادا کرنے کااہتمام کردیا۔ آج اگر کوئی سر پھرا اس عمل کوناجائز اور بدعت گردانے تو وہ بے علم، بے عمل اور مخالف ِصحابہ کرامؓ ہوگا کیونکہ اہل علم جانتے ہیں کہ اُمت میں آج تک کسی نے اسے بدعت نہیں کہا۔

جہاں تک رکعاتِ تراویح کی تعداد کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول وتر سمیت گیارہ رکعات ہی کا تھا۔ تاہم بسااوقات آپ تیرہ رکعات بھی ادا فرما لیا کرتے تھے۔ چنانچہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن راوی ہیں کہ اُنہوں نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں (رات کی) نماز کیسی ہوتی تھی؟ سیدہ عائشہؓ نے جواب دیا:
ما کان یزید في رمضان ولا في غیرہ علیٰ إحدی عشرة رکعة63
''رمضان ہوتا یا غیر رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔''

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے ہی مروی ہے:
إن رسول اﷲ ﷺ کان یصلي باللیل إحدی عشرة رکعة ویوتر منھا بواحدة... الخ 64
''بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو گیارہ رکعات ادا فرماتے جن میں سے ایک وتر ہوتا تھا۔''

سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں :
کان رسول اﷲ ﷺ یصلي من اللیل ثلاث عشرة رکعة یوتر من ذلك بخمس۔65
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تیرہ رکعات ادا فرماتے جن میں پانچ وتر ہوتے تھے۔''

¬سیدنا جابرؓ بیان کرتے ہیں :
صلّٰی بنا رسول اﷲ مسلم في رمضان ثمان رکعات والوتر 66
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان میں نماز پڑھائی ، آپؐ نے آٹھ رکعات اور وتر پڑھے۔''

¬اسی طرح سیدنا عمر بن خطابؓ نے سیدنا اُبی بن کعب اور تمیم داری کو حکم دیا کہ لوگوں کو نمازِ تراویح گیارہ رکعات پڑھائیں ۔ 67

¬ سیدنا اُبی بن کعب اور تمیم داری رمضان میں لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔68

¬معلوم ہوا کہ قیامِ رمضان یعنی تراویح کی مسنون تعداد وتر سمیت گیارہ ہے۔ اسی پر خلفاے راشدین اور دیگر صحابہ کرامؓ کا عمل تھا۔ امام مالک رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
الذي آخذ لنفسي في قیام رمضان ھوالذي جمع به عمر بن الخطاب الناس إحدی عشرة رکعة وھي صلاة رسول اﷲ ﷺ ولا أدري من أحدث ھذا الرکوع الکثیر69
''میں تو اپنے لیے گیارہ رکعات تراویح کا قائل ہوں ،اسی پر سیدنا عمر بن خطابؓ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی۔ میں نہیں جانتا کہ لوگوں نے یہ بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں ۔''

علامہ ابوبکر بن العربی فرماتے ہیں :
والصحیح أن یُصَلَّى إحدی عشرة رکعة صلاة النبي ﷺ وقیامه فأما غیر ذلك من الأعداد فلا أصل له70
''صحیح بات تو یہی ہے کہ (نمازِ تراویح) گیارہ رکعات ہی پڑھنی چاہئے۔ یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور قیام ہے۔ اس کے علاوہ جو اعداد ہیں تو ان کی کوئی اصل (کتاب و سنت میں )نہیں ۔''

آخری بات یہ ہے کہ کیا تراویح اور تہجد دو الگ نمازیں ہیں یا ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں ؟

اس سوال کا جواب آسان ہے کہ تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے دو مختلف نام ہیں ۔ عام دنوں میں جسے نمازِ تہجد کہا جاتا ہے، وہی رمضان میں نمازِ تراویح کہلاتی ہے۔

حافظ عبداللہ محدث روپڑی رحمة اللہ علیہ 'فتاویٰ اہل حدیث' میں فرماتے ہیں :
''تہجد اور تراویح ایک ہی ہے۔ مغایرتِ اسمی اس طرح کی ہے جیسے دریائے برہم پتر، سانپر، مینگھنا۔ یہ تینوں ایک دریا کے نام ہیں جوجھیل مانسرور کوہِ ہمالیہ کی جانب شمال سے نکلتا ہے۔ اسی طرح اٹک، سندھ وغیرہ دریا ایک ہی ہے جس علاقے سے گزرا اس کے نام سے موسوم ہوگیا، ٹھیک اسی طرح تراویح ہے۔ رمضان میں اسی تہجد کا نام تراویح رکھ دیا گیا۔ کیونکہ چار پڑھ کر ذرا ترویحہ کرتے یعنی ٹھہر جاتے ہیں پھر یہ نام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے زمانہ میں نہ تھا بلکہ اس کو اس وقت قیامِ رمضان کے نام سے موسوم کرتے تھے جو بالکل دریا کی مثالِ مذکور کے موافق ہے جہاں سے گزرا، وہاں کے نام سے موسوم ہوگیا۔'' 71
مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ فرمائیں : 'آپ کے مسائل اور اُن کا حل' از مولانا مبشرربانی :1؍302 تا 304

تلاوتِ قرآنِ کریم
ماہِ رمضان میں جن اعمال کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے، ان میں تلاوتِ قرآنِ مجید بھی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جہاں رمضان کے روزوں کی فرضیت ذکر کی وہاں اس کے ساتھ ہی ماہِ رمضان کی یہ خصوصیت بھی بیان فرمائی:
شَهْرُ‌ رَ‌مَضَانَ ٱلَّذِىٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلْقُرْ‌ءَانُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَـٰتٍ مِّنَ ٱلْهُدَىٰ وَٱلْفُرْ‌قَانِ ۚ...﴿١٨٥﴾...سورة البقرة
''ماہِ رمضان وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے باعث ِہدایت ہے اوراس میں ہدایت کی اور حق و باطل میں تمیز کی واضح دلیلیں ہیں ۔''

معلوم ہوا کہ قرآن اور رمضان کا بڑا گہرا تعلق ہے۔ اس لیے اس مہینے میں قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرنی چاہئے۔ سیدنا عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں :
وکان جبریل علیه السلام یلقاہ کل لیلة في رمضان حتی ینسلخ، یعرض علیه النبي ﷺ القرآن72
''جبریل ؑ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کی ہر رات کوملتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُنہیں قرآنِ مجید سناتے۔''

ایک روایت میں ہے :
وکان یلقاہ في لیلة من رمضان فیدارسه القرآن73
''جبریل امین ؑ رمضان المبارک میں ہر رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآنِ مجید کا دور کیا کرتے تھے۔''

مولانا داؤد راز دہلوی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں :
''یہ نزولِ قرآن لوحِ محفوظ سے بیت العزت میں سماء دنیا کی طرف تھا۔ پھر وہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نزول بھی رمضان شریف ہی میں شروع ہوا۔ اس لیے رمضان شریف قرآنِ کریم کے لیے سالانہ یادگارمہینہ قرار پایا اور اسی لیے اس ماہِ مبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور جبریل علیہ السلام قرآنِ مجید کا باقاعدہ دور فرمایا کرتے تھے۔'' 74

اِعتکاف

ماہِ رمضان کے خصوصی اعمال میں سے ایک اعتکاف بھی ہے۔ تمام دنیاوی مصروفیات ترک کرکے محض عبادت کی نیت سے مسجد میں آکرٹھہرنے کو 'اعتکاف' کہتے ہیں ۔ یہ مبارک عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ِمؤکدہ سے ثابت ہے۔کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مدنی زندگی میں ہر سال ماہ رمضان کا جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو مسجد میں آکر اعتکاف فرماتے۔ ایک سال کسی سفر کی وجہ سے یہ عمل چھوٹ گیاتو اگلے سال آپ نے بیس دن کااعتکاف کیا۔ چنانچہ سیدنا اُبی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا کرتے تھے۔ ایک سال آپ (آخری عشرے کے دوران) سفر میں تھے ، جب اگلا سال آیا توآپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔ 75

اسی طرح سیدہ عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیاکرتے تھے۔میں آپؐ کے لیے (مسجد میں ) ایک خیمہ لگا دیتی اور آپ صبح کی نماز پڑھ کر اس میں چلے جاتے۔پھر سیدہ حفصہؓ نے بھی سیدہ عائشہؓ سے خیمہ کھڑا کرنے کی اجازت چاہی تو اُنہوں نے دے دی اور اُنہوں نے ایک خیمہ کھڑا کرلیا۔ جب سیدہ زینبؓ بنت جحش نے دیکھا تو اُنہوں نے بھی اپنے لیے ایک خیمہ کھڑا کرلیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی خیمے دیکھے تو فرمایا: ما ھذا؟ ''یہ کیا ہے؟'' آپ کو ان کی حقیقت کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: البر ترون بِھنَّ ''کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ خیمے ثواب کی نیت سے کھڑے کئے گئے ہیں ؟'' پھر آپ نے اس مہینے (رمضان) کا اعتکاف چھوڑ دیااور شوال کے عشرے کا اعتکاف کیا۔ 76

اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رمضان کے اعتکاف کی قضا کسی دوسرے مہینے میں بھی دی جاسکتی ہے۔

سیدنا ابن عمرؓ فرماتے ہیں :
کان رسول اﷲ ﷺ یعتکف العشر الأواخر من رمضان77
''یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔''

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے:
أن النبي ﷺ کان یعتکف العشر الأواخر من رمضان حتی توفاہ ثم اعتکف أزواجه من بعدہ
''نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک مسلسل رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے رہے اور پھر آپ کے بعد آپ کی اَزواج اعتکاف کرتی رہیں ۔''

دیگر افعالِ خیر
ماہِ رمضان میں ان مذکورہ بالا اعمال کے علاوہ نیکی وخیر کے دیگر جتنے بھی کام ہیں ، ان سب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے، مثلاً صدقہ و خیرات، دعوت و تبلیغ، دعا و مناجات،ذکر و اذکار، توبہ و استغفار، تعلیم و تعلّم، صلہ رحمی وغیرہ یعنی خیر کے ان تمام کاموں کی طرف سبقت حاصل کرنی چاہئے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ
'' آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے کاموں میں سب سے زیادہ سخی تھے۔ یہ سخاوت ماہِ رمضان میں اس وقت اور بڑھ جاتی جب جبریل امین ؑ آپ سے ملاقات کرتے۔ اس وقت آپ تیز ہوا سے بھی زیادہ جلدی کرتے ہوئے خیر کے کاموں کی طرف سبقت لے جاتے تھے۔'' 78

مولانا داؤد راز رحمة اللہ علیہ دہلوی فرماتے ہیں :
'' جود کے معنی إعطاء ما ینبغي لمن ینبغي کے ہیں جوبہت زیادہ عموم لیے ہوئے ہے۔ پس جود (سخاوت) مال ہی پر موقوف نہیں بلکہ جوشے بھی جس کے لیے مناسب ہو، اسے دے دی جائے۔ اس لیے آپ 'اَجود الناس' تھے ۔ حاجت مندوں کے لیے مالی سخاوت، تشنگانِ علوم کے لیے علمی سخاوت، گمراہوں کے لیے فیوضِ روحانی کی سخاوت، الغرض آپ ہر لحاظ سے تمام بنی نوع انسان میں بہترین سخی تھے۔ آپ کی جملہ سخاوت کی تفصیلات کتب ِاحادیث و سیر میں منقول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جود و سخاوت کی تشبیہ بارش لانے والی (تیز) ہواؤں سے دی گئی ہے جوبہت ہی مناسب ہے۔بارانِ رحمت سے زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے۔ آپ کی جود و سخاوت سے بنی نوع انسان کی اُجڑی ہوئی دنیا آباد ہوگئی۔ ہر طرف ہدایات کے دریا بہنے لگے۔ خداشناسی اوراخلاقِ فاضلہ کے سمندرموجیں مارنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور روحانی کمالات سے ساری دنیاے انسانیت نے فیض حاصل کئے اور یہ مبارک سلسلہ تاقیامِ دنیا قائم رہے گا۔'' 79

گزشتہ سطور میں آپ حدیث ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ ماہِ رمضان کی ہر رات ایک اعلان کرنے والا اعلان کرتاہے :
یا طالب الخیر ھلمّ، و یا طالب الشر أمسك80
''اے خیر کے طالب! (خیر کی طرف) جلد آ، اے بُرائی کے طالب ! (بُرائی سے) رُک جا۔''

ماہِ رمضان کا آخری عشرہ
ویسے تو رمضان المبارک کا پورا مہینہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اوربرکتوں سے لبریز ہے۔ لیکن اس کے آخری دس دن تو بہت ہی زیادہ فضیلت کے حامل ہیں ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں عبادت کے لیے کمر کس لیتے تھے۔چنانچہ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں :
کان النبي ﷺ إذا دخل العشر شدَّ مئزرہ وأحیا لیله وأیقظ أھله
''جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کمر کس لیتے اور ان راتوں میں خود بھی جاگتے اور اپنے گھر والوں کوبھی جگایا کرتے تھے۔'' 81

کمر کس لینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس عشرے میں عبادتِ الٰہی کے لیے خاص محنت کرتے، خود جاگتے، گھر والوں کوجگاتے اور رات بھر عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سارا عمل تعلیم اُمت کے لیے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں فرمایا:
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَ‌سُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ...﴿٢١﴾...سورة الاحزاب
''اے ایمان والو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں ۔''

''ان کی اقتدا کرنا ہمارے لئے سعادت مندی ہے۔یوں تو ہمیشہ ہی عبادت الٰہی کرنا بڑا کار ثواب ہے لیکن رمضان کے آخری عشرہ میں عبادتِ الٰہی کرنا بہت ہی بڑا کارِ ثواب ہے۔لہٰذا ان ایام میں جس قدر بھی عبادت ہوسکے، غنیمت ہے۔''82

سیدہ عائشہؓ ہی سے مروی ہے کہ
کان رسول اﷲ! یجتهد في العشر الأواخر ما لا یجتهد في غیرہ
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں (عبادت میں ) اتنی محنت کرتے جتنی اور دنوں میں نہیں کرتے تھے۔''83

شب ِقدر
ماہِ رمضان کو بالعموم اور اس کے آخری عشرے کو بالخصوص چار چاند لگانے والی اصل چیز لیلة القدریعنی شب ِقدر ہے جسے قرآن میں لیلة مبارکة بھی کہا گیا ہے۔اس رات کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
حمٓ ﴿١﴾ وَٱلْكِتَـٰبِ ٱلْمُبِينِ ﴿٢﴾ إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةٍ مُّبَـٰرَ‌كَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِ‌ينَ ﴿٣﴾ فِيهَا يُفْرَ‌قُ كُلُّ أَمْرٍ‌ حَكِيمٍ ﴿٤﴾ أَمْرً‌ا مِّنْ عِندِنَآ ۚ إِنَّا كُنَّا مُرْ‌سِلِينَ ﴿٥...سورة الدخان
''حم، قسم ہے اس وضاحت والی کتاب کی۔ یقینا ہم نے اسے بابرکت رات میں اُتارا ہیــ۔ بے شک ہم ڈرانے والے ہیں ، اسی رات میں ہر ایک مضبوط کام کافیصلہ کیا جاتاہے۔ہمارے پاس سے حکم ہوکر، ہم ہی رسول بنا کر بھیجنے والے ہیں ۔''

ایک دوسرے مقام پر یوں ارشادفرمایا:
إِنَّآ أَنزَلْنَـٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ‌ ﴿١﴾ وَمَآ أَدْرَ‌ىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ‌ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ‌ خَيْرٌ‌مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ‌ۢ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ ٱلْمَلَـٰٓئِكَةُ وَٱلرُّ‌وحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَ‌بِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ‌ۢ ﴿٤﴾ سَلَـٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ‌ ﴿٥...سورہ القدر
''یقینا ہم نے ہی اسے یعنی قرآن کو شب ِقدر میں نازل فرمایا، تم کیا جانو کہ شب ِقدر کیاہے؟ شب ِقدر ایک ہزارمہینوں سے بہتر ہے۔ اس میں ہر کام کے سرانجام دینے کو اپنے ربّ کے حکم سے فرشتے اور روح (جبریل) اُترتے ہیں ۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک رہتی ہے۔''

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قام لیلة القدر إیمانا واحتسابا غفرله ما تقدم من ذنبه 84
''جس نے شب ِقدر میں حالت ِایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا، اس کے گذشتہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔''

لیلة القدر اپنی تمام تر عظمتوں اور فضیلتوں سمیت ہرسال ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں آتی ہے جیساکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
تَحرَّوا لیلة القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان 85
''شب ِقدر کوماہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔''

عبادہ بن صامتؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں شب ِقدر کی خبر دینے کے لیے تشریف لارہے تھے کہ دو مسلمان آپس میں کچھ جھگڑا کرنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خرجت لأخبر کم بلیلة القدر فتلاحی فلان وفلان فرفعت وعسیٰ أن یکون خیرًا لکم فالتمسوھا في التاسعة والسابعة والخامسة 86
''میں تمہیں شب ِقدر بتانے کے لیے نکلا تھا۔لیکن فلاں اور فلاں نے آپس میں جھگڑا کرلیاتو اس (شب ِقدر) کا علم واپس اُٹھا لیا اورامید یہی ہے کہ تمہارے حق میں یہی بہتر ہوگا۔لہٰذا اب تم اسے (رمضان کی) اکیسویں ، تیسویں اور پچیسویں رات میں تلاش کرو۔''

سیدنا ابوبکرؓ کے پاس شب ِقدر کا ذکر ہوا تو اُنہوں نے کہا: میں اسے کسی ایک رات میں تلاش نہیں کرتا۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ آخری عشرے میں ہے اور یہ بھی سنا:
التمسوھا في تسع یَبقین أو في سبع یبقین أو في خمس یبقین أو في ثلاث أو آخر لیلة 87
''جب نو، سات، پانچ یا تین یا آخری رات باقی رہ جائے تو اسے تلاش کرو۔''

سیدنا ابوبکرؓ رمضان کی پہلی بیس راتوں میں عام دنوں کی طرح (معمول کے مطابق) نماز پڑھتے لیکن جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔
معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرہ کی پانچ طاق (21،23، 25،29) راتوں میں سے کوئی ایک رات قدر والی ہے۔ ان مختلف احادیث کی بنا پر کسی ایک رات کو متعین نہیں کیاجاسکتا۔ عین ممکن ہے کہ یہ ان پانچ طاق راتوں میں ہرسال بدل بدل کر آتی ہو۔

حافظ ابن حجر رحمة اللہ علیہ نے اس رات کی تعین کے متعلق چھیالیس مختلف اقوال بیان کئے ہیں ۔ پھر آخر میں اپنافاضلانہ فیصلہ ان الفاظ میں دیتے ہیں :

وأرجحھا کلھا أنھا في وتر من العشر الأخر وأنھا تنتقل کما یُفھم من أحادیث الباب88
''ان سب اقوال میں میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ شب ِمبارک رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں ہوتی ہے اور یہ ہرسال منتقل ہوتی (بدلتی) رہتی ہے جیسا کہ اس موضوع کی احادیث سے عیاں ہے۔''

بہرحال ماہِ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات قدر والی ہے جس کی تعیین نہیں کی جاسکتی، اس لیے ہمیں ان پانچ راتوں میں خوب عبادت کرنی چاہئے تاکہ اس کی فضیلت حاصل کی جاسکے۔

شب ِقدر کی علامات
شب ِقدر میں جب چاند نکلتا ہے تو ایسے ہوتا ہے جیسے بڑے تھال کاکنارہ۔ 89


شب ِقدر ایک خوشگوار رات ہے جس میں نہ گرمی ہوتی ہے اور نہ سردی۔ اس صبح کاسورج اس طرح طلوع ہوتا ہے کہ اس کی سرخی مدھم ہوتی ہے۔90

شب ِقدر کی صبح سورج یوں طلوع ہوتا ہے کہ اس کی شعاعیں نہیں ہوتیں ۔ 91

شب ِقدر کی دعا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب ِقدر کی عظمت و فضیلت کے باعث اس رات کے لیے اپنی اُمت کو ایک نہایت ہی جامع و مانع دعاسکھلائی گو کہ اس رات بھی آدمی حسب ِمعمول جو دعا چاہے مانگ سکتا ہے۔ تاہم اس رات کو جو خاص دعا ہے، اسے ضرور مانگناچاہئے اور وہ دعا یہ ہے :
اللھم إنك عفو کریم تحبُّ العفو فاعف عني
''اے اللہ بے شک آپ معاف کرنے والے کرم فرمانے والے ہیں ، معافی کو پسند فرماتے ہیں لہٰذا مجھے معاف فرما دیں ۔''92

انوکھی منطق؟
فرقہ بریلویہ سے تعلق رکھنے والا طاہر القادری اپنی کتاب ''میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم '' صفحہ 36 پر لکھتا ہے کہ شب میلاد لیلة القدر سے بھی افضل ہے۔


اسی طرح آگے چل کرصفحہ 191 پر لکھتا ہے: پس اگر کہا جائے کہ شب میلاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شب قدر سے بھی افضل ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ باری تعالیٰ نے لیلة القدر کو ہزارمہینوں سے افضل قرار دے کر اس کی فضیلت کی حد مقرر فرمادی جبکہ شب میلادرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت حد ادراک سے ماورا ہے۔

قارئین کرام! غور کریں ایک طرف قرآن مجید جو لاریب کتاب ہے جبکہ دوسری طرف نام نہاد شیخ الاسلام قادری صاحب کی یہ انوکھی منطق جو نص کے صریحاً خلاف ہے۔ حالانکہ ہمارے لیے دین وہی ہے جومنزل من اللہ ہے ہمیں اپنی طرف سے اضافہ کرنے کاکوئی اختیارنہیں اورنہ ہی اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاة والسلام کو یہ اختیار تفویض فرمایا کہ وہ اپنی مرضی سے جو چاہیں دین میں اضافہ کرتے جائیں ۔

ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آج سے چودہ سو سال قبل اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر جو دین نازل کیاتھا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے من و عن اُمت تک پہنچا دیا ہے۔الحمداﷲ۔

آج یہ دین کتاب وسنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے لہٰذا یہ بات ہمیشہ ذہن میں ہونی چاہئے کہ جب تک کوئی نص قطعی موجود نہ ہو کسی دن یارات یا کسی اور کو افضل یا غیرافضل قرار نہیں دیاجاسکتا۔اگر واقعی شب میلاد ، شب قدر سے افضل ہے تو یہ بات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں نہ بتائی؟ یا اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کاعلم تھاتو آپ نے اس سے اُمت کو آگاہ کیوں نہ کیا؟

اگر اللہ نے یہ بات اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں بتائی اورنہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کے متعلق کچھ فرمایا ہے تو خدارا قادری صاحب کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک ایسی بات کریں جوقرآن و حدیث کے بالکل خلاف ہو۔ کیا یہ قرآن و حدیث کی گستاخی نہیں ؟ کوئی ہے یہ قادری صاحب سے پوچھنے والا؟ ہمیں مجبوراً یہ کہنا پڑ رہاہے کہ موصوف قادری کی یہ حرکت بالکل پادریوں والی ہے۔

اگر شب میلاد شب قدر سے افضل ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم ولادت میں اتنا اختلاف کیوں ہے؟ سب جانتے ہیں کہ شب قدر رمضان المبارک کی اکیسویں ، تیسویں ، پچیسویں ، ستائیسویں یاانتیسویں رات ہے بلکہ فرقہ بریلوی نے ستائیسویں شب ہی کو لیلة القدر قرار دے رکھا ہے۔ کیا موصوف شب میلاد کے متعلق بھی کوئی اس قسم کا حتمی دعویٰ کرسکتے ہیں ؟

اگر شب میلاد لیلة القدر سے افضل ہے تو اس کی تعین کے متعلق سکوت کیوں ؟ صحابہ کرامؓ نے کیوں نہ پوچھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ کیوں نہ بتایا۔؟

اگر شب میلاد شب قدر سے افضل ہے تو قرآن نے شب قدر کے متعلق وما ادرک مالیلة القدرکیوں کہا؟ بلکہ پوری سورت شب قدر کی فضیلت میں نازل فرمادی۔ کیا شب میلاد کے متعلق بھی اس طرح کی کوئی تحصیر یاسورت ملتی ہے؟ یااس کی فضیلت میں کوئی صحیح روایت ہے؟ ہرگز نہیں ۔

خلاصہ یہ کہ طاہر القادری کا یہ کہنا کہ شب میلاد لیلة القدر سے افضل ہے سراسر قرآنی نص کے خلاف ہے۔قرآن و حدیث کے مخالف ہونے کی بنا پر مردود ہے، مردود ہے ، مردود ہے۔

صدقہ فطر
صدقہ فطر کوزکوٰة فطر ، زکوٰة صوم، زکوٰة رمضان، صدقہ رمضان اور صدقہ صوم بھی کہا جاتاہے۔ اس سے مراد وہ صدقہ ہے جوماہ رمضان کے اختتام پر روزوں کے مکمل ہونے کی خوشی اور ان میں ہوجانے والی کمی کوتاہی کے پیش نظر دیا جاتاہے تاکہ یہ گناہوں کاکفارہ بن جائے اورمحتاجوں کے لیے عید کی خوشیوں میں شمولیت کاذریعہ بن جائے۔

راجح یہی ہے کہ صدقہ فطر جنس خوراک میں سے ایک صالح مرد، عورت، چھوٹے بڑے، آزاد غلام ہر مسلمان پرفرض ہے۔چنانچہ سیدنا ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں :
أن رسول اﷲ! فرض زکوٰة الفطر من رمضان علی الناس صاعا من تمر او صاعا من شعیرعلی کل حر او عبد ذکر او أنثی من المسلمین۔  93
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا جو، آزاد،غلام، مرد، عورت ہرمسلمان پر فرض کیاہے۔''

دوسری روایت میں یوں ہے:
فرض النبي! صدقة رمضان علی الحر والعبد والذکر والأنثی صاعا من تمر اوصاعا من شعیر 94
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کاصدقہ ہر آزاد، غلام، مرد اور عورت پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، کافرض کیا ہے۔''

صدقہ فطر رمضان المبارک کے اختتام پر اورنماز عید کی ادائیگی سے پہلے پہلے ادا کردینا چاہئے۔یہ ہیں رمضان المبارک کے خصوصی اعمال، اللہ تعالی ہم مسلمانوں کو عمل کی توفیق دے۔ آمین


حوالہ جات
1. مفردات القرآن: 1؍415
2. القاموس الوحید، المنجد، مصباح اللغات، المعجم الوسیط،مادہ: رم ض
3. مسلم ، کتاب صلاة المسافرین، رقم: 1746
4. تاج العروس
5. سنن نسائی :2408، قاله الألباني: صحیح
6. سنن نسائی :2106 قاله الألباني: صحیح
7. سنن ابن ماجہ:1683 قاله الألباني: صحیح
8. سنن ابن ماجہ:3؍192 رقم 1887 ضعیف
9. فتح الباری:7؍133
10. فتح الباری:4/146
11. غنیة الطالبین:1/480
12. ایضاً
13. غنیة الطالبین:1/480، تفسیر قرطبی:2/286، فتح الباری:4/146
14. السلسلہ الضعیفة والموضوعة، رقم:3223
15. غنیة الطالبین:1/481، تفسیر قرطبی: 2/286
16. غنیة الطالبین:1/481
17. تفسیرقرطبی:2/268
18. القاموس المحیط:2/190، لسان العرب :7/160، زاد المسیر :1/143
19. الکامل لابن عدی:7/53
20. توفیق الباری:3/63
21. الموضوعات:2/187
22. تذکرة الموضوعات:1/70
23. شرح صحیح بخاری:3/173
24. سنن نسائی :2106 صحیح
25. صحیح بخاری:1923
26. سنن ابوداؤد:2344صحیح
27. سنن ترمذی:658 صحیح
28. صحیح مسلم:1256
29. سنن ابن ماجہ: 2991، 2993، 2995 صحیح
30. فتح الباری :3؍763
31. صحیح بخاری:1901
32. صحیح مسلم: 759
33. مستدرک حاکم:4؍154، وقال صحیح الإسناد ووافقه الذهبي
34. صحیح مسلم :233
35. سنن ابن ماجہ :1643
36. مسند احمد:5؍256
37. سنن ابن ماجہ :1642
38. الترغیب و الترهیب، کتاب الصوم:1473
39. جامع ترمذی :3598 وقال:حسن
40. سنن ابن ماجہ، رقم 1753
41. صحیح بخاری :3277
42. صحیح مسلم :1079
43. النسائی رقم 2108
44. سنن نسائی: 2090 صحیح
45. سنن نسائی: 2091، 2092 صحیح
46. صحیح بخاری :8
47. صحیح ابن حبان: رقم 3429 صحیح
48. صحیح مسلم:1163
49. صحیح مسلم:859
50. فتح الباری: 4؍317
51. صحیح مسلم: کتاب صلاة المسافرین، باب صلاة اللیل، رقم :736
52. جامع ترمذی:2485 وقالہ صحیح
53. سنن ابن ماجہ:1336 'حسن
54. جامع ترمذی، کتاب الدعوات، رقم:3579، وقاله :حسن صحیح
55. صحیح بخاری، رقم :1146
56. صحیح بخاری:1141
57. صحیح بخاری،کتاب صلاة التراویح، باب فضل من قام رمضان، رقم:2010
58. صحیح بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة، رقم:645
59. بخاری، کتاب صلاة التراویح، باب فضل من قام رمضان، رقم:2012
60. ابوداؤد رقم1373
61. سنن ابوداؤد :1375 صحیح
62. صحیح بخاری، رقم:2010
63. صحیح بخاری، کتاب التراویح، باب فضل من قام رمضان، رقم:2013
64. صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب صلاة اللیل، رقم :736
65. ایضاً، رقم:737
66. صحیح ابن خزیمہ:2؍138، رقم:1070 و سندہ حسن
67. موطا امام مالک، کتاب صلاة اللیل، رقم:249 سندہ صحیح
68. مصنف ابن أبي شیبة:2؍392 دوسرا نسخہ:5؍220 سندہ صحیح
69. کتاب التهجد، ص:176 دوسرا نسخہ، ص:287
70. عارضة الاحوذی شرح جامع ترمذی :4؍19
71. (1؍639)
72. صحیح بخاری، کتاب الصوم، رقم:1902
73. صحیح بخاری، بدء الوحی، رقم:6
74. صحیح بخاری مترجم:3؍161
75. سنن ابن ماجہ،کتاب الصیام، رقم:1770؛ سنن ابوداؤد، رقم:2463 'صحیح
76. صحیح بخاری،کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف النساء، رقم :2033
77. صحیح بخاری :2025
78. بخاری: رقم6
79. صحیح بخاری مترجم:3؍161،162
80. سنن نسائی، رقم:2108
81. صحیح بخاری، کتاب لیلة القدر، رقم:2024
82. بخاری مترجم داؤد راز:3؍251
83. صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، رقم:2275
84. صحیح بخاری:35
85. بخاری :2117
86. ایضاً، :2023
87. جامع ترمذی،کتاب الصوم، رقم:794 و قاله :حسن صحیح
88. فتح الباری:4؍338
89. صحیح مسلم: 1170
90. ابن خزیمہ:3؍331 'حسن
91. مسلم:762
92. جامع ترمذی:3513، وقاله: حدیث حسن صحیح
93. مسلم، کتاب الزکاة، باب زکاة الفطر علی المسلمین...،رقم:984
94. ایضا