خلافت میں خلیفہ کا تعین عوام کی بجائے اہل حل وعقدکرتے ہیں اور خلیفہ کے تعین کے لئے یہ اقدام 'بیعت خاصہ' کہلاتا ہے جو خلیفہ کی تعیناتی کے ساتھ اس کی اطاعت کی بیعت بھی ہوتی ہے جس کی توثیق و عہد بعد میں عامتہ المسلمین کی 'بیعت ِعامہ' کی صورت ہوتی ہے۔ لیکن خلیفہ کے درست تعین کا حقیقی دارومدار کسی بھی خارجی ودیگر منفعت کی بجائے دین الٰہی کے نفاذ کے لئے اَصلح ترین فرد کی صورت ہوتا ہے۔ یہ اصلح ترین فرد قریبی رشتہ دار بھی ہوسکتا ہے اور مسلمانوں میں سے کوئی موزوں ترین شخص بھی۔ مزید تفصیلات کے لئے علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب 'السیاسیة الشرعیة' اور مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی 'خلافت وجمہوریت' مطالعہ فرمائیں ۔ ح م

فطری امر ہے کہ حاکم قوم کے نظریات محکوموں پراثر انداز ہوتے ہیں ۔ انقلابِ فرانس کے بعد یورپی ریاستوں میں جمہوری نظام رائج ہوا تو آزادی، مساوات اور اُخوت کے دلفریب نعروں کے اثرات محکوم مسلم ریاستوں کے تعلیم یافتہ طبقہ میں سرایت کرگئے جنہوں نے مغربی نظامِ سیاست کو بنیادبنا کر اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جس کا نتیجہ یہ برآمدہوا کہ اُنہوں نے خلافت ِراشدہ کے دور کو جمہوری قرار دیا اور ان کے بعد مسلم حکمرانوں کو ملوکیت کاطعنہ دے کر اسلامی حکومت تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

تاریخ اسلام کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم حسن،قاہرہ (پی ایچ ڈی لندن)نے تجزیہ کیا کہ
''آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفاے راشدین کا دور آیا، اس عہد میں فرمانروا کا انتخاب شوریٰ کے ذریعے کیا جاتاتھا، لیکن بنی اُمیہ اور بنی عباس کے عہد ِخلافت میں یہ جمہوری طریقہ خود سری اور موروثی حکومت کی شکل میں تبدیل ہوگیا۔ اس زمانہ میں شوریٰ کا وجود ختم ہوگیا اور انتخاب صرف نام کو رہ گیا۔فقہا نے اسی بادشاہی نظامِ حکومت کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے اس قسم کی احادیث سے استدلال کی کوشش کی ہے کہ ''خلافت میرے بعد چالیس سال تک رہے گی، پھر جبرواستبداد کی حکومت ہوجائے گی۔''

سرٹامس آرنلڈ کاخیال ہے کہ اس قسم کی بہت سی احادیث اس نظامِ استبدادی کی صحت کو ذہن نشین کرانے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف غلط منسوب کردی گئی ہیں اور فقہاے اسلام نے اسی نظریہ کی تائید میں لکھاکہ ائمہ قریش سے ہوں گے۔''1

مصر میں پروان چڑھنے والے نظریات برصغیر میں نمودار ہوئے، چند سکالر صاحبان نے یورپی تہذیب و تمدن پر تنقید کی، لیکن مغربی نظامِ سیاست کو اسلامی لبادہ پہنانے میں عرق ریزی کی جن سیعصری تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والا طبقہ بھی متاثر ہوا اور اُنہوں نے برملا اظہار کیا :
''غلط بات ہے کہ سقوطِ خلافت 1924ء میں ہوا۔ سقوطِ خلافت تو اسی وقت ہوگیا جب دورِ خلافت کو منقطع کردیا گیا۔''2

جن خلفا کے دور میں مسلمانوں نے ہندوستان، سپین، خراسان اور افریقہ میں اسلام کا پرچم لہرایا۔ حیرت ہے کہ جدت پسند مسلم سکالر اُن کو اس لیے خلیفہ تسلیم نہیں کرتے کہ اُن کو عوام نے منتخب نہیں کیا۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ جمہوری نظام کے طور طریقے کیا مسلمانوں کی اختراع ہے؟

'جمہوریت'مسلمانوں کا متعارف کردہ نظام نہیں ۔
عالم عرب کے معروف سکالر ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے آزادیٔ رائے اور محاسبہ کے واقعات کی آڑ میں جمہوری نظام کے حق میں دلائل دیئے ہیں ۔ لیکن اس امر کا اعتراف انہوں نے بھی کیا ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کی اختراع نہیں ہے :
''جمہوریت کو جمہوریت کا نام عطا کرنے والے اور اس کے اُصول و قواعد وضع کرنے والے اگرچہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہیں ، لیکن اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم غیرقوموں سے اچھی باتیں سیکھیں اور اُنہیں اختیار کریں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی ہے کہ حکمت و دانائی کی باتیں مؤمن کی گم شدہ دولت ہے جہاں سے اُنہیں یہ دولت مل جائے اُنہیں اختیار کرنا چاہئے چنانچہ حکمت و دانائی کی باتیں اور نفع بخش چیزیں اگر ہمیں غیر مسلموں سے ملتی ہیں تو ہمیں اُنہیں اختیار کرناچاہئے۔ یہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے اور اسی پر حضورؐ اور خلفاے راشدین کا عمل تھا۔'' 3

علامہ نے متعدد واقعات پیش کرکے اُمت ِمسلمہ کو دعوت دی ہے کہ غیرمسلموں سے حکمت کی باتیں حاصل ہوجائیں تو اُنہیں اختیار کرلیناچاہئے تاہم قرضاوی صاحب کی مذکورہ عبارت اس بات کا بھی بین ثبوت ہے کہ خلفاے راشدین کا دور جمہوری نہ تھا۔

اس جمہوری ملک میں ہر بالغ عاقل مسلمان قومی انتخاب میں حصہ لے سکتا ہے اوراپنی رائے کااظہار کرسکتا ہے۔ جمہوری نظام میں کثرتِ رائے معیارحق ہے۔ مذکورہ اُصول کومدنظر رکھ کر خلفاے راشدین کے انتخاب کا مطالعہ کریں ۔ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو سعد بن عبادہ نے اَنصاریوں کو سقیفہ بن ساعدہ میں امر خلافت طے کرنے کے لیے اکٹھا کیا۔ تب حضرت ابوبکرؓو عمرفاروقؓ دیگر تین ساتھیوں کو لے کر وہاں پہنچے۔ انصار کے خطیب (ثابت بن قیسؓ) نے کہا کہ ہم اللہ کے دین کے معاون اور اسلام کی فوج ہیں اور اے مہاجرین! تم تھوڑی سی جماعت ہو جواپنی قوم قریش سے نکل کر ہم میں آئی ہو اس کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی تقریر میں انصارکی خدمات کا اعتراف کیااور سعدؓ بن عبادہ کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنایا:
''اے سعد! تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا... اس وقت تم موجود تھے... کہ قریش امر خلافت کے والی ہیں ، اُن کے نیک نیکوں کا اور فاجر فاجروں کا اتباع کرتے ہیں ۔'' تو سعد نے جواب دیاکہ آپ نے سچ کہا کہ ہم وزیرہوں گے اور تم امیر۔''

امامت قریش میں ہوگی!
خاتم النّبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سن کر اَنصارنے اپنی گردنیں جھکا دیں اور اپنے سردار سے آنکھیں پھیر کر حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کرلی۔

انصار کومذکورہ حدیث کی صحت پر اتنا اعتماد و یقین تھا کہ وہ تاریخ کے کسی موقع پر خلافت کے حصول کے لیے اُمیدواربن کر سامنے نہیں آئے۔ لیکن لندن میں پی ایچ ڈی کرنے والے مصری سکالر ڈاکٹر حسن ابراہیم نے انگریز محقق سرٹامس آرنلڈ کے کہنے پر اس کی صحت سے انکار کردیا چونکہ جمہوری نظام میں ہر شہری صدارتی اُمیدوار بننے کا قانونی حق رکھتا ہے، لیکن اس حدیث نے خلافت کو قریش تک محدود کرکے اس جمہوری اُصول کی نفی کی ہے ، اس لیے مغربی فلسفہ و فکر سے متاثر افراد نے انکار کردیا۔

امام ابن خلدون نے الأئمة من قریشکہ امام قریش سے ہوں گے، کے ضعف پر اپنے مقدمہ میں بحث نہیں کی۔ بلکہ اس شرط کی حکمت پر روشنی ڈالی:
''قریش کی زبردست عصبیت کے ماتحت امام میں قریش النسب ہونے کی شرط لگی تاکہ پوری ملت اتفاق و اتحاد کے رشتہ میں منسلک ہوجائے اور انتظام و انصرام بہ احسن وجوہ تکمیل پائے چنانچہ جب امارت و امامت قریش کے ہاتھ میں آئی تو قبائل وفد نے اس کا ساتھ دیا تو پھر سارا عرب قریش کے سامنے سرنگوں ہوا۔ پھر اسلامی فوجوں نے دور دراز ملکوں کو اپنے پاؤں سے روند ڈالا۔عہد ِبنی اُمیہ اور بنی عباس میں امامت کی یہی بڑھتی ہوئی شان و شوکت باقی رہی یہاں تک کہ خلافت کمزور پڑ گئی اور عرب عصبیت کا شیرازہ بکھرا۔''4

تیرہ صدی تک کسی محدث یا فقیہ نے جن احادیث کو موضوع نہیں کہا، چودہویں صدی میں مصری ڈاکٹر حسن ابراہیم نے جمہوریت کی نفی کرنے والی حدیث کو سرٹامس آرنلڈ کا ریمارکس دے کر لکھ دیا کہ وہ ''حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے غلط منسوب کردی گئی ہیں ۔'' اسلامی تاریخ پر مغرب میں ریسرچ کرنے کانتیجہ ہے کہ اُنہوں نے احادیث کی صحت کو پرکھنے کے لیے مغربی فکروفلسفہ کو کسوٹی بنایا۔ جدیدیت کی یہی لہر مسلمانوں کے فکری زوال کا سبب ٹھہری۔

خلفاے راشدین کا تعین شورائیت سے ہوا
واضح رہے کہ خلفاے راشدین مجلس شوریٰ کے مشورہ سے نامز د ہوئے، عوام کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوئے۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں ہنگامی حالات کے موقع پر حضرت ابوبکرؓ کی عزیمت اور تحمل مزاجی اور بشیر بن سعد انصاری کے خلوص نے خاطر خواہ اثر کیا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے کہا:''یہ ابوعبیدہؓ اور عمر ؓموجود ہیں ، ان میں سے جس کے ہاتھ پر چاہو بیعت کرلو۔ اس پرحضرت عمرؓ اُٹھے اورحضرت ابوبکرؓ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا: ''آپ ہم سب میں سے بہتر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریب ہیں ، اس لیے ہم سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں ۔ یہ سنتے ہی سعد بن عبادہؓ کے سوا تمام حاضرین نے اس وقت حضرت ابوبکرؓ کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ دوسرے دن مسجد ِنبوی میں اعلانیہ بیعت ہوئی۔

اکثریت کا دعویٰ کرنے والے انصار قبیلہ قریش کی عرب میں حیثیت اور ابوبکرؓ کی فضیلت سے متعلق دلائل سن کر حق خلافت سے دستبردار ہوگئے، اگر خلفاء راشدین کا دور جمہوری ہوتا تو انصار یاقریش میں سے خلافت کے اعلانیہ اور خفیہ دعویدار رائے شماری کا مطالبہ ضرور کرتے۔

حضرت ابوبکرصدیقؓ نے اپنی مرض الموت میں اپنے بعد حضرت عمرؓ کو خلیفہ مقرر کرنے کا ارادہ کیا تو شوریٰ سے مشورہ کیا تو حضرت عثمان ؓ و دیگر ساتھیوں نے تائید کی کہ اُن کا باطن اُن کے ظاہر سے اچھا ہے۔'' جبکہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓاور حضرت طلحہؓ نے مزاج میں سختی کا شکوہ کیا تو حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ''وہ اس لیے تھی کہ میں نرم تھا، جب خلافت کا بوجھ سر پر پڑے گا توسب سختیاں دور ہوجائیں گی۔'' لیکن تاریخ گواہ ہے کہ کسی صحابی نے یہ اعتراض نہیں کیا کہ ''آپ خلیفہ کو نامزد کیوں کررہے ہیں ، خلیفہ نے تو تمام مرد و عورتوں پر حکومت کرنی ہے، اس لیے وہ ووٹنگ کے ذریعے خود ہی کسی کو خلیفہ خود منتخب کرلیں گے۔'' اگر کسی نے شکایت نہیں کی تو ثابت ہوا کہ نامزدگی جرم نہیں ۔ مسجد ِنبوی میں بیعت ِعام کو ووٹنگ سے تشبیہ دینا نامناسب ہے۔ حضرت عمرؓ کے مخالف تو کوئی اُمیدوار تھا ہی نہیں جس کو ووٹ دیتے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسجد ِنبوی میں بیعت ِعام اطاعت کااظہار تھی، رائے شماری ہرگز نہ تھی۔

حضرت عمرفاروقؓ آخری وصیت فرمارہے تھے تو لوگوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! کسی کو خلیفہ بنا جایئے۔ آپ نے کہا کہ خلافت کا حق دار ان چند لوگوں کے سوا کوئی نہیں جن سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم راضی رہے۔ اُنہوں نے عشرہ مبشرہ میں سے چھ صحابیوں کا نام لیا۔ حضرت عمرؓ کے بعد زبیرؓ نے حضرت علیؓ، طلحہؓ نے حضرت عثمانؓ کو اور سعدؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو اختیار دے دیا۔ پھر عبدالرحمن ؓ نے دونوں سے کہا : ''کیا تم مجھے مختار بناتے ہو، خدا کی قسم میں اُسی کو خلیفہ بناؤں گا جو افضل ہوگا۔''

حضرت عمرفاروقؓ نے بدری و بیعت رضوان کے موقع پر مغفرت کا سر ٹیفکیٹ حاصل کرنے والے صحابہ کرامؓ کو حق خلافت سے محروم کرکے صرف چھ افراد کو نامزد کیا۔جمہوری اُصول کے مطابق کیا یہ درست فیصلہ تھا؟ حضرت عمر فاروقؓ کے عہدمیں مردم شماری کا کام علیحدہ شعبہ کی حیثیت اختیار کرچکا تھا۔چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے جمہوری انداز میں یہ کیوں نہیں کہا کہ میں اُس کوخلیفہ بناؤں گا جس کو مسلمان کثرتِ رائے سے منتخب کریں گے؟

حضرت عمرفاروقؓ کے دور میں اسلامی سلطنت سوالاکھ مربع میل پر پھیلی ہوئی تھی، لیکن حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ صرف اہل مدینہ کے چیدہ چیدہ احباب سے مسلسل تین دن رات مشورہ کرتے رہے، وہ احباب کی رائے کو حضرت عثمان ؓ و حضرت علیؓ کے حق میں گنتے نہیں رہے بلکہ علم و شعور کی کسوٹی پر پرکھتے رہے۔ آخر کار اُنہوں نے اس بنا پر حضرت عثمان ؓ کو منتخب کیا تھا کہ وہ کتاب و سنت کے علاوہ پہلے دونوں خلفا کے نظائر کابھی اتباع کریں گے، یہ بات حضرت علیؓ نے تسلیم نہیں کی تھی۔

ظاہر ہے کہ وسیع و عریض سلطنت میں لاکھوں نفوس پر مشتمل آبادی میں سے خلیفہ کے چناؤ کے لیے فردِ واحد کو ثواب دیدی اتھارٹی دینا جمہوری قواعد و ضوابط کے عین منافی ہے۔

شہادتِ عثمانؓ کے وقت بلوائی مدینہ پر چھائے ہوئے تھے اور پورے شہر کا نظم و نسق ان میں سے ہی ایک شخص غافقی بن حرب کے ہاتھ میں تھا۔ یہ لوگ حضرت عثمان ؓ کی شہادت پر تو متفق تھے، لیکن آئندہ کس کو خلیفہ مقرر کریں ؟ اس بارے اختلاف تھا۔ مصری حضرت علیؓ کے حق میں تھے، کوفی حضرت زبیرؓ کو چاہتے تھے اور بصری لوگ حضرت طلحہؓ کو امیر بنانا چاہتے تھے مگر تینوں صحابہ کرامؓ نے ان کے مطالبہ کو مسترد کردیا۔ پھر وہ یکے بعد دیگرے سعد بن ابی وقاصؓ اور عبداللہ بن عمرؓ کے پاس گئے۔ اُنہوں نے صاف انکار کردیا کہ ہمیں امارت کی کوئی ضرورت نہیں ۔ پس ان لوگوں کوخطرہ لاحق ہوا کہ اگر ہم شہادتِ عثمانؓ کے بعد بغیر امیر کے تقرر کے اپنے شہروں کو چلے گئے تو ہماری خیر نہیں ، چنانچہ ان لوگوں نے اہل مدینہ سے کہا کہ تمہیں دو دن کی مہلت ہے۔ اس دوران کوئی امیر مقرر کرلو، ورنہ اگلے دن ہم علیؓ، زبیرؓ اور طلحہؓ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگوں کو قتل کردیں گے۔ اس کے بعد وہ حضرت علیؓ کے پاس آئے، کہنے لگے، ہم آج امارت کے لیے آپ سے زیادہ مناسب کوئی آدمی نہیں سمجھتے۔ مسابقت فی الاسلام کی وجہ سے بھی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرابت کی وجہ سے بھی۔ حضرت علیؓ نے کہا: ''ایسانہ کرو، میں امیر بننے سے زیادہ وزیر بننا پسند کرتاہوں ۔'' لوگوں نے کہا خدا کی قسم! ہم تو آپ ہی کی بیعت کریں گے۔ حضرت علیؓ نے کہا تو پھر یہ مسجد میں ہوگی۔

وہ حضرت علیؓ کو ہمراہ لے کر مسجد ِنبوی آئے۔ حضرت علیؓ کی خواہش کے باوجود اہل شوریٰ اور اہل بدر کے جمع ہونے کا موقع میسرنہ آسکا۔ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ کے بقول:
''اُنہوں نے آپ سے اصرار کیا اور اشتر نخعی نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کی بیعت کرلی اور لوگوں نے بھی آپ کی بیعت کی۔''5

محاصرہ کے دوران مدینہ کے بہت سے افراد حالات کی سنگینی سے بچنے کے لیے دیگر علاقوں میں منتقل ہوگئے، تاہم جو کبار صحابہ کرامؓ موجود تھے، ان کا بلوائیوں سے اصرار تھاکہ مجلس شوریٰ خلیفہ کا تقرر کرے۔ تاہم حضرت علیؓ نے مدینہ منورہ کو مزید خون خرابہ سے بچانے کے لیے بیعت لینے کی حامی بھرلی۔ ماسواے چند صحابہ کے مدینہ کے لوگوں کی اکثریت نے حضرت علیؓ کی بیعت کرلی۔اُن کااجتہاد درست تھا۔ اس میں جمہوری اُصول کثرتِ رائے کی تو تائید ہوتی ہے، لیکن جمہوریت کے دوسرے پہلوآزادنہ اور خفیہ ماحول کی بہر حال نفی ہوتی ہے۔

جب ابن ملجم نے حضرت علیؓ کو تلوار ماری تو لوگوں نے آپ سے کہا: امیرالمومنین! خلیفہ مقرر کردیجئے تو آپؓ نے فرمایا: ''میں خلیفہ مقرر نہیں کروں گابلکہ تم کواس طرح چھوڑوں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو چھوڑا تھا۔ یعنی خلیفہ مقرر کئے بغیر۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے تم سے بھلائی کرنی چاہی تو وہ تم کو اسی طرح تمہارے بہترین آدمی پر اکٹھا کردے گا جیسے اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تم کو تمہارے بہترین آدمی پراکٹھا کردیاتھا۔''6

جندب بن عبداللہ نے عرض کی:امیرالمومنین! اگر آپ فوت ہوجائیں تو ہم حضرت حسنؓ کی بیعت کرلیں ؟ تو آپ نے فرمایا: ''میں نہ تمہیں حکم دیتا ہوں اور نہ منع کرتا ہوں ، تم بہتر سمجھتے ہو اور جب حضرت علیؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ بکثرت لا الہ الا اﷲ کا ورد کرنے لگے اور اس کے سوا آپ کچھ نہ بولتے تھے۔''7

جب حضرت حسنؓ اپنے والد ِمکرم حضرت علیؓ کو دفن کرنے سے فارغ ہوئے تو سب سے پہلے قیس بن سعد بن عبادہ نے آگے بڑھ کر آپ سے کہا: اپنا ہاتھ پھیلائیے، میں کتاب اللہ اور اُس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر آپ کی بیعت کروں ۔ حضرت حسنؓ نے سکوت اختیارکرلیا تو اُس نے آپؓ کی بیعت کرلی۔ پھر اس کے بعد لوگوں نے آپ کی بیعت کی۔''8

تبصرہ وتجزیہ
پہلی روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ولی عہد نامزد کرنے سے اجتناب کیا۔ جب دوسری دفعہ عقیدت مند نے حضرت حسنؓ کا نام لے کر دریافت کیا تو مذکورہ بالا جواب ارشاد فرمایا۔ چونکہ اس سے تاثر ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان مشورہ سے منتخب کریں ، اس بنا پر عصر حاضر کے مؤرخین خلافت ِحسنؓ کے ضمن میں اسی کو ترجیح دیتے ہیں ، تاہم اس سے دوسرا پہلونکلتا ہے کہ اگر باپ کے بعد بیٹے کوخلیفہ یا ولی عہد نامزد کرنا شریعت ِمحمدیؐ میں ناجائز عمل ہوتا توسائل کودو ٹوک الفاظ میں منع کردیتے اور وصیت نامہ میں جہاں دونوں بیٹوں کو اللہ کا تقویٰ اختیارکرنے اور فواحش سے اجتناب کرنے کی وصیت کی وہاں اُن کو امورِ خلافت سے پرہیز کرنے کی وصیت کردیتے۔

حضرت عمرؓ سے بعض لوگوں نے عبداللہ بن عمرؓ کو خلیفہ نامزد کرنے کو کہا تو اس موقع پر حضرت عمرؓ اپنے بیٹے کی جذباتی طبیعت اور آخرت کی جواب دہی کا جواز پیش نہ کرتے بلکہ سختی سے منع کردیتے کہ نسلاً خلافت منتقل کرنا شریعت میں ناجائز ہے۔

حضرت حسنؓ شوریٰ کے رکن قیس بن سعد کی تائید سے بیعت لینے پر رضا مند ہوئے، اس کے بعدتمام لوگوں نے آپؓ کی بیعت کرلی۔ یہ طرزِ عمل اُمت ِمسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔ کیونکہحضرت حسنؓ کا دور بھی خلفاے راشدین میں سے ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام حضرت سفینہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''میرے بعد خلافت تیس سال ہوگی پھر بادشاہت ہوگی۔'' اور حضرت حسنؓ بن علیؓ کی خلافت سے تیس سال مکمل ہوگئے۔آپ ربیع الاوّل 41ہجری میں حضرت معاویہؓ کی خاطر خلافت سے دستبردار ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے یہ پورے تیس سال بنتے ہیں کیونکہ آپؐ نے ربیع الاوّل 11 ہجری میں وفات پائی۔'' 9

خلفاے راشدین کا تیس سالہ دور 'خلافت علیٰ منہاجِ نبوت' پر تھا، اُن کا طریق کار صحیح وکامل معنوں میں طریق نبوت کے مطابق تھا۔ مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے منہاجِ نبوت کی اہمیت سے آگاہ فرما دیا: (علیکم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدین)10

حضرت علیؓ کے بعد اُن کے بیٹے حضرت حسنؓ کاانتخاب اور مدتِ خلافت بھی منہاجِ نبوت کا حصہ ہے اورکسی صحابی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔ چنانچہ باپ کے بعد بیٹے میں امارت کے شرعی اوصاف ہوں تو اُمت کے اتحاد ویکجہتی کی خاطر اُس کو خلیفہ منتخب کرنا شرعاً ناجائز نہیں لیکن جمہوریت کے دعویدارمسلم مفکرین کے نزدیک یہ ملوکیت ہے۔یہ طرزِ عمل سیاسی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ سے حضرت حسنؓ تک خلفاے راشدین کا انتخاب دارالخلافہ میں مقیم شوریٰ کے مشورہ اور مسلمانوں کی اطاعتی بیعت سے ہوا۔ انتخاب کے دوران دیگر محکوم علاقوں کے مسلم مدبرین کے مشورہ اور بالغ رائے دہی کا ذکر تاریخ میں نہیں ہے۔ مجلس شوریٰ کے ارکان بھی بالغ رائے دہی کی بنیاد پر منتخب نہیں ہوئے۔ بلکہ وہ اہلیت و قابلیت اور دعوت و عزیمت کی قربانیوں کی بدولت معروف ہوئے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے معاملات باہمی مشورے سے طے کریں تاکہ پیش آمدہ مسئلہ کے تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور و فکر کیا جائے کہ کون سا پہلو اقرب الیٰ الحق ہے اور کتاب و سنت سے مطابقت رکھتا ہے۔ خلفاے راشدین کے دور میں شورائی انداز میں فیصلے ہوتے رہے جمہوری دور کی طرح سروں کوگننے کا رواج قطعاً نہ تھا۔

نظامِ خلافت تدریجی انداز میں زوال پذیر ہوا !!
بنو اُمیہ (661ئ) سے لے کر عثمانیہ دور (1924ئ) تک خلافت ِاسلامیہ قائم رہی، لیکن جدید مسلم مفکرین اس کو اسلامی حکومت تسلیم نہیں کرتے۔

'اسلامی حکومت'سے کیا مراد ہے؟

بنی نوع انسان کی اجتماعی زندگی کے لیے حکومت کا قیام ضروری ہے، وہ حکومت عوام کی عزت، جان و مال کے تحفظ کے لیے قوانین وضع کرتی ہے۔ جب حکومت پرفائز اپنی مرضی سے قوانین بنائے تو شخصی حکومت ہوئی جب درباریوں کے مشورہ سے قانون سازی کرے تو اَشرافیہ کہلائی اور جب عوام کی منشا کے مطابق قانون تشکیل کرے تو اسے عوامی حکومت کہا جاتاہے۔

مذکورہ فلاحی حکومتوں کو مملکت ِسیاسیہ تو کہہ سکتے ہیں ، لیکن دینی نہیں ، کیونکہ یہ انسانی عقل کے مطابق قانون وضع کرتی ہیں اور ان کامقصود یہ ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے منافع حاصل کرسکے اوراس کی مضرتوں سے بچ سکے۔

 علامہ ابن خلدون 'دینی حکومت' کی تعریف کرتے ہیں :
''اگر یہ قوانین اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرتب و وضع ہو کر کسی رسول یا نبی کے ذریعے مخلوق تک پہنچیں تو اس کو ہم 'سیاست دینی' سے تعبیر کریں گے... نظامِ خلافت اس سے عبارت ہے کہ سب کو شرعی نقطہ نظر کے مطابق زندگی گزارنے پر آمادہ کیا جائے جس سے آخرت کی سعادت بھی نصیب ہو اور دنیا کی وہ مصلحتیں بھی بہم پہنچیں جو سعادت اُخروی میں معاون و مددگار رہیں ۔''11

عصر حاضر کی مسلم حکومتیں خواہ وہ آمرانہ ہوں یا عوامی طرز کی وہ انسان کی مادی فلاح کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کرتی ہیں اور کہیں آخرت کی کامیابی کے لیے روحانی فلاح کا تصور تو ہرگز نہیں ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے ائمہ کے اقوال کی روشنی میں نظامِ خلافت کی تعریف کی ہے:
''مسلمانوں کی ایسی حکومت جو ارکانِ اسلام کو قائم رکھے، جہاد کا سلسلہ و نظام درست کرے، اسلامی ملکوں کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے اور ان کاموں کے لیے فوجی قوت کی ترتیب اور لڑائی کا سامان وغیرہ جوکچھ مطلوب ہو، اُس کاانتظام کرے، مختصر یہ کہ اسلام کا خلیفہ وہ حکمران ہوسکتاہے جواسلام و ملت کے لیے دفاع و جہاد کی خدمت انجام دے سکے۔''12

جہاں تک خلافت کی پیش نظر تعریف اورخلیفہ کے فرضِ منصبی کا تعلق ہے تو خلافت ِعثمانیہ تک مسلم حکومتیں اسلامی تھیں جنہوں نے اُمت ِمسلمہ کے دفاع اور اسلام کی سربلندی کے لیے جہاد کا فریضہ سرانجام دیا۔

خلافت ِاسلامیہ کے دور تک وسیع و عریض علاقے فتح ہوئے جہاں کی مقامی آبادی اسلام کے نظامِ عدل سے متاثر ہوکر مسلمان ہوئی، لیکن نئی نسل اس سے بے خبر ہے کیونکہ ثانوی درجہ تک علم تاریخ کا نصاب نو آبادیاتی دور کی تحریک ِآزادی تک محدود ہوکررہ گیا ہے۔ یونیورسٹی سطح پر بنواُمیہ اوربنوعباسیہ کی تاریخ شامل نصاب رہی ہے، لیکن عثمانیہ دور کی تاریخ سے نئی نسل کو محروم رکھا گیا۔ بنو اُمیہ اور عباسیہ کے دور میں فتوحات کا دائرئہ کار ایشیا اورافریقہ تک رہا، لیکن عثمانی ترکوں نے یورپ کے مرکز میں جاکر 'اللہ اکبر' کی صدا بلند کی۔

ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں :
''عثمانی ترک نہ تو عرب پرقانع ہوئے نہ ایران و عراق پر، نہ شام و فلسطین کی حکومت اُن کو خوش کرسکی، نہ وسط ایشیاکی بلکہ تمام مشرق سے بے پروا ہوکر یورپ کی طرف بڑھے۔ اُس کے عین قلب (قسطنطنیہ) کو مسخر کرلیا اور اور اس کی اندورنی آبادیوں تک میں سمندر کی موجوں کی طرح در آئے حتیٰ کہ دارالحکومت آسٹریا کی دیوار اُن کے جولانِ قدم کی ترکتازیوں سے بارہا گرتے گرتے بچ گئی۔ ترکوں کا یہ وہ جرم ہے جو یورپ کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کاکوئی موجودہ حکمران خاندان اس جرم (فتح یورپ) میں اُن کا شریک نہیں ہے۔ اس لیے ہرحکمران مسلمان اچھا تھا جو یورپ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا مگر یہ ترک وحشی و خونخوار ہے اس لیے کہ یورپ کا طلسم سطوت اُس کی شمشیر بے پناہ سے ٹوٹ گیا۔''13

''مسلمانوں کے جس دورِ خلافت کو جدید مفکر اسلامی حکومت تسلیم نہیں کرتے، اس دور میں امریکی جہازمسلمانوں کی اجازت کے بغیرسمندر میں حرکت نہیں کرسکتے تھے۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ ''محض تقریباً دو سو سال قبل عثمانی خلیفہ سلیم سوم کے دورِ حکومت میں خلافت کا الجزائر کا گورنر اس وقت کے امریکہ سے سالانہ چھ سو بیالیس ہزار ڈالر سونے کی صورت میں اور بارہ ہزارعثمانی سونے کے سکے بطورِ جزیہ وصول کرتا تھا۔ اس ٹیکس کے جواب میں الجزائر میں امریکی قیدیوں کی رہائی اور امریکی جہازوں کی بحرالکاہل اور بحرقلزم سے حفاظت کے ساتھ گزرنے کی گارنٹی دی جاتی تھی کہ عثمانی خلافت ان پر حملہ نہیں کرے گی۔''14

اورآج افسوس کن صورتحال یہ ہے کہ امریکی بحری بیڑے مسلم بندرگاہوں پر لنگرانداز ہیں اور وہ افغانستان اور عراق پر میزائل داغ رہے ہیں ۔

دورِ خلافت میں قائم وتابندہ رہنے والی حمیت ِاسلامی وہ بنیادی جرم تھا جس کو مغرب نے معاف نہیں کیا۔ اُنہوں نے سازشی جال پھیلا کر خلافت ِعثمانیہ کو پارہ پارہ کردیا۔ اگر جمہوری نظام میں ملت ِاسلامیہ کی یکجہتی و سلامتی اور اسلام کی عظمت و شرکت برقرار رہ سکتی تو ہمارے دشمن نظامِ خلافت ختم کرکے ترکی میں جمہوریت کو قطعاً رائج نہ کرتے۔

مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
''خلافت تیس سال رہے گی۔ خلفاے راشدین کی حکومت11 ہجری سے 41ہجری تک رہی۔ وہ دراصل خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کی بشارت تھی جس کے بارے خود شارع علیہ السلام نے وضاحت فرما دی: (علیکم بسنتي وسنة خلفاء راشدین)15
تم پر میرا اور خلفاء راشدین کاطریقہ لازم ہے۔''

دورِ نبوی کے بعد خلفاے راشدین کاطرزِ عمل مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ جن کو بنیادبنا کر قیامت تک رونما ہونے والے واقعات کا حل تلاش کرسکتے ہیں ۔ لیکن اس سے قطعاً یہ مراد نہیں کہ تیس سال کے بعد نظامِ خلافت یکسر ختم ہوگیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت دائمی، ابدی اور عالمی حیثیت کی حامل ہو، پھر یہ کہنا کہ آپ کا رائج کردہ نظام 30 سال تک رہا اس کے بعد یکسر ختم ہوگیا، یہ نظریہ عقیدہ ختم نبوت کے منافی ہے۔

صحابہ کرامؓ ،تابعین رحمۃ اللہ علیھم اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیھم جن کے اَدوار کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بالترتیب بہترین زمانہ قرار دیا ہو، یہ کیسے ممکن ہے کہ اُن کے سامنے نظامِ خلافت کلی طورپر منہدم ہوگیا ہو اور وہ خاموش رہے ہوں ؟ اگر باپ کے بعد بیٹے کی جانشینی شرعی جرم ہوتاتو قرونِ اولیٰ کے مسلمان ضرور مزاحمتی کارروائی کرتے۔

بنو اُمیہ سے عثمانیہ دور تک محدثین وفقہاے کرام نے اسلام کی سربلندی کے لیے عزیمت کی داستان رقم کی۔ یہ درست ہے کہ قبائلی عصبیت کی بنا پر بغاوتیں ہوئیں ،کہیں لہوولعب کو ہدف بنا کر مخالفت کی گئی، لیکن کسی تحریک نے موروثی خلافت کے خاتمہ کے ایشو نہیں بنایا۔ کیاوہ سب شریعت کے بنیادی فرض کی تکمیل سے غافل رہے۔ ملت ِاسلامیہ کے عظیم فاتح حکمرانوں کے تاریخی کردار کو داغ دار کرکے نئی نسل کو اسلاف سے متنفر کرنا اسلام کی خدمت نہیں بلکہ مغرب نوازی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔

اہل مغرب کے پرستار اعتراض کرتے ہیں کہ بعد کے دورِ حکومت میں جمہوری روح نہ تھی، وہ جمہوریت کی ماں برطانوی حکومت پراُنگلی کیوں نہیں اٹھاتے کہ تمہارے ہاں آئینی طور پر بادشاہت کیوں قائم ہے؟

عام مشاہدہ کی بات ہے کہ کسی صوفی یا عالم نے دین کی خدمت کی یا مسجدو مدرسہ قائم کیا تو عموماً اس کی مسند یاادارہ کی ذمہ داری اس کے بیٹے کے سپرد ہوتی ہے۔ کیونکہ باپ کے بعد اہل بیٹے کو منتقل کرنے میں حکمت ِعملی یہ ہوتی ہے کہ جماعت ؍حلقہ میں یکجہتی و سلامتی کو خطرہ لاحق نہ ہو۔ باپ کے بعد بیٹے کی جانشینی نے خلافت کو ملوکیت میں منتقل نہیں کیا بلکہ یہ تدریحی عمل سے ہوا۔ حضرت عمر فاروقؓ کے دورمیں جو استحکام تھا، وہ عثمان غنیؓ کے آخری دور میں نہ رہا۔ بیرونی فتوحات کا سلسلہ حضرت عثمانؓ کے دور تک جاری رہا وہ حضرت علی المرتضیٰؓ کے دور میں رک گیا۔ ابوالکلام آزاد اس تدریجی عمل کی وضاحت یوں کرتے ہیں :

''نبوت و رحمت کی برکات کی محرومی و فقدان کا ایک تدریجی تنزل تھا۔ اور بدعات و فتن کے ظہور و اِحاطہ کی ایک تدریجی ترقی تھی جو حضرت عثمان ؓ کی شہادت سے شروع ہوئی اور جس قدر عہد ِنبوت سے دوری بڑھتی گئی، اتنی ہی عہد ِنبوت اور خلافت و رحمت کی سعادتوں سے اُمت محروم ہوتی گئی۔ یہ محرومی صرف امامت و خلافت کبریٰ کے معاملہ میں ہی نہیں ہوئی بلکہ قوام و نظام امت کے مبادیات و اساسات سے لے کر حیاتِ شخصی و انفرادی اعتقادی و عملی جزئیات تک ساری باتوں کا یہی حال ہوا۔'' 16

تابعین کا زمانہ خوب ہے، لیکن اس کاصحابہ کرامؓ کے دور سے موازنہ کرنا نامناسب ہے، اس طرح بنواُمیہ کے دور کا خلفاے راشدین سے تقابلی جائزہ کرنا غیر دانش مندانہ فعل ہے، کیونکہ خلفاے راشدین کا دور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کا عکس ہے، البتہ ملوکیت کاموازنہ کرنا چاہیں تو آپ امن و انصاف ، دعوتِ دین، اُمت ِمسلمہ کا دفاع اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کو بنیاد بنا کر اس جمہوری دو رسے موازنہ کریں جو خلافت کے انہدام کے بعد مسلم ممالک میں رائج ہوا۔

مثلاً دورِ خلافت میں مساجد میں شرعی عدالتی فیصلے ہوتے تھے، آج عدالتوں میں ۔ اُس دورمیں اسلامی فقہ کو اتھارٹی حاصل تھی، آج عوامی تھانوں کوہے۔ اس دور میں اسلامی قانون کے ماہر جج مقرر ہوتا تھا، آج مغربی قانون کا ماہر۔ یہ درست ہے کہ دورِ خلافت میں دین و دنیا میں تدریجی عمل سے خلیج حائل ہوئی، لیکن جمہوری دور نے ان کے مابین دیوارِ چین حائل کردی ہے۔

بنو اُمیہ سے عثمانیہ دور تک نیک و بد حکمران آتے رہے تاہم کسی خلیفہ نے اسلام کے منافی قدم اُٹھایا یا قرآن و سنت کی من مانی تعبیر کی تو وہ راہِ حق میں عزیمت کا پہاڑ بن گئے۔ کوڑے کھا کر اَدھ موئے ہوگئے۔ جیل کی کال کوٹھڑیوں سے جنازے نکلے لیکن خلافت کی ایک ہی خاندان کی منتقلی پر کسی امام یا محدث نے مخالفت نہیں کی۔ اور وسیع و عریض سلطنت میں نہ سہی کم از کم دارالخلافہ میں بالغ رائے کی بنیاد پر انتخابات کرانے کامطالبہ کبھی نہیں کیاگیا۔

یورپی اقوام نے مسلم ریاستوں پر تسلط جمایاتو اُنہوں نے مغربی فکروفلسفہ کی بنیاد پر ایسا نصابِ تعلیم وضع کیا کہ ملت ِاسلامیہ کی نئی نسل کثرت ِرائے کے معیار حق ہونے کی ترجمان بن گئی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان سلیم اور سلطان محمود غزنوی کی حمیت ِاسلامی اور تاریخی کارنامے ماند پڑگئے اور مغربی جمہوریت کے فکر و فلسفہ کے داعی اُن کے ہیرو بن گئے۔

روس میں سوشلزم کی بیخ کنی کے بعد کرئہ ارض میں نظامِ خلافت اورنظامِ جمہوریت کے مابین جنگ جاری ہے۔ عالمی سطح پر جو لیڈر جمہوری نظام پر یقین رکھتے ہیں اور حکومت کی تبدیلی کے لیے آئینی جدوجہد کرتے ہیں ، اہل مغرب اُن کو گڈ بک میں جگہ دیتے ہیں ۔ وہ لیڈر یا تنظیمیں جواس کے علاوہ کسی اور نظام پر اعتماد رکھتی ہیں اہل مغرب کے نزدیک انتہا پسند ، ظالم اور دہشت گرد ہیں ۔امریکی صدر بش نے اس بات کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے ذیل میں دی گئی رپورٹ سے ملاحظہ فرمائیے:

''جارج ڈبلیو بش نے کیلیفورنیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں عوام کو ذہن نشین کرانا چاہتاہوں کہ ہم اکیسویں صدی کی نظریاتی جدوجہد میں ہیں ۔ یہ جدوجہد اچھائی اور بُرائی کے درمیان ہے۔ یہ جدوجہد جمہوریت پر یقین رکھنے والوں اور ظلم و تشدد کی مدد کرنے والوں کے مابین ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ دشمن ہمیں نقصان پہنچانے کے لیے مستقل منصوبہ بندی اور سازشوں میں مصروف ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ہم نے یہ عزم کررکھا ہے کہ جب تک ان انتہا پسندوں کو شکست نہیں دے لیتے اوران کا خاتمہ نہیں کرلیتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔''17

صہیونیت نے سوشلزم کی حوصلہ شکنی کرنے کے بعد اسلام کو اپنا ہدف بنالیا۔ نائن الیون کا حادثہ اس سازش کی کڑی تھی۔ پینٹاگون کی فرضی تحقیق میں جو مسلمان ملوث کئے گئے، اُن میں ایک بھی طالبان نہ تھا، لیکن طالبان کا قصور یہ تھا کہ اُنہوں نے اپنی قیادت کو بالغ رائے دہی سے منتخب نہیں کیاتھا۔ عوام سے قانون سازی کے اختیار سلب کر لیے اور فقہ ِاسلامی کو قانونی اتھارٹی دی۔ یہی جرم انتہا پسندی ہے جس کے وہ مرتکب ہوئے۔ یہ درست ہے کہ اہل مغرب وسط ِایشیا کے معدنی وسائل پر قبضہ کرناچاہتے تھے، لیکن یہ ثانوی مقصد تھا۔ دراصل ان انتہا پسندوں کے نظام کودرہم برہم کرنا اُن کا بنیادی مقصد تھا، یہ نظریات کی جنگ ہے جس میں مالی مفادات بھی پیش نظر ہیں ۔

مجاہدین نے عراق پر امریکی قبضہ کے فوراً بعد مزاحمت شروع کردی۔ آئے روز گوریلا کارروائیوں میں نیٹو فوجی ہلاک ہورہے ہیں ۔مغربی تھنک ٹینک نے اتحادی فوج کی مایوسی اور مجاہدین کے تازہ دم ولولہ کو مدنظر رکھ کر تجزیہ کیا کہ عراق امریکہ کے لیے ویت نام بن چکا ہے۔ تب امریکہ میں بش کی عراق پالیسی کے خلاف مظاہرے ہوئے تو بش نے عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے ہر جگہ کہہ رہا ہے کہ دہشت گرد از سرنو خلافت آئیڈیالوجی کو پھیلاناچاہتے ہیں ملاحظہ کیجئے:
''امریکی صدر بش نے 11؍اکتوبر 2006ء کو وائٹ ہاؤس میں تقریرکرتے ہوئے ایک ہی جملہ تین مرتبہ دہرایا کہ ''عراق میں امریکی فوجوں کی موجودگی صرف اس لیے ہے کہ دہشت گردوں کو خلافت ِاسلامیہ جیسی مملکت قائم کرنے سے روکا جاسکے۔'' بش نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ دہشت گرد خلافت آئیڈیالوجی کو پھیلانا چاہتے ہیں اور ایک ایسی مملکت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں آزادی اور لبرل ازم کی کسی چیز کا کوئی تصور نہ ہو۔امریکی صدر بش نے کہا کہ خلافت اسلامیہ کی طرز پر انتہا پسندوں کی مملکت قائم ہونے سے امریکی و یورپی ممالک کے مفادات اور سلامتی کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔''18

تاریخ اسلام کا دورِ خلافت جس میں مسلم حکمران یورپ میں داخل ہوکر دعوت و جہادکا پرچم بلند کرتے رہے،حیرت ہے کہ مغربی فکروفلسفہ سے متاثر جدید مسلم سکالر بنواُمیہ سے بنی عثمانیہ کے دور کو اسلامی حکومت میں شمار نہیں کرتے، لیکن اہل مغرب آج بھی نظامِ خلافت سے لرزہ براندام ہیں ۔

عراق کی آٹھ مزاحمتی تنظیموں نے 'دولت العراق الاسلامیہ' کے نام سے اپنی حکومت کااعلان کردیاہے۔ یہ درست ہے کہ عرب حکمران محو ِاستراحت ہیں ،لیکن عرب عوام میں جہادی جذبہ اُمڈ آیا ہے۔ وہ اہل مغرب کے خدشہ کو حقیقت کارُوپ دینے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں ۔ وہ خلافت آئیڈیالوجی کو مشرق و مغرب میں پھیلا کر رہیں گے۔ إن شاء اللہ!


حوالہ جات
1. مسلمانوں کا نظم مملکت: ص23 مطبوعہ دارالاشاعت کراچی
2. " کتابِ خلافت " ص16 از چوہدری رحمت علی
3. فتاویٰ ڈاکٹر یوسف القرضاوی :جلد دوم؍ ص249
4.مقدمہ: ص200
5. تاریخ ابن کثیر: جلدہفتم؍ ص446
6. تاریخ ابن کثیر: جلد8؍ ص738
7. تاریخ ابن کثیر: جلد ہفتم؍ ص641
8. تاریخ ابن کثیر: جلد ہشتم؍ ص738
9. تاریخ ابن کثیر: جلد 8؍ ص743
10. سنن ابن ماجہ:42
11. مقدمہ ابن خلدون: ص196
12. مسئلہ خلافت: ص126
13. مسئلہ خلافت، ص116
14. روزنامہ انصاف:2؍ستمبر2006ء
15. سنن ابوداؤد:4607
16. مسئلہ خلافت : ص10
17. نوائے وقت، لاہور:6؍اکتوبر2006ء
18. ہفت روزہ ندائے ملت: 26؍اکتوبر 2006ء