15؍فروری 2009ء کو پاکستانی حکومت اور تحریک ِنفاذِ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے مابین ہونے والے معاہدئہ امن اور نفاذِ شریعت کی ہر مسلمان نے حمایت کی حتیٰ کہ ملا فضل اللہ نے بھی کہا کہ اگر شریعت نافذ ہوجاتی ہے تو وہ اپنا مسلح احتجاج چھوڑ کر پرامن ہوجائیں گے، لیکن افسوس کہ اس معاہد ے کے دونوں فریقوں نے اس عظیم کامیابی کو ذمہ داری اور جہد ولگن سے نبھانے کی کوشش نہیں کی جس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے بدترین ملکی المیے کی صورت میں موجود ہے۔

اس معاہدہ کے ایک فریق صوفی محمد تھے جنہوں نے عظیم ذمہ داری قبول کی، امن مارچ کیا اور امن کیمپ بھیلگایا،اور اس عرصہ کے دوران اُنہوں نے کا فی حد تک مسلح عناصر کو کنٹرول کرنے میں کامیابی بھی حاصل کی لیکن وہ میڈیا کے چبھتے سوالات پر مؤمنانہ فراست کا مظاہرہ نہ کرسکے۔جب وہ ایک اہم ترین عالمی تحریک کی قیادت کررہے تھے جس کے خلاف دنیا کی بڑی قوتیں متفق ومتحد تھیں،ایک ایسے مرحلے میں اُنہوں نے اپنے آپ کو سوات کے ایک محلے میں بیٹھ کر اہل سوات کے لئے بیانات جاری کرنے والا ہی خیال کیا، اور نفاذِ شریعت جیسی عظیم منزل کو اپنے نادر اور انتہا پسندانہ خیالات سے بری طرح متاثر کیا۔ اُنہیں ابلاغی جنگ کا اِدراک کرنااور ایمانی فراست کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا، لیکن اُنہوں نے نہ صرف میڈیا کے سوالات کے جواب میں بلکہ اپنے جلسہ عام میں بھی ملک کی مسلمہ دینی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے پیچھے نماز تک نہ ہونے کی بات کی، اُنہوں نے فتوائے کفر اورپگڑیوں کے رنگوں پر خیال آرائی شروع کی۔ آئین، جمہوریت اور جہادِ کشمیر پر ایسے بیانات دیے جس سے ان کی پیچھے متحد پوری قوم چند دنوں میں ہی ان کی مخالفت میں یکجا ہوگئی۔ اگر ان خیالات میں کوئی وزن بھی تھا تو یہ اُسلوب اور بیانات حکمت وفراست سے خالی تھے، وہ لمحہ بھر میں پوری قوم کو صرف اپنے بیان کی قوت پر اپنے حق میں بدل دینا چاہتے تھے!!

ان بیانات کے نتیجے میں ان کا مشن بری طرح متاثر ہوا، اوران کے مخالفین کو جہادِ کشمیر کے خلاف بیان دینے سے اُنہیں بھارتی ایجنٹ، آئین وجمہوریت کے خلاف بیان دینے سے ریاست کا باغی اور دینی قیادت کے خلاف بیان بازی سے متشدد اور انتہا پسند قرار دینے کا موقع ملا۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے ایسے بیانات میں اسلام کی بجائے ان کے ذاتی رجحانات کارفرما تھے۔جس سے ان کو حاصل ہونے والی اخلاقی تائیدختم ہوکر رہ گئی۔ جولوگ کوڑے لگانے کی خودساختہ ویڈیو سے متاثر نہ ہوئے تھے اور اس کو امریکی سازش باور کرتے تھے، وہ صوفی محمد کے ان بیانات سے لمحوں میں برگشتہ ہوگئے۔

میڈیا نے بھی اس قومی سانحہ کی درست نبض شناسی نہ کرتے ہوئے ماضی کی طرح اس کو دلچسپ چٹکلوں اور غیر ذمہ دارانہ صحافت کے اِظہار کا موقع گردانا۔ اس کے المناک نتائج جو آج برآمد ہورہے ہیں،صد افسوس کہ خود کو باخبر اورباشعور ہونے اور قوم کو بحرانوں سے نکالنے کا دعویٰ کرنے والے میڈیا نے بھی اس المیہ کا ادراک نہ کیا اور صوفی محمد ایسے درویش منش شخص کو پیچیدہ سوالات میں اُلجھایا، ان کے جا بجا انٹرویوز نشر کرکے چبھتے سوالات داغے اور مصالحے دار رپورٹنگ کی۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ صوفی محمد کے یہ خیالات کوئی نئے نہیں تھے، لیکن اس موقع پر اُنہیں نمایاں کرکے چھاپنے سے میڈیا نے کس کا مقصد پورا کیا؟یہ سوچنے کا مقام ہے!

جب صوفی محمد نے آئین پاکستان کو اسلامی قرار دیا اور کہا کہ ہمارے جج حضرات اس اسلامی آئین سے درست فیصلے نہیں کرتے اس اہم بیان کو اخبارات کے ذیلی سطور میں جگہ دی گئی، لیکن ان کے آئین مخالف خود ساختہ بیان کو بڑھا چڑھا کر نشر کیا۔ نان ایشوز کو ایشوز بناکر قوم کو اُلجھانا اورصوفی محمد سے بیان بازی کروانا میڈیا کا کارنامہ ہے یہ میڈیا اس سے قبل خودساختہ ویڈیوکو بغیر کسی تحقیق کے عوام میں بڑھ چڑھ کر پھیلانے کا سیاہ کارنامہ بھی انجام دے چکا تھا۔ قوم کو امن کی اس منزل سے دور کرنے اور المیہ سوات ومالاکنڈ تک پہنچانے میں میڈیا بھی برابر کا شریک ہے۔ میڈیا کے کارپردازان نے اپنی شریعت بیزاری کے اظہار کے لیے اس موقع سے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔

ایک طرف میڈیا کی قوم کو رہنمائی کی یہ حالت ہے کہ تین ماہ کے اخبارات پڑھ جائیے، نظامِ عدل کے بارے میں ایک سنجیدہ تجزیہ تو کجا اس کا اُردو ترجمہ بھی آج تک قوم کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکا۔ یاد رہے کہ روزنامہ جنگ میں تاحال اس کا نصف سے کم اور ناقص ترجمہ کئی اقساط میں شائع ہوسکا ہے۔ معاہدئہ امن کے حوالے سے وعدہ خلافی کس نے کی، اس کی سنجیدہ نشاندہی کی بجائے ہمارا بھاری بھرکم میڈیا مصالحے دار خبروں اور چٹخے دارتبصروں پر ہی انحصار کرتا رہا۔ یہ امریکی میڈیا کے اخبارات ہی ہیںجو آئے روز اپنی قوم کی خودساختہ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے ایٹمی پروگراموں اور حکومت کے خلاف نت نئی سازشوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں وہ پوری قوم مل کر ایک جنگ لڑتی اور اپنے شہریوں کو ایک رخ دکھاتی ہے جبکہ ہمارا میڈیا منتشر، غیرذمہ دار اور اپنے قومی ودینی مقاصد سے ناآشنا ہے جس کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔

تحریک نفاذِ شریعت محمدی اور میڈیا کے ناروا کردار سے بڑھ کر اصل کوتاہی اور عہد شکنی ہماری حکومت نے کی جو دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں شریک ہونے کے جرم کے ساتھ ساتھ مرکز ِ ریاست ہونے کے ناطے اپنے تمام شہریوں اور اربابِ ابلاغ کی کوتاہیوں کی بھی ذمہ دار ہے۔ معاہدئہ امن اور اسکے خاتمے کے سنگین مضمرات سے جس قدر حکومت آگاہ ہو سکتی ہے، کوئی اور نہیں ہوسکتا کیونکہ امن وسکون قائم کرنا حکومت کی ہی اوّلین ذمہ داری ہے۔

حکومت نے 15؍فروری کو ایک درویش منش شخص صوفی محمد کو امن کی ذمہ داری سونپ کرپہلے تو دو ماہ تک اس معاہدے کو ٹالے رکھا۔اس دوران متعدد بار صوفی محمد نے حکومت کو خبردار کیا، ڈیڈ لائنیں دیں اور معاہدئہ امن سے دستبردار ہونے کا کہا، آخر دو ماہ بعد جب 13؍اپریل کو صدر دستخط کرنے پر مجبور ہوگئے تو رہی سہی کسر بیوروکریسی نے پوری کردی۔نصف صفحے کے معاہدئہ امن میں وہ تمام باتیں جو پہلے سے صراحت کے ساتھ طے کردی گئی تھیں، اُنہی پر بعد میں فریقین کے مابین اختلاف ہو گیا۔سب سے پہلے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے برتر ہونے کاشوشہ چھوڑاگیا،حالانکہ معاہدہ میں اس کا تعین واضح طورپر ان الفاظ میں موجود تھا:
''اس [کتاب وسنت، اجماع وقیاس] کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہوگا،اور اس کی نظرثانی یعنی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر دارالقضاء یعنی شرعی عدالت بنچ قائم کردیا جائے گا، جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔''

چند سطری معاہدئہ متن کی اس واضح عبارت کے بعد سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کی برتری کی بحث کو اُچھالنے کی بجائے اس کا سیدھا سا مطلب یہ بنتا ہے کہ ڈویژن کی سطح پر سپریم کورٹ کا ایک شرعی عدالت بنچ مقرر کردیا جائے گا جو آخری اتھارٹی ہوگا، لیکن اس پر اخبارات میں بے جا بحث مباحثہ میں وقت صرف کیا گیا۔

پھر اس معاہدہ کا اختتام جس اہم نکتہ پر ہوتا ہے وہ دارالقضا کا قیام ہے، جس کو شورش زدہ علاقے میں دو ماہ سے زیادہ مدت تک موخر کیاگیا، بعد ازاں دار القضا کو قائم کرتے ہوئے ایک بار پھر معاہدئہ امن کی واضح خلاف ورزی کا ارتکاب کیا گیا۔ چند سطری معاہدہ میں یہ موجودتھا کہ
''حضرت صوفی محمدبن الحضرت حسن کے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کے ہر نکتے پرتفصیلی غور کرنے بعد اس کا مکمل اطلاق مالا کنڈ ڈویژن بشمول ضلع کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعدباہمی مشورہ سے کیا جائے گا۔ہماری حضرت صوفی محمدبن الحضرت حسن سے درخواست ہے کہ وہ اپنا پر امن احتجاج ختم کرنے کے بعدمالا کنڈ ڈویژن کے تمام علاقوں میں امن قائم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔''

معاہدہ کے اس دوسرے اور آخری پیراگراف سے جہاں صوفی محمد کے کردار کا علم ہوتا ہے کہ وہ طالبان کی مسلح سرگرمیوں کے عین برعکس اوراصلاح پسنداورپرامن شخص کا ہے، وہاں اس میں واضح طورپر خط کشیدہ الفاظ میں موجود ہے کہ ''دار القضا کا قیام باہمی مشورہ سے کیا جائے گا۔''


اس مرحلہ پر اے این پی کی سیکولر صوبائی حکومت کامنفی کردار سامنے آیا اس حکومت نے بادلِ نخواستہ امن معاہدہ کیا تھا تاکہ دینی قوت اس پر کاربند نہ رہ کر اتفاق واتحاد اور عوامی تائید سے محروم ہوجائے۔ ہمیں اس کردار کی نشاندہی مختلف مراحل پر نظر آتی ہے ،مثلاً
اے این پی کی صوبائی انتظامیہ نے باہمی مشورہ کی بجائے اپنی حکومت کے زعم میں ایسے عدالتی افسران کو 'قاضی' بھرتی کردیا جن کی دینی تعلیم وتربیت اور شریعت کی مہارت سرے سے موجود ہی نہ تھی۔ جب کہ معاہدئہ عدل کا واضح تقاضا یہ تھا کہ
'' مذکورہ علاقے میں تعینات ہونے والے علاقہ قاضی کو شمال مغربی سرحدی صوبے کے عدالتی افسر کا درجہ اور حیثیت حاصل ہوگی۔ بہرنوع اس سلسلے میں ترجیح ان عدالتی افسران کو دی جائے گی جنہوں نے کسی تسلیم شدہ ادارے سے شریعت کے کورس کی تکمیل کی ہوگی۔ ''

اس تسلیم شدہ ادارے کا مطلب بھی نظام عدل ریگولیشن میں یوں بیان کیا گیا ہے:
''شریعہ اکیڈمی جسے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی آرڈیننس1985ء یا کسی ایسے ادارے کے تحت قائم کیا گیا ہو جو شرعی علوم کی تربیت دیتا ہو اور حکومت سے منظورشدہ ہو۔''

اگر اس قاضی کے فرائض کا جائزہ لیا جائے تو اس ریگولیشن میں یہ مذکور ہے کہ
'' قاضی یا ایگزیکٹو مجسٹریٹ، قرآنِ مجید، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ، اجماع اور قیاس سے، ضروری ہدایات اور رہنمائی کی روشنی میں تمام مقدمات کی کاروائی کو چلائیں گے، جو شرعی قوانین کے طریقۂ کار کے عین مطابق ہوگی اور تمام مقدمات کے فیصلے بھی شریعت کے قوانین کی روشنی میں کئے جائیں گے۔ قرآنِ مجید اور سنت ِنبوی 1 کی تعلیمات، احکامات اور ہدایات کی تعبیر و تشریح کے پیش نظر قاضی اور ایگزیکٹو مجسٹریٹ قرآنِ مجید اور سنت ِنبوی 1 کی تعلیمات کے مسلمہ اُصولوں کو ہر ہر قدم پر پیش نظر رکھیں گے اور اس مقصد کے حصول کی غرض سے اسلام کے تسلیم شدہ فقہا کی آرا اور خیالات کو بھی مدنظر رکھیں گے۔''

ریگولیشن کے مذکورہ بالا آرٹیکلز کو ملا کر پڑھا جائے تو اس کا نتیجہ شریعت کے تعلیم یافتہ اور ماہر قاضی کی صورت میں ہی نکلتا ہے کیونکہ متعدد جرائم ومسائل ایسے بھی ہیں جن کی نہ صرف قانونی دفعہ بندی موجود نہیں تھی بلکہ خلافِ اسلام ہونے کے ناطے ان میں سے بیشتر معاہدہ کی رو سے منسوخ ہوچکے تھے، ظاہر ہے کہ ایسے کیسوں میں شریعت کا ماہر قاضی ہی کوئی فیصلہ کرسکتاہے ، نہ کہ انگریزی لا کا تعلیم یافتہ کوئی جج... بالخصوص اس وقت جبکہ معاہدئہ امن کے متن میں دار القضا کے قیام پر باہمی مشورہ کی واضح شرط بھی موجود ہے۔

اے این پی کی حکومت نے جو اَب تک بڑے زور وشور سے صدر کو نظامِ عدل پر دستخط کرنے کا مطالبہ کررہی تھی، اس اہم اور فیصلہ کن مرحلہ پر یو ٹرن لیا اور صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے یہ بیان داغ دیا کہ
''ہم نے نظام عدل ریگولیشن تحریک ِنفاذ شریعت محمدی کے کہنے پر نہیں بلکہ اہل سوات کے مطالبے پر نافذ کیا ہے اور ہم اس پر کاربند رہیں گے۔''

اے این پی نے گویا معاہدئہ امن کی تمامتر پیش قدمی کو خاک میں ملادیا۔ اس فیصلہ کن مرحلے پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کو اپنا موقف بدلنے اور معاہدہ امن کو ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟ اس کے جواب میں عالمی صورتحال اور حکومت کی سیاسی پوزیشن کو سامنے رکھنا ضروری ہے.

فوری آپریشن کی وجہ
معاہدئہ امن پر شدید ترین عوامی دبائو کے پہلو بہ پہلو وفاقی حکومت امریکہ کے شدید عالمی دبائو کا شکار تھی، حتیٰ کہ اِنہی دنوں امریکہ نے پاکستان کے آرمی چیف کو انتہائی پسندیدہ اور بااثر ترین شخص قراردینا شروع کیا، اور پاکستان کی سیاسی حکومت کو ناکام قرار دے کر نوازشریف کی حمایت اور ان کی حکومت قائم کرنے کا تاثر اُبھارنے کی کوشش کی۔ امریکہ نے اس گہری تزویراتی اور سفارتی چال سے ہر پہلو پر کامیابی حاصل کی کہ نواز شریف کو حکومت کا لالچ دے کران کے امریکہ مخالف بیانات اور مصالحت جُو موقف میں کمی پیدا کی اور زرداری حکومت کو ڈرا دھمکا کر ان کواپنی اِطاعت پر مجبور کیا، اور اُنہیں دورئہ امریکہ کی دعوت دے دی، جہاں پہنچنے سے قبل زرداری کے نامہ اعمال میں کچھ ہونابہر حال ضروری تھا۔

یہی وہ اعصاب شکن سفارتی دباؤ اور چالبازی تھی جس کا سامنا پاکستانی حکومت اور اربابِ سیاست نہ کرسکے اور 13؍اپریل کو صدر کے معاہدئہ امن پر دستخط ہونے او ر بونیر و دیر سے صوفی محمد کی تلقین پر شدت پسندوں کے انخلا کے آغاز میں ہی سرحد حکومت نے وفاقی حکومت کے شدید دباؤ پر یو ٹرن لیا اور یک لخت تحریک ِنفاذ شریعت محمدی کو اپنے اعتماد سے خارج کرکے مسلح جنگ کا آغاز کردیا۔ قاضیوں کا تعین وہ آخری نکتہ تھا جس پر تحریک ِنفاذ شریعت اور حکومت میں ابہام ہوا، اور اسی دن حکومت ِسرحد کا لب ولہجہ تبدیل ہوا اور مسلح آپریشن شروع ہوگیا۔ توجہ طلب امر یہ ہے کہ 13؍اپریل کو حکومت پر عوامی دبائو اس قدر زیادہ تھا کہ صدر کو معاہدہ پر دستخط کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔آخر ایک ہفتے کے اندر کونسا ایسا اہم واقعہ رونما ہوگیاکہ آپریشن کے سوا حکومت کو اصلاحِ احوال کی کوئی صورت نظر نہ آئی۔ ظاہر ہے کہ ایسا اقدام کسی داخلی ضرورت کی بجائے محض خارجی مصلحت کی بنا پر کیا گیا۔

صوفی محمد نے غیردانش مندانہ بیان بازی کے ذریعے اگر پہلے ہی اپنی ساکھ متاثر نہ کرلی ہوتییا میڈیا حکومت کی عہد شکنی کے اس اہم نکتہ کو اُجاگر کرتا اور تحریک ِطالبان اور تحریک شریعت میں فرق عوام کے سامنے واضح ہوتا تو حکومت کبھی اس قدر عجلت میں امریکہ نوازی اور ملک میں جنگ بازی کا سلسلہ شروع نہ کرپاتی۔ آج تمام سیاستدانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ آپریشن عجلت میں شروع کیا گیا، یہ عجلت امریکی دھمکیوں اور امریکی دورے کی تھی، جس کے بعد صدر ذی وقار کا 21 دنوں پر محیط دورہ دنیا بھر سے اپنے اس حق خدمت کی وصولی کے لئے تھا جو وہ امریکہ بہادر کی تائید میں اپنے ہی ملک میں اس کی تلقین پر عمل درآمد کی صورت انجام دے رہے تھے۔

اہل پاکستان بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے صدرِ محترم دباؤ کا سامنا نہیں کرپاتے، وہ تمام کام بھی کرتے ہیں اور آخر کار دبائو پڑنے پر یو ٹرن بھی لیتے ہیں۔ لانگ مارچ اس کی تازہ مثال ہے، چیف جسٹس کی بحالی صدر پر شدید ترین دباؤ کا نتیجہ ہے جس نے حکومت کے کئی ماہ پر محیط موقف کو اُلٹا کر رکھ دیا، اسی طرح مسلح آپریشن 'راہ ِحق' بھی عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے جس نے قومی اُمنگوں اور ملی مفاد کو دھندلا کردیا۔ آج تمام خواہشات غیروں کی پوری ہورہی ہیں اور پاکستانی قوم آپس میں برسرپیکار ہے، پاکستانی سرزمین پاکستان کے اپنے ہیلی کاپٹروں اور ٹینکوں کے گولہ بارود سے ادھیڑی جارہی ہے اور ایک اور لال مسجد کا سانحہ جنم لے رہا ہے!

جہاں تک صوفی محمد کا تعلق ہے تو امن قائم کرنے کی ا س پیش کش پر وہ آج تک قائم ہیں جیسا کہ اپنے تازہ بیان میں بھی اُنہوں نے کہا:
''اب بھی نظام عدل معاہدے کے مطابق نافذکیا جائے تو امن کی ذمہ داری لیں گے!

''مولانا صوفی محمد نے کہا ہے کہ نفاذِ شریعت اور حکومتی رٹ کی بحالی کے علاوہ ہمارے کوئی اور عزائم نہیں، حکومت نے دو مرتبہ معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ گزشتہ روز ایک تحریری بیان میں صوفی محمد نے کہا کہ اگر مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل معاہدے کو نفاذ کیا جائے تو حکومت کی رٹ بحال کرنے اور امن عامہ کے قیام کی ذمہ داری تحریک ِنفاذ شریعت پر ہو گی۔ فوج اور پولیس عوام کے محافظین اور نظامِ عدل کی مخالفت کرنے والے باغی ہوں گے اور ان کے لئے واجب القتل کا اعلان کیا جائے گا مگر حکومت ہی نہیں چاہتی اور ہمارے خلاف میڈیا وار شروع کر دی۔ تحریک نفاذِ شریعت کے ترجمان امیر عزت خان نے کہا کہ ہم اب بھی معاہدے پر قائم ہیں۔ حکومت آپریشن بند کر دے اور عملی طور پر شریعت نافذ کرے تو امن کی ذمہ داری ہماری ہو گی اور اگر حکومت امن قائم کرے تو ہم پانچ سال تک شریعت کا مطالبہ نہیں کریں گے۔''1

اس پیش کش کے باوجود فوج کا ان کے بیٹے کو شہید کرنا یا اُن کو گرفتار کرنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اُنہیں امن کے لئے کوششیں کرنے والے کی بجائے طالبان کی طرح ہی متحارب فریق باور کرتی ہے۔ 5؍ جون کو اخبارات میں ان کی گرفتاری اس سیاق میں شائع کی گئی جیسے وہ بھی حکومت کے خلاف جنگ کے ہراول دستہ میں ہوں، حالانکہ حقائق یہ ہیں کہ صوفی محمد تو کئی روز سے اپنے علاج کے لئے پشاور میں موجود اور ہرفرد کی دسترس میں ہیں، جبکہ خبررساں ایجنسیاں اُنہیں جنگ میں شریک بتا کر پاکستانی عوام کو مغالطہ دے رہی ہیں۔

یہ اس پس منظر کی حقیقت ہے جو پاکستان میں موجودہ آپریشن کا سبب باور کرایا جاتا ہے۔ لیکن آخرکار آپریشن کا خاتمہ اور امن وامان کا قیام ہم وطنوں سے مصالحت کی صورت ہی نکلے گا جس کے لئے صوفی محمد جیسے متدین و معتمد شخص کا وجود ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔

دوسری طرف ملک وملت کو درپیش اس سنگین صورتحال میں مولانا صوفی محمد کو بھی شرائط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے اثرو رسوخ کو اَمن کے لئے استعما ل کرنا چاہئے۔ ہر فرد پر اس کے دائرہ اختیار کی حد تک ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور چونکہ صوفی محمد متحارب طالبان پر اثر ورسوخ رکھتے ہیں، اس لئے ان سے بڑے راست کردار کی توقع بھی کی جاتی ہے۔

ماضی میں بھی ملک بھر میں نفاذِ شریعت کے نعروں سے قبل تحریک نفاذ شریعت کو سوات میں نظام عدل قائم کرکے اہل وطن کو شریعت کی برکا ت کا عملی مظاہرہ پیش کرنے پر زور دینا چاہئے تھالیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ماہر شریعت قاضیوں کے بغیر وہ یہ اہم فریضہ کیونکر انجام دے سکتے تھے، پاکستان میں جاری نظام عدل تو ظالم کی رسی دراز اورمظلوم کا جینانا ممکن بنادیتاہے۔ صوفی محمدکا یہی موقف ہے کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے لیکن اس کو نافذ کرنے والے اس کی برکات عوام تک پہنچنے نہیں دیتے ۔ اس سب کے باوجود ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آج صوفی صاحب کا یہ غیر معمولی احترام ان سے قومی سطح پر غیر معمولی کردار کا تقاضا کرتا ہے ۔ ہر فرد پر اس کے دائرہ اختیار تک ذمہ داری عائدہوتی ہے اور چونکہ صوفی محمد متحارب طالبان پر اثرورسوخ رکھتے ہیں، اس لیے ان سے بڑے کردار کی توقع بھی کی جاتی ہے ۔ اللہ تعالی حکومت کو ہوش کے ناخن لینے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہمیں اس خانہ جنگی سے نجات عطا فرمائے۔ آمین


حوالہ جات
1. روزنامہ جنگ: 11؍ مئی2009ء