میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

موجودہ دور میڈیا کا دور ہے۔ غو رکیاجائے تو محسوس ہوگا کہ مغرب محض مؤثر اور طاقتور میڈیا کے ذریعے ہی ہمارے ذہنوں پر حکومت کررہاہے۔یہاں ہم سے مراد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسے وہ ممالک بھی اس میں شامل ہیں جہاں سیاسی شعور کافقدان ہے۔ جہالت عروج پر ہے اور مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ہرقسم کی رہنمائی کے لیے مغرب کی جانب دیکھتاہے۔

یہ ہمارے پڑھے لکھے طبقے کااحساسِ کمتری ہے کہ وہ مغرب کے ایجادکردہ ہرلفظ، اِصطلاح اور محاورے کو یوں قبول کرلیتا ہے جیسے یہ اِلہامی بات اور مقدس لفظ ہو۔ چنانچہ اس طرح مغرب میڈیانت نئے شوشے چھوڑتا رہتا ہے جن کا مقصد ہماری سوچ کو متاثر کرنا اور ہماری فکر کو ایک خاص رُخ پر ڈالنا ہوتاہے۔یادرکھئے کہ یہ دور جسمانی غلامی کا نہیں بلکہ ذہنی غلامی کاہے۔ ماضی میں جب ضعیف قوموں کو غلام اور کمزور ملکوں کو تجارتی مقاصد کے لیے کالونی بنایا جاتاتھا تو مغربی ممالک نے پسماندہ اقوام کی ایک بڑی تعداد کو اپنا غلام بنارکھا تھا۔ اس دور میں انسانی حقوق کاکہیں ذکر نہیں تھا، کیونکہ انسانی حقوق کا فلسفہ نہ صرف مغربی استعمار کے مفادات کے منافی تھا بلکہ مغربی استعمار کی نفی بھی کرتاتھا، اس طرح مغربی ممالک کئی صدیوں تک پسماندہ ممالک کو اپنی کالونیاں بناکران کے مالی وشخصی وسائل کو اپنی صنعتی و تجارتی ترقی کے لیے استعمال کرتے رہے۔ اگر آپ لندن، پیرس اور روم جیسے خوبصورت شہروں کی بڑی بڑی شاہراہوں ، عمارتوں اور صنعتی مراکز کی بنیادوں میں جھانکیں تو ان میں سے آپ کو اپنے بزرگوں کے محنت ،خون پسینے کی خوشبو آئے گی اور وہاں ہماری سرزمینوں کا مال ہتھیا کر صرف کیا گیا ہوگا۔

جب ان استعماری قوتوں کو آزادی کی تحریکوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر غلام ممالک سے رخصت ہوناپڑا تو اس کے ساتھ ہی اُنہیں جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کاخیال آیا۔ چنانچہ انسانی حقوق کے دفاع کے لیے عالمی سطح پر انجمنیں بنائی گئیں ۔ کل تک انسانوں کو حیوانوں سے کم تر سمجھنے والے چند ہی برسوں میں انسانی حقوق کے ٹھیکے دار بن گئے۔ گویا پرانا شکاری نیا جال لے کر آیا۔یہ درست کہ اس وقت بعض ممالک میں یہ انجمنیں مفیدکام بھی کررہی ہیں ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جن ممالک میں اولادِ آدم کو مغربی اقوام کی ملی بھگت سے کچلاجارہا ہے وہاں بھی انسانی حقوق کی انجمنیں موجود ہیں جو بے کار اور غیر مؤثر ہیں ۔

گذشتہ چند برسوں سے اولادِ آدم کے انسانی حقوق کی حفاظت کی اجارہ داری امریکہ بہادر کے پاس ہے۔ ادھرمغربی میڈیا نے انسانی حقوق کو ایک آئیڈیالوجی بلکہ مذہب کادرجہ دے دیا ہے، اس سے امریکہ کو یہ استحقاق حاصل ہوگیا ہے کہ جہاں انسانی حقوق پر زد پڑتی ہو وہ کسی بھی ایسے ملک کے اندرونی معاملات میں دخل دے سکتاہے۔ بلکہ اسے دہشت گرد قراردے کر سزا کا حق دار ٹھہرا سکتاہے، کس ملک میں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں ؟ اس کافیصلہ بھی امریکہ ہی کرے گا۔ چنانچہ امریکہ عراق پربمباری کرکے سینکڑوں معصوم شہریوں کو موت کی نیند سلا دے تو وہ انسانی حقوق کے حوالے سے درست اقدام قرار دیا جاتا ہے، لیکن بوسنیا میں ہزاروں معصوم مسلمان سربیائی ظلم کی بھینٹ چڑھ جائیں تو امریکہ کے ضمیرمیں خلش تک نہیں ہوتی ،کیونکہ بوسنیا مسلمان ملک ہے۔ اس طرح پاکستان اگر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی اخلاقی امداد کرے تو وہ سزا کامستحق ہے، لیکن بھارت اگر ہزاروں مسلمانوں کو گولی کا نشانہ بنادے تو اس سے چشم پوشی برتی جائے گی۔

انسانی حقوق کے حوالے سے مجھے ایک دلچسپ واقعہ یادآیا ، ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ کسی بین الاقوامی سیمینار کے ضمن میں مجھے امریکی ساحلی شہر سان فرانسسکو جانے کا موقع ملا۔ اس سیمینارمیں ایشیائی ممالک کے سکالرز کے علاوہ مختلف امریکی یونیورسٹیوں سے بھی ممتاز پروفیسرز صاحبان بلائے گئے تھے۔ سیمینار کے آغاز سے ایک روز قبل میں نے ٹیلی ویژن آن کیا تو ایک دلچسپ خبر مع تبصرہ سننے کو ملی۔کیلیفورنیا کی ریاست میں جنگلات کے وسیع ذخیرے پائے جاتے ہیں ،کیونکہ وہاں عمارات کی تعمیر میں لکڑی بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے، اس لیے سال بھر ان جنگلوں کی کٹائی کا عمل جاری رہتا ہے۔ خبر یہ تھی کہ کٹائی کے دوران ماہرین جنگلات کو اچانک یہ پتہ چلا کہ اس جنگل میں ایک اُلّو صاحب نے مستقل اپنا گھر بنارکھا ہے اور جب سے درختوں کی کٹائی کا سلسلہ شروع ہوا ہے ۔ اُلّو صاحب اداس رہنے لگے ہیں ۔اُلّو کی اداسی کی خبر سے اس علاقے میں احتجاج ہوا اور کیلیفورنیا کی حکومت نے جنگل کی کٹائی روک دی جس سے لکڑی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا اور گھروں کی تعمیر قدرے مہنگی ہوگئی۔ میں نے یہ خبر اور اس پرتبصرہ ٹیلی ویژن پر سنا اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

اگلے دن سیمینار کے دوران چائے کاوقفہ ہوا تو میں نے ممتاز امریکی پروفیسر صاحبان سے اس خبر کا تذکرہ کیا۔ وہ پہلے ہی اس سے آگاہ تھے، لیکن میرے ذکر کرنے پران کے چہرے خوشی سے گلاب کی مانند کھل گئے۔ اس صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں نے یہ سوال داغ دیا کہ ''آپ نے ایک پرندے کی اُداسی کی خاطر جنگل کی کٹائی روک کر لکڑی کی قیمت میں اضافہ برداشت کرلیا، لیکن کچھ عرصہ قبل جب عراق کے معصوم شہریوں پر بموں کی بارش کی جارہی تھی تو آپ کیوں خاموش رہے؟ کیا آپ کو ایک جانور کسی مسلمان کی زندگی سے زیادہ عزیز ہے؟ میرے اس سوال سے ان کے چہرے کے رنگ اُڑ گئے۔ اس واقعے سے آپ امریکہ کی انسانی حقوق سے کمٹمنٹ کااندازہ لگا سکتے ہیں ۔

بات یہاں سے چلی تھی کہ آج کا دور میڈیا کا دور ہے۔میڈیا بدقسمتی سے یہودیوں کے قبضے میں ہے اور یہودیوں کانشانہ بہرحال اسلام اور مسلمان ہیں ۔ اب جب کہ مغربی ممالک غیر ترقی یافتہ ممالک سے بوریا بستر لپیٹ کررخصت ہوچکے ہیں تو اُنہوں نے ان ممالک پر حکمرانی کا ایک نیا طریقہ وضع کیا ہے اور وہ طریقہ ہے: میڈیا کے زور پر ذہنوں پر حکومت کرنا۔ نصف صدی قبل جسمانی غلامی بھی ہمارا مقدر تھی اور اب ذہنی غلامی ہماری قسمت کا حصہ ہے۔ سوچئے تو سہی کہ اس کی وجوہات کیا ہیں ؟

اسی پس منظر میں مغربی میڈیا جب چاہتا ہے کوئی نئی اصطلاح اور کوئی نیا شوشہ چھوڑ دیتا ہے۔ دنیا کے بہترین رسائل جن میں ادبی، تحقیقی اور سیاسی پرچے شامل ہیں ، مغربی ممالک سے شائع ہوکر ساری دنیا میں پھیل جاتے ہیں ۔ ان رسائل میں اکثر اوقات ایک خاص نقطۂ نظر پیش کیا جاتاہے جو مغربی دنیا کے مفادات کے عین مطابق ہوتاہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی شہرت کے رسالے ٹائم، اکانومسٹ اورنیوزویک پر یہودی لابی غالب ہے۔ یہ رسالے ہر ہفتے بین الاقوامی سیاست پرتبصرے کرتے اورتجزیے شائع کرتے ہیں جنہیں ہم من و عن مقدس تحریر سمجھ کر یوں قبول کرلیتے ہیں کہ ان کے سیاق و سباق پر غور ہی نہیں کرتے۔ پھر ہرمحفل میں ان تبصروں کو ٹائم اور نیوز ویک کے حوالے سے حرفِ آخر سمجھ کرقبول کرلیتے ہیں ۔ ہم نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارانہیں کی کہ عراق ہو، ایران ہو، بوسنیا ہو یا کشمیر۔ یہ رسائل اپنے تجزیوں میں ڈنڈی ضرور ماریں گے اور کسی نہ کسی طرح اسلام اور مسلمان سے اس طرح چٹکی ضرور لیں گے کہ قاری کو محسوس بھی نہ ہو اور الفاظ اپنا کام کرجائیں ۔ عراق، کویت جنگ اور انقلابِ ایران کے دوران ان رسائل نے اپنا بھرپور کردار ادا کیااور عالمی رائے عامہ کو اپنی ضروریات کے سانچے میں ڈھالا۔ صرف میڈیا ہی کاکمال ہے کہ کوئی بھی اسلامی ملک اپنے موقف میں کتناہی حق بجانب کیوں نہ ہو، عالمی سطح پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پرمجبور ہوجاتاہے اور وہ سربراہانِ حکومت جو مغربی مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں ، اُنہیں تمسخر کانشانہ بنا دیاجاتاہے۔غور کیجئے تو محسوس ہوتا کہ یہ ایک طرح سے ہماری غلامانہ ذہنیت کی علامت ہے۔

کبھی کبھی یوں بھی ہوا ہے کہ جب کسی ناقابل قبول حکمران کو بدلنا مقصود ہوتا ہے تو میڈیا سے ہراول دستے کا کام لیا جاتا ہے، وہ اس طرح کہ مغربی میڈیا بڑی طاقتوں کی خفیہ ایجنسیوں کی ملی بھگت سے ایسے حکمرانوں کی ذاتی زندگی اور قومی کردار کے بارے میں من گھڑت کہانیاں شائع کرتاہے اور آزادیٔ اظہار کے نام پر ان شخصیات کی اس طرح کردار کشی کی جاتی ہے کہ نہ صرف عالمی سطح پر ان کا امیج خراب ہوتا ہے بلکہ خود ان ممالک کے عوام بھی اپنے حکمرانوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں ۔ آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا کہ بڑی طاقتوں کے ذریعے 'ناپسندیدہ حکمرانوں ' کے بارے میں عجیب و غریب خفیہ داستانیں پھیلائی جاتی ہیں جبکہ اپنے حواری اور پسندیدہ حکمرانوں کی ایسی حرکات چھپائی جاتی ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں میڈیا کا کردار فیصلہ کن حیثیت اختیار کرگیا ہے اور جو مقاصد ماضی میں فوجی یلغار سے حاصل کئے جاتے تھے، وہ مقاصد اب میڈیا کی یلغار سے حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔

مغربی میڈیا کی مہربانی سے ایک مردہ اصطلاح میں جان ڈال دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک متروک اصطلاح پوری دنیا میں مقبول ہوگئی۔وہ اصطلاح ہے "Fundamentalism" یعنی بنیاد پرستی۔امریکہ اور انگلینڈ میں شائع شدہ انگریزی لغات (Dictionaries) کے مطابق "Fundamentalism"کامطلب ہے ''عیسائیت کے پرانے اعتقادات پر یقین رکھنا''، ''موجودہ عیسائیت جو سائنس سے متاثر ہے، اس کے مقابلے میں پرانی تعلیمات کو اور Bible انجیل کے اصل الفاظ کو ماننا۔'' عیسائیت مںن تو بنیاد پرستی کی مذمت سمجھ میں آتی ہے کیونکہ عیسائیت میں وقت کے ساتھ ساتھ خاصی تبدیلی آئی ہے بلکہ خود بائبل بھی اصلی حالت میں موجود نہیں رہی، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جس زبان (Language) میں بائبل نازل ہوئی تھی، وہ زبان بھی آج ختم ہوچکی ہے۔ اس کی دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ تمام الہامی کتابوں کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود نہیں لی، سوائے قرآن مجید کے!

لیکن جہاں تک اسلام کا تعلق ہے ہمارا ایمان ہے کہ اسلام بدلا ہے نہ قرآن اور نہ ہی قیامت تک بدلے گا۔اسلام کے بنیادی عقائد وہی ہیں جو ہمارے نبی1 نے بتائے تھے۔ اگرچہ اسلام میں مذہبی فرقوں کی کمی نہیں ، لیکن اختلافات تفصیلات پر ہیں نہ کہ بنیادی عقائد پر۔ چنانچہ اسلام میں دراصل بنیاد پرستی کاتصور اس طرح موجود نہیں جس طرح عیسائیت میں ہے لیکن مغربی میڈیا نے اسلام میں بنیاد پرستی کی اصطلاح ایجاد کرکے ان مسلمانوں کو نفرت اور تضحیک کانشانہ بنایا ہے جو عملاً مسلمان ہیں ۔

میرے نزدیک اسلام میں بنیاد پرستی کا مطلب اسلام کے بنیادی عقائد پر عمل کرنا ہے یعنی ہر وہ مسلمان جو نماز پڑھتا، روزے رکھتا اور زکوٰۃ اداکرتا ہے، اسے مغربی میڈیا بنیاد پرست کہے گا۔ ہمارے ایک بزرگ فرمایا کرتے تھے کہ ''اگر مسلمان نماز پڑھتا ہے تو وہ بنیاد پرست ہے، لیکن اگر وہ تہجد پڑھتا ہے تو پھر وہ بہرصورت دہشت گرد ہے۔''

کیاآپ نے کبھی غورکیاکہ یہ اصطلاح چند برس قبل افغانستان کی جنگ کے حوالے سے استعمال ہونی شروع ہوئی اور چند ہی برسوں میں اس نے دنیاے اسلام کو معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا؟ مغربی میڈیا نے نہایت ہوشیاری سے بنیاد پرستی کامطلب جاہل، ترقی دشمن، دہشت گرد، دقیانوسی اور کٹر نظریات کے حامل کے طور پر پیش کیا بلکہ اس قدراس کاشور مچایا کہ ہر مسلمان ہاتھ باندھ کر کہنے لگا کہ حضور میں بنیادپرست نہیں ہوں حالانکہ بنیاد پرستی کامطلب فقط اسلام کے بنیادی عقائد پر عمل کرنا ہے اور اس کا مطلب ہر گز دہشت گردی یا دقیانوسی نہیں ۔چنانچہ اب جب بھی کوئی مغربی صحافی اسلامی ممالک میں جاتا ہے اور سربراہانِ حکومت یا دوسری اہم ملکی شخصیات سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ کیا آپ بنیادپرست ہیں تو جواب ملتا ہے کہ ہم بالکل بنیادپرست نہیں ، ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم اسلام کے بنیادی اراکین پر یقین رکھتے ہیں نہ عمل کرتے ہیں ۔

خود مغربی میڈیا بنیاد پرستی کالیبل لگانے میں کس قدر انصاف سے کام لیتا ہے، اس کااندازہ صرف اس ایک مثال سے لگائیے کہ جب تک گلبدین حکمت یار افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف لڑ رہے تھے، جس سے امریکی مفادات حاصل نہ ہوتے تھے تو وہ جنگ آزادی کا ہیرو تھا،لیکن جب روس کی شکست کے بعد اس نے امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہو کر چلنے سے انکار کیا تو مغربی میڈیا نے اسے 'بنیاد پرست' کہہ کر مسترد کردیا۔ گویا مغربی ممالک اپنے میڈیا کو ایک طرح سے ہتھیار کے طور پر استعمال کررہے ہیں جو ایٹم بم سے کم خطرناک نہیں ہے۔

مغربی میڈیا نے اسلامی بنیاد پرستی کے تصور کوجس طرح مسخ کیا ہے اور اس کامفہوم بدل کر دنیائے اسلام کو معذرت خواہانہ انداز اپنانے پر مجبور کر دیا ہے موجودہ حالات سے ظاہر وباہر ہے۔ میڈیا کس طرح اسلامی بنیاد پرستی کاحلیہ بگاڑ رہاہے۔اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اخبارات کے مطابق کہا جارہا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی وجہ اسلامی بنیاد پرستی کابڑھتا ہوا رجحان ہے۔ اسلامی سزاؤں کو 'ظالمانہ سزائیں ' کہاجارہا ہے، پردے کے احکامات کا میڈیا پرسرعام مذاق اڑایا جارہا ہے، جہاد کو دہشت گردی کانام دیاجارہاہے۔افسوس کامقام ہے کہ مغربی میڈیا جو کر رہاہے ، سو کررہاہے، ہمارااپنا میڈیابھی کسی سے کم نہیں جو آج تک جہاد اور دہشت گردی میں فرق نہیں سمجھ سکا۔

دہشت گردی ہمسایہ ملک میں ہوتی ہے، پابندی یہاں مذہبی جماعتوں پر لگتی ہے اور وہ بھی بغیر ثبوت کے۔ ہمارا اپنا میڈیا جہاد، دہشت گردی، پردے کے احکامات، اسلامی سزاؤں کے قوانین اورخواتین کے حقوق کے بارے میں جوپراپیگنڈہ کررہا ہے، وہ بھی کوئی قابل ستائش نہیں بلکہ قابل صد افسوس ہے۔ اسی طرح وہ اسلامی ممالک جہاں اسلامی شرعی سزائیں نافذ ہیں اور انہیں بنیاد پرستی کا طعنہ دیا جاتا ہے جب کہ ان معاشروں میں عورت جس قدرمحفوظ ہے اس کا تصور مغرب کے آزاد معاشرے میں کیا بھی نہیں جاسکتا۔ سعودی عرب میں زیادتی کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں ، جبکہ نیویارک میں ہرپانچ منٹ کے بعد عورت سے زیادتی کی واردات کی رپورٹ ہوتی ہے۔ عورتوں پر گھریلو تشدد میں امریکہ ویورپ مسلم دنیا سے بیسیوں درجے آگے ہیں ،کیا امریکہ بھی بنیادپرست ہے کہ وہاں عورتوں سے زیادتی وتشدد کے واقعات میں اضافہ ہورہاہے؟ اگر ایسا نہیں تو مغربی ممالک میں تمام تر مادر پدر آزادی کے باوجود عورتوں سے زیادتی کے واقعات اتنی بڑی تعدادمیں کیوں ہوتے ہیں ؟

بہرکیف موجودہ دور میڈیا کا دور ہے، میڈیا کی لگام مغرب کے ہاتھ میں ہے اور وہ میڈیا کے زور پر ہمارے ذہنوں پرچھایا ہوا ہے۔بنیاد پرستی کا پراپیگنڈہ اسی مہم کاحصہ ہے حالانکہ سچی بات یہ ہے کہ مغرب اسلام کے احیا اور اسلامی ممالک میں عوامی سطح پر اُبھرتی ہوئی مذہبی لہر سے خوف زدہ ہے جس کامقابلہ کرنے کے لیے میڈیا نے بنیادپرستی کے خلاف محاذ کھول رکھا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارا پڑھالکھا طبقہ مغرب سے اس قدر متاثر ہے کہ وہ مغربی نظریات، تصورات اور اصطلاحات آنکھیں بند کرکے قبول کرلیتا ہے۔ گویا ہم نے مغرب سے جسمانی غلامی سے تو نجات حاصل کرلی ہے، لیکن ذہنی غلامی سے نہیں ... ذہنی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھی اسی طرح کی تحریکیں چلانے کی ضرورت ہے جس طرح ہم نے آزادی کے حصول کے لیے تحریکیں چلائی تھیں ۔