میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

آج پاکستان خاک و خون میں نہا رہا ہے۔ ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارادشمن کون ہے۔ جب تک یہ تعین نہیں کرتے۔ ہم حالات کاصحیح جائزہ نہ لے سکیں گے۔ مندرجہ ذیل حقائق کو مدنظر رکھیں :
جب سوات آپریشن شروع ہوا۔ ہمارے صدر امریکہ میں تھے۔اس کے بعد برطانیہ کے گورڈن براؤن کے ساتھ معانقے ہورہے تھے۔فرانس کے صدر کے ساتھ دوستیاں بڑھائی جارہی تھیں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ گھر میں آگ لگی ہو تو گھر کے سربراہ کو گھر سے باہرسکون کیسے آتا ہے۔ حکومت نے آپریشن شروع کرنے کے آٹھ دن بعد(جب کہ صدر صاحب بیرون ممالک تھے) تمام سیاسی جماعتوں کا اجتماع بلایا اور آپریشن کے لئے قومی اتفاق رائے کی کوشش کی۔ جب کہ اسے آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہونا چاہئے تھا۔ لیکن نہ ہوا کیونکہ ہالبروک امریکی نمائندے نے روک دیاتھا۔

طالبان کو پرموٹ کون کررہاہے۔ 60ڈالر یومیہ تقریباً 5000 پاکستانی روپی بنتے ہیں ۔انہیں کہاں سے مل رہے ہیں ۔ ان کے پاس ایسے کمیونیکیشن سسٹم اور ایسا اسلحہ ہے جو بعض اوقات پاکستانی فوج کے پاس بھی نہیں ہوتا۔ یہ فنڈز امریکہ دے رہا ہے تاکہ ملک میں عدم استحکام پیداکرے اور ہمارے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرلے۔ امریکہ نے اپنے عزائم کو بالکل بھی پوشیدہ نہیں رکھا۔ روزانہ ایسے بیانات اخبارات کی سرخی بن رہے ہیں اور ہم وطن دیکھ رہے ہیں ۔

ذرا غور کریں ۔دشمن اور دوست کا نقطۂ نظر ایک کیسے ہوگیا۔ جو بات امریکہ کی حکومت کہ رہی ہے۔وہی بات آج پاکستانی حکومت اور فوج کہہ رہی ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ دشمن اور سجن ایک ہی رائے رکھیں ۔

میں ایک ماں ہوں ۔ آپ بھی مائیں ہیں ۔ حکومتیں گھروں کی طرح ہی چلتی ہیں ۔میں سوال کرتی ہوں کہ اگر میرے گھر میں میرے بچوں میں سے کوئی ایک، دو غلط راستے پر چل پڑیں تو کیاوالدین انہیں ذبح کردیتے ہیں ۔ ان پرطیارے اور بم پھینکتے ہیں ۔باقی بچوں کو گھر سے نکال دیتے ہیں ۔ بچوں و حکمت کے ساتھ سمجھایاجاتاہے طریقے سے راہ راست پر لایاجاتاہے۔ ذبح نہیں کیا جاتا۔ گھروں سے بے گھر نہیں کیاجاتا۔حاکم بھی ایک باپ کی طرح اپنے ملک کو سنبھالتا ہے۔معاہدہ سوات جب ہوا۔پارلیمنٹ نے بھی اس کی منظوری دے دی۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ شائد اللہ نے پاکستان پر رحمت کا ارادہ کرلیا ، لیکن اس کے بعد جو ہوا الأمان والحفیظ۔

جنگی کارروائی کے نتائج ہمارے سامنے ہیں ۔ ہم نے مارچ 1971ء میں اپنے مشرقی بازو میں فوجی کارروائی کی۔ اطمینان کااظہارکیاگیا کہ ہم نے ملک کو بچا لیا گیا،لیکن دسمبر 1971ء میں بنگلہ دیش نتیجے کے طور پر سامنے آیا۔ ہم نے لال مسجد پرفوجی کارروائی کی۔ اسی کانتیجہ سوات میں ہمارے سامنے آیا۔ اب اتنی بڑی فوجی کارروائی جس کے ساتھ ۲۵ لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں ، اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟کسی بڑی Calculationکی ضرورت نہیں ۔ میں سوچتی ہوں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔

حل: حکومت، فوج، پارلیمنٹ، ساری سیاسی جماعتوں ، صوبوں اورعوام کے تعاون سے فوری طور پر دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ سے باہر نکل آئے۔ امریکہ اور نیٹو سے ساری سہولتیں واپس لے لے۔ عوام بھوکے رہ کر بھی حکومت کا ساتھ دیں گے اور لڑیں گے۔ لیکن ہم سمجھتے ہیں ہ لڑائی کی نوبت نہیں آئے گی۔ ایران نے امریکہ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیا۔امریکہ نے اس کا کیابگاڑ لیا؟ حالانکہ وہ ایٹمی طاقت بھی نہیں ۔ حکومت پاکستان یہ فیصلہ کرلے تو مخلص طالبان اور دیگر مسلح گروپ اس کا ساتھ دیں گے۔ سوائے بِکے ہوئے کچھ لوگوں کے جن سے نمٹا جاسکتاہے۔

طالبانائزیشن سے بچنے کی دوسری تدبیر یہ ہے کہ سچے دل سے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بنایا جائے۔ پاکستان کا مطلب کیا لاإله إلااللہ کو عمل میں لے آیئے، اپنے سارے دینی مسالک کے معتمد اور معتدل علماء پر مشتمل شریعہ بورڈ بنائیں جونفاذ شریعت کی حکمت عملی اور ترجیحات کا تعین کرے۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ امریکہ اور مغرب پاکستان میں نفاذ اسلام کاکام نہ ہونے دے گا لیکن یہ Do or Die کامعاملہ ہے۔ کیا ہم آج ایک غلط مقصد کے لئے پاکستان کے وجود کو داؤ پر نہیں لگاچکے۔ ایک غلط مقصد کے لئے آپریشن ناگزیرتھا تو صحیح مقصد جوکہ ہمارامقصد حیات بھی ہے۔ کے لئے ناگزیر تر ہے:اس کے لئے کوئی آپشن نہیں ۔
  1. سچے دل سے پاکستان میں اسلام نافذ کریں ۔
  2. یا پھر طالبان کااقتدار اور وحشی اسلام قبول کریں ۔
  3. یا پھر امریکی اور بھارتی غلامی میں ایک مریل غیر ایٹمی پاکستان قبول کریں ۔خانہ جنگی جس کا مقصدر ہوگی اور وہ جلدہی بھارت میں ضم ہوجائے گا۔ خاکم بدہن

تیسری اور آخری تدبیر یہ ہے کہ اگر حکومت پاکستان ٹس سے مس نںیم ہوتی اور موجودہ صورت حال کو برقرار رکھتی ہے۔(جس کانتیجہ پاکستان کی تباہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ) تو آخری حل یہ ہے کہ اس ملک کے مخلص دینی عناصر متحد ہوکر سڑکوں پر آجائیں ۔ لانگ مارچ اور دھرنے کے ذریعے حکومت کو بدل دیں یا حکومت کو مذکورہ بالا کردار انجام دینے پر مجبور کردیں جیسا کہ عدلیہ کے سلسلے میں ہم دو ماہ پہلے تجربہ کرچکے ہیں اس کے لئے پاکستان کا درد رکھنے والے سارے افراد، سول سوسائٹی کے پروفیشنلز، ڈاکٹرز، پروفیسرز، انجینئرز، صحافی، طلبہ، ادیب، دانشور، غرض دین اور پاکستان کادرد رکھنے والے تمام افراد اور ادارے شریک ہوں ۔

یہ سیل بے پناہ جب سڑکوں پر نکل آئے گاتو کوئی اس کا راستہ نہ روک سکے گا، لیکن اگر ہم نے یہ بھی نہ کیا تو پھر کوئی آپشن نہیں ، پھر آسمان ہم پرروئے گا، زمین ہمارے نوحے پڑھے گی اور
''ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ''

یہ حقائق ہیں ، حقائق سے نظریں چرانے سے حقائق نہیں بدلتے۔یہی قانون فطرت بھی ہے، قانون الٰہی بھی۔ {إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُغَيِّرُ‌ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ‌وا مَا بِأَنفُسِهِمْ ۗ...﴿١١﴾...سورة الرعد} ''اللہ اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جواپنی حالت خود نہ بدلے'' پھر اس کا مقدر سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔وما علینا إلاالبلاغ