سوات کی المناک صورتحال میں علما کے ایک متفقہ موقف اور نفاذ شریعت کی طرف پیش قدمی کے لئے ملی مجلس شرعی کے مسلسل اجلاس ہورہے ہیں ، سوات معاہدے کے سلسلے میں جامعہ نعیمیہ لاہور سے یہ مجالس شروع ہوئیں ، بعد میں جامعہ اشرفیہ ، پھر جامع قادسیہ میں تمام مکاتب فکر کے نمائندہ اجلاس ہوئے۔ جس کی خبریں اور اعلامئے اخبارات میں شائع ہوتے رہے۔ اس سلسلے کا چوتھا اجتماع مؤرخہ 30؍مئی بروز ہفتہ بعد نماز مغرب جامعہ نعیمیہ، لاہور میں منعقد ہوا، جس میں مختلف قائدین اور دینی جماعتوں کے نمائندہ رہنما شریک ہوئے۔ اس موقعہ پر مدیر اعلیٰ محدث کا خطاب افادہ قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔ ح م

نحمدہ ونصلّي علی رسوله الکریم!
انسانی زندگی کا کوئی بھی معاملہ ہو، بالخصوص جنگ وغیرہ میں تو اس میں ردّ ِعمل کا کردار بڑا اَہم ہوتا ہے اورردّ عمل کے پیچھے اسباب ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے کہ

''إن من أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه ! قيل يا رسول الله ، كيف يلعن الرجل والديه ؟ ! قال : يسب أبا الرجل ، فيسب أباه ، ويسب أمه ، فيسب أمه ''
''کوئی شخص اپنے باپ کو گالی نہ دے۔ سوال کیا گیا کہ اپنے باپ کو کون گالی دیتا ہے تو آپ نے فرمایا : جب تم کسی کے باپ کو گالی دو گے تووہ جواباً آپ کے باپ کو گالی دے گا گویا کہ تو نے خوداپنے باپ کو گالی دی ہے۔''

اس وقت اہم مسئلہ یہ ہے کہ سوات او رمالاکنڈ میں درپیش صورتحال میں درست موقف کیا ہے؟ بعض لوگ اس کو خروج اور ہماری حکومت بغاوت سے تعبیر کررہی ہے، اور اُنہیں باغی قرار دے کر ان کے خلاف ہرممکن طاقت کے استعمال کو جائز قرار دیا جارہا ہے۔ جبکہ درحقیقت اس وقت مسئلہ خروج کا نہیں ، نہ ہی یہ بغاوت کا مسئلہ ہے بلکہ اس وقت طالبان یا صوفی محمد کامسئلہ در اصل عہد وپیمان اور اس کے اِیفا کا ہے۔

آپ حضرات کے علم میں ہے کہ1994 میں نواز شریف کی حکومت سے صوفی محمد کا معاہدہ ہوا، پھر 1997 میں پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت سے ان کا نفاذِ شریعت پر معاہدہ ہوا۔ اب 2009ء میں دوبارہ پیپلز پارٹی سے معاہدہ ہوا ۔ پیپلز پارٹی اور ہماری حکومت کا موجودہ سربراہ اپنی بے وفائی میں بڑا مشہور ہے ، اب معاہدہ اس کے ساتھ ہوا۔ اس معاہدے میں یہ بات طے پائی کہ طالبان کے اقدامات کو صوفی محمد کنٹرول کریں گے۔ یاد رہے کہ صوفی محمد حکومت کے بالمقابل کوئی فریق نہیں بلکہ صوفی محمد طالبان کی حکومت سے جاری مخاصمت میں امن وامان کا محض ایک واسطہ ہے۔ یہاں ماشاء اللہ تمام علما تشریف فرما ہیں جو یہ بات جانتے ہیں کہ معاہدہ میں مقابل فریق کے فاسق وفاجر ،کافر ومشرک اور عیسائی یہودی ہونے کی کوئی اہمیت نہیں ۔ جیسا کہ قرآنِ کریم میں مشرکین سے معاہدہ کے بارے میں تذکرہ موجود ہے:
بَرَ‌آءَةٌ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَ‌سُولِهِۦٓ إِلَى ٱلَّذِينَ عَـٰهَدتُّم مِّنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ ...﴿١﴾...سورة التوبہ
'' اللہ اور اس کا رسول ان مشرکین (کے سابقہ معاہدہ) سے اَب بری ہیں ۔''

یہ چار ماہ کی مدت ان مشرکین کے لیے تھی جن سے غیر متعینہ مدت کے لیے معاہدہ ہوا تھا۔یعنی اگر مشرکوں سے معاہدہ کسی متعین مدت کے لیے ہو تو اگلی آیات میں آتا ہے کہ
فَمَا ٱسْتَقَـٰمُوالَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا لَهُمْ ۚ...﴿٧﴾...سورة التوبہ
''جب تک وہ معاہدہ پر قائم رہیں ، آپ بھی معاہدہ کی پاسداری کریں ۔''

اس وقت مسئلہ صوفی محمد کے خیالات کا نہیں ہے اور نہ ہی ان کے خیالات اس بارے میں اہم ہیں ۔ میں اس بحث کو بھی طول نہیں دیتا کہ وہاں کیاہو رہا ہے؟ اس لیے کہ یہاں دیگر مقررین نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ طالبان فورسز میں کچھ امریکی طالبان ہیں اور کچھ پاکستانی طالبان ہیں ۔ یاد رہے کہ تمام غیر اسلامی اقدامات کرنے والے طالبان امریکی ایجنٹ ہیں ، جن میں سے ہر آدمی کو یومیہ پانچ ہزار روپے یعنی ساٹھ امریکی ڈالر مل رہے ہیں اور جن کے پاس نیٹو کا اسلحہ ہے، جن میں را کے بھارتی ایجنٹ بھی موجود ہیں اورسارے ظلم وہ کر رہے ہیں جب کہ پاکستانی طالبان کو بدنام کرنے کے لئے اپنے تمام ظلم اُن کے کھاتے ڈال دیتے ہیں ، ورنہ مسلمان طالبان جو کچھ بھی ہوں گے، ان کے خیالات میں تنگ نظری تو ہوسکتی ہے لیکن ان میں اپنے اقدامات اور مسلمان بھائیوں کے سلسلے میں کوئی احتیاط ضرور پیش نظر ہوگی۔ بہر حال میں اس نکتہ کو مزید طول نہیں دینا چاہتا۔

جہاں تک اس مسئلہ کی نوعیت کا تعلق ہے تو یہ عہد وپیمان کا مسئلہ ہے۔ عہد وپیمان اگر مشرک یا کافر کے ساتھ ہو، تب بھی اس کی پاسداری ضروری ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ
( أدِّ الأمانة إلی من ائـتمنك ولا تَخُنْ من خانك)
''جس کی امانت تیرے پاس ہے، اس کی امانت واپس کر دے چاہے عہد کی صورت میں ہو یا کسی اور بھی صورت میں اور جس نے تیرے ساتھ خیانت کی تو اس کے ساتھ خیانت نہ کر۔''

یہاں بھی مسئلہ در اصل عہدو پیمان کا ہے ۔ 2009ء میں جونظام عدل ریگولیشن معاہدہ امن کی صورت منظور ہوا ہے، اس میں تحریک نفاذِشریعت کے سربراہ صوفی محمد کو یہ ذمہ داری تفویض کی گئی کہ آپ نے طالبان کو کنٹرول کرنا ہے ۔

اگر چہ ان کے داماد مولوی فضل اللہ پہلے ہی اس وجہ سے مظلوم ہیں کہ ان کے بھائی سمیع اللہ کو 2004ء میں ڈرون حملوں میں شہید کر دیا گیا تھا، لیکن اس ظلم کے باوجود فضل اللہ کا یہ بیان آیا کہ اگر یہاں شریعت کا نفاذ ہوجاتا ہے تو میں صوفی محمد کی بات تسلیم کرلوں گا اورہم تمام لوگ ہتھیار ڈال کر پرامن ہوجائیں گے، اپنا غصہ تھوک دیں گے۔ اس کے باوجود دو طرح سے اس اہم معاہدہ میں خیانت کی گئی:


اب بھی کہا جارہاہے اور مولانا فضل الرحمن کا بیان بھی آج کے اخبارات میں آیا ہے کہ اُنہو ں نے کہا کہ مجھے ایک مقتدر شخصیت نے کہا تھا کہ سب سے پہلے بیت اللہ محسود کے ساتھ بات چیت کرو لیکن جب بیت اللہ محسودکا تقاضا یہ ہوا کہ ان کے خلاف فوجی حملے بند کئے جائیں ۔ اس بات کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ چنانچہ اصل مسئلہ اس فوجی کاروائی کا ہے جس کو حکومت امریکہ کے دبائو میں جاری رکھنے پر مجبور ہے اور اس کو ختم نہیں کرسکتی۔

یہی بات صوفی محمد نے کہی تھی کہ میں طالبان کو کنٹرول اور پرامن کرتا ہوں لیکن حکومت کو بھی ان کے خلاف کاروائی سے روکنا ہوگا۔اسی اثنا میں طالبان میں امریکی ایجنٹ بھی شامل ہوگئے۔اگرچہ طالبان پاکستانی بھی ہیں اور غیر ملکیبھی لیکن یہاں میں حضرت علی ؓ کا قول یاد دلاتا ہوں کہ حضرت علیؓ حضرت عثمان کے قاتلوں کو سزا کیوں نہ دے سکے؟ وہ کہتے تھے کہ جن لوگوں میں نے پکڑنا اور اُنہیں سزا دینا ہے، ان پر مجھے پہلے کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے۔ جب تک صوفی محمدپر ان کا اعتماد بحال نہیں ہوتا، اس وقت تک وہ طالبان جو ان کے اعتماد میں ہیں ،ان پر کنٹرول بھی ممکن نہیں ہو گا اور اس وقت تک امریکی طالبان درمیان میں خلط ملط ہونے کی وجہ سے شر انگیزی کرتے رہیں گے۔ اس بناپر صوفی محمد کا راست مطالبہ یہ تھا کہ پہلے حکومتی کاروائیاں بند کی جائیں ، لیکن ہماری حکومت کاروائی بند کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔

علاوہ ازیں صوفی محمد کا یہ بھی تقاضا ہے کہ جرائم اور طالبان کو کنٹرول کرنے کے لئے حدود نافذ کرناضروری ہیں ، اور میں اُنہیں شرعی سزا دوں گا۔ شریعت کی سزا دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عدالتی طریقہ کار1969ء سے قبل فوری فیصلوں کا سا ہو، نہ کہ ہماری پاکستانی عدالتوں جیسا جس میں سالہا سال تک فیصلے ہی نہیں ہوتے اور مجرم کو سزا ہی نہیں ہوپاتی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے شریعت کا نظامِ عدل چاہیے جس کے ذریعے فوری سزا دی جاسکے۔ اسی نکتہ کو اُنہوں نے معاہدئہ امن میں بھی شامل کروایا تھا،کہ یہاں اعلیٰ عدالتوں کے جج باہمی مفاہمت سے مقرر کئے جائیں گے۔ اس معاہدے کو توڑا گیا اور وہاں ایسے جج مقرر کر دیئے گئے جو اینگلو سیکسن لاء کے تربیت یافتہ ہیں ۔ ان کے ذریعے پاکستان بھر میں امن وامان نہیں ہے ، سوات کے لوگ پہلے ہی ان کے خلاف متفق ہیں تو صوفی محمد ایسے جج حضرات کے ذریعے کیوں کر بدامنی پر قابوپاسکتے ہیں ؟

جہاں تک صوفی محمد کے ان بیانات کا تعلق ہے کہ جمہوریت کفر ہے یا جہادِ کشمیر ایک سرزمین کے حصول کے لئے ہے اور نفاذِ شریعت کے لیے نہیں تو صوفی محمد کے یہ بیانات کوئی آج کے نہیں بلکہ چودہ برس قبل بھی صوفی محمد کا یہی موقف تھا لیکن ان بیانات کو اُچھال کران سے یہ فائدہ اُٹھایا گیا کہ دیگر دینی تحریکیں جو اپنے علماء سے عقیدت رکھتی ہیں ، اُنہیں یہ باور کرایا گیا کہ وہ تمام علما کو کافر کہتے ہیں ، حالانکہ اُنہو ں نے ایسا نہیں کہا۔ اُنہو ں نے جمہوریت کو کفر ضرور کہا، جمہوریت پر عمل پیرا علماء سیاستدانوں کو کافر قرار نہیں دیا بلکہ اُنہوں نے کہا ہے کہ میری فلاں فلاں کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ بھی کافی گھمبیر ہے اور ہمارے ہاں ایسے فرقے موجود ہیں جو دوسروں کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے لیکن کیا ہم محض اس بنا پر اُن کو قتل کردیں گے؟

اس اَمر میں کوئی شبہ نہیں کہ صوفی محمد اور طالبان کے ہاں انتہا پسندی موجود ہے۔ اگر اُنہوں نے یہ بات کہہ دی ہے تو پھر بھی یہ معاملہ اتنا خطرناک نہیں ، بلکہ اصل مسئلہ اس وقت یہ ہے کہ صوفی محمد نے کیا کوتاہی کی ہے او ردوسری طرف حکومت سے کیا غلطی ہوئی ہے جو آج صورتحال یہاں تک ابتر ہوچکی ہے کہ لاکھوں لوگ نقل مکانی پر مجبور اور ہمارے کئی علاقے بم دھماکوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ دن رات مسلمان مسلمان کا خون بہا رہا ہے ۔ صوفی محمد کے ساتھ ایک عہد ہواکیاوہ عہد ہمارے بے وفا صدر زَرداری نے توڑا ہے اوراس نے فوجی آپریشن شروع کرایا ہے اوردوسرا یہ کہ اُس نے جب جج مقرر کیے تو وہ بغیر مفاہمت کے مقرر کیے؟ اس طرح گویاصوفی محمد سے معاہدے پر بظاہر دستخط کرکے عوام کو دھوکہ دیا گیا اور درونِ خانہ اس کی مخالفت کی گئی۔

ہمارا صدر امریکہ کو تحفہ دینے کے لئے وہاں چلا گیا اوراپنی فوج کو حکم دے دیا کہ ان پر حملہ کر دو اور اس کا محض یہ جواز تراشا گیا کہ صوفی محمدکے دو بیانات ایسے آگئے ہیں کہ ان کے ساتھ پاکستانی عوام ردّ عمل کا شکار ہو کر بدک جائیں گے۔ میڈیا پر پراپیگنڈہ شروع کردیا گیا اور گویاتحریک نفاذ شریعت کے ارکان اور طالبان کو کافر قرار دے کر ان کا خون حلال سمجھ لیا گیا۔ اگر وہ لوگ غلط اور انتہاپسندی کررہے ہیں تو ان کے خلاف مقدمہ درج کرو اور ان کوپکڑو۔ یہ کیا بات ہوئی کہ سوات میں گولہ باری کر دو۔ میں آپ کے سامنے وہ واقعات نہیں رکھ سکتا کہ جس طرح لوگ مارے جا رہے ہیں ۔ ایک روز قبل 29؍مئی کے جنگ میں حامد میرکا سلگتا کالم 'رحمانی بخش کی آگ کون بجھائے گا؟' آپ پڑھ لیجئے اور آج کے نوائے وقت میں قاضی حسین احمد کا مضمون پڑھ لیجئے کہ کس طرح پر امن اور معصوم شہریوں پرگولہ باری ہورہی ہے۔

میں آپ علماے کرام کو یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ یہاں مسئلہ قطعاً خروج یا بغاوت کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ نقضِ عہد کا ہے اورعہدتوڑنے والا کون ہے جس نے صلح کے بعد عہد توڑا ہے،کیونکہ صلح کے بعد عہد توڑنے والوں کے بارے میں قرآنِ مجید یہی کہتا ہے کہ ان کے خلاف سب مسلمانوں کو اکٹھے ہوجانا چاہئے:
وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنۢ بَغَتْ إِحْدَىٰهُمَا عَلَى ٱلْأُخْرَ‌ىٰ فَقَـٰتِلُواٱلَّتِى تَبْغِى حَتَّىٰ تَفِىٓءَ إِلَىٰٓ أَمْرِ‌ ٱللَّهِ ۚ...﴿٩﴾...سورة الحجرات

اور


وَإِن نَّكَثُوٓاأَيْمَـٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِى دِينِكُمْ فَقَـٰتِلُوٓا أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ‌ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَـٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ ﴿١٢﴾ أَلَا تُقَـٰتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوٓا أَيْمَـٰنَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَ‌اجِ ٱلرَّ‌سُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّ‌ةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿١٣﴾قَـٰتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْ‌كُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ‌ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ ﴿١٤﴾ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿١٥...سورة التوبہ

میں حکومت یا زرداری کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتا البتہ بعض لوگ یہاں خروج کا مسئلہ پیداکر دیتے ہںم تومیں واضح کرنا چاہتا ہوں یہ خروج یا بغاوت کا مسئلہ بالکل نہیں ہے۔ اگر خروج کا کوئی مسئلہ ہے تو بلوچستان میں ہے، اگر کوئی بغاوت کا مسئلہ ہے تو ایم کیو ایم کی بغاوت کا مسئلہ ہے۔ سرحد میں صرف مسئلہ ایک ہی ہے کہ نظامِ عدل ریگولیشن میں شریعت کا نام آتا ہے اور امریکہ کا ایجنڈا یہ ہے کہ یہاں پورے پاکستان میں ہم نے ترکی کی طرح سیکولر نظام نافذ کرنا ہے۔لہٰذا شریعت کا نام جہاں آگیا، اس کے خلاف امریکہ اپنا ایجنڈا پورا کر رہا ہے اور ہم امریکہ کے ایجنٹ بن کے یہاں کام کر رہے ہیں ۔

اس لیے دانش مندی یہ ہوگی کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ ہمارے باہمی اختلافی مسئلے کیا ہیں ، ہم ان کو بعد میں حل کرلیں گے۔ان شاء اللہ! ہم آپس میں بیٹھیں گے، صوفی محمد کے ساتھ بھی بیٹھیں گے اور جوپاکستانی طالبان ہیں ، صوفی محمد کو واسطہ بنا کر ہم اُن کے ساتھ بھی بیٹھیں گے لیکن ہم ان شاء اللہ یہ ظلم نہیں ہونے دیں گے کہ پاکستان میں شریعت کا حوالہ ہی مٹا دیا جائے۔

یہاں اگر کوئی بغاوت ہو رہی ہے تو میں یہ نہیں کہتا کہ اس کی تائید کی جائے یا اس کو پھیلنے دیا جائے لیکن پاکستان کے موجودہ حالات میں فوجی کاروائی کوئی حل نہیں ہے۔ایسے ہی اگرچہ خود کش حملہ کرنے والے کھلے مجرم ہیں ۔لیکن ایک بات ذہن میں رکھیں کہ یہ وہ مجرم ہیں جس نے سب سے پہلے اپنے آپ کو ختم کیا ہے، ایسے مجرم کا نفسیاتی تجزیہ ضرور ہو نا چاہیے کہ اس کے اندر کیا محرومی اور مایوسی ہے؟ جب تک کسی کے اندر شدید محرومی(Frastration) اور مایوسی نہ پائی جائے، اس وقت تک کوئی شخص اپنے آپ کو ختم نہیں کرتا اور جو اپنے آپ کو ختم کرتا ہے، اس کو کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔ میں اس لیے بار بار اس بات کو ذکر کررہا ہوں کہ ان کومجرم سمجھنے کے باوجود ہمارا امن وسکون تب ہی لوٹے گا، جب ہم ان محرومیوں کا تدارک کریں گے۔ یہ مایوسی اجتماعی طور پر کیوں پھیل رہی ہے۔ محرومی کا احساس اتنا کیوں پھیل گیا ہے کہ لوگ اپنے آپ کو ختم کر نے کے لئے آمادہ ہو رہے ہیں ۔ جب تک ان وجوہات کا خاتمہ نہیں ہوتا، اس وقت تک یہ لوگ باقی اہل وطن کو بھی چین وسکون کا سانس نہیں لینے دیں گے۔ ہمیں دانش مندی سے اپنے حالات کا تجزیہ کرکے معقول حکمت ِعمل وضع کرنا ہوگی، تب ہی درپیش چیلنجوں اور ملکی سلامتی کے عظیم مقصد سے عہدہ برا ہوا جاسکتا ہے۔